Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 13)

Hawas by Urwa Fatima

نمرہ کی حالت کا سن کر بلال اور نائلہ فوراً ہاسپٹل چلے آۓ

ولیمہ کی تقریب کینسل کر دی گئی اور کھانا مسجد اور مدرسوں میں دے دیا گیا

کیونکہ انوار صاحب کا کہنا تھا کہ اصل ولیمہ تو یہی ہوتا ہے کہ حقداروں کو دیا جائے

اس لیے سادگی سے فرض ادا کر دیا گیا

سوموار کو روہان اور بلال دس بجے ہی تھانے پہنچے تاکہ ذیشان کی زمانت کروا سکیں،،

کیا مطلب عدالت لے گئے ہیں، بلال نے حیرت سے پوچھا

کیونکہ کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ ذیشان کو عدالت لے گئے ہیں

ایسے کیسے عدالت لے گئے ہیں ہماری طرف سے جب کوئی وکیل ہی نہیں پیش ہوا

ہمارا وقت ضائع مت کرو اور عدالت چلے جاؤ کانسٹیبل نے جھڑک دیا

بلال اور روہان نے فوراً عدالت کا رخ کیا

صبح کا وقت تھا ٹریفک کی وجہ سے ایک گھنٹا مزید لیٹ ہو گئے دونوں

وہ کہتے ہیں اللّٰه کی لاٹھی بے آواز ہے

ذیشان کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا کیونکہ اس کی سزا کا وقت آ چکا تھا بے شک اس نے شاہ میر کو گولی نہیں ماری تھی لیکن وہ پھر بھی اپنی صفائی میں کچھ نہیں بول رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر آج اسے سزا ملے گی تو کس گناہ کی ملے گی

اور اگر آج اسے سزا نا ملی تو شاید اس کے کنبے کو مزید دکھوں میں گھرنا پڑے اس لیے وہ خاموش تھا انکار اقرار کوئی جواب اس کی زبان سے نہیں نکل رہا تھا

اور پھر عدالت میں ذیشان کی خاموشی کو اقرار سمجھ کر ارادِ قتل کے جرم میں پانچ سالہ قید کی سزا سنا دی گئی جس میں دو سال قیدِ با مشقت بھی شامل تھی

ذیشان جس خاموشی کے ساتھ پیش ہوا اسی خاموشی کے ساتھ عدالت سے باہر آ گیا

بلال اور روہان تب پہنچے جب ذیشان کو باہر لایا جا رہا تھا

روہان نے بھاگ کر ذیشان کو گلے لگایا بھائی نمرہ، روہان کی بات مکمل ہونے سے پہلے

ایک کانسٹیبل بول پڑا پرے ہٹو اور تھانے میں آ کر ملنا

اب تھانے کیوں لے کہ جا رہے ہو روہان نے نا سمجھی سے پوچھا

مجرم ثابت ہوا ہے یہ پنج سال قید کی سزا ملی ہے تو مجرم کو ملنے تھانے ہی آو گے نا، کانسٹیبل نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا

ذیشان بھائی یہ یہ کیا کہہ رہا ہے، روہان روہانسہ سا ہوگیا

او ہٹ سامنے سے کہا نا تھانے آ کے مل لو، کانسٹیبل نے روہان کے سینے پہ ہاتھ مار کے اسے پیچھے کیا اور پولیس موبائل کی طرف بڑھ گیا

بلال نے روہان کو لے کر گاڑی موبائل کے پیچھے لگا دی

آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد گاڑی ایک اور تھانے کے آگے رکی

بلال اور روہان بھی ان کے ساتھ ہو لیے

بڑی منتوں کے بعد روہان کو پندرہ منٹ کی ملاقات کی اجازت دی گئی

روہان نمرہ کیسی ہے اور ابو، ابو کیسے ہیں، روہان کو دیکھ کر ذیشان اسکی طرف لپکا

روہان نے تمام باتیں ذیشان کو بتائی

جسے سنتے ہی ذیشان نے چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپاۓ رونا شروع کر دیا

حوصلہ کریں بھائی

کیسے حوصلہ کروں میں میرے کیے کی سزا میرا باپ میری معصوم بہن بھگت رہی ہے میں کیسے صبر کروں

اس کے بدلے میں مر جاتا تو اچھا تھا

مم میری معصوم نمرہ یا اللّٰه جنتی سزا دینی تھی مجھے دے دیتا میری بہن تو بے قصور تھی

ذیشان کی آواز کا درد سب محسوس کر رہے تھے

بھائی آپ کچھ بولے کیوں نہیں اپنی صفائی میں کیسے آپ کو سزا ہو گئی، روہان نے بات بدلی

روہان اچھا ہوا مجھے سزا مل گئی یہ سزا نہ ملتی تو شاید میں اپنوں کو کھو دیتا اور وہ سزا زیادہ اذیت ناک ہوتی

چل بھئ وقت ختم ہوا اٹھ چل، دروازے پہ کھڑا کانسٹیبل پکار اٹھا

جاؤ روہان،،

جلدی آؤں گا میں دوبارہ بھائی خدا حافظ،

روہان نے اٹھ کر ذیشان کو گلے لگایا اور چلا گیا

۔۔

۔۔

چلیں بلال بھائی روہان نے باہر آ کر کہا

کیا واقعی پانچ سال کی سزا ہو گئی ہے ذیشان کو بلال نے پوچھا

جی ہاں، شاہ میر نے پیسے کے بدلے فتح اپنے نام کر لی روہان نے اداسی سے کہا

ذیشان سے آج پہلے والا ذیشان لگا ہی نہیں تھا بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو پہلی ٹھوکر پر سیدھی راہ پکڑ لیتے ہیں ورنہ اس دنیا کا مسئلہ ہی یہی ہے کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں

ذیشان کا دل شاید پھر چکا تھا کیونکہ وہ اصل میں ایسا تھا نہیں جیسا بن چکا تھا

اس کے امتحان کا آغاز ہو چکا تھا اور وہ سمجھ چکا تھا

روہان سارے رستے ذیشان کے بارے میں سوچتا رہا

اندر جا کے کیا کہنا ہے، بلال نے ہاسپٹل کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے پوچھا

وہی جو سچ ہے، روہان نے سڑک پہ نظریں جماۓ جواب دیا

دونوں اندر گئے اور رضا صاحب کو ڈسچارج کروا کر روہان نے فرحت، نائلہ اور بلال کو انکے ساتھ بھیج دیا

اور پھر روہان نے ارحم کے ساتھ مل کر گھر کہ ایک کمرے کو ہاسپٹل کے روم میں بدل دیا اس کے ساتھ ایک مستقل نرس کا انتظام کیا کیونکہ وہ نمرہ کو ہاسپٹل میں ایسے نہیں چھوڑ سکتے تھے

ان سب کاموں میں نمرہ کے ڈاکٹر ہارث نے مکمل سپورٹ کی

دن گزر رہے تھے نمرہ کی حالت ویسی ہی تھی ہر دن فرحت بیگم پل پل مرتی تھیں

ذیشان کا ذکر نہیں ہوتا تھا اب اس گھر میں

بے شک ہر فرد اس کے لیے دعا گو تھا لیکن ہمت کسی میں نہیں تھی اس اذیت کو دوبارہ جینے کی محسوس کرنے کی جو اس کی وجہ سے آئی تھی

فرحت اور رضا نمرہ کے کمرے میں جاتے اور رو رو کر واپس آ جاتے

روہان البتہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ارحم فاریہ یا بلال اور نائلہ کو آۓ دن بلاۓ رکھتا تھا تاکہ اس کے ماں باپ کا دھیان بٹا رہے

دو سال ہونے کو تھے لیکن اس گھر کے در و دیوار سوگوار تھے

روہان بیٹا دروازہ کھولو کب سے بج رہا ہے فرحت نے کچن سے آواز دی

روہان نے دروازہ کھولا تو سامنے بلال اور نائلہ مٹھائی لیے کھڑے تھے

ارے کھڑے کیوں ہیں آپ دونوں روہان نے راستہ دیا

امی کہاں ہیں نائلہ نے پوچھا

کچن میں،،

اسلام و علیکم بلال نے کچن میں جا کر سلام کیا

وعلیکم اسلام بیٹا آ جاو باہر یہاں تو گرمی ہے بلکہ میرے کمرے میں آ جاؤ تمہارے ابو بھی وہیں ہیں فرحت نے نائلہ کی طرف دیکھ کر کہا

بلال بھائی یہ مٹھائی کس خوشی میں لاۓ ہیں روہان نے گلاب جامن منہ میں رکھتے ہوئے کہا

وہ اس لیے کہ جناب کو ماموں بنا دیا ہے ہم نے بلال نے روہان کے گرد بازو حمائل کیا

فرحت نے خوشی سے نائلہ کی طرف دیکھا تو نائلہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

فرحت نے اٹھ کر نائلہ اور بلال کو باری باری گلے لگایا

اللّٰه تم دونوں کو نیک اور صالح اولاد کے ماں باپ بنائے آمیں ثم آمین

فرحت کی آنکھوں کے آگے ذیشان کا چہرا گھوم گیا

رضا صاحب نے بھی ڈھیروں دعائیں دئیں

روہان تمہارے کمرے میں چلیں بلال نے کہا

ہاں ہاں چلیں ویسے بھی یہ خواتین بور بہت کرتی ہیں روہان نے ہنستے ہوئے کہا

دیکھیں ذرا امی کیسا بدتمیز ہوگیا ہے یہ نائلہ نے ہنستے ہوئے کہا

۔۔

ذیشان سے ملے تم بلال نے کمرے میں آتے ہی سوال کیا

ہاں روز جاتا ہوں یونیورسٹی کے بعد، روہان نے سر جھکاۓ جواب دیا

کیسا ہے وہ،،

بدل گئے ہیں بہت، کچھ نہیں بولتے بس سنتے ہیں روہان نے سرد آہ بھری

شاہ میر کی ڈیتھ ہو گئی ہے ، کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بلال نے کہا

روہان نے کوئی تاثر نہیں دیا

دوبئی میں کار ایکسیڈنٹ میں مارا گیا ہے،،

اللّٰه اس کی مغفرت کرے روہان نے بے تاثر چہرے سے جواب دیا

ہمممم آمین ،،۔

نمرہ کی حالت میں کوئی بہتری آئی بلال نے سوال کیا

اب تک تو نہیں لیکن ڈاکٹر ہارث کا کہنا ہے جلد ہی اچھی خبر ملے گی وہ نمرہ کی طرف سے مایوس نہیں ہیں ، روہان نے تفصیل بتائی

انشاء الله انشاء الله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں بھائی کیسا لگ رہا ہوں صائم نے گوگلز لگا کر اترا کر کہا

looking like a hero

مریم نے چہک کر جواب دیا

ویسے یہ پولیس یونیفارم جچ رہی ہے نا مجھ پر صائم نے پھر سہج کر کہا

کتنے خود پسند ہیں بھائی آپ،،

جل کیوں رہی ہو چندا، صائم نے مریم کو چڑایا

اوہو کیوں لڑ رہے ہو مونا بولیں۔

امی لڑ تھوڑی رہے ہیں ہم تو باتیں کر رہے ہیں مریم نے جواب دیا

ماشاء الله میرا بچہ اللّٰه قدم قدم پہ کامیابی دے میرے بچے کو

صائم کو دیکھ مونا نے دل سے دعا دی

آج معظم ہوتے تو خوشی سے پھولے نا سماتے مونا کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں

مما بھائی کا پہلا دن ہے ایسے روئیں تو نا مریم نے بات بدلی

مما آپ لوگ پیکنگ شروع کر دئیں مجھے گھر اور گاڑی بھی ملی ہے،

ایس پی صاحب جو بن گئے ہیں مریم نے خوشی سے کہا

یہ سب آپ دونوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے

جتنا مشکل وقت گزرا ہے اللّٰه نے انعام بھی اتنا بڑا دیا ہے صائم نے کہا

صائم یہ انعام کے ساتھ امتحان بھی ہے میرے بچے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہے سامنے تمہاری ماں ہی کیوں نا ہو مونا نے صائم کا ساتھ چومتے ہوئے کہا

انشاء الله مما

بس آپ دونوں دعا کرتی رہیے گا ہمیشہ

صائم نے ماں اور بہن دونوں کو گلے لگایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صالحہ پانی تو پلاو یار تھک گیا ہوں آج بہت،،

جی لائی ایک منٹ ،،

رافع آج جلدی آگئے آپ، صالحہ نے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے کہا

کہو تو واپس چلا جاتا ہوں، رافع صاحب نے شرارتً کہا

اب ایسا تو نہیں کہا میں نے، ویسے ہی پوچھ رہی تھی میں بس، صالحہ نے برا مناتے ہوئے کہا

اماں کہاں ہیں اور بچے بھی نظر نہیں آ رہے، رافع صاحب نے ادھر ادھر دیکھ کر کہا

اماں بچوں کو انکی پھوپھی کے گھر لے کر گئی ہیں کہہ رہی تھیں شام تک آ جائیں گی صالحہ نے الماری میں تہہ شدہ کپڑے رکھتے ہوۓ کہا

اچھا کھانا لگاؤ میں فرش ہوکر آتا ہوں رافع صاحب نے واش روم کی طرف جاتے ہوئے کہا

صالحہ نے جلدی سے روٹی ڈالی اور کھانا کمرے میں ہی کے آئیں

آ ہی رہا تھا میں باہر،

گرمی ہے بہت اس لیے یہاں لے آئی میں ،

رافع نے کھانا شروع کیا

رافع آپ نے دیکھا اخبار میں صائم کی تصویر لگی ہے صالحہ نے خوشی سے بتایا

ہاں دیکھا تھا میں نے ماشا الله مقابلے کا امتحان پاس کیا ہے اس نے

ایس پی لگ گیا ہے ماشاء الله سے رافع صاحب خوشی سے بولے

کتنی قسمت والی ہیں نا مونا باجی دونوں ہی بچے کتنے نیک اور ذہین ہیں ، صالحہ نے لہجے میں محبت لیے کہا

دکھ بھی تو بہت دیکھے ہیں انھوں نے صالحہ، رافع صاحب نے کھانا کھاتے ہوئے کہا

ہاں واقعی رافع اللّٰه پھر اپنے نیک بندوں کو ہی نوازتا ہے،،

اچھا صالحہ یہ برتن اٹھا لو اور پھر میری بات سننا واپس آ کہ،،

اچھا آ رہی ہوں،،،

یہاں بیٹھو، رافع صاحب نے صالحہ کو عین اپنے سامنے بٹھایا

صالحہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

روہان آیا تھا رافع صاحب نے بات شروع کی

اچھا صالحہ نے اٹھنا چاہا تو رافع صاحب نے ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بیٹھا دیا

ان کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے صالحہ مجھے لگتا ہے ہمیں جانا چاہیے وہاں،،

رافع آپ اتنی جلدی سب بھول گئے ہیں صالحہ نے افسوس سے کہا

دو سال ہو گئے ہیں نمرہ کومے میں پڑی ہے،

رضا بھائی دل کے مریض ہو گئے ہیں اور وہ ذیشان،

وہ تو جیل میں پڑا ہے،

صالحہ نے حیرت سے رافع کی طرف دیکھا

بچوں کو نہیں لے کر جائیں گے لیکن ہم چلتے ہیں صالحہ جو بھی ذیشان نے کیا اس کے کیے کی سزا ہم باقی سب کو نہیں دے سکتے میرا تو نمرہ کے لیے دل کٹ رہا ہے ،رافع صاحب نے دکھ سے کہا

اتنا سب ہوا کیسے رافع

،صالحہ کے پوچھنے پہ رافع نے تمام روداد صالحہ کو سنا دی جو روہان انکو بتا ہر گیا تھا

پتا تو معلوم نہیں ہے تو کیسے جائیں گے ہم صالحہ نے سوال کیا

روہان اپنا نمبر دے کر گیا ہے اس سے لے لوں گا پتہ بس تم کل تیار رہنا چلیں گے شام میں،،

اچھا ٹھیک بے رافع جیسے آپ کی مرضی

۔۔

ہیلو روہان، ہاں بیٹا اس سٹور کے سامنے کھڑے ہیں ہم جس کا تم نے بتایا تھا

اچھا چچا اس سٹور پہ ایک حامد لڑکا ہو گا اس کو بولیں وہ گھر چھوڑ جاۓ گا آپ کو ،

اچھا بیٹا چلو آتے ہیں ہم، رافع صاحب نے فون بند کیا

روہان بیٹا کون آ رہا ہے جن کے لیے تم صبح سے بے چین ہو، رضا صاحب روہان کو دروازے کے پاس چکر لگاتا دیکھ ہوچھنے لگے

ابو ہیں کچھ خاص مہمان آنے والے ہیں بس، روہان نے کہا

روہان کے چہرے کی چمک ہی آج الگ تھی

دروازے پہ دستک ہوئی تو روہان نے فوراً دروازہ کھولا

اسلام و علیکم چچا آئیں اندر آ جائیں آپکا ہی انتظار کر رہے تھے ہم، روہان نے دونوں کو اندر آنے کا راستہ دیا

رافع میرے بھائی، رضا صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ

فرحت بھی آ چکی تھیں

دونوں کی حالت دیکھ کر رافع اور صالحہ کو دکھ اور حیرانی نے آن گھیرا

رضا صاحب نے آگے بڑھ کر رافع کو گلے لگا لیا

چند ہی لمحے گزرے اور رضا صاحب کا ضبط ٹوٹ گیا اور انھوں نے بچوں کی طرح رونا شروع کر دیا

وہاں موجود ہر انسان کی آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے

رضا بھائی کیسے ہو گیا یہ سب رافع صاحب نے ساتھ بیٹھتے ہوئے سوال کیا

جس کے جواب میں فرحت نے ہاتھ جوڑ دئیے صالحہ اور رافع کے سامنے

ذیشان نے جو کچھ نورے کے ساتھ کیا میں معافی مانگتی یوں اس کی طرف سے

ارے بھابھی کیا کر رہی ہیں صالحہ نے فرحت کے جڑے ہوئے ہاتھ تھام لیے

بھابھی ہم سارے شکوے شکایاتیں بھلا کر آۓ ہیں خدارا پچھلی باتیں نا دہرائیں رافع صاحب گویا ہوۓ

فرحت نے اثبات میں سر ہلایا

نورے اور بقی کیسے ہیں بڑے ہو گئے ہوں گے دونوں رضا صاحب آنکھوں میں چمک لیے بولے

جی ماشاء الله بھائی جان

بقی ماشاء الله بڑا بھی ہو گیا ہے اور شریر بھی رافع صاحب مسکرا کر بولے

اور نورے ، فرحت نے بے چینی سے سوال کیا

نورے کے نام پہ روہان نے پوری توجہ رافع صاحب کی طرف کر دی

نورے بھی ماشاء الله بلکل ٹھیک ہے ماشا اللہ ساتویں میں پڑھتی ہے رافع صاحب نے کہا

روہان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی لٹل پرنسس، روہان نے زیرِ لب کہا

آپ نے بتایا نہیں رضا بھائی کیسے ہوگیا یہ سب اور نمرہ بیٹی وہ کہاں ہے رافع صاحب نے سوال کیا

رافع جب اپنی ہی اولاد قصوروار ہو تو کیا کر سکتے ہیں ہم

ذیشان کے کیے کی سزا ہمارے سارے گھر کو بھگتنی پڑ رہی ہے میری نمرہ جسکی ہنسی گونجتی تھی آج وہ بستر پہ پڑی ہے دو سال ہو گئے ہیں اور ہر دن قیامت بن کے گزرتا ہے ہر دن لگتا ہے کہ آج سب ٹھیک ہو جاۓ گا آج میری بیٹی بھاگتی ہوئی آۓ گی کہ ابو میری چاکلیٹ کہاں ہیں

لیکن وہ نہیں اٹھتی بات نہیں کرتی مجھ سے رضا صاحب پھر سے رو پڑے

صبر کریں بھائی صاحب انشاء الله سب ٹھیک ہو جائے گا بہت جلد صالحہ نے تسلی دی

نائلہ بیٹی کیسی ہے رافع نے سوال کیا

ماشاء الله خوش ہے اپنے گھر میں بہت اچھا سسرال ملا ہے اس کو اور بلال تو ہیرا ہے فرحت نے جواب دیا

اللّٰه سب بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے صالحہ نے کہا تو سب یک زبان بو لے آمین

اگلی بار آنا تو بچوں اور اماں کو ساتھ کے کر آنا رافع رضا صاحب بولے

جی ضرور بھائی صاحب،۔

اچھا بھائی صاحب اب اجازت دئیں گھر پہ بچے اماں کو تنگ کر رہے ہوں گے رافع صاحب بولے

اور پھر رافع صاحب اور صالحہ نے گھر کی راہ لی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون آیا ہے فرحت، رضا صاحب نے باہر سے اتی آواز سن کر سوال کیا

ارحم آیا ہے، اللّٰه اس بچے کے ہی سن لے رضا ،

دو سال سے نمرہ بستر پہ ہے اور ایک دن ایسا نہیں آیا جب یہ لڑکا اس کے پاس نا آیا ہو

کبھی روتا ہے کبھی ہنستا ہے

کبھی ایسے باتیں کر رہا ہوتا ہے جیسے نمرہ۔سن رہی ہے اور جواب دے گی ابھی اس کو، فرحت نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا

اللّٰه کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں فرحت اس ذات سے مایوس نہیں ہوتے وہ دینے پہ آتا ہے تو نسلیں سنوار دیتا ہے

انشاء الله وہ ہمیں بھی نوازے گا، رضا صاحب لہجے میں امید لیے بولے

اور مجھے اس وقت کا انتظار بے صبری سے ہے جب اللّٰهُ ہماری خطائیں معاف کر دے گا اور ہمارا گھر ہھر سے پہلے جیسا ہرا بھرا ہو جاۓ گا، فرحت نے کہا

اچھا ارحم کو کھانے کا پوچھو ایسے نا بھیج دینا، رضا صاحب بولے تو فرحت اٹھ کہ کچن کی طرف چل دئیں

۔۔

۔۔

تمہیں پتہ ہے آج نا ایک خوبصورت سی ویل ڈریسڈ لڑکی میرے پاس آئی اور کہتی کہ مجھ سے دوستی کر لیں کیونکہ مجھے آپ پسند آ گئے ہیں

ارحم نے قہقہہ لگا کر کہا

لیکن میں نے صاف انکار کر دیا جاناں میں نے کہا کہ سوری آئی ایم میرڈ اینڈ آئی ہیو آ پریٹی وائف،۔

وہ اتنا حیران ہوئی اور بولی یہ سارے اچھے لڑکے شادی کیوں اتنی جلدی کر لیتے ہیں

ارحم نے پھر قہقہہ لگایا

تم بھی تو بولو نا جاناں

ہمیشہ میں ہی بولتا ہوں

میرا دل کرتا ہے تم بولو اور میں سنوں

لیکن تم کچھ نہیں بولتی ارحم نے نمرہ کا ہاتھ ہمشہ کی طرح اپنے ہاتھوں میں لیا اور ہتھیلی پہ لب رکھ دئیے

کب تک ناراض رہو گی مان جاو نا اب

مجھ پہ ترس نہیں آتا تمہیں نمرہ ارحم نے نمرہ کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پہ رکھا اور غور سے نمرہ کے چہرے کو دیکھنے لگ گیا

ایک آنسو نمرہ کی آنکھ سے نکل کر بالوں میں جزب ہو گیا

لیکن ارحم یہ سب دیکھ رہا تھا

نمرہ نمرہ تم سن سکتی ہو نا مجھے،

مجھے پتا ہے تم سن رہی ہو، اب اٹھ جاو نا یار

میں مر جاوں گا نمرہ میرا اتنا امتحان مت لو ارحم کی انکھیں بھی اشک بار ہو گئیں

ارحم ہمیشہ کی طرح آج بھی گھنٹوں نمرہ سے باتیں کرتا رہا اہنے سارے دن کی روٹین دوستوں کی باتیں، فاریہ اور اس کی لڑائی وہ روز آ کر نمرہ کو بتاتا تھا

لیکن دو سال میں آج نمرہ نے پہلی بار آنسو کے ذریعے جواب دیا تھا

ارحم نے ڈاکٹر ہارث سے بات کی

کچھ دیر بعد ڈاکٹر ہارث بھی آ گئے اور نمرہ کا چیک اپ کرنے لگے

مجھے یہ بتاتے ہوۓ خوشی ہو رہی ہے کہ نمرہ کا دماغ بیدار ہو چکا ہے کافی حد تک امید ہے کہ جلد ہی وہ حوش میں آ جاۓ گی

ڈاکٹر ہارث نے جیسے نمرہ کو نہیں اس گھر کے ہر فریق کو زندگی کی نوید سنا دی تھی

لیکن اب صرف ایک کومپلکیشن ہے وہ یہ کہ حوش میں آنے کے بعد پچاس پرسنٹ چانس ہیں کہ نمرہ کی یاد داشت جا سکتی ہے

ڈاکٹر نے تفصیل بتائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *