Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 03)

Hawas by Urwa Fatima

وہی جگ جس کی کرچیاں پورے کمرے میں پھیلی پڑی تھیں اور چھوٹی زخمی ہو گئی ،،

بتاؤ بھی کیسے ٹوٹا ، ذیشان کو ہنوز خاموش کھڑا دیکھ نائلہ چڑ کے بولی

و وہ مجھے چچ چکر آ رہے تھے، پانی پینے کے لیے جگ اٹھایا تو جگ گر پڑا ،، پھر میں چھت پہ کھلی ہوا میں چلا گیا ، اسی لیے کرچیاں وہی پڑی رہ گئیں اور بیچاری چھوٹی زخمی ہوگئی ، ذیشان نے سفاکی سے جھوٹ بولا

لیکن اسکا دل واقعی دکھ رہا تھا نورے کے لئے نہیں ، نمرہ کے لئے،

کیونکہ نورے اسکی بہن تھوڑی تھی اس کی تکلیف معنی نہیں رکھتی تھی ذیشان کے آگے،بلکہ اسے تو رہ رہ کہ مریم پہ غصہ آ رہا تھا جس کی وجہ سے نورے ہاتھ سے نکل گئی

پریشان مت ہو ذیشان دو تین ہفتے میں ٹھیک ہو جائے گی چھوٹی ،تم خود کو قصوروار مت سمجھو ،کیونکہ ہر انسان کو اپنے حصے کی تکلیف جھیلنی پڑتی ہے ،

نائلہ تم تو سمجھدار ہو گئی ہو واہ واہ ،ذیشان نے بات مزاق میں اڑائی

ہمیشہ سے ہوں ، چلو آ جاؤ چاے بنائیں،

نہیں تم جاؤ میں چھوٹی سے مل لوں ، ذیشان نے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحب اس کو ہوش کیوں نہیں آ رہا، کیا ہوا ہے میری بچی کو ،صالحہ نے روتے ہوئے کہا

حوصلہ کرو صالحہ ،ڈاکٹر صاحب کو چیک اپ کرنے دو ،اور دعا کرو سب خیر ہو رافع صاحب نے آہستہ آواز میں بیوی کو سمجھایا

کب سے ایسی حالت ہے بچی کی ، ڈاکٹر نے کرسی سنبھالتے ہوئے سوال کیا

ڈاکٹر صاحب آج دوپہر سے ہی عجیب رویہ تھا اس کا، سارا دن خاموش ہی رہی ہے تقریباً اور بولتی ہے تو اٹک اٹک کے، پتا نہیں کیا ہو گیا ہے میری بچی کو ، صالحہ ڈاکٹر کو تفصیل بتاتے پھر اشک بہانے لگیں

آپ دونوں میں ان دنوں کوئی لڑائی ہوئی ہے ،ڈاکٹر نے اگلا سوال کیا

نہیں ،، دونوں نے یک لفظی جواب دیا

آپ دونوں میں سے کسی نے بچی کو مارا ہو ، یا ڈرایا ہو،،

نہیں ڈاکٹر صاحب ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ میں اور صالحہ تو بچوں سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتے ،رافع صاحب نے مزید کہا

خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب ، آپ ایسے سوال کیوں کر رہے ہیں ،صالحہ پریشان ہوئیں

دیکھیے رافع صاحب ، آپ کی بچی کی جو حالت ہے دیکھ کے لگتا ہے جیسے آپکی بچی کو کوئی صدمہ پہنچا ہے

صدمہ ، صالحہ اور رافع حیران پریشان یک زبان بولے

جی صدمہ ،جیسے کسی نے بچی کو ذہنی مار ماری ہو، آپکی بچی کا نروس بریک ڈاؤن بھی ہوسکتا تھا ، لیکن خدا کا شکر کریں کے اللّٰه نے بڑا کرم کیا ہے

ڈاکٹر نے تفصیلی حالات سے آگاہ کیا

جس سےصالحہ کے رونے میں اضافہ ہو گیا اور رافع صاحب کی بھی آنکھیں بھیگ گئیں

دیکھیے رافع صاحب پریشان ہونے کے بجائے میری بات گھور سے سنئں

جی کہیے ڈاکٹر صاحب میں سن رہا ہوں،

رافع صاحب اللّٰه نے بڑی مشکل سے بچا لیا ہے لیکن آگے آپ دونوں کو احتیاط کرنی ہو گی تاکہ اللّٰه کے حکم سے نورے کی حالت سدھرے نا کہ بگڑے ،

بچی کو جتنا ہو سکے شور شرابے سے دور رکھیں ڈانٹنا تو کیا اونچی آواز میں بات تک نہ کریں

اور جتنا ہو سکے بچی کو خوش رکھیں

اور ہاں ابھی بچی کو نیند کے انجکشن کے ذیرِ اثر رکھا ہے اس لئے پوری رات نہیں اٹھے گی ،،

ایسی سٹرس کی حالت میں نیند کم ہی آتی ہے اسی لیے میں نے لو پوٹینسی کی نیند کی گولی لکھ دی ہے ،

ڈاکٹر نے تمام تفصیل اور احتیاط دونوں میاں بیوی کو بتائی

بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ،چلو صالحہ ،،رافع صاحب ڈاکٹر اور صالحہ سے ایک ساتھ مخاطب ہوۓ

اور دونوں نورے کو لے کے ڈاکٹر کے کمرے سے نکل گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے تقریباً گیارہ بجے رافع اور صالحہ نورے کو گھر لے کے آۓ

کیسی ہے میری بچی، نورے کو رافع کی گود میں دیکھ کر نگار بیگم دوڑتی ہوئی آئیں

آرام سے اماں،سو رہی ہے نورے ڈاکٹر نے کہا ہے شور شرابے سے دور رکھیں ،

رافع صاحب نے اماں کو ایک دم آہستہ آواز میں سمجھایا

اچھا اچھا ،تم اس کو سلا دو اندر بیٹا،

رافع ہمارے کمرے میں سلائیے گا میں اپنی بچی کو سینے سے لگا کے سلاؤں گی تو شاید اس کو آرام ملے ،صالحہ نے روتے ہوئے کہا

اے بیٹا رو کیوں رہی ہے، میرا دل گھبرا رہا ہے،

بتا کیا ہوا ہے کوئی خطرہ تو نہیں ہے نہ، نگار بیگم کپکپاتے وجود کے ساتھ زمین پہ بیٹھ گئیں

اچھا رونا بند کرو، ٹھیک ہے سب،اماں کو بھی پریشان کر رہی ہو ،رافع صاحب نے آہستہ آواز میں بیوی کو ڈانٹا اور قدم کمرے کی طرف بڑھا دئیے

اماں اٹھیں اندر چلیں، خیر ہے سب اللّٰه کا شکر ہے، صالحہ نے اماں کو سہارا دے کر اٹھایا

۔۔۔

کچھ دیر بعد رافع نورے کو سلا کے آئے تو اماں اور صالحہ گم سم سی بیٹھیں تھیں

اماں مت پریشان ہو ڈاکٹر کہہ رہا تھا اللّٰه نے بڑا کرم کیا ہے

مگر رافع بیٹا اچانک ہوا کیا ہے اسکو ،

اماں ڈاکٹر کہہ رہا تھا بچی کو صدمہ ہوا ہے ، اب کہ صالحہ نے کہا

اے صدمہ کاہے کا صدمہ ، اماں حقیقتاً حیران ہوئی

خدا جانے اماں میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری نورے کس اذیت سے گزر رہی ہے، اماں میرا دل کٹ رہا تھا ڈاکٹر کی باتیں سن سن کے ،

کمرے میں موجود تینوں فریق کی آنکھیں اشک بار ہوں گئیں

تبھی رافع صاحب نے بات کا رخ موڑا

اچھا صالحہ آج تم بیڈ پہ نورے اور بقی کے ساتھ سو جاؤ میں اماں کے کمرے میں سو جاتا ہوں

صالحہ نے اثبات میں سر ہلایا

اور ہاں کل فرحت بھابھی کے گھر نمرہ کا پتا لینے جانا تو نورے کو ساتھ لے جانا، نمرہ سے کافی دوستی ہے نورے کی دل بہل جاۓ دونوں کا، رافع صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا

تو اماں کی بیزار سی آواز آئی

کوئی ضرورت نہیں ہے نورے کے وہاں جانے کی آج بھی جب سے انھی کے گھر سے آئی ہے میری بچی مرجھائی ہوئی ہے

اماں کی بات سنتے کی صالحہ کا دماغ بھی جاگا ، کیونکہ حقیقت ہی یہی تھی

لیکن اماں، رافع صاحب نے کچھ کہنا چاہا

لیکن ویکن کچھ نہیں رافع میری نورے اب وہاں نہیں جاۓ گی اماں نے حکم سنایا

تو دونوں میاں بیوی خاموش رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے تین بجے کا وقت تھا جب تمام لوگ نیند میں گم تھے مگر رضا صاحب کے گھر کے دو کمرے روشن تھے

ایک کمرہ تھا ذیشان کا جو نفس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا اور گناہ کے دلدل میں دھنسا جا رہا تھا، اس بات سے بے خبر کہ بے شک اس وقت وہ ظاہری طور پر تنہا تھا کوئی زی روح ذیشان کے اس عمل کی گواہی دینے والا نہ تھا جس کو نظر کا زنا کہا جاتا ہے جو گناہِ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔

بے شک کوئی نہیں تھا ذیشان کے اس کی گواہی دینے والا مگر وہ رب تو ہے نہ

وہ رب جو شہہ رگ سے بھی قریب بستا ہے،

مگر گناہ کرنے والا اس بات کو جانتے بوجھتے نظر انداز کرتا ہے

گناہ کرنے والا گناہ کی لزت کو تو پا لیتا ہے مگر صراطِ مستقیم کو گواہ دیتا ہے

نیکی کے بدلے گناہ کا سودہ کر لیتا ہے

اور بے شک وہ گھاٹے کا سودہ ہے

جیسا کہ اللّٰه پاک نے قرآنِ پاک میں واضح الفاظ میں فرمایا ہے :

” یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا پس نہ تو انکی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے”

(سورہ البقرہ : آیت نمبر 16)

،،،،،،،،،،،

رضا صاحب کے گھر میں ایک اور کمرہ بھی روشن تھا اور وہ تھا روہان کا

بظاہر تو دونوں بھائی ایک سے لگتے مگر

دلوں کے بھید تو میرا رب جانتا ہے

روہان کی عمر اس وقت انیس سال تھی

اور دس سال کی عمر سے جب سے روہان اور ذیشان کا کمرہ الگ کیا گیا

روہان روز رات کو تنہائی میں اپنے رب کی بارگاہ میی تحجد ادا کرتا

کیونکہ اس کو صراط مستقیم کی تلاش ہے

اسے ڈر لگتا ہے اس دن سے جسے حشر کہتے ہیں

سورہ المومن میں اللّٰه فرماتا ہے :

“وہ دن جب سب لوگ بے پردہ ہوں گے(بغیر لباس کے بغیر کسی اوٹ کے سامنے کھڑے ہوں گے حشر کے دن اللّٰه سے ان کی کی کوئی بات نہ چھپی ہو گی اس روز پکار کے پوچھا جائے گا بادشاہت کس کی ہے، تو سارا عالم پکار اٹھے گا

“صرف ایک اللّٰه کی جو بہت زبردست ہے

پھر فرمایا:

آج ہر شخص کو اسکی کمائی کا بدلہ دے دیا جاۓ گا جو اس نے کی تھی آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور اللّٰه حساب لینے میں بہت تیز ہے (یعنی اللّٰه کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی)” “

۔۔۔۔

اور اسی وقت میں ذیشان جانتے بوجھتے ، اچھے برے کی سمجھ رکھتے اپنے لیے دنیا و آخرت کو تنگ کر رہا ہوتا

ایسے لوگوں کو اللّٰه نے سورہ الفاتحہ میں ” مغضوب علیہم” کا نام دیا ہے یعنی وہ لوگ جو علم پانے کےبعد گمراہ ہوتے ہیں

۔۔

بے شک یہ اس رب کی عطا ہے جس کو چاہے ہدایت بخش دے اور جس کو چاہے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *