Haaye Mera Dil By Ayesha Zulfiqar Readelle50162 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
اس کی فلائیٹ لینڈ کر چکی تھی, ائیر پور ٹ سے ٹیکسی لیکر وہ سیدھا گھر آ گیا, نہ جانے کتنی ہی دیر تو وہ گیٹ کے آگے کھڑا چپ چاپ اس جنت نما گھر کو دیکھتا رہا جسے وہ جہنم بنا گیا تھا
“چھوٹے صاحب جی…آپ آ گئے ” چوکیدار نے اسے پہچان لیا تھا, اس سے مل کر وہ اندر آ گیا, جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوا, ایک دم ٹھٹھک گیا, صوفے پر ایک دس , بارہ سالہ بچہ بیٹھا بڑے انہماق سے اپنا ہوم ورک کر رہا تھا
وہ یقیناً اس کا بیٹا تھا
اس کے قدموں کی چاپ سن کر وہ ایک دم چونک گیا
“کیسے ہو دوست ؟” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
“ٹھیک ہوں, آپ کون ہیں انکل… ؟” اس نے پوچھا, وہ اسے فوری طور پر اپنا رشتہ بھی نہ بتا سکا
“تمہاری دادی کہاں ہیں؟” اس نے پوچھا
“وہ ہسپتال گئی ہیں, میری ماما وہاں ایڈمٹ ہیں” اس نے کہا
“کہا ہوا ہے تمہاری ماما کو ؟” اس نے پھر پوچھا
“پتہ نہیں… بس وہ بیمار ہیں, میں بھی ہوم ورک مکمل کر کہ ان سے ملنے جاؤں گا” اس نے کہا
“تم جلدی سے ہوم ورک مکمل کر لو, پھر ہم دونوں اکٹھے چلتے ہیں, مجھے بھی تمہاری ماما سے ملنا ہے” وہ اس کے بالوں کو محبت سے چھیڑتا اپنے کمرے میں چلا آیا, اس سے اگلا کمرہ مغیرہ کا ہوا کرتا تھا, وہ جیسے آخری سیڑھی پر گڑ سا گیا
“ہریرہ خدا کے لئے… مجھے چھوڑ دو, پلیز ہریرہ میں تمہاری منت کرتی ہوں” اس کے ذہن میں ایرسا کی چیخیں گونج گئیں تھیں
سر جھٹکتے ہوئے وہ اندر چلا گیا, شاور لیکر فریش ہوا, کپڑے تبدیل کئے اور پھر نیچے چلا آیا, بچے نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا تھا
“چلیں… ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“چلیں… ” وہ کھڑا ہو گیا
“کیا نام ہےتمہارا ؟” ہریرہ نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا تھا
“نویرہ اعظم… ” وہ بولا, ہریرہ اس سے باتیں کرتا ہوا سپتال آ گیا, راحت بیگم اسے کوریڈور میں رکھے ایک بینچ پر بیٹھی نظر آ گئیں
“ماں… ” وہ روتا ہوا ان کی طرف بڑھا تھا
“تو آ گیا…. ” انہوں نے بہت محبت سے اسے گلے لگایا, اس کا ماتھا چوما… اسے دعا دی
“کہاں ہے وہ ؟” اس نے پوچھا
“کچھ دیر پہلے یکدم اس کا سانس اکھڑ گیا تھا, ابھی آئی سی یو میں شفٹ کیا ہے ” انہوں نے کہا
“آپ اکیلی ہوتی ہیں اس کے پاس ؟” ہریرہ نے پوچھا
“نہیں… وحیب ہوتا ہے میرے ساتھ, دوائیں لینے گیا ہے” انہوں نے بتایا
“ماما کیسی ہیں اب ؟” نویرہ ان کے کندھے سے جا لگا تھا
“دعا کر میرے بچے… ماما ٹھیک ہو جائیں” ان کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں, وہ آئی سی یو کے دروازے کے قریب آ گیا, وہ اسے اندر بستر پر لیٹی نظر آ رہی تھی, چہرے پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا
وہ اسے دیکھتا ہوا ایک دم ماضی کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا
……………
اس دن ایرسا کی سالگرہ تھی, مغیرہ نے اس کے لئے فائیو سٹار میں نہ صرف الگ سے ٹیبل بک کروایا تھا بلکہ اس کے لئے تحفوں ک ایک ڈھیر بھی خریدا تھا
وہ اس دن بڑے دل سے تیار ہوئی تھی
ہلکے گلابی رنگ کی شیفون کی ساڑھی جس پر موتیوں کا بڑا نفیس سا کام ہوا ہوا تھا, موم جیسے نرم و ملائم پیروں میں کئی انچ اونچی پنسل ہیل اور ٹخنوں سے لپٹی پازیبیں… چہرے پر انتہائی مہارت سے کیا گیا ساڑھی سے ہم رنگ میک اپ اور لبوں پر سجی گلابی سرخیاں… کمر تک آتے لمبے سیاہ بال اور کانوں سے لٹکتے آویزے
وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو ہی نہیں پہچان پا رہی تھی, مغیرہ نے اسے آفس سے واپس پر پک کرنا تھا
تقریباًرات ساڑھے نو بجے کا وقت تھا جب اسے مغیرہ کی کال آئی
“تیار ہو گئیں ؟” وہ راستے میں تھا
“تقریباً… ” وہ مسکراتے ہوئے بولی
“چلو جلدی سے فائنل کوٹ لگاؤ, میں بس دو منٹ تک آیا” وہ بولا
“میں نیچے ہی آ جاؤں گی مغیرہ… آپ اوپر نہ آنا” وہ شرارت سے بولی تھی
“کیوں ؟” مغیرہ سمجھ نہ سکا
“کیونکہ اگر آپ اوپر آ گئے تو پھر ہم کہیں نہیں جا سکیں گے” وہ زور سے ہنسی تھی, مغیرہ بھی ہنستا ہوا کال کٹ کر گیا, وہ ایک بار پھر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی
سب کچھ پرفیکٹ تھا
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے باہر نکلتی, دروازہ ایک دم کھلا, وہ چونک کر مڑی, ہریرہ ایک نظر اسے دیکھتا ہوا اندر آ گیا
“اجازت لیکر اندر آتے ہیں بدتمیز انسان… ” اسے شدید غصہ آیا تھا
“تم تو اجازت لیکر نہیں آئیں تھیں میرے دل میں” اس نے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا تھا
“ہریرہ… ابھی اسی وقت میرے کمرے سے نکل جاؤ” اس نے کہا
“کیوں ؟ تم نکلی ہو آج تک میرے دل سے ” وہ بدستور اسے دیکھے جا رہا تھا… بنا پلکیں جھپکاۓ
“بکواس بند کرو اور نکلو یہاں سے ” ایرسا نے غصے سے کہا
“میری بات سنو ایرسا… اگر تم میری نہیں ہو سکیں نا… تو کسی اور کی بھی نہیں رہنے دوں گا” وہ اس کی طرف بڑھا تھا, ایرسا اپنی اونچی ہیل پر لڑکھڑا سی گئی
“میں تمہارے بھائی کی عزت ہوں ہریرہ… تمہارا سگا بھائی ” ایرسا نے تاسف سے کہا
“میرا دل خون ہوتا ہے تمہیں اس کی عزت بنے دیکھ کر, تمہیں میری عزت بننا تھا ایرسا… وہ کیوں آیا بیچ میں ؟ ” ہریرہ پر جیسے خون سوار تھا, ایرسا اس کی سرخ آنکھوں سے خوف کھاتی ڈریسنگ ٹیبل سے جا ٹکرائی اور اس سے پہلے کہ ذرا سنبھلتی, ہریرہ نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا
“ہریرہ چھوڑو مجھے… مغیرہ آنے والا ہے” وہ مسلسل اس کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی
“تم میری تھیں ایرسا… میں نے تم سے محبت کی تھی, آج ابھی اسی وقت تمہیں اپنا بنا کر دکھاؤں گا” وہ پاگلوں کی طرح اسے اپنی گرفت میں لئے اس کے چہرے پر جھکنے کی کوشش کر رہا تھا, ایرسا اس کے خلاف مزاحمت کرتی ہوئی دروازے تک آ گئی, اس کے پاؤں سے جوتا نکل گیا تھا, بال بے ترتیبی سے بکھر چکے تھے, گلابی لپ اسٹک چہرے پر جا بجا پھیل گئی تھی
“تم وہی گناہ پھر سے دوہرا رہے ہو ہریرہ… تم ایک بار پھر میرے ساتھ وہی کر رہے ہو جو پہلے کیا تھا, میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ مجھے تمہاری اس محبت سے نہ پہلے کوئی سروکار تھا اور نہ اب ہے… چھوڑ دو مجھے” ایرسا نے اپنا پورا زور لگا کر خود کو ہریرہ کے شکنجے سے نکالنا چاہا تھا
“”ہریرہ خدا کے لئے… مجھے چھوڑ دو, پلیز ہریرہ میں تمہاری منت کرتی ہوں” وہ اسے پوری قوت سے پیچھے کو دھکا دیتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگی اور اسے زوردار آواز سے کھولتے ہوئے باہر نکلی تھی
مغیرہ آخری سیڑھی پر کھڑا تھا… بالکل خاموش
وہ اپنی ہی جون میں بھاگتی ہوئی زور سے اس کے سینے سے آ لگی, ہریرہ اس کے پیچھے ہی باہر نکلا تھا
“مغیرہ… مجھے بچا لیں” وہ اس کے گلے سے لگی بلک بلک کر رو دی, مغیرہ نے ایک نظر اس دیکھا
بکھرے بال, سوجی ہوئی آنکھیں, چہرے اور بازؤں پر جا بجا پڑے نیلے نشان, لرزتے ہوۓ ہونٹ, ساڑھی کا ڈھلکا ہوا پلو اور خطرناک حد تک بڑھی ہوئی دھڑکن… وہ سب کچھ سن چکا تھا
“مغیرہ..مجھے کہیں اپنے اندر ہی چھپا لیں تاکہ یہ مجھ سے دور رہے” وہ زارو زار رو رہی تھی
مغیرہ نے بڑی ہمت کر کہ اپنے سامنے کھڑے بت بنے ہریرہ کو دیکھا تھا, وہ اس سے نظریں بھی نہ ملا سکا, اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا… پلٹ بھی نہ سکا
مغیرہ ایرسا کے بکھرے ہوئے وجود کو اپنے مضبوط بازؤں کی آغوش میں لئے سیڑھیاں اتر گیا, چپ چاپ اسے لیکر گاڑی تک آیا اور اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر گاڑی بھگا لے گیا, ایرسا کے پاؤں میں جوتا تک نہیں تھا, گھر سے کچھ دور اس نے سڑک کے کنارے گاڑی روکی تھی, چپ چاپ نیچے اترا اور ایک پانی کی بوتل لے آیا
“منہ دھو لو” اس نے ایرسا کی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا, وہ دھیرے سے باہر کو ہوئی, مغیرہ پانی گرانے لگا اور وہ منہ دھونے لگی
“تھوڑا سا پی لو” اد نے بوتل اسے پکڑاتے ہوۓ کہا تھا, ایرسا نے پانی پی کر بوتل اس کی طرف بڑھا دی
“ایسا کرتے ہیں… پہلے ایک جوتا خریدتے ہیں پھر کھانا کھانے چلتے” وہ حتی الامکان خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کر رہا تھا
“مغیرہ ایم سوری… ” وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اس کے کندھے سے آ لگی, مغیرہ اسے دلاسہ بھی نہ دے سکا, بس اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہ گیا
ایک قیامت اس پر آ چکی تھی
اور ایک اگلے ہی لمحے آ گئی
یکدم اس کی طرف کا شیشہ چکنا چور ہوا تھا, وہ ایک دم ایرسا پر جھک سا گیا, ایرسا نے بوکھلا کر اس کی طرف دیکھا… اس کے کپڑے سرخ ہوتے جا رہے تھے
“مغیرہ… ” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی تھی اور مغیرہ کا بے جان وجود اس کے کندھے پر آ گرا تھا
اسے چار گولیاں لگی تھیں
…………………………………
وہ مسلسل آٹھ گھنٹوں سے آئی سی یو میں تھا, دو گولیاں بازو پر اور دو کمر میں لگی تھیں, ڈاکٹرز مسلسل اسے بچانے کی کوششوں میں تھے, وہ اور راحت آئی سی یو کے باہر دیوار سے ٹیک لگاۓ چپ چاپ کھڑی تھیں, ایرسا نے کپڑے تک تبدیل نہیں کئے تھے, ہریرہ نہ جانے کہاں تھا
وہ جانتا تھا کہ اگر اس بار وہ ایرسا کے سامنے آ گیا تو وہ اسے نہیں بخشے گی
پورے آٹھ گھنٹے بعد ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر نکلا تھا, وہ دونوں تیر کی طرح اس کی طرف بڑھیں
“گولیاں نکال دیں ہیں, شیشہ بیچ میں آنے کی وجہ سے زخم زیادہ گہرے نہیں ہیں لیکن… ایک تو خون بہت زیادہ بہہ گیا ہے اور دوسرے ان کے دل کی دھڑکن نارمل نہیں ہو رہی, یوں لگ رہا ہے جیسے وہ شدید دباؤ میں ہیں…دعا کریں” ڈاکٹر کہتا ہوا چلا گیا, وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئیں
مزید تین گھنٹے بعد اسے ذرا سا ہوش آیا تھا
“ہریرہ کہاں ہے ؟” ہوش میں آتے ہی اس کا پہلا سوال یہ تھا, راحت بیگم نے اسے بمشکل کال کر کر کہ بلایا, وہ ایک نظر آئی سی یو کی دیوار سے ٹیک لگاۓ فرش پر بیٹھی, اجڑی ہوئی ایرسا کو دیکھتے اندر چلا گیا تھا
………………………….
آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر نکلا, وہ تیر کی طرح اس کی طرف بھاگا تھا
“اب وہ کیسی ہے ڈاکٹر ؟” اس نے پوچھا, راحت بیگم بھی اس کے ساتھ ہی کھڑی تھیں
“انہیں ہوش آ گیا ہے لیکن بی پی نارمل نہیں ہے, ہارٹ بیٹ بھی بہت مدھم ہے, انہیں ڈپریشن کا شدید اٹیک ہوا ہے, وعدہ تو نہیں کرتے لیکن کوشش کریں گے کہ وہ بچ جائیں” ڈاکٹر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا, وہ بس دم کھڑا اندر لیٹی ایرسا جلیل کو دیکھتا رہ گیا
یہ کوئی عمر تھی ڈپریشن کے اٹیک ہونے کی ؟
یہ کوئی عمر تھی آئی سی یو تک آنے کی ؟
یہ کوئی عمر تھی دنیا چھوڑ جانے کی ؟
وہ ایک نظر راحت کو دیکھتا ہوا اندر چلا گیا, لا تعداد مشینوں اور تاروں میں الجھی ہوئی وہ اپنے بستر پر پڑی تھی, بند آنکھیں ہولے ہولے لرز رہی تھیں, وہ دھیرے سے اس کے پاس بیٹھ گیا
“ایرسا… “اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی, ایرسا نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولی تھیں, بارہ سال بعد ہریرہ کا چہرہ اس کے سامنے آیا تھا, وہ بس اسے دیکھتی رہ گئی
“معاف کر دو… خدا کے لئے معاف کر دو” وہ زندگی میں دوسری بار اسقدر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا
……………..
“بھائی مجھے معاف کر دیں… خدا کے واسطے مجھے معاف کر دیں” وہ اس کا ہاتھ پکڑے بلک بلک کر رو دیا تھا, مغیرہ نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑوا لیا
“ہریرہ… ” وہ بڑی مشکل سے بولا تھا
“یہاں سے چلا جا… کہیں دور, ہمیشہ کے لئے ” اس نے کہا بھی تو کیا
“چلا جا ہریرہ تاکہ میں سکون سے آنکھیں بند کر سکوں, تو یہاں رہا تو اسے یونہی تار تار کرتا رہے گا” وہ کہتا چلا گیا
“بھائی غلطی ہو گئی مجھ سے… بس اب کی بار معاف کر دیں… ” اس نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا تھا
“غلطی پہلی بار ہوئی تھی ہریرہ… جب تجھے کچھ پتہ نہیں تھا, جب تو انجان تھا, پہلی بار کی غلطی معاف کر سکتا ہوں, دوسری بار کا گناہ نہیں, وہ جان بوجھ کر کیا تو نے, وہ معاف نہیں کروں گا, کبھی نہیں, قیمت کے روز بھی نہیں” مغیرہ کی آواز معدوم ہوتی جا رہی تھی
“بھائی… ” وہ روۓ جا رہا تھا
“اپنے دل پر لگی چوٹ معاف کر سکتا ہوں ہریرہ… اپنی عزت پر لگی چوٹ خدا کے آگے بھی معاف نہیں کروں گا” وہ بولا
“اگر میرے لئے کچھ کر سکتا ہے تو یہاں سے چلا جا, جب تک وہ زندہ ہے کبھی واپس نہ آنا… بھول کر بھی نہیں” مغیرہ کی سانس ٹوٹنے لگی تھی
…………………..
“تمہارے دل نے معاف کر دیا تمہیں ؟” ایرسا نے مدھم سی آواز میں پوچھا تھا
“کیا تمہارا دل کہتا ہے کہ تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بدلے تمہارے لئے بارہ سال کی جلا وطنی کافی ہے ؟ بس اس کے بعد تمہیں معاف کر دینا چاہیے ” وہ پوچھ رہی تھی اور ہریرہ چپ تھا
“تم نے میری اس پاکیزگی پر داغ لگایا تھا ہریرہ جو شادی سے پہلے ایک کنواری لڑکی کی شان ہوتی ہے, تمہاری وجہ سے میرا باپ اپنے دل میں میرے لئے نفرت لئے دنیا سے چلا گیا, تمہاری وجہ سے میرے گھر کی دہلیز پر رسوائیوں کے ڈھیر لگ گئے لیکن… جو میرا تھا وہ میرا ہی رہا, مجھے ہی ملا” وہ کہتی چلی گئی
“ہریرہ ایک بار کہہ دو ہاں تمہارا دل کہتا ہے کہ تمہیں مغیرہ اعظم کے دنیا چھوڑ جانے کے بدلے معاف کیا جا سکتا ہے ؟ میں تمہیں شائد سب کچھ معاف کر سکتی ہوں ہریرہ… وہ ایک رات بھی معاف کر سکتی ہوں جس میں تم نے مجھے دوسری بار داغدار کیا لیکن میں تمہیں مغیرہ کا خون معاف نہیں کر سکتی, اسے چار گولیوں نے قتل نہیں کیا… اسے تم نے قتل کیا” وہ کہتی جا رہی تھی
“تمہیں خدا کا واسطہ ہے ایرسا… مجھ پر رحم کھاؤ, بھائی نے مجھے معاف نہیں کیا…تم تو کر دو ؟” وہ بلک رہا تھا
“تمہارا پہلی بار کا سارا گناہ معاف کیا ہریرہ… تمہیں وہ رات بھی معاف کی جس میں تم شیطان بن گئے تھے, لیکن تمہیں اپنے شوہر کا قتل معاف نہیں کیا… کبھی بھی نہیں, قیامت کے روز بھی نہیں” وہ دھیرے سے بولی تھی
…………….
وہ اسی رات دن توڑ گیا تھا
مغیرہ اعظم… اپنی ماں کا لاکھوں میں ایک بیٹا
وہ اپنی آنکھوں سے اپنی عزت پر لگی چوٹ دیکھنا برداشت نہیں کر سکا تھا, چشتی کی وہ چار گولیاں شائد اس کا کچھ نہ بگاڑ پاتیں لیکن ہریرہ کے گناہ نے اسے جانبر نہ ہونے دیا
وہ آخری بار ایرسا کو دیکھ بھی نہ سکا, اس کے ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ بھی نہ رکھ سکا
وہ آخری بار اپنی ماں کو بھی نہ دیکھ سکا, اس کی گود میں سر بھی نہ رکھ سکا
بس ہریرہ کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑواتا ہوا ہمیشہ کے لئے چلا گیا
“بھائی… ” وہ اسے معاف نہیں کر کہ گیا تھا اور کہہ گیا تھا کہ قیامت کے روز بھی نہیں کرے گا
تھکے تھکے قدموں سے وہ اپنے آنسو صاف کرتا ہوا آئی سی یو سے باہر نکلا تھا, ابھی چند ہی قدم چلا ہو گا کہ اسے اپنے پیچھے ایرسا کی آواز سنائی دی, وہ ابھی تک اسی گلابی ساڑھی میں ملبوس تھی, سرخ آنکھوں سے آنسو روانی کے ساتھ بہہ رہے تھے
“اب بھی کہو ہریرہ اعظم کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے ؟” اس کی آواز نفرت سے بھری ہوئی تھی
“میں نے محبت کی تھی ایرسا… بس مجھے نبھانی نہیں آئی” اس کا سر جھک گیا
“میں تمہیں سچ بتاؤں ہریرہ… تم نے میرے ساتھ سب کچھ کیا, فلرٹ, دھوکہ, زیادتی, ظلم, حسد… سب کچھ, بس محبت نہیں کی” وہ سچ کہہ رہی تھی
ایرسا میری جان… میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے لیکن… کاش مجھے کوئی ایسا جادو آتا جسے پڑھ کر میں تمہیں اس محبت کا یقین دلا سکتا” اس کی آواز انتہائی لاچار ہو گئی
“اچھا… میں بتاؤں تمہیں ایک ایسا جادو جس کے بدلے مجھے تمہاری محبت کا یقین آ جاۓ گا, اور وہ یہ کہ تم ہمیشہ کے لئے یہاں سے دفع ہو جاؤ, مجھے تمہاری شکل سے ہی نفرت ہے, تمہاری آواز میرے کانوں میں زہر گھول دیتی ہے, تمہارا ہونا ہی میرے لئے انتہائی تنفر کا باعث ہے… بس اتنا کر دو اگر کر سکتے ہو تو… خود پر جلاوطنی کا جادو پڑھو اور کسی ایسی جگہ کا کر دفن ہو جاؤ جہاں سے تمہاری مشک بھی یہاں نہ آ سکے… بتاؤ یہ کر سکتے ہو میرے لئے ؟” وہ آگے کو آئی تھی
“ہاں کر سکتا ہوں” اس نے سر جھکا لیا تھا, وہ بھی اس سے وہی وعدہ مانگ رہی تھی جو مغیرہ مانگ کر گیا تھا
تو جاؤ… چلے جاؤ یہاں سے, ہمیشہ کے لئے ” وہ انتہائی نفرت سے کہتے ہوئے واپس مڑی تھی
“ایرسا… میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے… ” اس نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی
“اور ایرسا جلیل لعنت بھی نہیں بھیجتی تمہاری اس بیہودہ محبت پر, اس محبت پر جو تمہیں اور مجھے یہاں تک لے آئی ” اس کے لحجے میں صرف تنفر تھا
معاف کر سکو گی مجھے ؟” اس نے نہ جانے کس امید پر پوچھا تھا
“معاف کیا جا سکتا ہے تمہیں ؟” اس نے جواباً پوچھا تھا اور وہ بول نہیں سکا
“بس ایک بار اپنے دل سے پوچھ لینا ہریرہ… کہ معاف کیا جا سکتا ہے تمہیں ؟ اگر وہ کہہ دے ہاں… ہریرہ اعظم کو اس کے تمام تر گناہوں کے باوجود معاف کیا جا سکتا ہے تو خدا کی قسم میں بھی کر دوں گی” ایرسا انتہائی نفرت سے کہتے ہوئے واپس مڑ گئی تھی
“تم پر صرف اتنا ترس کھا سکتی ہوں کہ تمہاری ماں کو تمہارا کیا دھرا نہ بتاؤں… ابھی تو وہ ایک بیٹے کو رو رہی ہیں… پھر دونوں کو روئیں گی” اس نے کہا تھا
ہریرہ نے اگلے ہی دن پاکستان چھوڑ دیا… ہمیشہ کے لئے
صرف اس امید پر کہ شائد جلاوطنی کے عذاب کے بدلے اسے معافی مل جاۓ, صرف اس امید پر کہ شائد اپنے اس آخری وعدے کے عوض مغیرہ روز قیامت اسے معاف کر سکے, صرف اس امید پر کہ شائد اس کی جلاوطنی کے بدلے ایرسا جلیل کو اس پر ترس آ جاۓ اور وہ اسے معاف کر دے لیکن…
………………….
معاف اسے ایرسا جلیل نے بھی نہیں کیا… اور کہہ گئی کہ قیامت کے روز بھی نہیں کرے گی
اس نے آخری بار اپنے بچے کا ماتھا ضرور چوما تھا, آخری بار راحت کے ہاتھ ضرور تھامے تھے لیکن… آخری بار اسے معاف نہیں کیا تھا
اور اسے معاف کیا بھی کیسے جا سکتا تھا ؟
محبت کو رسوا کرنے والے کو بھلا کون معاف کرتا ہے ؟ کوئی نہیں
جسم پر لگی چوٹ مندمل ہو جاتی ہے, روح پر لگے زخم برداشت ہو جاتے ہیں لیکن….محبت پر لگے گھاؤ بھر نہیں پاتے
اسے بھی کسی نے معاف نہیں کیا…
نہ مغیرہ اعظم نے… اور نہ ایرسا جلیل نے
نہ دنیا میں… اور نہ آخرت میں
وہ دونوں ہی اسے معاف کئے بنا آنکھیں بند کر گئے… ہمیشہ کے لئے
محبت کے مجرموں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے
ختم شد
