Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406 Last updated: 8 December 2025

324.5K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf

اس نے پورا ہفتہ لگایا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنی ٹیم کی مدد لی تھی لیکن انہیں حقیقت نہیں بتائی تھی۔۔۔۔ان سب کے نزدیک وہ اس وقت ملک کے دشمن سمیل رانا کے خلاف محاز لڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔
اس نے اس شخص کی ساری انفارمیشن نکلوائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔آج بدھ تھا وہ آج رات اس کے فارم ہاؤس جس میں وہ موجود تھا حملہ کرنے والے تھے۔۔۔
اس کے زرائع کے مطابق یہ سمیل رانا کا پرسنل فارم ہاؤس تھا جہاں وہ چھٹیاں منانے آتا تھا اور اس اوقات میں وہ کسی سے نا رابطہ رکھتا تھا نا ڈیل کرتا تھا۔
زرائع کے مطابق اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔۔اس کے بعد بھی لڑکیاں آتی رہیں تھیں لیکن سب اگلی صبح اپنی قیمت لگوا کر واپس چلی جاتی تھی سوائے اس ایک کو جس کو وہ خود ساتھ لایا تھا اور اسے یقین تھا کہ اور کوئی نہیں حیات ہے۔
اس نے سب کو پلین سمجھا دیا تھا۔۔۔۔انہیں اس کے خلاف کچھ ثبوت بھی چاہیے تھے جو ان کے مطابق اسی فارم ہاؤس پر تھے۔
اس نے سب کو پیچھے سے اندر داخل ہونے کو کہا تھا کیونکہ ان کے کچھ آفیسرز آگے والوں کو ٹھکانے لگا چکے تھے اور کچھ چھت پر موجود تھے۔
اس نے آنسو گیس پھیلائی تو چوہا بل سے باہر نکل آیا۔۔۔۔سالو۔۔۔۔کہاں مرے ہو یہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھتے اوپر کے پورشن کے سارے کمرے چھان مارے تھے کچھ نہیں ملا تھا۔
اس کے باقی کے ساتھی افسران ثبوت ڈھونڈ رہے تھے اور وہ حیات نامی لڑکی کو۔
نیچے کے سارے رومز چیک کرنے کے بعد اس نے دیوار پر ہاتھ مارا۔۔۔۔۔ان کے پاس وقت بہت کم تھا۔۔۔۔وہ باہر اس کی آوازیں سن سکتا تھا۔۔۔
جس نے فون پر فون کر ڈالے تھے۔۔۔۔۔اس کے لوگ کسی بھی وقت پہنچ جاتے۔۔۔انہیں اس سے پہلے بنا نظر میں آئے یہاں سے جانا تھا۔
وہ مقابلہ کر سکتے تھے ۔۔۔۔لیکن ابھی وہ خود کو ظاہر نہیں کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔۔وہ اس کا نام ایجینسی میں دینے کے بعد منظر عام پر آتے۔
سر نکلنا ہو گا۔۔۔۔۔اس کے آدمی پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔اس کے کان میں لگے مائیکرو فون سے آواز گونجی۔۔۔۔
تو اس کے زہن میں وہ لمحہ آیا جب ایک بے بس باپ اس سے اپنی بیٹی کی رہائی کی امید لگا کر بیٹھا ہے۔
اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے اور اس کے سٹڈی میں گھسا۔۔۔۔۔۔وہاں گھستے ہی اس کے نتھوں سے خون اور شراب کی ملی جلی بو ٹکرائی تھی۔
اس نے اپنا چہرہ ماسک سے ڈھکا اور آگے بڑھا۔۔۔۔۔لیکن کچھ نہ ملنے پر شاید وہ واپس نکل جاتا لیکن میز کے نیچے گلابی آنچل دیکھتے رکا۔۔۔
سر وہ پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ہری اپ۔۔۔۔آواز پھر سے آرہی تھی جسے اس نے نظر انداز کیا اور اس میز کے پاس گیا۔
اسے زور سے اپنی طرف کو گھسیٹا تو دیکھا کوئی وجود اوندھے منہ پڑھا تھا۔۔۔۔۔قمر پر موجود قمیض جگہ جگہ سے پھٹی تھی اور کافی نشانات نظر آرہے تھے۔
,اس کے دوپٹے کے اندر کچھ باندھ رکھا تھا۔۔۔شاید کاغز تھے کچھ۔۔۔اسے بھی حاد نے لیا تھا ساتھ۔
سر ٹائم از اوور۔۔۔۔کیا حملہ کرنا ہے۔۔۔۔؟ اس کے لوگ پہنچ چکے ہیں آواز پھر سے ابھری۔۔۔۔
نو ۔۔۔۔۔۔سب نکلو اور پچھلے دروازے پر پہنچو۔۔۔۔۔جیپس نکالو باہر۔۔۔۔۔۔ثاقب کو بولو میری گاڑی وہیں کھڑی رکھے ۔۔۔۔۔میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔۔
اس نے اس صنفِ نازک کو جھٹکے سے گھماتے باہوں میں بھرا اور چھپتا پچھلے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ نکلتا ایک گولی اس کے بازو کو چھو کر گزری تھی۔