100.7K
7

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

“مسٹر خان… اٹس یور کال فرام پاکستان ” وہ اپنے کاؤنٹر سے ذرا ذر کھڑا تھا جب اس کے اسسٹنٹ نے اسے آواز دی, وہ تقریباً بھاگتا ہوا کاؤنٹر کی طرف آیا تھا
“جی ماں… ” پاکستان سے اسے صرف ایک ہی ہستی کی کال آتی تھی
“وہ جا رہی ہے بیٹا… ایک آخری موقع ہے تیرے پاس اس سے معافی مانگنے کا, کوشش کر کہ دیکھ لے, اگر اب معاف نہیں کیا نا اس نے… تو حشر میں بھی نہیں کرے گی, آ جا واپس… دیر نہ کرنا… یہ نہ ہو کہ وہ ہمیشہ کے لئے چلی جاۓ اور تو… ایک بار پھر خالی ہاتھ رہ جاۓ” وہ کہتی جا رہی تھیں
“ر
ایرسا… ” آس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی
“ایرسا میری جان… میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے لیکن… کاش مجھے کوئی ایسا جادو آتا جسے پڑھ کر میں تمہیں اس محبت کا یقین دلا سکتا” اس کی سماعتوں میں اس کی اپنی آواز ہی گونج گئی, بے بس, لاچار اور انتہائی مجبور آواز
“اچھا… میں بتاؤں تمہیں ایک ایسا جادو جس کے بدلے مجھے تمہاری محبت کا یقین آ جاۓ گا, اور وہ یہ کہ تم ہمیشہ کے لئے یہاں سے دفع ہو جاؤ, مجھے تمہاری شکل سے ہی نفرت ہے, تمہاری آواز میرے کانوں میں زہر گھول دیتی ہے, تمہارا ہونا ہی میرے لئے انتہائی تنفر کا باعث ہے… بس اتنا کر دو اگر کر سکتے ہو تو… خود پر جلاوطنی کا جادو پڑھو اور کسی ایسی جگہ کا کر دفن ہو جاؤ جہاں سے تمہاری مشک بھی یہاں نہ آ سکے… بتاؤ یہ کر سکتے ہو میرے لئے ؟؟؟” بارہ سال پرانا وعدہ ایک دم زندہ ہو گیا تھا
“ہاں کر سکتا ہوں” اس کی آنکھوں کے گوشے یکلخت نم ہو گئے
بارہ سال سے وہ اس سے کیا وعدہ نبھا رہا تھا, بارہ سالوں میں ایک بار بھی وطن واپس نہیں لوٹا, بارہ سالوں میں ایک بار بھی اپنی ماں کی شکل نہیں دیکھی… بارہ سالوں سے وہ صرف فون پر ان کی آواز سنتا آ رہا تھا اور وہ… ؟
اس کی تو آواز سنے بھی بارہ سال ہو گئے تھے, نہ جانے اس نے راحت بیگم کو بھی کیا قسم دے رکھی تھی وہ سرسری سا بھی اس کا ذکر نہیں کرتی تھیں…آج بارہ سال بعد ان کی زبان سے اس کے متعلق کوئی بات نکلی تھی
اور بات بھی کیا… ؟
کہ وہ جا رہی ہے… ہمیشہ کے لئے
اتنی جلدی…؟ ابھی سے… اسے معاف کئے بغیر
وہ اسی وقت ہر چیز چھوڑ چھاڑ ٹریول ایجنسی کے دفتر بھاگ لیا تھا
…………………..
وہ ایم بی اے فنانس پہلے سمیسٹر کی پہلی کلاس تھی…کل سترہ سٹوڈنٹس, بارہ لڑکے اور پانچ لڑکیاں
اور ان پانچ لڑکیوں میں سے سب سے آخری وہ تھی
ایرسا جلیل…!
ایک میکسی والی, ایک جینز والی, ایک ٹائیٹس والی, ایک سکرٹ والی اور ایک وہ… بیل باٹم والی
ایک سلیو لیس والی, ایک ٹی شرٹ والی, ایک فارمل شرٹ والی, ایک شارٹ شرٹ والی اور ایک وہ… لانگ شرٹ اور پورے بازؤں والی
ایک سٹیپ کٹ والی, ایک فل میک اپ والی, ایک ہائی ہیل والی, ایک کرلی بالوں والی اور ایک وہ… دوپٹے والی, بنا میک اپ والی, فلیٹ سینڈل والی
اپنی کلاس کے سترہ لوگوں میں صرف وہ مڈل کلاس سے تھی اور شائد اس کا کانفیڈینس بھی تھوڑا تھوڑا مڈل کلاس والا ہی تھا تبھی تو پہلے دن جب وہ اس کے ساتھ والی خالی نشست پر آ کر بیٹھا تو ایک دم سرخ ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
“کہیں اور بیٹھ جاؤ تم… ” آنکھیں بھی بھر آئی تھیں
“تمہیں کونسا سالم نگل لیا میں نے ؟” وہ تو پکا بدمعاش تھا
“کہیں اور بیٹھ جاؤ” وہ بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھی
“میں تو یہیں بیٹھوں گا تمہارے ساتھ ” اس نے تن کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی, ایرسا نے پوری کلاس پر نظر دوڑائی, کوئی نشست خالی نہیں تھی, کسی پر لڑکا… کسی پر لڑکی اور لڑکا
“پہلے میں یہاں بیٹھی تھی ” ایرسا نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی
“تو میں نے کونسا اٹھا دیا ہے تمہیں… بیٹھ جاؤ” وہ کندھے اچکا کر بولا, اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی, ڈاکٹر اشرف کلاس میں داخل ہو گئے, بادل نخواستہ وہ اس پر ایک قہر بار نظر ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی
وہ پہلا دن تھا… اور وہ پہلے ہی دن اس کی گڈ بک سے نکل گیا تھا
وہ… ہریرہ اعظم خان
………………………….
“گڈ مارننگ… ” اپنا بیگ ہوا میں اچھالتا ہوا وہ دھڑ دھڑ کرتا سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تھا
“تو یونیورسٹی تک پہنچ گیا ہریرہ لیکن تمیز تجھے پھر بھی نہ آئی” راحت بیگم نے بڑے تاسف سے کہا تھا
“ماں آپ نے کیا کرنے ہیں دو دو تمیز یافتہ بیٹے… آپ کو یہ ایک ہی مسٹر نفیس اینڈ سلیس کافی نہیں ہیں کیا” اس نے مسلسل ہنستے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے مغیرہ کو دیکھا تھا, مغیرہ نے فوراً شکایتی انداز میں ماں کی طرف دیکھا
“چار سال بڑا ہے تجھ سے… عزت کیا کر اس کی” راحت نے کہا
“چار سال ہی بڑے ہیں, چودہ سال بڑے ہوتے تو کوئی بات بھی تھی, اور انہوں نے کونسا بچپن میں میرے پیمپرز بدلے ہیں جو میں ان کی عزت کروں” وہ مسلسل ہنس رہا تھا
“میں نے تو بدلے ہیں نا تیرے پیمپرز… میری کتنی عزت کر لیتا ہے تو ؟” راحت نے کہا
“ہاۓ ماں میں اتنا پیار کرتا ہوں آپ سے” وہ ایک دم ان سے لپٹ گیا… گال چومے, ماتھا چوما
“پرے ہو ہریرہ… زہر لگتی ہیں مجھے تیری یہ بے وقت کی چوما چاٹیاں ” راحت نے اسے پیچھے کو دھکیلا تھا, وہ ہنستا ہوا واپس اپنی کرسی پر گر گیا
“پکڑ اپنا آملیٹ اور ناشتہ کر… اور دفع ہو یونیورسٹی ” راحت اس کے سامنے آملیٹ کی پلیٹ رکھتے ہوئے بولیں
“میں صرف بریڈ کھاؤں گا” اس نے پلیٹ واپس ان کی طرف کھسکا دی
“ماں مجھے بھی ایک آملیٹ بنوا دیں” مغیرہ نے کہا
“یہ لے… ” انہوں نے وہی پلیٹ اس کے سامنے کر دی
“میں نے نہیں کھانا یہ… مجھے نیا بنوا کر دیں” اس نے کہا
“ماں یہ تو کسی دوسرے کی طرف سے آئی اڑتی ہوا کو نہ اپنے پاس سے گزرنے دیں… یہ تو پھر میرا چھوڑا ہوا آملیٹ ہے” ہریرہ نے کہا
“مغیرہ مجھے زہر لگتی ہے تیری یہ عادت, اس آملیٹ کو کیا ہو گیا ہے, اس نے کونسا کھایا ہے اس میں سے” راحت کو غصہ آ گیا
“رہنے دیں… میں کھا ہی نہیں رہا” مغیرہ نے پلیٹ پرے کو کھسکا کر چاۓ ک کپ اٹھا لیا
“مغیرہ… بیٹا اگر تو آج چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھوتہ کرنا سیکھے گا تو ہی کل کو بڑی بڑی باتوں پر بھی کر سکے گا نا… ؟” راحت نے اسے سمجھانا چاہا تھا
“لیکن ماں اگر میرے پاس چوائس ہو تو سمجھوتہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر میں اپنے لئے ایک نیا آملیٹ بنوانے کا اختیار رکھتا ہوں تو کسی اور کا چھوڑا ہوا کیوں کھاؤں ؟” مغیرہ نے کہا, راحت بس اس کی طرف دیکھ کر رہ گئیں تھیں
وہ ایسا ہی تھا… مغیرہ اعظم خان
خان انٹرپرائزرز کا چیئر پرسن
وہ اپنی ماں کا لاکھوں میں ایک بیٹا تھا
وہ اپنے ایمپلائز کا لاکھوں میں ایک باس تھا
وہ اپنے دوستوں کا لاکھوں میں ایک یار تھا
وہ اپنے حریفوں کا لاکھوں میں ایک حریف تھا
صرف چھبیس سال کی عمر میں اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی کوئی بھی نوجوان تمنا کر سکتا ہے… دولت, شہرت, عزت اور وجاہت
وہ چھ سال کا تھا اور ہریرہ دو سال کا جب اعظم خان راحت بیگم کو تنہا کر گئے تھے, لیکن وہ ان کے جانے کے بعد اپنے دونوں بچوں کو لیکر بھائیوں کے در پر نہیں گئیں
وہ ایم اے اکنامکس تھیں
دو بیٹوں کی ماں تھی
اعظم خان ان کے لئے ایک کنال کا گھر اور خان انٹرپرائزرز چھوڑ گئے تھے
انہوں نے اپنی عدت مکمل کی اور بڑے اعتماد کے ساتھ ان کی کرسی پر جا بیٹھیں, سولہ سال انہوں نے خان انٹرپرائزرز کو بڑی کامیابی کے ساتھ چلایا اور جیسے ہی مغیرہ کا ایم بی اے مکمل ہوا… اس کا ماتھا چوما, دعا دی اور اسے اس کے باپ کی کرسی پر بٹھا دیا
اور مغیرہ اعظم ہر گزرتے دن اس کمپنی کو اوپر سے اوپر ہی لے گیا
……………………….
آج ڈاکٹر اشرف چھٹی پر تھے, کچھ دیر تو وہ ساری کلاس آن کے آنے کا انتظار کرتی رہی پھر جب ان کے سی آر صارم نے آ کر ڈاکٹر صاحب کی چھٹی کی اطلاع دی تو ہوہو ہاہا کر کہ پورا کمرہ سر پر اٹھا لیا
“ڈاکٹر صاحب کی چھٹی کو سیلیبریٹ کرنا تو بنتا ہے ہریرہ…” صارم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“کیسے ؟” اس نے پوچھا
“ایک ڈانس… دلربا… ہوشربا… ” صارم کسی محبوبہ کی طرح اس کے ساتھ چپکا تھا
“پارٹنر ڈھونڈ کر دے ” وہ فوراً تیار تھا
“میری جان, میرے گلاب… تیرے لئے تتلیوں کی کمی ہے کیا ؟” صارم نے کہا, وہ چاروں تیار تھیں
لمحوں میں بینچز دیواروں کے ساتھ لگ گئے, کرسیاں ادھر ادھر ہو گئیں, ڈائس ایک کونے میں گھسا دیا گیا اور کلاس روم کے عین وسط میں ایک ڈانس فلور بن گیا, ایرسا بڑے تاسف سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا بیگ کندھے پر ڈالے باہر کی طرف بڑھی تھی, ہریرہ بھرپور شرارت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگا اور بڑی ادا سے اس کے عین سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے سامنے پھیلا دیا
“کیا آپ میرے ساتھ رقص کرنا پسند کریں گی مادام… ” اس کی آنکھوں سے شرارت ابل ابل کر باہر آ رہی تھی
“ہٹو آگے سے… ” ایرسا کا سانس کھنچ گیا
“نہ ہٹوں تو ؟” وہ کھڑا ہو گیا
“تمہیں کیا مسئلہ ہے میرے ساتھ ؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی
“تم باقیوں کی طرح نارمل کیوں نہیں ہو ؟ ہر وقت ناک بھوں کیوں چڑھاۓ رکھتی ہو ؟” وہ بولا
“اگر نارمل تم جیسے بیہودہ انسانوں کو کہتے ہیں نا… تو میں ابنارمل ہی ٹھیک ہوں ” ایرسا نے کہا
“بیہودہ ؟” ہریرہ تڑپ کر رہ گیا
“یس بیہودہ… ” وہ کہہ کر اس کے دائیں طرف سے گزر کر آگے بڑھ گئی
“ایک دن اسی بیہودہ انسان کے پیچھے خوار ہوتی پھرو گی تم…دیکھ لینا, یہ بیہودہ انسان تمہیں ساری عمر یاد رہے گا… یاد رکھنا” وہ پیچھے سے چلایا تھا, ایرسا اس پر دو لفظ بھیجتی ہوئی چلتی چلی گئی
وہ ایسا ہی تھا… ہریرہ اعظم خان
…………………….
“مے کم ان سر… ؟” اس کی پرسنل سیکرٹری نے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی
“آؤ زارا… یہ فائل کس نے بھیجی ہے ؟” اس نے پوچھا
“مسٹر وحیب شیخ نے” زارا نے کہا
“کیوں ؟” اس نے پھر پوچھا
“وہ یہ ٹینڈر ہمیں دینے کے لئے تیار ہیں ” زارا نے بتایا
“یہ فائل ابھی اسی وقت وحیب کو واپس بھجوا دو, مجھے نہیں چاہئے اس کا ٹینڈر ” مغیرہ نے فائل بند کرتے ہوئے کہا
“لیکن کیوں سر ؟ آپ تو اس ٹینڈر کے لئے بہت پرجوش تھے, دو بار آپ خود وحیب صاحب سے ملنے گئے تھے صرف اس ٹینڈر کی وجہ سے… اب مل رہا ہے تو…. ” مغیرہ نے اس کی بات کاٹ دی
“جب میں نے اس سے یہ ٹینڈر مانگا تھا تو اس نے انکار کر دیا اورچشتی والوں کو دے دیا, اب دوبارہ کیوں دے رہا ہے مجھے ؟” اسے غصہ آ گیا
“لیکن سر ہم نے کونسا انہیں کہا ہے کہ چشتی والوں سے لیکر ہمیں دے دو, وہ اپنی مرضی سے دے رہے ہیں” زارا وہ ٹینڈر گنوانے کے حق میں نہیں تھی
“بات یہ ہے زارا کہ جب میں نے مانگا تب کیوں نہیں دیا… اب چشتی نے چھوڑ دیا تو دوبارہ مجھے دے دیا, اب کیوں لوں میں ؟ کسی دوسرے کا چھوڑا ہوا تو خزانہ بھی نہ لوں یہ تو پھر ایک ٹینڈر ہے” وہ اپنی عادت سے مجبور تھا
“لیکن سر دیکھ لیں… ٹینڈر بہت بڑا ہے ” زارا نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی تھی
“میرا رب سب سے بڑ اہے زارا.. وہ مجھے اس سے بھی بڑا ٹینڈر دے دے گا… یہ فائل واپس بھجوا دو, وحیب اب خود چل کر بھی آۓ گا تو بھی میں یہ ٹینڈر نہیں لوں گا” اس نے فیصلہ کن لحجے میں کیا تھا
کہا نا… وہ ایسا ہی تھا
…………………………..
وہ سوہا کے پیچھے پیچھے چاۓ کی ٹرے لیکر اندر داخل ہوئی تھی, ٹرے میز پر رکھتے ہوۓ اس نے سامنے بیٹھی اس نفیس سی خاتون کو سلام کیا تھا
“یہ میری بڑی بیٹی ہے, ایرسا …گھر میں سب اسے رعنا کہتے ہیں” نسرین بیگم نے اس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا
“ماشاءاللہ… اللہ پاک ہمیشہ خوش رکھے ” راحت بیگم نے سوہا کے ہاتھ سے چاۓ کا کپ پکڑتے ہوئے کہا, وہ ان کے عین سامنے صوفے پر بیٹھ گئی تھی
“جلیل صاحب ریٹائرڈ ٹیچر ہیں, یہ ان کی بڑی بیٹی ہے اور وہ چھوٹی… دونوں بیٹیوں کے درمیان میں ایک بیٹا ہے جو کالج میں پڑھتا ہے, بس یہ چھوٹی سی فیملی ہے” وچولن بتاتی چلی گئی
“بہن میرا ابھی ارادہ تو نہیں تھا رعنا کا رشتہ کرنے کا کیونکہ ابھی کچھ دن پہلے اس کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروایا ہے, لیکن میں بیمار رہتا ہوں, گردوں کا. مسئلہ بن گیا ہے بس اسی لئے اس کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں ” جلیل صاحب نے کہا
“بہت اچھی بات ہے بھائی صاحب, اللہ آپ کو دونوں بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کی ہمت دے, مجھے آپ کی بیٹی بہت اچھی لگی ہے, مجھے اپنے بیٹے کے لئے اپر کلاس کی کوئی بگڑی ہوئی شوخ اندام نہیں چاہئے, بس ایسی لڑکی چاہئے جو میرے گھر کو گھر ہی بناۓرکھے, میرے بس دو بیٹے ہی ہیں, بیٹی کوئی نہیں ہے اور میرا آپ سے وعدہ ہے کہ اسے میں ہمیشہ اپنی بیٹی ہی سمجھوں گی” راحت بیگم کہتی چلی گئیں
“ٹھیک ہے بہن… آپ اپنے بیٹوں سے بات کر لیں, ہم بھی آپس میں بات چیت کر لیتے ہیں, پھر نصرت کو بتا دیں گے” جلیل صاحب نے بڑے سبھاؤ سے کہا تھا
“ٹھیک ہے… ” راحت بیگم بالکل مطمئن تھیں
گلابی دوپٹے کے ہالےمیں میک اپ سے مبرا چہرہ لئے وہ خوبصورت سی لڑکی انہیں واقعی بہت اچھی لگی تھی
……………………
انہوں نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا, وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں, مغیرہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
“آپ نے بلایا تھا مجھے ؟” وہ ان کے ساتھ ہی کمبل میں گھس گیا
“وحیب کا ٹینڈر واپس کیوں کر دیا ؟” وہ بولیں
“آپ کو کیسے پتہ ؟” وہ ایک دم اچھلا
“پورے شہر کو پتہ ہے” انہوں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیری تھیں
“پھر بھی… زارا نے بتایا ؟” اسے زارا پر ہی شک تھا
“نہیں… وحیب آیا تھا ” انہوں نے دھماکہ کیا, وہ ایک دم ان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا
“والدہ کہتا ہے وہ مجھے… تو دوست کی بات نہیں سن رہا تو کیا میں بھی بیٹے کی بات نہ سنوں” انہوں نے کہا
“میرے دو بار مانگنے پر بھی اس نے مجھے ٹینڈر نہیں دیا… ” مغیرہ نے کہا
“اور اب اس کے ہزار بار کہنے پر بھی تو دوبارہ نہیں لے رہا… ” راحت نے کہا
“ماں میں اسے اب بھی دوست مانتا ہوں لیکن… وہ ٹینڈر نہیں لینا بس… پہلے کیوں نہیں دیا” اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی, راحت ایک لمبی سانس بھر کر رہ گئیں
“تجھے دوسروں کی غلطیاں معاف کرنا کیوں نہیں آتا مغیرہ ؟” انہوں نے پوچھا
“ماں مجھے دوسروں کی غلطیاں معاف کرنا آتا ہے, بس انہیں بھولنا نہیں آتا” اس نے کہا
“آپ نے وحیب کی سفارش کرنے کے لئے بلایا تھا مجھے” اس نے کچھ دیر بعد پوچھا
“نہیں… میں نے تیری شادی کی بات کرنے کے لئے بلایا تھا تجھے” انہوں نے رعنا کی تصویر اس کے سامنے کر دی
“لڑکیاں اور بھی ہیں مغیرہ… ہماری کلاس میں سے بھی ہیں لیکن… مجھے یہ اچھی لگی ہے, گھر کو گھر بنانے والی لگی ہے, تجھے اور مجھے اپنا سمجھنے والی لگی ہے “انہوں نے کہا
“کیا نام ہے ؟” اس نے پوچھا, بظاہر تو کوئی کمی نہیں تھی اس تصویر میں, چاند چہرہ تھا, ستارہ آنکھیں تھیں, دودھیا رنگت تھی, شرمیلی مسکراہٹ تھی, وہ دیکھے جا رہا تھا
“پورا نام تو بڑا مشکل سا تھا لیکن گھر والے سارے رعنا کہتے ہیں, یونیورسٹی میں پڑھتی ہے, چھوٹی سی فیملی ہے… ” وہ کہتی چلی گئیں
“جیسے آپ کو ٹھیک لگے… ” اس نے تصویر انہیں واپس کر دی
“اگر تو اس سے ملنا چاہتا ہے تو… ” اس نے راحت کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی
“میرا خیال ہے ماں کہ یہ شادی سے پہلے کا ملنا ملانا اپر کلاس میں زیادہ چلتا ہے, مڈل کلاس والے اسے اچھا نہیں سمجھتے, میری ماں کی پسند سر آنکھوں پر…یقیناً آپ نے میرے لیے کوئی لولی لنگڑی تو نہیں چنی ہو گی, ہاں اگر وہ مجھے دیکھنا چاہے, یا مجھ سے ملنا چاہے تو سو بسمہ اللہ ” وہ کہتا چلا گیا
کہا نا… کہ وہ اپنی ماں کا لاکھوں میں ایک بیٹا تھا
“چل ٹھیک ہے میں انہیں کل بلا لیتی ہوں, اور اگر ان کی طرف سے کوئی اعتراض نہ ہوا تو کل ہی تیری منگنی کی تاریخ بھی طے کر دیں گے” راحت نے کہا تھا, وہ بس آنکھیں بند کئے ان کے کمبل میں گھس گیا
“میں آج یہاں سو جاؤں ؟” اس نے پوچھا
“دیکھ لے… ہریرہ میرا جینا حرام کر دے گا صبح تجھے یہاں دیکھ کر” انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا
جاری ہے