Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406 Eid-e-Deed e Yaar Episode 8 (Last Episode)

324.5K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid-e-Deed e Yaar Episode 8 (Last Episode)

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf

ساری تیاریاں مکمل تھیں ۔۔۔۔۔۔آج چاند رات تھی۔۔۔۔۔گھر میں رونق تھی۔۔۔سب ایک ساتھ موجود تھے۔

اس نے ڈیوٹی سے واپس آتے یہاں وہاں دیکھا تو وہ اسے کچن میں جاتی دکھائی دی تو اس کے پیچھے آیا۔

اسلام علیکم۔۔۔۔

دروازے کے ساتھ کھڑے ہوتے اسے سلام کیا جو حیات کے ساتھ کھڑی تھی۔

وعلیکم السلام دونوں نے جواب دیا۔

حور کافی لے کر پہنچو۔۔۔۔۔اس نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے کہا تو وہ سمجھ گئی کہ وہ آج بھی تھکا ہوا ہے کافی۔

اس نے کافی بنا کر آج کا اپنا بیک کیا کیک رکھا اور اس کے کمرے کی طرف گئی۔

وہ نہا کر باہر نکلا تھا۔۔۔۔حور نے اس کو کافی دی اور اس کا گیلا تولیہ بیڈ سے اٹھایا۔

میر دلاور نے خاموشی سے اسے اپنے کام کرتے دیکھا جو اس کی بکھری چیزیں اٹھا رہی تھی۔

یہاں آؤ۔۔۔۔

اس نے کافی کا مگ رکھتے کہا تو وہ چونکی اور پھر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی۔

اس کے قریب آتے اس نے حوریہ کا بخار دیکھا جو اب کافی کم تھا۔۔۔۔۔

دوا لی تھی؟

جی۔۔۔۔

گڈ۔۔۔۔

مہندی نہیں لگوائی۔۔؟

اس کے خالی ہاتھ دیکھتے استفسار کیا گیا۔

وقت ہی نہیں ملا۔۔۔۔۔حوریہ نے گہری سانس بھرتے کہا۔۔۔۔اپنی شادی پر بھی اپنے سارے کام اس نے خود کیے تھے۔۔۔کیونکہ فرزین بیگم کو بی پی کا مسئلہ تھا اور حیات ویسے ہی اس حالت میں کام نہیں کر سکتی تھی۔

چلو۔۔۔۔۔وہ جو تھکا آیا تھا واپس گاڑی کی چابی اٹھائی اور اسے پیچھے آنے کا بولا۔

کل لگوا لوں گی ۔۔۔۔ابھی رہنے دیں آپ تھکے ہوئے ہیں اس نے منع کرنا چاہا۔۔۔کیونکہ وہ بھی کافی تھک گئی تھی اور سونا چاہتی تھی۔

بیشک اسے مہندی بہت پسند تھی لیکن مہندی لگوا کر دس گھنٹے کون اس کے سوکھنے کا انتظار کرتا۔۔۔۔۔اس لیے اس نے منع کیا لیکن میر دلاور رضوان کو کون روک سکتا تھا۔

اس نے نا صرف اس کے ہاتھوں پر بلکہ پاؤں پر بھی لگوائی تھی۔۔۔۔اب وہ روہانسی ہوتی نیند سے یہاں وہاں جھول رہی تھی۔

گھر آتے میر دلاور نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ باہر نکلی۔۔۔۔۔۔اس کے سلیپرز میر دلاور نے ہاتھ میں پکڑ رکھے تھے تاکہ اس کی مہندی نا خراب ہو۔

وہ اندر چلی گئی۔۔۔۔۔وہ بھی اپنے کمرے میں جاتا لیکن اس سے پہلے اسے دوا کھانے کا کہنے آیا تو واش روم میں جا رہی تھی۔

کیا کرنے لگی ہو ۔۔؟

دھونے لگی ہوں اسے۔۔۔۔۔

دماغ سیٹ ہے۔۔۔۔ابھی گھنٹا لگا کر لگوائی ہے۔۔۔۔سوکھنے دو اسے۔۔۔وہ رعب سے بولا تو اس کی آنکھیں ڈبڈبائی۔۔۔۔

میر دلاور نے اس کی نم آنکھیں دیکھتے ہونٹ بھینچے۔۔۔۔سامنے پڑا اس کا ڈرائیر چلایا اور پھر پندرہ منٹ میں اس کی مہندی سکھائی۔۔۔۔ان سب میں وہ نیند سے جھولتی اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔

وہ کتنا پیارا تھا۔۔۔۔۔اسے اب اندازہ ہوا تھا۔۔۔اور وہ کیا کچھ کہہ گئی تھی اسے۔۔۔۔۔اس کو دیکھتے حوریہ کے دل نے بیٹ مِس کی۔

اٹھو دھو اب۔۔۔۔اور اگر رنگ نہ آیا تو سزا کے لیے تیار رہنا وہ کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔کہ اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔

اس نے جلدی سے مہندی دھوئی۔۔۔اتنا گہرا رنگ دیکھتے اسے خوشی ہوئی۔۔۔۔۔ان دونوں کے نام کے پہلے حروف بھی اس کی ہتھیلی پر جگمگا رہے تھے۔

اس نے صبح کے لیے اسی کا دلوایا سوٹ نکالا ۔۔۔۔۔ساری چیزیں نکالتے وہ سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔بنا دوا کھائے۔۔۔جو وہ جاتے ہوئے رکھ کر گیا تھا۔

عید مبارک ۔۔۔۔۔۔!!

سب ایک دوسرے کو عید مبارک کہہ رہے تھے۔۔۔لیکن اسے دید یار اب بھی نصیب نہ ہوئی تھی۔۔۔۔

اسے غصہ آیا ۔۔۔۔۔۔۔وہ آج بھی گھر نہیں تھا۔۔۔۔ڈاکٹروں کی زندگی کو سوچتے اس نے جھرجھری لی۔۔۔۔

اور عادی کی طرف متوجہ ہوئی جو اس سے آنے کا پوچھ رہا تھا فون پر۔۔۔۔۔

بھائی راستے میں ہیں چھپکلی۔۔۔اتنا منہ مت سجاؤ۔۔۔۔اس نے حور کو دیکھتے کہا۔

اوئے چھپکلی کس کو بولا ہے بندررر۔۔۔حیات نے کہتے اس کے پاس آتے اس کے بال نوچے تو سب مسکرائے۔۔۔۔

تمہیں۔۔۔۔۔

آپی اسے سمجھائیں۔۔۔۔۔۔حور نے حیات کو بیچ میں لاتے کہا۔۔۔۔

مجھے بتاؤ گڑیا۔۔۔۔میری بیوی کو معاف رکھو۔۔۔اس کا کیا بھروسہ میری بیوی کو چوٹ پہنچا دے۔۔۔۔حاد نے کہتے حیات کو وہاں کرسی پر بٹھایا اور حور کی طرف متوجہ ہوا۔

آپ میری عیدی نکالیں۔۔۔پہلے اس سے بعد میں پوچھتی ہوں میں۔۔۔۔اس نے ہاتھ آگے کیا تو حاد نے جیب سے لفافہ نکالا۔۔۔۔

ایک میرا ہے۔۔۔۔۔عادی نے اس کے ہاتھ سے ایک لفافہ اچک لیا۔۔۔۔

جی نہیں۔۔۔۔دونوں حور کے ہیں۔۔۔ایک میری طرف سے ہے۔۔۔۔حیات نے کہتے حور کو دیکھا۔۔۔۔اسے حور بہت پیاری تھی۔۔۔۔جس نے اس کا سب سے زیادہ خیال رکھا تھا یہاں۔۔۔۔اسے خوش کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

بھابھی یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔۔۔عادی نے منہ بنایا تو وہ مسکرائی۔۔۔۔

عادی کو اپنی عید مل چکی تھی لیکن وہ اس کی لے کر بھاگ گیا تو حور اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔

اب وہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔۔۔حور نے اچکتے اس کے جیل سے بنائے بال ہاتھ میں پکڑے اور کھینچ ڈالے ۔۔

آہ جنگلی بلی چھوڑو۔۔۔۔۔

اس نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ ہٹائے اور اس کا بازو موڑ کر قمر کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

کسی نے یہ منظر شعلہ بار نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔

عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔!!!

اس نے اندر آتے کہا اور اس سے نظریں تک نہ ملائی۔۔۔۔۔

حور نے اسے دیکھا۔۔۔۔اسے مہندی بھی دکھانی تھی ابھی اپنی لیکن اس نے ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی تھی۔

سب سے عید ملتے وہ ناشتے کے لیے بیٹھ گیا تھا۔۔۔حور کا انتظار انتظار ہی رہا۔۔۔۔

حیات بھی اٹھتی میر دلاور کے پاس آئی تھی اود اپنا ہاتھ آگے گیا ۔۔بھائی میری عیدی۔۔۔

میر دلاور نے اسے عید دیتے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ کھل کر مسکرائی ۔۔

اب وہ دونوں عادی کے پیچھے پیچھے تھیں۔۔۔۔جو انہیں عیدی کے لیے ترسا رہا تھا۔۔۔

لیکن گھر میں حیات کو کسی نے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیا تھا۔

وہ اپنی قسمت کو دیکھتے کبھی کبھی حیران ہوتی تھی ۔۔۔اس کے زہن میں خود کے لیے ایک ہی لفظ آتا تھا اور وہ تھا ۔۔۔

Blessed….

دید تو ہو گئی تھی یار کی مگر یہ کیسی عید تھی۔۔۔۔

حوریہ نے نم نگاہوں کو جھکایا تو میر دلاور رضوان نے اسے دیکھا۔

اس کا خود کو تکنا وہ محسوس کر چکا تھا۔۔۔لیکن اس کی حرکت یاد کرتے اس نے جبڑے بھینچے اس کو اور ساتھ بیٹھے عادی کو دیکھا۔

اپنے ہاتھوں کو کنٹرول میں لاؤ عادی۔۔۔۔میں لایا تو تمہیں مسئلہ ہو گا وہ اٹھتا عادی کو بول کر چلا گیا۔۔۔۔۔

تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔بھائی نے تمہیں نہیں دیکھا ہونا میرا بال کھینچتے۔۔۔۔عادی نے منہ بسوڑتے کہا تو حور کے علاؤہ سب مسکرائے۔

ایک بہتریں دن وہ گزار چکے تھے۔۔۔اگلے دن حوریہ کی رخصتی تھی۔۔۔تو کام زیادہ تھا۔

وہ ناشتے کے بعد اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔اور اوندھے منہ جا کر بستر پر گر کر رونے لگی۔۔۔

جس کے لیے تیار ہوئی تھی اس نے ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا تھا۔

اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز سنتے بھی وہ نہیں پلٹی تھی۔۔۔

عادی مجھے ابھی کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔وہ رندھے لہجے میں بولی۔

میر دلاور رضوان نے جھٹکے سے اسے سیدھا کرتے اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔اور اس کی آنکھوں کو دیکھا جو رو رو کر ہلکی سوجی تھی۔

کس بات کا ماتم منا رہی ہو۔۔۔۔؟؟اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے پوچھا۔۔۔۔

ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔اس نے نگاہیں جھکائے ہی کہا۔۔۔۔۔

اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں ہاتھ لگانے کی۔۔۔اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے اتنی اجازت دینے کی۔۔۔؟؟

میر دلاور اس کے بال پیچھے سے تھامتے اس کا چہرہ جھٹکے سے اونچا کرتے دھاڑا۔

وہ بھائی جیسا ہے میرے۔۔میر۔۔۔۔۔

میں تب بھی کسی کو اتنی اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔اگلی بار دھیان دینا نہیں تو اس کے بعد تمہاری بھی ٹانگیں توڑ دوں گا میں۔۔۔۔وہ شدت پسندی سے بولا۔

حور نے اس سے دور ہونا چاہا ۔۔۔۔۔

کل تفصیلاً ملاقات ہو گی تم سے۔۔۔۔۔اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتے کہا تو وہ واپس بیڈ پر گری۔

کل اس کی رخصتی تھی۔۔۔۔فنکشن زیادہ بڑا نہ تھا۔۔۔۔۔اس کے بعد اس کا ارادہ اسے اپنے فلیٹ ساتھ لے جانے کا تھا۔

اس کے جانے کے بعد حور نے دوپٹہ کھینچ کر گلے سے اتار کر دور پھینکا۔

آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔میر۔۔۔۔

یہ جان لو حوریہ میر دلاور کہ میر دلاور رضوان تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔!!!وہ جو واپس اس کا بخار چیک کرنے آیا تھا یہ جملہ سنتے وہی سے دھاڑا اور دروازہ بند کرتا چلا گیا۔

اگلے دن اس نے تیار تو کیا ہی ہونا تھا۔۔۔۔۔وہ بخار میں پھنک رہی تھی رات سے۔۔۔۔سب اس کی وجہ سے پریشان تھے۔۔۔۔

اس تک خبر پہنچی تو وہ پشیمان ہوا۔۔۔۔۔۔وہ لڑکی اتنی حساس کیوں تھیں۔۔۔۔۔اسے ابھی سے خود پر ترس آیا۔۔۔۔

رخصتی کے وقت بھی اسے زیادہ دیر نہیں بٹھایا گیا تھا۔۔۔۔اسے میر دلاور کے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا۔

وہ سب کام نپٹاتا جب آیا تو میڈم ایسے ہی سو گئی تھی۔

اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔اس کے پاس آتے اسے دیکھا جو آج نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔

گلابی اور سرخ امتزاج کے جوڑے میں۔۔۔جو زیادہ بھاری نہ تھا کیونکہ اس کی نازک جان بھاری کپڑے نہیں پہن سکتی تھی۔۔۔۔ہلکا میک اپ اور ڈارک لپسٹک، بھاری جھمکے وہ میر دلاور رضوان کو سیدھا دل میں اترتی محسوس ہوئی۔

اس کے پاؤں سے ہیلز نکالتے نیچے رکھے اور اسے سیدھا کر کے لٹایا۔۔۔۔اس کا دوپٹہ اتار کر پیچھے رکھا اور جیولری اتارتے اس پر بلینکٹ دیا۔۔۔۔

خود چینج کر کے آتے اسے دیکھا جو پورے استحقاق سے اس کے کمرے، اس کے بیڈ پر براجمان تھی۔

یہ ایک جوبصورت اور مکمل احساس تھا اس نے قریب آ کر لیٹتے پہروں اسے دیکھا تھا۔

تم سے محبت کا آغاز ہو گیا ہے حور۔۔۔یہ اب دن بہ دن زیادہ ہوتا چلا جائے گا۔۔۔۔مجھے نہیں اندازہ تم میری شدتیں خود پر کیسے برداشت کرو گی۔۔۔۔لیکن کرنی پڑے گی۔۔۔تمہیں لے کر میرا دل کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔مجھے ناگوار گزارتا ہے تمہارا میرے بغیر کسی کو اپنا وقت دینا۔۔۔

۔یہ سب کب شروع ہوا اندازہ ہی نہ ہوا۔۔۔مجھے لگتا تھا مرد کو محبت جیسی خرافات میں نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔لیکن۔۔۔۔

لیکن اب محبت ہو گئی ہے تم سے۔۔۔۔اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا۔۔۔۔۔

یہ احساس کب ہوا مجھے خود بھی اندازہ نہیں شاید تب جب تمہیں نکاح میں لیا، یا شاید تب جب تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے فکر دیکھی، یا شاید تب جب تم اپنی نیند قربان کر کے میرا سر دبا رہی تھی۔۔۔اس رات میں تمہارا بولا ہر لفظ بھول گیا ۔۔

تمہاری مہندی کل تمہارے ساتھ فرصت سے دیکھوں گا۔۔۔۔۔اس کا بخار اب بھی کم نہیں ہوا تھا ۔۔۔اس نے لب بھینچے ۔۔۔۔اور اسے حصار میں لیتے سونے کی کوشش کی۔

اگلے روز ان کا ولیمہ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔سب نے اسے کہا تھا کہ وہ کل چلا جائے لیکن اسے آج ہی واپس جانا تھا۔۔۔۔۔۔حور نے اسے نم نگاہوں سے دیکھا جو اپنی ہی کرتا آیا تھا۔

گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف روا دواں تھی۔۔۔۔ڈیڑھ گھنٹے میں وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے تھے۔

اس کے دلائے اسی باربی فراک میں جو بھاری تھا اور اوپر سے بخار اور بھوک سے وہ نڈھال ہو کر گرتی کہ اس نے جھٹکے سے اسے تھاما تھا۔

مسز دلاور رضوان ابھی تو آغاز ہوا ہے زندگی کا آپ تو ابھی سے لڑکھڑانے لگی۔۔۔۔

حور نے تھک کر اس کے سینے پر سر رکھا۔۔۔وہ اسے اندر لایا اور کمرے میں چھوڑتا واپس گیا اور سامان فلیٹ میں لاتا واپس آیا۔

جہاں وہ ایسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔۔اس کے قریب آتے اسے کے پاس بیٹھا۔۔۔۔

میر۔۔۔

فرمائیں مسز۔۔۔۔۔اس نے مسکراتے کہا آج اس کی یہ مسکراہٹ سچی تھی۔۔۔۔

میری سینڈل نہیں کھل رہی اس نے کہا تو میر نے گہری سانس بھری۔۔۔۔یہی کام اب رہ گیا تھا نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھتے اس نے سینڈل کے سٹریپ کھولے تو نظر اس کے مہندی سے رچے مومی پیروں پر گئی۔

آپ کے حسن کو فرصت میں سراہے گیں بیگم اس کی طرف دیکھتے اس نے زو معنی لہجے میں کہا تو وہ سٹپٹا گئی۔

میر ۔۔۔۔

جی فرمائیں۔۔۔۔وہ سارے کام اس سے آج ہی کروانے کا سوچے بیٹھی تھی شاید۔۔۔۔

یہ بھی اتار دیں۔۔۔اس نے ہاتھ آگے کرتے اپنی گھڑی اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیاں آگے کی۔۔۔میر دلاور نے سب اتارتے اس کے جھمکے بھی اتارے۔

آئیندہ سے چھوٹے چھوٹے پہننا یہ اس نے سنجیدگی سے جھمکوں کو دیکھتے کہا تو اس نے سر ہلایا۔۔۔

بھوک لگی ہے۔۔۔

میر نے اسے کہتے کھڑا کیا تو اس نے ناں میں سر ہلایا وہ اس وقت بس سونا چاہتی تھی۔۔۔

وہ راستے میں بھی سوتی آئی تھی شاید دوا کا نشہ تھا جو میر نے صبح اور دوپہر دونوں وقت دی تھی اسے۔۔۔۔۔

اسے اس کے کپڑے تھماتے واش روم میں بھیجا ۔۔۔۔۔تو وہ چینج کرتی آ کر فوراً کمفرٹر میں گھس گئی۔۔۔

وہ چینج کر کے واپس آیا تو وہ سونے کی تیاریوں میں تھی۔۔۔۔

اس کے پاس آتے اسے جھٹکے سے اٹھا کر بٹھایا۔۔۔

کل بھی میں نے شرافت سے تمہیں سونے دیا تھا۔۔۔۔میر دلاور نے کہتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو حور نے سر اس کے سینے پر رکھا۔۔۔۔

حور۔۔۔

جی۔۔۔۔

وہ ہمہ تن گوش تھی۔۔۔۔جو سکون اس کی قربت میں تھا وہ کہیں نہیں تھا نا اس کا کوئی نعم البدل تھا۔۔

تم ضروری ہو گئ ہو بے حد۔۔۔۔اس کے سر پر بوسہ دیتے وہ بولا تو وہ مسکرائی۔۔۔۔

لیکن آپ میرے لیے تو نہیں ہوئے ابھی تک۔۔۔۔اس نے مزاح میں کہا لیکن میر نے اس کا چہرہ جھٹکے سے گھماتے اس کی نگاہوں میں اپنی نگاہیں گاڑیں۔

نہیں ہوا تو ہو جاؤ گا۔۔۔۔۔ وہ شدت پسند تھا کافی اپنی چیزوں کو لے کر حور کو پتا تھا لیکن حور کو لے کر وہ ایسا ہو گا اسے اندازہ نہیں تھا۔

حور نے سر ہاں میں ہلاتے جھکا دیا تو اس نے اس کی گردن کے قریب ہوتے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔۔

تمہاری خوشبو مجھے اپنے حواسوں پر چھاتی محسوس ہوتی ہے حور۔۔۔۔تم خدا کی طرف سے بہترین تحفہ ہو۔۔۔وہ اسے معتبر کر گیا تھا۔

کچھ کہو گی نہیں۔۔۔۔

اممم ہمم۔۔۔۔

آپ کی میری زندگی میں کیا اہمیت ہے آپ آہستہ آہستہ جان جائیں گے کیونکہ مجھے نہیں لگتا ہم لفظوں سے کسی کو مطمئن کر سکتے ہیں اس نے کہا تو میر نے دلچسپی سے سر ہلایا۔

آپ کافی دلچسپ بھی ہیں اس کی گردن پر لب رکھتے وہ بولا تو وہ دل وجان سے کانپی۔۔۔

مجھے۔۔نیند آئی ہے۔۔۔۔۔

اب تم تب سو گی جب میں اجازت دوں گا۔۔۔اسے حصار میں لیتے کہا تو اس نے آنکھیں موند لیں۔۔۔۔

میر آئیم سوری۔۔۔۔میں نے جو کچھ کہا وہ دل سے نہیں تھا۔۔۔بس غصے میں میں وہ سب بول گئی تھی۔۔۔۔مجھے بس آپ کا ڈانٹنا پسند نہیں تھا اور۔۔۔۔

میر دلاور رضوان نے اس کے آگے کے لفظ اس کے لبوں سے چن لیے تھے۔۔۔

ان کی آگے کی زندگی حسین تھی۔۔۔۔ایک دوسرے کے ساتھ، ایک دوسرے کے لیے وہ کافی تھے۔

چھ مہینوں بعد:

حیات شکر ادا نہیں کرتی تھکتی تھی۔۔۔۔وقت گزر گیا تھا جیسے جیسے اس کی ڈیلیوری کا وقت قریب آرہا تھا اس کا ڈر بڑھتا جا رہا تھا۔

حاد واپس مشن پر تھا۔۔۔گھر میں سب نے اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔۔۔۔

آج اسے اس کی طبیعت خرابی پر ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔۔۔اسے اس وقت اپنے سامنے بس حاد رضوان چاہیے تھا جو موجود نہیں تھا۔

بھائی۔۔۔حاد۔۔۔۔

اس نے میر دلاور کو کہا تو اس نے سر ہلاتے اسے سر پر پیار دیتے حوریہ کو اس کا دھیان رکھنے کا کہتے ایک بار پھر حاد کو فون ملا کر اس کی بیوی کی حالت کا بتایا تھا۔

وہ جو اس وقت سنگا پور میں تھا۔۔۔۔رات کی فلائٹ سے واپس آیا تھا۔۔۔۔آپریشن تھیٹر کے باہر وہ سانس روکے کھڑا تھا جب سے آیا تھا۔

بیٹھ جاؤ برخودار۔۔۔سب بہتر ہو گا۔۔۔اسے ایسے ہی کھڑے دیکھ میر دلاور اور میر رضوان کتنی ہی بار ٹوک چکے تھے لیکن اس نے ان کی بات نہ مانی تھی۔

اور پھر ڈاکٹر کی خبر سنتے اس نے نئی زندگی دی تھی کہ رب العالمین نے اسے بیٹی سے نوازا ہے۔

میری بیوی کیسی ہے وہ سب نظر انداز کرتا ڈاکٹر سے پوچھنے لگا۔۔۔اس کا انگ انگ اس کی بے چینی کا پتا دیتا تھا۔

اب وہ ٹھیک ہیں۔۔لیکن ابھی ہوش میں نہیں ہیں۔۔۔آپ تب تک اپنی بیٹی سے ملیں۔۔۔انہیں روم میں شفٹ کرتے ہی آپ کو بتا دیا جائے گا۔۔۔

حاد نے اپنی بیٹی کو بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔وہ اس کے ساتھ ہی اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا۔

حاد یہ میری بیٹی ہے۔۔۔میر دلاور کی آواز کان میں پڑی تو اس کے اعصاب ڈھیلے پڑے ۔۔۔۔دروازے سے نظریں تب کی اب ہٹائی اور انہیں دیکھتا مسکرایا۔

حاد یہ ہمیں دے دو حوریہ بولی تو سب مسکرائے۔

تمہاری ہی ہے لے لو۔۔۔حاد نے بولتے اسے خوش کیا تھا۔۔۔بھائی یہ آپ کی ہی بیٹی ہے حاد نے میر دلاور کو دیکھتے کہا جو آج کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دیتا تھا۔

حوریہ خود ایکسپیکٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔اس کی ڈیلیوری میں بھی تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا ۔۔۔لیکن وہ اس کی اولاد کے لیے بے حد خوش ھے۔

حیات سے ملتے میر حاد نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔

میری بیٹی۔۔۔۔۔

ہماری بیٹی ۔۔۔حاد نے اس کے جملے کی تصحیح کی اور اور اپنی بیٹی کو اس کی گود میں دیا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا پڑی۔۔۔

شکریہ اس تحفے کا زندگی۔۔۔۔حاد نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا۔۔۔

شکریہ آپ کا حاد مجھے مکمل کرنے کے لیے۔۔۔یہ لفظ بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔میری زندگی کا کُل اثاثہ آپ ہیں حاد۔۔۔۔آپ کو دیکھ کر مجھے احساس ہوتا ہے دعائیں کبھی رد نہیں کی جاتی ۔۔۔۔اور دل سے دعا مانگنے کا صلہ مجھے رب نے میجر میر حاد رضوان کی صورت میں دیا ہے۔۔۔۔۔وہ حاد کو کہتی معتبر کر گئی تھی۔

حور نے دیکھو میری بیٹی کے گال سرخ کر دیے ہیں چوم کر حاد نے مصنوئی ناراضگی سے کہا۔

کوئی بات نہیں۔۔۔۔میں بھی اس کے بیٹے کے ایسے ہی لال کر دوں گی چوم کر حیات نے مسکراتے کہا تو میر حاد بھی مسکرا دایا۔

مجھے اسی وقت کپ کیکس کھانے ہیں۔۔۔وہ گھر میں داخل ہوا تو وہ صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔

وہ تیزی سے اس کے پاس آیا۔۔۔۔

کیا کہا ہے تم نے عادی۔۔۔؟میر دلاور نے ہمیشہ کی طرح عادی سے پوچھا۔۔۔۔

عادی نے منہ بسوڑا۔۔۔۔اس کے بھائی اپنی بیویوں کو لے کر اتنے پاگل کیوں تھے وہ ہمیشہ سوچتا تھا۔۔۔۔ڈانٹ اسے پڑتی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے بھائی اس سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔۔اور اپنی بیویوں کے معاملے میں وہ صرف عادی پر بھروسہ کرتے تھے۔

کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ان مہرانی کے وہ فضول سے کپ کیکس ختم ہو گئے ہیں اور موسم دیکھیں باہر کتنا خراب ہے یہاں کسی لوکل دکان کے ناک پر نہیں چڑھتے اس کے۔۔۔عادی تو جیسے بھرا بیٹھا تھا۔

فرزین بیگم نے عادی کو گھورا۔۔۔۔۔

حیات بھابھی نے اس کو کیک بنا کر دیا تھا جو یہ صبح ہی کھا گئی تھی۔۔۔اتنا میٹھا کھا کر کرے گی یہ کیا۔۔۔۔

تم چپ کرو۔۔۔۔میر دلاور نے اسے ٹوکا اور اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔

حور کھانا کھایا ہے۔۔۔۔؟ وہ ان دنوں واپس گھر آ گئے تھے کیونکہ اس کے ڈیوٹی پر جانے کے بعد وہ اکیلی رہ جاتی تھی اور وہ اسے اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔

اس نے اپنا کام بھی کم کروا لیا تھا حوریہ کی وجہ سے۔۔۔کیونکہ سارا وقت اسے چاہیے ہوتا تھا۔۔۔

اس کے موڈ سوئینگز وہ خاموشی سے برداشت کرتا تھا جیسے ابھی کر رہا تھا۔

نہیں۔۔۔۔وہ شوں شوں کرتے بولی۔

اٹھو کھانا کھاؤ پہلے۔۔۔میں آرڈر کرتا ہوں تب تک آجائیں گے۔۔۔میر دلاور نے اسے کھڑا کرتے اس کے گرد حصار بنایا اور اسے کھانے کی میز پر بٹھاتا خود ہاتھ دھو کر واپس آیا۔

اسے کھانا کھلاتے وہیں صوفے پر بٹھایا۔۔۔۔اس کے پاؤں پر نظر پڑتے اس کے تاثرات سخت ہوئے۔

یہ کہاں چلتی پھرتی رہی ہو آج۔۔۔میں منع کر کے گیا تھا نا تمہیں میر دلاور نے اس کے سوجے پیروں کو دیکھتے کہا تو حور نے آنکھیں چرائی۔۔۔وہ ایسا اپنی غلطی پر کیا کرتی تھی۔

اب وہ لاابالی طبیعت کی نہیں رہی تھی۔۔۔میر دلاور کے لیے اس نے خود کو کافی بدل لیا تھا۔۔۔لیکن اپنی زات سے ابھی بھی وہ کافی لاپرواہ تھی جس کا میر دلاور خاصہ دھیان رکھتا تھا۔

حیات آپی۔۔۔۔؟

جی ۔۔۔۔حیات جو ابھی کھانے کی میز پر آئی تھی اس کے پاس آئی۔۔۔۔

خوشی کہاں ہے۔۔۔۔۔اس کا سارا دن حاد اور حیات کی بیٹی کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔۔۔۔

سو گئی ہے ۔۔۔۔ ابھی اٹھے گی تو پکڑ لینا ۔۔۔تم نے کھانا کھایا۔۔۔اور رو کیوں رہی تھی؟ مجھے کمرے میں آواز آرہی تھی تمہاری حیات نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔

ان دونوں میں بالکل بہنوں والی محبت تھی۔۔۔حیات کی بار حوریہ نے اس کا بہت دھیان رکھا تھا اور اب حیات اس کا زیادہ دھیان رکھ رہی تھی کیونکہ وہ لاپرواہ تھی کافی۔

لو یہ کیکس آ گئے تمہارے موٹی۔۔۔۔۔کھا کر اور پھول جاؤ۔۔۔عادی باہر سے جا کر اس کے لیے کیکس لایا تھا جو میر دلاور نے آرڈر کیے تھے۔

میر دلاور نے اسے گھورا تو وہ کھل کر مسکریا۔۔۔اور اسے دیکھا جو کھول کر کھانے لگ گئی تھی۔۔

اسے کپ کیکس کا تو ناجانے کیا ہی بھوت چڑھ جاتا تھا۔

تھوڑی دیر بعد کھا لینا ۔۔۔۔دو تم پہلے ہی کھا چکی ہو۔۔۔میر دلاور نے فون سے نظریں اٹھا کر اس ندیدی کو دیکھا۔

بس ایک اور ۔۔۔۔حور نے کہتے کھانا شروع کیا لیکن ابکائی آتے ہی وہ واش روم کی طرف گئی۔۔

میر دلاور فون رکھتا اس کے پیچھے گیا جو بیسن پر جھکی تھی ۔۔۔اس کا منہ ٹشو سے صاف کرتا باہر آیا۔

ایک بات سے منع کیوں نہیں ہوتی ہو تم حور۔۔۔بچی ہو چھوٹی سی۔۔۔کیوں لاپرواہ ہو خود سے اتنی۔۔۔آگے کبھی میں نہیں ہوں گا تو کیا کرو گی۔۔۔؟ میر دلاور نے سنجیدگی سے اسے کہا تو اس نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

خبردار روئی تو۔۔۔۔چلو اب سو جا کر۔۔۔میر دلاور نے اسے کمرے میں بھیجا۔

رات میں اس کی طبیعت خراب ہوتے میر دلاور رضوان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے ۔۔۔۔بروقت اسے ہسپتال پہنچایا۔۔۔

اپنے خوبصورت سے بیٹے کو ہاتھ میں لیتے میر دلاور رضوان کے ہونٹوں پر تبسم بکھرا۔۔۔

بھائی یہ تو پکا میرا بیٹا ہے دیکھیں میرے جیسا ہے۔۔۔۔حاد نے کہا تو میر دلاور نے اس کی گود میں دیا۔

نہیں میرے پر جائے گا یہ چاچو کا چیمپ۔۔۔۔عادی نے کہا تو میر دلاور نے اسے ساتھ لگایا۔

حوریہ سے ملتے اس نے میر فاز دلاور کو اس کی گود میں دیا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

تم نے مجھے مکمل کر دیا حوریہ دلاور۔۔۔میر دلاور نے کہتے جھک کر اس کے کندھے پر بوسہ دیا۔

آپ کی بیٹی مجھے رات کو سونے نہیں دیتی حاد۔۔۔حاد کے واپس آتے ہی حیات نے شکوے کرنا شروع کیے تھے۔

میری بیٹی ہے۔۔۔۔۔۔ہم آپ کو چین سے نہیں جینے دیں گے۔۔۔۔۔۔حاد نے کہتے اسے حصار میں لیا۔

جب میں آپ دونوں سے دور ہو جاؤں گی تب آپ دونوں کو احساس۔۔۔۔

وہ اپنا جملہ مکمل کرتی کہ اپنی قمر پر میر حاد کی دھنستی انگلیاں محسوس کرتی رکی۔

مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔

اور جو درد تم مجھے اپنی یہ فضول گفتگو سے دیتی ہو اس کا کیا۔۔۔۔اس نے سرد لہجے میں کہا۔

میری غلطی ہے۔۔۔میری قمر سے ہاتھ ہٹائیں میر آپ مجھے چوٹ پہنچا رہے ہیں اس نے نم لہجے میں کہا تو حاد نے اسے خود سے دور کیا۔

وہ واپس اس کے حصار میں آئی میں نے دور کرنے کا نہیں کہا تھا اس نے لب حاد کی بئیرڈ پر رکھتے کہا۔

حاد نے اس کے بالوں کی خوشبو خود میں اتارتے آنکھیں موندی۔

اپنی گردن پر میر حاد کا لمس وہ محسوس کرتی آنکھیں موند گئی۔

فاز نے انہیں ساری رات جگایا تھا۔۔۔حوریہ اب اس کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔

حور اٹھو۔۔۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔

آج آپ چھٹی کر لیں میر۔۔۔مجھے طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی اس نے کہا تو میر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

کیا ہوا۔۔۔۔طبیعت کو۔۔۔۔کیا کھایا تھا رات کو۔۔؟

ابھی مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔آپ چھٹی کر لیں تھوڑی دیر بعد اٹھ کر بتاؤں گی کہ کیسا محسوس کر رہی ہوں۔۔۔۔

حور اٹھو مجھے جانا ہے ۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا وہ ڈرامے کر رہی ہے لیکن حور کو اٹھنے نا دیکھ اس نے چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتے اپنی بییرڈ اس کے چہرے پر پھیری۔

میرر۔۔۔۔۔

حوریہ نے چیخ کر اسے پکارا تو میر دلاور رضوان کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا۔

اور اسی کے ساتھ فاز کے رونے کی آواز سنتے حور نے منہ بسوڑ کر میر کو دیکھا تھا۔

میں نہیں اٹھ رہی اپنے بیٹے کو سنبھالیں۔۔۔۔ساری رات اس نے مجھے سونے نہیں دیا حوریہ نے کہتے چہرہ تکیے میں دیا۔

میر دلاور رضوان نے فاز کو اٹھایا اور کمرے میں چکر کاٹنے لگا اسے سلاتے واپس حور کے ساتھ لٹایا اور ساتھ تکیہ رکھا۔

حور میری جان میں جا رہا ہوں۔۔۔فاز کا اور اپنا دھیان رکھنا آج لیٹ ہو جاؤ گا۔۔۔۔

حور سن رہی ہو۔۔۔۔۔

اس کے گال پر دانت گاڑھتے وہ پیچھا ہٹا تھا ۔۔۔۔حود نے سر کے نیچے سے تکیہ نکالتے اس کی طرف اچھالا تو میر دلاور کھل کر مسکرایا۔

وقت گزر رہا تھا ایک دوسرے کی سنگت میں، ہر دن کے ساتھ میر دلاور اور میر حاد کی محبت اپنی بیویوں کے لیے بڑھتی چلی گئی تھی۔

وہ مکمل تھے ایک دوسرے کے ساتھ، خوش اور مطمئن۔

میں نے پڑھا ہے اسے ا تا ے تک

اس کی ہر یاد کو لکھا ہے دل پر

سوچا تھا حفظ کر لوں گی اسے

مگر وہ تو پیچیدہ ہے ہر حرف پر

اس کی ہر اٹھتی نگاہ کو گنا ہے میں نے

اب تو گنتی کم پر گئی ہے اس پر

دل کی دھڑکنوں میں انتشار برپا ہے

وہ جب نظرِ ثانی کرتا ہے مجھ پر

سوچا تھا اب عشق کی انتہا کر دوں اس پر

مگر ہر بار لگتا ہے ابھی تو عشق ابتدا ہوئی ہے اس پر