100.7K
7

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

اس کی فلائیٹ ٹیک آف کر چکی تھی, سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے اس نے اپنی نشست کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
“معاف کر سکو گی مجھے ؟” اس کے ذہن کے پردے پر اس کی اپنی ہی آواز لہرائی تھی
“معاف کیا جا سکتا ہے تمہیں ؟” اس نے جواباً پوچھا تھا اور وہ بول نہیں سکا تھا
“بس ایک بار اپنے دل سے پوچھ لینا ہریرہ… کہ معاف کیا جا سکتا ہے تمہیں ؟ اگر وہ کہہ دے ہاں… ہریرہ اعظم کو اس کے تمام تر گناہوں کے باوجود معاف کیا جا سکتا ہے تو خدا کی قسم میں بھی کر دوں گی” ایرسا کی نفرت انگیز آواز اس کی آنکھیں نم کر گئی تھی
…………
وہ کل رات ہی ٹرپ سے واپس لوٹا تھا اور اگلے دن دوپہر تک بستر میں پڑا نیند پوری کرتا رہا, بارہ بجے کے قریب اٹھا اور نیند بھری آنکھوں سے جھولتا ہوا نیچے آ گیا, راحت بیگم لاؤنج میں بیٹھی تھیں, وہ دھم سے ان کی گود میں آ گرا
“یاد آ گیا تجھے کہ تیری ایک ماں بھی ہے ” انہوں نے اسے ایک دھپ لگایا تھا
“ماں میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ” اس نے کہا
“اچھا… ضروری بات ” وہ مذاق ہی سمجھ رہی تھیں
“ماں مجھے شادی کرنی ہے” اس نے ایک دم دھماکہ کر دیا
“شادی ؟ کس سے ؟” وہ حیران تھیں
“ایک لڑکی سے… ” وہ بولا
“ظاہر ہے وہ تو لڑکی سے ہی کرے گا لیکن… کون ہے وہ لڑکی ؟ ٹرپ پر پھنسا کر آیا ہے نا کسی کو ؟” ؟وہ اس پر چڑھ دوڑیں
“نہیں ماں.. یہیں پر ہے” وہ دھیرے سے بولا تھا
“مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے ” وہ انہیں حیران کرتا جا رہا تھا
“آپ پلیز میرا رشتہ لیکر اس کے گھر جائیں” وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا
“ہریرہ… تیرا دماغ تو ٹھیک ہے نا… پہلے ڈھنگ سے پڑھائی تو کر لے, پھر شادی بھی کرتے رہنا” انہوں نے کہا
“چاہےاتنی دیر میں وہ کسی اور کی ہو جاۓ” وہ تڑخا
“تجھے ایک دم آفت کیا آ گئی ہے ؟” راحت کو غصہ آ گیا
“ماں مجھے وہ بہت اچھی لگنے لگی ہے, اگر اس کی شادی کہیں اور ہو گئی تو… ؟” وہ روہانسا ہو گیا
“ہریرہ میری بات سن بیٹے, جب جوانی کی نئی نئی شروعات ہوتی ہے نا تو اکثر اس قسم کی وقتی محبتیں ہو جایا کرتی ہیں, انہیں ایک دم سیریس نہیں لے لیا کرتے, پورا سال پڑا ہے ابھی تیرے ایم بی اے کا, کل کو کسی اور سے ہو جاۓ گی, پرسوں کسی اور سے… پھر کیا کرے گا تو ؟ ہر کسی سے شادی کرتا پھرے گا, پہلے دھیان سے اپنا ایم بی اے مکمل کر پھر کر لینا شادی” وہ اسے سمجھا رہی تھیں, اب پتہ نہیں وہ سمجھا تھا کہ نہیں, بس چپ چاپ دوبارہ ان کی گود میں لیٹ گیا تھا
“مغیرہ کا نکاح ہو گیا ہے” انہوں نے اسے بتا ہی دیا
“کیا ؟” وہ چونک گیا, راحت نے اسے الف سے لیکر ے تک ساری روداد سنا دی
“اب تو کسی دن میرے ساتھ ان کے گھر چلنا, جب سے مغیرہ کا رشتہ طے ہوا ہے تو ایک بار بھی ان لوگوں سے نہیں ملا” راحت نےکہا
“آپ لے کر ہی نہیں جاتیں مجھے” اس نے گلہ کرتے ہوئے کہا تھا
………………………
آج اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی, پھر بھی وہ یونیورسٹی چلی آئی اور وہاں آ کر اسے احساس ہوا کہ شائد اسے نہیں آنا چاہیے تھا, کچھ ہی دیر میں اس کا چہرہ بخار کی شدت سے تمتماتے لگا تھا, سر الگ سے گھومے جا رہا تھا, بمشکل اس نے ڈاکٹر اشرف کی کلاس مکمل کی اور کینٹین کی طرف آ گئی, سلمان کو کال کی لیکن جواب ندارد… ظاہر ہے وہ اس وقت کالج میں تھا, بمشکل جوس کا ایک گلاس پی کر وہ دوبارہ کلاس کی طرف آ گئی
کل صارم کی ڈانس پارٹی میں کون کون جا رہا ہے ؟” ہریرہ ڈائس پر کھڑا ہو کر پوچھ رہا تھا, سب نے ہاتھ کھڑے کر دئیے
“تم نہیں جاؤ گی ؟” وہ ایرسا کی طرف آیا تھا
“نہیں ” وہ بولی
“تم کبھی میری کسی بات پر ہاں بھی کرو گی ؟” جواباً اس نے پھر پوچھا
“نہیں… ” وہ مختصر سا جواب دے کر اپنی نشست کی طرف بڑھی تھی
“او کم آن ایرسا… ” ہریرہ نے جوش میں آ کر ایک دم اس کا ہاتھ پکڑا اور ایرسا کی بس ہو گئ, وہی ہاتھ اس نے گھما کر ہریرہ کے گال پر دے مارا تھا
“اپنی ان بیہودگیوں کو لگام دے لو تو اچھا ہو گا…سمجھے ” اس کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں
“تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟” آس کا سرخ تمتمایا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ اپنے گال پر لگا تھپڑ بھول گیا تھا
“تمہاری بلا سے میں مر جاؤں, تمہیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ” اس کی آواز بھی لرز رہی تھی
“ایرسا آئی ایم سوری, مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمہاری طبیعت… ” آس سے پہلےکہ وہ اپنی بات مکمل کرتا, ایرسا ایک دم چکر کھا کر اپنے پیچھے پڑی کرسی پر گر گئی, ہریرہ کا سانس رک گیا تھا
“ایرسا… ” وہ ایک دم اس کی طرف آیا تھا, وہ کوشش کے باوجود خود سے اٹھ بھی نہ سکی
“آؤ تمہیں گھر چھوڑ آؤں ” آس نے ایرسا کے متوقع غضب سے بے نیاز اسے دونوں بازؤں میں اٹھا لیا
“صارم گاڑی نکال… ” وہ اسے لیکر باہر کو بھاگا تھا
آس لمحے اسے لگا کہ اس کے دل میں صرف محبت ہے… صرف محبت, نہ کوئی ضد, نہ لگاوٹ, نہ حسد… بس صرف محبت
آس خوبصورت سی لڑکی کے لئے جو اس وقت خود سے بیگانہ اس کے بازؤں میں تھی, تپتی ہوئی, تمتماتی ہوئی…اس لمحے شدت سے اس کے دل نے خواہش کی کہ کاش… کاش وہ اس کی ہو جاۓ, کاش وہ اسے مل جاۓ, پوری عمر کے لئے
آس لمحے اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا, نہ اپنی بےعزتی, نہ تھپڑ… بس یاد تھا تو اتنا کہ وہ بے ہوش ہو گئی تھی
وہ پہلے اسے ہسپتال لیکر گیا, چیک اپ کروایا, ڈرپس لگوائیں, میڈیسن کھلائی اور پھر پوری شرافت سے اسے اس کے گھر کے سامنے اتار گیا تھا
……………………
اس دن رات کے کھانے پر وہ تینوں جمع تھے, خلاف توقع ہریرہ بڑا چپ چپ سا تھا, رعنا کے گھر والے شادی کی تاریخ مانگ رہے تھے, راحت بیگم کافی دیر مغیرہ سے اس بارے میں بات کرتی رہیں, ہریرہ بس چپ چاپ خاموشی سے سنتا رہا
“جو تاریخ آپ کو مناسب لگے ماں وہ دے دیں, مجھے کوئی اعتراض نہیں ” مغیرہ نے بات ختم کی تھی
“ایک بات اور… طاہر کا ٹینڈر کتنا فائدہ دے گا تجھے؟” انہوں نے پوچھا
“مجھے ہر ٹینڈر کچھ نہ کچھ فائدہ دیتا ہے ماں ” اس نے کہا
“بزنس کر مغیرہ… دشمنی نہ لگا” انہوں نے سمجھانا چاہا تھا
“آپ سے کسی نے کچھ کہا ہے ؟” اس نے پوچھا
“نہیں کہا تو کہہ دے گا, جلد ی بدیر کوئی نہ کوئی تو آۓ گا ہی میرے پاس” راحت نے کہا
“ماں… میں جس کا مرضی ٹینڈر پکڑوں, چشتی آخر ہوتا کون ہے ڈون بننے والا” اسے غصہ آ گیا
“پرائی دشمنی میں ہاتھ نہیں ڈالا کرتے مغیرہ… مجھے بس یہ ہی کہنا ہے تجھے” وہ جانتی تھیں کہ ان کے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا اسلئے چپ کر گئیں
“اسے کیا ہوا ہے ؟” مغیرہ نے کچھ دیر بعد پوچھا تھا
“کہہ رہا محبت ہو گئی ہے ” راحت دھیرے سے مسکرائیں
“کتنی نمبر والی ؟” مغیرہ کھل کے ہنسا تھا, ہریرہ نے ایک پرشکوہ نظر اس پر ڈالی
“آپ کا اپنا نکاح ہو گیا ہے نا اسلئے میری بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے اب” وہ بولا
“میرا نکاح چھبیس سال کی عمر میں ہو اہے, تجھ سے وعدہ ہے تیرا بھی چھبیس کا ہوتے ہی کر دوں گا” مغیرہ مسلسل ہنس رہا تھا
“دیکھ لیں… کتنے تیز ہوتے جا رہے ہیں” ہریرہ ستاپڑا تھا
………………………..
“”ایم سوری ” وہ ایک بار پھر اس کے روبرو تھا, ایرسا دو دن بعد یونیورسٹی آئی تھی, وہ اس کی سفید رنگت میں گھلی زردیوں پر فدا ہو گیا تھا
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس دن تمہاری طبیعت… ” ایرسا نے اس کی بات کاٹ دی
“ہریرہ… تم آخر چاہتے کیا ہو مجھے سے ؟” اس نے پوچھا
“بس اتنا کہ تم مجھ سے بہت ساری نہ سہی, تھوڑی سی محبت کر لو” آس نے منت کی تھی
“میں تم سے تھوڑی سی محبت بھی نہیں کر سکتی… اب بولو” ایرسا نے کہا
“کیوں ؟” اس کا چہرہ یکدم تاریک ہوا تھا
“کیونکہ میرا نکاح ہو چکا ہے” اس نے ایک دم ہریرہ کے دل کو چھلنی کیا تھا, وہ بول بھی نہ سکا
“میری منزل طے ہو چکی ہے ہریرہ اور وہ تم نہیں ہو, اسلئے یوں خوار ہونا چھوڑ دو” اس نے کہا
“ایرسا… میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تم سے محبت کروں گا… میں تم سے محبت کرنے بھی لگا ہوں ” وہ روہانسا ہو گیا
“ہریرہ… ضد مت کرو, میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم سے محبت نہیں کر پاؤں گی ” ایرسا نے کہا
“یہ زیادتی ہے یار… ایسے مت کرو, میں کیا کروں گا ؟” وہ بے بس تھا
“کچھ بھی نہیں ہو گا, تم دو دن تھوڑا سا ماتم مناؤ گے اور پھر ایک نئی محبت کی تلاش میں نکل پڑو گے” ایرسا نے کہا
“جتنی وقتی محبتیں کرنا تھیں میں کر چکا ایرسا جلیل… بس اب اور نہیں کرنی, بس اب ایک ہی کرنی ہے اور مستقل کرنی ہے, بس اب تم سے ہی کرنی ہے اور ہمیشہ کرنی ہے” اس کے لحجے میں ہلکی سی ضد گھل گئی تھی
“ضد لگا رہے ہو نا ؟” اس نے پوچھا
“ضد ہی سہی ” وہ سرد سے لحجے میں بولا تھا
…………………..
آج وہ اپنا موبائل گھر ہی بھول آئی تھی, سلمان اپنے وقت پر اسے لینے آیا لیکن کلاس لیٹ ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہ نکل سکی, وہ بیچارہ انتظار کر کر کہ واپس چلا گیا کہ رعنا کال کر لے گی, وہ جب کلاسز لیکر باہر نکلی تو سلمان ندارد… کھڑے ہو ہو کر تھک گئی, لوکل جانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا سو ہمت نہ کر سکی, موسم خراب ہونا شروع ہو گیا تھا, دھیرے دھیرے پورا آسمان کالے سیاہ بادلوں سے بھر گیا, اب اسے پریشانی ہونا شروع ہوئی
“اگر سلمان نہ آیا تو ؟” کافی دیر سوچ سوچ کر بالآخر وہ یونیورسٹی سے باہر نکل آئی, کچھ دیر دیوار کے ساتھ ساتھ پیدل چلتی رہی اور پھر ایک رکشے کو ہاتھ دے دیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ رکتا, اس کی نظر ذرا دور سے نظر آتے خان انٹرپرائزرز کے سائن بورڈ پر پڑی تھی, وہ روزانہ سلمان کے ساتھ گھر واپس جاتے ہوئے اس سائن بورڈ کو دیکھ کر گزرتی تھی, اب بھی اچانک ہی اس کا ذہن بدل گیا, رکشے والے کو منع کر کہ وہ پیدل ہی چلتی ہوئی خان انٹرپرائزرز چلی آئی, بارش گرنا شروع ہو گئی تھی, اندر داخل ہوتے ہی وہ ایک دم نروس ہو گئ
اب جاۓ تو کہاں جاۓ ؟
یونہی ادھر ادھر چلتے ہوئے اسے مغیرہ کا آفس نظر آ گیا, باہر اس کے نام کا بورڈ لگا ہوا تھا
“ایکسکیوزمی میم… مسٹر مغیرہ اعظم سے ملنا ہے مجھے ؟” اس نے ریسیپشن پہ بیٹھی زارا سے کہا
“آپ کون ؟” آس نے پوچھا
“ایرسا جلیل… ” اس نے اپنا نام بتا دیا
“سر مس ایرسا جلیل آپ سے ملنے آئی ہیں… ” زارا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ اس نے ریسیور رکھ دیا, زارا نے تھوڑا حیران ہو کر پہلے ریسیور کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑی ایرسا کو… اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی, مغیرہ اپنے آفس سے باہر آیا تھا
“رعنا… تم یہاں ؟” واضح لگ رہا تھا کہ وہ بھاگتا ہوا باہر نکلا تھا
“ڈسٹرب کرنے کے لئے سوری لیکن وہ… میں آج سیل گھر ہی بھول آئی اور سلمان بھی نہیں آیا… لوکل کبھی گئی نہیں ہوں تو سوچا یہاں آ جاؤں… ” انتہائی نروس ہوتے ہوئے وہ زور زور سے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی, ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آۓ تھے, آواز لرز رہی تھی, گال سرخ ہو رہے تھے, دائیں کندھے پر بیگ اور بائیں ہاتھ میں فائل جسے سینے سے لگایا ہوا تھا, فیروزی رنگ کا سوٹ اور فیروزی دوپٹے کے ہالےمیں میں دمکتا ہوا چہرہ…
وہ سن کم رہا تھا اور دیکھ زیادہ رہا تھا… بس دیکھے ہی جا رہا تھا
“اندر آؤ” وہ اسے ساتھ لیکر اندر آ گیا
“بیٹھو… ” وہ اس کے آگے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے بولا تھا جسے اس نے ایک ہی سانس میں خالی کر دیا
“پلیز مجھے گھر چھوڑ آئیں” اس نے بمشکل بولنے کی ہمت کی تھی
“چلو… ” وہ فوراً کھڑا ہو گیا, اسے اپنے ساتھ لیا اور باہر نکل آیا, بارش زوروں پر تھی, اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ تقریباً بھیگ گیا تھا, گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے وہ اس کے گھر جانے والے راستے پر ہو لیا, وہ شیشے والی سائیڈ پر انتہائی الرٹ ہو کر بیٹھی تھی, مغیرہ نے ایک نظر اسے دیکھا, انگلیوں کو مسلسل مروڑ تروڑ رہی تھی
“یہ اگر ٹوٹ گئیں تو بازار سے نئی نہیں ملیں گی” اس نے دھیرے سے کہا تھا, اس نے یک دم انگلیوں کو بخشا اور دائیں ٹانگ ہلانے لگ گئی
“اور میرا خیال ہے گاڑی پہلے ہی بہت دھمک رہی ہے… اسے مزید نہ دھمکاؤ” وہ پوری طرح اس کی نروس ہوتی صورتحال سے محظوظ ہو رہا تھا, ایک نظر مغیرہ کے مسکراتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھ کر اس نے نظریں جھکا لیں, ایک لمبی سانس بھری اور پھر شیشے کی طرف منہ کر کہ دھیرے مسکرا دی
“کھل کر ہنس لو” مغیرہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا, وہ بس جھینپ کر رہ گئی
“ایم بی اے کتنا رہ گیا ہے تمہارا ؟” اس نے پوچھا
“تیسرا سمیسٹر شروع ہوا ہے ابھی ” رعنا نے کہا
“ایم بی اے کے بعد تو مزید پڑھنے کا ارادہ نہیں ہے ؟” اس نے پھر پوچھا تھا
“فی الحال تو نہیں” آس نے کہا
“تو پھر سلمان کی مستقل چھٹی کروا دوں تمہاری ڈیوٹی سے ؟” وہ بولا
“کیا مطلب ؟” وہ سمجھ نہ سکی
“مطلب سلمان والی ڈیوٹی میں اپنے سر لے لیتا ہوں “اسآس نے شرارت سے کہا تھا
“ایم بی اے پورا کر لینے دیں تو بڑی مہربانی ہو گی آپ کی, شادی کے بعد کہاں پڑھنے کو دل کرتا ہے ” وہ اس کا مطلب سمجھ گئی تھی
“پھر کس چیز کو دل کرتا ہے شادی کے بعد ؟” مغیرہ کے کہتے ہی اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا, اس نے زور سے قہقہہ لگایا تھا
“آئیندہ کبھی بھی تمہیں کوئی پریشانی ہو تو بلا جھجھک میرے آفس چلی آنا, زارا سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ” آس کا گھر آ گیا تھا
“آپ اندر نہیں آئیں گے ؟” آس نے پوچھا
“نہیں… روز روز اچھا نہیں لگتا” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
واپسی پر اس کا دل خوشی سے جھومےجا رہا تھا, اس سے زیادہ خوشنما سفر تو اس نے کبھی کیا ہی نہیں تھا, رعنا کی خوشبو اسے پوری گاڑی میں محسوس ہو رہی تھی
اسی رات اس نے راحت سے کہہ دیا کہ رعنا کے والد سے شادی کی تاریخ طے کر لیں… اب کہاں صبر ہونا تھا اس سے, اب بھلا کیسے اکیلا رہ پاتا وہ ؟
چند دن بعد ان دونوں کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی
………………………
“ایرسا… ” اس نے پیچھے سے اسے آواز دی تھی, وہ ایک دم رک گئی
“تم نے اپنے گھر والوں کو انکار کر دیا ؟” اس نے پوچھا
“کس چیز سے ؟” وہ حیرانی سے بولی تھی
“شادی سے… تم انہیں انکار کرو گی تو میں اپنی ماں کو تمہارے گھر بھیجوں گا نا ؟’ ہریرہ نے کہا
“ہریرہ… مجھے تم سے شادی نہیں کرنی” وہ بولی
“کیوں ؟” اس نے پوچھا
“کیونکہ میری مرضی” ایرسا کو غصہ آ گیا
“دیکھو میں آخری بار کہہ رہا ہوں کہ میں محبت کرنے لگا ہوں تم سے…اور تم سے ہی شادی کروں گا ” ہریرہ نے کہا
“کیا بکواس رٹ ہے یہ ؟ بھاڑ میں گئے تم اور بھاڑ میں گئی تمہاری سو کالڈ محبت” اسے اچھا خاصا غصہ آ گیا
“بس ایک بار اور کہہ دو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرو گی ؟” ہریرہ تھوڑا آگے کو آیا تھا
“نہیں کروں گی” ایرسا نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا تھا
“کیا کر لو گی اگر میں اپنی آئی پر آ گیا تو ؟” وہ بڑی اکڑ سے بولا تھا
“کیا کر لو گے اگر تم اپنی آئی پر آ گئے تو ؟” وہ اس سے بالکل نہیں ڈری تھی
“میں کیا کر سکتا ہوں تم جانتی نہیں ہو ابھی ؟” ہریرہ کا غرور آسمانوں پر تھا
“تم جو کر سکتے ہو نا ہریرہ اعظم… وہ کر کہ دکھاؤ” وہ اسے کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
………………..
ان دونوں کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی, رعنا کے تیسرے سمیسٹر کے فوراً بعد اس کی رخصتی تھی, مغیرہ بہت خوش تھا, اس سے تو ایک لمحہ بھی صبر نہیں ہوتا تھا اب… روز راحت کی منتیں, روز رعنا کی منتیں… اور اس کی منتیں رنگ لے ہی آئی تھیں, شادی سے دو دن پہلے وہ اور ہریرہ کا کر اس کا سوٹ بھی پسند کر آۓ, اسے جو رنگ پسند آیا وہ فی الحال مہیا نہیں تھا, دوکاندار نے کہا کہ وہ کل شام تک منگوا دے گا, رخصتی کی شام کو جب ہریرہ اس کا سوٹ لینے چلا گیا, رات دس بجے کا فنکشن تھا, وہ اور وحیب آٹھ بجے اس کا سوٹ لیکر لوٹے
“بھائی آپ کے سوٹ نے ہمیں خوار کر دیا, اس دھوکے باز نے تو منگوا کر ہی نہیں دیا, پورا لاہور خوار ہو کر ڈھونڈ کر لاۓ ہیں ” ہریرہ کی بس ہو گئی تھی
“اب جلدی کر ” وحیب نے اسے اوپر کی طرف دھکیلا تھا
“کہاں سے ملا یہ ؟” راحت نے پوچھا
“ماں چپ کریں, سیکنڈ ہینڈ ہے, نیا تو ملا ہی نہیں اس جیسا” ہریرہ نے دھیرے سے کہا تھا اور اوپر جاتے مغیرہ کے کانوں میں لفظ سیکنڈ ہینڈ پڑ گیا تھا
“کہاں سے لاۓ ہو ؟” وہ واپس اتر آیا
“بھائی بالکل نیا ہے… بالکل نیا” ہریرہ ایک دم بوکھلا گیا
“میں نے نہیں پہننا” اس نے سوٹ صوفے پر اچھال دیا
بس پھر اس کے بعد ہریرہ, وحیب, راحت… ہر کسی کی منتیں اکارت ہی گئیں, نہ اس نے پہننا تھا اور نہ ہی پہنا… سفید رنگ کا پرانا کرتا شلوار پہن کر کھڑا ہو گیا
“مغیرہ… کہا کہیں گے وہ لوگ کہ اتنی بڑی کمپنی کا مالک شادی والے دن یہ کفن پہن کر آ گیا ؟” راحت بیگم تپ گئیں
“لیکر جانا ہے تو لے جائیں… وہ سوٹ نہیں پہننا” وہ آخر کو مغیرہ اعظم تھا, راحت بول بول کر خود ہی چپ کر گئیں, تقریباً رات ساڑھے نو بجے وہ ہال کے لئے نکلے تھے
اچانک ہریرہ کا سیل بج اٹھا, صارم کی کال تھی
“ہاں صارم… ” اس نے سیل کان سے لگایا تھا
“ہریرہ… وہ پارلر سے نکلنے لگی ہے” صارم نے کہا
“تجھے پتہ ہے نا کیا کرنا ہے ” وہ دھیرے سے بولا تھا
“ایک بار پھر سوچ لے ہریرہ, وہ ایک لڑکی ہے, خوار ہو جاۓ گی اور سب سے بڑھ کر وہ ہماری دوست ہے” صارم جھجھک رہا تھا
“تو فکر نہ کر… میں اپنا لوں گا اسے” ہریرہ مطمئین تھا
“کہاں لیکر جاؤں ؟” صارم نے کہا
“کاشف کے فلیٹ پر… میں بس دس منٹ میں آیا” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی
“ماں آپ لوگ چلیں میں بس دس منٹ تک آیا” ہریرہ نے گاڑی میں بیٹھتی راحت سے کہا تھا
“ہریرہ… اب یہ کیا ڈرامہ ہے ؟” وہ بھڑک پڑیں
“ایک کام ہے چھوٹا سا… میں بس آیا ” وہ ان کی سنی ان سنی کرتا ہوا اپنی گاڑی نکال لے گیا تھا
جاری ہے