324.5K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid-e-Deed e Yaar Episode 2

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf

کچھ دن سر۔۔۔۔بھروسہ رکھیں۔۔۔۔

تم پر ہی تو بھروسہ ہے انہوں نے کہتے نم آنکھیں صاف کرتے کال ڈراپ کی تو وہ وہیں لیٹ گیا کہ اندر وہ خود موجود تھی۔

وہ اس حالت میں ایک بیٹی کو اس کے باپ کے سامنے نہیں لے کر جانا چاہتا تھا اس لیے اسے یہاں لایا تھا۔۔۔۔۔

اگلے روز وہ اندر داخل ہوا تو وہ جھکی آنکھوں سے چھت کو دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے اس کی آنکھیں بڑی کی اور دوسرے پل اس نے چیختے خود کو بستر میں چھپایا۔

دیکھو۔۔۔۔مجھے کچھ مت کہنا۔۔۔۔میں تمہیں اپنا جسم نہیں دوں گی۔۔۔۔میرے بابا۔۔۔تمہیں مار دیں گے۔۔۔۔وہ ہزیانی کیفیت میں چلائی تو وہ اس کے قریب آیا۔

خاموش۔۔۔۔۔

سنیں۔۔۔۔

حیاتتت۔۔۔۔۔۔

اس نے کہتے اسے مخاطب کیا۔۔۔ اس نے ہونٹ کاٹتے اسے وحشت زدہ نظروں سے دیکھا۔

میجر میر حاد رضوان۔۔۔۔۔۔۔آپ اس جہنم سے نکل آئیں ہیں اس نے کہتے جیسے کوئی خواب سنایا تھا اسے۔

اس نے یہاں وہاں دیکھا جو چھوٹا سا کمرہ تھا۔۔۔۔وہ شاید اس پر یقین نہ کرتی لیکن سامنے لٹکے اس کے یونیفارم پر نظر پڑتے ہی اس نے جو کیا اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔

وہ آگے بڑھتی سسکتے اس کے کندھے پر سر رکھتی اس سے لگ گئی۔۔۔۔اور اپنے ہاتھوں میں اس کے بازو سختی سے تھامے۔۔۔

ب۔۔۔بابا۔۔۔۔۔۔تم تم۔۔۔۔محافظ ہو۔۔۔۔۔کیا سچ میں۔۔۔۔؟

اس نے جبڑے بھینچے اور اپنے بازو سے اسے الگ کرتے سامنے کیا۔۔۔جو سوجی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے فوراً نظریں چرائیں۔۔۔

یہ پہلی بار تھا کہ کوئی صنفِ نازک میر حاد رضوان کو آنکھیں جھکانے پر مجبور کر گئی تھی اس ڈر سے کہ اس کے جزبات نہ بدل جائیں۔

ہم کل واپس جائیں گے آپ کے بابا کے پاس۔۔۔۔ابھی کے لیے آرام کریں۔۔۔۔۔اس نے کہتے قدم دروازے کی طرف بڑھائے۔

محافظ۔۔۔۔۔۔

اس کی سسکتی آواز کانوں میں پڑتے ہی اس نے لب کا کونہ کاٹتے قدم باہر کی طرف بڑھائے۔

اس کے لیے سوپ بنوایا ملازمہ سے۔۔۔۔۔۔۔جو نہیں جانتی تھی کہ اس گھر میں کوئی اور وجود بھی ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو معلوم ہو۔۔۔۔

وہ اسے سوپ دینے آیا جو واش روم سے شاید منہ دھو کر نکلی تھی۔۔۔۔اس کے دھلے چہرے پر نشان اب زیادہ گہرے ہو رہے تھے لیکن وہ ان نشانوں کے ساتھ بھی حسین تھی۔

یہ پی لیں۔۔۔۔۔۔اس نے سوپ سائیڈ پر رکھا اور کپڑے نکالنے لگا۔۔۔۔۔جو وہ باہر والے واش روم میں تبدیل کر لیتا۔۔۔۔

میں کسی کام سے جا رہا ہوں۔۔۔۔شام کو واپسی پر آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں گا اس نے کہا تو وہ اس نے سر اثبات میں ہلایا اور باؤل اٹھائے تیزی سے سوپ پینے لگی۔

اسے دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اسے بھوکا بھی رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔لیکن وہ اتنی چوٹوں کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔۔۔

وہ سب سوچتا باہر نکل گیا۔

اس کے جانے کے بعد اس کے گہرا سانس بھرا اور جھپاک سے صوفے پر گری ۔۔۔۔۔۔لیکن پھرخود پر نظروں کی تپش محسوس کر کے یہاں وہاں دیکھا۔

تو نظریں سیدھا اس سے جا ٹکرائی جو ریلنگ کے پاس کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔

وہ اٹھی اور تیر کی اسپیڈ سے تایا جان کے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔۔۔۔وہ بھی سر نفی میں ہلاتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔

تایا جان آپ نے بلایا۔۔۔؟اس نے اندر داخل ہوتے کہا۔۔۔میر رضوان جو اخبار پڑھ رہے تھے مسکرائے۔

جی میری شہزادی آپ کو بلایا ہے۔۔۔۔۔لیکن پچھلے بیس منٹ سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں ہم انہوں نے شائستگی سے کہتے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے ساتھ بٹھایا۔

بابااا یہ جو عادی ہے نا مجھے تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔اور آپ کو تو پتا ہے نا پھر میرا۔۔۔میں نے بھی اس کے سر کے آدھے بال اتار دیے بڑی محبت ہے نا اسے اپنے بالوں سے۔۔۔بڑا اورگینک شیمپو لاتا پھرتا ہے۔۔۔۔وہ دانت پیس کر بولتی انہیں ہمیشہ کی طرح کیوٹ لگی۔

ہم پوچھیں گے اس سے کیوں ہماری بیٹی کو تنگ کرتا ہے۔۔۔۔انہوں نے کہا تو اس نے گردن اکڑائی۔

اچھا میری شہزادی سے ہمیں ایک بات کرنی تھی۔۔۔۔تایا جان کی ایک خواہش کو پوار کرے گی ہماری بیٹی۔۔۔۔؟انکوں نے مان سے کہا۔

وہ جب چاہتی انہیں تایا جان کہتی جب چاہتی بابا بلاتی تھی۔۔۔

ان کے لہجے میں ہمیشہ اسے محبت دکھتی تھی لیکن آج ان کے لہجے میں مان محسوس کرتے اس نے پہلے انہیں اور پھر سامنے بیٹھی فرزین بیگم کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھیں۔

جی بابااا۔۔۔۔آپ کی بات میں کیوں نہیں مانوں گی۔۔۔اس نے ان کا ہاتھ تھامتے عقیدت سے کہا۔۔۔۔

آپ کے لیے ایک فیصلہ لیا ہے میں نے بہت سوچ سمجھ کر۔۔۔۔مجھے امید ہے میری بیٹی میرا کہا مان کر مجھے رسوا ہونے سے بچا لے گی۔۔۔۔۔

اس نے سامنے فرزین بیگم کو دیکھا جنہوں نے اسے دیکھتے آنکھوں کو بند کر کے تسلی دی تھی۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ وہ کتنی لاابالی سہی مگر وہ حساس تھی بے حد حساس۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دینے والی۔۔۔دل کو لگا کر بیمار پر جانے والی۔۔۔۔۔

آپ ہمارے بھائی سے زیادہ ہماری بیٹی ہیں ۔۔۔۔۔وہ اگر زندہ ہوتے تو ہم یہ بات اسی سے کرتے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب ہم آپ کے بابا ہیں تو ہم نے آپ کا رشتہ میر دلاور سے کیا ہے۔۔۔۔۔آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔۔۔۔۔؟ ہم چاہتے ہیں آپ ہمیشہ ہمارے پاس رہیں، سب کی نظروں کے سامنے۔۔۔۔۔۔

بابااا۔۔۔۔اس نے حیرت سے آنکھیں بڑی کرتے انہیں دیکھا۔۔۔۔۔فرزین بیگم نے ایک لمحے کو اپنے شوہر کو دیکھا۔۔۔۔جیسے کہنا چاہ دہی ہوں کہ مزید بات نہ کی جائے۔

آپ ہماری بیٹی ہیں حور۔۔۔۔ہماری شہزادی۔۔۔۔۔ہم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے۔۔۔۔لیکن جیسا آپ کہیں گی ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔

مگر بابا۔۔۔۔وہ مجھے پسند نہیں کرتے تو پھر شادی۔۔۔۔۔اس نے چھوٹے سے دماغ کو سمجھایا۔۔۔۔

ابھی ہم صرف نکاح کریں گے ۔۔۔۔رخصتی آپ کی پڑھائی پر۔۔۔۔ہم صرف آپ کو سیف ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں زندگی موت کا کیا بھروسہ۔۔۔۔۔۔ہم نہیں چاہتے ہماری شہزادی ہمارے بعد رل جائے۔۔۔۔۔انہوں نے کہتے اسے ساتھ لگایا جیسے سچ میں ایسا کچھ ہوا ہو۔۔۔۔۔

اس نے نم آنکھوں سے انہیں دیکھا۔۔۔۔بابااا آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔۔

آپ ان کی جگہ بھی جس کسی کا نام لیتے میں آپ کو انکار نہ کرتی۔۔۔کیونکہ مجھے پتا ہے اس دنیا میں سب میرے خلاف ہو سکتے ہیں پر میری امی اور باباااا نہیں۔۔۔۔۔وہ پیار سے انہیں امی اور بابا کہا کرتی تھی۔

فرزین بیگم نے اٹھ کر اس کا ماتھا چوما۔۔۔۔میری بیٹی۔۔۔۔۔۔ان دونوں کو وہ بے حد عزیز تھی شاید اپنی سگی اولاد سے بھی زیادہ۔

میری شہزادی۔۔۔۔۔۔رصوان صاحب نے کہتے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

پر باباا میری بات سنین انہیں سمجھا دیں اگر انہوں نے مجھے ڈانٹا۔۔۔۔یا مجھے چپس، املی اور آئس کریم کھانے سے ٹوکا، اور مجھے بلا وجہ سب کے سامنے ڈانٹا تو آپ بھی انہیں ڈانٹین گے سب کے سامنے۔۔۔۔۔

بالکل۔۔۔۔وہ مسکرائے۔۔۔۔

اور ہاں۔۔۔۔

امی۔۔۔۔میں نے اپنی شادی کا جوڑا خود جا کر پسند کروں گی ۔۔۔۔خود جا کر۔۔۔۔۔اس نے باری باری ساری شرطیں ان کے سامنے رکھیں تو فرزین بیگم نے فوراً سر ہاں میں ہلایا۔

وہ تو معصوم اور لاابالی سی تھی۔۔۔۔۔اس کی انہیں اصلی فکر تو اپنے سپووت کی تھی۔۔۔۔جو یہ سب سن کر ناجانے کیسے ری ایکٹ کرتا۔

وہ اپنے تایا جان کے ساتھ بیٹھی ناجانے کیا راز و نیاز کر رہی تھی۔۔۔فرزین بیگم مسکرا کر انہیں دیکھتی باہر اپنے بیٹے کو دیکھنے کی غرض سے نکل گئیں۔

رات کے دس بجے وہ نیچے آیا تو خاموشی کا راج تھا جو ان کے گھر ہونا مشکل ہی تھا۔

اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہوا۔۔۔وہ رات کو تھوڑا سا وقت اپنے ماں باپ کے ساتھ ضرور گزارا کرتا تھا۔

فرزین بیگم نے اس کا ماتھا چوما اور اسے دیکھتے دل ہی دل میں ماشاءاللّہ کہا۔۔۔۔

چھ فٹ سے نکلتا قد، بھاری باڈی جو سخت ڈیوٹی اور باقاعدگی سے جم کرنے کی وجہ سے تھی، بھورے سلکی بال جو ماتھے پر لاپرواہی سے بکھرے تھے، کالے شلوار قمیض پر چادر کندھے پر رکھے وہ رات کے وقت بھی بالکل تیار لگ رہا تھا انہیں۔۔۔۔۔آنکھوں اور چہرے پر سنجیدگی، بھینچے ہونٹ، بادامی رنگت وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔

ان کے زہن میں فوراً اپنی جھلی اولاد آئی جو اس سے بالکل مختلف تھی، گلابی رنگت، بھورے ہی شولڈر کٹ بال، بھرے گال لیے وہ اس کے سامنے تو نازک سی بچی ہی لگتی تھی۔

آجاؤ برخودار تمہارا ہی انتظار تھا۔۔۔انہوں نے ٹی وی بند کرتے اسے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ مدھم سی مسکراہٹ لیے بیٹھ گیا۔

یہ مسکراہٹ بھی صرف اس کے اپنوں کے لیے آتی تھی چہرے پر۔۔۔۔

فرزین بیگم ان باپ بیٹوں کے لیے چائے بنانے نکل گئیں۔۔۔۔کیونکہ انہیں معلوم تھا میر دلاور نے حور کو بنانے کے لیے کہا تھا جو وہ بھول گئی تھی۔

کچھ بات کرنی ہے تم سے۔۔۔۔یہاں وہاں کی باتوں کے بعد رضوان صاحب مدعے پر آئے تھے۔

جی بابا کریں۔۔۔۔۔۔تب تک چائے آ چکی تھی اس نے چائے تھامتے ماں کو ساتھ ہی صوفے پر بٹھا کر ان کے گرد حصار بنایا۔۔۔۔یہ اس کا لاڈ جتانے کا بھی ایک طریقہ تھا۔

پہلے تو تم ہماری بیوی سے چپکنا بند کرو۔۔۔۔۔انہوں نے کہا تو اس کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔

آپ کی بیوی بعد میں میری ماں پہلے ہیں وہ تو آپ بھول جائیں کہ ایسا ہو گا اور دوسرا بتائیں کیا بات کرنی تھی آپ نے۔۔۔۔؟

دیکھو میر ۔۔۔۔۔۔ہم اگلے مہینے عمرے پر جا رہے ہیں۔۔۔۔زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں۔۔۔کیا پتا وہاں سے آنا بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں تو گھر کی زمہ داری تم پر آتی ہے۔۔۔۔

پہلی بات تو بابا۔۔۔۔۔رب العالمین آپ کو ہماری بھی زندگی دے اس طرح کی باتیں نا کریں اور گھر والے اب بھی میری زمہ داری ہیں اور اس زمہ داری میں میر دلاور کبھی نہیں چوکے گا۔۔۔۔

اس کے والدین کی آنکھوں میں فخر در آیا۔

ہم چاہتے ہیں اس آنے والے جمعے کو آپ کا اور حور کا نکاح کر دیا جائے۔۔۔۔اور یہ پہلا جھٹکا لگا تھا اسے۔۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔۔۔؟اس نے حیرت سے سیدھا ہوتے کہا اور چائے کا کپ سامنے میز پر رکھا۔۔۔

ایسی بھی کوئی بات نہیں کی ہے ہم نے میر کہ تمہارے تاثرات ہی بدل جائیں۔۔۔۔

یہ ایسی ہی بات ہے بابا۔۔۔۔وہ سات سال چھوٹی ہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔اور ابھی پڑھ رہی ہے۔۔۔۔اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے سمجھائے اپنا موقف ۔۔۔

ہم تمہارے لیے ایک بار غلط فیصلہ لے چکے ہیں میر۔۔۔۔اور تب اگر تم نے ہمارے حکم پر سر جھکایا تھا تو اب کیوں نہیں۔۔۔۔

کیونکہ بابا وہ میری ہم عمر تھی، میچیور لڑکی جو زندگی میں میرے ساتھ چل سکتی۔۔۔۔۔۔

تو کیا ایسا ہو پایا۔۔۔۔۔؟ انہوں نے اسے لاجواب کیا۔۔۔۔تو اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے ۔۔۔

آپ حاد یا عادی سے بھی کروا سکتے ہیں بابا۔۔۔۔وہ تو بس دو سال بڑا ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنی طرف سے حل نکالا تھا۔

حاد مشن سے ناجانے کب لوٹے اور عادی ابھی لاابالی ہے۔۔۔۔اپنی زمہ داریاں نہیں سمجھتا۔۔۔۔اور ہم نے شروع سے حوریہ کو تمہارے لیے سوچا تھا۔۔۔۔۔اگر آج اس کے ماں باپ زندہ ہوتے تو مجھے لگتا ہے انہیں بھی اس رشتے پر اعتراض نہ ہوتا۔۔۔۔۔

لیکن بابا آپ سمجھ نہیں رہے ہیں۔۔۔۔۔۔وہ لابالی طبیعت کی مالک ہے ابھی ۔۔۔۔۔۔وہ میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا تو کیا تو میری سوچ پر بھی پورا نہیں اترتی اور۔۔۔۔۔

برخودار دنیا دیکھی ہے ہم نے۔۔۔۔ایک دن تم اپنے باپ کے اسی فیصلے پر ناز کرو گے۔۔۔۔انہوں نے اسے ایک اور جواز دیا۔

ماما آپ سمجھائیں باباا کو۔۔۔۔۔۔اس نے ماں کو بیچ میں گھسیٹا۔۔۔۔

اور اگر ہم کہیں ہماری بھی یہی خواہش ہے تو۔۔۔۔۔دیکھو دلاور تم اچھے سے اسے ہینڈل کر سکتے ہو۔۔۔۔مانتی ہوں وہ لابالی ہے لیکن ہے بہت ہی قیمتی اور حساس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اسے کسی کے ہاتھ نہیں سونپ سکتے سوائے تمہارے ۔۔۔۔۔

آپ مطلبی ہو رہے ہیں اس کو لے کر۔۔۔۔۔۔اس نے ٹانگ سے ٹانگ اتارتے کہا۔۔۔

اگر اسے اعتراض نہیں تو تمہیں کیوں ہے۔۔۔۔اتنی بھی گئی گزری نہیں ہے ہماری اولاد۔۔۔۔۔۔وہ اتنی حسین اور مکمل تو ہے ہی کہ اگر آج ہم اس کے لیے رشتہ ڈھونڈیں تو سو رشتے اس کے لیے کھڑے ہوں۔۔۔۔۔

یہ اسے دوسرا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔وہ مان گئی تھی۔۔۔۔اس نے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔۔ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے لیا۔

اگر زندگی نے اس کے لیے یہی سوچا تھا تو یہی سہی۔۔۔۔اور حوریہ ذیشان کو وہ اپنے رنگ میں ڈھال ہی لیتا۔۔۔۔

اس کی باتیں یاد کرتا وہ زہریلا سا مسکرایا۔

مجھے منظور ہے باںا۔۔۔۔۔۔اس نے کہتے ان کا ہاتھ تھاما تو دونون میاں بیوی مسکرائے۔

ہمیں فخر ہے تم پر میر۔۔۔۔ہمیں یقین ہے تم سے بہتر ہماری شہزادی کو کوئی تحفظ نہیں دے سکتا۔۔۔۔

آنے والے جمعے کو نکاح چاہتے ہیں ہم۔۔۔۔۔۔رخصتی حوریہ کی پڑھائی کے بعد ہو گی۔۔۔۔

نہیں بابا۔۔۔۔۔میں اتنی دیر نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔آپ نکاح بیشک کر لیں لیکن آپ کے عمرے سے آنے کے بعد میں رخصتی چاہتا ہوں۔۔۔اس نے دوٹوک لہجے میں کہا کہ اتنی دیری کا متمحل نہیں ہو سکتا تھا وہ۔۔۔۔۔وہ بھی تب جب حور کی لاابالی طبیعت سے واقف ہو۔۔۔۔

میر ابھی اس کی پڑھائی۔۔۔۔

سب کروا لوں گا میں۔۔۔۔اس نے ان کو ہر فکر سے آزاد کیا ۔۔۔لیکن وہ حور کو کہہ چکے تھے ۔۔۔۔۔

فرزین بیگم نے انہیں دیکھتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔اتنی مشکل سے وہ مانا تھا۔۔۔۔اور رخصتی کبھی نا کبھی تو کرنی تھی تو اب کیوں نہیں۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔انہوں نے کہتے اس کا کندھا تھپتھپایا۔

شام سات بجے اس کی واپسی ہوئی تو وہ باہر لاونج میں شاید اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی اسے دیکھتے فوراً کھڑی ہوئی جو اس وقت یونیفارم میں تھا۔

آج پہلی بار کوئی اس کا انتظار کرتے اسے دیکھتے یوں کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔اس نے اسے دیکھتے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور باہر نکل گیا۔

بھوک اور تھکاوٹ تھی بے حد کہ دو راتوں سے وہ سویا نہ تھا لیکن اس لڑکی کی آنکھوں کی چمک کو ماند نہیں پڑتے دینا چاہتا تھا۔

اپنے گھر قدم رکھتے وہ اندر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔

بابابا۔۔۔۔۔۔۔۔

حیات میری جان۔۔۔۔۔۔انہوں نے اسے گلے لگاتے دروازے پر کھڑے حاد کو دیکھ کر آنکھیں بند کی تو وہ مدھم سا مسکرایا۔

وہ ان کے ساتھ لگی اب ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔اس کا ہچکولے لیتا وجود دیکھتے اس نے جبڑے بھینچے اور مٹھیاں بند کیں نجانے کیوں لیکن اسے برا لگا تھا۔

آجاؤ۔۔۔۔

انہوں نے کہتے اسے پاس بلایا تو اس کے پاس آتے انہوں نے اسے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔اب منظر یہ تھا کہ وہ ایک طرف تھی اور دوسرے بازو میں وہ۔۔۔

دونوں کی نظریں ٹکرائیں۔۔۔۔۔وہ تو کب کی ہٹا چکی تھی لیکن وہ ان دو نین کٹوروں میں ڈوب گیا جو اب بھی سوجی ہوئیں تھی۔

میں عدت میں ہوں بابا۔۔۔۔۔اس نے کہتے سر ان کے سینے میں چھپایا۔۔۔۔۔۔تو انہوں نے اس کا ماتھا چوما۔۔۔۔۔

اسے وہ لڑکی عام لڑکیوں سے مضبوط لگی۔۔۔۔وہ کتنی چھوٹی سے بات بھی کتنے پرسکوں طریقے سے بتا گئی تھی۔۔۔۔۔

جلد تمہارے ساتھ کام کرے گی میری بہادر بیٹی انہوں نے اس کی حیرت کو بھانپتے کہا تو وہ چونکا۔۔۔۔

سر ان سے کچھ انفارمیشن چاہیے ہو گی۔۔۔۔ابھی تو میں چھٹی پر جا رہا ہوں اپنے بھائی کے نکاح پر میری موجودگی لازم ہے اور پھر مجھے مشن پر جانا ہے۔۔۔اس کےبعد ملاقات ہو گی۔۔۔۔وہ کہتا باہر نکل گیا۔

وہ جانتا تھا سامنے موجود لڑکی عدت میں ہے تو اس دوران اسے مل کر صرف کیس کی جانچ پڑتال کرنا مناسب نہ لگا۔

لیکن اپنی پشت پر نظریں اس نے محسوس کی تھی اب وہ نظریں ناجانے کس کی تھی اس لڑکی کی یا اس کے باپ کی۔۔۔۔

چھٹی سے واپسی پر اس نے اس سے پوچھ گچھ کرنی تھی اب جو اس کے کیس کے لیے معاون ثابت ہوتی۔۔۔

وہ ان سے اجازت لے چکا تھا۔۔۔۔اس لیے آج دوپہر کے وقت وہاں موجود تھا۔۔۔۔۔وہ دو راتوں سے سویا تک نا تھا کام کے پریشر کی وجہ سے۔

ابھی بھی وہ سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔کہ شکیل احمد اندر داخل ہوئے تو وہ احترام میں کھڑا ہو گیا۔

انہوں نے آگے بڑھتے اسے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔وہ سمجھ گئے تھے کہ ساڑھے چار ماہ بعد کیوں آیا ہے کیونکہ ان کی بیٹی عدت میں تھی۔۔۔۔۔انہیں اس کی سوچ پر رشک آیا۔

اپنے کمرے میں ہے حیات ۔۔۔۔جا سکتے ہو۔۔۔۔انہوں نے کہا تو وہ چونکا۔۔۔۔

باپ تھے کیسے نا سامنے موجود شخص کی آنکھوں میں چھپا راز جان پاتے۔۔۔۔مسکراتے سر ہلایا۔

آپ بھی چلتے سر۔۔۔ساتھ۔۔۔وہ شاید پہلی بار ہچکچایا تھا۔۔۔۔

مجھے گروسری کے لیے جانا ہے بھیا۔۔۔۔۔انہوں نے مزاح کرتے کہا۔۔۔۔۔۔تو وہ ہلکا پھلکا ہوتا ملازم کے ساتھ اوپر کی طرف چل دیا۔

ملازم جا چکا تھا۔۔۔۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔۔

آجائیں۔۔۔۔۔

فاخرہ اماں۔۔۔۔آپ کو کتنی بار کہا ہے بنا کھٹکھٹائے آ جایا کریں۔۔۔۔۔اس نے کہتے دروازے کی طرف چہرہ کیا۔

ساڑھے چار ماہ بعد اس محسن کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔جس کی وجہ سے آج وہ آزاد تھی۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔

میر حاد رضوان نے یہاں وہاں دیکھتے سلام کیا تو اس نے بھی سر پر دوپٹہ ٹکاتے جواب دیا۔

کچھ وقت چاہیے تھا آپ کا۔۔۔۔۔

ضرور بیٹھیں اس نے اس کو دیکھتے کہا جس نے اسے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔

وہ دونوں آمنے سامنے خاموشی سے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔حیات کا چہرہ جھکے دیکھ اس نے اسے دیکھا تھا۔

ان ساڑھے چار مہینوں میں میر حاد رضوان نے خود میں جو بے نام سی بے چینی محسوس کی تھی وہ جیسے اب اسے خود میں ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملی تھی۔

نظر بھر کر اسے دیکھنے کے بعد اس نے دل میں خود کو کوسا۔۔۔جو زندگی میں پہلی بار دھڑکا تھا۔

کچھ معلومات چاہیے تھی۔۔۔۔مجھے امید ہے آپ جھجکے گی نہیں ان نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے ہلکے سے سر ہلایا۔

کیا سمیل رانا کا کوئی اور ٹھکانہ بھی ہے جو آپ جانتی ہیں؟

جی ۔۔۔یہ جگہ جہاں مجھے رکھا گیا تھا یہ اس کا عارضی قیام تھا۔۔۔۔جہاں وہ کبھی کبھی پایا جاتا ہے۔۔۔لیکن اب کے بعد نہیں۔۔۔۔۔کیونکہ یہ جگہ فوج کی نظروں میں آ چکی ہے۔۔۔۔اس نے سر جھکائے ہی تفصیلاً جواب دیا۔

آپ جب وہاں موجود تھیں تو کیا کیا ایسی حرکات تھی جو آپ نے محسوس کیں۔۔۔؟

سب ہی مشکوک تھا۔۔۔۔میں اس شخص کی بیوی تھی اس لیے وہ ہر بات کھل کر کرتا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ میرا وہاں سے نکلنا کبھی ناممکن ہے ۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔کچھ اور۔۔۔۔

اگلے مہینے اسے ٹرک موصول ہو گا جس میں اسلحہ اور ڈرگز ہے۔۔۔۔۔یہ کسی انڈر ورلڈ کے مافیا گروپ کی طرف سے بھیجا جائے گا۔۔۔جس کا ستر فیصد سمیل رانا انہیں دے چکا ہے۔۔۔۔باقی کا تیس فیصد ٹرک آنے کے بعد۔۔۔۔

اس کے اتنے تفصیلی جواب پر وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔۔

ٹرک کہاں سے آنا ہے کیا آپ جانتی ہیں۔۔۔۔۔

اسلام آباد۔۔۔۔۔پہنچایا جائے گا پہلے اور وہاں سے یہاں۔۔۔۔۔یہ میرے پاس کچھ معلومات ہے وہ اٹھ کر سامنے الماری کے پاس گئی۔

لاک اپ میں سے اس نے ایک فائیل اور ایک چپ نکالی اور اس کے پاس آئی۔

وہ جو میٹنگ کے سلسلے میں آیا تھا سامنے اسے بیٹھا دیکھ اس کی دماغ کی رگیں تنی۔

وہ اپنی دوست کے ساتھ اردگرد سے لاپرواہ قہقہے لگا رہی تھی۔۔۔۔اس کے ہر قہقہے پر آدھی عوام اسے مڑ کر دیکھتی اور مسکرا دیتی۔

وہ پینٹ کے ساتھ وائٹ شارٹ کرتی، اونچی پونی کیے لگ ہی اتنی حسین رہی تھی۔

میر دلاور کا غصہ آسمان کو چھونے لگا اس پر سب کی نظریں محسوس کرتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کی طرف گیا۔

مجھے شیک پینا ہے۔۔۔۔وہ منہ بسوڑتے اپنی دوست سے بولی لیکن اپنے سامنے میر دلاور کو دیکھتی اس کا خون سوکھا۔

آپ۔۔۔۔اس نے زبان تر کرتے کہا۔۔۔

گاڑی میں پہنچو باہر دو منٹ میں ۔۔۔۔۔اگر تم دو منٹ سے دیر ہوئی نا حوریہ ذیشان تو سزا کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔وہ کہتا باہر چلا گیا تو اس نے دھڑکتے دل کو سنبھلاتے اپنی دوست کو الوداع کہتے باہر کی طرف قدم اٹھائے۔

اسے دیکھتے میر دلاور نے گاڑی کا دروازہ اتنی زور سے بند کیا کہ وہ حل کر رہ گئی۔۔۔۔اس کے بیٹھتے اس نے گاڑی تیزی سے بھگائی۔

کس کی اجازت سے آئی تھی۔۔۔میر دلاور کی سخت آواز پر اسے جان جاتی محسوس ہوئی۔۔۔

میں۔۔۔وہ۔۔۔۔

جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔۔۔اس نے سٹرینگ پر پکڑ مضبوط کرتے کہا۔۔۔اسے اس لڑکی کے وہ الفاظ اب تک نہ بھولے تھے لیکن اس پر کسی اور کی نظریں اسے جنجر کی طرح لگی تھی۔۔۔۔

وہ جلد یا بدیر اس کے نکاح میں آنے والی تھی۔۔۔

اور اس کی لاابالی طبیعت سے وہ خاصا بیزار دکھتا تھا۔

بس ایسے ہی آئی تھی۔۔گھر جا کر بابا کر بتا دیتی۔۔۔وہ منمنائی تو میر دلاور نے اسے سرخ نگاہوں سے گھورا۔

گاڑی گھر میں آ کر رکی تو وہ تیزی سے اندر بھاگ گئی تو وہ بھی اس کے پیچھے اندر آیا اس کے کمرے کی آتے ایک نظر کمرے کو دیکھا جو بکھرا پڑا تھا۔

یہاں آؤ۔۔۔وہ جو دوپٹہ اتارتی واش روم میں جا رہی تھی اس کی ٹانگیں لرزی۔۔۔۔

جی۔۔۔

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک گئی۔

حوریہ ذیشان اب تم مجھے اس حلیے میں باہر کہیں دکھی تو تمہیں جان سے مار دوں گا میں یاد رکھنا۔۔۔

حوریہ نے ڈرتے اسے دیکھا۔۔۔۔

آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر پابندیاں لگانے والے۔۔۔وہ آنکھوں میں آنسو لیتے چیخی ۔۔

آواز آہستہ ۔۔۔۔۔اس کا ہاتھ تھامتے اس کی قمر کے ساتھ لگاتے وہ پھنکارا۔۔۔۔

یہ تم بھی جانتی ہو اور میں بھی کہ اس رشتے پر تم مجھ سے پہلے حامی بھر چکی ہو۔۔۔۔بہت شوق تھا نا تو اب خود کو میرے رنگ میں رنگتا تم جلد محسوس کرو گی میر دلاور نے کہتے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔

میں منع کر دوں گی بابا کو۔۔۔اس کو باہر جاتے دیکھ وہ بولی تھی۔۔۔آنسو لگاتار آنکھوں سے گر رہے تھے۔

مجھ سے رہائی اب ممکن نہیں ۔۔۔۔میر دلاور جس بات پر ہاں کر دے اس سے پھرتا نہیں اور تم پر میری نام کی مہر لگ گئی ہے حوریہ زیشان۔۔۔

حوریہ میر دلاور رضوان بننے کے لیے تیار رہنا وہ اسے بہت کچھ باور کرواتا باہر چلا گیا۔

حوریہ اس کی پوسیسونس کے ساتھ اس کا غصہ دیکھتی ڈر گئی تھی ۔۔۔۔لیکن یہ سچ تھا وہ بابا کو منع نہیں کر سکتی تھی اب۔۔۔اور میر دلاور ایسا ہونے بھی نہ دیتا۔

اسے اپنے کہے الفاظ یاد آئے۔۔۔۔وہ کیسے اس کے ساتھ زندگی گزارتی۔۔۔وہ اوندھے منہ بیڈ پر گری رونے لگی۔