100.7K
7

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

اسے پرسوں کی فلائیٹ میں ریزرویشن ملی تھی, اگلا پورا دن اسے سو صدیوں کے برابر لگا, پوری رات نیند نہیں آئی, صبح سات بجے اس کی فلائیٹ تھی, پیکنگ مکمل کر کے اس نے اپنے لئے کافی بنائی اور اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر آ گیا, پورا نیو جرسی اس کے سامنے تھا, وہ کافی دیر وہاں کھڑا کافی کے سپ لیتا رہا, نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
“ہاں کر سکتا ہوں…” اسے ماضی کے پردوں سے اپنی آواز سنائی دی تھی
“تو جاؤ… چلے جاؤ یہاں سے, ہمیشہ کے لئے ” وہ انتہائی نفرت سے کہتے ہوئے واپس مڑی تھی
“ایرسا… میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے… ” اس نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی
“اور ایرسا جلیل لعنت بھی نہیں بھیجتی تمہاری اس بیہودہ محبت پر, اس محبت پر جو تمہیں اور مجھے یہاں تک لے آئی ” اس کے لحجے میں صرف تنفر تھا
“میں تمہیں سچ بتاؤں ہریرہ… تم نے میرے ساتھ سب کچھ کیا, فلرٹ, دھوکہ, زیادتی, ظلم, حسد… سب کچھ, بس محبت نہیں کی” وہ شائد سچ کہہ رہی تھی
اس لمحے ٹیرس پر کھڑے ہریرہ اعظم کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے تھے
……………….
آج ان کے پہلے سمیسٹر کا فائنل پریکٹیکل تھا,ایک ایک کر کے لیب خالی ہوتی جا رہی تھی, ہریرہ اس سے ایک نشست چھوڑ کر بیٹھا تھا, لیب میں ابھی دو, تین سٹوڈنٹس موجود تھے جب اس نے اپنا پیپر ختم کر کہ جمع کروایا, اپنا بیگ اٹھایا اور باہر نکل گیا, تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اکیلی رہ گئی
“ہری اپ ایرسا… صرف دو منٹ اور ہیں آپ کے پاس” ڈاکٹر منور اسے کہتے ہوۓ اپنے آفس میں چلے گئے تھے, اس نے جلدی جلدی پریکٹیکل مکمل کیا اور اپنا بیگ اٹھا کر کھڑی ہو گئی
شام کے ساۓ گہرے ہوتے جا رہے تھے, تقریباً پورا ڈپارٹمنٹ خالی ہو گیا تھا, اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی, مغیرہ اندر داخل ہوا, وہ شائد اپنا سیل بھول گیا تھا, ایرسا اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی
“ہاۓ میری قسمت… سیدھا یہاں آ کر لگنا تھا تم نے” اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا, ایرسا نے کچھ بھی کہے بنا ایک طرف سے ہو کر باہر نکلنا چاہا لیکن وہ پھر اس کے سامنے آ گیا
“ایک بات کا جواب دے دو بس ” اس نے کہا, ایرسا کی نظریں سوالیہ ہو گئیں
“تم مجھ سے اتنا چڑتی کیوں ہو ؟” آس نے پوچھا
“جس دن میں تم سے چڑنے لگ گئی نا… وہ شائد آخری دن ہو گا میرا” ایرسا نے کہا
“میں تم سے نہیں چڑتی, تم مجھ سے چڑتے ہو ہریرہ, تمہیں یہ بات کانٹے کی طرح چبھتی ہے کہ میں باقی لڑکیوں کی طرح تمہاری دیوانی کیوں نہیں ہوں, ان کی طرح ہر دم تمہارے لئے آہیں کیوں نہیں بھرتی, ان کی طرح تمہیں دیکھ دیکھ کر مسکراتی کیوں نہیں ہوں, بس اتنی سی بات ہے” وہ کہتی چلی گئ
اور یہ ہی سچ تھا
ہریرہ اعظم بائیس سالہ انتہائی خوبصورت اور دلکش لڑکا تھا… چاکلیٹ بواۓ
جس کے پاس ایک مضبوط فیملی بیک گراؤنڈ تھا, جس کے ہاتھوں میں لٹانے کے لئے بے بہا پیسہ تھا, جس کے پاس دل لبھانے والی انتہائی دلفریب باتیں تھیں… جس کے پاس محفل لوٹ لینے والا ہر حربہ تھا
اور اس نے پہلے ہی سمیسٹر میں سب کچھ لوٹ بھی لیا تھا
لڑکیاں… اس کی دیوانی
لڑکے… اس کے جگر
استاد… اس کی مٹھی میں
بس ایک وہ ہی اس کے سحر میں نہیں آ رہی تھی
بس اسے ہی قابو نہیں کر پا رہا تھا وہ… بس ایک وہی تھی جو اسے پہلے دن سے تنگ کر رہی تھی
“ایسا ہی ہے نا… ؟ ہریرہ اعظم خان ؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ پوچھ رہی تھی
“اگر میں کہوں کہ ہاں… ایسا ہی ہے تو ؟” ہریرہ نے کہا
“تو میں کہوں گی کہ ایسا ہونا ہمیشہ تمہارا ایک خواب ہی رہے گا” ایرسا نے کہا
“اور اگر میں کہوں کہ مجھے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا آتا ہے تو ؟ ” وہ اس کے قریب ہوا تھا
“تو میں پوچھوں گی کہ تم ایرسا جلیل کو آخر کس طرح اپن دیوانہ کر پاؤ گے ؟” وہ پیچھے کو ہٹتی جا رہی تھی
“پیسے سے, باتوں سے, توجہ سے… ” وہ بڑھتا جا رہا تھا
“یہ سب تم کر چکے ہو” وہ ایکدم پیچھے کمپیوٹر ٹیبل کے ساتھ لگ گئی, ہریرہ نے اپنے دونوں بازو اس کے دائیں اور بائیں میز پر رکھ کر اس کا راستہ مسدود کیا تھا
“پھر شائد محبت سے…” وہ اس کی انتہائی دلکش ہلکی سبز آنکھوں میں ڈوبنے کے لئے جی جان سے تیار تھا
“محبت… محبت تم جیسوں کے لئے نہیں بنی ہریرہ, تم جیسے محبت کر ہی نہیں سکتے” اسے ہریرہ کی شرٹ سے اٹھتی خوشبو محسوس ہونے لگی تھی
“کر کے دکھا دوں تو ؟” وہ اس پر دھیرے سے جھکا تھا
“تب ہو جاۓ گی ایرسا جلیل میری دیوانی ؟ ” آس کی سانسیں ایرسا کو اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگیں تھیں
“ایرسا جلیل صرف اس شخص کی دیوانی ہو گی جو پوری دنیا کے سامنے اسے اپنے نام کر کے لیکر جاۓ گا, اس کی نہیں جو بند کمرے میں اسے زبردستی اپنا دیوانہ بننے کو کہہ رہا ہے” وہ ایک دم اسے پیچھے دھکیلتے ہوۓ باہرکی طرف بڑھی تھی
“پوری دنیا کے سامنے تمہیں اپنے نام کر کہ بھی اپنا دیوانہ بنانا پڑا تو بنا کر رہوں گا… یاد رکھنا” وہ پیچھے سے بولا تھا
……………..
آج رعنا کے گھر والے مغیرہ کو دیکھنے آۓ تھے, ہریرہ حسب عادت اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں باہر نکلا ہو تھا, اعتراض کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں تھا سو وہ دونوں میاں بیوی اس کے ہاتھ پر پیسے رکھ کر بات پکی کر کہ چلے گئے, منگنی اگلے مہینے ایرسا کے رزلٹ کے بعد طے پا گئی, اگلے دن ناشتے کی میز پر راحت بیگم نے ہریرہ کے سامنے دھماکہ کر دیا
“کیا…؟ بھائی کی منگنی طے ہو گئی ؟” اس کی دونوں آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں, مغیرہ کن انکھیوں سے اسے دیکھتے ہوئے ہنس رہا تھا
“ماں آپ نے میرے بنا ہی بھائی کا بردکھوا کروا دیا… اور منگنی بھی طے کر دی” وہ زمین سے فٹ فٹ اوپر اچھل رہا تھا, زیادہ دکھ تو یہ تھا کہ مجھے بتایا ہی نہیں
“میری منگنی طے ہوئی ہے اسلئے میر ہونا زیادہ ضروری تھا… نہ کہ تیرا” مغیرہ نے اسے تیلی لگائی تھی
“ماں دیکھ لیں… میں اب ضروری بھی نہیں رہا ان کے لئے ” وہ سخت خفا تھا
“ہریرہ بس کر یہ ماتم… میں نے تجھے بتایا تھا صبح کہ شام کو مہمانوں نے آنا ہے… گھر پر ٹکا رہیں, لیکن تیرے تو پھیرے ٹورے ہی ختم نہیں ہوتے, اب تیرے ٹائم ٹیبل کے حساب سے تو میں اس کی منگنی طے کرنے سے رہی” راحت نے اسے گھرکا
“دکھائیں کیسی ہے لڑکی ؟” وہ بادل نخواستہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
“ماں آپ کو میری قسم… آپ اسے رعنا کی تصویر نہیں دکھائیں گی, یہ اس میں سو سو نقص نکالے گا” مغیرہ نے ایک دم ان کا موبائل جھپٹ لیا
“دیکھ رہی ہیں آپ… یہ ابھی سے اس کے حمایتی ہو گئے ہیں” ہریرہ کا مارے دکھ کے برا حال تھا
“کب ہے منگنی ؟” وہ راحت کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر پھر بولا
“اگلے مہینے” انہوں نے کہا
“اگلے مہینے تو میں نے صارم لوگوں کے ساتھ ٹرپ پر جانا ہے” وہ بولا
“تیرا ٹرپ زیادہ اہم ہے یا بھائی کی منگنی ؟” راحت نے پوچھا
“میں ان کی منگنی سے پہلے آ جاؤں گا” اس کے لئے ٹرپ ہی زیادہ اہم تھا
“تو میری منگنی پر نہ آیا تو یاد رکھنا بارات کے ساتھ بھی نہیں لیکر جاؤں گا” مغیرہ اسے وارننگ دیتا ہوا باہر نکل گیا
“دکھا دیں تصویر… ” اس نے دوبارہ ان کے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا
“ہریرہ… وہ مجھے قسم دے کر گیا ہے, خبردار جو میرے موبائل کی طرف دیکھا بھی تو” راحت نے فوراً اپنا موبائل اس کے سامنے سے اٹھا لیا, وہ بس انہیں گھور کر رہ گیا
………………
اس دن موسم بہت خراب تھا, پور آسمان سیاہ رنگ کے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا, وہ جیسے ہی آخری کلاس لیکر باہر نکلی, چھما چھم بارش شروع ہو گئی… موسلا دھار بارش
ایسے میں بھلا سلمان کیسے اسے لینے آتا ؟
وہ ایک نظر کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کے گیٹ کے ساتھ بنے پارکنگ شیڈ کے نیچے کھڑی ہو گئی, بارش تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی, وہ کھڑے کھڑے تھک گئی تو ایک بنچ پر بیٹھ گئی
“ابھی تک یہیں ہو ؟” ہریرہ نہ جانے کہاں سے اس کے سر پر آ ٹپکا تھا
“بارش رکے گی تو سلمان آۓ گا” اس نے کہا
“آؤ… میں چھوڑ دیتا ہوں” وہ بولا
“کیسے ؟” آس نے پوچھا
“گاڑی پر ” وہ بولا
“لیکن تم تو بائیک پر آتے ہو ” ایرسا نے کہا
“تم ہاں تو کرو… میں ہوائی جہاز کا انتظام بھی کر لوں گا” وہ جس انداز سے بولا, ایرسا کو یکدم ہنسی آ گئی, ہریرہ نے اسے پہلی بار اتنی زور سے ہنستے ہوۓ دیکھا تھا, وہ دم بخود اس کی ہنسی کے جلترنگ بجتے دیکھتا رہ گیا
“تم ایسا کرو… پہلے ہوائی جہاز لیکر آؤ” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی, ہریرہ ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ ہی بنچ پر بیٹھ گیا
“میں تمہارے لئے ہوائی جہاز بھی لا سکتا ہوں ایرسا… لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمہیں مجھ پر یقین ہی نہیں ہے” اس کے لحجے میں دنیا جہان کی بے بسی آن سمٹی
“سوال یہ ہے کہ تمہیں مجھے یقین دلانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟” ایرسا نے کہا
“یقین محبت کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے ” اس نے کہا
“اور اب سوال یہ ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت کرنے کی ہی کیا ضرورت ہے ؟” ایرسا نے پھر کہا
“تمہارے لئے کونسا لڑکیوں کی کوئی کمی ہے ہریرہ… ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور امیر لڑکی تمہاری دیوانی ہے, تم تو کسی سے بھی محبت کر سکتے ہو, پھر آخر میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ” وہ کہتی چلی گئی
“تم اچھی لگنے لگی ہو مجھے ” وہ کہہ ہی گیا, ایرسا بس اس کی گہری سیاہ آنکھوں کو دیکھتی رہ گئی
“ضد لگا رہے ہو نا… ؟” اس نے پوچھا تھا
“نہیں… محبت کر رہا ہوں ” ہریرہ نے کہا
“نہ کرو… کیونکہ میں نہیں کر پاؤں گی ” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا, بارش کی شدت میں کمی آ گئی تھی
“لیکن کیوں ؟” وہ بولا
“کیونکہ میرا رشتہ طے ہو چکا ہے” وہ اس کی سماعتوں پر دھماکہ کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی
…………………………
وہ اس دن اپنے آفس میں تھا جب اسے راحت بیگم کی کال آئی, رعنا کے ابو کی اچانک سے طبیعت خراب ہو گئی تھی اور نسرین اور سلمان انہیں لیکر ہسپتال چلے گئے تھے, دن بدن ان کے گردوں کی تکلیف بڑھتی ہی جا رہی تھی, مغیرہ اسی وقت آفس سے نکلا اور راحت کو لیکر کچھ ہی دیر میں ہسپتال پہنچ گیا, ڈاکٹرز کے بقول ان کے گردوں کو واشنگ کی ضرورت تھی, وہ پورا دن ہسپتال میں رکا رہا, رات کو آٹھ بجے ان کے گردے واش کر کہ ڈاکٹرز نے انہیں دو گھنٹے بعد چھٹی سے دے دی, وہ خود انہیں گھر تک چھوڑنے آیا تھا, جلیل صاحب اور نسرین کے بے حد اصرار پر وہ صرف دو منٹ وہاں رکا اور پھر راحت کو ساتھ لیکر واپس آ گیا, اس دوران اسے رعنا کی ایک جھلک بھی نظر نہیں آئی تھی, اگلے ہی دن راحت کو جلیل صاحب کی کال آ گئی, وہ ایک دو دن میں منگنی کے لئے کہہ رہے تھے
“پتہ نہیں بہن میرے اور کتنے دن باقی ہیں, میرا بس چلے تو اس کا نکاح ہی کر جاؤں لیکن… میری ابھی کوئی خاص تیاری نہیں ہے, اسلئے میں چاہ رہا تھا کہ اگر ہم ایک دو دن میں منگنی… ” راحت نے ان کی بات کاٹ دی
“تیاریاں رخصتی کے لئے کی جاتی ہیں بھائی صاحب… نکاح کے لئے کیسی تیاری ؟ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم رعنا اور مغیرہ کا نکاح ہی کر دیتے ہیں, بندھن ذرا مضبوط ہو جاۓ گا اور آپ بھی مطمئن ہو جائیں گے, پھر رخصتی جب آپ کہیں گے تب کر لیں گے” راحت بیگم کہتی چلی گئیں
“آپ نے تو میرے دل کی بات کر دی ہے بہن… مغیرہ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا ؟” انہوں نے پوچھا
“اسے کیا اعتراض ہو گا بھلا… آپ بس مجھے دن بتا دیں, میں اس دن مغیرہ کو لیکر آ جاؤں گی ” راحت نے کہا
“کل تو میں نے چیک اپ کے لئے جانا ہے, پرسوں شام کا وقت رکھ لیتے ہیں” جلیل نے کہا
“ٹھیک ہے بھائی صاحب” راحت نے انہیں دلی طور پر بالکل مطمئن کر دیا تھا, رات کے کھانے پر انہوں نے مغیرہ سے ذکر کر دیا
“ماں اتنی جلدی… ” اس نے دھیرے سے کہا
“جلد یا بدیر… شادی تو کرنی ہے نا مغیرہ… منگنی نہ سہی نکاح ہی سہی, ایک بندھن تو باندھنا ہی ہے نا” وہ اسے سمجھا رہی تھیں
“کب ؟” اس نے پوچھا
“پرسوں… ” انہوں نے بتایا
“ٹھیک ہے… جیسے رب کی مرضی” اس نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا
“ہریرہ کے بغیر ہی ؟” وہ ٹرپ پر گیا ہوا تھا
“اسے کال کر دے… آ سکتا ہے تو پرسوں شام تک آ جاۓ” راحت نے کہا
“ابھی کل تو وہ گیا ہے…پرسوں تک کیسے آ جاۓ گا ” مغیرہ نے کہا
“چل پھر رہنے دے… جب آۓ گا تو پتہ چل ہی جاۓ گا اسے” راحت نے کہا تھا
…………………………………..
آج اسے کسی بزنس گیدرنگ میں شرکت کرنا تھی, تقریباً دس بجے تیار ہو کر وہ ہال پہنچ گیا, وحیب اسے دروازے پر ہی مل گیا تھا, وہ بڑی گرمجوشی سے اس سے ملا, وہ دونوں ایک ساتھ اندر داخل ہوا تھے
“سنا ہے تو نے پچھلے دنوں طاہر کا ٹینڈر پکڑا ہے ؟” وحیب اپنے مشروب کا گلاس اٹھاتے ہوئے بولا تھا
“ہاں بالکل… ” آس نے کہا
“شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال لیا ہے تو نے مغیرہ… ” وحیب نے کہا
“کیوں ؟” وہ حیران ہوا تھا
“پچھلے دس سالوں سے ظاہر چشتی والوں کا ازلی دشمن ہے, آۓ روز ان دونوں گروپس میں دنگے ہوتے رہتے ہیں, یقین کر صرف فساد سے بچنے کے لیے میں نے اپنا ٹینڈر چشتی کے حوالے کر دیا تھا, والدہ نے سولہ سالوں میں ایک بار بھی نہ طاہر کا ٹینڈر پکڑا, نہ چشتی کا” وہ کہتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ مغیرہ اسے کوئی جواب دیتا, چشتی برادرز کا چئر پرسن نعیم الحق چشتی ان دونوں کی طرف چل آیا
“کیسے ہو ینگ میں ؟” وہ بڑی گرمجوشی سے بولا تھا, مغیرہ نے بس اس سے سلام لیا تھا
“میرا تو خیال تھا کہ آج تم دونوں میں سے ایک یہاں آۓ گا ؟” چشتی نے کہا
“کیوں سر… ؟ اب ایک ٹینڈر کی خاطر ہائی سکول سے چلتی آ رہی دوستی تو ختم ہونے سے رہی” مغیرہ نے کہا
“میں نے بزنس کی اس دوڑ میں ہزاروں دوستیوں کو ختم ہوتے دیکھا ہے مغیرہ اعظم…” وہ زور سے ہنسا تھا, مغیرہ نے اسے کوئی جواب نہ دیا
“سنا ہے آجکل طاہر سے دوستیاں بڑھا رہے ہو ؟” چشتی نے کہا
“میں کسی سے بھی دوستیاں بڑھانے میں بالکل آزاد ہوں ” مغیرہ کو اس کا یوں کہنا اچھا نہیں لگا تھا
“زیادہ آزاد ہونا بھی اچھی نہیں ہوتا بچے… بہتر ہو گا اپنی ماں سے جا کر طاہر کے بارے میں پوچھ لو, وگرنہ پھر میں اپنی زبان میں سمجھا دوں گا” وہ اسے ڈھکے چھپے الفاظ میں دھمکی دے گیا تھا
……………………
آج ان دونوں کا نکاح تھا, کاسنی اور گولڈن امتزاج کی ہلکے پھلکے کام والی فراک پر سلیقے سے دوپٹہ سیٹ کئے وہ اس کے برابر میں آ کر بیٹھی تھی, انتہائی نفاست سے کیا گیا ہلکا ہلکا میک اپ, لمبے سیاہ بال جو آدھے دوپٹے سے نکل کر باہر کی طرف لٹک رہے تھے, کانوں میں جھولتے نازک سے جھمکے, گلے میں پرویا نفیس سا نیکلس, ماتھے پر سجی چھوٹی سی بندیا, کلائیوں میں پڑی کھنکتی ہوئی چوڑیاں اور لبوں پر سجی شرمیلی سی مسکراہٹ… مغیرہ نے اس کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے ایک بھرپورنظر اس پر ڈالی تھی اور…
نظر پلٹنے سے انکاری ہو گئی تھی
وہ بہت حسین لگ رہی تھی, بمشکل اس نے اپنی نظروں کو قابو کیا تھا, کچھ دیر بعد نکاح خواں نے ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا, جلیل صاحب اور نسرین بیگم سے پیار لینے کے بعد وہ دوبارہ اس کے برابر میں آ بیٹھا
“مبارک ہو …” اس نے رعنا کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا تھا, جواباً اس حیا کی دیوی نے بمشکل اپنی نظریں اوپر اٹھائیں…آنکھیں کیا تھیں… ؟
دو دو عمیق تر سمندر تھے جن میں مغیرہ اعظم ڈوبتا چلا گیا
“آپ کو بھی ” اس نے کہتے ہوئے دوبارہ سر جھکا لیا تھا, مغیرہ بس مسکرا کر رہ گیا
وہ خوش تھا… بہت خوش
اس کے پہلو میں بیٹھی وہ حور نما لڑکی اب پوری عمر کے لئے اس کی تھی…وہ خوش کیوں نہ ہوتا ؟
اور رعنا… وہ تو اس قدر وجیہہ انسان کو اپنی زندگی میں شامل ہوتا دیکھ کر ہی بے یقین تھی
کیا واقعی اتنا دلکش انسان اسے دے دیا گیا تھا… بن مانگے, بن روۓ
وہ بس دھیرے دھیرے مغیرہ کو ایک نظر دیکھنے کی جسارت پر مسکراۓ جا رہی تھی
جاری ہے
…………