Hawas by Urwa Fatima NovelR50551
Last updated: 27 February 2026
Hawas by Urwa Fatima
میری نورے گل ایسے کیوں خاموش ہیں ، رافع صاحب مغرب کی نماز کے بعد اپنے کمرے سے نکلے تو نورے کو صحن میں خاموش بیٹھے پایا
ایسے ہی ، نورے نے مختصر سا جواب دیا
تبھی بقی بھاگتا ہوا رافع صاحب اور نورے کے پاس آیا
بابا ، آپی بولتی نہیں بقی نے بابا کو شکایت لگائی
تو آپ آپی سے بول لیں نا ، رافع صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
بابا آپی سنتی بھی نہیں بقی نے پھر بابا کو شکایت لگائی
رافع صاحب نے جاندار قہقہہ لگایا
کھانا لگ گیا ہے آ جائیں سب ،کچن سے صالحہ کی آواز آئی
چلو بچوں آجاؤ پہلے کھانا کھائیں گے اور پھر آئسکریممممم
بابا میں بی نا بقی نے تصدیق چاہی
جی جی آپ بھی اور آپی بھی رافع صاحب مسکراۓ،،،
نورے کیا کھیل رہی ہیں آپ ٹھیک سے کھانا کھائیں بیٹا نورے کو مسلسل پلیٹ میں چمچ ہلاتے دیکھ رافع صاحب بولے
لیکن نورے جوں کی توں اپنے خیالات میں گم سم رہی
نورےے ابکے صالحہ نے ذرا اونچی آواز میں پکارا
جج جج جی مما
طبعیت ٹھیک ہے نا آپ کی،
جی مما، نورے نے سر کو مزید جھکا لیا
ادھر آؤ میں کھلاؤں اپنے ہاتھ سے دادو نے پیار سے نورے کی طرف چاولوں کا چمچ بڑھایا جسے نورے نے کھا لیا،
بابا آئسکریم بقی نے یاد دھانی کرائی،
تو آؤ چلیں پھر رافع صاحب نے مسکرا کر بقی کا ننھا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ،آ جاؤ نورے آپ بھی،
نہیں بابا میں نے نہیں جانا نورے نے آہستہ سے کہا
مگر کیوں رافع صاحب نے سوال کیا
آپ دونوں جائیں نورے میرے ساتھ بیٹھی ہے صالحہ نے جانچتی نظروں سے نورے کو دیکھتے ہوئے رافع صاحب کو ٹالا
بابا مجھے ٹھاہ لو نا، رافع صاحب جانے کے لئے مڑے تو بقی نے حکم جاری کیا
آ جاؤ بھئی آ جاؤ رافع صاحب نے بقی کو گود میں اٹھایا اور باہر نکل گئے
نورے ادھر آئیں رافع صاحب کے جاتے ہی صالحہ نے نورے کو فکر مندی سے بلایا
جی ، نورے کسی نے کچھ کہا ہے آپکو ،
نہ نہ نہیں مما،
نورے آپ اس طرح اٹک اٹک کے کیوں بول رہی ہیں ،
کچھ نہیں مما بس سر میں درد ہے ،ارے پہلے کیوں نہیں بتایا میری جان ، آؤ میں دیکھوں کوئی درد کا سیرپ ہے تو پلاؤں
