100.7K
7

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وہ گھر واپس پہنچا تو ایرسا سمیت وہ تینوں نفوس لاؤنج میں بیٹھے تھے… خاموشی اتنی گہری تھی جیسے کوئی مر گیا ہو, وہ دروازے میں ہی گڑ گیا
“ہریرہ… وہاں کیوں کھڑا ہے, آگے آ” بس اسی لمحے سے وہ ڈر رہا تھا
بس یہ ہی تو نہیں ہونا چاہیے تھا
بس یہ ہی تو وہ نہیں چاہتا تھا
بس… یہ جو ہوا… کاش یہ نہ ہوتا
“آ جا… ” وہ اسے بلا رہی تھیں, مغیرہ چپ چاپ سر جھکاۓ صوفے پر بیٹھا تھا
“ہریرہ… ” انہوں نے پھر بلایا, ایرسا نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا… پھر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی تھی, ہریرہ اس سے نظریں بھی نہ ملا سکا
یہ تھوڑی نا سوچا تھا اس نے…
“پہلی بار ملا ہے بھابھی سے… سلام تو کر” راحت نے کہا اور مغیرہ کی بس ہو گئ, ایک نظر ہریرہ کو دیکھتے ہوئے وہ اوپر چلا گیا تھا
“یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے ہریرہ, تمہارا کمرہ اوپر ہے رعنا… ملازمہ تمہیں دکھا آۓ گی, میں جتنا بہتر کر سکتی تھی نا بچے میں نے کر دیا, اب آگے تیری قسمت… ” وہ کہتی جا رہی تھیں اور ایرسا بس سر جھکاۓ آنسو گراۓجا رہی تھی
…………………….
رات تقریباً دس بجے وہ ہمت کر کہ وہاں سے اٹھی تھی, راحت بیگم اپنے ک. رے میں چلی گئی تھیں
ماتم بھی آخر کب تک منایا جاتا ؟
مغیرہ کے کمرے کے سامنے وہ نہ جانے کتنی ہی دیر کھڑی رہی, پھر اندر چلی گئی, وہ تکیہ منہ پر رکھے کروٹ لئے لیٹا تھا, ایک ایک کر کہ اس نے سارے زیورات اتارے, پھر کپڑے تبدیل کئے اور ایک طرف پڑے صوفے پر بیٹھ گئی
اس کی آنے والی زندگی کیسی ہونی تھی… اسے صاف نظر آ رہا تھا
ایک دفعہ کو تو اس کا دل چاہا کہ چیخ چیخ کر راحت اور مغیرہ کے ہریرہ کی اصلیت بتاۓ لیکن… کیا فائدہ ؟
جس عورت نے اسے گنہگار ہونے کے باوجود اپنی بہو بنا لیا وہ اسی کے بیٹے پر کیچڑ کیسے اچھالے ؟
اپنے سامنے بستر پر پڑےاس اعلیٰ ظرف انسان کو کیسے کہے کہ تمہارا بھائی ہی لے گیا تھا مجھے ؟
شائد چپ ہی بھلی تھی, شائد یہ ہی س کی قسمت تھی, شائد اب اسے ایک ان چاہی زندگی ہی جینا تھی
اور ایسا ہی ہوا… مغیرہ کو اس سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا, وہ حسب معمول صبح اٹھ کر تیار ہوتا, راحت کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرتا اور آفس چلا جاتا… رات گئے واپس آتا, راحت کے ساتھ ہی ڈنر کرتا اور چپ چاپ ایک طرف کروٹ لیکر سو جاتا
ایرسا جیسے اس کی زندگی میں تھی ہی نہیں
اس دن بھی وہ ناشتہ کرنے نیچے اترا تو راحت کے ساتھ ایرسا بھی وہیں موجود تھی, وہ راحت کو سلام کرتا ہوا اپنی نشست پر بیٹھ گیا, کچھ ہی دیر بعد ہریرہ بھی یونیورسٹی جانے کے لئے نیچے آ گیا, اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایرسا ناشتے کی میز پر موجود ہو گی, ایک نظر اسے دیکھتا وہ اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
“مغیرہ… رعنا کے ایم بی اے کا لاسٹ سمیسٹر ہے, اسے اب یونیورسٹی جانا شروع کر دینا چاہیے ” راحت نے کہا
“تو چلی جاۓ… ” وہ بولا
“ہریرہ کے ساتھ ہی چلی جایا کرے گی” راحت نے ایرسا کے اوسان خطا کئے تھے, ہریرہ بھی ایک دم چونک گیا
“ماں پلیز… مجھ سے مستقل ڈیوٹی نہیں دی جاۓ گی” اس نے ایرسا کی طرف دیکھے بغیر اپنی جان چھڑوانی چاہی تھی
“مغیرہ تو چھوڑ دیا کرے گا اسے ؟” وہ اس کی طرف مڑیں
“ماں… اگر بالفرض یہ ایم بی اے نہ بھی کر سکی تو بھی سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا, یہ جس حال میں ہے اسی میں رہے گی, اسلئے پلیز آپ اس کے لئے یوں ہلکان نہ ہوں” وہ ایک دم بھڑک پڑا
“مغیرہ… یہ اس گھر کی فرد ہے اب, ہلکان کیسے نہ ہوں ؟” وہ بولیں
“ماں, یہ آپ کے لئے اس گھر کا فرد ہو گی, میرے لئے نہیں, آپ نے زبردستی کی ہے میرے ساتھ, میں جتنا کر سکتا تھا نا کر دیا…اب اس سے زیادہ کی امید مت رکھیں مجھ سے, نہیں ہے میرا ظرف اتنا بلند کہ میں سب کچھ بھول بھال کر اسے اپنی بیوی مان لوں” اسے غصہ آ گیا
“یہ تیری بیوی ہی ہے مغیرہ… ” راحت نے کہا, ہریرہ چپ چاپ ان دونوں کی بحث سن رہا تھا, ایرسا بھی بالکل خاموش بیٹھی تھی
“اور میں بس اسے اس گھر میں برداشت کر سکتا ہوں, اپنی زندگی میں نہیں, ماں آپ نے چھبیس سال پالا ہے مجھے, میری عادات سے آپ سے زیادہ اور کوئی واقف نہیں ہے, سیکنڈ ہینڈ چیز سے ہی نفرت ہے مجھے, آج تک سیکنڈ ہینڈ کا لفظ اپنی ڈکشنری میں نہیں رکھا… پھر آخر بیوی کیسے ؟ کیسے لے لوں کسی اور کی دھتکاری ہوئی لڑکی ؟ کیسے سمجھا لوں اپنے دل کو ؟ ” وہ برس ہی پڑا
“میں اگر چپ ہوں نا ماں…تو مجھے چپ ہی رہنے دیں, آپ کی نظروں میں بے قصور ہو گی یہ… میری نظروں میں نہیں ہے, میں اس کے ساتھ نہیں تھا جب یہ غائب ہوئی, میں نے نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ میں نہیں جانتا کہ یہ کیوں واپس آئی ؟ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ اس پہ کسی اور کی مہر لگ چکی ہے… اور مجھے نفرت ہے اس مہر سے” وہ گرج برس کی باہر نکل گیا تھا, راحت بیگم ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اپنا کپ اٹھا کر کمرے میں چلی گئیں, ایرسا نے ایک نظر ہریرہ کی طرف دیکھا
“اب خوش ہو تم ؟ ” اس نے پوچھا تھا, وہ نظریں بھی نہ اٹھا سکا
“ہریرہ میں وہ لڑکی تھی جو آج تک بلا ضرورت کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی… اگر نکلی بھی تو یا سلمان کے ساتھ یا اپنی ماں کے ساتھ, گھر سے یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے گھر… دو سال کبھی منہ ادھر ادھر بھی کر کہ نہیں دیکھا اور اب… سنا تم نے اس نے کیا کہا ہے ؟ میں غائب ہوئی تو وہ میرے ساتھ نہیں تھا, میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے نہیں دیکھا, میں واپس کیوں آئی اسے نہیں پتہ… ہریرہ اسے کیسے بتاؤں کہ میں کہاں غائب ہو گئی تھی ؟ کیسے بتاؤں کہ کیا ہوا میرے ساتھ ؟ کیسے بتاؤں کہ میں کیوں واپس آ گئی ؟” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
“میں چاہوں تو آج سچ بول دوں لیکن… کون سنے گا میری ؟ کون یقین کرے گا میرا ؟ ” وہ سچ کہہ رہی تھی
“میر باپ مجھے معاف کئے بنا اس دنیا سے چلا گیا… صرف تمہاری وجہ سے, میری ماں میری شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں ہے… صرف تمہاری وجہ سے, میرے بہن بھائی مجھ سے شدید نفرت کرتے ہیں, صرف تمہاری وجہ سے, اور میرا شوہر… تم نے سنا نا کہ وہ کیا کہہ کر گیا… کہ اسے مجھ سے کوئی سروکار نہیں ہے, وہ مجھے اس سے زیادہ اوقات نہیں دے سکتا جتنی دے دی… صرف تمہاری وجہ سے” وہ کہتی جا رہی تھی
“ایرسا میں نے تو… ” ایرسا نے اس کی بات کاٹ دی
“ہاں سچ یاد آیا… تم نے تو محبت کی تھی, لعنت ہے تمہاری محبت پر” اس کی آواز اونچی ہو گئی تھی, ہریرہ بس چپ چاپ اٹھ کر باہر نکل گیا تھا
……………..
وہ یونیورسٹی جانا شروع ہو گئی تھی, راحت بیگم نے اسے اپنی گاڑی اور ڈرائیور مہیا کر دیا تھا, اس نے صارم کی بھی اچھی خاصی بے عزتی کی تھی اور وہ بس معافیاں ہی مانگتا رہ گیا تھا
“تم اس کے گناہ میں برابر کے شریک ہو صارم… قیامت کے دن تم بھی اتنا ہی بھگتو گے جتنا یہ” اس نے بددعا کے سے انداز سے کہا تھا
اس دن یونیورسٹی میں ہی اس کی طبیعت نڈھال ہوناشروع ہو گئی, چکراتا ہوا سر اور تمتماتا اور بدن… وہ بمشکل گھر واپس آئی تھی, شام تک اس نے خود کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن…رات ہوتے ہوتے اس کی بس ہو گئ, بخار کی شدت سے جسم کپکپانا شروع ہو گیا تھا, وہ کمبل لپیٹ کر بستر پر گر گئی, راحت بیگم کو بتایا ہی نہیں, مغیرہ دس بجے کے قریب گھر واپس آیا, اوپر آ کر کپڑے تبدیل کئے اور بس ایک نظر اسے دیکھتا ہوا نیچے آ گیا
“ایرسا کہاں ہے؟” انہوں نے ملازمہ سے پوچھا تھا
“وہ سو رہی ہیں بڑی بیگم صاحبہ” ملازمہ نے کہا, وہ سر جھکا کر کھانا کھانے لگی, کھانے کے بعد چاۓ کا کپ ہاتھ میں لئے وہ اوپر چلا آیا, ہلکی ہلکی خنکی کے باوجود ایرسا نے پورا کمبل اپنے اوپر لپیٹا ہوا تھا, وہ چاۓ کا سپ لیتا ہوا اپنی طرف جا کر لیٹ گیا, اچانک اسے لگا جیسے وہ ہولے ہولے کانپ رہی ہے, کچھ دیر تو وہ نظر انداز کرتا رہا لیکن جب اسے ایرسا کی دھیمی دھیمی آواز بھی سنائی دینے لگی تو پریشان ہو گیا, وہ نہ جانے کیا کچھ بول رہی تھی, مغیرہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور دھیرے سے اس کا کمبل نیچے کیا, وہ بری طرح کانپ رہی تھی, ساتھ ساتھ ہونٹ ہلا کر نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھی, مغیرہ نے دھیرے سے اس کا ماتھا چھوا, وہ آگ کی طرح تپ رہی تھی, وہ یکدم پریشان ہو گیا
کتنا بھی وہ پتھر بننے کی کوشش کرتا… پتھر تھا تو نہیں
کتنا بھی وہ اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا… تھی تو وہ اس کی بیوی
کتنا بھی وہ اس کے وجود سے انکاری ہوتا… نکاح کے تین بول بول کر قبولا تھا اس نے اسے
اب بھی وہ اسے اس کے حال پر نہ چھوڑ سکا, پانی کا گلاس بھرا, دراز سے دو گولیاں نکالیں اور اس کے قریب آ گیا
“اٹھو… دوا کھاؤ” اس نے سہارا دے کر ایرسا کا تپتا ہوا وجود سیدھا کیا تھا, بمشکل اس کے منہ میں دو گولیاں ڈال کر مغیرہ نے اسے پانی کے دو گھونٹ پلاۓ, وہ بہت کپکپا رہی تھی
“ابو… ” اچانک اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی, وہ نڈھال ہو کر مغیرہ کے کندھے پر گر گئی تھی
“ابو… ” وہ رو رہی تھی, مغیرہ کو اس لمحے اس پر ٹوٹ کر ترس آیا, بہت نرمی سے اس نے ایرسا کا تھا ہوا وجود اپنی آغوش میں لیا تھا, وہ اس کے سینے پر سر رکھے بس بے آواز روتی چلی گئی, اس کی قمیض بھگوتی چلی گئی, مغیرہ کو لگا شائد وہ اس سے زیادہ بے بس تھی
…………………..
وہ اس دن آفس پہنچا تو ایک بریف کیس اس کی ٹیبل پر موجود تھا, اس نے فوراً زارا کو بلایا
“زارا یہ کہاں سے آیا ؟” آس نے پوچھا
“تہ نہیں سر… کورئیر والا آپ کے لئے دے گیا ہے ” آس نے بتایا
“کس نے بھیجا ہے ؟” اس نے پھر پوچھا
“پتہ نہیں سر… اس پر کوئی ایڈرس نہیں ہے, وہ بس پکڑا کر چلا گیا” زارا نے کہا
“حیرانی کی بات ہے… ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے زارا کے سامنے ہی وہ بریف کیس کھول لیا اور ایک دم سن رہ گیا, اس میں ایک ریوالور رکھا ہوا تھا, ساتھ میں ایک سفید کاغذ تھا, اس پر چند سطریں لکھی ہوئی تھیں
“خود پر ترس کھاؤ مغیرہ اعظم… نئی نئی شادی ہوئی ہے تمہاری, تم یا تمہاری بیوی نشانہ بن گئے تو کیا ہو گا ؟”
اس کی رگیں تن گئیں, طاہر کے ٹینڈر نے اسے بہت فائدہ دیا تھا, ایک ہفتہ پہلے اس نے طاہر سے پارٹنر شپ کی تھی اور اس پارٹنر شپ کا چشتی کو بہت نقصان ہوا تھا, اس کو ملے تین ٹینڈرز مغیرہ کو مل گئے تھے, اب بھی اسے چشتی کی طرف سے ہی دھمکی آئی تھی, زارا بھی اپنی جگہ خاموش کھڑی تھی
“یہ بات اس آفس سے باہر نہ نکلے” اس نے زارا سے کہا
“اور ماں تک تو کسی صورت نہ پہنچے ” زارا نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا, کچھ دیر بعد اس نے چشتی کا نمبر ملا لیا
“کیسے ہیں مسٹر مغیرہ اعظم… ؟” اس کے لحجے سے طنز واضح تھا
“تمہاری حرکتوں سے تو نہیں لگتا کہ تمہیں بزنس کرتے اتنے سال ہو گئے ہیں چشتی ؟” وہ سارے آپ جناب بھول گیا
“لیکن تمہاری حرکتوں سے یہ ضرور لگتا ہے کہ جلد یا بدیر تم اپنے انجام کو پہنچ ہی جاؤ گے… کل کے بچے” وہ ہنسا تھا
“میں جانتا ہوں تمہارے دامن میں کیا ہے مغیرہ… ایک بوڑھی ماں, ایک جوان بھائی اور ایک نئی نویلی دلہن… بس اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلا نشانہ کون ہو گا” چشتی نے کہا
“تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو… لیکن یاد رکھنا کہ جوابی حملہ کرنا مجھے بھی آتاہے” مغیرہ نے غصے سے کال کاٹ دی تھی
……………………..
وہ اس دن کلاس لیکر باہر نکلی تو ڈرائیور ابھی تک نہیں آیا تھا, وہ وہیں شیڈ کے نیچے کھڑی ہو کر انتظار کرنے لگی, اسے یونیورسٹی آتے دو ماہ ہونے کو آۓ تھے, فائنل پیپرز قریب ہی تھے, مغیرہ کا رویہ ہنوز لئے دئے والا ہی تھا, کافی دیر گزر گئی لیکن گاڑی نہیں آئی, اس نے راحت کی نمبر ملایا تو انہوں نے کہا کہ ڈرائیور تو کب کا اسے لینے چلا گیا, وہ پریشان ہو گئی, مزید کچھ دیر گزری تو اس نے بادل نخواستہ مغیرہ کا نمبر ملا لیا لیکن دو, تین بار کال کرنے پر بھی اس نے کال ریسیو نہیں کی, راحت نے بھی دوبارہ کال نہیں کی, وہ جانتی تھی کہ اس وقت وہ دوپہر کا کھانا کھا کر آرام کرتی ہیں, وہ گاڑی بھجوا کر مطمئن ہو کر سو گئی ہوں گی, شام سر پر آ گئی, ہریرہ بھی نہ جانے کہاں تھا, آخر ایک بار پھر وہ ہمت کر کہ باہر نکلی, اچانک ہی سے اپنی گاڑی نظر آ گئی, وہ تیر کی طرح اس کی بڑھی اور اندر بیٹھ گئی لیکن اس سے پہلے کہ ڈرائیور سے کچھ پوچھتی, کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھ کر اسے بے ہوش کیا تھا, لمحوں میں وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئ
………………………..
مغرب سے کچھ دیر پہلے کا وقت تھا جب اسے راحت بیگم کی کال آئی
“مغیرہ… تو کہاں ہے ؟” وہ انتہائی پریشان تھیں
“کیا ہوا ماں ؟” آس نے پوچھا
“رعنا ابھی تک گھر نہیں آئی ” انہوں نے اس کے اوسان خطا کئے تھے
“ڈرائیور نہیں بھیج تھا آپ نے ؟” وہ بولا
ڈرائیور تو واپس آ گیا, کہتا وہ وہاں تھی ہی نہیں ” راحت نے کہا
“ماں میں دیکھتا ہوں, آپ پریشان نہ ہوں” حالانکہ وہ خود پریشان ہو گیا تھا, اسی وقت وہ دھواں دھار گاڑی بھگاتے ہوۓ گھر پہنچا, راحت بیگم انتہائی پریشانی کے عالم میں ٹہل رہی تھیں
“ماں ڈرائیور کہاں ہے؟” اس نے آتے ہی پوچھا, راحت نے فوراً اسے بلوا لیا
“صاحب جی راستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی, میں ٹھیک کروانے رک گیا, تھوڑی دیر ہو گئی تھی لیکن جب میں یونیورسٹی پہنچا تو وہ آئی ہی نہیں… ” ڈرائیور یہ کہانی راحت کو سو بار سنا چکا تھا, مغیرہ انتہائی پریشان ہو گیا, اس کے ذہن میں بار بار چشتی کی آواز گونج رہی تھی
“میں جانتا ہوں تمہارے دامن میں کیا ہے مغیرہ… ایک بوڑھی ماں, ایک جوان بھائی اور ایک نئی نویلی دلہن… بس اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلا نشانہ کون ہو گا” اور شائد اس کا پہلا نشانہ ایرسا بن گئی تھی, پورے دو گھنٹے وہ گاڑی لئے ادھر ادھر خوار ہوتا اسے ڈھونڈتا رہا لیکن بے سود… رات کے دس بج رہے تھے جب وہ خالی ہاتھ گھر واپس آ گیا
“نہیں ملی… ؟” راحت بیگم مسلسل اس کے لئے دعائیں کر رہی تھیں, وہ بے بسی سے صوفے پر گر گیا, تبھی اس کے سیل کی میسیج ٹون بجی تھی, کسی انجان نمبر سے کوئی ایڈرس آیا تھا
“اب دیکھتے ہیں تم پہلے یہاں پہنچتے ہو یا کوئی اور… ” ساتھ ہی اگلا میسیج آیا تھا, وہ دیوانوں کی طرح اٹھ کر باہر کو بھاگا, ہریرہ اسے دروازے پر مل گیا تھا
“کیا ہوا بھائی… ؟” وہ اسے اسقدر بد حواسی کے عالم میں دیکھ کر یکدم پریشان ہو گیا لیکن مغیرہ سنی ان سنی کرتے ہوئے باہر نکل گیا
“رعنا ابھی تک گھر واپس نہیں آئی ہریرہ… مغیرہ کے ساتھ جا” راحت نے جلدی سے کہا
“بھائی… رکیں” وہ الٹے پاؤں واپس بھاگا تھا, ہوا کی رفتار کو مات دیتا وہ گاڑی دوڑاتا ہوا مطلوبہ ایڈرس پر پہنچ گیا, وہ کوئی پرانا شو روم تھا… اندر ہو کا عالم تھا
“رعنا… ” مغیرہ دیوانوں کی طرح اسے آوازیں دے رہا تھا, آخر ایک کمرے میں وہ اسے مل گئی, اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے اور منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا
“ایرسا…” اس سے پہلے کے ہریرہ اس کی طرف بڑھتا, مغیرہ تیر کی طرح اس کے پاس پہنچا تھا, انتہائی فکر اور انتہائی اپنائت سے اسے اپنے بازؤں میں بھرا تھا, انتہائی نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ کھولے تھے اور منہ پر سے کپڑا اتارا تھا, انتہائی چاہت سے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کئے تھے اور انتہائی محبت سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا
وہ اس کے سینے پر سر رکھے, دونوں بازو اس کی کمر کے گرد مضبوطی سے باندھے لرز رہی تھی, سسک رہی تھی… رو رہی تھی
وہ اسے اپنی آغوش میں لئے جیسے سارے گلے شکوے بھول گیا تھا, بس یاد تھا تو اتنا کہ اس کے سینے سے لگی وہ لڑکی اس کی عزت تھی, اسے بے حد عزیز تھی, اسے جان سے پیاری تھی
“بس… چپ کرو, میں ہوں نا تمہارے پاس ” وہ اس کا سر ہولے ہولے تھپتھپا رہا تھا, اس کے گالوں کو انتہائی نرمی سے چوم رہا تھا, اس کے آنسوؤں کو اپنی پوروں پر چن رہا تھا
اور ہریرہ…!
وہ دم بخود دروازے میں کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
یہ تھی محبت… یہ ہوتی ہے محبت… اسے کہتے ہیں محبت
جو اس نے کی وہ محبت تھوڑی نا تھی… وہ تو ضد تھی, ٹسل تھی, انا تھی
وہ تو بس ایک لڑکی کو پانے کا جنون تھا… وہ محبت نہیں تھی
محبت یہ تھی جو اس وقت اس کے سامنے تھی, مغیرہ جیسا اناپرست محبت سے ہار گیا تھا, نکاح کے ان دو بولوں سے ہار گیا تھا جو ہمیشہ محبت کی ضمانت ہوتے ہیں, اس حیا میں گندھی لڑکی سے ہار گیا تھا جو اس کی بیوی تھی
حسد کی ایک شدید لہر تھی جو ہریرہ کے دل میں اٹھی تھی… شدید لہر
“یہ لڑکی میری بھی تو ہو سکتی تھی… اتنا کچھ کرنے کے باوجود یہ مجھے نہیں ملی, کیوں ؟” اس لمحے جلن کی ایک آگ بھڑکی تھی جس میں وہ پورا جل گیا تھا
“چلو… گھر چلیں” مغیرہ اسے اپنے کندھے سے لگاۓ باہر لیکر آیا تھا, اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اور اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا تھا
“ہریرہ…” اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے ہریرہ کو آواز دی
“میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں ” وہ بولا تھا, مغیرہ ایک نظر اسے دیکھتا ہوا گاڑی بھگا لے گیا
جاری ہے