Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 08)

Hawas by Urwa Fatima

مریم تمہیں میری قسم ہے سچ سچ بتاؤ کہیں تم نے واقع ذیشان کو بلا کر ہماری رسوائی کا سامان تو نہیں کیا

مونا لہجے میں ڈر اور خوف لیے مریم سے سوال کرنے لگیں

مما مم میں نے نہ نہیں بلایا تھا اس کو،مریم کے رونے میں تیزی آ گئی

مما مجھے پورا یقین ہے میری بہن کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی صائم نے مریم کو گلے لگا لیا

آنسو صائم کی آنکھوں سے باہر آنے کو تیار تھے لیکن وہ کمزور نہیں پڑ سکتا تھا اس کو مریم کو سنبھالنا تھا

مونا باجی صالحہ نے دروازے میں کھڑے ہو کر ہی آواز دی

آ جاؤ صالحہ آ جاؤ مونا نے سرد آہ بھری

صالحہ اندر آئیں تو دیکھا کہ رو رو کر مونا اور مریم دونوں کی آنکھیں سوج چکی تھیں

صالحہ تمہارا شکریہ تم نے بھرے بازار میں میری بیٹی کی پاک دامنی کی گواہی دی، مونا نے ایک بار پھر رونا شروع کر دیا

مونا باجی ایسے تو نا کہیں مریم میری ہی بیٹی ہے میں نے اپنی بیٹی کی طرح سمجھا ہے اسے

شادی کے بعد چار سال تک میں بے اولاد رہی اور میری مامتا کی پیاس مریم ہی بجھاتی تھی مجھے اپنی نورے کی طرح عزیز ہے

صالحہ نا جانے کونسا گناہ ہو گیا مجھ سے جو آج یہ دن دیکھنا پڑا مجھے نا جانے کتنی رسوائی ہو گی اب، مونا دوہائی دینے لگیں

مونا باجی گناہ کا تو پتا نہیں لیکن ایک بہت بڑی غلطی ہوئی ہے آپ سے، صالحہ نے مریم کو دیکھتے ہوئے مونا سے کہا

کیا مطلب، مونا اور صائم دونوں چونکے

باجی آپ نے مریم کو ہمیشہ خود ست دور رکھا کبھی توجہ سے اسکی بات نہیں سنی کبھی اس کے کسی کام کو سراہا نہیں اور نہ ہی مریم کے بدلتے رویے کو آپ نے نوٹ کیا صالحہ نے بات شروع کی

باجی معظم بھائی کی وفات کے وقت صائم غالباً چھے سال کا تھا

وہ اپنے حصے کا پیار لے چکا تھا ماں اور باپ دونوں سے اور مریم صرف تین دن کی تھی اس کو نہیں پتا کہ باپ کیا ہوتا ہے باپ کی محبت کیا ہوتی ہے اس بیچاری کے لیے تو سب کچھ آپ تھیں ماں باپ دونوں کا پیار آپ نے ہی دینا تھا اس کو لیکن وہ آپ نے نہیں دیا

میں جانتی ہوں آپ نے اور صائم نے مریم کو کسی چیز کی کمی نہیں دی اچھا کھلایا اچھا پہنایا لیکن باجی آپ نے مریم کو وہ آزادی نہیں دی کہ یہ اپنے دل کی بات آپ سے کر سکے آپ اس کو دوست بنا لیتی تو آج یہ نوبت نا آتی، صالحہ خاموش ہوئیں

صالحہ میں مانتی ہوں میں نے کام اور بچوں کی روٹی کی فکر میں مریم کو اگنور کیا ہے لیکن آج کی بات سے کیا تعلق ہے ان سب باتوں کا، مونا گویا ہوئیں

باجی اسی بات سے تو تعلق ہے

آپ کو شاید معلوم نہیں لیکن آج سے پہلے بھی ذیشان آپ کے گھر میں غلط ارادے سے آ چکا تھا وہ تو اللّٰه نے کرم کیا کہ مریم نے گلدان دے مارا اس کے سر میں اور وہ زخمی ہو گیا تو واپس مڑ گیا

مریممم، صائم کو لگا جیسے کسی نے بم پھوڑا ہو اس کے سر پہ

مریم نے سر کو جھکا لیا اور آنسو تو اس کے رک ہی نہیں رہے تھے

مونا کو حیران پریشان بیٹھا دیکھ کے صالحہ نے دوبارہ بولنا شروع کیا

دو سال پہلے بھی ذیشان مریم کو حراساں کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن آپ دونوں ماں بیٹی میں اتنی دوریاں پیدا ہو چکی تھیں کہ مریم نے آپ کو کچھ نہیں بتایا بلکہ گھٹ گھٹ کر اپنی ہی شخصیت کو تباہ کرتی رہی یہ بچی

باجی بچوں کو اعتماد میں لینا بے حد ضروری ہوتا ہے

وہہی اعتماد میں نے نورے کو دیا جب اس خبیث انسان نے میری بچی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی

آپ کی مریم بچا کر لائی تھی نورے کو باجی اللّٰه نے مریم کو فرشتہ بنا کر بھیجا اسی لئے آج یہ بھی محفوظ رہی

مریم، یہ سب تم نے مجھے تو نہیں بتایا، مونا شکایت بھرے لہجے میں بولیں

مریم کچھ بولتی اس سے پہلے صالحہ نے کہنا شروع کیا

یہی تو اس مسلہ ہے باجی ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے سب سے ذیادہ ہمارے ساتھ ہی مخلص ہوں اپنی تمام باتیں ہم سے کریں لیکن ہم اپنے بچوں کو وہ اعتماد تو دیتے نہیں ہیں جس کے ذریعے وہ ہمارے قریب ہوں

ہم بچوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے،

مونا شرمندہ سی ہو گئیں

صالحہ، میری ہمت ختم ہو چکی ہے میں معظم کے بعد ایسی ٹوٹ چکی ہوں کے دوبارہ کسی کی نہیں بن پائی اپنی اولاد کی بھی نہیں

لیکن اب مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ میری اولاد کو ہی میرا سب کچھ ہے اور مجھے ہر حال میں ان کا ساتھ دینا ہے اور ان کے لیے ہی خوش رہنا ہے

صالحہ تم دعا کرنا میری مریم کے لیے

مونا مریم کو گلے لگا کر بے آواز رونے لگیں

مت روئیں باجی دیکھیں مریم کا تو پہلے ہی رو رو کر برا حال. ہے، صالحہ نے مریم کے آنسو صاف کیے

اچھا میں چلتی ہوں باجی رافع صاحب بھی آج والے واقع سے بہت ذیادہ بے چین اور پریشان ہیں میں جا کر ان کو دیکھوں، صالحہ نے اجازت لی اور چلی گئیں

۔

۔

مما یہ دیکھیں آج میں چندا کے لیے چاٹ اور سموسے لے کر آیا تھا صائم نے ماحول میں موجود گھٹن کو کم کرنا چاہا

مونا آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرا دئیں

اور آج میں اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی

مونا کی بات سنتے ہی مریم کی آنکھوں میں آنسو پھر سے بھر آۓ

مانو جیسے کوئی ادھورا خواب پورا ہو گیا ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں بھئ کاکا پنچائیت تے چار وجے ہے تو تین وجے کی لین آیا ایں، منور تھانیدار اپنے دروازے کے ذیشان کو کھڑا دیکھ طنزیہ انداز میں بولا

ضروری بات کرنے آیا ہوں، ذیشان نے رازداری سے کہا

آ جا اندر،

ذیشان اندر داخل ہوا تو صحن میں کھڑے کھڑے ہاتھ جوڑ لیے

انکل مجھے بچا لیں میں بہک گیا تھا کیا کروں وہ ہے ہی اتنی خوبصورت معصوم صورت، ذیشان بیچارگی سے ہاتھ جوڑے بولا

یعنی تم نے اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے تم مان رہے ہو اس بات کو، منور تھانیدار نے درشتی سے کہا

ہاں انکل اسی لیے تو آپ سے مدد مانگنے آیا ہوں، ذیشان نے شرمندہ ہونے کی ایکٹنگ کی

او کاکا اب کچھ نہیں ہو سکتا، مجرم ہو تم تو سزا کے لیے بھی تیار ہو جا اب، منور تھانیدار نے مدد سے انکار کرتے ہوئے کہا

انکل کوئی گنجائش، ذیشان نے پانچ ہزار کا نوٹ اس کے سامنے کیا

نکاح کرنا ہے لڑکی سے، منور تھانیدار. کی آنکھیں نوٹ پر ٹکی ہوئی تھیں

او نہیں انکل بس بے گناہ ثابت ہو جاؤں میں وہی بہت ہے، ذیشان نے ہاتھ جھلا کر کہا

امممممم کاکا گناہ وی کیتا اے تے مڈی وی تھوڑی دے رہے ہو( بیٹا گناہ بھی کیا ہے اور رقم بھی تھوڑی دے رہے ہو)

تھانیدار لالچ کے نشے میں بہک کر بولا

اچھا ایک اور لے لیں لیکن میرا کام ہو جائے اور عزت بھی رہ جائے، ذیشان نے ایک اور پانچ ہزار کا نوٹ نکال منور تھانیدار کی طرف بڑھایا

بے فکر ہو جا کاکا، تھانیدار کی خوشی سے باچھیں کھل گئیں

ذیشان کو اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا جگہ جگہ چہرے پہ نیل ہونے کے باوجود سکون اس کی شکل پہ دیکھ رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار بج چکے تھے تمام لوگ منور تھانیدار کے ڈیرے پر جمع ہو چکے تھے

مما دعا کرییے گا اس بے انصاف معاشرے سے انصاف لینے جا رہا ہوں دعا کیجیے گا کہ اگر خالی ہاتھ بھی لوٹوں تو صبر کے ساتھ کیونکہ انصاف یہاں نا بھی ملا تو اس مالکِ کل سے لے لیں گے لیکن اگر صبر چھوڑ آیا تو خالی ہو جاؤں گا

صائم نے ماں کے پاؤں پکڑ کر دعا کی درخواست کی

صائم کو جیسے یقین سا تھا کہ فیصلہ اس کے حق میں نہیں ذیشان کے حق میں ہو گا

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ غریب کا رب کے علاوہ کو نہ سنتا

میرے بیٹے میں دعا کروں گی کہ میرا بیٹا ہر حال میں صبر کا دامن نا چھوڑے کیونکہ اللّٰه قرآنِ پاک میں فرماتا ہے

” اللّٰه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”(القرآن)

۔۔

۔۔

صائم ڈیرے پر پہنچا تو سب لوگ موجود تھے ذیشان، روہان اور رضا صاحب ایک صرف بیٹھے تھے

صائم نے جا کر سلام کیا

سب نے جواب دیا

جی تو کاروائی شروع کریں، منور تھانیدار نے بلند آواز کہا

پہلے ذیشان تم بولو کہ کیا ہوا تھا، منور نے ذیشان کو بولنے کا اشارہ کیا

جی میری بہن کی منگنی ہے اگلے ہفتے سب کے گھر مٹھائی میں ہی بانٹ رہا تھا

آج اتوار تھا تو میں نے سوچا آج دے آتا ہوں کیونکہ میرا خیال تھا کہ صائم گھر ہو گا لیکن دروازہ مریم نے۔۔۔

اپنی ناپاک زبان سے میری بہن کا نام مت لینا،ذیشان کے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی صائم دھاڑا

ذیشان کچھ دیر خاموش ہوا اور دوبارہ بولنا شروع کیا

مم میں صائم کے گھر گگ گیا تو اسکی بہن نے دروازہ کھولا میں نے مٹھائی دی تو اس اس نے میرا ہاتھ ہاتھ پکڑ لیا میں نے اس سے گھبرا کر بولا کیا کر رہی ہو تم میری بہنوں کی طرح ہو لیکن وہ وہ مجھے اندر لے گئی

میں بھی چلا گیا اب وہ اتنا کہہ رہی تھی تو میں کب تک صبر کرتا مم میں بھی بہک گیا

اور ہم اندر بیٹھے تھے کہ صائم آیا اور مجھے پاگلوں کی طرح مارنے لگ گیا، ذیشان نے سراسر غلط بیانی کی

صائم نے غصے سے مٹھائیاں بھینچ لیں مگر خاموش رہا

صائم اب تم بولو کیا دیکھا تم نے جس کی بنا پر تم نے اتنا مارا ذیشان کو، منور نے صائم کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا

صائم نے اپنے اندر کا تمام تر حوصلہ جمع کر کے بولنا شروع کیا

ہمارے گھر کے دروازے کی کنڈی خراب ہے ایک جھٹکے سے دروازہ کھل جاتا ہے اس لیے ہم دروازے کے آگے کرسی رکھتے ہیں

آج جب میں آیا تو دروازے کو کنڈی لگی تھی جو میرے دروازہ ہلانے سے کھل گئی

میں اندر آیا تو کرسی ایک طرف الٹی پڑی تھی جیسے اٹھا نے پھینکی ہو میری سمجھ می میں نا آیا کہ کرسی ایسے کیوں پڑی ہے

لیکن جب میری نظر بند دروازے پر پڑی تو میرا دل گھبرا گیا کیونکہ مریم ایسے دروازہ بند نہیں کرتی

میں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے دروازے کو دھکا مارا تو وہ کھل گیا

اور تب میں نے دیکھا کہ یہ گھٹیا شخص میری معصوم بہن کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہ رہا ہے

یہ سب دیکھ کر میں پاگل ہو گیا اور میں نے اس کو مارنا شروع کر دیا، صائم کی آنکھوں میں سرخی کے ڈورے اتر آۓ

کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے ذیشان ایسی کوئی نازیبا حرکت کر رہا تھا، منور نے صائم سے سوال کیا

کیا مطلب ثبوت سے آپ کا تھانیدار صاحب میں نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے اس کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور کیا ثبوت چاہیے آپ کو صائم نے دانت پیس کر کہا

ہاں لیکن اس طرح تو ذیشان بھی کہہ رہا ہے کہ تمہاری بہن اس کو خود اندر لے کے گئی تھی

یعنی پھر یہ بھی سچا ہے،منور تھانیدار نے چال چلی

ذیشان کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ آئی جسے وہ فوراً چھپا گیا

اور صائم کو پتا چل گیا تھا کہ وہ صبر لے کر ہی جاۓ گا

تقریباً بیس منٹ مزید بحث ہوتی رہی لیکن صائم ہنوز خاموش بیٹھا رہا، وہ اپنی بہن کا اور تماشا نہیں بنانا چاہتا تھا

بیس منٹ بعد منور تھانیدار بولا

دیکھیں جی یہ دونوں لڑکے آپ کے سامنے پلے بھڑے ہیں اور دونوں ہی نیک اور سمجھدار ہیں اسی لیے کوئی ان دونوں کےخلاف نہیں جا رہا

لیکن ہمیں چونکہ فیصلہ کرنا ہے اس لیے مجھے اس مسلے کا جو حل نظر آتا ہے وہ یہ کہ

اگر ذیشان مریم کے کہنے پر اندر گیا تھا تو ان دونوں کا نکاح کر دینا چاہئے کیونکہ بچے پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو تو انکو ایک کر دینا چاہیے اس سے پہلے کہ ہ دوبارہ گناہ کی طرف متوجہ ہوں

اور دوسرا یہ کہ اگر صائم اور اس کے گھر والے نکاح نہیں کرنا چاہتے تو انہیں اس بات کو یہں ختم کرنا ہو گا کیونکہ اگر غلطی ذیشان کی مانی جاتی ہے تو صائم نے اس کو جتنا مارا ہے تو یہی سزا کافی ہے اس کے لیے،

منور تھانیدار نے انصاف کے نام پہ صائم کو ہر طرف سے پھنسا دیا تھا

صائم نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سب کو دیکھا اور اٹھا کھڑا ہوا

میں اس بدکردار آدمی کا سایہ بھی اپنی پاکیزہ بہن پر نہیں پڑنے دے سکتا، کہہ کر صائم رکا نہیں تھا

چلو جی گل ای مک گئی، منور تھانیدار نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوۓ کہا

ذیشان کہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاۓ ہاۓ یہ کیا حال بنا رکھا ہے ذیشان، فرحت بچیوں کے ساتھ شاپنگ سے واپس گھر آئیں تو ذیشان کے چہرے پر نیل دیکھ کر پریشانی سے بولیں

بھائی بتائیں نا کیا لڑائی ہوئی ہے کسی سے، ذیشان کو ہنوز خاموش دیکھ کر نمرہ بھی پریشانی سے بولی

وہ سالے صائم نے مارا ہے ذیشان نے غصے سے سامنے رکھی شیشے کی میز پہ ہاتھ مارا

ہاۓ اللّٰه کی مار پڑے اس نے کیوں مارا تمہیں، فرحت نے واویلا مچا دیا

ذرا تھم کے فرحت بیگم ذرا تھم کے رضا صاحب نے بیوی کو گھرکا

غلطی تمہارے اس صاحبزادے کی ہے فرحت رضا صاحب نے ذیشان کو غصے سے دیکھا

ابو میری کیا غلطی ہے ذیشان نے انجان بنتے ہوئے سوال کیا

ہونہہ،کیا غلطی ہے روہان نے زیرِ لب کہہ کر سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا

اس کی کیا غلطی ہے رضا کیوں،

اس سے پوچھو کیا کرنے گیا تھا صائم کے گھر وہ بھی تب جب نا صائم اور نا ہی اسکی ماں گھر تھی رضا صاحب کی کڑکدار آواز سے سب کو سہما دیا

ابو میں تو بس مم مٹھائی دینے گیا تھا وہ نائلہ کی۔۔۔

تمہارا ایسا کیا رشتہ ہے ان سے جو تم منہ اٹھا کر چلے گئے، رضا صاحب پھر سے دہاڑے

محترمہ تمہارے اس بیٹے پر الزام لگا ہے کہ صائم کی بہن مریم کی عزت کو پامال کرنے گیا تھا

بقول صائم کے اسکے نے اس کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے،

رضا صاحب کی باتیں سن فرحت منہ کھولے ذیشان کو دیکھنے لگیں

مم میں خود اندر تھوڑی گیا تھا وہ مریم خود میرا ہا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی

بولی گھ گھر کوئی نہیں ہے اندر آ جاؤ، ذیشان نے ڈھٹائی سے پھر جھوٹ بولا

بکواس بند کرو، تمہاری اپنی کوئی مرضی نہیں ہے اتنے کمزور ایمان کے مالک ہو تم،

رضا صاحب کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا تھا

رضا آپ کو نہیں پتہ یہ جن لڑکیوں کے سر پہ باپ نہیں ہوتے نا وہ ایسے ہی امیر اور اچھے لڑکے پھنساتی ہیں، فرحت نے روائتی ماؤں کی طرح اپنی ہی اولاد کی پشت پناہی کی

آج پنچایت کا فیصلہ ہونے جا رہا تھا کہ ذیشان کا نکاح مریم سے کر دو اور تمہیں پتا ہے صائم بھری محفل میں یہ کہہ کر اٹھ گیا کہ اس جیسے بدکردار آدمی سے وہ اپنی پاکیزہ بہن کی شادی ہرگز نہیں کرے گا، رضا صاحب ذیشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرحت سے گویا ہوۓ

نائلہ اور نمرہ تمام شاپنگ بیگ اٹھاۓ کمرے کی طرف چلی دئیں

رضا صاحب بھی کمرے کی طرف بڑھے تو فرحت ان کے پیچھے چل دئیں

شکر ہے بچ گیا ذیشان نے لمبی سانس لی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس واقعے کےاگلے ہی دن فرحت نے محلے کا کوئی گھر نا چھوڑا جہان جا کر مریم کے برکردار ہونے کی گواہی نہ دی ہو

جہاں جاتی یہی کہتی کہ

بہن اگر میرا بیٹا قصوروار ہوتا تو پنچایت میں سے صائم اٹھ کر نا جاتا اپنی بہن جو بدکردار ہے اسی لیے گھر میں چھپق بیٹھا ہے خود بھی اور ماں بھی ،،

اور لوگ ہاں میں ہاں ملاتے جاتے

اور رضا صاحب نے اس واقع کا اتنا اثر لیا کہ دو ہی دن میں گھر کسی اور علاقے میں شفٹ کر لیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے نائلہ کے سسرال والوں کو اس معاملے کی بھنک بھی پڑے

رضا صاحب تو اپنی فیملی کو لے کر چلے گئے اور جیسے جاتے ہی اپنے بیٹے کا داغدار دامن مریم کے نام کر گئے

،،

لوگوں نے مریم کے بدکردار ہونے کے چرچے گلی گلی کر دئیے کیونکہ یہی تو ہوتا ہے ہمارے اس بیمار معاشرے میں

کہ مرد گناہ کر کے بھی پاک رہتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور عورت کا اگر کوئی ہاتھ بھی پکڑ لے تو یہی سننے کو ملتا ہت کہ ضرور اسی نے کوئی ادا دیکھا کر مائل کیا ہو گا

لیکن جیسے ہر عورت بدکردار نہیں ہوتی ویسے ہی ہر مرد بھی برا نہیں ہوتا

“کیونکہ معاشرہ لوگوں سے بنتا ہے لوگ سمجھ اور انصاف والے ہوں گے تو معاشرہ بھی عزت دار ہوگا

لوگ اگر فرحت اور ذیشان جیسے ہوں گے تو معاشرہ بیمار ہی ہو گا “

لوگوں نے اس اس طرح کی باری مریم سے منسوب کر دئیں جن باتوں کا ایک چودہ سال کی بچی کو علم ہی نہیں ہو سکتا

لیکن مونا اور اس کے بچوں نے کسی ایک کو بھی صفائی نہ دی

کیونکہ جو گناہوں سے پاک ہوتے ہیں انکی صفائی یہی معاشرہ اور یہی لوگ خود دیتے ہیں

وہ تینوں بھی صبر کے ساتھ خاموش رہے

لیکن مسلہ تب ہوا جب لوگوں نے مریک کو مفت کا مال سمجھ لیا

اسکول سے آتے جاتے لڑکوں کا آوازہ کسنا

برے برے القابات دینا، راستہ روکنا یہ سب معمول بن چکا تھا

مریم نے کسی کو کچھ نا بتایا پھر ایک دن مونا رکشہ سے اتری تو دیکھا کےمحلے کے کچھ لڑکے مریم کے پیچھے واہیات گانے گاتے آ رہے ہیں

مونا تیز تیز قدم اٹھاتی ان تک پہنچ گئی

مونا کو دیکھتے ہی سارے لڑکے ادھر ادھر ہو گئے جیسے شرافت انہی سب پر ختم ہے

مونا نے سب کو ایک گھوری سے نوازا اور مریم کا ہاتھ پکڑ کر گھر کے اندر چلیں گئیں

مونا پہلے ہی محلےوالوں کی تمام باتوں سے واقف تھیں اور آج یہ سب دیکھ. کر وہ ایک اہم فیصلہ کر چکی تھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہال میں موجود تمام لوگ ایک لحظے کو تھم سے گئے جب دائیں بائیں ذیشان روہان کا ہاتھ پکڑے نائلہ ہال میں داخل ہوئی

اورنج اور پنک کلر کے امتزاج کا بھاری کام دار جوڑا اس کے سرخ و سفید رنگ پر خوب جچ رہا تھا

سپاٹ لائٹ کے نیچے نپے تلے قدم اٹھاتی وہ سٹیج تک پہنچی تو بلال نے ہات بڑھا کر نائلہ کو سٹیج پہ چھڑنے میں مدد کی

ہال میں موجود تمام لوگوں کی نظر ان دونوں پر ہی ٹکی تھی

نائلہ اگر شہزادی کی طرح لگ رہی تھی تو بلال بھی بلیو تھری پیس میں اس سے کم کی لگ رہا تھا

فرحت اور رضا دونوں کی بلائیں لیتے نہیں تھک رہے تھے

منگنی کی رسم شروع کی گئی

دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر ایک خوبصورت رشتے میں باندھ لیا

لیکن جہاں سب کی نظر اس خوبصورت جوڑی پر ٹکی تھی

وہاں دو آنکھیں ایسی بھی تھیں جو نمرہ کو آنکھوں کے ذریعے اپنے اندر اتارنے میں لگی تھیں

نمرہ جو کہ ایک ماڈل کی طرح اپنی تصویریں کھنچوانے میں لگیں تھی اور ارحم خوشی خوشی اس کا فوٹوگرافر بنا ہوا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مونا باجی ایسے ہمت نا ہارئیں اللّٰه ان بے حس لوگوں کا حق اور سچ دیکھاۓ گا آپ اللّٰه پر بھروسا رکھیں،صالحہ نے پیکنگ کرتی ہوئی مونا کو آنکھوں میں آنسو لیے دیکھا

صالحہ میں نے اپنا معاملہ اللّٰه پر ہی چھوڑ دیا ہے اور نا ہی نے صبر کا دامن چھوڑا ہے

لیکن صالحہ میرا دل بہت ڈر گیا ہے میری بچی ہرگز یہاں محفوظ نہیں ہے اور میں جتنا بھی بے پرواہی کا مظاہرا کر لوں لیکن میں جانتی ہوں سب کہ محلے والوں کے تمام الزامات میری معصوم بچی کے ساتھ جڑ گئے ہیں

یہاں رہ کر میں چاہوں بھی تو اپنی بچی کو پاکدامن ہونے کے باوجود نہیں ثابت کر سکتی کہ وہ بے گناہ ہے

اور کل کو میں نے اپنے بچوں کی شادیاں بھی کرنی ہیں جو مجھے اس محلے میں رہ کر ہوتی نظر نہیں آتیں، اس کیے ہمارا یہاں سے جانا ہی بہتر ہے ، مونا نے تمام خدشات بیان کیے

کہہ تو آپ بھی بلکل ٹھیک رہی ہیں اللّٰه آپکے لیے ہر مقام پر آسانی فرمائے بہت اچھا وقت گزرا ہے ساتھ ہمارا، صالحہ نے دل سے دعا دی

۔۔

۔۔

مما ذرا جلدی کریں منی ٹرک تقریبا پہنچنے والا ہے، صائم نے عجلت میں کہا

کیا مطلب آنے والا ہے ہم تو کل جانے والے تھے کا، مونا نے مڑ کر صائم کو دیکھا

جی لیکن استاد کا فون آیا تھا وہ کہتے آج کے اج ہی شفٹ ہو جاؤ ٹرک بھی وہی بھیج رہے ہیں اس لیے میں نے ذیادہ سوال نہیں کیے

بس مما آپ جلدی کریں

اچھا ٹھیک ہے بیٹا، مریم آجاؤ بیٹا جلدی میرا ہاتھ بٹا لو

مونا نے تیزی سے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوئے مریم کو آواز دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *