Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406 Eid-e-Deed e Yaar Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Eid-e-Deed e Yaar Episode 5
Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf
میر دلاور نے اُسے اندر آتے دیکھ اس کے ہاتھ میں دیکھا۔۔۔۔
یہ لیں دوا لیں ۔۔۔۔حوریہ نے اس کے ساتھ بیٹھتے ٹرے سے میر کو پانی کا گلاس تھمایا۔۔۔۔اس کے چہرے پر وہ فکر دیکھ سکتا تھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ اس رشتے کو غلط کہہ رہی تھی اور اب ۔۔۔۔کیا وہ یہ سب صرف ہمدردی میں کر رہی تھی۔۔۔۔؟
اس نے دوا لی اور ویسے ہی لیٹ گیا۔۔۔۔۔بتی بجھا جانا۔۔۔۔اس نے کہا اور آنکھیں موند لی۔۔۔
حوریہ نے چند لمحے سوچا۔۔۔۔پھر اے سی اون کیا بتی بجھائی اور واپس آئی۔
میر حاد رضوان نے اس کا پاس آ کر بیٹھنا اور پھر اپنا سر اس کی گود میں محسوس کیا تھا۔۔۔۔اپنے ماتھے پر اس کے چھوٹے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے اس نے آنکھیں موندی۔
وہ اس کا سر دباتی اب کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھی اس پر۔۔۔۔۔اس نے ایسا کیوں کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔لیکن میر دلاور کی آنکھیں اس کے رات جگے کی گواہ تھی۔۔۔وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکی تھی۔
میر۔۔۔۔۔۔دس منٹ بعد اس کی آواز گونجی۔۔۔
ہم۔۔۔۔۔
ٹھیک ہوا درد۔۔۔۔۔
تم نے جانا ہے تو تم جا سکتی ہو۔۔۔۔وہ ہولے سے بولا۔۔۔۔
میں نے اس لیے تو نہیں پوچھا۔۔۔۔وہ خفا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اٹھنے لگی کہ وہ اس کے ہاتھ تھام چکا تھا۔
ابھی ٹھیک نہیں ہوا ہے۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ تھامتے واپس سر پر رکھے تو وہ ہولے سے دبانے لگی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سو گیا تو وہ ہولے سے اس کا سر تکیے پر رکھتی اٹھی نظر اس پر پڑی تو رک گئی۔۔۔۔
وہ حسین تھا بلاشبہ اس کی بیرڈ، اس کی بند آنکھیں، اس کا ناک اس کے بال۔۔۔۔۔اس کے چہرے کی سنجیدگی اسے سب سے مختلف بناتی تھی۔
اسے دیکھتی وہ الگ احساسات میں گھری باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب وہ اٹھا تھا وہ ایک دم فریش تھا۔۔۔۔خود کا سر تکیے پر اور اپنے اوپر کمفرٹر محسوس کرتے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔
وہ فریش ہو کر ناشتے کی غرض سے نیچے آیا کیونکہ آج اس کا جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔۔۔
وہ سیڑھیاں اترتا نیچے آیا جہاں آخری سیڑھی پر ہوا میں اڑتے کشن نے اسے سلامی پیش کی تھی۔۔۔وہ بر وقت پیچھے ہٹا تھا نہیں تو اس کے منہ پر لگ جاتا۔
سامنے کا منظر کچھ یوں تھا کہ عادی آگے تھا اور وہ پیچھے۔۔۔۔ایک دوسرے کو آٹے سے رنگا تھا دونوں نے۔۔۔۔۔حوریہ نے عادی کو اب پکڑا تھا اور اس کے بال دونوں ہاتھوں میں تھام کر کھینچے تھے۔
عادی کے بچے۔۔۔ خدا کرے تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہ بنے کوئی تم سے شادی نہ کرے۔۔۔۔۔تمہارے بچے تمہیں اتنا تنگ کریں کہ تم رونے لگ جاؤ وہ اس کے بال کھینچتے اسے بددعائیں دے رہی تھی۔
حور کی بچی چھوڑو۔۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔۔۔اس کی دھاڑ سے وہاں سکتہ چھا گیا۔۔۔۔
وہ دونوں سیدھے ہو کر کھڑے ہوئے۔۔۔۔
یہ عادی نے مجھے گندا کر دیا ہے سارا۔۔۔۔اِس سے آٹا اتارنے کے لیے کہا تھا اس نے اتارتے سارا ڈبہ نیچے انڈیل دیا ۔۔۔۔خود تو گندا ہوا تھا اور مجھے بھی کر دیا۔۔۔۔حوریہ نے سب تیزی سے بتایا۔
بھائی یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔اس نے مجھے کہا تھا پانی پکڑاؤ میں نے نہیں پکڑایا تو اس نے مجھ پر آٹا پھینکا اور پھر میں نے۔۔۔عادی نے اسے دیکھتے کہا جو خونخوار طریقے سے اسے ہی گھور رہی تھی۔
تم دونوں کی سزا یہ ہے کہ آج سارا کچن تم صاف کرو گے۔۔۔۔۔کیونکہ کوئی تمہارا ملازم نہیں لگا یہاں۔۔۔۔۔چلو نکلو دونوں۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔۔۔
اس مہینے کا جیب خرچ چاہیے یا نہیں۔۔۔۔۔اس نے کہا تو عادی فوراً بھاگ کر کچن میں گیا۔۔۔۔
تم یہاں آؤ۔۔۔۔۔۔۔
حوریہ کو بھی جاتے دیکھ اس نے کہا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی۔
آگے بڑھتے اس کی شرٹ کے بازو نیچے کیے اور اسے سخت نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔دوپٹہ کہاں ہے تمہارا۔۔۔؟
وہ۔۔۔۔حوریہ نے دیکھا جو بھاگتے ہوئے سامنے ٹی وی لاونج کے دروازے میں گرا تھا۔۔۔۔۔
آئیم سوری ۔۔۔۔۔اس نے دھیمے سے کہا۔۔۔۔
اٹھاؤ جا کر فوراً۔۔۔۔۔۔اور ڈھنگ کے کپڑے پہنا کرو۔۔۔اسےچھوٹے سے کرتے کے ساتھ جینز پہنے دیکھ وہ بولا۔۔۔۔
وہ آگے گیا تو پیچھے سے حوریہ نے اسے منہ چڑھایا لیکن وہ سامنے موجود کھڑکی میں اس کا عکس دیکھ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت ایسے ہی گزر رہا تھا۔۔۔۔اس نے حوریہ کو یونیورسٹی جانے کی اجازت دے دی تھی۔۔۔۔لیکن عادی کو اس کی حفاظت کا بولا تھا۔۔۔۔
کیونکہ وہ خود سے بہت لاپرواہ تھی۔۔۔۔اس کا گلے میں لٹکتا دوپٹہ اور اس کا چھوٹی کرتی پہننے کا جنون اسے ناگوار گزرتا تھا۔
ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں پاس کیا۔۔۔۔؟اسے یونیورسٹی کے لیے کمرے سے نکلتا دیکھ وہ بولا۔
اس میں کیا برائی ہے وہ سنجیدگی سے بولی۔۔۔۔
برائی کوئی بھی نہیں ہے لیکن باہر جاتے وقت اچھے کپڑے ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔
تو کیا اب میں کپڑے بھی آپ کی پسند کے پہنوں گی۔۔۔۔وہ آج کچھ زیادہ ہی سنجیدہ تھی۔۔۔
آگر میں کہوں ہاں تو۔۔۔۔۔میر دلاور رضوان نے والٹ جیب میں رکھا اور اس کے قریب آیا۔
تو مجھے نہیں پہننا۔۔۔۔ان سب سے میرا دم گھٹتا ہے۔۔۔یہ پابندیاں۔۔۔۔یہاں نہیں جانا ۔۔۔وہاں نہیں جانا۔۔۔۔ایسے نہیں کرنا، ویسے نہیں کرنا۔۔۔۔۔یہ نہیں پہنو۔۔۔ایسے دوپٹہ لو۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے میری زندگی میری نہیں آپ کی ہے۔۔۔۔ایسی زندگی میں نے نہیں چاہی تھی۔۔۔کاش میرے اماں ابا ہوتے تو مجھے یہاں آپ کے ساتھ ایک گھر میں نہیں رہنا پڑتا۔۔۔وہ جو آج بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔
بیشک اسے اس گھر میں بہت پیار ملا تھا۔۔۔لیکن وہ شخص ہمیشہ اس پر سختیاں کرتا اور پابندیاں لگاتا تھا۔۔۔اسے حوریہ زیشان سے الگ ہی کوئی مسئلہ تھا ایسا اسے لگتا تھا۔
وہ ایک نظر اسے دیکھتا چلا گیا۔۔۔۔حوریہ نے حیرانی سے اس کی پشت کو گھورا۔۔۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے ہی چلا گیا تھا۔۔۔۔
مجھے کیا۔۔۔۔اس نے کندھے اچکائے۔۔۔
میں تھک گئی ہوں کھڑے رہ کر۔۔۔۔وہ ایک بار پھر وہ بول گئی تھی جو اسے نہیں بولنا چاہیے تھے۔
حاد نے بنا کچھ کہے اپنے قدم تیزی سے اس سے دور کرتے بیڈ کی طرف بڑھائے تھے اور اپنا لیپ اٹھا کر بیٹھ گیا تھا۔
اس کے ماتھے پر پڑی سلوٹیں، اور اس کی سرخ نگاہیں اس کے ضبط کے آخری مراحل کی نمائندگی کر رہیں تھی۔
حیات کی نگاہیں پل میں بھیگی ۔۔۔۔وہ واش روم میں گھسی تو میر حاد رضوان نے گہرا سانس بھرتے خود کو نارمل کرنا چاہا۔
وہ چینج کرتی اپنا سامان سمیٹتی اب کھڑی انگلیاں چٹکا رہی تھی۔۔۔
آجائیں۔۔۔۔۔میر حاد کی سنجیدہ آواز پر وہ بیڈ کی دوسری طرف بیٹھ گئی۔
کمفرٹر دوسرا الماری میں پڑا ہے ۔۔۔۔۔اس کی نظر کمفرٹر پر محسوس کرتے وہ بولا تو وہ پھر شرمندہ ہوئی۔
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد حیات کو اپنی قمر اکرتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
بھوک لگی ہے۔۔۔؟
حاد نے سر اٹھائے بنا اس سے پوچھا۔
نہیں۔۔۔اس نے دھیمی آواز میں کہا اور اسی کا کمفرٹر اوڑھتے قمر بیڈ کی ٹیک سے لگائی۔
چہرے کا رخ اس کی طرف کرتی وہ مسلسل پچھلے تئیس منٹ سے اسے دیکھ رہی تھی بنا پلک جھپکے۔۔۔
اگر میں آپ کو ایسے دیکھتا تو آپ نے بیہوش ہو جانا تھا حیات اس نے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھاتے حیات کو کہا تو اس نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلا۔
لیکن میں حساب رکھتا ہوں۔۔۔۔آپ خود پر میری نظروں کا ارتکاز جب محسوس کریں جان جائیے گا یہ میرا بدلہ ہے۔۔۔
آپ سمیل رانا کے کیس پر کام کر رہے ہیں۔۔۔۔اس نے بات بدلتے کہا تو حاد نے ہونٹ بھینچتے سر ہاں میں ہلایا۔
اور دوبارہ کام میں لگ گیا۔۔۔لیکن پانچ منٹ بعد خود کے پاس ہلچل محسوس ہوتے اسے دیکھا جو اس کے ساتھ آ کر اب اس کے لیپ ٹاپ پر کھلی سلائیڈ کو پڑھ رہی تھی۔
حاد نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہا۔۔۔۔اس نے بال ہلکے نم تھے جنہیں ابھی دھویا گیا تھا۔۔۔اسے اندازہ ہو گیا تھا وہ اپنے بالوں پر بہت توجہ دیتی ہے۔
گلابی نائیٹ سوٹ میں وہ اس سے بڑی تو کیا تین چار سال چھوٹی ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
حاد نے اس کے مسلسل آگے آتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے اسے دیکھا تو دونوں کی نظریں ملیں۔
کیا میں آپ سے کچھ مانگوں۔۔۔حیات نے جھجھکتے کہا۔
آپ کو مانگنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی چاہیئے حیات۔۔۔۔آپ حاد رضوان کی بیوی ہیں۔۔۔۔مجھ سے منسلک سب آپ کا ہے۔۔۔چو چاہیے اسے بنا پوچھے لے لیں۔۔۔
اور اگر وہ آپ کی کوئی پسندیدہ چیز ہوئی تو؟؟ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
پسندیدہ اب میرے نزدیک ایک ہی وجود ہے۔۔۔باقی سب تو مایا ہے۔۔۔۔اس نے دھیرے سے کہتے اس کے ہاتھ کو دیکھا۔
حیات نے اس کی نظروں کا ارتکاز اپنے ہاتھوں پر محسوس کرتے کانپتے ہاتھ کی ہتھیلی کو کھولا۔
ایک مسکراہٹ میر حاد رضوان کے عنابی لبوں پر چھائی تھی۔۔۔۔
حیات کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے اس نے حیات کو دیکھا جو کنفیوژ سی اس کے دل کے تار چھیر رہی تھی۔
اگر کوئی میر حاد سے پوچھتا کہ اس کے نزدیک سب سے حسین کیا ہے تو وہ بلا جھجھک اپنی شریکِ حیات کا نام لیتا۔
مانگیں!!
اسے خاموش دیکھتے حاد نے پوچھا۔۔۔۔لیکن اس کا جواب سنتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔
آپ کی وہ شال مجھے دے دیں اس نے سامنے پڑی شال جو کچھ دیر پہلے اس نے ان دونوں پر دی تھی ۔۔۔اس کو دیکھتے بولی۔
وہ تو پرانی ہو گئی آپ کو نئی دلوادوں گا اگر آپ کو پسند آئی تو۔۔میر حاد نے حیرت کو کم کرتے کہا۔
نہیں مجھے وہی چاہیے بس۔۔۔۔۔ حیات نے صدی انداز میں کہا تو وہ چونکا۔
لے لیں آپ کی ہی ہے ۔۔۔۔۔اسے ساتھ لگاتے اپنا بازو اس پر سے گزارتے اسے حصار میں لیتے کہا۔
شکریہ۔۔۔۔وہ مسکرائی تھی۔۔۔یہ مسکراہٹ دل سے تھی۔۔۔۔اسے یہ شال کتنی پسند آئی تھی وہ یہ راز کبھی نہ جان پاتا۔۔۔۔
اس سے منسلک مرد نے اسے یہ اوڑھتے اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا لیکن جب میر حاد نے وہ ہٹائی تو اسے لگا تھا جیسے وہ تحفظ اس سے چھین لیا گیا ہو اور وہ تپتی دھوپ کے نیچے پھر بے آسرا کھڑی کر دی گئی ہو۔۔۔۔اس لیے اس نے اس سے وہ لے لی تھی۔۔۔۔
سونا نہیں ہے نیند نہیں آئی۔۔۔؟
آ رہی ہے ۔۔۔لیکن مجھے نئی جگہ پر نیند نہیں آتی اس نے آنکھیں بند کرتے کہا۔
تو حاد نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے پرسکون کیا۔۔۔۔جس میں وہ کامیاب ہوا تھا وہ چند لمحوں میں ہی سو گئی تھی۔
اسے سوتے دیکھ وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔وہ اس کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔وہ کیوں مخالف کے لیے اتنا بے قرار ہو رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل انہیں واپس جانا تھا۔۔۔۔۔وہ جس کیس پر کام کر رہے تھے وہ سنگین ہوتا جا رہا تھا۔
ان دنوں میں حاد نے اس کی چھوٹی چھوٹی چیز کا بھی دھیان رکھا تھا۔۔۔۔
اب بھی وہ گاڑی کا سفر کرتے واپسی کی راہ پر گامزن تھے۔۔۔
حیات میں نہیں چاہتا آپ اس کیس پر کام کریں۔۔۔۔وہ جو باہر کے مناظر میں کھوئی تھی چونکی۔
مگر کیوں۔۔۔؟
وجہ جو بھی ہے میں بس نہیں چاہتا۔۔۔
یہ میرا پہلا کیس ہے ۔۔۔۔اس نے دھیمے سے کہا۔
آپ اگلے کیس پر کام کر لیں۔۔۔۔۔حاد نے سامنے سڑک پر ہی نگاہیں مرکوز کرتے کہا۔
یہ میری زاتی زندگی سے منسلک ہے میں اس کیس کو چھوڑنا نہیں چاہتی اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو خاموشی چھا گئی۔
حیات کو اس کی خاموشی چبھی تھی۔۔۔۔
میرے سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔اس کی توجہ نہ ملتے اس نے کہا۔۔۔اسے سفر کرنا بہت برا لگتا تھا اور اکثر اس کے ساتھ یہ ہوتا تھا جب وہ سفر کرتی تھی لیکن ابھی معمولی سے سر درد کو اس نے توجہ نہ ملتے دیکھ بہنانہ بنایا تھا۔
حاد نے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے نم نگاہوں سے اسے دیکھا۔
میرا سر درد ہو رہا ہے حاددد۔۔۔۔اس نے زرا تیز آواز میں اب کی بار کہا۔
آہستہ بولیں میں سن رہا ہوں۔۔۔۔میر حاد نے سنجیدگی سے کہا تو حیات نے رخ موڑ لیا۔
حاد نے اس کی طرف دیکھتے گاڑی سائیڈ پر روکی تھی اور اگر اتر کر سامنے سٹور میں گیا تھا۔
واپس آتے اس کی جھولی میں پانی کی بوتل، سینڈوچ اور پین کلر رکھتے اس نے اسے کھانے کا اشارہ کیا۔
یہ نہیں کھانا۔۔۔۔
فوراً سے پہلے کھاؤ۔۔۔حاد نے کہا تو وہ اسے بتا نہ پائی کہ وہ سفر میں کچھ نہیں کھاتی نہیں تو اس کا دل خراب ہوتا ہے ۔۔۔
پین کلر لیتے اس نے آنکھیں موند لی تو حاد نے مطمئن ہوتے اس کی سیٹ کو پیچھے کرتے گاڑی سٹارٹ کی۔
مجھے سچ میں یہ کیس نہیں چھوڑنا۔۔۔اس کی آواز سنتے حاد رضوان کے ہونٹ استہزایہ انداز میں اوپر کو اٹھے ۔
حیات حاد رضوان۔۔۔۔یہ تمہاری ضد ہے تو ضد ہی سہی۔۔۔لیکن یاد رکھو جس جگہ مجھے لگا کہ اب معاملات پیچیدہ ہو گئے ہیں اسی لمحے تمہیں وہ کیس چھوڑنا پڑے گا۔۔۔۔۔یہ آپشن نہیں دے رہا تمہیں حتمی فیصلہ سنا رہا ہوں۔۔۔
وہ آپ سے تم کا سفر اپنی مرضی سے کرتا تھا حیات نے اتنا تو جان لیا تھا۔۔۔
لیکن۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔
سو جاؤ۔۔۔۔ابھی وقت ہے گھر پہنچنے میں۔۔۔۔
اس نے کہا تو وہ واقعی ہی آنکھیں موندے سو گئی۔۔۔
اس کے بعد سے میر دلاور رضوان نے حوریہ دلاور رضوان سے مخاطب ہونا چھوڑ دیا تھا۔
وہ اسے دیکھتا تک نہیں تھا۔۔۔۔۔نا اسے ٹوکتا تھا۔۔۔۔اور حوریہ کے مطابق یہ سب سکون کا باعث تھا۔
آج ان کے کزن آسٹریلیا سے آنے والے تھے۔۔۔۔۔ناہید اختر آج اپنے بیٹے کے ساتھ آ رہی تھی جس کی صبح سے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔
حوریہ کے بی ایس سی کے امتحانات بھی ہونے والے تھے۔۔۔۔۔اور ایک مہینے بعد رمضان بھی آنے والا تھا۔۔۔۔
اور ہر سال وہ عید کے لیے کچھ پرجوش ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔اس بار بھی اس نے سب کرنے کا سوچا تھا لیکن نہیں جانتی تھی کہ یہ عید اس کی زندگی کی یادگار عید ہونے والی ہے۔
میر دلاور رضوان آج بھی نہیں آیا تھا گھر۔۔۔۔۔حوریہ حیران تھی اس کے رویے پر۔۔۔۔۔کبھی اسے لگتا تھا وہ زیادہ بول گئی ہے ۔۔۔لیکن اس سے معافی مانگنے کی ہمت نہ کر پائی تھی وہ ابھی تک۔
ناہید اختر اور ان کے بیٹے فرزند اختر آ چکا تھا۔۔۔۔وہ سب سے ملتے اندر بیٹھے اب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
فرزند پروفیسر تھا وہاں کی بہترین یونیورسٹی کا۔۔۔۔اسے حوریہ سے مل کر اچھا لگا تھا۔۔۔
اب وہ اس مہینے یہی رہنے والے تھے۔۔۔۔۔کیونکہ ناہید بیگم کا کہنا تھا کہ وہ فرزند کے لیے دلہن دیکھنے آئیں ہیں اور دوسرا رضوان صاحب اور فرزین بیگم عمرہ پر گئے تھے تو ان کے لیے بھی وہ یہاں رکیں تھیں۔
ایسی ہی باتوں میں رات ہو گئی۔۔۔۔کھانے کی میز پر سب بیٹھے تھے۔۔۔۔
دلاور کہاں ہے بھئی۔۔۔۔صبح سے نظر نہیں آیا۔۔۔۔ان کے کہنے پر حوریہ نے نظریں اٹھائیں۔
بس آنے والے ہوں گیں بھائی۔۔۔عادی نے کہا تو اس نے نظریں جھکائیں۔۔۔۔۔۔اسے اب برا لگا رہا تھا۔۔۔۔
آپ کیا کرتی ہیں حوریہ۔۔۔۔۔؟فرزند نے یک دم اس سے سوال پوچھا تو وہ چونکی۔۔۔۔
بی ایس سی۔۔۔۔بس ابھی امتحان دے کر فری ہو جاؤں گی اس نے کہا تو فرزند نے سر ہلایا۔
وہ دونوں چونکے ساتھ بیٹھے تھے اس لیے فرزند اس سے اور عادی سے بات چیت بھی کر رہا تھا۔
وہ کھلے ماحول میں پلا بھرا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس نے حوریہ کو دیکھا جو کھانا کھا رہی تھی۔۔۔اسے وہ پسند آئی تھی بے حد۔۔۔۔۔لیکن اسے پتا تھا کہ اس کا نکاح ہو چکا ہے۔
اسلام علیکم!
میر دلاور رضوان نے اندر آتے سلام کیا۔۔۔۔اور پہلی نظر حوریہ اور اس کے ساتھ بیٹھے فرزند سے جا ٹکرائی۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔ناہید بیگم نے اسے اٹھ کر پیار دیا تھا اب وہ فرزند سے مل رہا تھا۔۔۔
پسند اچھی ہے تمہاری مین۔۔۔۔وہ اس کے کان میں بولا لیکن میر دلاور رضوان کو اندازہ نہ ہو سکا کہ کس پسند کی بات کی گئی ہے۔
کھانا کھاؤ گے میر۔۔۔ناہید بیگم نے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔بس کافی پیوں گا۔۔۔اس نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔۔۔
حوریہ میر کی کافی بنا دو بیٹا۔۔۔۔حوریہ کو اپنی جگہ سے اٹھتا دیکھ وہ بولی۔
نہیں پھپھو۔۔۔۔۔آپ ملازمہ سے بنوا دیں مجھے اور کسی کے ہاتھ کی نہیں پسند۔۔۔۔وہ جو جی کہنے والی تھی پیچھے سے دلاور کی آواز سن کر رکی۔
اس کی آنکھیں لبا لب پانی سے بھر گئیں مہمانوں کے سامنے اس تذلیل پر جو اور کسی نے نہیں لیکن فرزند نے ضرور محسوس کیا تھا۔
پھر وہ برتن سمیٹتی اپنے کمرے میں چکی گئی تو ناہید اختر نے کافی اس کے روم میں پہنچائی۔
آج وہ سب باہر آئے تھے ڈنر کرنے۔۔۔۔۔سب بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔لیکن فرزند کی نگاہیں اس پر تھیں جس کے بال ہوا کے دوش لہرا رہے تھے۔
وہ میر دولار کے بائیں طرف بیٹھی تھی اور فرزند بالکل سامنے۔۔۔۔
فرزند کیا آپ میری پڑھائی میں کچھ مدد کریں گیں۔۔
میں نے بیچ میں کچھ دن سکپ کیا تھا تو میرا سلیبس کچھ مسنگ ہے۔۔۔۔باقیوں کو باتوں میں لگا دیکھ حوریہ نے اسے مخاطب کیا۔
ضرور۔۔۔۔۔۔فرزند نے مسکراتے کہا۔۔۔۔اس کی یہ مسکراہٹ سنجیدگی سے دیکھی تھی میر دلاور رضوان نے۔۔۔
مجھے بھی پڑھا دینا۔۔۔۔۔عادی نے بھی شوشا چھوڑا۔۔۔۔
معزرت۔۔۔۔یہ آفر صرف حور کے لیے ہی موجود تھی جو اسے نے گریب کر لی فرزند نے کہا تو عادی نے منہ بنایا۔
حوریہ نے ہنستے عادی کو منہ چرایا تو وہ منہ بسوڑ کر بیٹھ گیا۔
میر نے اس کا حوریہ سے حور تک کا سفر دو دن میں طے ہوتا محسوس کیا تھا۔۔
اور اگلے ہی دن سے حوریہ اس سے پڑھنے لگی تھی۔۔۔۔۔وہ اچھے نمبروں سے پاس ہو کر میر دلاور کو دکھانا چاہتی تھی کہ صرف وہی نہیں زہین اس گھر میں۔
وہ پورے دل سے پڑھ رہی تھی۔۔۔۔وہ ابھی نہا کر آئی تھی اس لیے بال کھلے تھے جو اب اس کے منہ پر آ رہے تھے۔
پنکھا تیز ہونے کی وجہ سے اس کے بال اُڑے تو فرزند نے ہاتھوں سے انہیں نیچے کیا وہ جو باہر سے ابھی آیا تھا یہ منظر دیکھ کر تیز قدم چلتا ان کے نزدیک آیا۔
مجھے اپنی بیوی سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔ویٹ کرو تھوڑا۔۔۔اس نے حوریہ کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتا اپنے کمرے میں لایا اور دروازے بند کرتے اسے ساتھ لگایا۔
اگر میں کچھ کہہ نہیں رہا تو تم میری خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ گی۔۔۔۔؟
میں نے کیا کیا۔۔۔۔۔؟
تم میرے نام سے منسلک ہو حوریہ بیبی۔۔۔۔۔ابھی میری عزت ہو۔۔۔اور مجھے بالکل نہیں پسند کہ مجھ سے منسلک وجود ایسے بال کھولے کسی اور کے قریب ہو کر بیٹھے یا۔۔۔
وہ بڑے بھائی ہیں میرے میر۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے کہا۔۔۔۔اسے اچھا نہیں لگا تھا اس کا ایسے کہنا۔
تم اسے سمجھتی ہو بھائی۔۔۔۔کیا وہ بھی تمہیں اپنی بہن سمجھتا ہے ۔۔؟ میر نے کہتے ساتھ لگے آئینے پر ہاتھ مارا۔
آپ غلط سمجھ۔۔۔۔۔۔۔
جس سے کانچ کا ایک ٹکرا اس کے ہاتھ میں گھس گیا۔۔۔۔اور اب بھل بھل خون زمین پر گر رہا تھا۔
میررر۔۔۔۔۔ حوریہ نے کہتے اس کا ہاتھ تھاما تو میر دلاور رضوان نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
دیکھنے تو دیں۔۔۔۔۔
جاؤ۔۔۔یہاں سے۔۔۔۔۔
میر چوٹ لگ گئی ہے خون نکل رہا ہے۔۔۔۔دیکھنے دیں زخم اس نے پھر سے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔۔۔
میں غلط سمجھتا ہوں تمہاری ہر بات۔۔۔۔میں تم پر پابندیاں لگاتا ہوں۔۔۔۔مجھ سے نکاح تمہاری غلطی تھی اور کیا کہا تھا تم نے ۔۔۔۔۔
ایسے شخص کے ساتھ رہنا بھی کون چاہے گا جس کے پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹکتے۔۔۔۔وہ چاہتے ہیں کہ سب ان کی جی حضوری کرتے پھڑے۔
ان کے سامنے مجھے لگتا ہے میری سانسیں نہیں چل رہی۔۔۔مجھے گھٹن ہو رہی ہے۔۔۔۔۔کچھ تو کمی ہے اس شخص میں کہ کوئی ان کی زندگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔۔۔۔
میر حاد رضوان نے اس کی باتیں دہرائیں۔۔۔۔
اتنا برا لگ رہا ہے نا یہ رشتہ اور میرا نام اپنے نام کے آگے تو ٹھیک ہے اب نہیں رہے گا میں بابا سے بات کر کے تمہیں آزاد کر دوں گا۔۔۔۔وہ دھاڑا تو وہ سن کھڑی رہی۔۔۔
کیا اس نے کبھی اس اسے آزادی مانگی تھی۔۔۔۔؟
ہاں اس کا پابندیاں لگانا اسے پسند نہیں تھا اور شروع میں اس نے کافی کچھ کہا تھا لیکن۔۔۔۔۔
اس کے منہ سے آزادی کا سنتے اس کے گلے میں آنسؤوں کا گولہ اٹکا۔۔۔۔ تو وہ روتی اس کے کمرے سے نکل گئی۔
وہ پہنچ گئے تھے۔۔۔حیات واپسی پر سوتی آئی تھی لیکن اب پھر سو گئی تھی کیونکہ اس کا سر اب بھی درد ہو رہا تھا۔
حاد آتے ہی نکل گیا تھا۔۔۔۔۔اب چونکہ حیات اس کی زات سے منسلک تھی تو اس نے اس گھر کی سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
واپسی پر وہ کیمرہ لگوانے کے لیے لوگوں کو بلوا چکا تھا۔۔۔اسے ایک نظر دیکھتے وہ چلا گیا۔
واپسی اس کی شام کو ہوئیں تھی۔۔۔۔۔اس نے کچن میں جھانکا جہاں شاید وہ کچھ کر رہی تھی۔
اس نے دو آدمی جنہیں کیمرہ لگوانے کے لیے بلایا تھا کام کرنے کو بولا۔
اور کچن کی طرف بڑھا جہاں وہ چائے رکھ رہی تھی چولہے پر۔
اپنے پیچھے اس کی موجودگی محسوس کرتے وہ پلٹی تھی اسے دیکھا وہ بھی حیات کو ہی دیکھ رہا تھا۔
چائے پئیں گے؟
سر درد ٹھیک ہوا۔۔۔۔؟
اس کے قریب آتے اس کے سر پر دوپٹہ رکھتے پوچھا گیا۔
ہمم۔۔۔۔
اس کے لمس پر اس نے گہری سانس کھینچ کر کہا۔۔۔یہ لمس اسے کتنے تحفظ کا احساس دلاتا تھا وہ بتا بھی نہیں سکتی تھی۔
اچھی بات ہے۔۔۔
اس کا گال تھپتھپاتے وہ باہر نکلا تھا اسے بتا کر کہ وہ چائے پیے گا اور وہ کیمراز لگوا رہا ہے سیکورٹی کے لیے حیات جانتی تھی یہ کیمراز اس کے لیے لگوائے جا رہے ہیں۔۔۔۔وہ خود کو خوش نصیب تصور کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔وہ خوش سے زیادہ مطمئن تھی۔
اس کی سالوں پہلے مانگی گئی دعاؤں کو رد نہیں کیا گیا تھا۔۔۔۔اس نے ہمیشہ خود کے لیے ایک بہترین شخص مانگا تھا۔۔۔لیکن اپنی قسمت کو ایسے دیکھ وہ ٹوٹ گئی تھی۔
اسے اپنی دعاؤں پر بہت یقین ہوتا تھا۔۔۔لیکن سمیل رانا کے ساتھ زندگی گزارتے اسے لگا تھا وہ ایسے ہی مر جائے گی۔۔۔۔۔
لیکن میجر میر حاد رضوان کی آمد نے اسے بتایا تھا کہ دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں بس انہیں سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔وہ سہی وقت پر قبولیت کا درجہ پاتی ہیں کبھی معجزے کی صورت میں مکمل ہو جاتی ہیں اور کبھی خواب سے حقیقت بن کر۔
یہی سب سوچتے اس نے ان دو آدمیوں کا سوچا۔۔
ان کے لیے بھی چائے بنانی چاہیے۔۔۔۔ان ہی سے پوچھنے کے لیے وہ باہر نکلی۔
بھائی سنیں۔۔۔۔اس نے باہر نکل کر اس شخص کو مخاطب کیا۔۔۔دوسرے کو باہر میں گیٹ کے اوپر لگانے کا حاد سمجھا رہا تھا جو سامنے ہی نظر آرہے تھے۔
جی۔۔۔۔اس شخص نے عجیب سے انداز میں اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔۔۔۔
چائے۔۔۔چائے پیئیں گے۔۔۔۔عورت تھی کیسے نا پہچانتی اس ایک نظر کا مقصد۔۔۔۔
پلا دیں۔۔۔۔وہ شخص مونچھوں کو تاؤ دیتا اس کی قمر کو دیکھتا خباثت سے مسکرایا تھا۔
وہ کچن میں چلی گئی لیکن ٹھیک تین منٹ بعد اسے ایک چیخ سنائی دی تو وہ دوڑ کر باہر آئی۔۔۔۔حاد اسی شخص کو پیٹ رہا تھا۔
یہ آنکھیں نکالنے میں مجھے بالکل وقت نہیں لگے گا۔۔۔۔میری بیوی تو کیا اپنی بیوی اور بچوں کو بھی نہیں دیکھ پاؤ گے تم پے درپے اس کو لاتیں مارتا وہ دھاڑا تھا۔
حیات ساکن سی وہیں دروازے پر کھڑی۔۔۔اس شخص کو اپنے لیے لڑتا دیکھنے لگی۔
اس کے دل میں ہوک سی اٹھی۔۔۔۔وہ کتنا مکمل تھا لیکن وہ۔
