No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
سلمان اسے بائیک پر پارلر چھوڑ گیا تھا اور کہہ گیا تھا کہ واپسی پر گاڑی لیکر آ جاۓ گا, تقریباً دو گھنٹے بعد وہ فارغ ہو گئی, سلمان ابھی تک نہیں آیا تھا, کچھ دیر بعد پارلر والی ایک لڑکی نے اسے آ کر کہا کہ اسے لینے آۓ ہیں, وہ فوراً باہر نکلی, سلمان ڈرائیور کے ساتھ گاڑی لئے کھڑا تھا, وہ جلدی سے بیٹھ گئی, وہ ابھی گھر سے پندرہ منٹ دور تھے جب اچانک صارم کی گاڑی نے ان کا راستہ روک لیا, وہ چہرے پر ماسک پہنے ہوۓ تھا, اس نے اشارے سے سلمان کو باہر آنے کا بولا تھا, سلمان کے باہر آتے ہی وہ اس گاڑی میں بیٹھ گیا
“چلو… ” اس نے ڈرائیور سے کہا تھا, ایرسا اس کی آواز پہچان گئی تھی, وہ ڈرائیور بھی ہریرہ کا ہی بھیجا ہوا تھا
“صارم… یہ کیا کر رہے ہو ؟” وہ انتہائی پریشان ہو گئی تھی
“بالکل خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ, ورنہ تمہارے منہ پر کپڑا باندھنا مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا” صارم نے سختی سے کہا تھا
“تمہیں ہریرہ نے کہا ہے نا یہ سب کرنے کے لئے ؟” وہ تاڑ گئی تھی, صارم چپ رہا
“صارم خدا کے لئے, کیا صرف وہ تمہارا دوست ہے ؟ میں کچھ نہیں لگتی, میں نے بھی تو دو سال تمہارے ساتھ گزارے ہیں” اسے رونا آ گیا
“ایرسا چپ ہو جاؤ” صارم کو اس پر ٹوٹ کر ترس آ رہا تھا, وہ اسے سیدھا کاشف کے فلیٹ پر لے آیا
“اترو… ” آس نے حکم دیا تھا, وہ بادل نخواستہ گاڑی سے باہر نکل آئی, صارم اسے بیڈروم میں لاک کر کہ باہر آ گیا
“ہریرہ… وہ کاشف کے فلیٹ پر یے” آس نے باہر آ کر اسے کال کی تھی
“میں بس دو منٹ میں آیا” ہریرہ راستے میں تھا
“تو نے بہت غلط کیا ہے ہریرہ… وہ رو رہی ہے یار” صارم اپنی دوستی کی خاطر بے بس تھا
……………………….
اسے اس کمرے میں بند ہوۓ پورے پانچ منٹ ہو گئے تھے, ایک لمحے میں کیا سے کیا ہو گیا تھا, اسے ہریرہ سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی… شدید نفرت
وہ آخر اپنی آئی پر آ ہی گیا تھا
اچانک بیڈروم کا دروازہ کھلا, ایرسا نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا, وہ ایک نظر اسے دیکھتا ہوا اندر داخل ہوا تھا
سرخ لباس میں وہ گلاب کا ایک پھول ہی لگ رہی تھی… پوری طرح کھلا ہوا
“بیٹھ جاؤ… ” ہریرہ کی نگاہیں جیسے اس پر جم ہی گئیں
“تمہیں یہ سب کرنے کا حق کس نے دیا ہریرہ ؟” وہ تاسف سے بولی تھی
“میری محبت نے” وہ بولا اور اس کی طرف بڑھا, ایرسا پیچھے کو کھسکتی ہوئی بیڈ سے ٹکرائی اور اس پر گر سی گئی
“یہ محبت نہیں ہے… سراسر تمہاری ضد ہے” اس نے کہا
“میں نے کہا تھا نا… کہ ضد ہی سہی” وہ اس کے عین سامنے بیٹھا تھا
“قسم کھائی تھی میں نے کہ سرخ جوڑے میں تم صرف میرے سامنے ہی بیٹھو گی ” وہ اس کے قریب ہوا تھا
“تم نے ایک لمحے کے لئے میرا نہیں سوچا ہریرہ… کیا بنے گا میرا ؟ کتنی رسوائی ہو گی میری ؟ وہاں میری بارات آئی ہو گی, سب میرا انتظار کر رہے ہوں گے, میں کچھ دیر اور وہاں نہ پہنچی تو میری بارات واپس چلی جاۓ گی” آس کی آنکھیں گیلی ہو گئیں تھیں
“میں نے تم سے کہا تھا کہ محبت کرنے لگا ہوں تم سے… تم نے یقین ہی نہیں کیا” ہریرہ نے کہا
“اس طرح پا لو گے مجھے ؟” اسے ایک دم ہریرہ کے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی
“جس لڑکی کی بارات واپس چلی جاۓ اسے پھر کون اپناتا ہے ایرسا… کوئی نہیں, تمہیں کوئی نہیں اپناۓ گا سواۓ میرے” وہ مسکرایا تھا, ایرسا کے آنسو گر پڑے
“مجھے واپس چھوڑ آؤ ہریرہ… ” اس نے التجا کی تھی, ہریرہ کی بس ہو گئ, بہت دھیرے سے اس نے اپنے لب آس کے گردن پر ثبت کئے تھے, ایرسا کی آنکھیں یکدم بند ہو گئیں
“میرا بس چلے تو ابھی اسی وقت تمہیں اپنا بنا لوں لیکن… فی الحال میری محبت پر یہ ایک داغ ہی کافی ہے” وہ کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا
“صارم تمہیں تھوڑی دیر تک تمہارے گھر چھوڑ آۓ گا” وہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
………………………
انہیں ہال پہنچے کافی دیر ہو چکی تھی, نکاح کا وقت نکلا جا رہا تھا لیکن رعنا ابھی تک نہیں پہنچی تھی, جلیل صاحب بار بار سلمان کا نمبر ملا رہے تھے جو مسلسل بند تھا جبکہ رعنا کا سیل گھر پر ہی رہ گیا تھا, کچھ وقت اور گزرا تو راحت کو پریشانی ہونے لگی, اچانک سلمان بھاگتا ہوا ہال میں داخل ہوا تھا
“سلمان… ” جلیل اور نسرین دونوں اس کی طرف بھاگ پڑے
“رعنا کہاں ہے ؟” وہ پوچھ رہے تھے
“اسے کسی نے اغواء کر لیا ہے ابو… ” سلمان سے بولنا دوبھر ہو رہا تھا
“کیا… ” جلیل صاحب کی آنکھوں کے آگے یکدم اندھیرا سا آ گیا, نسرین بیگم منہ پر ہاتھ رکھے حق دق کھڑی تھیں
“کیا ہوا بھائی صاحب ؟” راحت ان دونوں کی طرف آئیں
“رعنا اغواء ہو گئی ہے ” نسرین نے بمشکل انہیں بتایا تھا, ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا, آن کی آن میں پورے ہال میں خبر پھیل گئی
“دلہن اغواء ہو گئی تھی “
مغیرہ بس ایک طرف چپ چاپ بت بنا کھڑا تھا, نہ جانے اس کے ساتھ یہ کیا ہونے جا رہا تھا, کچھ دیر تو وہ وہاں کھڑا سب کی پریشان صورتیں دیکھتا رہا, پھر ایک دم باہر کی طرف بڑھ گیا
“مغیرہ… ” راحت نے اسے آواز دی تھی, وہ سنی ان سنی کرتا ہوا باہر نکل گیا اور عین دروازے پر اسے صارم مل گیا, وہ اندر آ رہا تھا
“آپ کہاں جا رہے ہیں” اس نے اچنبھے سے پوچھا تھا لیکن اس سے پہلے کہ مغیرہ کوئی جواب دیتا, اندر سے ایک دم چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں
جلیل صاحب بے ہوش ہو کر ایک طرف کو گر گئے تھے
“ہوا کیا ہے ؟” صارم نے اس سے پوچھا, وہ دونوں ایک ساتھ اندر کو بھاگے تھے
“دلہن اغواء ہو گئی ہے ” مغیرہ نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا, اچانک ہی اسے کچھ فاصلے پر کھڑا سلمان دکھائی دیا, وہ سن رہ گیا
اس کا مطلب… ؟
اس کا مطلب مغیرہ کی شادی ایرسا سے ہو رہی تھی
آس کے اوسان خطا ہوۓ تھے, مغیرہ اور سلمان جلیل صاحب کو لیکر ہسپتال چلے گئے, وحیب راحت اور نسرین کو بھی وہیں لے گیا تھا, صارم نے باہر آتے ہوئے ہریرہ کو کال کی تھی
“کہاں ہے تو ؟”آس نے پوچھا
“میں راستے میں ہوں بس دس… ” صارم نے اس کی بات کاٹ دی
“غضب ہو گیا ہریرہ… ” وہ ایک دم اس پر برس پڑا تھا
……………………
“میں نے تجھے کہا تھا نا کہ ایسا مت کر… لیکن تجھ پر تو بھوت سوار تھا, اب کیا ہو گا ہریرہ ؟” صارم مسلسل اس پر برس رہا تھا, وہ دونوں سڑک کے کنارے گاڑی روکے کھڑے تھے, ہریرہ چپ چاپ گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا
“کتنی رسوائی ہوئی ہے اس کی, اس کے گھر والوں کی, اس کا باپ موت کے منہ میں چلا گیا ہے صرف تیری وجہ سے… اور اس سب میں تو نے مجھے بھی شامل کر لیا, کتنی بے عزتی ہوئی ہے آنٹی اور مغیرہ بھائی کی اور… ایرسا ؟ اس کا کیا بنے گا اب ؟” صارم کہتا جا رہا تھا
“میں اس سے شادی کر لوں گا, میں ماں کو سب کچھ بتا دوں گا, اس کے باپ کو بھی سب کچھ بتا دوں گا” ہریرہ کا دل ڈوب رہا تھا
“اور مغیرہ بھائی… ان کا سامنا کیسے کرے گا ؟” صارم نے کہا
“صارم ابھی اسی وقت ایرسا کو لیکر ہسپتال چلتے ہیں, میں سب کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرنے کو تیار ہوں” ہریرہ نے کہا اور ساتھ ہی اس کا سیل بج اٹھا, راحت کی کال تھی
“ہریرہ… کہاں ہے تو ؟” وہ پوچھ رہی تھیں
“کیا ہوا ماں ؟” اس نے جواباً پوچھا
“رعنا کو کسی نے اغواء کر لیا ہے بیٹا اور اس کے فادر کی ڈیتھ ہو گئی ہے… ہم سب ہسپتال… ” آس سے آگے اس سے سنا ہی نہ گیا
“کیا ہوا ؟” صارم اس کا یکدم تاریک ہوتا چہرہ دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا
“آس کے باپ کی ڈیتھ ہو گئی ہے” ہریرہ نے ایک دم دھماکہ کیا تھا
…………………………
“ابو… ” صارم ہریرہ کی ایک بھی سنے بغیر ایرسا کو ہسپتال لے آیا تھا, وہاں ایک قیامت کا سماں تھا, سلمان اور سوہا دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے, نسرین بیگم بار بار بے ہوش ہو رہی تھیں, راحت اور مغیرہ چپ چاپ ایک طرف کھڑے تھے, ایسے میں اچانک ہی وہ دوڑتی ہوئی وہاں آئی تھی, سرخ لباس میں… روتی ہوئی
“ابو… ” وہ جلیل صاحب کی لاش کی طرف بڑھی لیکن نسرین نے ایک دم اس کا بازو پکڑ لیا
“کہاں سے آئی ہے ؟” وہ انتہائی غصے سے بولیں
“امی میں… ” لیکن وہ اس کی ایک بھی سنے بغیر بے دریغ اس کا چہرہ لال کرتی چلی گئیں
“خبردار جو اپنے باپ کی لاش کے قریب بھی گئی تو… ” راحت نے بمشکل ان کا ہاتھ روکا تھا, ہریرہ دم بخود اس سے ذرا دور دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا
یہ تھی اس کی محبت… ؟
جو ایک قیامت لے آئی تھی, جس نے ہر شے اجاڑ دی تھی, جس نے ہر شخص کو برباد کر دیا تھا
آس نے ایک نظر ایرسا کی طرف دیکھا… وہ اپنے عروسی جوڑے میں ہسپتال کے فرش پر گری ہوئی تھی, بے تحاشا روتے ہوۓ
آس نے ایک نظر مغیرہ کو دیکھا, وہ دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا, بے پناہ افسردہ
آس نے سب کچھ تہس نہس کر دیا تھا, ایرسا نے سچ کہا تھا… اس نے محبت نہیں کی تھی, ضد لگائی تھی
اور آس کی ضد نے سب کچھ جلا کر خاک کر دیا تھا
………………………………..
آج جلیل صاحب کی قرآن خانی تھی, انہیں کل رات ہی دفنا دیا گیا تھا, مغیرہ بس ان کے جنازے میں شریک ہوا تھا, اس کے بعد راحت کے بے حد اصرار پر بھی ان کے گھر نہیں گیا, ہریرہ تو خیر ویسے ہی ایرسا کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہا تھا, اب اسے بس یہ ہی ڈر تھا کہ اگر کبھی وہ مغیرہ کے بھائی اور راحت کے بیٹے کے روپ میں اس کے سامنے آ گیا تو… تو وہ یقیناً سب کے سامنے اس کا تماشا بنا دے گی
اب بھی وہ صارم کے گھر آیا ہوا تھا
“میں کیا کروں صارم…؟” وہ سب کچھ کر کہ اب ڈر رہا تھا
“سچ بول دے… اب بھی وقت ہے ہریرہ, اس سے پہلے. کہ ایرسا کو تیرے بارے میں سچ پتہ چلے اور وہ آنٹی کے سامنے تیری ذات کے بخیے ادھیڑے, سچ بول دے” صارم نے کہا
“ماں مجھے قتل کر دیں گی اور بھائی… ” وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوۓ جا رہا تھا
“ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہے ناں ہریرہ…جب تو ایرسا سے شادی کرے گا تب بھی تو سب کو پتہ چلے گا نا… تو کیوں نہ تو پہلے ہی سب کو سچ بتا دے” صارم نے کہا, ہریرہ اسے دیکھ کر رہ گیا
“اٹھ میرے دوست… ہمت کر, جو غلط کیا ہے اسے جتنا ٹھیک کر سکتا ہے کرنے کی کوشش کر, جا آنٹی کے پاس اور انہیں سب سچ بتا دے… پھر دیکھا جاۓ گا” صارم نے سے حوصلہ دیا تھا, وہ سر ہلاتے ہوا اٹھ کھڑا , واقعی اسے ایک نہ ایک دن تو اے سب کا سامنا کرنا ہی تھا
اپنی پوری ہمت جمع کر کہ جب وہ گھر پہنچا… تو وہاں ایک اور قیامت اس کی منتظر تھی
…………………
نسرین بیگم نے واقعی اسے جلیل صاحب کی لاش کے قریب نہیں جانے دیا, آخری بار ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیا, وہ بلکتی رہ گئی لیکن انہیں ترس نہ آیا, اگلے دن ان کی قرآن خانی پر بھی اسے کمرے میں بند کر دیا, وہ بس دروازہ بجا بجا کر روۓ جا رہی تھی, جیسے ہی ان کی قرآن خانی ختم ہوئی, نسرین بیگم کا ضبط بھی ساتھ ہی ختم ہو گیا, وہ لہرا کر سوہا کے بازؤں میں جھول گئی تھیں
“امی… ” اس کی چیخ سن کر کمرے میں بند رعنا کی سانس بند ہوئی تھی, سلمان انہیں لیکر فوراً ہسپتال بھاگ لیا, انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا, راحت بیگم کچھ دیر تو وہیں رکی رہیں, پھر کچھ سوچ کر خان انٹرپرائزرز چلی آئیں
“”مغیرہ کی کوئی میٹنگ تو نہیں ہے ؟” انہوں نے زارا سے پوچھا
“نو میم…” وہ انہیں دیکھ کر کھڑی ہو گئی تھی , وہ سر ہلا کر اندر داخل ہو گئیں
“ماں آپ… سب خیریت تو ہے نا ؟” وہ انہیں بے وقت وہاں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا
“خیریت ہی تو نہیں ہے مغیرہ… ان بچوں کا باپ چلا گیا… اب اگر ان کی ماں بھی چلی گئی تو کیا ہو گا ؟” انہوں نے کہا
“ماں وہی ہو گا جو منظور خدا ہو گا” مغیرہ نے کہا
“مغیرہ… بیٹے وہ اپنی مرضی سے تو نہیں گئی نا کہیں… ؟” راحت بیگم تھوڑا آگے کو ہوئی تھیں
“آپ کو کیسے پتہ ماں ؟ آپ کونسا آس کے ساتھ تھیں ؟” مغیرہ تڑخ گیا
“بیس سال تن تنہا گزارے ہیں میں نے, اتنا تو جانچ ہی لیتی ہوں کہ کون بےقصور ہے اور کون قصوروار ؟” انہوں نے کہا
“ماں پلیز… ” مغیرہ نے انہیں چپ کروانا چاہا تھا
“اور یاد رکھ وہ صرف منگیتر نہیں ہے تیری بیٹے, وہ تیری منکوحہ ہے, جائز اور شرعی بیوی, اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑ سکتا نا تو اسے” راحت نے کہا
“آپ آخر چاہتی کیا ہیں ؟” وہ تنگ آ گیا
“چل اٹھ میرے ساتھ چل اور اسے رخصت کروا کر گھر لیکر آ” انہوں نے کہہ ہی دیا
“صاف صاف کہہ دیں کہ مغیرہ آنکھیں بند کر اور کنویں میں چھلانگ لگا دے” وہ بولا
“ّماں آپ کا کہا ہمیشہ سر آنکھوں پر… لیکن میں اسے گھر نہیں لا سکتا” وہ بولا
“کیوں ؟” انہوں نے پوچھا
“یہ آپ پوچھ رہی ہیں کہ کیوں ؟ ساری زندگی جہنم بن جاۓ گی میری, ایک لمحے کے لئے بھی اعتبار نہیں کر سکوں گا میں اس کا…ماں آپ جانتی تو ہیں میری عادت کو, میں آخر کیسے اسے اپنا لوں ؟” وہ کہتا چلا گیا
“جب نظروں کے سامنے ہو گی تو اعتبار بھی آ جاۓ گا, چل اٹھ, میرے ساتھ چل, اس کی ماں ہسپتال میں پڑی ہے, اسے موت کے منہ سے نکال لے بچے” راحت نے کہا
“اب آپ میرے ساتھ زبردستی کر رہی ہیں” وہ بے بس ہو گیا
“ہاں میں کر رہی ہوں زبردستی… میں کر سکتی ہوں تیرے ساتھ زبردستی” راحت نے کہا
“اٹھ میرا بچہ.. جلدی کر” وہ اٹھ کر کھڑی بھی ہو گئیں
“ماں… ” وہ روہانسا ہو گیا تھا
“جلدی کر… ” راحت نے اس کا بازو پکڑ کر اسے کھڑا کر دیا, وہ بادل نخواستہ ان کے ساتھ چل پڑا, یونہی اس کا بازو پکڑے وہ اسے باہر لیکر آئی تھیں
اس کی مرضی کے خلاف وہ اسے لیکر ہسپتال آ گئیں, نسرین بیگم کو ہوش آ گیا تھا
“اٹھیں بہن… ہمت کریں, میری بیٹی کو رخصت کریں” انہوں نے نسرین سے کہا, انہوں نے فوراً مغیرہ کے ستے ہوۓ چہرے کی طرف دیکھ تھا, وہ بدستور چپ رہا
رعنا کو اب کسی نے بھی نہیں اپنانا تھا… اس پر جو داغ لگ چکا تھا وہ با ساری عمر نہ دھل پاتا, نسرین بیگم اگر اسے گھر بٹھاۓ رکھتیں تو شائد سوہا کا رشتہ بھی نہ ہوتا, سو انہوں نے چپ چاپ رعنا کو مغیرہ کے ساتھ رخصت کرنے کا سوچ لیا, وہ راحت اور مغیرہ کے ساتھ ہی گھر آئیں تھیں, آتے ہی کمرے ک دروازہ کھولا, کھینچ کر رعنا کو کمرے سے نکالا, وہ ابھی تک اسی سرخ جوڑے میں تھی, اس کا دوپٹہ اس کے سر پر دیا اور اس کا ہاتھ مغیرہ کے ہاتھوں میں تھما دیا
“ساری عمر تم سے نظریں نہیں ملا پاؤں گے بیٹے…” وہ رو رہی تھیں, مغیرہ ایک بھی لفظ بولے بنا اسے گھر لے آیا تھا
جاری ہے
