Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406 Eid-e-Deed e Yaar Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Eid-e-Deed e Yaar Episode 6
Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf
وہ شخص تو چلا گیا تھا ۔۔۔اسے کافی چوٹیں آئی تھیں دوسرے سے سارا کام کرواتے وہ کمرے میں آیا تو وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔
اس کے ساتھ آ کر کھڑے ہوتے اسے نے حیات کا رخ موڑتے دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اس کا دل لرزا۔
زندگی۔۔۔!اس کو جھٹکے سے خود کی طرف موڑتے وہ بولا تھا۔
آپ کیوں ہیں ایسے حاد۔۔۔؟مرد تو اتنے اچھے نہیں ہوتے۔۔۔مرد تو انا کا پتلا ہوتے ہیں جنہیں کوئی مسمار نہیں کر سکتا۔۔۔جن کے آگے ہم مر بھی جائیں تو انہیں دوسری عورت کی حسرت رہتی ہے۔۔۔جن کے لیے ان کی ضد ان کے غصے سے بڑا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔جن کی نظر میں عورت ایک حقیر شے کے۔۔۔۔لیکن آپ کیوں ہیں ایسے۔۔۔۔کیوں لڑے میرے لیے۔۔۔وہ اسکے سینے پر مکے مارتی چیخی تھی۔
حیات۔۔۔۔
حیات۔۔۔اسے جھٹکے سے روکتے حاد نے منجمد نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔۔
سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔۔۔۔اس لیے یہ باتیں زہن سے نکال دیں۔۔۔۔۔ہر ایک مرد عورت کو الگ طریقے سے بیان کرے گا۔۔۔اس کا بیان اس کی سوچ کا عکس ہو گا۔۔۔میں ہر رشتے میں برابری کا قائل ہوں۔۔۔یہ ڈرام نہیں چل رہا یا کوئی افسانوی زندگی ۔۔۔۔ جہاں میں یہ سب ڈائیلاگز بولوں۔۔۔لیکن میرے لیے عورت مرد کے برابر ہے۔۔۔۔۔اگر مجھ سے منسلک عورت میرے جوتے پالش کر سکتی ہے تو میرے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ میں جھک کر اس کی سینڈل اتارتے کو آنا کا مسئلہ بنا لوں۔۔۔۔رشتے برابری سے چلتے ہیں۔۔۔۔کبھی خود جھک جائیں کبھی سامنے والے کو جھکا دیں۔۔۔۔میں ایسا ہی ہوں کیونکہ میری تربیت ایسی ہے۔۔۔میرا سیکھا علم مجھے یہ سب سکھاتا ہے۔۔۔اس نے حیات کو ساتھ لگاتے کہا۔
آپ مکمل ہیں۔۔۔۔۔اس نے سسکی بھری۔۔۔
مجھے آپ نے مکمل کیا ہے حیات۔۔۔۔وہ اسے پھر ایک بار معتبر کر گیا تھا۔۔۔
آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی۔۔۔۔؟
آپ کو تو کوئی بھی مل جاتی۔۔۔حیات نے اس کے سینے سے سر اٹھاتے اس سے پوچھا۔
حاد نے پیچھے کی طرف قدم لیے اور بستر پر گرتے اس کے گرد حصار کھینچا۔۔۔
سوال بہت ہیں بھئی آپ کے میں تھک جاتا۔۔۔۔اس کی تھوڑی کو چومتے وہ مسکرا کر بولا۔۔اس کی آنکھیں مسکرائیں تھی۔
آپ سے شادی۔۔۔۔اس نے سوچتے اسے دیکھا جو تمام تر توجہ لیے اس کے جواب کی منتظر تھی۔
کیونکہ میرے دل نے آپ کو دیکھ کر گواہی دی کہ میر حاد رضوان کو یہ لڑکی مکمل بنا سکتی ہے۔۔۔۔میرے دل نے آپ پر مہر لگا دی اور بس۔۔۔۔
حیات نے اسے دیکھا۔۔۔۔وہ کتنا خوبصورت مرد تھا۔۔۔ہاں مرد کو خوبصورت اس کی رنگت یا اس کے خدوخال نہیں اس کا دل، اس کا اخلاق، اس کا رویہ بناتا ہے جو خود سے منسلک لوگوں کے ساتھ وہ روا رکھتا ہے۔
اور کچھ پوچھنا ہے تو آج ہی پوچھ لو۔۔۔۔لیکن تمہاری یہ انسکیورٹی دوبارہ نہ دیکھوں۔۔۔حاد نے اس کے بال کان کے پیچھے اڑستے سخت لہجے میں کہا۔
کیا آپ کو کبھی محبت ہوئی ہے ۔۔؟
یہ سوال تھوڑا سا مشکل ہے اس کا جواب میں آپ کو کچھ دیر بعد دوں گا۔۔۔۔اس نے کہا تو حیات نے منہ بسوڑا ایسے کرتے وہ کیوٹ لگی تھی۔
ڈیم ۔۔۔۔۔میر دلاور رضوان نے ہاتھ پھر سے کہیں مارنا چاہا تھا لیکن زخم دیکھتے اس نے اپنے قدم باتھ روم کی طرف بڑھائے۔
وہ مرد تھا کیسے نا کسی دوسرے مرد کی آنکھوں میں پسندیدگی محسوس کرتا۔۔۔وہ بھی اپنی بیوی کے لیے۔
اس نے یہ رشتہ دل سے قبول کیا تھا۔۔۔۔۔وہ یہ رشتہ نبھاتا بھی لیکن حوریہ ذیشان کے اپنے بارے میں خیالات سنتے وہ اسے بد گمان ہوتا چلا گیا تھا۔
وہ ہر لمحے اس رشتے کو غلطی اور جلد بازی کا نام دیتی آئی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اسے اس رشتے سے کبھی آزاد نہ کرتا۔۔۔۔
اس لڑکی کو تو وہ مرتے دم تک نہ چھوڑتا جس کو دل نے تب ہی قبول کر لیا تھا جس دن اس نے میر دلاور کا سر گود میں رکھا تھا اپنی۔۔۔۔
وہ صرف غصے میں یہ سب بول گیا تھا۔۔۔۔۔وہ اسے احساس دلانا چاہتا تھا کہ یہ رشتہ مزاق نہیں ہے۔۔۔۔
اس نے زخم دھویا اور بنا پٹی کیے اوندھے منہ بستر پر پڑتے بتیاں بجھائی اور لیٹ گیا۔
دوسری طرف وہ اپنے کمرے میں رو کر تھک چکی تھی۔۔۔۔وہ کیسے چلایا تھا اس پر۔۔۔۔اسے تو شادی جیسے رشتے سے بہت ڈر لگتا تھا۔
اس کی جماعت کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی تھی۔۔۔اس کے شوہر نے اس کی پڑھائی چھڑوا دی تھی۔۔۔اس کا دوستوں کے ساتھ آنا جانا باہر۔۔۔۔وہ اس پر پابندیاں لگاتا تھا۔۔۔۔
اسے بھی بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔کہ کہیں اس کی قسمت ویسی نہ ہو ۔۔۔اس نے بنا روک ٹوک کے زندگی گزاری تھی کیونکہ اسے اپنی حدود پتا تھیں لیکن میر دلاور رضوان پھر بھی اسے کافی چیزوں سے منع کرتا تھا۔
وہ غصے میں اس کے بارے میں ناجانے کیا کیا بول دیتی تھی جس کے لیے بعد میں وہ پشیمان بھی ہوتی تھی۔۔۔۔پہلی بار جب میر دلاور نے اس کی باتیں سنی تھی۔
تب بھی اس نے اپنی کلاس کی اس لڑکی کی باتیں سن کر اس کی زندگی کو دیکھتے اپنا غصہ اتارا تھا۔
وہ اپنے غصے میں کئی بار اس کی زات کو نشانہ بنا گئی تھی اور کئی بار اس خوبصورت رشتے کا مذاق بنا گئی تھی۔
وہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کے نام کے آگے سے اُس کا نام ہٹے۔۔۔۔کبھی وہ اسے دیکھتی تک نہ تھی اور آج وہ اس کی تکلیف پر بے چین ہو جاتی تھی جیسے کہ ابھی ہوئی تھی۔
گھڑی پر وقت دیکھا جو پونے بارہ بجا رہی تھی۔۔۔۔اس نے چینج کیا منہ ہاتھ دھویا اور کمرے میں ٹہلنے لگی آیا وہ جائے یا نہیں۔
پھر کچھ سوچتے دھیرے سے اپنے کمرے سے باہر نکلی اور قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھائے۔
اور دروازے کا نوب گھمایا ۔۔۔۔جو لاک نہ تھا۔۔۔۔اندر داخل ہوئی تو سائیڈ لیمپ کے علاوہ ساری بتیاں گل تھی۔
کمرے کے ٹھنڈے اور خوابناک ماحول میں اس نے گہری سانس بھری اور اسے دیکھا جو عادت کے مطابق اوندھے منہ سو رہا تھا۔
سامنے دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور اس کے پاس آئی جس نے صرف زخم دھویا تھا اور ایسے ہی سو گیا تھا۔
اس نے اس کا فون اٹھا کر ٹارچ چلائی اور اس کے زخم کا معائینہ کیا۔۔۔ کانچ وہ نکال چکا تھا لیکن زخم گہرا تھا۔
اس نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھاما تو دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔پھر اس کا زخم دھیرے سے صاف کرتے اس پر پٹی کی ۔۔
میر دلاور رضوان اس کے اندر آنے پر ہی جاگ گیا تھا ۔۔اب اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے جو مگن سے انداز میں کافی احتیاط برتتے پٹی کر رہی تھی۔
وہ چونکا تب جب اس نے جھک کر اس کے ہاتھ پر لب رکھے ۔۔۔۔
آئیم سوری میر ۔۔۔۔یہ میری وجہ سے ہوا اب سے میں دوپٹے کا خیال رکھوں گی ۔۔۔۔بال بھی باندھا کروں گی اور کپڑے بھی اچھے پہنوں گی ۔۔۔لیکن آپ نے ایسا کیوں کہا۔۔۔۔اس نے رندھے لہجے میں کہا۔
اور پھر پیچھے ہوئی اور اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد میر دلاور رضوان نے اپنے ہاتھ کو دیکھا اور جہاں اس نے لب رکھے تھے وہاں ہاتھ پھیرا۔
وہ قیمتی اثاثہ تھی اس کا ۔۔۔۔۔۔
اگلے روز اس نے ناشتے پر دوپٹہ اچھے سے پھیلا کر لیا تھا۔۔۔اور بال بھی باندھے تھے لیکن پہنا جینز اور شارٹ کرتا ہی تھا شاید اس کے پاس یہی سب تھا۔
یہ تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا بیٹا۔۔۔ناہید بیگم نے اسے آتے دیکھ اس کے ہاتھ کو دیکھتے پوچھا تو دونوں کی نظریں ملی اور حوریہ نظریں چرا گئی۔
کچھ نہیں کل گلاس ٹوٹ گیا تھا اس نے عام سے لہجے میں کہا اور بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
حوریہ نے اس کے آگے پراٹھا رکھا جو وہ روز کھاتا تھا۔۔۔۔
آج صرف کافی پیوں گا میں ۔۔۔۔۔پھپھو میری کافی بنوا دیں اس نے کہا تو حوریہ کی آنکھیں پل میں نم ہوئیں۔
حور آپ کل چلی گئیں تھیں۔۔۔۔آج میں فری ہوں آپ چاہیں تو پڑھ سکتی ہیں۔۔۔اس نے کہا تو حور نے چور نگاہوں سے میر کو دیکھا جو فون پر مصروف تھا۔
نہیں تقریباً تیاری ہو گئی ہے۔۔۔۔باقی کے نوٹس میری دوست نے مجھے بھیج دیے تھے شکریہ۔۔۔۔اس نے کہتے پھر سے اسے دیکھا جو اب اپنی کافی پی رہا تھا۔
میرر۔۔۔۔۔مجھے ینویورسٹی ڈراپ کر دیں اس نے ڈرتے اسے مخاطب کیا۔
مجھے جلدی پہنچنا ہے تم عادی کے ساتھ چلی جاؤ۔۔۔۔اس نے بنا اسے دیکھے جواب دیا تو وہ روہانسی ہوئی۔۔۔
عادی بھی اپنے بھائی اور بھابھی پلس بہن کی ناراضگی سمجھ گیا تھا اس لیے بولا۔۔۔
نہیں بھائی آج مجھے نہیں جانا۔۔۔مجھے بابا کے آفس جانا ہے تو آپ کا وہی روٹ ہے آپ چھوڑ جائیں۔۔۔۔
اوکے چلو۔۔۔۔اٹھو جانا ہے تو۔۔۔اس نے کافی کا آخری گھونٹ بھرتے کہا۔
حوریہ نے ابھی اپنا ناشتہ شروع کیا تھا فوراً سے کھڑی ہوئی پلیٹ کھسکا کر۔
ارے بیٹا ناشتہ تو کرنے دو اسے۔۔ناہید اختر بولیں۔۔۔۔
مجھے لیٹ ہو جائے گا ۔۔۔۔اسی لیے کہا تھا عادی کے ساتھ چلی جائے ۔۔
نہیں می۔۔۔میں جاتی ہوں۔۔۔مجھے بھوک نہیں۔۔۔۔جب کہ سب جانتے تھے وہ ناشتہ ضرور کیا کرتی تھی۔
گاڑی میں خاموشی تھی۔۔۔۔۔میر اس کا خود کی طرف چور نگاہوں سے دیکھنا محسوس کر چکا تھا۔
کل سے روزے شروع ہو جانے تھے۔۔۔۔۔لیکن ہر بار کی طرح اس بار وہ خوش نہیں تھی اس کا دل بوجھل تھا بے حد۔
میر دلاور نے گاڑی مارٹ کے سامنے روکی اور اندر گیا۔۔۔۔اور لا کر بیگ اس کی جھولی میں رکھا۔
کھاؤ اسے۔۔۔۔۔اس کی آواز گونجی تو حوریہ نے اسے کھول کر دیکھا جس میں جوس کے ساتھ سینڈوچ بھی تھا۔
وہ ناراضگی میں بھی اس کے بارے میں نہیں بھولا تھا۔۔۔۔اس نے نم آنکھوں سے کھانا شروع کیا وہ دل میں بے حد پشیمان تھا اپنے اب تک نہ رویے کو کے کر۔
میر ۔۔۔۔اس نے اترتے اس کو پکارا
ہممم۔۔۔۔
آپ مجھے واپسی پر لینے آجائیں گے ۔۔۔؟
وقت ملا تو لیتا جاؤ گا وہ کہتا زن سے گاڑی بھگا لے گیا تو وہ بھی نم آنکھوں سے اندر چلی گئی۔
دل ایسے ہی اداس ہو رہا تھا بار بار ۔۔۔۔۔پہلے جب وہ اسے ٹوکتا تھا تو اسے برا لگتا تھا اب جب وہ خاموش تھا تو اس کی خاموشی اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔
آپ نے اس آدمی۔۔۔حیات نے سوچتے۔۔۔
تم پر میں کسی کی علیظ نظر برداشت نہیں کروں گا۔۔۔میرے زور بازو میں اتنی طاقت ہے کہ میں اسے جہنم وصال کر دو اس پر گرفت سخت کرتے وہ سنجیدہ سا بولا تھا۔
حیات کو اس سے خوف محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔
حاد ۔۔۔۔
ہم۔۔۔۔۔وہ جو اس کے بالوں کی خوشبو خود میں اتار رہا تھا بوجھل لہجے میں بولا۔
کیس کہاں تک پہنچا۔۔۔۔؟
اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی۔۔۔۔تمہارا جو کام ہو گا وہ تمہیں بتا دیا جائے گا۔۔۔وہ تیزی سے اٹھتا الماری سے کپڑے نکالنے لگا۔
حیات کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔بابا نے کہا تھا کہ یہ کیس آپ کے ساتھ میں ہینڈل کروں گی تو آپ مجھے کیوں سب سے آگاہ نہیں کر رہے وہ تیزی سے اس کے پاس جاتی بولی۔
حیات واپس جاؤ کھاؤ میں لے آیا تھا لگاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔
لیکن۔۔۔۔وہ جا چکا تھا۔۔۔
وہ کیوں اسے کام نہیں کرنے دینا چاہتا تھا۔۔۔کیا دوسرے مردوں کی طرح اسے بھی بیوی کا شانہ بشانہ ہو کر کام کرنا پسند نہ تھا۔۔۔اس کا دل بدگماں ہونا چاہتا تھا لیکن کچھ دیر پہلے اس کے بولے جانے والے لفظوں پر اس نے خود کی سوچ کی نفی کی
کھانا خاموشی سے کھایا گیا تھا۔۔۔۔
چائے۔۔۔؟ حیات نے اسے اٹھتے دیکھ پوچھا۔
نہیں۔۔۔۔وہ کہتا کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
وہ چیزیں سمیٹتی جب اندر گئی تو وہ کمفرٹر اوڑھے چت لیٹا تھا۔۔۔
وہ بھی آ کر خاموشی سے لیٹ گئی دونوں اپنی سوچ میں غلطاں تھے۔
کل مجھے بابا کی طرف چھوڑ جائیے گا۔۔۔۔۔حیات نے کہا تو اس نے ہاتھ ہٹایا سر سے۔
اگر یہ ناراضگی ہے تو جان لیں اس کا فائدہ نہیں۔۔۔۔میں چھوڑ آؤں گا لیکن واپس لینے نہیں آؤں گا۔۔۔۔اس نے کہا تو حیات کی آنکھیں ڈبڈبائی۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔وہ بولی تو حاد نے اسے دیکھا جو رخ موڑے لیٹی تھی۔
یہاں آؤ۔۔۔۔۔
اپنا بازو بستر پر پھیلاتے اسے حکم دیا گیا۔
حیات نے سنتے ان سنا کیا تو میر حاد نے کھینچ کر اسے ساتھ لگایا اب اس کی قمر اس کے سینے کے ساتھ لگی تھی۔۔۔
میرے فیصلے کے خلاف جانا چاہتی ہو۔۔؟
حیات نے آگے سے کچھ نہ کہا تو وہ اسے چھوڑتا کمرے سے ہی نکل گیا۔۔۔
وہ جو اسے نا میں جواب دینے لگی تھی اس کے اس قدم سے وہ وہیں تکیے میں منہ دینے رونے لگی۔
کچھ دیر بعد حیات نے نیند سے بند ہوتی آنکھوں کو کھولا اور گھڑی پر نظر دوڑائی جو رات کا سوا ایک بجا رہی تھی۔
وہ نیند میں جھولتی اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی ساتھ والے کمرے کی بتی چل رہی تھی۔
وہ اندر داخل ہوئی تو وہ وہیں کرسی پر بیٹھا کام کر رہا تھا۔
اسے دیکھتے حاد نے اسے نظر انداز کیا تھا جو حیات کو بے حد بڑا لگا تھا۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی طرف گئی اور کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔
اب کیا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟؟حاد کی گھمبیر آواز پر حیات نے تھوک نگلا اور پھر اس کے سامنے سے لیپ ٹاپ ہٹاتے وہ میز پر بیٹھی اور جھکتے اپنا سر حاد کے سر کے ساتھ جوڑا۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے حاد۔۔۔۔۔۔اس نے دھیمے سے کہا تو وہ مسکرایا۔
حیات حاد رضوان میں سب کر سکتا ہوں چاہو تو مجھے چیلنج کر کے دیکھ لو اس کی قمر پر ہاتھ باندھتے وہ مسرور سا بولا تھا۔
اس کا غصہ اس کے نزدیک آنے پر ہی غائب ہو گیا تھا۔۔۔۔
نیند آئی ہے۔۔۔اس کے کندھے پر سر رکھتے حیات نے اسے کہا تو حاد نے اسے گھورا۔
پھر جھٹکے سے اسے باہوں میں بھرتے بستر پر لٹاتے بتیاں بجھاتا وہ بھی لیٹ گیا تھا۔
حیات۔۔۔۔
ہم۔۔۔۔
میر حاد رضوان کو آج آپ کا کچھ وقت درکار ہے ۔۔۔۔۔اس کی گھمبیر آواز اپنے کان کے پاس سنتے اس کی ہتھیلیاں نم ہوئیں۔
مجھے نیند آئی ہے سچ میں۔۔۔۔حیات نے کہا لیکن جواب نہ ملنے پر اسے نے چہرہ اس کی طرف موڑا۔
حاد آپ میری بات کا جواب نہ دے کر میری آدھی جان کو فنا کرنے کا ہنر رکھتے ہیں اس نے ماتھے پر بل ڈالتے کہا تو کمرے میں میر حاد کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا۔
مت بھولو تم خود چل کر میرے پاس آئی ہو۔۔۔۔حاد نے کہا تو حیات نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس کے لیے ہزاروں جزبات تھے۔۔
اس نے حاد کے کندھے پر سر رکھتے گہری سانس بھری ۔۔۔
حاد نے اس کے ماتھے پر لب رکھتے اس کے کندھے پر لب رکھے اور کے وجود کو خود میں گم کر گیا حیات کی خود سپردگی نے اسے معتبر کیا تھا۔
حیات یعنی زندگی۔۔۔۔۔آپ میری زندگی کا کل اثاثہ ہیں جان لیں۔۔۔۔وقتا فوقتاً اسے میر کی کی گئی سوگوشیاں سنائی دی تھیں۔
جنہیں سنتے وہ دل سے مسکرائی تھی۔۔۔۔اپنے رب کا من ہی من میں وہ ہزار بار شکر ادا کر چکی تھی۔
انہوں نے کیس پر کام شروع کر دیا تھا۔۔۔۔حاد اسے چھوٹے چھوٹے کام ہی دیا کرتا تھا۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی کو ان کاموں سے دور رکھنا چاہتا تھا لیکن یہ کیس سمیل رانا کا تھا۔۔۔اپنی بیوی کے ماضی کو کھلتا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اسی لیے اس نے حیات کو کسی دوسرے کیس پر کام کرنے کا کہا تھا لیکن اس کی ضد دیکھ وہ خاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔
شاید وہ بھی سمیل رانا سے اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔
حیات نے اس کے منع کرنے کے باجود بھی چھپ کر سمیل رانا کی مخبری کی تھی۔۔۔۔حاد اس کے ہر عمل سے واقف تھا اسی لیے اس کی حفاظت کے لیے دو لوگ ہمیشہ اس کے پیچھے ہوتے تھے جب وہ سمجھتی تھی کہ وہ اکیلی ہے۔
وقت گزر رہا تھا۔۔۔۔وہ اپنے مشن پر ڈٹے تھے۔۔۔۔اس عرصے میں صرف ایک فرق حیات کو محسوس ہوا تھا اور وہ یہ کہ۔۔۔
حاد اس کے لیے ہر بڑھتے دن کے ساتھ ضروری ہو گیا تھا۔۔۔وہ دونوں محبت جیسے جزبے سے آشنا ہو گئے تھے ۔
حاد کی ہر بڑھتے دن کے ساتھ خود کے لیے پوسیسونس اور جنون دیکھتے وہ ڈرنے لگی تھی۔۔۔۔وہ اس کی چھوٹی سی چوٹ پر بھی کانپ اٹھتا تھا۔۔۔۔
ابھی کچھ گھنٹوں میں انہیں سمیل رانا کے مین اڈے کی طرف نکلنا تھا۔
اب تک وہ اس کے تمام دوسرے اڈے یا تو اڑا چکے تھے یا دنیا کے سامنے لے آئے تھے۔
سمیل رانا آج کل ویسے بھی بوکھلایا پھر رہا تھا کیونکہ حیات کی دی گئی معلومات کے بعد اس کا ٹرک وہ روک چکے تھے۔۔۔۔
حیات واپس گھر چلی جائیں وہ مصروف سا بولا۔۔۔
میں ساتھ جاؤں گی اس کے مضبوط لہجے پر اس نے دو پل کے لیے اسے دیکھا اس کی آنکھوں کی چمک کو وہ ماند نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا اس نے ہاں میں سر ہلایا۔
وہ سب نکل چکے تھے۔۔۔۔۔اس نے حیات کو اپنے آس پاس رہنے کی خاص تاکید کی تھی جس پر اس نے زور شور سے سر ہلایا تھا۔
وہ جو اس کے خلاف ثبوت لیتے نکلنے لگے تھے۔۔۔۔سب باہر جا چکے تھے وہ بھی جاتا جب کسی آدمی کو حیات کو تھامے دیکھ وہ تھما تھا۔
حاد نے اسے جھٹکے سے اس شخص کے شکنجے سے دور کیا تھا۔
تیری ہمت کیسے ہوئی اِس کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔۔انہیں یہاں سے نکلنا تھا لیکن حیات کو اس شخص کے شکنجے میں دیکھ وہ اپنا آپا کھو بیٹھا تھا۔
بیوی تھی میری یہ ۔۔۔۔وہ تو سالہ غلطی ہو گئی مجھ سے نشے میں نہیں تو آج بھی یہ زندگی رنگین۔۔۔۔۔۔
حاد نے اس کے چہرے کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔
حاد۔۔۔۔
حیات نے کانپتی آواز میں اسے روکنا چاہا تھا
دور کھڑی ہو جاؤ۔۔۔اب کی بار قریب آئی تو تمہیں جان سے مار دوں گا حیات کو دیکھتے وہ چیخا تھا۔
میری بیوی ہے یہ میری۔۔۔۔۔سنا تو نے میجر میر حاد رضوان کی ہے ۔۔۔۔حیات حاد رضوان ہے یہ۔۔۔۔اپنی زبان سے اگلی بار نام بھی مت لینا اس کا۔۔۔اس کو ٹھوکریں رسید کرتا وہ پاگل دیوانہ ہی لگ رہا تھا۔
سر یہاں سے نکلنا ہے ہمیں۔۔۔۔۔ہمارے پاس بیک اپ نہیں ہے اس وقت۔۔۔اس کے ساتھی آفیسر نے کہا۔
حاد چلیں۔۔۔۔حیات نے کانپتے ہاتھ سے حاد کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو حاد نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
وہ گرتی کہ وہی ساتھ آفیسر اسے بازو سے تھام کر گرنے سے بچا چکا تھا۔
حاد نے اسے بھی دھکا دیا۔۔۔۔کہا ہے نا ہاتھ نہیں لگانا اسے۔۔۔اس نے حیات کے آنسو دیکھتے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے نیچے گرے شخص کو آخری ٹھوکر رسید کی۔
سامنے کھڑی حیات کا ہاتھ جھٹکے سے تھامتے اسے لے کر آگے بڑھا ۔۔۔حیات کو اس کی انگلیاں اپنی جلد میں دھنستی محسوس ہوئی۔
سر آپ کو ہیڈ آفس جانا ہے اس وقت۔۔۔اس کو اپنی پرسنل گاڑی میں بیٹھتا دیکھ اسے بتایا گیا۔
مجھے مت سکھاؤ۔۔۔۔اس نے کہتے انہیں جانے کا اشارہ کیا تو وہ چلے گئے۔
ان کے جاتے ہی حیات کو اندر دھکا دیتے وہ واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھا ۔۔۔۔گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔
حیات کا خون خشک ہوا۔۔۔اس نے حاد کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔وہ جانتی تھی وہ اس کے معمالات میں پوسیسو ہے لیکن اس حد تک۔
گھر آتے وہ اسے چھوڑتے اندر چلا گیا تھا۔۔۔وہ اندر گئی تو کمرے سے آوازیں سنتے کمرے کی طرف دوڑی جہاں وہ آدھی چیزیں توڑ چکا تھا۔
حادددد۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ سے اور کندھے سے خون نکلتا دیکھ وہ چیخی تھی۔
دوسرے کمرے میں جاؤ۔۔۔مجھے ابھی کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔
تمہیں سنائی دے رہا ہے۔۔۔۔؟؟وہ چیخا لیکن وہ اس کے نزدیک آتی بالکل خاموشی سے کھڑی ہو گئی۔
یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟
میں نے کہا نا ابھی مجھے بات۔۔۔۔۔۔۔وہ دور ہوتا کہ حیات نے جھٹکے سے اس کا کارلر تھامتے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
اپنی حالت دیکھی یے۔۔۔میجر میر حاد رضوان۔۔۔۔یہ غصہ کس بات کا ہے ۔۔۔مجھ پر نکال دیں ایک ہی بار ۔۔۔۔
حاد نے اسے دیکھتے آنکھیں بند کر کے اپنے اشتعال کو قابو کرنا چاہا اور پھر جھٹکے سے اسے دیوار کے ساتھ لگاتے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑی۔
تم میرا غصہ برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔کسی دن میری شدتوں سے روبرو ہونا جان جاؤ گی میرا دکھ۔۔۔
کس بات کا دکھ ہے۔۔۔۔اس بات کا کہ میں آپ کی بیوی ہوں یا اس بات کا کہ میں اس شخص کی سابقہ۔۔۔۔
حاد نے اس کے بال مٹھیوں میں بھینچتے اس کا چہرہ اپنا چہرے کے قریب کیا۔
یہ بکواس میں آج تو کیا آئیندہ بھی نہیں سننا چاہوں گا تم سے۔۔۔۔۔نہیں تو اس کی سزا تمہاری سوچ سے زیادہ بڑی ہو گی وہ حیات کے کان کے پاس پھنکارا۔
حیات نے اس کی شرت کے بٹن پر ہاتھ رکھتے جھٹکے سے کھولتے اس کے کندھے کے زخم کا معائنہ کیا تھا۔
آپ کو علاج کی ضرورت ہے۔۔۔۔
کیا میرے دل کو دوا دے سکتی ہو جو تمہارے جسم پر اس شخص کے لمس کو اب بھی محسوس کرتا پاگل ہورہا ہے وہ فرطِ شدت سے چیخا۔
حیات نے اپنے لب اس کے ہاتھ کے زخم پر رکھ کے مسیحائی کی تو وہ خاموش ہو گیا ۔۔
میجر میر حاد رضوان آپ کو انسکیور ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔یہ روح ہر سانس کے ساتھ آپ کے نام کا ورد کرتی ہے اس کے ماتھے سے بال ہٹاتے اپنے لب وہاں رکھتے حیات نے اس کے جلتے دل پر ٹھنڈی پھوار کا کام کیا تھا۔
اس نے تھکی آنکھیں موندتے اس کے کندھے کو جائے پناہ سمجھتے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھا۔
تم سب ہو میرا حیات۔۔۔میرا دل تمہارے لیے پاگل ہے۔۔۔میں کیا کروں تمہارے معاملے میں مجھے خود پر بھی کنٹرول نہیں ہے وہ دھیمے سے بولا تو حیات نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے پرسکون کرنا چاہا۔
