Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf NovelR50406 Eid-e-Deed e Yaar Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Eid-e-Deed e Yaar Episode 4
Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf
یہ کھل ہی نہیں رہے میں عادی سے کھلوانے گئی تھی لیکن وہ کمرے میں نہیں تھا وہ منمناتے اپنے جوتے کی طرف اشارہ کر کے بولی۔
اس نے گرارہ اونچا کیا تو اس کے سفید مومی پاؤں نظر آئے جنہیں مہندی سے رنگا گیا تھا۔۔۔۔۔اس سے حسین پاؤں اس نے نہیں دیکھے تھے یا شاید کسی صنفِ نازک پر غور ہی اس نے اب کیا تھا۔
عادی کا نام سنتے اس نے خود کو انگاروں پر لوٹتے پایا۔۔
کیا وہ ایسی حالت میں اس سے کھلوانے جانے والی تھی۔۔۔۔۔ یہ سوچ کر اس نے جبڑے بھینچے۔
اس نے قدم بڑھائے اور نیچے جھک کر جھٹکے سے اس کے سٹریپ کھولے جوتے کے ۔۔۔
خبردار تم آئیندہ اتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے عادی کے پاس گئی۔۔۔خود سے کرنا سیکھو۔۔۔۔اس نے سختی سے کہا تو اس نے فوراً سر ہاں میں ہلایا۔
جاؤ چینج کر کے آؤ۔۔۔۔۔وہ آج پہلی بار تیار ہوئی تھی اس لیے نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔اسے تو یہ بھی پسند نہیں آیا تھا کہ عورتیں اس کے چہرے کو چوم رہی تھیں۔
وہ فوراً کپڑے تھام کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھیں۔۔۔۔۔اور دروازہ بند کیا ۔۔۔
میر دلاور نے چادر اپنے شانوں پر سیٹ کرتے گہری سانس بھری ۔۔۔۔۔۔سب بدل گیا تھا۔۔۔۔اگر اسے یہ بدلاؤ اچھا نہیں لگا تھا تو بُرا بھی نہیں لگا تھا۔
اس کی کی باتوں کا بدلہ وہ کبھی نا کبھی تو اس سے لیتا۔۔۔لیکن بیوقوف نہیں تھا کہ اس مضبوط رشتے کو حوریہ ذیشان کی لاابالی طبیعت کی وجہ سے خراب کرتا۔
وہ دس منٹ بعد بھی واپس نہ آئی تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔۔۔
اس نے اسے نکاح کا تحفہ دینا تھا جو فرزین بیگم نے اسے سختی سے دینے کا بولا تھا۔
اس کا جواب نہ آتے دیکھ اس نے دروازہ کھولا تو نظریں اس سے ٹکرائی جس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔
وہ فوراً آگے بڑھا۔۔۔۔اسے چوٹ لگنے یا رونے تو اس گھر میں کسی نے دیا ہی نہیں تھا۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اس کے آنسو دیکھتے وہ بھی تڑپا تھا پل کے لیے۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟
حوریہ نے اپنے ہاتھ آگے کیے جہاں دو تین چوڑیاں ٹوٹ کر لگی تھی۔۔۔۔اس نے گہرا سانس بھرا اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
اس نے وہیں پڑے فرسٹ ایڈ سے بیڈیج نکالا اور اس کی مومی کلائی کو تھام کر لگایا۔
چینج نہیں کیا۔۔۔۔۔۔اس نے گرارہ بدل لیا تھا لیکن شرٹ نہیں۔۔۔۔
یہ بھی نہیں کھل رہیں۔۔۔۔اس نے پیچھے لگی ڈوریوں کو دیکھتے کہا۔۔۔ میں امی سے کھلوا کر آتی ہوں اس نے شو شو کرتے قدم دروازے کی طرف بڑھائے۔
میر دلاور نے یہ سنتے لب بھینچ لیے اس کو کندھوں سے تھاما اور اس کا رخ موڑ کر ڈوریاں دیکھی جنہیں کس کر باندھا گیا تھا۔
کس نے کہا تھا اس طرح کا فضول لباس پہنو۔۔۔۔۔۔؟
اس کی سخت آواز گونجی تو اس نے تھوک نگلا ۔۔۔۔۔آدھا سانس اس کی انگلیوں کے لمس سے ہی سوکھ گیا تھا۔
مجھے پس۔۔۔۔پسند ہے۔۔۔۔اس نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔۔
اس کی پیٹھ پر ڈوریوں کو کس کے باندھنے سے نشان پڑے تھے جس پر نامحسوس انداز میں میر دلاور نے انگلیاں پھیریں ۔۔۔اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے
اس کا گلہ آگے سے ڈھیلا ہوتے دیکھا اس نے اسے دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
منہ دھو کر کھانا کھاؤ ۔۔۔۔۔یہی منگوا لینا باہر جانے کی ضرورت نہیں اور ہاں دوپٹہ اترا نہ دیکھوں میں تمہارا سنجیدگی سے اس کے گلے میں دوپٹہ ڈالتے وہ کہتا بنا اسے گفٹ دیے باہر نکل گیا۔
اس نے اس کے جاتے سینے میں اٹکا سانس چھوڑا۔۔۔۔
اُف جلاد، سڑیل ۔۔۔۔۔
صبح اسے پھر فون آ چکا تھا اس لیے اسے اب جانا تھا۔۔۔۔۔فرزین بیگم نے اسے ناشتہ دیا ۔۔۔۔۔رضوان صاحب وہیں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔
اب واپس کب آؤ گے ۔۔۔۔۔؟انہوں نے استفسار کیا۔
معلوم نہیں بابا اس نے چائے کا آخری گھونٹ حلق میں اتارتے جہا۔
ہممم۔۔۔۔جاؤ رب کی امان میں۔۔۔۔انہوں نے کہا تو اپنے کمرے میں سامان لینے چلا گیا۔۔۔وہ اتنا مصروف بھی نہیں ہوتا تھا لیکن کبھی کبھی ایمرجنسی کی صورت میں اس کی ڈیوٹی سخت ہو جاتی تھی کیونکہ وہ وہاں کا سینیئر ڈاکٹر تھا۔
اسی لیے اس نے پاس ہی ایک فلیٹ خرید رکھا تھا کیونکہ ہسپتال گھر سے اسے دور پڑتا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آیا اور سامان سمیٹا ۔۔۔سائیڈ میز پر سرخ ڈبی دیکھتے اس نے اپنے قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھائے۔
اندر داخل ہوا تو وہ بستر میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔۔۔۔سامان ایسے ہی بکھرا تھا۔۔۔جو اس کی نفیس طبیعت پر گراں گزرا۔۔۔۔
اس کے پاس پہنچا اور ساتھ میز پر وہ ڈبی رکھی جو اس کے لیے خریدی تھا۔۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی نظر اس پر گئی۔
جس کا ہاتھ منہ کے نیچے تھے اور کمفرٹر آدھا اوپر آدھا نیچے تھے بال تکیے پر بکھرے تھے۔۔۔۔۔وہ سوتے ہوئے اور بھی حسین لگتی تھی اس کے دل سے آواز آئی۔
دل کو ڈبٹا جو کل کے بعد بے لگام ہو رہا تھا۔۔۔۔ایسا کبھی اس نے اس لڑکی سے منگنی کے بعد بھی محسوس نہ کیا تھا۔
اس نے حیات کے چہرے پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری تو اسے لگا اس کے ہاتھ لگانے سے کہیں وہ میلی نہ ہو جائے۔۔۔۔۔اس کے بال آہستہ سے ہٹاتے وہ پلٹا تھا۔
لیکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ واپس آیا اور آنکھیں بند کرتا جھکا اور اس کے گال پر ہونٹ رکھنے چاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک ہوش میں آتے وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔۔
یہ وہ کیا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس نے کمفرٹر درست کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
آج کی ہوئی بے اختیاری پر اس نے خود کو کوسا تھا اور واپس اس خول میں بند ہو گیا۔
اس کی تمام باتیں یاد کرتے اس کی آنکھوں کے جزبات پل میں بدل گئے۔
اگلے روز حاد انہیں اپنے گھر لے گیا تھا کیونکہ نکاح وہاں ہونا طے پایا تھا۔۔۔۔۔وہ دو لوگ تھے اور وہ سارا گھر اسی لیے ان دو لوگوں کا جانا مناسب تھا۔
آج ایک دوسرے سے پہلی ملاقات کے سات مہینوں بعد وہ نکاح کے رشتے میں بندھ گئے تھے۔
حیات کو یہ سب بہت جلدی لگ رہا تھا لیکن میر حاد کہان کسی کی سنتا تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ دل جب کسی پر اپنے آپ کی مہر لگا دے تو پھر کیا دن، کیا سال اور کیا تاریخ۔۔۔۔اور اس کا ماننا تھا کہ نکاح سے بہتر کوئی رشتہ نہیں۔۔۔۔۔اسی بنا پر آج حیات احمد ۔۔۔۔۔حیات احمد سے میر حاد رضوان بن گئی تھی۔
شکیل احمد رخصتی اپنے گھر سے چاہتے تھے اسی لیے ابھی صرف نکاح ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ نکاح میں آف وائٹ جوڑا پہنے ہلکے سے میک اپ کے ساتھ بھی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
فرزین بیگم اور رضوان صاحب نے اسے حوریہ کی طرح ہی سراہا اور پیار دیا تھا۔
زیادہ مہمان نا تھے لیکن قریب کے تمام رشتہ دار اس تقریب میں شریک تھے۔۔۔۔جنہیں حاد اب الوداع کر رہا تھا۔
عادی اور میر دلاور نے باقی کام سبھلالے ہوئے تھے۔۔۔۔میر دلاور کی سنجیدہ نظریں حوریہ پر تھیں جو اس کے سمجھانے پر بمشکل منہ بسورے دوپٹہ لپیٹ رہی تھی خود کے گرد۔
حیات نے کچھ دیر میں واپس چلے جانا تھا۔۔۔۔۔مہمان بھی سب جا رہے تھے اس لیے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف گیا۔
حاد رضوان اپنی چادر کندھوں سے اتارتا اندر داخل ہوا۔۔۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسے اسی کے کمرے میں ٹہرایا گیا ہے۔
حور۔۔۔۔آپ پلیز یہ بال کھول دیں گی۔۔۔۔حیات کو لگا حور ہے جو دوسرے کمرے میں گئی تھی۔۔۔۔پہلے اسی کے ساتھ موجود تھی۔
وہ دوسری طرف منہ کیے بس رو دینے کے در پر تھی۔۔۔۔۔اس کے بال حوریہ نے بنائے تھے جو اب کھل ہی نہیں رہے تھے۔
اس نے قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔۔۔۔وہ جو جواب نا پا کر مڑی تھی اسے دیکھتے ہچکچائی۔
اسلام علیکم! اس نے استحقاق بھری نظر اس کے سراپے پر ڈالی۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔اس نے جھجھکتے انگلیاں مڑوڑتے جواب دیا۔
مدد چاہیے آپ کو۔۔۔۔۔؟؟اس نے اسے دیکھتے کہا جس کی پلکیں لرز رہی تھیں۔
نہی۔۔۔نہیں۔۔۔اس نے ایک قدم کی دوری نامحسوس انداز میں بڑھاتے کہا۔
حاد رضوان نے جیب سے ایک ڈبی نکالی اور اس کے آگے کی۔۔۔۔۔۔تو اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
یہ میری طرف سے آپ کے لیے پہلا تحفہ۔۔۔امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔۔۔۔اسے واپس جا کر کھولیے گا۔۔۔ اسنے اس کے آگے کیا تو حیات نے تھام لیا۔
اُف یہ تو تحفہ بھی اتنی سنجیدگی سے دے رہے ہیں جیسے کوئی حکم جاری کر رہے ہوں اس نے دل میں سوچا۔
شکریہ۔۔۔۔!
حیات نے کہتے تھام لیا۔۔۔۔ اور ایک اور قدم دور ہوئی۔۔۔ پہلی بار اسے قریب دیکھ کر اس کا دل کیوں دھڑک رہا تھا بڑے طریقے سے۔
آپ یہ فاصلہ بنا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔اس نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے اپنی کلائی آگے کی۔
حیات نے شرمندہ ہوتے اسے ناسمجھی سے دیکھا۔
گھڑی اتاریں۔۔۔۔۔
اس نے حیات کی آنکھوں میں دیکھتے کہا تو اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھائے اور دھیان سے اس کی گھڑی کھولنے لگی۔
حیات آپیییی۔۔۔۔۔حور دھڑام سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تو حاد نے مُڑ کر اسے دیکھا۔
حاد آپ بھی یہاں ہیں۔۔۔۔۔آپ سے میں ویسے بھی ناراض ہوں۔۔۔کیا آپ میرے لیے کپ کیکس لائے ہیں۔۔ حوریہ کو صرف ایک ہی چیز سے عشق تھا اور وہ تھے اس کی چاکلیٹ کپ کیکس۔
۔اس نے برش سامنے کھڑی حیات کو دیتے حاد کے بازو کو تھامتے کہا۔
حیات نے اس کو دیکھتے ایک نظر اس کے بازو کو دیکھا تھا اور پھر نگاہوں کا مرکز بدل لیا جو اور کسی نے تو نہیں مگر میر حاد رضوان کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکا تھا۔
نہیں بھول سکتا ہوں کیا۔۔۔۔فریج میں رکھے ہیں۔۔۔۔جاؤ لے لو۔۔۔۔لیکن سارے ایک ہی بار میں نا کھا جانا۔۔۔۔۔بھائی سے مجھے ڈانٹ پرے گی۔۔۔۔
اس نے حور کے سر پر چت لگاتے اس کے بال بگاڑتے کہا۔
تھینک یو حادی۔۔۔۔۔وہ کہتی باہر جانے لگی کہ چونک کر مڑی۔۔۔۔
حیات آپی۔۔۔۔کیا بال میں ٹھیک کر دوں۔۔۔؟
نہیں۔۔۔۔۔وہ کر لیں گی تم بھاگو۔۔۔۔اس سے پہلے کہ حیات کچھ کہتی حاد نے جواب دیا تو وہ سر ہاں میں ہلاتے چلی گئی۔
وہ اسے دیکھنے لگا جو سامنے لگے شیشے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آپ ٹھیک کر لیں بال۔۔۔۔حاد نے کہتے کپڑے لیے اور واش روم میں بند ہو گیا تو حیات نے گہرا سانس بھرا۔
وہ واپس آیا تو وہ آدھے بال سلجھا چکی تھی۔۔۔۔۔۔آدھے سلجھا رہی تھی ۔۔۔۔دوپٹہ سلیقے سے آگے پھیلا رکھا تھا۔
حاد اس کے سامنے آیا اور پیچھے سے ہلکا سا جھکتے اپنا پرفیوم اٹھایا اور خود پر چھرکا۔۔۔۔پھر اسے ایک نظر دیکھا اور خود کی طرف موڑا۔
اس کی طرف جھکتا کہ وہ فوراً سے پیچھے ہوئی۔
حیات حاد رضوان۔۔۔۔۔
اگلی بار مجھ سے ایک قدم دوری کی سزا آپ کو ملے گی یہ یاد رکھیے گا۔۔۔۔اس نے سنجیدگی سے کہتے اسے واپس اس کی جگہ پر کھڑا کیا۔
اس کے ہاتھوں کا لمس اپنے بازوؤں پر محسوس کرتے اس کے دل کی دھڑکنوں میں انتشار برپا ہوا تھا۔
میر حاد رضوان نے اس کے دوپٹہ کو ہاتھ میں تھامتے ناک کے نتھنوں کے پاس کرتے گہری سانس بھری پھر پیچھے ہوتے اپنا پرفیوم اس پر چھرکا۔۔۔۔
اب سے میری خوشبو آنی چاہیے آپ سے ۔۔۔۔وہ شدت جزبات سے بولا تو وہ چونکی۔
آپ کے سامان میں لے آؤں گا یہیں۔۔۔۔حاد نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
اور ایک بات یاد رکھیں ۔۔۔۔حوریہ سے انسکیور کبھی مت ہوئیے گا۔۔۔۔وہ میرے بھائی کی بیوی بعد میں ۔۔۔۔میری بہن اور بیٹی جیسی پہلے ہے۔۔۔۔
اسے بچپن سے بیسٹ فرینڈ اور بیٹی بن کر پالا ہے میں نے۔۔۔۔۔اس نے کہتے اس کے ہاتھ سے برش لیا اور دھیرے سے اس کے باقی کے بال سلجھانے لگا۔
حیات نے اسے دیکھتے نگاہیں اس کے جوتوں پر جما دی ۔۔۔۔۔وہ بنا کہے ہی سمجھ گیا تھا۔
وہ بیشک ایک مکمل انسان تھا۔۔۔لیکن اس نے اسے ہی کیوں چنا۔۔۔۔۔اسے تو کوئی بھی مل جاتی۔۔۔۔
یہ سوچ ناجانے کب تک اس کے سر پر سوار رہنے والی تھی۔
چلیں۔۔۔۔
میر حاد نے اس کے ہاتھ کو تھاما اور اس کے سر پر دوپٹہ رکھتے قدم دروازے کی طرف بڑھائے تو وہ ہوش میں آئی۔
اور اپنے ہاتھ کو دیکھا جو اس کی مضبوط ہتھیلی میں قید تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کے بارے میں سوچنے کی؟؟؟ میر دلاور رضوان جس کو کبھی کسی نے اونچی آواز میں بات کرتے نا سنا تھا آج وہ کسی شخص کو پیٹ رہا تھا بے دریغ۔
وہ جو وارڑ سے باہر نکلا اپنے کیبن کے باہر جونیر ڈاکٹرز کو کسی سے بات کرتا دیکھ رکا۔۔۔تھما وہ اس تصویر کو دیکھ کر تھا۔۔۔
وہ حوریہ ذیشان کی تصویر تھی جو یونیورسٹی میں کھینچی گئی تھی شاید۔۔۔
وہ اپنی بیوی کے لیے اظہار محبت سن رہا تھا کسی دوسرے شخص کے منہ سے۔۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔۔
مجھے محبت۔۔۔۔ہے ۔۔۔اس ۔۔۔۔۔
آگے وہ لڑکا بات مکمل کر پاتا کہ میر دلاور رضوان نے اسے پیچھے میز پر اسے دھکا دیا۔۔۔۔۔
سر چھوڑیں اسے۔۔۔۔۔اسے کافی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔۔۔۔آپ پر کیس ہو جائے گا۔۔۔۔دوسرے جونیر ڈاکٹرز نے کہا۔
میر دلاور رضوان نہیں ڈرتا۔۔۔۔۔اور ہاں یہ جس کی تصویر تم نے لے رکھی ہے۔۔۔۔نا سالے بیوی ہے میری۔۔۔۔اس پر نظر تو کیا اس کا نام بھی میں نے تمہاری زبان سے سنا تو مار کر کتوں کے سامنے پھینک دوں گا۔۔۔اس کے کارلر کو جھٹکے سے چھوڑتے اسے واپس پیچھے کی طرف دھکا دیتا وہ دھاڑا۔
وارڈ میں سکتہ چھا گیا۔۔۔۔۔میر دلاور رضوان سے خوف آیا تھا سب کو۔۔۔۔وہ کسی کو دیکھے بغیر ہسپتال سے نکلتا چلا گیا۔
بابا۔۔۔آج پتا ہے کتنا مزہ آیا۔۔۔ایک لڑکے نے لڑکی کو پھول دیا اور بدلے میں لڑکی نے اسے تھپڑ دے مارا۔۔۔اتنا فلمی سین ہو گیا نا۔۔۔لیکن مجھے اس لڑکے کے لیے بُرا لگا۔۔۔بیچارا۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔
اس نے اس کی بات سن لی تھی۔۔۔۔مشترکہ سلام کیا اور کھانے کی میز کی طرف آیا جہاں سب بیٹھے تھے۔
کل سے یہ یونیورسٹی نہیں جائے گی بابا۔۔۔۔اور اس بارے میں کوئی بھی بات نہیں ہو گی۔۔۔کوئی بات، کوئی بحث نہیں۔۔۔۔۔اس نے واضح لفظوں میں کہا۔
اس نے کہتے بنا کسی کو دیکھے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے۔
ایسا کیا کہہ دیا میں نے۔۔۔۔ حوریہ نے منہ بسوڑا اور اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
میں ابھی پوچھ کر آتی ہوں زرا۔۔۔۔۔
حور۔۔۔حوریہ ۔۔۔۔واپس آئیں۔۔۔ابھی وہ غصے میں ہے۔۔۔۔پیچھے سے اسے سب نے آواز دی لیکن اسے تو سن کر ہی غصہ آ گیا تھا کیسے وہ ایسا کہہ سکتا تھا۔
اس کے کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھولتی وہ اندر داخل ہوئی اسے دیکھا جو کہیں نہیں تھا۔۔۔۔واش روم سے پانی گرنے کی آواز سن کر وہ وہیں جلے پیر کی بلی کی طرح چکر کاٹنے لگی۔
کیا کر رہی ہو یہاں۔۔۔؟
آپ نے کیوں ایسا کہا۔۔۔۔۔میں جاؤ گی یونیورسٹی۔۔۔۔اس نے ضدی لہجے میں کہتے قدم اس کی طرف بڑھائے۔
میر دلاور نے اسے دیکھا اور اس کے بازو کو تھامتے گھما کر اس کی قمر کے ساتھ لگایا تو اس کے منہ سے سسکی نکلی۔
میں فیصلہ سنا چکا ہوں۔۔۔۔اس میں کوئی ردو بدل نہیں ہو گا ۔۔۔۔تم جا سکتی ہو جیسے آئی تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن کیوں۔۔۔آپ کون ہوتے ہیں سب کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔۔کس نے آپ کو حق دیا ہے۔۔۔۔کہ آپ ہماری زندگیوں پر حکومت کریں؟ اس نے اس کی سرخ آنکھوں میں اپنی ہرنی جیسی آنکھیں گاڑھتے پوچھا۔
تمہارا شوہر۔۔۔۔۔
میر دلاور نے ایک لفظی جواب دیتے اسے جھٹکے سے چھوڑا کہ وہ گرتے گرتے بچی۔۔۔
میں نے کہا بھی تھا بابا کو میں آپ جیسے شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔جس کے ساتھ سانس بھی گھٹ کر آئے ۔۔لیکن۔۔۔۔
وہ اسے دیوار کے ساتھ لگاتا اس کا جبڑا تھامتے اس پر ہلکا سا جھکا۔۔۔۔
سانس کیسی بھی آئے اب اسی شخص کے ساتھ لینی ہے یاد رکھو۔۔۔۔اور اتنا ہی بولو جتنا سہہ سکو۔۔۔حوریہ دلاور ۔۔۔۔۔
چھوڑیں اس نے درد کی شدت سے سسکی بھرتے کہا۔۔۔۔اس کے آنسو دیکھتے اس نے اسے چھوڑا۔۔۔۔
مجھے نفرت ہے آپ سے میر دلاور رضوان وہ کہتے کمرے سے بھاگ گئی۔۔۔۔
اور اس کے بعد وہ خود ہی یونیورسٹی نہیں گئی تھی۔۔۔۔سب نے اسے منایا تھا کہ وہ دلاور سے خود بات کر لیں گے لیکن اس کا دل ہی نہیں کیا تھا۔
اس دن کے بعد آج دس دن ہو گئے تھے۔۔۔۔میر دلاور کے آنے کے وقت وہ اپنے کمرے میں بند ہو جاتی ۔۔۔۔اس کے سامنے آنا اس نے جیسے بند ہی کر دیا تھا۔
میر دلاور نے پہلے پہل محسوس نہ کیا تھا لیکن اب اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس کے آنے سے پہلے اپنے کمرے میں چلی جایا کرتی ہے۔
فرزین بیگم اور رضوان صاحب عمرے پر جا چکے تھے۔۔۔۔حاد اپنے مشن پر تھا اور عادی اپنے دوستوں کے ساتھ۔۔۔۔۔اس لیے گھر پر کوئی نہ تھا۔۔۔۔
اس وقت شدید تھکاوٹ میں اسے کافی کی طلب تھی۔۔۔کیونکہ مسلسل تین دن سے وہ اسے اچھی نیند نہیں ملی تھی۔۔۔مسلسل کیسسز کی وجہ سے۔
اس نے دیکھا گھر میں خاموشی تھی۔۔۔اپنے کمرے میں جا کر اس نے شاور لے کر کپڑے تبدیل کیے۔
اور قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھائے جسے دس دن سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے وہ رکا۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اپنا نام سن چکا تھا شاید اسی کی زات پر تبصرے کیے جا رہے تھے۔
مشی۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔۔پابندیاں لگانے والے۔۔۔
لیکن تمہارے گھر میں تو کوئی ایسا نہیں۔۔۔۔۔دوسری طرف سے آواز ابھری۔۔۔۔۔فون اسیپکر پر تھا اس لیے وہ جواب سن پایا تھا۔
ہاں نہیں ہے۔۔۔۔نہ بابا اور اب دیکھو حاد بھی تو ہے ۔۔۔وہ اپنی بیوی کو کیسے ٹریٹ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔حیات بہت لکی ہے۔۔۔۔۔اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
عادی بھی اچھا لڑکا ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔؟؟
لیکن میر ناجانے ایسے کیوں ہیں ۔۔۔۔۔انہیں میرا جانا نہیں پسند یونیورسٹی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے پڑھائی شادی سے پہلے کر لینی چاہئے۔۔۔۔اس کے بعد آپ نہیں جانتے آپ کو موقع ملے یا نہیں۔۔۔۔
تم ان سے بات کرتی ہو سکتا ہے وہ تب غصے میں تھے تو مان جاتے۔۔۔۔۔۔مشی بولی۔
وہ نہیں مانتے۔۔۔۔۔وہ ایک سنجیدہ طبیعت کے مالک انسان ہیں۔۔۔۔۔وہ وہیں کرتے ہیں جو انہوں نے کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔میں اس دن روئی بھی تھی لیکن انہیں فرق ہی نہیں پڑا۔۔۔۔
باہر کھڑے شخص نے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔۔
مشی۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔۔دوسری طرف اس کی دوست بھی شاید اس کے اداس ہونے پر اداس تھی۔
مجھے لگتا ہے میں نے خود کے لیے غلط فیصلہ کر لیا صرف اس بنا پر کہ میں بابا کو ہرٹ نہ کر دوں۔
اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے ۔۔۔۔؟
کیونکہ میرا اور میر کا کوئی جوڑ نہیں۔۔۔۔ہم ایک ساحل کے دو الگ کنارے ہیں۔۔۔۔۔اس نے کہتے آئینے میں دیکھا اور اس کا سانس رکا۔
اس نے جھٹ سے آگے بڑھتے فون کاٹا اور دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا۔۔۔جس دن سے اس نے کہا تھا اس نے دوپٹے کا خاص خیال رکھا تھا۔
آسلام علیکم۔۔۔۔۔اس نے ہونٹ کاٹتے کہا۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔۔
کافی بنا سکتی ہو۔۔۔۔۔اس نے عام سے لہجے میں کہا۔
جی۔۔۔۔۔حوریہ اندازہ نہ لگا پائی کہ اس نے کچھ سنا ہے یا نہیں۔۔۔۔یا کتنا سنا ہے۔۔۔۔۔
کمرے میں دے جانا اس نے ماتھا مسلتے کہا۔۔۔۔۔اور چلا گیا ۔۔ تو بھی کچن میں کافی بنانے چلی گئی۔
کافی بنا کر اس کے روم میں دینے گئی۔۔۔۔وہ اوندھے منہ اپنے جہازی بیڈ پر پڑا تھا۔۔۔شاید وہ بہت تھکا ہوا تھا۔
میر۔۔۔۔آپ کی کافی۔۔۔۔اس نے دھیمے سے کہا۔
یہاں رکھ دو۔۔۔۔اس نے بنا اٹھے جواب دیا تو اس نے کافی رکھ دی اور کھڑی رہی۔۔۔۔
وہ کشمکش میں تھی۔۔۔اسے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پوچھنا چاہتی تھی لیکن ڈر رہی تھی۔
حوریہ ذیشان بھی عجیب تھی۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے اسے یہ رشتہ اپنی جلد بازی لگ رہی تھی اور اب اسے تھکا دیکھ اس کا دل بے چین ہوا تھا۔
وہ بھول گئی تھی کہ وہ نکاح میں ہے اس شخص کے اور یہ نکاح کی ہی طاقت تھی جو وہ اس کے لیے ایسا محسوس کر رہی تھی۔
میر۔۔۔۔
تم گئی نہیں۔۔۔۔؟؟
وہ سیدھا ہوا تو حوریہ نے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے۔۔۔۔
طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔۔اس نے آگے بڑھتے بے چینی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ تھما۔
بخار تو نہیں ہے۔۔۔۔۔تو پھر ۔۔۔۔۔؟
سر میں درد ہے۔۔۔۔نیند لوں گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔اس نے عام سے لہجے میں کہتے کافی کو منہ لگایا تو وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
میر دلاور رضوان تلخی سے مسکرایا۔۔۔۔۔
رخصتی کے وقت وہ اپنے باپ کے ساتھ لگی کافی دیر روئی تھی۔۔۔اس کے آنسو دیکھتے میر حاد رضوان نے مٹھیاں بھینچی۔
وہ اس کے لیے پوسیسو ہو رہا تھا۔۔۔اس کی ہر ایک حرکت پر نظر تھی اس کی۔
وہ اسے ساتھ لے آیا تھا یہاں لاتے عادی اور حوریہ نے اس کا موڈ اچھا کرنے کے لیے بہت کچھ کیا تھا اب وہ بہتر محسوس کر رہی تھی۔
لیکن اس شخص سے روبرو ہونے کا سوچتے اس کی ٹانگیں کانپ رہیں تھیں۔۔۔۔۔
وہ انہیں خیالوں میں تھی ۔۔۔۔۔کہ اسے آتا دیکھ اس نے مڑ کر دیکھا اور شرمندہ ہوئی کیونکہ وہ کھڑکی سے باہر آسمان کو تک رہی تھی۔
اس کی شرمندگی دیکھتے حاد نے قدم اس کی طرف بڑھائے۔
آپ یہاں کھڑی رہ سکتی ہیں حیات۔۔۔۔اسے دیکھتے اس کی شرمندگی کو کم کرنا چاہا تھا۔
میں چینج کر لوں آپ تب تک اپنی چیزیں سمیٹ لیں اسے کہتے وہ واش روم میں چلا گیا۔
وہ واپس آیا تو وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔کھڑکی سے دور آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھتے وہ بھول گئی تھی کہ اس کمرے میں کوئی اور وجود بھی ہے۔
حاد نے آگے بڑھتے اپنی شال خود پر اوڑھی اور اس کے بائیں طرف کھڑے ہوتے اپنی شال کا ایک حصہ اس کے کندھے پر رکھا۔
حیات نے اس کے اس قدم پر نم ہتھیلیوں کو بھینچا۔۔۔
ابھی مجھے وقت چاہیے ہے۔۔۔۔۔وہ جو منہ میں آیا بنا سوچے بول چکی تھی آنکھیں تم کھولی جب وہ جھٹکے سے اس کا رخ خود کی طرف موڑتا اسے قریب کر گیا تھا۔
آپ کو کیا لگا تھا حیات احمد۔۔۔۔۔۔؟
حیات نے اس کا حیات حاد رضوان سے حیات احمد تک کا سفر پل میں بدلتے دیکھ نم نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔
کیا میرے اس اقدام۔۔۔۔اس نے شال کی طرف دیکھتے کہا ۔۔۔آپ کو کہیں سے بھی کچھ غلط لگا۔۔وہ حد درجہ سنجیدگی سے بولا۔
نہیں۔۔۔میں۔۔۔
حاد نے اسے کھڑکی کے ساتھ لگاتے اس کا رخ پوری طرح اپنی طرف موڑا۔۔۔۔
کیا چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟
کیا واقعی میں نے جلدی کر دی اس رشتے میں۔۔۔۔اس پر سے اپنی شال ہٹاتے وہ سخت لہجے میں بولا۔
نہیں۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔خود پر سے اس کی چادر کو ہٹتے اسے ایسے محسوس ہوا جیسے کسی نے حفاظتی حصار کو یک دم کھینچ کر اسے تپتے دھوپ میں کھڑا کیا ہو۔
