Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 16)

Hawas by Urwa Fatima

بھائی عجیب لگ رہا ہے مجھے اتنا ہیوی ڈریس پہن کے

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی فیلنگز آ رہی ہیں مجھے

ہاہاہا نمرہ قسم سے بہت پیاری لگ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو ،

پھر بھی بھائی،،

اچھا بس چلو اب روہان باہر نکل گیا

نا چاہتے ہوئے بھی نمرہ گاڑی کی طرف بڑھ گئی

گاڑی سیدھی سڑک پہ دوڑ رہی تھی دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد گاڑی ایک گفٹ شاپ کے سامنے رکی

میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں،

روہان نے کہا تو نمرہ نے اثبات میں سر ہلایا

روہان کے جاتے ہی گاڑی کا دروازہ کھلا اور ارحم ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا

آ آ آپ نمرہ نے حیرانی سے ارحم کی طرف دیکھا

ارحم نے بغیر نمرہ کی بات کا جواب دئیے گاڑی سٹارٹ کر دی

ارحم بھائی شاپ میں گئے ہیں آپ آپ کیوں آ گئے ہیں

ارحم نے سرد نگاہوں سے نمرہ کی طرف دیکھا

نمرہ فوراً خاموش ہو گئی

گاڑی اندھیر راستوں سے ہوتی ہوئی اب روشن راستوں پر دوڑ رہی تھی لیکن رک نہیں رہی تھی

دو گھنٹے ہو گئے ہیں صرف گاڑی چل رہی ہے لیکن منزل نہیں آ رہی

آپ بتانا پسند کریں گے کہ کہاں جا رہے ہیں ہم

نمرہ نے بیزار ہو کر ذرا تلخ لہجے میں کہا

لیکن ارحم ہنوز لب سئیے اپنی نظریں سڑک پر جماۓ بیٹھا رہا

اس خاموشی پہ نمرہ تلملاہٹ سے پہلو بدل گئی

کچھ دیر بعد گاڑی ایک خوبصورت سے ریسٹورنٹ کے سامنے رکی انتہائی خوبصورت بلڈنگ دور سے ہی متوجہ کر رہی تھی

ارحم گاڑی سے باہر نکلا اور نمرہ کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر ہاتھ آگے بڑھایا

جسے کچھ لمحے سوچنے کے بعد نمرہ نے تھام لیا اور گاڑی سے باہر آ گئی

نمرہ نے دیکھا کہ ارحم رائیل بلیو تھری پیس پہنے اچھی خاصی تیاری سے آیا تھا

معتدل قدم اٹھاتے نمرہ کا ہاتھ تھامے وہ ریسٹورنٹ کی لوبی سے ہوتا ہوا بیک یارڈ میں جا پہنچا

جہاں ایک ٹیبل کو بہت ہی پرفیکٹ انداز میں سجایا گیا تھا

ارحم نے نمرہ کے لیے کرسی سیدھی کی تو نمرہ بیٹھ گئی

نمرہ کو یقین نہیں آ رہا تھا یہ سب ارحم کر رہا تھا کیونکہ ارحم کبھی کسی کو سکون سے نہیں رہنے دیتا ہے اور خاموشی سے تو ارحم کا کوئی واسطہ ہی نہیں تھا لیکن یہ سب یہ سب ہو کیا رہا تھا سب نمرہ کی سمجھ سے باہر تھا

کیا ہوا مسز ارحم کیا سوچ رہی ہیں آپ

ارحم یہ سب کیا ہے نمرہ نے ناسمجھی سے سوال کیا

ارحم نے مسکرا کر نمرہ کا ہاتھ تھاما

میری اس محبت کا ثبوت جسے آپ بھلا بیٹھی ہیں

نمرہ نے سر جھکا لیا

روہان نے مجھے بتایا تھا ان سب باتوں کے بارے ميں جن کو تم نے اپنے لیے وبالِ جان بنایا ہوا تھا

تو پھر آپ آۓ کیوں نہیں مجھ سے ملنے جب سے مجھے حوش آیا اس دن کے بعد آپ ایک بار بھی نہیں آۓ ارحم مجھے لگا آپ اب نہیں آئیں گے

میں بس تمہیں تھوڑا سا انتظار کروانا چاہتا تھا ارحم نے کندھے اچکاۓ

نمرہ نے آنکھوں میں نمی لیے ارحم کی طرف دیکھا

نمرہ اس حسین شام کو میں سپوئل نہیں کرنا چاہتا لیکن تمہاری غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے اس لیے اب میں بولوں گا اور تم سنو گی

آخری بات ارحم نے مسکرا کر کہی

نمرہ گزرے دو سال تم نے بےخبری میں گزارے ہیں اور میں نے ان دو سالوں میں محسوس کیا ہے کہ پل پل مرنا کیا ہوتا ہے

نمرہ انسان تب نہیں مرتا جب اس کی روح جسم سے جدا ہوتی ہے

انسان تب مرتا ہے جب کوئی بہت پیارا اس سے جدا ہوتا ہے

اور ان دو سالوں میں میں ہر دن مرا اور اگلے دن دوبارہ اس امید سے جی اٹھتا کہ شاید آج تم آج تم مجھے میری پکار کا جواب دو لیکن ہر دن امید کی کرچیاں میری روح کو زخمی کر دیتی تھی

میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس واقعے سے پہلے تم میرے لیے بلکل عام لڑکیوں جتنی اہمیت رکھتی تھی شاید تمہاری جگہ کسی اور سے میرا نکاح ہوتا تو میں اس سے بھی اتنی ہی محبت کرتا

لیکن تمہاری طویل خاموشی نے مجھے اس بات کا یقین دلا دیا کہ ارحم علی نمرہ کے بغیر ادھورا ہے

مم مجھے نہیں یاد کہ یہ آنکھیں ہوش سنبھالنے کے بعد روئی ہیں

لیکن یہ آنکھیں یہ آنکھیں تمہارے لیے ساری ساری رات روئی ہیں

ارحم نے انگلی سے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور آنسو نمرہ کی آنکھوں سے بہہ نکلے

ارحم کی آواز بھی رندھ چکی تھی

نمرہ یہ دل دھڑکنا بھول چکا تھا لیکن پھر دو سال بعد جب تم نے میری باتوں کا جواب اپنے آنسو سے دیا

تب نمرہ تب یہ دل واپس اپنی رمز پر لوٹا تھا

ارحم نے نمرہ کا ہاتھ اپنے سینے پہ دل کے مقام پہ رکھا

نمرہ نے ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا

نمرہ نمرہ میری جان ایسے مت رو ارحم اٹھ کے نمرے کے قدموں میں آن بیٹھا

ارحم اتنی محبت مت کریں مجھ سے مم میں اس قابل نن نہیں ہوں

مم میں پا پاکیزہ نہ۔۔۔۔

نمرہ ایک لفظ بھی منہ سے ایسا نا نکالنا

نمرہ اصل محبت یہی ہے کہ محبوب کو خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کیا جائے

اور تم تو پاک روح ہو آج بھی تم پاکیزہ ہو اس گھٹیا شخص نے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا

اور اگر ایسا نہ بھی ہوتا تب بھی تم مجھے دل و جان سے قبول تھی

بس اب رونا بند کرو شاباش

دیکھو کاجل پھیل گیا ہے تمہارا اور چڑیل لگو گی اگر ذیادہ روئی تو

ارحم کی اس بات پر نمرہ بھی ہنس پڑی برے ہیں آپ ارحم

زیادہ برا بن جاؤں گا اگر تم اس ماہ میں رخصت ہو کر میرے گھر نا آئی تو ارحم اٹھ کر نمرہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا

نمرہ کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر گئے لیکن پھر اداسی کی جھلک آ کر گزر گئی

ارحم ذیشان بھائی کی موجودگی میں رخصت ہونا چاہتی ہوں میں

ارحم کے لب مسکرا اٹھے میں بھی مزاق کر رہا تھا اتنی جلدی قید نہیں ہونا چاہتا میں

نمرہ کی ایک گھوری ارحم پہ ڈالی

گھڑی نے بارہ بجانے کے ساتھ ایک آواز پیدا کی جس سے خاموشی الوداع ہوئی

ارحم نے ٹیبل پہ رکھی بیل بجائی تو ویٹر نے ایک ہارٹ شیپ کا چاکلیٹ کیک ٹیبل پر رکھا

ہیپی برتھ ڈے میم کہہ کر سائید پہ جا کھڑا ہوا

نمرہ نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا

نمرہ کیک کی طرف متوجہ ہوئی جس پر لکھے الفاظ بہت خوبصورت تھے

“ہیپی برتھ ڈے بیٹر ہاف”

چلو کیک کاٹو اب

ارحم نے کہا تو نمرہ نے نائف پکڑا

اور ساتھ ہی وائلن کی آواز نے ہوا میں سحر گھول دیا

نمرہ اور ارحم نے ساتھ مل کر کیک کاٹا

ارحم نے ڈائمنڈ کے ٹوپس نمرہ کے کانوں میں سجا دئیے

ہیپی برتھ ڈے جانم ارحم نے نمرہ کو دونوں بانہوں میں مقید کر لیا

ایک سکون کی لہر دونوں میں دوڑ گئی

سب گلے شکوے ختم ہوۓ سب خدشات مٹ گئے

اور یہ حسین پل کیمرے میں قید کر لیے گئے

واپس آتے آتے رات کے دو بج چکے تھے ارحم نے جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھولا

ارحم میرے گھر کی چابی آپ کے پاس کیسے ہے

روہان سے لی تھی کیونکہ مجھے پتا تھا آتے آتے دیر ہو جاۓ گی

ہمم اچھا

دروازہ کھول کر دونوں اندر داخل ہوئے تو ہر طرف گھپ اندھیرا تھا

نمرہ نے ارحم کا بازو پکڑ لیا کیونکہ بچپن سے نمرہ اندھیرے سے خوفزدہ تھی

دونوں لاونج میں داخل ہوئے تو اچانک سے روشنی واپس آ گئی

ہیپی برتھ ڈے نمرہ سب نے بلند آواز میں کہا تو نمرہ حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تصورات سے سب کو دیکھنے لگی

روہان نائلہ بلال فاریہ کے ساتھ پھپھو اور امی بھی موجود تھیں

روہان جاو ابو کو بلا لاو نائلہ نے کہا

چلو بھئ نمرہ جلدی کرو کیک کاٹو کب سے تم لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں ہم بلال نے نمرہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

نمرہ نے کیک کاٹا اور سب سے پہلے رضا صاحب کو کھلایا

سب نے نمرہ کو ڈھیروں دعائیں دی اور گفٹس بھی

وقت گزرتے پتہ ہی نہیں چلا اور رات نے دن کی چادر اوڑھ لی

فاریہ ارحم اور عابدہ بھی ناشتے کے بعد گھر جا چکے تھے

بلال نائلہ کو وہیں چھوڑ گیا تھا کیونکہ یہی تہہ ہوا تھا

نائلہ کی ڈیلیوری میں بہت کم وقت رہ گیا تھا اس لیے،،

روہان بھائی کتنے تیز ہیں آپ نمرہ روہان کے ساتھ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولی

دیکھو بھئ ادھار ہے یہ میری باری تم بھی ایسے رومنٹک پلانز میں ہیلپ کرو گی میری

ہرگز نہیں ارحم کو بولیے گا نمرہ نے قہقہہ لگایا

رضا صاحب کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں کیونکہ ایک لمبے عرصے بعد نمرہ ایسے ہنس رہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت رات کے دو بج رہے تھے

بلال سکینہ اور فرحت آپریشن تھیٹر کے باہر دل تھامے اللّٰه سے التجاوؤں میں مصروف تھے

رات نو بجے کا وقت ت جب نائلہ کو لیبر پینز شروع ہوئیں

ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے بتایا کہ بچے کی آکسیجن بہت کم ہونے کی وجہ سے فوری آپریشن کرنا پڑے گا

سب کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی

آپ پریشان مت ہوں انشاءاللہ سب بہتر ہو گا

ڈاکٹر نے تسلی دی

دو بج کر پندرہ منٹ پر نرس نے آ کر بیٹے کے اس دنیا میں آنے کی خبر دی

اور نائلہ کیسی ہے

بلال نے فوراً سوال کیا

ماں اور بچہ دونوں الحمد الله ٹھیک ہیں

یا اللّٰه تیرا شکر ہے بلال نے خوشی سے چہک کر کہا

مبارک ہو فرحت بھابھی مالک نے یہ خوشی آپ کو دیکھائی

آپ کو بھی بہت مبارک ہو سکینہ بھابھی آپ بھی تو دادی کہ عہدے پر فائز ہو گئی ہیں

بلال نے سب کو اطلاع کی رضا صاحب کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کے آ جائیں بیٹی اور نواسے کے پاس یہی حال نمرہ کا بھی تھا لیکن صبح تک انتظار کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا

روہان کو بلال نے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کے لیے بھیجا تھا جب اس کو بھانجے کی آمد کی خبر ملی تو ڈھیروں مٹھائی ہاسپٹل لیتا آیا

پورے ہاسپٹل میں مٹھایاں تقسیم کی گئیں

مزید ایک گھنٹا گزر گیا تو نرس نے آ کر بتایا کہ نائلہ کو کمرے میں شفٹ کر دیا گیا ہے اب مل سکتے ہیں سب

بلال اور فرحت بیگم کمرے میں گئے

جبکہ سکینہ بیگم اور روہان کو وارڈ بوائز اور نرسز نے گھیر رکھا تھا

میری پہلی اولاد میرے بچے اللّٰه تمہیں دونوں جہان میں کامیاب کرے بلال نے جھولے میں پڑے بچے کے ننھے ننھے ہاتھوں کو چوما

آنٹی اس کی آنکھیں بلکل میرے جیسی ہیں نا بلال نے خوشی سے کہا

جی نہیں بلال بھائی یہ بلکل میرے جیسا ہے اپنے ماموں جیسا

پرے ہٹو ایسے کیسے تمہارے جیسا ہے

اف ہو بلال تم تو باولے ہو گئے ہو سکینہ بیگم نے قہقہہ لگایا

امی پانی، نائلہ کی آواز پر سب متوجہ ہوئے لیکن وہ دوبارہ غنودگی میں چلی گئی

میم آج کا دن مریض کو کچھ بھی نہیں دینا کھانے پینے کو جب تک ڈاکٹر صاحبہ اجازت نہیں دیتیں

نرس نے فرحت بیگم سے کہا

اچھا بیٹا ٹھیک ہے

چلیے بلال بھائی فجر پڑھ آئیں اور سجدہِ شکر بھی ادا کریں

ہاں چلو روہان

صبح کے نو بج رہے تھے جب نائلہ کو مکمل ہوش آ چکا تھا

بلال بیٹا تم اور فرحت بھابھی ادھر ہو نا تو میں ذرا گھر سے ہو آؤں نائلہ کے لیے یخنی کا کہہ کہ گئی ہے نرس

یخنی بھی بنا لاتی ہوں اور کھانا بھی

ٹھیک ہے امی میں چھوڑ آتا ہوں واپسی پہ ابو کے ساتھ آ جائیے گا

نہیں بلال تم رکو روہان چھوڑ آتا ہے فرحت بیگم نے کہا روہان نے اثبات میں سر ہلایا

بلال مجھے تو دیکھائیں میرا بیٹا

ہاں یہ دیکھو نائلہ یہ کتنا پیارا ہے نا بلال نے بچے کو اٹھا کر نائلہ کے سامنے کیا

نائلہ کو عجیب سی خوشی محسوس ہوئی

بلال یہ تو بہت پیارا ہے نائلہ کی آنکھیں بھر آئیں

شکریہ نائلہ مجھے اتنا پیارا تحفہ دینے کے لیے اور شکریہ ہمیں مکمل کرنے کے لیے

بلال نے نائلہ کے ساتھ پہ لب رکھ دئیے

ایک خوبصورت مسکان دونوں کے چہرے کو گلنار کر گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی کھانا کھا لیں مما بلا رہی ہیں

صائم سٹڈی روم میں ایک فائل پہ جھکا ہوا تھا جب مریم اندر آئی

ہمم آپ جاو آ رہا ہوں میں

صائم فائل میں موجود نام پڑھ کر اور اس بے بنیاد کیس کو دیکھ کر خاصہ الجھ گیا

کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ آنکھیں میچیے وہ کچھ دیر بیٹھا رہا اور پھر کھانا کھانے چلا گیا

صائم بیٹے کام اپنے جگہ مگر صحت کا خیال رکھا کرو بچے

جی مما صائم نے گم صم سا جواب دیا

دھیان تمہارا ابھی بھی نہیں ہے صائم مونا نے ذرا غصے سے کہا

ایسا نہیں ہے مما

مریم پیپرز کب ہیں تمہارے

بھائی ایک ہفتہ رہ گیا ہے بس دعا کرییے گا اچھے ہو جائیں

انشاء الله محنت کبھی ضائع نہیں جاتی محنت کرو صلہ دینے والا اللّٰه ہے

جی بھائی

مریم تمہاری وہ دوست کب آ رہی ہے

مما ابھی نہیں پیپرز کے بعد آۓ گی

کونسی دوست مریم صائم نے کھانا کھاتے ہوئے پوچھا

فاریہ ایک ہی تو اچھی دوست ہے میری بھائی جس کو میں گھر لا سکتی ہوں

کون وہ ریسٹورنٹ والی صائم نے ترچھی نگاہوں سے دیکھا

ہممم وہی

اوکے مما میں جا رہی ہوں روم میں پڑھنا ہے مجھے

ہاں ٹھیک ہے بیٹا اللّٰه تمہیں کامیاب کرے

مما مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے

مریم چلی گئی تو صائم نے کہا

ہاں بولو بیٹا

مما یہاں نہیں ایک کام کریں اپنی اور میری چاۓ بنوا لیں میں آپ کے روم میں آتا ہوں

اچھا بیٹا

نازی بیٹا دو کپ چاۓ بنا کے میرے کمرے میں لے آو

کچھ دیر بعد نازی کمرے میں چاۓ دے گی تو صائم بھی آ گیا

ہاں اب بولو بیٹا کیا بات پریشان کر رہی ہے تمہیں مونا نے چاۓ کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے سوال کیا

مما میں نا دو تین سال پہلے کے کیس سٹڈی کر رہا تھا ان میں مجھے ایک فائل نظر آئی ڈھائی تین سال پرانی

ذیشان علی کے نام سے،،

ماما ایک بے بنیاد کیس میں پھنسایا گیا اور پانچ سال قید ہو گئی

مما وہ ذیشان رضا انکل کا بیٹا ہے

صائم خاموش ہوا

لیکن صائم اس بات سے تم کیوں پریشان ہو

مما وہ ایک جھوٹے کیس میں دو ڈھائی سال سے سزا کاٹ رہا ہے اور میرے پاس یہ اختیار ہے کہ میں اسے رہا کروا سکتا ہوں لیکن مما جو سب ذیشان نے کیا وہ سب میں بھلا نہیں سکتا اور اپنے فرض سے کوتاہی بھی نہیں کر سکتا میں

صائم نے سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا

صائم میرا بچہ تمہارا فرض تمہاری اولین ترجیح ہونی چاہیے ذیشان نے جو کچھ کیا وہ. اپنے اعمال کا جواب دے ہے اور تم اپنے اس لیے ہمیشہ وہی کرنا جو حق ہو اور سچ ہو مونا صائم کے سر پر ہاتھ رکھا

شکریہ ماما آپ نے میری الجھن ختم کر دی

جیتے رہو بیٹا

مونا ہے دعا دی صائم مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گیا

۔۔

۔۔

صائم نے کمرے میں آ کر دوبارہ فائل پر نظر دوڑائی اور فون اٹھا کر ارباز کو کال ملائی

ہاں ارباز کیسے ہو

ٹھیک الحمد اللہ خیریت ہے اس وقت کال کی صائم

ہاں اصل میں میں ایک کیس فائل سٹڈی کر رہا تھا

مجھے اس قیدی سے ملنا ہے

لیکن کیوں یار صائم

مجھے لگتا ہے وہ بے گناہ ہے ارباز خیر میں تمہیں ڈیٹیلز سینڈ کر رہا ہوں صبح ملاقات کرنی ہے مجھے

چلو سہی ہے میں دیکھ لیتا ہوں سب

اوکے اللّٰه حافظ

فون بند کر کے صائم نے وضو کیا اور عشاء کی نماز کے لیے کھڑا ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مریم کو کالج چھوڑ کر صائم سیدھا پولیس سٹیشن آیا

ایک دو میٹنگز اٹینڈ کرنے کے بعد صائم نے ارباز سے کہہ کر ذیشان کو بلوایا

ذیشان کو ملاقات کے کمرے میں بٹھا دیا گیا

کچھ دیر بعد صائم آیا تو ذیشان اپنے جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا

بیٹھ جاو صائم نے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ذیشان سے کہا

ذیشان خاموشی سے نظریں جھکاۓ بیٹھ گیا

میں تم سے جو کچھ پوچھوں اس کا جواب صرف سچ ہونا چاہیئے صائم نے سرد لہجے سے کہا

ذیشان نے اثبات میں سر ہلا دیا

صائم: کتنے عرصے سے یہاں ہو

ذیشان : تین سال

صائم:کس جرم میں آۓ ہو

ذیشان :ارادہِ قتل کے

صائم:کس کو قتل کرنا چاہتے تھے

ذیشان : اپنے جیسے ایک ہوس کے پجاری کو

پوری بات بتاو ذیشان کیونکہ میں جانتا ہوں جس کیس میں تم یہاں ہو وہ بے بنیاد کیس ہے

صائم مجھے معاف کر دو ذیشان نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

میں تمہارا مجرم ہوں تمہاری بہن کا مجرم ہوں

میں جرم میں یہاں نہیں آیا میں اللّٰه کی پکڑ میں آیا ہوں

میرے برے اعمال نے میرے گھر کو تاریک کر دیا

صائم تم مجھے معاف کر دو ذیشان نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا

ذیشان تم یہاں تک کیسے پہنچے صائم کا لہجہ اب بھی سرد تھا

ذیشان نے شاہ میر سے متعلق تمام باتیں صائم کو بتا دئیں اس ایک شخص کی وجہ سے نمرہ کی زندگی میں آنے والے مسائل سب ذیشان نے صائم کو بتا دئیے

ذیشان یہ دنیا مکافات عمل ہے برا کرتے وقت ہم نہیں سوچتے لیکن جب اللّٰه کی پکڑ میں آتے ہیں تب ہمیں سمجھ آتا ہے لیکن تب پچھتاوا مقدر بن جاتا

صائم تم مجھے معاف کر دو اور مم میں مر مریم سے بھی معافی مانگ لوں گا ذیشان کے الفاظ اٹک رہے تھے

اس بات کو ابھی رہنے دیتے ہیں

میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں رہائی مل جائے

صائم اٹھ کر جانے لگا تو

ذیشان کے الفاظ اس کے کانوں میں پڑے

“صائم رہائی بے شک مت دلواو لیکن خدا کے لیے معافی دلوا دو “

صائم ایک لمحے کو رکا اور بغیر پلٹے باہر نکل گیا

ذیشان ایک بار پھر ضمیر کی عدالت میں کھڑا تھا

آنسو اب آنکھوں سے نہیں نکل رہے تھے لیکن دل رو رہا تھا

شام کو بابا سائیں کی محفل میں بھی گم سم سا ایک کونے میں بیٹھا رہا

محفل شروع ہوئی اور ختم ہو گئی لیین ذیشان ہنوز گود میں دونوں ہاتھ رکھے بےخبر سا بیٹھا رہا

سب جا چکے تو بابا سائیں اٹھ کر ذیشان کے قریب آبیٹھے

ذیشان ایسے کیوں بیٹھے ہو بیٹا

بابا سائیں کا شفقت بھرا ہاتھ ذیشان کے سر پہ تھا

بابا سائیں گناہ ہو جائے اور توبہ کر لیں تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ توبہ قبول ہو گئی ہے

اگر اس گناہ سے نفرت ہو جاۓ جس کی توبہ کی جاۓ اور دوبارہ وہ گناہ سرزد نا ہو تو سمجھ جانا توبہ قبول ہو گئی ہے

بابا سائیں کیا میری توبہ بھی قبول ہو گی

بیٹا ہوگی کیا مطلب تمہیں یقین نہی ہے کیا اس پاک ذات سے مایوس ہو رہے ہو تم

مایوسی کفر ہے بچے یقین رکھو وہ جو رب ہے نا وہی سب ہے

آج ایس پی سے ملا ہو میں وہ کہہ رہا تھا مجھے رہا کروا دے گا کیونکہ میرا کیس بے بنیاد ہے

میں نے اس سے کہا رہائی بے شک مت دلواو معافی دلوا دو

ذرا توقف کے بعد ذیشان دوبارہ بولا

وہ ایس پی مم مریم کا بھائی ہے

ذیشان نے سرک آنکھوں سے بابا سائیں کی طرف دیکھا

بیٹا ایک بات یاد رکھنا

جو کرتا ہے اللّٰه کرتا ہے اور جو اللّٰه کرتا ہے بلکل سہی کرتا ہے

ذیشان ہو سکتا ہے آج ہماری آخری ملاقات ہو تم نے بہت سے کام کرنے ہیں مجھے امید ہے تم ہمیشہ حق کا ساتھ دو گے

چلو شاباش اٹھو نماز پڑھتے ہیں

۔۔

۔۔

ارباز سیٹھ اکرم کا ایک بندہ یہاں موجود ہے تمہیں خبر ہے اس بات کی کہ کون ہے

جی سر سب انسپکٹر رحمان

ارباز اس شخص کی پل پل کی خبر رکھو

اوکے سر

سیٹھ اکرم کے ڈیرے کا معلوم ہے تمہیں

جی سر

آ جاؤ پھر آج سیٹھ صاحب کو شرفِ ملاقات بخشیں

صائم صاحب ارادے کیا ہیں

ارادے تو نیک ہیں مولا پورے کرے گا انشاء الله

انشاء الله لیکن مجھے تو کچھ بتاو

ارباز صاحب ابھی جائیں گے ہم سیٹھ کے پاس اور دبی دبی وارنگ دیں گے کیونکہ اس کے بندوں نے گرلز کالج اور اسکولز کے باہر خاصی بیغیرتی مچا رکھی

اور مجھے یقین ہے وہ الٹا مجھے ہی خریدنے کی کوشش کرے گا

پھر ہم آئیں گے اپنے اصل سٹائل میں کیونکہ ان ہوس کے پجاریوں کا خاتمہ میری اولین ترجیح ہے اس علاقے سے شروعات ہو گی اور میری آخری سانس تک جاری رہے گی

صائم نے راستے میں سارا پلان ارباز کو سمجھا دیا

یہاں سے لفٹ لے لو سامنے ہی سیٹھ کا ڈیرہ ہے

صائم نے ٹرن لیا اور گاڑی ایک بڑے سے گیٹ کے سامنے روک دی

ارباز نے گارڈ کو اشارے سے بلایا

سیٹھ صاحب کو بتاو ایس پی صاحب آۓ ہیں

گارڈ نے کچھ دیر بعد گیٹ کھول دیا

صائم نے گاڑی اندر کی طرف بڑھا دی

گاڑی ایک طویل احاطے میں داخل ہو گئی

صائم نے گاڑی پارک کی تو دو گارڈز نے آگے بڑھ کر گاڑی کے دروازے کھول دئیے

ارباز اور صائم دونوں باہر آ گئے

آئیے سیٹھ صاحب آپ کے منتظر ہیں

ارباز نے اثبات میں سر ہلایا

اور دونوں گارڈ کے پیچھے چل دئیے ایک آدم قد برآمدے سے ہوتے ہوئے وہ ایک کمرے میں جا پہنچے

باہر کا ایریا دیکھ لگا جیسے ہوئی گاؤں ہو لیکن جس کمرے میں انہیں لا کر بیٹھایا گیا کسی محل کے کمرے سے کم ہرگز نا تھا

خوش آمدید ایس پی صاحب خوش آمدید

شکریہ سیٹھ صاحب مصافحے کے بعد سیٹھ اکرم ان کے سامنے آ بیٹھا

میں نے آپ کے بارے میں بہت سنا ہے کہ کیسے آپ کم عمری میں اپنی محنت سے اس اعلی عہدے پر فائز ہوۓ

میں تو آپ سے خود ملنے آنے والا تھا

سیٹھ اکرم نے خوش آمدی لہجے میں بات شروع کی

سیٹھ صاحب میں نے سوچا میں خود آپ سے مل لوں اب آپ تھانے آتے اچھا نہیں لگتا مجھے

اسی لیے میں خود حاضر ہو گیا

بڑی مہربانی ایس پی صاحب

سیٹھ صاحب اصل میں میں ایک پیغام لے کر آیا تھا

حکم کریں جناب

سیٹھ صاحب اس علاقے میں کچھ لوگ اسکول، کالج کی بچیوں کا پیچھا کرتے ہیں نازیبا حرکات کرتے ہیں اور شہریوں کے روکنے پر تشدد کرتے ہیں پولیس کے پوچھنے پر بڑے رعب سے کہتے ہیں کہ ہم سیٹھ اکرم کے بندے ہیں

سیٹھ صاحب مختصراً یہ کہ اگر وہ واقعی آپ کے لوگ ہیں تو انکو قاعدے میں رکھیں ورنہ میرا قاعدے میں رکھنے کا طریقہ بلکل مختلف ہے آپ ایک معزز اور سمجھ دار آدمی ہیں امید ہے سمجھ رہے ہوں گے میری بات کو

سیٹھ اکرم کی مسکراہٹ سمٹ گئی

یعنی آپ مجھے دھمکانے آئیں ہیں ایس پی صاحب

ارے نہیں سیٹھ صاحب دھمکاتا نہیں ہوں میں عمل کرتا ہوں لیکن عمل سے پہلے اطلاع ضرور دیتا ہوں

ارے جانے دئیں ایس پی صاحب بچے ہیں ایسے ہی شغل لگاتے ہیں آپ کا کیا جاتا ہے لگانے دئیں

بلکہ آپ حکم کریں شباب اور شراب دونوں آپ کی خدمت میں حاضر کر دئیے جائیں گے

بچوں کو انکے حال پر چھوڑ دئیں ہم آپ کے حال سنوار دئیں گے

کیا خیال ہے ارباز صاحب

ارباز کے بولنے سے پہلے صائم بول پڑا

سیٹھ صاحب میں شباب کی نہیں نیک بیوی کی تمنا رکھتا ہوں نا ہی شراب کی چاہ ہے کیونکہ میں حوضِ کوثر پہ یقین رکھتا ہوں

اور رہی بات حال سنوارنے کی تو اس کی بھی مجھے ضرورت نہیں میرے اللّٰه نے مجھے جس حال میں رکھا ہے میں اسی حال میں بہت خوش ہوں

آپ کے وقت کا بہت شکریہ اب جب بھی ملاقات ہو گی تھانے میں ہی ہو گی خدا حافظ

صائم نے بات مکمل کی اور سامنے والے کی سنے بغیر کمرے سے نکل گیا

ارباز بھی ساتھ ہو لیا

اور کچھ ہی دیر میں انکی گاڑی دھول اڑاتی ڈیرے سے باہر نکل گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *