324.5K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid-e-Deed e Yaar Episode 1

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf

میں ان سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے کمرے میں طوفان برپا کیا ہوا تھا۔

کیا مصیبت ہے۔۔۔۔؟ تم بن ماں باپ کی اولاد ہو ۔۔۔۔۔تمہیں تو اپنے تایا کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے سے تمہیں بیاہ رہے ہیں تاکہ تمہیں کہیں اور نہ جانا پڑے۔۔۔۔۔۔اس کی دوست نے اسے حقیقت کا آئینہ دکھایا۔

اسے عادی سے اس بات کا پتا چلا تھا کہ تایا جان اس کی شادی اپنے بیٹے میر دلاور رضوان عرف سڑو سے کرتا چاہتے ہیں تب سے وہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی۔

تو اس کا کیا مطلب ہے میں اپنے سے سات سال بڑے شخص سے شادی کر لوں۔۔۔۔وہ بھی وہ۔۔۔۔جو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔۔۔۔جن کے منہ پر چوبیس گھنٹے بارہ بجے رہتے ہیں، جن کی ایک عدد منگیتر انہیں ان کے اسی سڑیل روئے کی وجہ سے چھوڑ گئیں۔۔۔۔اور اور۔۔۔۔جو مجھے دیکھتے ہی منہ کے زوایے بنا لیتے ہیں۔۔۔۔۔ حور کیسے بیٹھی ہو ۔۔؟ حور کمرے میں جاؤ۔۔۔حور تمیز سے۔۔۔حور یہ ۔۔حور وہ۔۔۔۔پہلے تو وہ صاحب زادے مجھ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے کیونکہ اپنے آپ کو کسی سلطنت کا بادشاہ سمجھتے ہیں اور اگر کبھی جو انہیں مجھ سے مخاطب ہونا پڑ جائے تو سو کیڑے نکال لیں گے مجھ میں۔۔۔۔۔

حور۔۔۔۔وہ۔۔

اس کی دوست نے اس کی چلتی زبان کو روکنا چاہا ۔۔۔۔جو شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈال چکی تھی۔

تم چھوڑو مشی۔۔۔۔سنو آگے۔۔۔سب ان سے ہمدردی کرتے ہیں کہ ان منکوحہ نے ان کے ساتھ بُرا کیا وہ اچھی لڑکی نہیں تھی۔۔۔۔

لیکن۔۔۔

لیکن۔۔۔۔

اندر کی بات کسی کو کیا پتا۔۔۔۔وہ انہیں کی وجہ سے چلی گئی تھی۔۔۔

ایسے شخص کے ساتھ رہنا بھی کون چاہے گا جس کے پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹکتے۔۔۔۔وہ چاہتے ہیں کہ سب ان کی جی حضوری کرتے پھڑے۔

ان کے سامنے مجھے لگتا ہے میری سانس نہیں چل رہی۔۔۔مجھے گھٹن ہو رہی ہے۔۔۔۔۔کچھ تو کمی ہے اس شخص میں کہ کوئی ان کی زندگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔۔۔۔

حور ۔۔۔۔۔میری بات۔۔۔۔۔

کچھ باقی ہے حوریہ ذیشان حیدر؟؟؟

میر دلاور رضوان کی بھاری آواز کمرے میں گونجی تو مشی جو اب کھڑی ہو چکی تھی کمرے سے باہر نکل گئی۔

حور نے مُڑ کر اسے دیکھ کر تھوک نگلا۔۔۔۔۔اسے اپنے بولے الفاظ اب اپنے کانوں میں گونجتے سنائی دیے۔

وہ قدم قدم چلتا اس کے سامنے آیا۔۔۔۔۔اس کی ٹانگیں کانپ گئی۔۔۔۔۔اس کے پیچھے اتنا کچھ بول لیتی تھی وہ اور اس کے سامنے آتے ہی اس کی زبان تالو سے چپک جایا کرتی تھی۔

اتنا شرف بخشا ہے تمہاری شیریں زبانی نے مجھے۔۔۔۔بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں تمہیں۔۔۔۔ہوتی بھی کیسے۔۔۔جنہوں نے سکھانی تھی وہ تو دنیا سے چلے گئے۔۔۔۔۔اچھا ہوا ایسی اولاد انہیں دیکھنے نہیں پڑی۔۔

اور۔۔۔

تم کیا کہہ رہی تھی کہ میری منگیتر۔۔۔۔۔وہ عورت میرے قابل نہیں تھی۔۔۔۔ایسی عورتوں کو میر دلاور رضوان ایک نظر دیکھنا گوارہ نہ کرے۔۔۔۔

جو ماں باپ کے دھمکانے پر کہ لڑکے کے پاس بہت زمین جائیداد ہے ہتھیا کر اپنے یار کے پاس چلی جانا۔۔۔نکاح کے لیے حامی بھر لے ۔۔ یہ میرا ٹیسٹ نہیں ہے۔

اور جب اسے اندازہ ہو جائے کہ مخالف اس کی ان گھٹیا حرکتوں میں نہیں آنا والا اور اس کے ڈرامے نہیں چلے گیں تو اس نے منگنی توڑنے کی دھمکی دی۔۔۔۔۔میر دلاور رضوان نکاح سے پہلے ہی اسے جانچ گیا تھا۔۔۔۔۔وہ استہزایہ مسکرایا۔

میں اس عورت کے منہ پر اس کی پہنائی انگوٹھی پھینک کر آیا تھا۔۔۔مجھے اگر میرے ماں باپ کی تربیت کا خیال نہ ہوتا تو کچھ اور کر گزرتا وہ غرایا۔

لیکن تمہاری جیسی بیویوف اور زبان دراز لڑکیاں ایسی ہی فصول گفتگو کرتی ہیں وہ اس کے قریب آتا پھنکارتا تو وہ سہمی۔

اور ایک بات مس حوریہ زیشان۔۔۔۔۔میر دلاور اتنا سستا نہیں کہ تم جیسی کی جھولی میں آ گرے۔۔۔۔تمہارے انکار سے پہلے میرا انکار بابا جان کے پاس جا چکا ہے۔

اس نے کہتے اسے حقارت سے ایک نظر دیکھا اور ماتھے پر سلوٹیں لیے باہر نکل گیا۔۔۔

وہ جو نظریں جھکائے اپنی تزلیل سن رہی تھی اس کے جاتے ہی اس نے دروازے کو دیکھا جہاں سے وہ گیا تھا۔

یا رب العالمین وہ کیوں ہیں ایسے ۔۔۔؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں ہے ۔۔۔۔؟ وہ ہربار ایسے ہی مجھے زلیل کرتے ہیں۔۔۔۔۔اس کی آنکھ سے آنسو گرا۔

وہ اپنے بولے تمام تلخ الفاظ بھول کر ہمیشہ کی طرح اسے ہی کوس رہی تھی۔

ہائے اتنا رو کر تو مجھے بھوک لگ گئی ہے۔۔۔۔مشی بھی لگتا ہے کہ چلی گئی ہے۔۔۔بہت کمینی ہے ان کے سامنے آتے ہی رفوچکر ہو جاتی ہے۔

اس نے کہتے کچن کی طرف قدم بڑھائے کہ اب پیٹ پوجا کی جائے ۔۔۔۔۔ابھی آدھی گھنٹہ پہلے اس نے میک ڈی کھایا تھا لیکن اس بھوکر کو اب پھر بھوک لگ گئی تھی۔

اس نے کچن میں جا کر دیکھا جہاں آج بینگن پکے تھے

۔۔اس کے منہ کے زاویے پل میں بدلے تھے۔

اف تائی جان نے آج پھر یہ بینگن پکا لیے ہیں۔۔۔۔۔۔ہائے میرے پر ہی سارے ظلم کیوں۔۔؟

عادی کو بولتی ہوں باہر سے کچھ لادے۔۔۔۔اس نے فوراً دماغ میں سوچتے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔

آج میجر حاد رضوان کو میں نے کسی کیس کے سلسلے میں نہیں بلایا اس لیے پرسکون ہو کر بیٹھ سکتے ہو۔۔۔۔۔جنرل شکیل احمد نے کہا۔

تو پھر سر۔۔۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے پوچھا جو اس کی زات کا خاصہ تھی اپنے کام میں۔

آج ایک نہایت نجی معاملے کے لیے بلایا ہے تمہیں۔۔۔۔شاید یہ ہمت نہ کر پاتا لیکن جیسے وقت گزر رہا ہے میری امید ختم ہو رہی ہے انہوں نے چشمہ اتارتے نم لہجے میں کہا تو وہ چونکا۔

ان کو اس طرح غمزدہ اس نے کبھی نہ دیکھا تھا تو آج کیا ایسی بات ہو گئی تھی کہ ان کی آنکھیں نم تھیں۔

حکم کریں سر۔۔۔۔۔۔وہ ان کے سب سے زیادہ قریب تھا یہی وجہ تھی انہوں نے اسے چُنا تھا۔۔۔۔۔

میری بیٹی حیات ۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہتے گہری سانس بھری۔۔۔۔پچھلے دو ہفتوں سے لاپتہ ہے انہوں نے کہتے اسے دیکھا تو وہ چونکا۔

اس کا نکاح بچپن سے اس کے تایا زاد کے ساتھ میری والدہ نے کروایا تھا۔۔۔۔میں تب ہی خلاف تھا لیکن ماں کے سامنے اپنی اولاد کو فراموش کر گیا۔۔۔۔جس کی سزا آج بھگت رہا ہوں۔

میرے بھائی کی وفات چار سال پہلے ہو گئی تھی۔۔۔۔میں سالوں پہلے اپنی بیٹی کے ساتھ یہاں آ چکا تھا کہ میری جاب مجھ سے یہی مانگتی تھی۔۔۔۔میں سب چھوڑ کر آ گیا۔

میری والدہ تب ہی حیات کی رخصتی چاہتی تھیں لیکن میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ابھی اسے پڑھ کر کچھ بننا ہے وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔۔۔۔۔

میں تب بھی انہیں یہ نا کہہ سکا کہ مجھے اپنا بھانجا نہیں پسند اور اپنی حیات میں اسے نہیں دوں گا۔

ناجانے وہ کیسی صحبت میں پر گیا اور۔۔۔۔اس وقت تم جس کیس پر کام ہو رہے۔۔۔۔۔۔وہ کہتے خاموش ہوئے۔۔۔۔

سمیل رانا ۔۔۔۔۔اس نے چونک کر پوچھا۔۔۔۔اس کا اس کیس سے کسی تعلق۔۔۔؟

اگر میں کہوں کہ میری حیات اسی کے پاس ہے تو۔۔۔۔انکوں نے کہتے نظریں جھکائی تو وہ سمجھ گیا کہ ان کا بھانجا وہی ہے اور ان کی بیٹی کا شوہر بھی۔۔۔

آگے بتائیں سر ۔۔۔۔۔آپ جو چاہیں گے وہی ہو گا اس نے عزم سے کہا۔۔۔۔

تم جانتے ہو میر حاد ۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ کیسا شخص ہے۔۔۔۔ایک مہینہ پہلے آیا تھا وہ رخصتی مانگنے۔۔۔۔۔میں نے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ میں یہ رشتہ مزید نہیں چاہتا۔۔۔۔۔تو اس نے توڑ پھوڑ کی اور پھر چلا گیا کیونکہ گارڈز نے اسے کچھ کرنے نا دیا۔۔۔۔

لیکن دو دن بعد میری اتنی بھاری نفری کے بعد بھی وہ میری بیٹی کو افواہ کر کے لے گیا۔۔۔۔۔اب حیات کہاں ہے کہاں نہیں۔۔۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی کو تم واپس لاؤ۔۔۔۔

میں مانتا ہوں یہ تمہاری زمہ داری نہیں۔۔۔۔۔لیکن ان ہڈیوں میں اتنی جان نہیں بچی اب کہ میں لڑ سکوں۔۔۔۔وہ انہیں پہلی بار تھکے ہوئے اور کمزور لگے۔

مجھے کچھ وقت دیں سر۔۔۔۔۔اس نے ان کے ہاتھ تھامتے کہا۔۔۔۔

نہیں میر وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔وقت ضائع نہیں کر سکتا میں۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس کی بات کاٹتے کہا تو اس نے کچھ سوچتے سر ہاں میں ہلایا۔

ایک ہفتہ سر۔۔۔۔۔رب العالمین کے کرم سے اگلے جمعے کے روز آپ کی بیٹی آپ کے پاس ہو گی اس نے عزم سے کہا اور کھڑے ہو کر سلیوٹ کیا۔

وہ جانتے تھے اس کے علاؤہ یہ کوئی نہیں کر سکتا اس لیے اسے چنا تھا۔۔۔۔حیات ان کی زندگی کا واحد سہارا تھی جسے وہ کھونا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔

رب العالمین تمہیں کامیاب کرے اس کا کندھا تھپتھپاتے کہا ۔۔۔۔۔

اس نے پورا ہفتہ لگایا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنی ٹیم کی مدد لی تھی لیکن انہیں حقیقت نہیں بتائی تھی۔۔۔۔ان سب کے نزدیک وہ اس وقت ملک کے دشمن سمیل رانا کے خلاف محاز لڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔

اس نے اس شخص کی ساری انفارمیشن نکلوائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔آج بدھ تھا وہ آج رات اس کے فارم ہاؤس جس میں وہ موجود تھا حملہ کرنے والے تھے۔۔۔

اس کے زرائع کے مطابق یہ سمیل رانا کا پرسنل فارم ہاؤس تھا جہاں وہ چھٹیاں منانے آتا تھا اور اس اوقات میں وہ کسی سے نا رابطہ رکھتا تھا نا ڈیل کرتا تھا۔

زرائع کے مطابق اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔۔اس کے بعد بھی لڑکیاں آتی رہیں تھیں لیکن سب اگلی صبح اپنی قیمت لگوا کر واپس چلی جاتی تھی سوائے اس ایک کو جس کو وہ خود ساتھ لایا تھا اور اسے یقین تھا کہ اور کوئی نہیں حیات ہے۔

اس نے سب کو پلین سمجھا دیا تھا۔۔۔۔انہیں اس کے خلاف کچھ ثبوت بھی چاہیے تھے جو ان کے مطابق اسی فارم ہاؤس پر تھے۔

اس نے سب کو پیچھے سے اندر داخل ہونے کو کہا تھا کیونکہ ان کے کچھ آفیسرز آگے والوں کو ٹھکانے لگا چکے تھے اور کچھ چھت پر موجود تھے۔

اس نے آنسو گیس پھیلائی تو چوہا بل سے باہر نکل آیا۔۔۔۔سالو۔۔۔۔کہاں مرے ہو یہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھتے اوپر کے پورشن کے سارے کمرے چھان مارے تھے کچھ نہیں ملا تھا۔

اس کے باقی کے ساتھی افسران ثبوت ڈھونڈ رہے تھے اور وہ حیات نامی لڑکی کو۔

نیچے کے سارے رومز چیک کرنے کے بعد اس نے دیوار پر ہاتھ مارا۔۔۔۔۔ان کے پاس وقت بہت کم تھا۔۔۔۔وہ باہر اس کی آوازیں سن سکتا تھا۔۔۔

جس نے فون پر فون کر ڈالے تھے۔۔۔۔۔اس کے لوگ کسی بھی وقت پہنچ جاتے۔۔۔انہیں اس سے پہلے بنا نظر میں آئے یہاں سے جانا تھا۔

وہ مقابلہ کر سکتے تھے ۔۔۔۔لیکن ابھی وہ خود کو ظاہر نہیں کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔۔وہ اس کا نام ایجینسی میں دینے کے بعد منظر عام پر آتے۔

سر نکلنا ہو گا۔۔۔۔۔اس کے آدمی پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔اس کے کان میں لگے مائیکرو فون سے آواز گونجی۔۔۔۔

تو اس کے زہن میں وہ لمحہ آیا جب ایک بے بس باپ اس سے اپنی بیٹی کی رہائی کی امید لگا کر بیٹھا ہے۔

اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے اور اس کے سٹڈی میں گھسا۔۔۔۔۔۔وہاں گھستے ہی اس کے نتھوں سے خون اور شراب کی ملی جلی بو ٹکرائی تھی۔

اس نے اپنا چہرہ ماسک سے ڈھکا اور آگے بڑھا۔۔۔۔۔لیکن کچھ نہ ملنے پر شاید وہ واپس نکل جاتا لیکن میز کے نیچے گلابی آنچل دیکھتے رکا۔۔۔

سر وہ پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ہری اپ۔۔۔۔آواز پھر سے آرہی تھی جسے اس نے نظر انداز کیا اور اس میز کے پاس گیا۔

اسے زور سے اپنی طرف کو گھسیٹا تو دیکھا کوئی وجود اوندھے منہ پڑھا تھا۔۔۔۔۔قمر پر موجود قمیض جگہ جگہ سے پھٹی تھی اور کافی نشانات نظر آرہے تھے۔

,اس کے دوپٹے کے اندر کچھ باندھ رکھا تھا۔۔۔شاید کاغز تھے کچھ۔۔۔اسے بھی حاد نے لیا تھا ساتھ۔

سر ٹائم از اوور۔۔۔۔کیا حملہ کرنا ہے۔۔۔۔؟ اس کے لوگ پہنچ چکے ہیں آواز پھر سے ابھری۔۔۔۔

نو ۔۔۔۔۔۔سب نکلو اور پچھلے دروازے پر پہنچو۔۔۔۔۔جیپس نکالو باہر۔۔۔۔۔۔ثاقب کو بولو میری گاڑی وہیں کھڑی رکھے ۔۔۔۔۔میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔۔

اس نے اس صنفِ نازک کو جھٹکے سے گھماتے باہوں میں بھرا اور چھپتا پچھلے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ نکلتا ایک گولی اس کے بازو کو چھو کر گزری تھی۔

یہ گھر تھا میر رضوان حسن کا۔۔۔۔جہاں وہ اپنی بیگم فرزین حسن کے ساتھ رہتے تھے۔۔۔۔

ان کے تین سپووت ہیں۔۔۔۔سب سے بڑا میر دلاور رضوان، جو بے حد سنجیدہ طبیعت کا مالک تھا پھر میر حاد رضوان جو حوریہ کا اچھا دوست تھا اور اس سے دو سال بڑا تھا۔۔۔۔اور میجر تھا وہ کم ہی یہاں ہوتا تھا اور جب ہوتا تھا تو حوریہ اپنے سارے ناز نخرے اسی سے اٹھواتی تھی۔

اور سب سے چھوٹا عادل رضوان جو حوریہ سے سال چھوٹا تھا اور اس کا کرائم پارٹنر تھا۔

رضوان حسن کے ایک ہی بھائی تھے اور ایک ہی بہن تھی ۔۔۔ ناہید اختر جو کہ اپنے فیملی کے ساتھ آسٹریلیا میں آباد تھیں اور ایک ہی بھائی میر زیشان حسن جو ان کا لاڈلا تھا وہ سات سال پہلے ایک ایکسیڈنٹ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ وفات پا چکے تھے۔

ان کی ایک ہی اولاد تھی۔۔۔۔حوریہ زیشان جسے تب سے انہوں نے اپنے سینے سے لگا کر رکھا تھا۔

اس گھر میں دو ہی عورتیں تھیں۔۔۔۔۔فرزین حسن اور حوریہ زیشان۔۔۔۔

لیکن حوریہ کا سارا بچپن لڑکوں کے ساتھ گزرا تھا اس لیے اس میں لڑکیوں والی عادات نہ تھیں زیادہ۔۔۔

اس نے سارا بچپن عادی اور حاد کے ساتھ گزارا تھا۔۔۔۔وہ ان کی بے حد لاڈلہ تھی۔۔۔حاد کی بیسٹ فرینڈ اور عادی کی کرائم پارٹنر۔۔۔۔

دلاور حسن سے وہ بچپن سے دور ہی رہی تھی وجہ اس کی ریزرو اور بے حد سنجیدہ طبیعت تھی۔

میر دلاور کو اس کی لاابالی طبیعت بالکل پسند نہ تھا اور حوریہ ذیشان کو پورا کا پورا دلاور حسن۔۔۔۔

اسے دلاور سے بچپن سے اس کی حرکتوں کی وجہ سے ڈانٹ پڑتی آئی تھی کبھی وہ غصے ہو جاتی اور کبھی رونے لگتی۔

میر دلاور پیشے سے ڈاکٹر تھا جو کینیڈا سے سپشلائزیشن کر کے آیا تھا۔۔۔۔اس شعبے کی باریکیوں نے اسے مزید سنجیدہ بنا دیا تھا۔

اس کی والدہ چاہتی تھی کہ اب وہ ایک مقام پا چکا ہے تو اپنی زندگی شروع کرے اورشادی کرے۔

میر رضوان ہمیشہ چاہتے تھے کہ اس کی شادی حور سے ہو۔۔۔۔کیونکہ انہیں لگتا تھا وہ اس کی زندگی بدل دے گی۔۔۔

لیکن فرزین حسن ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔انہیں حوریہ اور دلاور دونون بے حد عزیز تھے۔

۔۔وہ جانتی تھی وہ دونوں الگ الگ ساحلوں کے دو مختلف کنارے تھے جن کا ملنا ممکن نہ تھا۔

لیکن حوریہ تک جب یہ بات پہنچی تو اس نے کافی ہنگامہ کیا تھا جو میر دلاور رضوان سن چکا تھا اور اس نے عادی کے ہاتھ رضوان صاحب کو نہ کر دیا تھا تبھی انہوں نے امید چھوڑ کر اس کے لیے مہوش فاخر کی بات چلائی تھی۔

انہیں کے زور دینے پر رضوان حسن نے ان کی بات مانی تھی اور دوسرا حور ابھی چھوٹی تھی۔

انہوں نے سوچ کر اس کے اچھا رشتہ دیکھا تھا۔۔انہیں ایسی لڑکی چاہیے تھی جو اس گھر کو جوڑ کر رکھے۔۔۔

مہوش فاخر نام کی لڑکی کی حقیقت سامنے آتی ہی انہیں بے حد بڑا لگا تھا ۔۔۔۔۔میر دلاور کو بہت مشکل سے انہوں نے شادی کے لیے منایا تھا اور پھر یہ حادثہ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حور بیٹا تایا جان بلا رہے ہیں آپ کو۔۔۔۔۔فرزین بیگم نے کہا تو وہ جو منہ میں پھر بھر کر چپس ٹھونس رہی تھی چونکی اور کھڑکی ہوئی۔

اور یہ چپس کا باؤل جو اس کی جھولی میں پڑا تھا وہ اس کے قدموں میں گرا۔

وہ نیچے جھکتی اس سے پہلے ہی میر دلاور پر نظر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

اس نے کھسیا کر چپس واپس باؤل میں ڈالی اور کچن میں رکھ کر باہر نگاہ ڈالی جہاں وہ سامنے ہی صوفے پر بیٹھا اپنا سر دبارہا تھا۔

اس نے خاموشی سے یہاں وہاں دیکھا ۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں تھا اسوقت۔۔۔۔اس نے دیکھا اس کا دوپٹہ میر دلاور کے ساتھ والے صوفے پر پڑا ہے۔

تایا جان کے سامنے ایسے نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔۔۔یشک انہوں نے کبھی کچھ کہا نہ تھا لیکن اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔۔۔۔لیکن وہ ہزار کوششیں کر لیتی اس کی اپنے دوپٹے سے کم ہی بنا کرتی تھی۔

ابھی بھی وہ تھوک نگلتی باہر آئی اور اپنا دوپٹہ پکڑنے لگی اس سے پہلے ہی عادی وہاں آتا جھپاک سےصوفے پر بیٹھا اور اس کا دوپٹہ گلے میں مفلر کی طرح باندھ لیا۔

عادی میرا دوپٹہ دو۔۔۔۔اس نے پاس آتے دوپٹہ لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔۔وہ جو آنکھیں موندے پڑا تھا اب انہیں دیکھنے لگا۔

عادی نے جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔۔۔فون پر سکرولنگ کرنے لگا۔۔۔۔۔

عادی۔۔۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر اپنا دوپٹہ لینا چاہا ۔۔۔۔لیکن عادی فوراً کھڑا ہو گیا صوفے پر۔۔۔۔۔

عادی تایا جان انتظار کر رہے ہیں یار۔۔۔۔۔۔۔جلدی دو۔۔۔۔۔اس نے چھلانگ لگا کراس تک پہنچنا چاہا۔۔۔۔

پہلے بتاؤ رات کو چل رہی ہو ساتھ یا نہیں۔۔۔۔؟

عادی مجھے نہیں جانا۔۔۔میرا من نہیں ہے۔۔۔۔

تو میرا بھی من نہیں ہے تمہیں یہ دینے کا اس نے دوپٹہ گلے سے نکالتے ہاتھ پر لپیٹا۔۔۔۔۔وہ دونوں میر دلاور کو فراموش کر گئے تھے جس کی نظریں انہیں پر تھیں۔

مجھے تمہارے ساتھ ہی جانا ہے حور اس نے جھکتے حور کے گال کھینچتے کہا۔۔۔۔

تو حور نے اسے غصے سے گھورا۔۔۔۔۔اور پھر صوفے پر چڑھ کر اس کے بال مٹھیوں میں بھینچے اور دھپ سے اپنا مومی ہاتھ اس کی قمر پر مارا۔

عزت نہیں نا راس تمہیں۔۔۔۔اب وہ اس کے بال کھینچے کھڑی تھی اور وہ حوریہ کے۔

حوریہ ذیشان، عادی رضوان۔۔۔اس کی گرج دار آواز گونجی تو وہ دونوں تھمے اور نظریں اس کی طرف گئیں جو انہیں سرخ آنکھوں سے گھور رہا ھا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے عادی۔۔۔۔؟

اس میں تو عقل نہیں ہے تم ہی کچھ خیال کرو۔۔۔۔بچے نہیں ہو اب بڑے ہو گئے ہو۔۔۔۔۔۔شرم ہے کچھ تم دونوں میں یا نہیں۔۔۔۔

عادی دوپٹہ فوراً واپس کرو۔۔۔۔اور جا کر ٹیسٹ کی تیاری کرو ۔۔۔۔جاؤ فوراً۔۔۔۔اس نے کہا تو وہ اس کا دوپٹہ اس کو دے کر فوراً رفو چکر ہو گیا۔۔۔۔شیر کی کچھار میں کون جانتے بوجھتے ہاتھ ڈالتا۔

اس نے ایک نظر اب حوریہ کو دیکھا جو سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔

اور تم۔۔۔۔۔۔تمہارا دوپٹہ مجھے یہاں وہاں پڑا نظر نہ آئے دوبارہ۔۔۔۔۔اسے گلے میں رکھو سر پر تمہارے نہیں نا ٹکتا یہ تو۔۔۔۔۔اور یہ کیا اچھل کود لگائی ہوئی ہے بچی ہو چھوٹی سی۔۔۔؟

وہ دلاور بھائی۔۔۔۔اس نے منمناتے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا۔۔۔۔حلق تو پہلے ہی اس کے خوف سے خشک ہو گیا تھا۔

جاؤ بابا کی بات سن کر آؤ اور آ کر چائے بنا کر میرے کمرے میں پہنچاؤ۔۔۔وہ حکم جاری کرتا چلا گیا۔۔۔

اس دن کے بعد یہ ان کی پہلی گفتگو تھی۔

پکڑو سالے کو۔۔۔۔۔میری بیوی کو لے جا رہا۔۔۔۔۔اس کی اتنی ہمت۔۔۔۔۔۔لیکن تب تک وہ جا چکا تھا۔۔۔اس کے نکلتے ہی وہاں سناٹا چھا گیا کیونکہ پیچھے کا سارا حصہ اس بم کی نظر ہو گیا جو اس نے پھینکا تھا۔

سمیل رانا کے کتنے ہی لوگ مر گئے زخمی وہ بھی ہوا تھا لیکن اس عورت پر دو حرف بھیج کر وہاں سے نکل گیا۔

اس نے آگے چلتی سڑک پر جا کر سانس چھوڑا۔۔۔۔تب سے ایک بھی نظر اس نے اس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا جسے وہ باہوں میں اٹھا کر بھاگا تھا۔

آگے اشارے پر رکتے اس نے ثاقب کو دیکھا جو ڈرائیو کر رہا تھا اسے گاڑی اپنے فلیٹ پر لے جانے کو کہا جو زیادہ دور نہ تھا۔۔۔۔

وہ پہنچے تو اس نے ثاقب کو اشارہ کیا جو نکل کر دور چلا گیا تھا۔۔۔۔اس نے اس وجود کو پھر سے تھاما اور اندر کی طرف بڑھا۔

کسی فی میل ڈاکٹر کو لے کر آؤ ہری اپ۔۔۔۔اس نے حکم جاری کیا تو ثاقب چلا گیا۔۔۔

اس نے جا کر اسے اپنے کمرے کے بستر پر ڈالا۔۔۔۔وہ لٹا کر ہٹا تو نظر سیدھا اس وجود کے چہرے سے ٹکرائی جس سے اس کا دل پل میں رک کر پھر سے دھڑکا۔

اس کے چہرے پر جا بجا نیل کے نشان تھے۔۔۔۔بھاری پلکیں آنکھوں پر سایہ فگن تھی ناجانے کب سے۔۔۔۔ہونٹ پھٹے تھے برے طریقے سے۔۔۔۔کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے تھے۔۔۔

اس کا سر خود بخود جھک گیا ۔۔۔۔اس پر اپنا کمفرٹر اوڑھتے پھر سے اسے دیکھا۔

جس کی صاف رنگت نشانوں نے چھپائی تھی۔۔۔۔وہ بیشک بہت حسین تھی۔۔۔۔۔اس لیے سمیل رانا کے قبضے میں تھی۔۔۔۔۔

اس نے لب بھینچے۔۔۔۔اس وجود کے گناہگار کو اس کا دل چاہا کہ کوڑے مارے جائیں۔۔۔۔۔ابھی وہ کچھ اور سوچتا کہ ڈاکٹر ثاقب کے ساتھ آئی تو وہ انہیں وہیں چھوڑتا باہر نکل گیا۔

آدھے گھنٹے بعد وہ باہر نکلی ۔۔۔۔۔۔ثاقب باہر ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔اس نے سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔

انہیں کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔۔۔۔اس کے علاؤہ برے طریقے سے ان پر تشدد بھی کیا ہے۔۔۔۔پٹی میں کر چکی ہوں۔۔۔۔۔دوائیں آپ منگوا لیں وہ پیشہ وارانہ انداز میں بولی۔

ہوش میں کب آئیں گی یہ۔۔۔؟

کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔وہ گہرے صدمے کے زیرِ اثر بیہوش ہیں۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے دو دن میں ہوش میں آجائیں یا کل ہی ۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔وہ کہتا انہیں باہر کا راستہ دکھاتا اندر بڑھا۔۔۔۔ڈاکٹر اس کی درخواست پر اس کی تمام مرحم پٹی کر چکی تھی۔

اس کا صاف چہرہ دیکھتے اس کا دل عجیب سا ہوا۔۔۔۔۔اس پر سے نظریں پھیرنی چاہیں لیکن ناکام رہا اس لیے کمرے سے ہی نکل گیا۔

اس نے اس حالات میں بہت وجود دیکھے تھے لیکن یہ پہلا تھا جس پر اس کی نظریں ٹک گئیں تھی۔۔۔۔۔میرحاد رضوان جو صنفِ نازک کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا اس کی آنکھیں اس وجود کو دیکھنے کے لیے جیسے گزارشیں کر رہی تھیں۔

مشن کمپیلیٹڈ سر۔۔۔۔اس نے میسیج لکھ کر بھیجا۔۔

مجھے یقین تھا تم پر۔۔۔۔فوراً جواب موصول ہوا۔۔۔۔

کب لاؤ گے میری حیات کو۔۔۔۔انہوں نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔