No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
وہ حسب عادت بستر پی اپنی طرف کروٹ لئے لیٹا تھا, ایرسا کچھ دیر تو اس کی پشت کی طرف دیکھتی رہی, پھر ہمت کر کہ اس کے قریب آ گئی, وہ اسے اپنے پائنتی کھڑا دیکھ کر اٹھ بیٹھا تھا
“خدا کی قسم… میں نہ پہلی بار اپنی مرضی سے غائب ہوئی تھی اور نہ اس بار… ” وہ مسلسل اپنی انگلیوں کو مروڑتے ہوۓ, آنسو بہاتے ہوۓ, نظریں جھکاۓ ہوۓ, اسے اپنی صفائی دے رہی تھی
چہرہ آنسوؤں سے تر تھا, ہونٹوں میں لرزش تھی, آنکھوں میں ندامت تھی
“اسے میری قسمت کہہ لیں یا… آزمائش, اور ان دونوں پر ہی میرا اختیار نہیں ہے” اس نے کہا, مغیرہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا تھا
“میں نے کچھ کہا ہے تم سے؟” مغیرہ نے کہا
“شائد آپ کچھ کہہ دیں تو مجھے اتنی تکلیف نہ ہو جتنی آپ کی خاموشی سے ہوتی ہے” وہ سسکیاں بھر رہی تھی, مغیرہ نے دھیرے سے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو ڈال کر اسے اپنے قریب کیا تھا, دوسرے ہاتھ سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑ کر بہت نرمی سے اس کے آنسو خشک کئے تھے
“میں فرشتہ نہیں ہوں رعنا… انسان ہوں, بے عیب نہیں ہوں, اعلیٰ ظرف بھی نہیں ہوں, تم پر اعتبار نہیں کر سکا کیونکہ یہ سرشت تھی میری… شائد میں تمہیں کبھی بھی قبول نہیں کر پاتا اگر… مجھے تم سے محبت نہ ہو جاتی تو, یہ سچ ہے کہ میں تم سے ہار گیا, میری چھبیس سالوں کی عادت نے تمہارے آگے گھٹنے ٹیک دیئے, مجھے آج اندازہ ہوا کہ میری زندگی میں آئی ایک انتہائی خوبصورت اور شرمیلی لڑکی میرے لئے کتنی اہم ہے ؟” وہ اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھے کہتا چلا گیا
“مغیرہ میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں بالکل پاک ہوں… بالکل صاف ہوں, مجھے میرے ابو کی قسم مغیرہ مجھ پر کوئی داغ نہیں ہے” وہ پھر رو پڑی, مغیرہ نے بہت محبت سے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا, وہ اس کے سینے پر سر رکھے بلک بلک کر رو دی, پچھلے سارے دنوں کا غبار آنسوؤں میں بہہ رہا تھا, مغیرہ بس دھیرے دھیرے اس کے سر پر اپنا سر رکھے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا
“تم سے نفرت تو کبھی بھی نہیں کی اور محبت… وہ تو اسی دن ہو گئی تھی جب تمہیں نکاح کی مبارک باد دی تھی ” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا اور اس کا چہرہ اوپر کو اٹھایا
“پھر اس کے بعد جب جب تمہیں دیکھا… تب تب تم سے محبت ہو گئی ” وہ اس کے گیلے چہرے پر بہت محبت سے اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے اقرار کر رہا تھا
“میں نے نہ جانے کتنی ہی بار خدا کے آگے آپ جیسی نعمت کا شکر ادا کیا ہے مغیرہ… ” وہ دھیرے سے بولی تھی, مغیرہ بس اس کا آنسوؤں سے دھلا صبیح چہرہ دیکھتا رہ گیا
“بہت محبت کرتی ہوں میں آپ سے… ” ایرسا نے اپنے دونوں بازو اس کی گردن میں ڈالتے ہوئے اپنا سر دوبارہ اس کے سینے پر رکھا تھا اور یہ وہ لمحہ تھا جب مغیرہ اعظم کو لگا کہ اس سے بڑھ کر خوش قسمت انسان شائد پوری دنیا میں نہیں ہے, بہت چاہت سے, بہت محبت سے اس نے اپنے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد باندھ کر اس کے نازک سے وجود پہ اپنی گرفت مضبوط کی تھی
اسے لگا جیسے اس کے سینے سے لگی اس لڑکی کی خوشبو اس کے روم روم میں اتر رہی ہے, وہ بس اس کے کندھے پر اپنا سر رکھے, دونوں آنکھیں بند کئے اس کے دل کی دھڑکن سنتا چلا گیا
وہ شائد ساری عمر بھی اس حیا کی مورت کے شکرانہ ادا کرتا تو ادا نہ ہو پاتا
وہ اب اس کی تھی… ایک لمحے کے لئے نہیں, ایک رات کے لئے نہیں, پوری عمر کے لئے
بھلا اس سے بڑھ کر اسے اور کیا چاہیے تھا
وہ موم سے بنی لڑکی اس کی سانسوں کی حدت سے اس کے ہاتھوں میں پگھل پگھل گئی اور مغیرہ پوری رات بس اپنے بستر کی سلوٹوں میں اس کے ٹکرے ہی چنتا رہا, انہیں آنکھوں سے لگاتا رہا, انہیں لبوں سے چومتا رہا
یہ تھی محبت… ایسی ہی ہونی چاہئے محبت… ہے
……………..
وہ اگلی صبح آفس جانے کے لیے نیچے آیا تو ایرسا پہلے سے وہاں موجود تھی, وہ راحت کو سلام کرتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا, ہریرہ عین اس کے سامنے والی نشست پر بیٹھا تھا
“مجھے ناشتا لا دو… ” اس نے ایرسا سے کہا, راحت نے چونک کر اسے دیکھا تھا, ایرسا یونیورسٹی جانے کے لئے نکلنے لگی تھی
“نوری لے آتی ہے تمہارا ناشتہ… اسے دیر ہو جاۓ گی” انہوں نے کہا
“میں لے جاؤں گا اسے اپنے ساتھ ” وہ انہیں حیران کرتا جا رہا تھا, ایرسا ایک نظر ان کے حیران چہرے کو دیکھ کر کچن میں چلی گئی, مغیرہ نے بڑا دل لگا کر ناشتہ کیا, پھر اس کے ہاتھ کی بنی چاۓ پی اور پھر اٹھ کھڑا ہوا
“چلو آؤ… ” وہ ایرسا سے کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا
راحت بیگم تو بس ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر نظر اتار رہی تھیں, شکر ادا کر رہی تھیں
اور ہریرہ… اس نے ایک نظر دروازے کے ساتھ بنی قد آدم گلاس وال سے باہر دیکھا, مغیرہ نے مسکراتے ہوئے اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا تھا اور بڑے ادب سے اس کے سامنے جھکا تھا, ایرسا دل کھول کر ہنستی ہوئی اندر بیٹھ گئی تھی اور مغیرہ دروازہ بند کرتے ہوئے گاڑی نکال لے گیا تھا
اس لمحے صرف حسد تھا جو اس کے دل میں پنپ پڑا, صرف جلن تھی جو اس کے آس پاس بھڑک اٹھی, صرف رشک تھا جو اس کی آنکھوں میں اتر آیا… اور صرف ایرسا کو پانے کی ضد تھی جو اس کے دل میں جم کر بیٹھ گئی تھی
…………………………
اس دن بھی واپس پر مغیرہ اسے لینے آ گیا, وہ بڑی باقاعدگی سے اس کی ڈیوٹی نبھا رہا تھا
“کب تک ہیں تمہارے امتحان ؟” اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا تھا
“اگلے مہینے” آس نے کہا
“پاس ہو جاؤ گی ؟” وہ دھیرے سے ہنسا
“آپ کو کوئی شک ہے ؟” ایرسا نے کہا
“کیا پتہ… میں نے کونسا کبھی تمہارا پچھلا ریکارڈ چیک کیا ہے ” وہ شرارت سے بولا
“تو کر لیں… اتنا برا بھی نہیں ہے” اس نے کہا
“میں نے ایم بی اے میں ٹاپ کیا تھا ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“لیکن سر ایم سوری… میں تو نہیں کر سکتی ٹاپ ” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ بولی تھی, مغیرہ کا قہقہہ گونج گیا
“تم نا سہی… میرا بھائی کر لے گا” مغیرہ نے کہا
“جس دن وہ ایم بی اے میں ٹاپ کرے گا نا… اس دن سورج مغرب سے نکلے کا, دیکھ لینا” ایرسا نے کہا, مغیرہ بس ہنس کر رہ گیا
“وہ ہر چیز میں ٹاپ کر سکتا ہے مغیرہ… بس ایم بی اے میں نہیں کر سکتا” ایرسا کے لحجے میں ہلکی سی ناگواریت گھل گئی تھی جسے مغیرہ نظرانداز کر گیا, پہلے اس نے راستے میں گاڑی روک کر اسے پزا کھلایا پھر گھر چھوڑ گیا, وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے اندر آ گئی لیکن اس سے پہلےکہ وہ اوپر جاتی, اس کا نیچے اترتے ہریرہ سے ٹکراؤ ہو گیا, اس نے بہت غور سے ایرسا کے لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ کو دیکھا تھا, وہ اسے نظرانداز کر کہ اوپر جانے لگی تو ہریرہ نے اپنا بازو اسے آگے کر کہ راستہ مسدود کر دیا
“ابھی تک توبہ نہیں کی تم نے اپنی گھٹیا حرکتوں سے ؟” وہ نفرت سے بولی تھی
“بڑی خوش لگ رہی ہو” وہ سلگ کر بولا
“اللہ نے میرے نصیب میں جو خوشیاں لکھی ہیں نا ہریرہ… انہیں تم چھیننے کا بالکل اختیار نہیں رکھتے” اس نے کہا
“میں نے تم سے محبت کی تھی ایرسا… ” وہ اپنی رٹ پر قائم تھا
“لیکن میں نے نہیں کی… کبھی بھی نہیں, میں نے جب بھی کی, اپنے شوہر سے کی” ایرسا نے کہا
“ایرسا… ” وہ اس کے قریب ہوا تھا
“آخر کیا فرق ہے میری اور تمہارے شوہر کی محبت میں ؟” وہ بولا, اس کے ہر ہر لفظ سے حسد ٹپک رہا تھا
“میرے شوہر کی محبت میرا حق ہے ہریرہ اعظم… اور تمہاری محبت صرف ایک وقتی ابال ہے ” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہوئی اوپر چلی گئی تھی
…………………
مغیرہ نے چشتی پر جوابی وار کر ہی دیا تھا, اس نے دو ہفتوں کے اندر اندر چشتی کے تین بڑے ٹینڈرز اپنی طرف کھینچ لئے اور طاہر کو دے دیئے, طاہر کو کروڑوں کا فائدہ ہوا, چند دن بعد اس نے طاہر کی پارٹنر شپ کی مدد سے اسے مزید نقصان پہنچایا, آۓ روز وہ اس کی کمپنی کی کسی نہ کسی موٹی آسامی کو کھینچ لاتا… چشتی کو وہ کل کا بچہ اپنے لئے عذاب نظر آ رہا تھا, ایک بزنس پارٹی میں وہ اسے سب کے سامنے دوبارہ دھمکی بھی دے چکا تھا لیکن مغیرہ اعظم… وہ اپنی سرشت سے مجبور تھا
اس دن بھی وہ اپنے آفس میں تھا جب وحیب اس سے ملنے آیا, طاہر اس کے ساتھ تھا
“خیریت تو ہے… تم دونوں ایک ساتھ ؟” وہ حیران ہو گیا
“مغیرہ… بزنس پارٹنر سمجھ کر نہ سہی, دوست سمجھ کر بات مان لے, چشتی سے مزید پنگا نہ لینا” طاہر نے کہا
“کیوں ؟ ڈر گیا ؟” مغیرہ نے اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
“ہاں… میں تیرے لئے ڈر گیا ہوں دوست, میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے مغیرہ, لیکن تیرے پاس ایک ماں ہے, ایک بیوی ہے, ایک بھائی ہے… اب بس کرتے ہیں میرے دوست” طاہر نے کہا
“طاہر اس کی جرأت کیسے ہوئی سب کے سامنے مجھے دھمکی دینے کی…” مغیرہ آگے کو ہوا تھا
“طاہر ٹھیک کہہ رہا ہے مغیرہ… اب بس کر, تو اس کے ساتھ بہت کچھ کر چکا” وحیب نے کہا
“تم دونوں کو ماں نے بھیجا ہے؟” اسے شک ہوا
“ان کے پاس تو ابھی جانا ہے مغیرہ… اگر تو نہ مانا تو ؟” وحیب نے کہا
“ان کے پاس نہ جانا… بس ایک آخری وار… اس کے بعد بس” مغیرہ نے کہا
“مغیرہ… ” طاہر بے بس ہو گیا
“بس ایک بار اور… ” آس نے کہا
“اس کی جرأت کیسے ہوئی میری عزت کو داغ لگانے کی” مغیرہ نے سرگوشی کے سے انداز میں کہا تھا, وہ دونوں اسے دیکھ کر رہ گئے
…………………………
وہ اس دن یونیورسٹی سے گھر آئی تو طبعیت کچھ مضمحل سی تھی, وہ آتے ہی کمرے میں گھس گئی, شام تک سر بھاری بھاری لگتا رہا اور جیسے ہی رات کے کھانے کا وقت ہوا, وہ چکرا کر سیڑھیاں اترتے ہوئے گر گئی
“رعنا… ” راحت ایک دم اس کی طرف بھاگیں, اس کے پیچھے نیچے اترتا مغیرہ اسے بازؤں میں اٹھا کر نیچے لے آیا
“ڈاکٹر کو کال کر ” راحت نے اسے صوفے پر لٹا دیا تھا ان کا فیملی ڈاکٹر دس منٹ تک پہنچ گیا, اس نے راحت اور مغیرہ کے پریشان چہرے دیکھ کر خوشی کی خبر سنائی تھی
وہ امید سے تھی
اس دن کے بعد سے تو جیسے وہ مغیرہ کے ہاتھوں کا چھالہ ہو گئی, اس کے فائنل امتحان شروع ہو گئے تھے, وہ اسے کسی بچے کی طرح کلاس روم تک چھوڑ کر جاتا اور واپس میں وہیں سے پک کر لیتا
وہ اس کا بہت خیال رکھنے لگا تھا
اس دن بھی رات کے کھانے پر وہ سب اکٹھے ہوئے تھے, ہریرہ بھی وہیں موجود تھا
“کتنے پیپرز رہ گئے ہیں ہیرو ؟” مغیرہ نے اس کے ستے ہوۓ چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا, اسے راحت نے ایرسا کی پریگنینسی کے بارے میں بتا دیا تھا, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا
“ماں اسے کیا ہوا ہے ؟” مغیرہ نے پوچھا
“پتہ نہیں… پیپرز اچھے نہیں ہو رہے ہوں گے” وہ مسکرا کر بولیں
“یہ کافی دنوں سے ایسا ہی ہے, چپ چپ سا, کوئی مسئلہ ہے تو بتا دے, حل کر لیتے ہیں” مغیرہ نے کہا
“اس کا ایک ہی مسئلہ تھا مغیرہ جو تو نے حل نہیں کیا” راحت نے کہا
“کیا ماں …؟” وہ بولا
“اس کی شادی نہیں کروائی” راحت نے اس کی دکھتی رگ پکڑ لی, اس نے فوراً ایرسا کی طرف دیکھا تھا
“او ہو… یاد آیا, اسے تو محبت ہو گئی تھی, اس کی شادی کہیں اور تو نہیں ہو گئی ہریرہ ؟” مغیرہ اس کی حالت سے بے نیاز کہتا چلا گیا
“بس کریں… ” اس نے زور سے میز پر ہاتھ مارا تھا, مغیرہ اور راحت حیرانی سے اسے دیکھنے لگے, وہ ایک نظر ان سب کو دیکھ کر اوپر چلا گیا
“ہو کیا ہے اسے ؟” مغیرہ حیران تھا
“خدا جانے… اب کوئی اور عشق کر لیا ہو گا” راحت بیگم مطمئن تھیں, ایرسا بس چپ چاپ اپنے کھانے میں لگی رہی
………………..
اور اس نے کسی کی نہیں سنی… کسی کی بھی نہیں
نہ وحیب کی, نہ طاہر کی, اور نہ راحت کی
اس نے اپنا پورا زور لگا کر چشتی پر ایک آخر وار کیا تھا, پوری خان انٹر پرائزرز داؤ پر لگا کر اسے کئی ارب روپے کا نقصان پہنچایا, تین دن کے اندر اندر چشتی برادرز کے شیئرز نیچے آ گرے, اس کی ساکھ کو بہت بری طرح دھچکا لگا تھا
“یہ تم اچھا نہیں کر رہے… ” اس کا غصے میں بھرا فون مغیرہ کو وصول ہوا تھا
“تم نے بھی اچھا نہیں کیا… میری بیوی پہ ہاتھ کیوں ڈالا ؟” وہ انتہائی سرد لحجے میں بولا
“یاد رکھنا مغیرہ اعظم… اب میری باری ہے” وہ کال کاٹ گیا تھا
…………….
اس دن بھی وہ اور مغیرہ کہیں باہر ڈنر کرنے نکلے تھے, اس نے سیاہ رنگ کی آدھے بازؤں والی ٹخنوں تک آتی فراک پہن رکھی تھی, لمبے سیاہ بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے, دوپٹہ ایک کندھے سے لٹک رہا تھا, چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ کئے وہ سیدھی اس کے دل میں اتری جا رہی تھی, وہ ڈنر کر کہ واپس آۓ تو رات کا ایک بج رہا تھا, وہ گاڑی لاک کر کہ اس کے پیچھے ہی اندر چلا آیا
“کہاں جا رہی ہو ؟” وہ اسے کچن کی طرف جاتا دیکھ کر بولا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“پانی پینے… ” وہ ایک دم رکی تھی
“آؤ میں پلا دوں ” مغیرہ نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا, وہ گھوم کر اس کے سینے سے آ لگی, مغیرہ نے اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد ڈال کر اسے مزید قریب کیا تھا
“مغیرہ… کوئی آ جاۓ گا” وہ دھیرے سے بولی تھی, مغیرہ بڑے حق سے اپنا دوسرا بازو بھی اس کے گرد باندھ کر اس پر جھکا تھا
“سب اپنے اپنے کمروں میں ہیں ” وہ دیوانوں کی طرح اس کی بند آنکھوں کو چوم رہا رہا تھا
“تو آپ بھی اپنے کمرے چلیں نا… مغیرہ اعظم” وہ اس کی اسقدر محبت پا کر بڑے ناز سے بولی تھی
“چلو… ” مغیرہ نے اسے ایک دم اپنے دونوں بازؤں میں اٹھا لیا
“مغیرہ… ” اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئ تھی
اپنے کمرے سے باہر نکلتے ہریرہ نے آخری سیڑھی پر کھڑے ہو کر یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا, مغیرہ جیسے ہی اسے لیکر اوپر کی طرف بڑھا, وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا, وہ پاگلوں کی طرح اس کے گال اور ہونٹ گیلے کرتے ہوئے اسے لیکر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
اور ہریرہ…!
اس نے کھینچ کر شیشے کا گلاس دیوار پر دے مارا
“تم میری تھیں ایرسا جلیل… تم سے پہلے میں نے محبت کی تھی ” اسے شدت سے احساس کمتری ہو رہا تھا
“تمہیں مجھ سے چھین لیا گیا… ” اس کے دونوں ہونٹ غصے کی شدت سے لرز رہے تھے
“جو میرا ہے… وہ میرا ہی ہے, وہ کسی اور کے پاس کیوں ہو ؟” حسد اسے نگلتا جا رہا تھا
“مجھ سے غلطی ہو گئی… مجھے اس رات تم پر صرف ایک داغ نہیں لگانا چاہیے تھا ایرسا… مجھے تمہارا سارا وجود داغدار کر دینا چاہیے تھا, مجھے تمہیں اسی رات اپنا بنا لینا چاہیے تھا ” جلن پوری طرح اس پر حاوی ہو گئی تھی
“بس غلطی ہو گئی…اور اس غلطی کو میں بہت جلد سدھار لوں گا, تم میری تھیں… اور میری ہی رہو گی” وہ فیصلہ کر چکا تھا
ایک اور قیامت لانے کا…!
جاری ہے
آخری قسط کل صبح دس بجے انشاءاللہ
