Haaye Mera Dil By Ayesha Zulfiqar Readelle50162 Last updated: 15 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Haaye Mera Dil
By Ayesha Zulfiqar
اس کی فلائیٹ ٹیک آف کر چکی تھی, سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے اس نے اپنی نشست کی پشت سے ٹیک لگائی تھی "معاف کر سکو گی مجھے ؟" اس کے ذہن کے پردے پر اس کی اپنی ہی آواز لہرائی تھی "معاف کیا جا سکتا ہے تمہیں ؟" اس نے جواباً پوچھا تھا اور وہ بول نہیں سکا تھا "بس ایک بار اپنے دل سے پوچھ لینا ہریرہ... کہ معاف کیا جا سکتا ہے تمہیں ؟ اگر وہ کہہ دے ہاں... ہریرہ اعظم کو اس کے تمام تر گناہوں کے باوجود معاف کیا جا سکتا ہے تو خدا کی قسم میں بھی کر دوں گی" ایرسا کی نفرت انگیز آواز اس کی آنکھیں نم کر گئی تھی ............ وہ کل رات ہی ٹرپ سے واپس لوٹا تھا اور اگلے دن دوپہر تک بستر میں پڑا نیند پوری کرتا رہا, بارہ بجے کے قریب اٹھا اور نیند بھری آنکھوں سے جھولتا ہوا نیچے آ گیا, راحت بیگم لاؤنج میں بیٹھی تھیں, وہ دھم سے ان کی گود میں آ گرا "یاد آ گیا تجھے کہ تیری ایک ماں بھی ہے " انہوں نے اسے ایک دھپ لگایا تھا "ماں میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے " اس نے کہا "اچھا... ضروری بات " وہ مذاق ہی سمجھ رہی تھیں "ماں مجھے شادی کرنی ہے" اس نے ایک دم دھماکہ کر دیا "شادی ؟ کس سے ؟" وہ حیران تھیں "ایک لڑکی سے... " وہ بولا "ظاہر ہے وہ تو لڑکی سے ہی کرے گا لیکن... کون ہے وہ لڑکی ؟ ٹرپ پر پھنسا کر آیا ہے نا کسی کو ؟" ؟وہ اس پر چڑھ دوڑیں "نہیں ماں.. یہیں پر ہے" وہ دھیرے سے بولا تھا "مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے " وہ انہیں حیران کرتا جا رہا تھا "آپ پلیز میرا رشتہ لیکر اس کے گھر جائیں" وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا "ہریرہ... تیرا دماغ تو ٹھیک ہے نا... پہلے ڈھنگ سے پڑھائی تو کر لے, پھر شادی بھی کرتے رہنا" انہوں نے کہا "چاہےاتنی دیر میں وہ کسی اور کی ہو جاۓ" وہ تڑخا "تجھے ایک دم آفت کیا آ گئی ہے ؟" راحت کو غصہ آ گیا "ماں مجھے وہ بہت اچھی لگنے لگی ہے, اگر اس کی شادی کہیں اور ہو گئی تو... ؟" وہ روہانسا ہو گیا "ہریرہ میری بات سن بیٹے, جب جوانی کی نئی نئی شروعات ہوتی ہے نا تو اکثر اس قسم کی وقتی محبتیں ہو جایا کرتی ہیں, انہیں ایک دم سیریس نہیں لے لیا کرتے, پورا سال پڑا ہے ابھی تیرے ایم بی اے کا, کل کو کسی اور سے ہو جاۓ گی, پرسوں کسی اور سے... پھر کیا کرے گا تو ؟ ہر کسی سے شادی کرتا پھرے گا, پہلے دھیان سے اپنا ایم بی اے مکمل کر پھر کر لینا شادی" وہ اسے سمجھا رہی تھیں, اب پتہ نہیں وہ سمجھا تھا کہ نہیں, بس چپ چاپ دوبارہ ان کی گود میں لیٹ گیا تھا "مغیرہ کا نکاح ہو گیا ہے" انہوں نے اسے بتا ہی دیا "کیا ؟" وہ چونک گیا, راحت نے اسے الف سے لیکر ے تک ساری روداد سنا دی "اب تو کسی دن میرے ساتھ ان کے گھر چلنا, جب سے مغیرہ کا رشتہ طے ہوا ہے تو ایک بار بھی ان لوگوں سے نہیں ملا" راحت نےکہا "آپ لے کر ہی نہیں جاتیں مجھے" اس نے گلہ کرتے ہوئے کہا تھا ........................... آج اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی, پھر بھی وہ یونیورسٹی چلی آئی اور وہاں آ کر اسے احساس ہوا کہ شائد اسے نہیں آنا چاہیے تھا, کچھ ہی دیر میں اس کا چہرہ بخار کی شدت سے تمتماتے لگا تھا, سر الگ سے گھومے جا رہا تھا, بمشکل اس نے ڈاکٹر اشرف کی کلاس مکمل کی اور کینٹین کی طرف آ گئی, سلمان کو کال کی لیکن جواب ندارد... ظاہر ہے وہ اس وقت کالج میں تھا, بمشکل جوس کا ایک گلاس پی کر وہ دوبارہ کلاس کی طرف آ گئی کل صارم کی ڈانس پارٹی میں کون کون جا رہا ہے ؟" ہریرہ ڈائس پر کھڑا ہو کر پوچھ رہا تھا, سب نے ہاتھ کھڑے کر دئیے "تم نہیں جاؤ گی ؟" وہ ایرسا کی طرف آیا تھا "نہیں " وہ بولی "تم کبھی میری کسی بات پر ہاں بھی کرو گی ؟" جواباً اس نے پھر پوچھا "نہیں... " وہ مختصر سا جواب دے کر اپنی نشست کی طرف بڑھی تھی "او کم آن ایرسا... " ہریرہ نے جوش میں آ کر ایک دم اس کا ہاتھ پکڑا اور ایرسا کی بس ہو گئ, وہی ہاتھ اس نے گھما کر ہریرہ کے گال پر دے مارا تھا "اپنی ان بیہودگیوں کو لگام دے لو تو اچھا ہو گا...سمجھے " اس کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں "تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟" آس کا سرخ تمتمایا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ اپنے گال پر لگا تھپڑ بھول گیا تھا "تمہاری بلا سے میں مر جاؤں, تمہیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے " اس کی آواز بھی لرز رہی تھی "ایرسا آئی ایم سوری, مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمہاری طبیعت... " آس سے پہلےکہ وہ اپنی بات مکمل کرتا, ایرسا ایک دم چکر کھا کر اپنے پیچھے پڑی کرسی پر گر گئی, ہریرہ کا سانس رک گیا تھا "ایرسا... " وہ ایک دم اس کی طرف آیا تھا, وہ کوشش کے باوجود خود سے اٹھ بھی نہ سکی "آؤ تمہیں گھر چھوڑ آؤں " آس نے ایرسا کے متوقع غضب سے بے نیاز اسے دونوں بازؤں میں اٹھا لیا "صارم گاڑی نکال... " وہ اسے لیکر باہر کو بھاگا تھا آس لمحے اسے لگا کہ اس کے دل میں صرف محبت ہے... صرف محبت, نہ کوئی ضد, نہ لگاوٹ, نہ حسد... بس صرف محبت آس خوبصورت سی لڑکی کے لئے جو اس وقت خود سے بیگانہ اس کے بازؤں میں تھی, تپتی ہوئی, تمتماتی ہوئی...اس لمحے شدت سے اس کے دل نے خواہش کی کہ کاش... کاش وہ اس کی ہو جاۓ, کاش وہ اسے مل جاۓ, پوری عمر کے لئے آس لمحے اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا, نہ اپنی بےعزتی, نہ تھپڑ... بس یاد تھا تو اتنا کہ وہ بے ہوش ہو گئی تھی وہ پہلے اسے ہسپتال لیکر گیا, چیک اپ کروایا, ڈرپس لگوائیں, میڈیسن کھلائی اور پھر پوری شرافت سے اسے اس کے گھر کے سامنے اتار گیا تھا ........................
