Hawas by Urwa Fatima NovelR50551 Hawas (Episode 21)
Rate this Novel
Hawas (Episode 21)
Hawas by Urwa Fatima
ہمیں اور کتنا چلنا پڑے گا میں تھک چکی ہوں،
مریم بس تھوڑی سی ہمت کر لو شہر سے باہر تھی یہ جگہ اب تو پہنچنے والے ہیں ہم ،،
لیکن میں تھک چکی ہوں مزید نہیں چل سکتی آپ سمجھ کیوں نہیں رہے،
مریم وہیں رک گئی
ٹھیک ہے پھر تم یہیں رک جاو میں جاتا ہوں پی سی او سے فون کرنا ہے مجھے صائم کو ،
ذیشان نے تنگ آ کر کہا
تم میری شکایت لگاو کے بھائی سے ،
حد ہے مریم اتنی مشکل جگہ سے نکلے ہیں ہم اور امید ہے یہیں کھڑے رہے تو دوبارہ پھنس جائیں گے
اور تم پلیز تھوڑا سا تیز چل لو
ذیشان نے جھنجھلا کر کہا تو مریم خاموشی سے چل دی
مسلسل ایک گھنٹا چلنے کے بعد انہیں ایک پی سی او نظر آ گیا
ذیشان نے مریم کو باہر رکنے کا کہا اور فون بوتھ میں جا کر صائم کا نمبر ڈائل کیا
ہیلو ذیشان بات کر رہا ہوں
مریم کہاں ہے ذیشان ،،
میرے ساتھ ہے اور الحمدللہ محفوظ ہے،
شکر ہے خدا کا،
یہاں سب انڈر کنٹرول ہے سب کے سب حرام خور بے نقاب ہو چکے ہیں لڑکیوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے
صائم نے تفصیل بتائی
مریم کے لیے میں کسی ہوٹل میں روم بک کرواتا ہوں کیونکہ ابھی بہت مصروفیت ہے یہاں رہنا ہوگا مجھے ،
صائم تم کہو تو میں مریم کو باحفاظت گھر پہنچا دوں گا کیونکہ میں اسکو سڑکوں پر لے کر نہیں گھوم سکتا اور تمہارے پاس آنا بھی اس کا ٹھیک نہیں ہے
ذیشان نے جھجھکتے ہوئے سوال کیا
کچھ دیر دونوں طرف خاموشی چھا گئی
ہاں ٹھیک ہے تم دونوں چلے جاو میں تم سے لاہور میں ہی ملتا ہوں جب واپسی ہو گی
تم اپنا ایڈریس بتاو جہاں کھڑے ہو میں گاڑی بھیجتا ہوں،،
ذیشان نے ایک ڈھابے کا پتہ بتایا جہاں کے فون بوتھ سے وہ کال کر رہا تھا
چلو ٹھیک ہے ایک گھنٹے میں گاڑی آ جاتی ہے وہاں
شکریہ صائم
شکریہ کس لیے،،
مجھ پر اعتبار کرنے کے لیے ،،
لاہور میں ملتے ہیں خدا حافظ
صائم نے بات ختم کر کے فون بند کر دیا
آ جاو مریم،
ذیشان نے فون بوتھ سے نکل کر مریم کو اپنے ساتھ ْنے کا کہا
مریم خاموشی سے چل دی
ذیشان نے ڈھابے پر ناشتے کا آرڈر دیا
مریم نے صرف چاۓ پی
بھائی نے کیا کہا،۔
مریم۔نے چاۓ کا کپ لبوں سے لگایا
کچھ نہیں گاڑی بھیج رہا ہے ہم لاہور کے لیے نکل رہے ہیں
کون تم اور میں مریم کو ٹھسکہ لگا
ذیشان کو ایک بار پھر شرمندگی نے آن گھیرا
ذیشان کا جھکا سر دیکھ کر مریم کو اچھا نہیں لگا
جو اتنے وحشیوں کے بیچ سے بچا کر لایا ہے انشاء لله گھر بھی حفاظت سے پہنچا دے گا، مریم نے زیرِ لب خود کلامی کی
لیکن ذیشان سن چکا تھا
تمہارا ڈرنا اور سوال کرنا جائز ہے ذیشان کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی
میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا تمہارا فرض بنتا ہے کہ تم مجھ پر شک کرو
میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مگر میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی
ذیشان بول رہا تھا مگر سر ہنوز جھکا ہوا تھا
مریم میں نے بہت معافی مانگی ہے اللّٰه سے
میں بھٹکا ہوا تھا لیکن میں میں اب سمجھ گیا ہوں کہ گناہ میں کبھی سکون نہیں
مریم میں تم سے ہر اس زیادتی کی معافی مانگتا ہو جو میں نے کی یا جس کی میں نے کوشش بھی کی
ذیشان نے ہاتھ جوڑ دئیے
میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا تم مجھے معاف کر دو میں بس اپنا حق ادا کر رہا ہوں میں تمہارا گناہ گار ہوں معافی مانگنا مجھ پر لازم ہے لیکن معاف کرنا تم پر لازم نہیں
تمہارا دل مانے تو میرے جڑے ہو ہاتھوں کا مان رکھ لینا
مریم ہوانک سی ذیشان کو دیکھ رہی تھی
پھر بغیر کچھ بولے وہاں سے اٹھ گئی
بھائی کی گاڑی آ گئی ہے مریم نے روڈ کی طرف اشارہ کیا
چھوٹے کتنے پیسے ہوۓ
صاحب جی ڈھائی سو
ذیشان نے تین سو نکال کے ڈھابے والے لڑکے کو دئیے اور اٹھ گیا
ذیشان نے گاڑی کی چابی سامنے کھڑے شخص سے لی
یہ سر نے آپ کے لیے بھجوایا ہے اس شخص نے مریم کی طرف موبائل بڑھایا
جسے مریم نے تھام لیا
ذیشان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی
مریم بھی برابر والی سیٹ پر آ بیٹھی
سارا سفر خاموشی سے گزر گیا
دونوں میں سے کسی نے بھی ایک لفظ تک نا کہا ایک دوسرے سے
تقریباً رات کے نو بج رہے تھے جب وہ لوگ اندرون لاہور ہے داخل ہوئے
مریم اٹھو مریم اٹھو ہم لاہور پہنچ گے ہیں
ہممم امممم کیاااا
مریم نے نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا
لاہور آ گئے ہیں ہم مجھے گھر کا راستہ بتاو کہاں ہے گھر تمہارا
ذیشان کافی دیر سے مریم کو اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا
جو خدا خدا کر کے اٹھ گئی
اور ذیشان کو راستہ سمجھایا
سفر پھر خاموشی سے شروع گیا آدھا گھنٹہ گزرا اور گاڑی مریم کے گھر کے سامنے رکی
ہاں یہی ہے مریم اتری اور جانے لگی
یہ گاڑی پورچ میں کھڑی کرنی ہے،
ذیشان کی آواز آئی
اچھا مریم نے جواب دیا
اور ڈور بیل بجائی
فوراً دروازہ کھل گیا جیسے مونا انتظار میں ہی کھڑی تھیں
مریم میری بچی تم ٹھیک تو ہو نا
والہانہ طور مریم سے لپٹ گئیں
مما اللّٰه کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں
شکر ہے اس پاک ذات کا جس نے میری بچی کی حفاظت کی. مونا کی آنکھیں چھلک پڑیں
مما پلیز مت روئیں میں بلکل ٹھیک ہوں
مریم ماں کے گلے لگ گئی
ذیشان کہاں ہے
باہر گاڑی میں ہے مما
تم اندر جاو میں آتی ہوں مونا ہے مریم کو اندر بھیج دیا
بیٹا گیٹ کھول دئیں
مونا کے کہنے پر گارڈ نے گیٹ کھول دیا
اور ذیشان گاڑی اندر لے آیا
ذیشان کچھ دیر گاڑی میں بیٹھا خود کو مونا کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا رہا
اور پھر اتر آیا
اسلام و علیکم آنٹی
وعلیکم اسلام بیٹا کیسے ہو
مونا کا شائستہ لہجہ ذیشان کو چونکا گیا
جی ٹھیک ہوں
آنٹی یہ گاڑی کی چابی، میرا کام پورا ہوا میں چلتا ہوں
ذیشان نے چابی دی اور واپس مڑا
رکو ذیشان
ذہشان کے قدم رک گئے
بیٹا لمبے سفر سے آۓ ہو کھانا کھا کر جانا
نہیں آنٹی مم۔۔۔۔۔
صائم نے مجھے سختی سے کہا تھا کہ تمہیں ایسے نا جانے دوں
ذیشان کی بات مکمل ہونے سے پہلے مونا نے بتایا
ناچاہتے ہوۓ بھی ذیشان کو اندر جانا پڑا
نازی بیٹا سب کے لیے کھانا لگاو
ذیشان تم میرے ساتھ آو
ذیشان خاموشی سے مونا کے پیچھے چل دیا
یہ گیسٹ روم ہے ویسے تو صائم نے کہا تھا کے تم آج یہیں رہو گے اس لیے میں نے کمرہ تیار کروا دیا تھا
لیکن اب تم جانا چاہتے ہو تو بیٹا اس حلیے میں مت جاو گھر یہ الماری میں کپڑے موجود ہیں تم فریش ہو کر چینج کر لو
اور آ جا و باہر
آنٹی آپ کو غصہ نہیں آ رہا مجھ پر،
بیٹا تم ہمارے محسن ہو تم نے میری بیٹی کی حفاظت کی ہے میں کیوں غصہ ہوں گی تم سے
مگر جو میں نے پہلے کیا
میری دعا ہے اللّٰه تمہیں اس سب کے لیے معاف کرے
مونا نے مسکرا کر کہا اور چلی گئیں
یا اللّٰه تو بہت کریم ہے بے شک تو توبہ قبول کرنے والا ہے ذیشان نے صدقِ دل سے شکر ادا کیا اور فریش ہونے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمرہ روہان تم لوگوں کی کونسی باتیں ہیں جو دن میں نہیں ہوسکتیں
بارہ بج گئے ہیں اور تم لوگ گپیں ہانک رہے ہو
فرحت نے جھنجھلا کر کہا
امی بس تھوڑی دیر ہماری مونگ پھلیاں ختم ہو جائیں تو اٹھ جاتے ہیں
روہان نے ہنس کر کہا
وہ ہمیشہ ماں کی ڈانٹ پر ہنس کر جواب دیتا تھا اور یہی عادت فرحت بیگم کا غصہ ختم کر دیتی تھی
بس یہی دانت نکالتے رہا کرو تم فرحت بیگم اپنی ہنسی چھپا گئیں
ڈور بیل بج اٹھی
اس وقت کون آ گیا ہے
میں دیکھتا ہوں امی
روہاننے دروازہ کھولا تو زور سے آواز دی
امی
یا اللہ کیا ہو گیا روہان فرحت اور نمرہ بھاگی آئیں اور ذیشان کو سامنے کھڑا دیکھ ساکت رہ گئیں
ذیشان تم
فرحت نے رونا شروع کر دیا اور والہانا انداز میں ذیشان کا منہ چومنے لگیں
ذیشان بھی ضبط کھو بیٹھا اور ماں کے گلے لگ کے رو پڑا
نمرہ اور روہان بھی. آنسو بہا رہے تھے
تقریبا چار سال بعد ذیشان کو گھر دیکھ کر سب ہی خدا کا شکر ادا کر رہے تھے
اچھا بس کریں مت روئیں امی
ذیشان نے ماں کے آنسو انگلیوں کی پوروں سے صاف کیے
چلو اندر چلو میرے بچے میری جان ماں کا چین سکون سب تم لے گئے تھے ذیشان
آ گیا ہوں واپس اب تو نا روئیں
اندر ڈرائنگ روم میں ہی سب آ گئے
نمرہ خاموش سی ایک کونے میں کھڑی آنسو بہاۓ جا رہی تھی
چھوٹی ادھر آو
ذیشان کے کہنے کی دیر تھی کے نمرہ بھاگ کر بھائی کے سینے سے جا لگی
ارے ارے کیوں رو رہی ہو چھوٹی تمہی پتا ہے نا تم روتی ہو تو میں بھی رو پڑتا ہوں ذیشان نے رندھی ہوئی آواز سے کہا
کیا شور ہے رات کے اس پہر رضا صاحب شور سن کر باہر آۓ
اور سامبے ذیشان کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے سکتے میں آ گئے لیکن پھر اٹے قدموں والس چلے گئے
ذیشان بھی پیچھے بھاگا
ابو،ذیشان نے کمتے کے دروازے ہر کھڑے ہو کر پکارا
رضا صاحب پیٹھ کیے کھڑے رہے
ابو میں سب برداشت کر سکتا ہوں آپ کی ناراضگی نہیں
مجھے اللّٰه کے لیے معاف کر دئیں
ذیشان کی اواز پر رضا صاحب پلٹے
میں تم سے نہیں خود سے ناراض ہوں ذیشان میں اپنی تربیت پہ شرمندہ ہوں کے میں نے ایسے بیٹے کو پیدا کیا اور پالا جو اس حد تک گر سکتا ہے
زنا کی کوشش جھوٹ بہتان کوئی گناہ تم نے نہیں چھوڑا
تم نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ذیشان میں تمہیں کیا معاف کروں میں میں تو خود کو معاف نہیں کر پا رہا کے میں نے تم جیسی اولاد پر اپنی جوانی اپنی محبت اپنا پیسہ ضائع کر دیا جو باپ کی تربیت کی لاج نا رکھ سکی
رضا صاحب رو پڑے
ابو میں بہت شرمندہ ہوں میں نے دل سے توبہ کر لی ہے ابو اللّٰه بھی تو معاف کر دیتا ہے نا آپ اللّٰه کے لیے مجھے معاف کر دئیں میں مزید نفرت برداشت نہیں کر سکتا
ذیشان رضا صاحب کے پیروں میں بیٹھ گیا
اٹھو اوپر رضا صاحب ے ذیشان کو اپنے سامنے کھڑے کیا
میں نے تمہیں اللّٰه کے لیے معاف کیا ذیشان
اللّٰه بھی تمہاری ساری خطائیں معاف کرے آمین
رضا صاحب نے ذیشان کو گلے لگا لیا
اور ذیشان کو لیے کمرے سے باہر آ گئے
نمرہ بیٹا اچھی سے چاۓ پلاو اب رضا ساحب نے خوشی سے کہا
جی ابو ابھی لاتی ہوں نمرہ کچن کی طرف چلی گئی
۔۔
۔۔
اگلی صبح نائلہ اور بلال بھی اریش کے ساتھ ذیشان سے ملنے آ گئے
عابدہ اور ارحم بھی آۓ
پھپھو فاریہ نہیں آئی
نمرہ نے سوال کیا
نہیں اس نے کسی دوست کے گھر جانا تھا تو اس کے بابا لے گئے وہ بھی آتے ہوں گے فاریہ کو چھوڑ کر
اچھا سہی لیکن آ جاتی تو اچھا تھا
نمرہ نے اریش کو گود میں اٹھاتے ہوۓ کہا
بھائی صاحب ہم ایک اہم کام لے کر آۓ پلیز انکار نہی کیجیے گا
ہاں بولو عابدہ خیریت ہے نا
جی جی خیریت ہی ہے اصل میں ہم نمرہ کی رخصتی کی تاریخ لینے آۓ ہیں
اب خیر سے ذیشان بھی آ گیا ہے اور پہلے ہی بہت دیر ہو گ ہے اس کیے ہم چاہتے ہی اس مہینے کے آخر میں رخصتی ہو جاۓ
وہ تو تمہاری ساری باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اس مہینے کی سترہ تاریخ ہے آج اتنی جلدی سب کیسے ہو گا
فرحت نے فکرمندی سے کہا
بھابھی آپ کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے
جہیز کے نام پر ایک ڈھیلا نہیں چاہیے ہمیں بس باقی کپڑے اور جویلری ہے وہ ہم سب مل کر کر لیں گے
عابدہ نے تسلی دی
چلو جس میں تمہاری خوشی ویسے بھی تمہاری امانت ہے نمرہ جب چاہے لے جاو
رضا صاحب نے بہن کے آگ ہار مان لی
لو بھئ اعجاز صاحب بھی آ گئے
بیگم آپ کا حکم تھا کیسے نا آتے
ارجاز صاحب نے کہا تو سب ہنس پڑے
چلو پھر نائلہ یہ مٹھائی لو اور سب کا منہ میٹھا کرواو
جی انکل مجھے دئیں
سب کا منہ مٹھا کروایا گیا
چلو بھئ بچیوں تیار ہو جاو مارکیٹ چلنا ہے وقت پہلے ہی کم ہے
جی پھپھو ابھی آتے ہیں ہم
نائلہ اٹھ کر نمرہ ہی کے کمرے میں چلی گئی
روہان گاڑی کی چابی دینا مجھے کام سے جانا ہے
جی بھائی یہ لیں
یار ذیشان تم کدھر جا رہے ہو ہم تو تم سے ملنے آۓ تھے
بس بلال بھائی ایک ضروری کام آ گیا ہے اس لیے جانا ہے شام کو ملتے ہیں نا
چلو ٹھیک ہے
بلال نے مسکرا کر کہا
اور ذیشان گاڑی کی چابی لے کر باہر نکل گیا
رستہ وہی تھا لیکن سب بدل گیا تھا ویرانیوں میں بسرہ ہو چکا تھا اندھیرا چھٹ چکا تھا
لوگ بدل گئے تھے رویے بدل گئے تھے ان چار سالوں میں لگتا تھا صدیوں کی تبدیل آ گئی تھی
وہ خود بھی تو بدل گیا تھا وہ اب کسی لڑکی پر نظر نہیں ڈالتا تھا وہ جو انگریزوں کے بنے جال میں پھنسا ہوا تھا وہ جو آنکھ کے گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتا تھا
اگر سب بدل گیا تھا تو وہ بھی بدل گیا تھا
شاید وہ ہدایت پا چکا تھا کیونکہ وہ اب اس گناہ کو سوچتا ہوا بھی ڈرتا تھا
یہی تو ہدایت کی نشانی ہے ہدایت نور ہے بس روشن کر دیتی ہے انسان کی روح کو
اور اس کی روح روشن ہو چکی تھی
شیطان کا پیدا کردہ ہوس کا جال اس کو ہوس سے ہدایت تک لے آیا تھا
۔
ذیشان کی گاڑی پولیس سٹیشن کے سامنے رکی گاڑی کھڑی کر کے وہ اندر چلا گیا
ارباز سے ملاقات کے بعد ارباز اسے میٹنگ روم میں کے گیا
ویلکم سن
آئی جی صاحب نے ذیشان کو دیکھتے ہی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا
شکریہ سر ذیشان نے خوش دلی سے مصافحہ کیا
یہ دیکھو ذیشان ہماری پہلی کامیابی صائم نے اخبار ذیشان کی طرف بڑھایا
جس میں سیٹھ اکرم سمیت ان سب نامور ہستیوں کے نام اور تصاویر چھی تھیں جو اس گھناونے کام میں شریک تھے
سب کے سب گرفتار ہو چکے تھے اور ان لڑکیوں کو بھی بازیاب کرا لیا گیا تھا
اور طبی امداد دی جا رہی تھی کیونکہ نشے کی ذیادتی نے ان سب کو بے جان کر رکھا تھا
ذیشان نے اخبار کی سرخیوں پر نظز دوڑائی
شکر ہے خدا کا جس نے ہمارا ساتھ دیا
ذیشان نے کہا
ذیشان تمہارے لیے ایک آفر ہے میرے پاس
جی سر
ذیشان تم نے جس جرات مندی سے اتنا عرصہ اس کام کو سر انجام دیا
میں چاہتا ہوں کے تم ہمارے پولیس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بنو
سر میں ذیشان نے حیرانی سے آئی جی اور صائم کی طرف دیکھا
ہاں تم بیٹا تمہارے جیسے جان پر کھیلنے والے ایمان دار لوگوں کی تو ہمیں سخت ضرورت ہے
مجھے خوشی ہو گی اس آفر کو قبول کر کے سر ذیشان نے جوش سے کہا
ویلکم ذیشان صائم نے خوش دلی سے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روہان تم اور نائلہ چلے جاو صالحہ کے گھر کارڈ دے آؤ
امی اریش کی طبیعت نہیں ٹھیک اس لیے میں نہیں جا رہی آپ چلی جائیں
ارے نہیں مجھے عابدہ کے ساتھ جانا ہے زیورات کا آڈر دینے پانچ دن رہ گئے ہیں ناجانے وہ سونار آڈر پکڑتا بھی ہے کہ نہیں
امی میں چلا جاتا ہوں روہان کے ساتھ
ذیشان نے کہا
تم، فرحت بیگم نے حیرانی سے پوچھا
ہمم، ذیشان نے اثبات میں سر ہلا دیا
فرحت بیگم خاموش ہوگئیں
روہان بھی نہیں چاہتا تھا کہ ذیشان جاۓ کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ سال یا رافع صاحب ذیشان کے ساتھ برا سلوک کریں
چلو روہان
روہان کو خاموش کھڑا دیکھ ذیشان نے کہا
ہونہہ ہاں چلیں
روہان نے بے خیالی میں کہا
خدا حافظ امی
دونوں نے کہا اور نکل گئے
بھائی میں جانتا ہوں آپ بدل چکے ہیں اللّٰه نے آپ کو چن لیا ہے ان لوگوں میں جن کو وہ ہدایت دیتا ہے
لیکن بھائی وہ سب اپ سے برا بی ہیو بھی کر سکتے ہیں
تم پریشان مت ہو روہان تم دعا کرو اللّٰه میرے لیے آسانی پیدا کر دے
تمہاری دعا تو اللّٰه جلدی سن لیتا ہے نا
آپ کو کیسے پتا بھائی کہ اللّٰه میری دعا جلدی سن لیتا ہے
میری پانچ سال کی سزا تین سال می ختم ہو گئی اور میں باعزت بری ہو گیا
یہ سب تمہاری دعا کا نتیجہ ہی تو تھا
الحمدللہ روہان مسکرایا
لیکن یک دم مسکراہٹ سمٹ گئی
بھائی مجھے معاف کر دئیں،،
مگر کس لیے ،،
اس دن نائلہ آپی کی رخصتی والے دن نمرہ کی حالت دیکھ کر میں نے سب بول دیا مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا
مجھے آپ کا پردہ رکھنا چاہئے تھا لیکن میں نے کم ظرفی کا مظاہرا کیا مجھے معاف کر دئیں بھائی
روہان تم اس دن مجھے احساس نا دلاتے تو شاید. اب تک میں اندھیروں میں ہی بھٹک رہا ہوتا
تم بھول جاو سب ذیشان نے روہان کا کندھا تھپتھپایا
گاڑی سائیڈ پر لگا کر دونوں رافع صاحب کے گھر کی طرف برھے
باتوں میں راستے کا پتا ہی نہیں چلا روہان
ہاں واقعی
روہان نے دروازہ کے کھٹکھٹا یا
ذیشان نے ایک لمبا سانس لے کر خود کو ہر سیچوایشن کے لیے تیار کیا
روہان نے دو تین بار دستک دی تو
دروازہ کھل گیا
صالحہ نے دونوں کو سپاٹ چہرے سے دیکھا
اسلام و علیکم چچی
وعلیکم اسلام جی؟
صالحہ دروازے میں کھڑے کھڑے ہی سوال کیا
چچی کیا ہم اندر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں
روہان نے جھجھکتے ہوۓ سال کی طرف دیکھا
میں رافع سے پوچھ کے بتاتی ہوں
صالحہ اندر چلی گئیں
کچھ دیر بعد رافع صاحب خود دروازے پر آگئے
ہاں جی ، رافع صاحب نے اجنبیت سے کہا
وہ ہم روہان کو بات کرنا ہی بھول گیا
چچا ہم ضروری بات کرنے آۓ ہیں آپ کا احسان ہو گا اگر بات سن لیں گے تو
روہان کی بجائے ذیشان نے کہا
آ جاؤ رافع صاحب دونوں کو اندر لے آۓ
صبح کا وقت تھا ہلکی ہلکی دھوپ پڑ رہی تھی
اس لیے رافع صاحب ان دونوں کے ساتھ صحن میں ہی بیٹھ گئے
چچا یہ نمرہ کی شادی کا کارڈ ہے
ابو امی دونوں نے کہا ہے کہ آپ سب کو لازمی آنا ہے
وہان نے کارڈ دیا
ہمم کوشش کریں گے آنے کی
رافع صاحب نے لیے دئیے انداز میں جواب دیا
چچا ذیشان نے سر جھکاۓ پکارا
رافع صاحب نے چونک کر ذیشان کی طرف دیکھا مگر زبان سے کچھ نہیں بولے
تب صالحہ میز پر چاۓ رکھ کر جانے لگیں
چچی آپ بھی بیٹھ جائیں مجھے بات کرنی ہے
ذیشان نے کہا تو صالحہ خاموشی سے رافع صاحب کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئیں
میں جانتا ہوں آپ لوگ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے
اور آپ کا حق بنتا ہے مجھ جیسے انسان کے ساتھ کوئی تعلق نا رکھا جائے لیکن یہ آپ کی اعلی ظرفی ہے کے اپ نے میری بات سننے کے لیے مجھے گھر آنے دیا
زندگی بے اعتبار ہے امانت ہے اور میں نہیں چاہتا میں اپنوں کا گناہگار ہو کر اللّٰه کے حضور حاضر ہوں
چچی چچا میں آپ لوگوں کا گناہ گار ہوں مجھے معاف کر دئیں میں نے وہ گناہ کیا ہے جو ہرگز قابلِ معافی نہی لیکن میں آپ سب سے تو کیا خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں ہوں
مجھے معافی مانگتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے
چچی آپ آئیں تھیں نا میرے پاس آپ کی آنکھوں میں ایک خوف تھا
وہی خوف میری روح میں اتر گیا ہے جب سے میں نے اپنی بہن کو اس حال می دیکھا تھا
مجھے احساس ہوا کہ نورے اور مریم بھی تو کسی کی بیٹیاں تھیں کسی کی بہنیں تھی میں نے تب کیوں نہیں سوچا کہ میری بھی بہنیں ہیں یہ سب ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے
مجھے معاف کر دئیں میں نے آپ کی سب سے قیمتی اور انمول چیز پر نظر رکھی
شرمندہ ہونا تو بہت چھوٹا لفظ ہے میں اپنی کیفءت آپ کو بتا نہیں سکتا
نورے میری بہن ہے مجھے معاف کر دئیں میں نے اپنی بہن کے لیے برا سوچا
ذیشان جب تم لوگ یہاں آۓ تھے اس محلے میں اس وقت تم محض بارہ تیرہ برس کے تھے
رافع صاحب جو کب سے خاموش بیٹھے ذیشان کو سن رہے تھے بولنے لگے
تم سب چھوٹے چھوٹ تھے میں نے صالحہ نے تم لوگوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھا تب ہماری زندگی میں نورے اور بقی تو نہیں تھے
تم سب کو ہم نے اولاد کی طرح دل میں اور گھر کی جگہ دی
لیکن ذیشان جس دن تم نے میری ہی عزت پر ہاتھ ڈالا مجھے تو ہوش تب آیا کہ نہی تم میرے اپنے ہوتے تم میرے اس پیار اس محبت کا مان رکھتے تو وہ سب نا کرتے جو تم کرنے والے تھے
نورے تو تمہیں بھائی کہتی تھی نا اس دن تمہاری اس حرکت نے اسے بھائی پر اعتبار کرنے سے روک دیا ہو گا
ذیشان تم کہتے ہو میں تمہیں معاف کر دوں تم نے میرا بھائی مجھ سے دور کر دیا
تم مجھ سے اس اعلیٰ ظرفی کی امید نا رکھو کے میں تمہیں معاف کر کے دوبارہ سے اعتبار کرنے لگوں گا
مجھ میں اتنا حوصلہ ہرگز نہیں ہے
رافع صاحب نے واضح کہا
میں نے آپ کو معاف کیا ذیشان بھائی
نورے تم اندر جاو
نہیں بابا انہوں نے میرے ساتھ برا کیا تھا نا تو آپ مجھے بات کرنے دئیں
اور اسلام ہمیں درگزر کرنے کا حکم دیتا ہے
ذیشان بھائی جب میرے ساتھ وہ واقعہ ہوا تھا اس وقت تو مجھے ان سب باتوں کی سمجھ ہی نہیں تھی بس ایک انجانا سا خوف پیدا ہو گیا تھا جو میری ماں کے مجھ پر بھروسے نے ختم کر دیا
میری ماں نے مجھے سکھایا ہے لڑکیاں مضبوط ہوں تو کوئی کچھ نہی کر سکتا
اور ان سب چیزوں سے مجھے ایک بات سمجھ آ گئی ہے کے برے کرنے والوں کے ساتھ تو برا ہوتا ہی ہے برا سوچنے والے بھی اللہ کی پکڑ میں آجاتے ہیں اس لیے میں آپ کو معاف نا کر کے اپنے ساتھ برا نہیں کرنا چاہتی کہ میں کسی کے ضمیر کو شرمندگی دے آزاد کر سکتی تھی اور میں نے نہیں کیا
اس لیے میں نے آپ کو معاف کیا اور میرے مما بابا نے بھی
نورے نے ساری بات مضبوط اور پروقار لہجے میں کی کہ سال اور رافع بھی حیران رہ گئے اور خوش بھی
ذیشان نے کرسی سے اٹھ کر نورے کے سر پہ ہاتھ رکھا
تمہارا یہ بھائی مرتے دم تک تمہارا احسان مند رہے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی وہ نمرہ کب سے تیار بیٹھی ہے اور آپ کی تیاری ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی
فاریہ چونچ بند رکھو اپنی اور تیار ہونے دو مجھے
ارحم صاحب میں نے مشورہ دیا تھا مما کو کہ مہندی ہمارے ہی گھر سے ہو اب تم مجھے ہی چونچ بند رکھنے کا کہہ رہے ہو
اچھا اچھا سر پر مت چڑھو میرے
فاریہ پھپھو بلا رہی ہیں تمہیں باہر
روہان نے آ کر بتایا سفید رنگ کا سوٹ اور اس پرکالے رنگ کی واسکٹ بہت جچ رہی تھی
ارحم نے مہرون کلر کا کرتا اور سفید شلوار پہن رکھی تھی
جیل سے سیٹ کیے ہوۓ بال
ایک بھرپور وجیہ مرد لگ رہا تھا
بس کر بھائی بہت سندر لگ رہا ہے
روہان نے چھیڑا
چل پھر پک بنا میری ارحم سج کر کھڑا ہو گیا
روہان نے کیمرہ سیدھا کیا
حد ہوتی ہے دو گھنٹے سے میں تیار ہو کے بیٹھی ہوں اور آپ کی تیاری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی
نمرہ کمر پہ ہاتھ رکھے ارحم کے سامنے آن کھڑی ہوئی
نمرہ نے ییلو کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا جس کی کرتی پر ملٹی کلر کا کام بہت اٹھ رہا تھا بڑا سا ییلو کلر کا دوپٹہ سر پہ ٹکایا ہوا تھا
ارحم نمرہ کو دیکھتے ہی ٹرانس کی سی کیفیت میں چلا گیا
روہان نے قہقہہ لگایا گڈ نمرہ اس گدھے کی لگامیں کس کر رکھنا
سالا کباب میں ہڈی ارحم نے برا سا منہ بنا کر کہا
روہان بھائی جائیں فاریہ اور نائلہ آپی کو بلا کے لائیں
فاریہ کو یاد کیا اور وہ حاضر ہ گئی
فاریہ مریم کا ہاتھ پکڑے کمرے میں داخل ہوئی دونوں نے بلکل ایک جیسے گرین کلر کےے فراک پہنے ہوئے تھے
روہان اور نمرہ دونوں مریم کو دیکھ کر حیران ہو گئے
یہ میری فرینڈ ہے مریم فاریہ نے بتایا
اور مریم یہ میری بھابھی ہے نمرہ
مریم نے آگے بڑھ کر نمرہ کو گلے لگایا بہت مبارک ہو آپ کو
تھینکیو نمرہ نے خوشی سے مبارکباد وصول کی
نائلہ بھی آ گئی اس نے اپنی مہندی کا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا
چلو بھئ جلدی کرو میرا بیٹا باپ کے گلے پڑا ہوا ہے
روہان نے کیمرہ سنبھالا اور نمرہ اور ارحم نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما
سب ایک گروپ کی صورت میں نمرہ اور ارحم کو باہر لان میں لے کر آۓ
پورا لان بہت روشن تھا جیسے آسمان کے سارے تارے اتر آۓ ہوں
سب مہمانوں کی نظر ان دونوں پر جمی تھی جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سٹیج تک پہنچ گئے تھے
ارحم پہلے سٹیج پر چڑھا
اور ہاتھ نمرہ کی طرف بڑھایا
جسے نمرہ نے تھام لیا
روہان ہر پل کو کیمرے میں قید کر رہا تھا
عابدہ نے سٹیج پہ آ کر بہو اور بیٹے کا ماتھا چوما
سب لوگوں نے باری باری آ کر رسم کی
جب سٹیج سے رش کم ہوا تو نمرہ نے اشارے سے روہان کو بلایا
ہاں بولو دلہن بن کے بھی سکون نہیں ہے تمہیں
یہ کیا سین چل رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہا
نمرہ نے اس طرف اشارہ کیا جہاں صائم اور ذیشان ایک ساتھ کھڑے باتوں میں مصروف تھے
اللّٰه تعالیٰ سب بہتر کر رہے ہیں بس اچھے کی امید رکھو اور شک نا کرو
ہمممممم سہی کہا
۔۔
اتنے عرصے بعد آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مونا باجی
مجھے بھی صالحہ مریم اور میں بہت یاد کرتے ہیں تمہیں نورے کو بقی کو
کہاں ہے مریم وہ نہیں آئی کیا
ارے نہیں اسی کی وجہ سے تو میں اور صائم آۓ ہیں اصل میں فاریہ مریم کی دوست ہے
فاریہ کون مونا باجی
نمرہ کی نند ہے ،،
اچھا اچھا اسی لیے آپ لوگ آۓ ہیں مجھے لگا فرحت بھابھی نے بلایا ہے
ہاں ذیشان کی طرف سے بھی کارڈ ملا تھا
مونا نے بتایا تو صالحہ چونکیں
حیران مت ہو صالحہ ذیشان بدل چکا ہے اس لیے ہم سب نے اس کو معاف کر دی ہے اللّٰه تعالیٰ ہر انسان کو گناہ کے بعد مقبول توبہ دی توفیق دے
آمین ثم آمین صالحہ نے کہا
نورے نہیں آئی کیا
نہیں اس کی ذرا طبعیت خراب تھی تو کہتی کل شادی پر چلی چلوں گی
اچھا اچھا
مونا نے سر کو خم دے کر کہا
مونا باجی میں ایک منٹ آتی ہوں صالحہ اتنا کہہ کر اٹھ کر چلی گئیں
مما یہ ہیں مریم کی مما فاریہ ماں کو لیے اس ٹیبل پر آگئیں. جہاں مونا بیٹھی تھیں
کیسی ہیں آپ عابدہ نے مونا کو گلے لگایا
الحمد اللہ آپ سنائیں
میں بھی بلکل ٹھیک ہوں آپ کا بڑا ذکر کرتی ہے فاریہ
ماشاء الله بہت پیاری بچی ہے آپ کی مونا نے تعریف کی
جی الحمد الله عابدہ مسکرائیں
اصل میں ہم آج کل آنا چاہتے تھے آپ کے گھر پھر فاریہ نے اپنے بھائی کی شادی کا بتایا تو میں نے سوچا چلو وہیں آپ سے ملاقات بھی کر لیں گے اور بات بھی
مونا نے بات شروع کی
آپ کا جب دل کرے آپ آجائیں بہن، ویسے کون سی بات کرنے کا کہہ رہی ہیں
بہن مجھے آپ کی فاریہ بہت پسند ہے اس لیے میں اسے اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں
جی کیا مطلب عابدہ نے نا سمجھی سے مونا کی طرف دیکھا
میرا بیٹا صائم ایس پی ہے اور میں اس کے لیے اپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگ رہی ہو
مونا نے امید بھر لہجے میں کہا
یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن میں سب سے مشورہ کرنے ہی کے بعد ہی آپ کو کوئی جواب دوں گی
جی جی بہن آپ مشورہ کر لیں مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا
جی ضرور
انشاء الله الله بہتر کرے گا
چلیں میں ذرا کھانے کا دیکھ لوں
عابدہ نے اٹھتے ہوئے کہا
۔۔
مما میں آ جاوں اندر،
جی جی آ جاو مونا جائے نماز تہہ کر رہی تھیں
صائم تم اب تک کیوں جاگ رہے ہو بیٹا
ایک بات کرنی تھی آپ سے
ہاں بات تو مجھے بھی کرنی ہے تم سے
جی بتائیں
وہ فاریہ ہے نا آج میں اس کہ امی سے ملی
اور میں اس کے بابا سے ملا بلکہ وہ خود مجھ سے ملے ایسے تفشیش کر رہے تھے توبہ ہے لگ ہی نہیں رہے تھے کہ ماہ رخ آنٹی کے بھائی ہیں
ظاہر ہے بیٹی والے تو تحقیق کرتے ہی ہیں
کیا مطلب بیٹی والے تحقیق کرتے ہیں
تمہارے اور فاریہ کے رشتے کی بات کر آئی ہوں میں وہاں
مونا نے بلکل عام سے انداز میں بتایا
مما مجھ سے پوچھے بغیر صائم کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا
کیوں تمہیں کوئی اعتراض ہے صائم
ہے تو نہیں لیکن اگر ہوتا تو
تو بھی مجھے پتا ہے میرا بیٹا میری بات نہیں ٹالتا
مونا نے اعتماد سے کہا
صائم نے قہقہہ لگایا
مجھے آپ کے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں
صائم نے ماں کے دونوں ہاتھ چوم کر عقیدت سے آنکھوں پر لگاۓ
اچھا اب بتاو تمہیں کیا بات کرنی تھی
پہلے آپ بتائیں مما اگر میں مریم کے لیے کوئی فیصلہ کروں تو آپ کو برا تو نہیں لگے گا
ہرگز نہیں بیٹا مریم تمہاری بہن ہے تم جو بھی فیصلہ کرو گے سوچ سمجھ کر ہی کرو گے
مما میں مریم کی شادی ذیشان سے کرنا چاہتا ہوں
وہ بہت بدل گیا ہے میں نے مریم کے لیے اس کی آنکھوں میں جتنی عزت دیکھی ہے شاید کوئی اور ایسا نا ملے جو مریم کی اتنی عزت کرےا
صائم ذیشان نے تم سے ایسا کچھ کہا ہے
نہیں مما وہ تو مجھ سے کام کی بات بھی نظریں ملا کر نہیں کرتا
میں بس جیسا لڑکا مریم کے لیے سوچتا تھا ذیشان ویسا ہے
باقی آپ کا اور مریم کا جو فیصلہ ہو گا میں ویسا ہی کروں گا
بیٹا ہم لڑکی والے ہو کر کیسے،،
مما یہ سب پرانے خیالات چھوڑیں
اگر مریم نے ہاں کر دی تو مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں بیٹا
