324.5K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid-e-Deed e Yaar Episode 3

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf

حیات نے فائیل اس کو تھمائی۔۔۔۔اس میں تمام معلومات ہیں کہ کتنے لوگ موجود ہیں اس میں۔۔۔۔ٹرک کے موصول ہونے کی تاریخ اور پتہ سب۔۔۔۔۔

گڈ ورک۔۔۔۔اس نے تعریفی انداز میں کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔

باقی معلومات وہ ان چار مہینوں میں جمع کر چکا تھا۔۔۔۔

وہ کھڑا ہوا تو وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔ایک بار پھر نظروں کا تصادم ہوا تھا۔۔۔۔

حیات۔۔۔۔۔اس نے باہر جانے سے پہلے اسے پکارا۔۔۔

جی۔۔۔۔حیات نے چونک کر نظریں اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔۔

آپ اس حالت میں۔۔۔۔۔؟

وہ دن میں نے وہاں کیسے گزارے ہیں یہ میں اور میرا خدا جانتا ہے ۔۔۔۔۔اس نے کھڑکی کے پاس جا کر نیچے لان میں دیکھتے کہا۔

وہ شخص صرف میرے باپ کو نیچا اور میری زات کو روند کر ہمیں یہ بتایا چاہتا تھا کہ وہ جیت گیا۔

اور ہاں وہ سچ میں جیت گیا۔۔۔اس نے میری زات کو برے طریقے سے روند دیا۔۔۔۔۔وہ کہتے تھمی۔۔۔۔حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا تھا شاید۔۔۔

لیکن ایک رات وہ مجھے نشہ کروانا چاہتا تھا۔۔۔۔وہ ہائی تھا مورفین لے کر۔۔۔۔اور مجھے بھی زبردستی کروانا چاہتا تھا۔۔۔

میں نے اسے دھکا دیا جس سے اس کا سر ٹکرایا پیچھے دیوار سے۔۔۔۔بدلے میں اس نے مجھے دنیا جہان کی گالیوں سے نوازا اور آخر میں مجھ پر تین حرف بھیج کر مجھے اس عذاب سے نکال دیا جس میں میں روز گھٹ رہی تھی۔

میں اس دوران سمیل رانا کے خلاف ثبوت بھی ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔جو یہی ملے تھے بس مجھے۔۔۔شاید اس فارم ہاؤس میں اتنا کچھ ہی تھا۔

اس کے طلاق دیتے ہی میں نے وہاں سے نکلنا چاہا تھا۔۔۔لیکن اسے شک ہو گیا۔۔۔اس نے مجھ پر سکیورٹی تنگ کر دی۔

لیکن وہ پھر بھی مجھ پر برتری چاہتا تھا وہ بھول گیا تھا کہ وہ نشے میں مجھے طلاق دے چکا ہے۔۔۔

میں نے ہر دن رات اس سے اپنی حفاظت کی ہے۔۔۔۔۔ہر بار میرا دھتکارنا سمیل رانا کو نئے سرے سے پاگل کر دیتا تھا اور جس دن۔۔۔۔وہ تھمی۔۔۔۔

اس دن اس نے مجھے جلانے کی کوشش کی تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ اب میں اس کے کسی کام کی نہیں۔۔۔۔۔میں اسے قریب بھی نہیں آنے دیتی تھی۔۔۔

وہ مرد تھا بیشک اتنی طاقت تھی اس میں۔۔۔لیکن نشے نے اس کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھیں۔۔۔

اور میرے باپ کی سخت ٹریننگ مجھے اجازت نہ دیتی تھی کہ میں اس شخص کے گناہ سے خود کو بچا نا پاتی۔

وہ ہر روز نئی لڑکی کے ساتھ پایا جاتا تھا اور اس دن اس نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ اس دن اس کے گارڑز اس کے ساتھ تھے کیونکہ وہ کچھ ہوش میں تھا۔

اور پھر آپ آگئے اور آج میں یہاں ہوں۔۔۔۔

وہ چپ ہو گئی تھی۔۔۔۔

میر حاد رضوان نے اس لڑکی کو دیکھا جو مضبوط تھی۔۔۔۔جس کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نا ٹپکا تھا۔

اس نے دل میں موجود خیال پر مہر لگائی۔۔۔۔رب کے دربار میں اگر اسے اجازت تھی تو کیوں نہیں۔۔۔۔

“آپ سے بہت جلد ملاقات ہو گی حیات۔۔۔۔شاید تب میں بہتر طریقے سے آپ کی مسیحائی کر سکوں” وہ کہتا نکل گیا۔

لیکن حیات اس کے لفظوں میں ہی کھو گئی۔

اس دن کے بعد وہ کیس کے سلسلے میں آتا رہا تھا۔۔۔۔۔شکیل احمد سے ڈسکشن کے لیے لیکن وہ کم ہی سامنے آتی تھی۔

شاید اس دن کے بعد اپنے راز بتانے کے بعد وہ انسکیور ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

حیات بھی اس کیس میں تمہارے ساتھ کام کرے گی برخودار انہوں نے کہا تو اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

لیکن سر میں ایسا نہیں چاہتا۔۔۔۔

شکیل احمد نے اسے دیکھا۔۔۔۔اس نے پہلی بار ان کے کسی بات اور حکم کی نفی کی تھی۔۔۔۔ضرور کوئی وجہ تھی اس کے پیچھے۔

میں ضرور کروں گی اس کیس پر کام۔۔۔۔۔وہ جو چائے لائی تھی اس کی بات سنتے فوراً بولی۔۔۔۔

میر حاد نے اسے دیکھتے سنجیدگی سے رخ موڑ لیا تو اسے اپنی سبکی محسوس ہوئی۔

وجہ جان سکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔؟برجودار۔۔۔۔انہوں نے کہتے اس کے چہرے پر کچھ تلاشنا چاہا۔۔۔

حیات بیٹا آپ جائیں اپنے روم میں۔۔۔۔۔انہوں نے کچھ سمجھتے کہا۔

بابا لیکن میں اس کیس پر کام ضرور کروں گی جو بھی ہو جائے۔۔۔۔وہ ضدی لہجے میں کہتی چلی گئی تو وہ میر حاد کی طرف متوجہ ہوئے۔

سر۔۔۔۔اس نے کہتے ہاتھ مسلے۔۔۔۔

آرام سے برخودار۔۔۔۔اتنا کیوں ہچکچا رہے ہو آج۔۔۔۔۔۔۔۔جانتے تھے وہ کیا بات کرنے والا ہے۔

سر میرے والدین آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

کس معاملے میں انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔

حیات کے بارے میں۔۔۔۔میں انہیں لے کر سنجیدہ ہوں۔۔۔اور امید کرتا ہوں آپ مجھ پر بھروسہ کریں گے اس نے ڈھکے چھپے لفظوں میں کہا۔

اچھاا۔۔۔۔انہوں نے سر پر ہاتھ رکھتے سوچنے والے انداز میں کہا۔۔۔۔

ٹھیک ہے تمہارے والدین کو ہی جواب دوں گا میں سوچ کر انہوں نے کہا۔۔۔۔

جی مناسب سر۔۔۔۔اس نے کہتے کھڑا ہوتے ان سے مصافحہ کیا اور باہر نکل گیا جب کہ وہ دور تک اسے دیکھتے رہے۔

اس کی آنکھوں میں انہوں نے تب ہی وہ عزت اور چمک حیات کے لیے محسوس کی تھی جب وہ اسے باحفاظت گھر لایا تھا۔

انہیں پسند تھے وہ مرد۔۔۔۔جو بہتر طریقے سے محرم رشتوں پر بھروسہ رکھتے تھے۔۔۔۔پہلے انہیں پل کے لیے لگا تھا کہ یہ سب کچھ جلدی ہے لیکن نہیں کچھ کام اپنے وقت پر ہو جانے چاہیے۔

میر حاد رضوان کو وہ تب سے جانتے تھے جب سے وہ اس فیلڈ میں آیا تھا۔۔۔۔اب وہ اس کے گھر والوں کے فون کے انتظار میں تھے پھر ہی وہ حیات سے پوچھتے۔

اگلے روز ہی فون آ چکا تھا ان کا۔۔۔۔وہ باقاعدہ آنا چاہتے تھے۔۔۔۔شکیل احمد نے انہیں بلا لیا تھا۔۔۔۔

اس دن کے بعد دونوں کی ہی ایک دوسرے سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

اور پھر کیسے ہفتہ گزرا پتا بھی نہیں چلا۔۔۔۔عادی اور حاد ان دونوں کے لیے بے حد خوش تھے۔

لیکن عادی اسے اس دن سے کافی چھیڑ رہا تھا جس سے کبھی وہ آگ بگولہ ہو جاتی اور کبھی رونے لگتی جس کے بعد عادی کی رضوان صاحب سے کافی درگت بنتی۔

ابھی بھی وہ بیوٹیشن سے تیار ہوتی شو شو کرتی رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔

آپ پلیز روما بند کریں۔۔۔۔۔ہمیں میک اپ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے ۔۔۔میک آپ آرٹسٹ نے کہا تو اس نے ٹشو سے ناک پوچھا۔

فرزین بیگم نے سنا تو اس کے قریب آئیں اور اسے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے میری جان کو۔۔۔۔

امی۔۔۔۔عادی نے مجھے ناخن مارے ہیں اور مجھے گجرے بھی نہیں لا کر دیے۔۔۔۔اسے اتنی چھوٹی سے بات پر روتے دیکھ میک اپ آرٹسٹ کے ساتھ فرزین بیگم نے بھی ماتھا پیٹا۔

میں پوچھتی ہوں اس سے ابھی۔۔۔۔اور گجرے لینے بھیج دیا ہے میں نے۔۔۔۔مجھے مہندی دکھاؤ۔۔۔۔انہوں نے اس کا دھیان بھٹکانا چاہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوئیں تھیں۔

اس نے جھٹ سے آنسو صاف کرتے اپنے ہاتھ آگے کیے جس پر گہرا رنگ آیا تھا۔۔۔۔۔انہوں نے اسے منع کیا تھا کہ بھر بھر کر مہندی شادی پر لگائے ابھی بس سادہ سے لگوالے۔

لیکن وہ ٹہری مہندی کی شوقین اس نے بھر بھر کے ہاتھوں کے ساتھ پاؤں بھی بھروائے تھے۔۔۔۔اور رضوان صاحب نے کسی کو بھی اسے کچھ کہنے سے منع کیا تھا۔

میر رضوان تو ہفتے سے ہسپتال کے پاس لیے فلیٹ میں ہی رہ رہا تھا۔۔۔۔کیونکہ کسی جگہ بم دھماکہ کی وجہ سے اس کی ڈیوٹی کافی سخت تھی۔۔۔لیکن آج وہ فری ہو کر واپس آ رہا تھا۔

یہ تو بہت پیاری ہے ۔۔۔فرزین بیگم نے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔۔اس کی مسکراہٹ کی ایسے ہی دعا کرتے انہوں نے اس کا ماتھا چوما اور باہر نکل گئی۔

میک اپ آرٹسٹ نے اس کا میک اپ ختم کیا اور اس کی بیک کی ڈوریاں باندھیں اور دوپٹہ سیٹ کرتے اس پر آخری تنقیدی نگاہ ڈال کر اس کی تعریف کرتی باہر چلی گئی۔

وہ جس کے تیار ہونے کے سارے شوق پورے ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔اب اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے رونے لگی۔۔۔۔

بیشک اسے بہت پیار ملا تھا۔۔۔۔لیکن اپنے ماں باپ کی سامنے لگی تصویر کو دیکھتے اس کی آنکھیں نم ہوئی۔

اسے میر دلاور سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔

لیکن رضوان صاحب کی آنکھوں کی چمک اور مان کو وہ توڑنا نہیں چاہتی تھی جنہوں نے اسے اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا تھا۔

اس کا دل آج تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ لیکن اتنی بچی نہ تھی کہ جان نہ پاتی کہ آج کے بعد اس کی زات پر سارا اختیار میر دلاور کا ہو گا۔۔۔۔

اپنی اس دن کی باتیں یاد کرتے اس کا دل سہما۔۔۔۔۔۔وہ کیسے اس کا سامنا کرے گی۔

فرزین بیگم اسے اپنے ساتھ باہر لے آئیں اور میر دلاور رضوان کے ساتھ بٹھایا جو فون پر مصروف تھا۔

مولوی صاحب کے آنے پر میر دلاور نے سر اٹھایا۔۔۔اور اپنے ساتھ خوشبوؤں میں نہایا اس کا نازک وجود محسوس کرتے گہری سانس بھری۔

اور پھر وہ حوریہ ذیشان سے حوریہ دلاور رضوان بن کر سب کی آنکھیں نم کر گئی۔۔۔۔مہمان زیادہ نہ تھے بس قریبی لوگ تھے۔

فرزین بیگم ان دونوں کی بلائیں لیتی ان کا صدمہ اتار چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔حیات کا گھونگھٹ ہونے کی وجہ سے میر دلاور نے اسے اب تک نہ دیکھا تھا۔

لیکن نکاح ہوتے ہی اس کے دل کی دھڑکنیں معمول سے دھیمی پڑی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔اس کی زات کے ساتھ اب کوئی زات جڑ چکی تھی۔۔۔۔اب وہ میر دولار کی عزت تھی۔

فون آتے ہی وہ اٹھ کر سائیڈ پر ہوا تو عادی اور حاد جھٹ سے اس کے پاس آئے۔۔۔۔فرزین بیگم نے اس کا گھونگھٹ الٹ دیا تھا کہ اب سب اس کو دعائیں دے رہے تھے۔

یار حور۔۔۔۔تم تو پہچانی ہی نہیں جا رہی۔۔۔۔۔۔عادی نے اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھتے کہا۔

ہاں کہاں وہ چڑیل جو منہ بھی نہیں دھویا کرتی تھی آج تو بالکل پری لگ رہی ہے۔۔۔۔۔

میں بچپن سے ہی پیاری ہوں بچو۔۔۔۔اپنی دیکھو۔۔۔اپنی شادی پر تم لوگوں کو کوچی سے رگڑ کر منہ دھونا پڑنا ہے۔۔۔۔۔

اس کا جو دل انجانے احساس سے بھاری تھا ان کے آتے ہی اپنے دل سے بوجھ سرکتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔اب اس گھر کو اسے چھوڑ کر نہیں جانا تھا۔۔۔۔ساری عمر یہی رہنا تھا۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔۔

اس کی بات سنتے سب کے قہقہے نکلے تھے۔۔۔۔

سلامی پکراؤ میری۔۔۔۔اور مجھے گفٹ بھی الگ سے چاہیئے اس نے کہا تو عادی اور حاد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

رضوان صاحب انہیں دیکھتے مسکرا دیے۔۔۔۔مہمان اب کھانے میں مصروف تھے اور وہ تینوں ہنسی مزاق میں۔۔۔۔۔میر دلاور اب تک واپس نہ آیا تھا۔

ان دونوں نے اسے لفافوں کے ساتھ ایک ایک باسکٹ پکڑائی تھی جس میں ٹھہروں سامان تھا۔۔۔۔۔مہنندی، چوڑیاں،کاجل، املی، وغیرہ۔۔۔۔

تم دونوں کہ کپکیکس نہیں لائے اس نے اتنی چیزوں کو نظر انداز کرتے کہا تو دونوں نے منہ کے زاویے بنائے۔

اتنا کچھ تو دے دیا ہے۔۔۔ہماری جیبیں کھالی ہو گئیں ہیں انہوں نے معصومیت سے کہا۔

میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی جھوٹے آدمی۔۔۔۔بابا سے پیسے لیے ہیں تم نے۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ ان کے بال نوچتی میر دلاور کے آتے وہ رفو چکر ہو گئے اور وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔

گڑیا فریج میں پڑے ہیں۔۔۔۔اسے عادی کی طرف بڑھتا دیکھ حاد نے کہا۔

فرزین بیگم نے ان کے سامنے بھی کھانا رکھا تھا۔۔۔۔جو میر دلاور نے تو نہیں کھایا تھا لیکن وہ کھا رہی تھی بنا کسی کی پرواہ کیے۔۔۔۔۔

میر دلاور سنجیدگی سے ایک نگاہ اس پر بھی ڈال لیتا۔۔۔۔

آہستہ آہستہ سب مہمان چلے گئے تھے۔۔۔فرزین بیگم نے اسے بھی روم میں بھیجا اور باقی سارے نیچے بکھرا سامان سمیٹنے لگے۔

وہ جو تھک چکا تھا نائیٹ ڈیوٹی کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھتا کہ اس کے کمرے سے آتے چوڑیوں کے شور نے اسے متوجہ کیا۔

ان چاروں کا کمرہ اوپر والے پورشن میں تھا۔۔۔۔نیچے ڈرائنگ روم، رضوان صاحب اور فرزین بیگم کا کمرہ،اور گیسٹ روم تھا۔

اندر کا منظر دیکھتے اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے اور یہاں وہاں دیکھا کوئی مہمان نہیں تھا۔۔۔۔۔خاموشی سے اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کیا۔

کمرے میں اس کا سامان بکھرا پڑا اتھا۔۔۔۔دوپٹہ بیڈ پر تھا آدھا نیچے۔۔۔۔۔۔جیولری زمین پر گری تھی۔

اب وہ جھکی نیچے سینڈل کے سٹریپ کھول رہی تھی جو کھل نہیں رہے تھے۔

اس کے جھکنے سے اس کی قمر عیاں ہو رہی تھی جس کے بیک گلے کو ڈوریوں سے باندھا گیا تھا۔

اگر اس کی جگہ کوئی اور اسے ایسے دیکھتا۔۔۔۔یہی سوچ آتے اس کی دماغ کی رنگیں تنی۔۔۔۔۔اس نے پہلے کبھی ایسا لباس نہیں پہنا تھا۔۔۔پہلے وہ کھلے کھلے کرتے پہنا کرتی تھی۔

لیکن آج کے جوڑے کی فٹنگ بھی تھی اور پیچھے سے ہلکا ڈیپ بھی تھا۔۔۔۔آف وائٹ رنگ کا وہ جوڑا جس کا دوپٹہ گلابی تھی، ہلکا میک اپ، گہرے مہندی سے بھرے ہاتھ اور پاؤں، بھر بھر کر چوڑیاں اور گجرے پہنے وہ کسی کی بھی خواہش ہو سکتی تھی۔

یہی سوچ آتے اس نے لب بھینچے۔۔۔۔۔

میر دلاور اپنی چیزوں کے لیے حد سے زیادہ پوسیسو تھا یہی وجہ تھی اس کا ایسے بیٹھنا اسے انتہائی ناگوار گزارا تھا۔

“دروازہ لاک کرنے کی بھی سہولت ہے ہمارے گھر میں۔۔۔۔” اس نے سخت آواز میں کہا تواس نے چونک کر سر اٹھایا۔

میر دلاور کو سامنے دیکھتے اس کی پلکیں لرزی۔۔۔۔یہ منظر اس کی زیرک نگاہوں سے چھپا نہیں رہا تھا۔

وہ میں۔۔۔۔

حیات کو پینٹنگز بہت پسند تھی۔۔۔آج بھی شکیل احمد نے اسے کسی ایگزیبیشن میں بھیجا تھا کیونکہ حاد کے گھر والے آنے والے تھے۔

وہ باقاعدہ حاد کا رشتہ مانگ چکے تھے جسے شکیل احمد نے خوشدلی سے قبول کیا تھا۔

حوریہ کے نکاح کے بعد وہ سب وہاں گئے تھے سب حاد، حوریہ اور میر دلاور کے علاوہ۔۔۔

میری بیٹی کو ایک بار طلاق۔۔۔۔

وہ سب جانتے ہیں سر۔۔۔۔حاد نے ان کی بات کاٹتے کہا۔۔۔شاید وہ نہیں چاہتا تھا کہ حیات کو اتنا ڈیپلی ڈسکس کیا جائے۔

شکیل احمد کو وہ لوگ بہت اچھے لگے تھے۔۔۔۔۔۔

حیات ہمیں کچھ بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔ اس کے واپس آتے ہی انہوں نے اسے ساتھ بٹھاتے شفقت سے اس کا ماتھا چوما۔

جی بابا ۔۔۔۔۔اس نے ان کے کاندھے پر سر رکھا۔۔۔۔۔

حاد کو جانتی ہیں آپ ۔۔انہوں نے کہا تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔

جی۔۔۔۔۔

اس کے گھر والے آج آئے تھے۔۔۔انہوں نے آدھی بات کرتے اس کے چہرے کے تاثرات جانچنا چاہے جو نا سمجھی سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔

ہم ہاں کر چکے ہیں آپ کے لیے حاد رضوان کے رشتے کو۔۔۔۔شکیل احمد نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔

“آپ سے بہت جلد ملاقات ہو گی حیات۔۔۔۔شاید تب میں بہتر طریقے سے آپ کی مسیحائی کر سکوں۔۔۔۔۔”

اس کے لفظ یاد آتے اس کا دل دھڑکا۔۔۔۔یہ دل پہلی بار کسی مرد کے لیے دھڑکا تھا۔۔۔۔

آپ نے مجھ سے میری رائے بھی نہیں لی بابا۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے کھڑے ہوتے کہا۔۔۔۔۔وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

مجھے یقین تھا آپ منع نہیں کریں گی۔۔۔۔انہوں نے سنجیدگی سے کہا تو وہ انہیں دیکھنے لگی۔

پر میں منع کرنا چاہتی ہوں بابا۔۔۔۔اپنا ماضی یاد کرتے اس نے سنجیدگی سے کہا اور انہیں دیکھا۔

حیات۔۔۔۔۔انہوں نے اسے پکارا جو اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔۔۔

انہوں نے حاد کا نمبر ملاتے اسے صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔۔انہیں اس کے والدین کو فون کر کے منع کرنا۔مناسب نہ گا۔۔۔۔

سر میں کل ملاقات کروں گا ان سے۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے انہوں نے کہتے فون رکھا۔۔۔۔۔وہ اپنی بیٹی کو یہ بیوقوفی نہیں کرنے دینا چاہتے تھے۔۔۔۔۔

میر حاد رضوان ایک بہترین شخص تھا۔۔۔۔وہ کسی کا بھی آئیڈیل ہو سکتا تھا۔۔۔۔لیکن اس نے ان کی بیٹی کو چنا تھا۔۔۔۔

جو اپنی کم عقلی کی وجہ سے اسے گنوانا چاہتی تھی۔۔۔۔

انکار کی وجہ جان سکتا ہوں؟

کیا یہ وجہ کافی نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے آشنا نہیں؟

کیا آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ میجر میر حاد رضوان آپ سے واقف نہیں ۔۔۔۔۔اس نے ایک اور قدم آگے کی طرف بڑھاتے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے کہا۔

آپ مجھ سے چھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک اور جواز۔۔۔۔

ڈیڑھ سال کی کوئی اوقات نہیں ۔۔۔۔اگر میں پانچ سال بھی آپ سے چھوٹا ہوتا تب بھی میرا دین مجھے آپ کو نکاح میں لینے کی اجازت دیتا ہے۔۔۔۔

میں اتنی جلدی دوبارہ۔۔۔۔

آپ کو آپشن تو دیا جا ہی نہیں رہا حیات۔۔۔۔۔فیصلہ سنایا جا رہا ہے ۔۔۔

میں انکار کر دوں گی بابا کو پھر سے۔۔۔۔

آپ دسویں بار انکار پر بھی میر حاد رضوان کو اپنے سامنے کھڑا پائیں گی ۔۔۔۔۔ لہٰذا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

پرسوں مجھے گھر روانہ ہونا ہے لیکن اب کی بار میں اکیلا نہیں جاؤں گا۔۔۔

یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔!

مجھے نہیں کرنا نکاح آپ کیوں سمجھ نہیں رہے وہ چلائی تو اس نے خاموشی سے اسے تکا۔

مزید قریب ہوتے اس کے ہاتھ تھامنے چاہے لیکن رک گیا وہ یہ حق نہیں رکھتا تھا ابھی۔۔۔۔اس کی یہ حرکت حیات کی آنکھوں سے مخفی نہ رہ سکی تھی۔

مرد کی چھوٹی سی چھوٹی چیز اسے دوسروں مردوں سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے ۔۔۔۔اس کے دل سے آواز آئی۔

یہ جان لو کہ میر حاد رضوان کے دل پر تمہارا نام چھپ گیا ہے۔۔۔۔۔اور مجھ سے فرار اب ممکن نہیں۔۔۔خود کو زہنی طور پر تیار کرو۔۔۔۔پرسوں میں تمہارے روبرو ہو کر تمہیں اپنی دسترس میں لے سکوں۔۔۔۔۔بس اتنا حق سونپنا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔اس نے مان سے کہتے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور نکلتا چلا گیا۔

کیا اس کے بعد بھی اس کے پاس کوئی جواز بچا تھا۔۔۔۔۔ایک مرد کی نظر بتاتی ہے کہ سامنے موجود عورت اس کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔

اس کی نظر میں محبت کا عکس دھندنا تھا یا مخفی تھا شاید۔۔۔۔۔جو ظاہر تھا وہ تھی بے پناہ عزت۔۔۔

وہ آپ سے تم کا سفر کرتے اسے جتا گیا تھا کہ حیات احمد تم کچھ بھی کر لو تمہارا دل فیصلہ میرے حق میں ہی کرے گا۔

لیکن ڈر اس کے دل میں اپنی جڑیں مضبوط کر کے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری اور قدم باپ کے کمرے کی طرف بڑھائے۔

وہ اس شخص کو خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہتی تھی ایک بار پھر ۔۔۔۔۔۔اپنی قسمت کو آزمانا چاہتی تھی وہ ایک بار پھر ۔۔۔۔۔

یا رب میں نے خود کو تیری امان میں دیا۔