324.5K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eid-e-Deed e Yaar Episode 7

Eid-e-Deed e Yaar by Suneha Rauf

روزے شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔۔حوریہ کے امتحان بھی ہو چکے تھے ۔۔۔فرزند اور ناہید اختر بھی واپس جا چکی تھی، رضوان صاحب اور فرزین بیگم بھی واپس آ چکے تھے۔

فرزند نے جب حوریہ سے بات کرنا چاہی تو خود پر میر دلاور رضوان کی سخت نگاہیں محسوس کر چکا تھا۔

اس لیے پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔کہ وہ میر دلاور کو حوریہ کے لیے فکر کرتا اور اس کی آنکھوں میں اس کے لیے محبت دیکھ چکا تھا۔

اب سب لوگ افطاری کے بعد چائے پی رہے تھے جو اس نے بنائی تھی۔۔۔۔

میر آج دو دن بعد ان کے ساتھ چائے پی رہا تھا۔۔۔۔

بھئ۔۔۔۔ہماری بیٹی کو اس بار زیادہ عیدی ملنی چاہیئے۔۔۔۔۔فرزین بیگم نے کہا تو سب چونکے۔۔۔

اور ایسا کیوں۔۔۔۔۔۔رضوان صاحب نے پوچھا۔

کیونکہ عید سسرال سے بھیجی جاتی ہے۔۔۔۔اسی لیے میری بیٹی کی عید تیار رکھیں۔۔۔۔انہوں نے کہا تو ان دونوں کی نظروں کا زبردست تصادم ہوا۔

تو لے لے کیا چاہیے۔۔۔۔میری بیٹی کو۔۔۔؟

جو چاہیے ہو اپنی پسند سے لے کر آجائے۔۔۔۔۔اور ہم نے عید کے بعد آپ کی رخصتی کے بارے میں سوچا ہے۔۔۔۔

رخصتی کا سنتے وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔اس کا دل برے طریقے سے لرزا تھا اگر میر دلاور نے منع کر دیا تو۔۔۔۔۔اس لیے وہ چلی گئی تھی۔۔۔

جی بابا جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔اس کے جاتے ہی میر نے حامی بھری تو سب نے خوشی سے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔

کل تم ساتھ لے کر جاؤ میری بیٹی کو جو چاہیے وہ دلواؤ۔۔۔۔ میر رضوان نے کہا۔

بابا۔۔۔۔۔آپ لوگ خرید لائیں سب۔۔۔۔اس نے جانے سے منع کیا۔۔۔

نہیں تم ہی جاؤ گے۔۔۔۔تمہاری ماں کہاں گھومتی پھرے گی۔۔۔۔تم خود جاؤ جس چیز پر وہ ہاتھ رکھے اس کو دلواؤ۔۔۔۔اپنی بھی کوئی جیب ہلکی کرو۔۔۔۔انہوں نے کہا تو عادی کا قہقہہ گونجا۔۔۔جو اس کی سخت گھوری پر بند ہوا۔

اگلے روز وہ اسے شاپنگ پر لے کر آیا تھا۔۔۔۔افطاری کے فوراً بعد وہ نکل گئے تھے۔۔۔۔گاری میں خاموشی رہی تھی اب کی بار حوریہ بھی کچھ نہیں بولی تھی۔

اسے لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب سب کو دکھانے کے لیے کر رہا ہے وہ دل سے رضامند نہیں ہے۔۔۔۔۔

وہ دونوں اب ساتھ ساتھ چلتے اندر آئے۔۔۔۔پسند کرو جو چاہیے ۔۔۔میر نے فون پر مصروف اسے دیکھتے کہا تو وہ اندر دکان میں چلی گئی۔۔

اپنے سے پہلے اس نے فرزین بیگم، رضوان صاحب اور عادی کے لیے پسند کیا تھا۔۔۔۔

یہ حاد کے لیے سائز ٹھیک ہے۔۔۔۔۔اس نے اس کے پاس آتے پوچھا تو وہ چونکا۔۔۔۔

ہمم۔۔۔۔

اسے کہا تو وہ چلی گئی۔۔۔اس نے اس کے علاؤہ باقی سب کے لیے کچھ نہ کچھ لیا تھا ۔۔۔یہ بات میر دلاور نے شدت سے محسوس کی تھی۔

اب وہ خاموش تھی۔۔۔۔۔اور وہ چاہتا تھا وہ کچھ بولے۔۔۔۔

وہ گزر رہی تھے جب میر دلاور نے اس کا ایک قدم رکنا اور ٹھٹک کر کچھ دیکھنا اور پھر واپس اس کے ساتھ چلنا محسوس کیا تو اسی سمت دیکھا جہاں وہ دیکھ رہی تھی۔

سامنے ہی سکن بابی فراک ڈسپلے پر لگا تھا۔۔۔۔جو اسے بھی کافی پسند آیا تھا۔۔۔۔اسے سامنے سٹور میں بھیج کر وہ اسی سٹور پر آیا۔

یہ مجھے خریدنا ہے ۔۔۔اس نے اسی فراک کو دیکھتے کہا۔

سوری سر یہ سیل ہو گیا ابھی ابھی۔۔۔۔مینیجر نے کہا۔۔۔

میں ڈبل قیمت دینے کو تیار ہوں۔۔۔اس نے فوراً کہا۔۔۔۔ اپنی بیوی کی نظر میں اس جوڑے کو دیکھ کر آنے والی چمک نہیں بھول سکتا تھا وہ۔

سر یہ آپ آرڈر پر بنوا سکتے ہیں۔۔۔مینیر مسکرایا۔۔۔۔

اوو۔۔۔۔اسے اپنی جلد بازی پر غصہ آیا۔۔۔۔

اوکے کب تک ملے گا۔۔۔یہ۔۔۔؟

بیس دنوں میں۔۔۔۔۔۔ارجںٹ دے سکتے ہیں ہم۔۔۔دس ہزار اوپر دینا پڑے گا۔۔۔۔

اوکے۔۔۔وہ پے کر کے سلپ لے کر باہر نکل گیا۔۔۔۔اور واپس آیا جہاں وہ مین سیکشن میں اب پتا نہیں کیا کر رہی تھی۔

میر۔۔۔۔

ہم۔۔۔۔۔

آپ کو کونسا رنگ پسند ہے۔۔۔۔

کوئی نہیں۔۔۔۔

اس نے سنجیدگی سے کہا وہ جو شوق سے اس کے پاس دو تین شرٹس نکال کر لائی تھی بجھے چہرے سے واپس رکھ دیں۔

اپنے لیے بھی اس نے دو جوڑے ہی لیے تھے۔۔۔۔۔اس نے بلنگ کرواتے وقت سیلس بوائے کو وہیں تین شرٹس لانے کو کہا جو وہ پسند کر چکی تھی۔

اسے بھی پیک کر دیں۔۔۔اس نے کہا تو حوریہ نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔

وہ واپس جا رہے تھے جب سامنے سے اسے وہ آتی دکھائی تھی۔۔۔۔میر دلاور رضوان نے تو کوئی ردِعمل نہیں دیا تھا لیکن حوریہ نے اس لڑکی کو دیکھتے میر کو دیکھا۔

وہ بھی انہیں دیکھ چکی تھی۔۔۔

ہیلو دلاور۔۔۔۔وہ پاس آ کر خوش دلی سے بولی۔۔

میر دلاور نے اسے دیکھ کر واپس فون پر نظریں مرکوز کیں۔۔۔۔۔حوریہ نے اسے دیکھا جو میر دلاور کے برابر آتی تھی۔۔۔

وہ مہوش تھی میر دلاور رضوان کی سابقہ منگیتر۔۔۔۔پل میں جیسے کسی نے دل کچلا تھا۔

اس نے ساتھ ہوتے میر دلاور رضوان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دیکھا تو اس نے بھی اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کی اور اسے لے کر باہر نکلا۔

مہوش نے کندھے اچکائے۔۔۔۔اس نے سب اپنے والدین کے کہنے پر کیا تھا۔۔۔اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔لیکن اس شاندار مرد کو دیکھتے اسے افسوس ضرور ہوا تھا اسے چھوڑنے کا۔

وہ واپسی کے راستے پر تھے جب کہ حوریہ اس کے بعد سے کچھ نہیں بولی تھیں۔۔۔۔ابھی بھی وہ باہر ہی دیکھ رہی تھی۔

باہر بارش ہونے کی وجہ سے اس نے شیشہ اوپر کرنا چاہا لیکن وہ ہاتھ رکھے باہر دیکھ رہی تھی۔

ایک لڑکے نے اسے دیکھتے سیٹی بجائی تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی میر دلاور رضوان نے شیشے اوپر کرتے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

آپ بابا کو منع کر چکے ہیں۔۔۔۔؟اس نے ہمت کرتے پوچھا۔۔۔۔

گھر چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔اس نے کہا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رمضان ختم ہونے والا تھا اس لیے وہ یہ کیس ختم کرنا چاہتے تھے اور واپس گھر جانا چاہتے تھے۔

حیات آج آپ تیار نہیں ہوئی اب تک اسے بستر میں پڑے دیکھ وہ دروازے پر کھڑا بولا۔

مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا حاد ۔۔۔حیات نے کمزور آواز میں کہا تو وہ تیزی سے اس کے نزدیک آیا۔

اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔ بخار نہیں تھا۔۔۔۔

آپ جائیں میں سو جاؤں گی تو بہتر محسوس کروں گی حیات نے اس کے ہاتھ کو آنکھوں پر رکھتے کہا تو وہ اور پریشان ہوا۔

اچھا اٹھو پہلے ناشتہ کرو میرے ساتھ۔۔۔حاد نے اسے اٹھا کر بٹھایا اور باہر لانے لگا لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس کا ہاتھ چھوڑتی واش روم میں بھاگی تھی۔

حادد۔۔۔۔۔

حاددد۔۔۔

وہ جو اس کے پیچھے آیا تھا اسے پسینے سے تر ہوتے دیکھ اس کا چہرہ دھلواتا باہر لایا۔۔۔وہ دوسری بار قے کرتے ہی نڈھال ہو گئی تھی۔

ڈاکٹر کے پاس چلو۔۔۔۔

حیات نے تیزی سے سر ہلایا۔۔۔کہ اسے اپنا سر گھومتا محسوس ہو رہا تھا۔

میجر میر حاد رضوان پانچ منٹ میں لوکیشن پر پہنچے۔۔۔بیک اپ موجود ہے آج ایک اور قدم کامیابی کی طرف اٹھائیں کرنکل نے کہا تو اس نے حیات کی حالت کو دیکھا۔

سر کچھ وقت دیر۔۔۔۔

ابھی پہنچیں فوراً۔۔۔۔۔فون کٹ گیا تھا۔

حاد آپ جائیں اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔۔۔اس نے چہرے کو نارمل کرتے کہا۔

حاد نے زندگی میں پہلی بار خود کو بے بس محسوس کیا تھا۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا وہ آج گیا تو کچھ کھو دے گا۔

لیکن وطن سے محبت پہلے نمبر پر تھی۔۔۔اپنی وردی سے بے وفائی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔کہ اگر ایسا کرتا تو ساری عمر خود سے نظریں نہ ملا پاتا۔

آج اسے اپنے شدت سے یاد آئے تھے۔۔۔۔کاش وہ گھر سب لوگوں میں ہوتا تو حیات کو یوں چھوڑتے اس کے دل کے انگنت ٹکرے نا ہوتے۔

اس نے نیند کی گولی حیات کے دودھ کے گلاس میں ملائی اور خانساماں کو اس کو پلانے کا کہتا باہر نکل گیا بنا اس سے ملے۔

یہ جانے بغیر کے ناجانے اب دوبارہ وہ اس سے کس حالت میں ملتا۔

وہ آج اس عزم سے آیا تھا کہ جب شام کو گھر لوٹے تو اپنی بیوی کے ساتھ تمام لڑکیوں اور معصوم جانوں کا بدلہ وہ سمیل رانا سے لے چکا ہو۔

اس کے آخری اڈے پر پہنچتے اس نے گہرا سانس بھرا ۔۔۔بھاری نفری اس کے ساتھ موجود تھی۔۔۔اس کا دل پرسکون تھا کہ آج حیات ان کے ساتھ نہ تھی۔

اس نے قدم آگے بڑھائے۔۔۔۔۔اور سامنے اس شخص کو دیکھا تو اپنی بیوی کے جسم پر موجود نشانات یاد آئے جو اس شخص کے دیے ہوئے تھے۔

ان معصوم جانوں کے چہرے یاد آئے جنہیں جگہ جگہ سے جلایا جاتا تھا جب وہ بھیک سے پیسہ نا کما کر لاتے تھے۔۔۔ان بوڑھے لوگوں کے کانپتے ہاتھ یاد آئے جب وہ سڑکوں پر لوگوں کی گاڑیوں کے پاس آتے دھوپ سے بچتے ہاتھ آگے کرتے مانگتے تھے۔

اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو سب لوگ پھیل گئے۔۔۔۔سمیل رانا کی اپنی سکیورٹی سخت تھی۔۔۔۔

مقابلہ دونوں طرف سے ہو رہا تھا اسے نیچے بیسمنت میں بھاگتے دیکھ وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔

کس سالے کی ہمت ہوئی اتنی۔۔؟

سر وہی ۔۔۔۔میر حاد جس نے آپ کی بیوی۔۔۔۔

اس کی بیوی کہاں ہے اب۔۔۔۔

گھر پر۔۔۔۔

تو سالوں انتظار کس بات ہے۔۔۔اس **** کو اتنا مارنا کہ اٹھنے کے قابل نہ بچے لیکن اتنی سانسیں چھوڑ دینا کہ میر حاد رضوان اسے آخری سانسیں اپنے سامنے بھرتے دیکھے ۔۔۔۔سمیل رانا نے کہتے حیوانی قہقے لگائے۔

حاد نے اس کے پاس آتے اس پر گن تانی۔۔۔

بہت کھیل لیا چھپ کر میجر چلو سامنے سامنے بات کرتے ہیں۔۔۔سمیل رانا پلٹتا ہسنا تھا۔

یقین جانو رانا مجھے بھی اس ملاقات کا انتظار تھا وہ وردی میں موجود چہرے سے ماسک اٹھاتا بولا۔

اووو۔۔۔تو تم ہو جس پر میری سابقہ بیوی نے ڈورے ڈال کر۔۔۔۔۔

بکواس نہیں۔۔۔۔اس کی ٹانگ کا نشانہ باندھتے گولی چلائی تھی اس نے۔۔۔۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔۔میجر لگتا ہے ٹریننگ اچھی نہیں ہوئی جو نشانہ چوک گیا تیرا۔۔۔

سمیل رانا جان چکا تھا کہ وہ فوج کی نظر میں آگیا ہے۔۔۔اس نے کافی ہاتھ پاؤں مارے تھے لیکن باہر کی مافیا اس سے اس کے خراب تعلقات اور ادھوری ڈیلز کی وجہ سے ہاتھ نہیں ملا رہی تھی۔

اپنے سارے اڈوں کو برباد ہوتے اس نے اس شخص کا پتا لگوایا تھا جو اس کے گلے تک پہنچ گیا تھا۔

تب ہی اسے میجر حاد کا پتا چلا تھا۔۔۔اسے کیسے بھول جاتا وہ۔۔۔۔اس کی ساری انفارمیشن نکالتے اسے پتا چلا تھا وہ یہاں اپنی بیوی کے ساتھ رہ رہا ہے۔۔۔۔

لیکن اس کیس کے شروع ہونے سے اب تک اس گھر کے پاس نامحسوس انداز میں نہایت سخت سکیورٹی تھی۔۔۔بظاہر سب نارمل دکھتا تھا لیکن وہاں چڑی بھی پر نہیں مار سکتی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ میر حاد کے لیے اس کی بیوی کتنی ضروری ہے۔

پچھلے واقعہ کو وہ اپنے بندوں سے جان گیا تھا۔۔۔۔اس لیے اس کی بیوی پر تاک جمائے بیٹھا تھا۔۔۔اس لڑکی میں تو سمیل رانا کو بالکل انٹرسٹ نہ رہا تھا لیکن اسے مار کر وہ ان دونوں کو الگ ضرور کرنا چاہتا تھا۔

خود تو مرنے ہی والا تھا لیکن میجر حاد رضوان کو آخری تحفہ تو بنتا تھا اس کی طرف سے۔۔۔

ٹریننگ کتنی اچھی ہے یہ تو اگلے کچھ سیکنڈ میں تمہیں اندازہ ہو جائے گا رانا۔۔۔۔میجر حاد مسکرایا تھا۔۔۔۔پراسرار مسکراہٹ۔۔۔۔

سمیل رانا نے بھی اس پر گن تانی۔

میجر حاد کے بٹن دباتے ہی اس کی ساری نفری وہاں پھیل گئی تھی۔۔۔۔سمیل رانا کو اپنی موت دکھ رہی تھی جسے وہ اب بھی ماننا نہیں چاہتا تھا۔

دیکھ میجر ایک ڈیل کرتے ہیں۔۔۔۔وہ آگے بڑھتا کہ میجر حاد نے ایک گولی اس کے ہاتھ میں ماری کہ وہ چیخ اٹھا۔

تیری بیوی ۔۔۔۔۔۔

خبردار۔۔۔۔

اس کا نام بھی مت لینا۔۔۔۔سمیل رانا کو آگے بڑھتے اسے دھکا دیا اور اس کے گولی لگے ہاتھ اور ٹانگ کو اپنے بھاری بوٹ تلے روند ڈالا۔

رانا کی چیخیں وہاں گونج اٹھی۔۔۔۔حاد کی نفری میں موجود اب ایک ایک شخص جانتا تھا کہ سمیل رانا کو عام موت نصیب نہیں ہونی تھی۔

ان کا یہ میجر اپنی بیوی کے لیے کتنا جنونی تھا پچھلے واقعہ کے بعد سب جان گئے تھے۔

حاد نے اس کے سینے پر گن تانے جلا دینے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھا تو سمیل رانا بھی مسکرایا ایسا کرتے حاد تھما تھا۔۔۔۔

اسے بجا سکا تو بجا لئیں میجر۔۔۔لیکن یار میری ادھوری چیز ہی ملی تجھے اس بات کا سکون مجھے موت کے بعد بھی رہے گا اور۔۔۔۔

اس سے پہلے ہی گولیوں نے اسے بھون کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔اب بھاری نفری ہر جگہ پھیلتی اس جگہ کو کلیئر کر رہی تھی ۔۔

حاد سب چھوڑتا باہر نکلا تھا۔۔۔

آپ کو بھی کرنکل کے ساتھ میٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے۔۔آپ کو یہ شہر چھوڑنا ہے۔۔۔وہ سب سنتا ان سنا کرتا گاڑی میں بیٹھا تھا۔

آپ سن رہے ہیں میجر حاد۔۔۔اس کے ائیرپیس سے آواز گونجی۔۔۔

سر میں نے اپنی وردی کی لاج رکھی۔۔۔۔وطن کو ایک غدار سے بچا لیا ۔۔۔۔۔اپنا حق ادا کر دیا میں نے ۔۔۔اب مجھے ایک شوہر ہونے کا بھی حق ادا کرنے دیں۔۔۔ وہ بنا دوسری طرف کی بات سنے فون کاٹ گیا تھا۔

وہ جانتا تھا اس کا انجام برا ہو سکتا ہے۔۔۔اسے نکالا جا سکتا ہے۔۔۔لیکن۔۔۔۔

وہ گاڑی دوڑاتا گھر پہنچا تھا گھر میں داخل ہوتے اسے لگا جیسے کسے نے اس کے جسم کو سو ٹکروں میں کاٹا ہو۔۔۔۔۔

ہر جگہ چیزیں بکھری تھیں۔۔۔۔۔جگہ جگہ خون کے دھبے بھی تھے۔۔۔۔وہ بھاگتا کمرے میں آیا۔۔۔

حیات۔۔۔۔۔

حیاتتت۔۔۔۔۔

زندگی۔۔۔۔وہ چیخ رہا تھا۔۔۔۔یہاں سے وہاں گھومتا وہ کوئی پاگل ہی معلوم ہوتا تھا۔

سر انہیں ہسپتال شفٹ کر دیا گیا یے۔۔۔۔۔اس کے آدمی نے کہا تو حاد نے اس کا کارلر تھاما۔۔۔

ایک کام سے ڈھنگ سے نہیں کر سکے ۔۔۔۔۔۔وہ سرخ نگاہوں سے انہیں دیکھتا غرایا تو اس کے تعینات کی سکیورٹی کے سر جھک گئے۔

سر ہم بروقت پہنچ گئے تھے۔۔۔۔ان میں سے ایک منمنایا۔۔۔

اگر پہنچ گئے ہوتے تو میری بیوی آج ہسپتال نہ ہوتی وہ چیختا باہر کی طرف بھاگا۔۔۔

ہسپتال آتا وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔اندر گیا تو دیکھا وہ بستر پر پرسکوں آنکھیں موندے پڑی تھی اس کے بازو اور سر پر پٹی بندھی تھی۔۔۔۔اس کے آدمیوں نے نمک حرامی نہیں کی تھی۔

وہ وہ لوگ تھے جن کی حاد نے کبھی نا کبھی مدد کی تھی۔۔۔۔اپنی نیکی کا صلہ اپنی بیوی کو اپنے سامنے بحفاظت دیکھتے اسنے نم آنکھوں سے آسان کی طرف دیکھتے سکون کا سانس لیا تھا۔

آپ ان کے کیا لگتے ہیں۔۔۔لیڈی ڈاکٹر جو حیات کو دیکھنے آئی تھی بولی۔۔۔۔

بیوی ہیں یہ میری۔۔۔اس نے حیات پر نظریں ٹکائے دھیمے سے کہا۔

میرے کیبن میں ملیں مجھ سے۔۔۔حیات کی ڈرپ اتارتے اسے نے حاد کو اپنے ساتھ آنے کا کہا تو حیات کو دیکھتا باہر چلا گیا۔

گھر پہنچ کر سارا سامان حوریہ کے کمرے میں رکھ کر وہ اسے کافی کا بولتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

کافی اس کی جگہ فرزین بیگم کو لاتے دیکھ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔۔

میں نے حور کو بولا تھا ماما۔۔۔۔

وہ تھک گئی تھی بچی ہے۔۔۔تم بھی زیادہ سختی مت کیا کرو۔۔۔پتا ہے کیسے نازوں سے پالا ہے ہم نے اسے۔۔۔اس کا اترا چہرہ مجھے بالکل نہیں پسند۔۔۔اور تمہیں پتا ہے میر۔۔۔۔تمہارے بابا تم سے ناراض ہوں گے اگر وہ ایسے اداس رہی تو۔۔۔۔

بہت تنگ کرتی ہے آپ کی بہو مجھے ماما۔۔۔اس نے ان کے کندھے پر سر رکھتے کہا۔۔۔۔

تو کچھ کم نہیں ہے۔۔۔انہوں نے اس کے سر پر چت لگاتے کہا۔۔۔اور وہ بہو نہیں بیٹی ہے میری۔۔۔۔

آپ کی بیٹی سے تو چن چن کر بدلے لوں گا۔۔۔۔اس نے دل میں کہا انہیں کہتا تو سو باتیں سننے کو ملتی اسے۔

اس کے جانے کے بعد وہ کافی ختم کرتا اس کے روم میں بنا نوک کیے اندر آیا اور دروازہ لاک کیا۔۔

وہ جو ابھی نہا کر نکلی تھی اسے دیکھتی چونکی۔۔۔

آپ۔۔۔۔

کافی کا کسے بولا تھا میں نے۔۔۔۔؟؟

مجھے۔۔۔

تو ۔۔۔۔۔ماما کیوں لائی۔۔۔۔۔

میں نے بنائی تھی بس امی کو کہہ دیا کہ وہ دے آئیں اس نے ڈرتے کہا کیونکہ وہ اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔

کیا میرا کہا تمہارے لیے اہمیت نہیں رکھتا یا میں ہی تمہارے نزدیک اہم نہیں۔۔۔اسے دیوار کے ساتھ لگاتے وہ بولا۔

ایسا نہیں ہے۔۔۔۔حوریہ نے جھٹکے سے اسے دیکھتے کہا۔۔۔

تو پھر کیا وجہ ہے۔۔۔۔۔؟کیا وجہ ہے حوریہ دلاور کے تم اس رشتے کو قبول نہیں کر رہی ہو؟؟اس کے گیلے بال گردن سے ہٹاتے کہا۔

میرر۔۔۔۔اس کی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے اس نے سوکھے ہونٹوں کو تر کرتے کہا۔

مجھے سونا ہے۔۔۔۔وہ یک دم پیچھے ہوئی۔۔۔۔تو میر نے اسے سخت نگاہوں سے گھورا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

وہ واپس اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ اپنی گردن پر رکھا اور آنکھیں بند کیں۔۔۔۔تو میر دلاور کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ آئی جسے وہ چھپا گیا۔

ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں وہ دھیمے سے بولی۔

سوچ لو۔۔۔۔اب کی بار میرا ہاتھ جھٹکا تو میں معاف نہیں کروں گا۔۔۔اس نے کہا تو وہ ایسے ہی کھڑی رہی۔

وہ جھکا اور اس کی نم گردن پر اپنا ناک سہلایا۔۔۔اور گہری سانس بھری۔۔۔

میررر۔۔۔حوریہ نے اس کا کارلر تھامتے کہا تو میر دلاور رضوان نے اسے اپنے حصار میں لیا۔

تمہاری طرف بہت حساب نکلتے ہیں میرے حور۔۔۔۔اس کے بال اس کے چہرے سے پیچھے کرتے کہا تو اسے ہلکا سا بخار محسوس ہوا۔

ٹھنڈے پانی سے نہائی ہو ۔۔۔ماتھے پر بل لیے پوچھا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔

دماغ خراب ہے تمہیں پتا ہے نا تمہیں ٹھنڈا پانی سوٹ نہیں کرتا۔۔۔۔وہ اس کا بازو سخت گرفت میں لیتا بولا۔

آپ کو کیسے پتا۔۔۔۔؟؟

تمہیں نہیں لیکن میر دلاور رضوان کو سب پتا ہے تمہارے بارے میں۔۔۔۔تمہیں اندھیرے میں نیند نہیں آتی۔۔۔اونچا تکیہ نہیں پسند۔۔۔۔ٹھنڈے پانی سے نہیں نہاتی تم ۔۔۔سی فوڈ نہیں پسند۔۔۔۔اور بھی بہت کچھ کافی کچھ پرسنل بھی ۔۔۔۔سب وقت پر بتاؤں گا۔۔۔

ابھی میڈیسن لو اور خبردار اے سی اون دیکھا آج میں نے تمہارا اس نے کہا تو اس نے ہاں میں سر ہلاتے اس کے سینے پر دھیرے سے ڈر رکھا۔

میر نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔

بدل لو گی خود کو میری خاطر یا بابا کو منع کروں۔۔۔۔؟وہ شرارت سے بولا تو وہ جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی۔

واپس آؤ۔۔۔۔

وہ دھاڑا تو وہ دوبارہ نزدیک ہوئی وہ اسے اپنے حصار میں لے گیا۔

میں بدل لوں گی خود کو۔۔۔سب بدل دوں گی وہ رندھے لہجے میں بولی۔

اب ضرورت نہیں رہی میر دلاور رضوان کو حوریہ دلاور رضوان ایسے ہی پسند ہے اس کے سر پر بوسہ دیتا وہ بولا۔

آپ کا نامی گرامہ۔۔۔۔

حاد۔۔۔میر حاد رضوان اس نے دھیمے سے کہا۔۔۔

آپ کی وائف کو چوٹ زیادہ نہیں آئیں تھی۔۔۔لیکن ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے اس حالت میں یہ سب معمول سے زیادہ نقصان دے ہو سکتا ہے ۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا تو اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔۔

اب وہ اور آپ کا بچہ بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔۔لیکن انہیں بہت اختیاط کی ضرورت ہے، معمولی سی غلطی ان کی جان پر بھاری پر سکتی ہے کیونکہ وہ بہت کمزور ہیں۔۔۔ڈاکٹر کی بات سنتا وہ باہر آ گیا تھا۔

وہیں بینچ پر بیٹھے اس نے نم آنکھوں کو رگڑا تھا۔۔۔۔۔

حیات حاد رضوان میں تمہاری حفاظت نہ کر پایا۔۔۔۔۔

سر آپ کو آپ کی وائف بلا رہیں ہیں۔۔۔۔۔نرس نے کہا تو وہ شکستہ قدم اٹھاتا اندر گیا۔

حاد۔۔۔۔

حیات نے مسکراتے اسے دیکھا۔۔۔۔اس کی مسکراہٹ میں میر حاد کھو گیا۔۔۔۔

یہاں تو آئیں۔۔۔۔کیا آپ کو پتا چل گیا ہے۔۔۔اس کے پاس جاتے حیات نے اس کا ہاتھ تھامتے شرماتے پوچھا۔

زندگی۔۔۔۔!

وہ جھکے کندھوں سے اسے ملا تو حیات کی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔۔۔۔

میں اپنی حفاظت کر چکی تھی میجر۔۔۔۔میجر حاد کی بیوی ہوں میں اور شکیل احمد کی ٹریننگ ایسی نہیں رہی کہ حیات شکیل احمد اپنا بچاؤ نا کر پاتی اپنے حاد کے لیے۔۔۔اس نے کہتے حاد کے ہاتھوں پر اپنے لب رکھتے اسے اس کے گلٹ سے نکالنا چاہا۔

حاد نے جھکتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔

سمیل رانا کے لوگوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا تھا۔۔۔بروقت اس کی سکیورٹی کو پتا چل گیا تھا لیکن اس سے پہلے حیات خود کو واش روم میں بند کر چکی تھی اور گھر کی بتی کا فیوز اڑا چکی تھی تاکہ اس تک پہنچنے میں اسے وقت لگے اور تب تک وہ سکیورٹی کو فون کر کے بلا لے۔

اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟

بہت اچھا۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں کیا آپ خوش ہیں اس نے اسے دیکھا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔۔۔حاد نے کہا تو حیات نے اس کا ہاتھ دھیمے سے چھوڑا۔۔۔۔

چلو گھر چلیں۔۔۔ہم واپس جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔سب انتظار کر رہے ہیں ہمارا۔۔۔۔اس نے کہا تو حیات نے سنجیدہ سے سر ہلایا۔

وہ کرنل سے ملا تھا۔۔۔۔وہ غصہ تو ہوئے تھے لیکن جو کوئی نہ کر پایا تھا وہ میجر حاد نے کر دیا تھا اس لیے اسے مارجن مل گیا تھا۔۔۔۔

انہوں نے اسے اگلے مشن پر کام شروع کرنے کا کہا تھا لیکن وہ رمضان کا آخری عشرہ اب اپنے گھر گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔اس لیے اسے چھٹی مل گئی تھی۔

وہ دونوں خاموشی سے گھر آگئے گھے۔۔۔۔۔گھر میں ان کا اچھے سے استقبال ہوا تھا کہ سب اس کی پریگنینسی کی خبر سنتے خوش تھے۔

لیکن ان دونوں میں خاموشی ہنوز برقرار تھی۔

حاد اس کے لیے حد درجہ فکر مند تھا۔۔۔۔۔وہ اس خبر سے بے حد خوش تھا لیکن کوئی خبر حیات کی زندگی سے زیادہ خوش کن نا تھی اس کے لیے۔

حیات کو لگا تھا وہ اس خبر سے خوش نہیں ہے۔۔۔۔اس کا سارا دن حوریہ اور فرزین بیگم کے ساتھ گزر جاتا تھا۔

حاد جو کہنے کو تو گھر تھا وہ باہر ہی پایا جاتا تھا ذیادہ۔۔۔۔۔حوریہ نے عید کی تمام شاپنگ کر لی تھی لیکن اسے حاد نے پوچھا ہی نہیں تھا۔

آج چاند رات تھی۔۔۔۔۔حیات کا دل عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔یہاں آ کر حاد اسے بالکل ہی نظر انداز کر گیا تھا۔

وہ حوریہ سے جیلس نہ تھی لیکن میر دلاور کو اس کا یوں خیال رکھتے دیکھ اسے حاد کی اس زیادتی پر رونا آ رہا تھا۔

ابھی بھی میر دلاور نے حوریہ کی پلیٹ میں خیر ڈالی تو اس نے انہیں دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔۔۔اس کی یہ حرکت سامنے بیٹھے حاد سے چھپی نہ رہی تھی۔

اس نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔وہ ان سب میں اسے کتنا ہرٹ کر گیا تھا اسے اندازہ تھا۔

میرا ہو گیا۔۔۔وہ دھیمے سے کہہ کر اٹھی تھی لیکن ساتھ عادی کی کرسی سے اٹکتی وہ گرنے لگی تھی کہ اس کی کرسی کو تھاما۔

حاد فوراً اٹھ کر اس کے پاس آیا تھا۔۔۔دھیان کہاں ہے تمہارا۔۔۔اس نے غصے سے پوچھا تھا وہ جو پہلے ہی بھرے بیٹھی تھی اب آنسو نکل ہی گیا تھا۔

حاد آرام سے ۔۔۔۔میر دلاور سب سے پہلے اسے سرزنش کر گیا تھا۔

حوریہ فوراً حیات کے پاس گئی تھی۔۔۔اس کا ہاتھ تھامے اسے کمرے میں لے گئی۔

تم اپنی کرسی ڈھنگ سے نہیں لگا سکتے تھے حاد سارا غصہ عادی پر نکالتا کمرے میں چلا گیا تو سب نے تاسف سے سر ہلایا۔

لو بھئی غلطی بیویوں کی ہوتی ہے لیکن ان پر تو ان کا زور چلتا نہیں تو ڈانٹ مجھ بیچارے کی لگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔عادی نے دہائی دی تو رضوان صاحب مسکرائے جب کہ میر دلاور نے اسے گھوری سے نوازا۔

وہ کمرے میں گیا تو حوریہ باہر تھی حیات واش روم میں تھی۔۔۔

حوریہ بیٹا بھائی بلا رہے ہیں آپ کو۔۔۔اس نے کندھے سے شال اتارتے کہا تو سر ہلاتی باہر نکل گئی۔

وہ واش روم سے باہر آئی تو وہ تن فن کرتا اس کے پاس آیا دیوار کے ساتھ اسے لگاتا اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔

کس بات کا رونا آرہا ہے۔۔۔۔اور دھیان کہاں ہے تمہارا۔۔چوٹ لگ جاتی تو ۔۔؟

آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں گر بھی جاتی تو وہ بولی تو حاد نے اس کا جبڑا پکڑ کر جھٹکے سے اس کا سر اٹھایا۔

حیات حاد رضوان۔۔۔زیادہ زبان چل رہی ہے تمہاری۔۔۔۔

مجھے بابا کے پاس جانا ہے۔۔۔حیات نے اسے دور کرنا چاہا۔

ابھی نہیں۔۔۔کچھ دنوں بعد چھوڑ آؤں گا۔۔۔۔

نہیں مجھے عید وہیں کرنی ہے مجھے چھوڑ کر آئیں وہ ضدی لہجے میں بولی۔

کہا نا حیات کچھ دنوں بعد چلی جانا حاد نے واش روم کی طرف جانا چاہا۔

آئی ہیٹ یو حاد۔۔۔۔اس نے سسکی بھرتے کہا تو حاد نے اسے دیکھا جو باہر جا رہی تھی کمرے سے۔

خبردار قدم باہر نکالا تو۔۔۔مہندی والی آ رہی ہے مہندی لگواؤ چپ کر کے۔۔۔۔یہیں بیٹھو باہر پھر چیزوں سے ٹکراتی پھرو گی۔۔۔

اور یہ جو نفرت کا اظہار ابھی تمہاری زبان نے کیا ہے اس کا جواب بھی ضرور ملے گا۔

حیات وہیں بیٹھ گئی۔۔۔کتنا بھی اس سے ناراض سہی لیکن اس کی بات نہیں ٹالتی تھی وہ۔۔۔

مہندی والی اسے مہندی لگا کر جا چکی تھی جو سوکھ گئی تھی ۔۔۔اور وہ سو گئی تھی۔

حاد واپس کمرے میں آیا تو وہ سامنے بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی سو گئی تھی۔

اس کے پاس آتے اسے اختیاط سے سیدھا کرتے اے سی کی اسپیڈ سلو کی اور کمفرٹر اوڑھا اسے ۔۔۔

اس کے ساتھ بیٹھتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔وہ اسے نظر انداز نہیں کر رہا تھا ۔۔اس کی ہر چھوٹی حرکت پر نظر تھی اس کی۔۔۔

لیکن وہ ڈر گیا تھا۔۔۔ڈاکٹر نے اس کیس میں کومپلیکیشنز بتائیں تھیں۔۔۔اس لیے وہ حد درجہ فکرمند ہو گیا تھا۔

لیکن آج اس کا حوریہ اور دلاور کو دیکھنا اسے تڑپا گیا تھا۔۔۔۔وہ ان سب میں اسے برے طریقے سے ہرٹ کر گیا تھا۔

اس کے بالوں پر لب رکھتے اس نے اس کے بھرے بھرے وجود کو حصار میں لیا تو وہ کسمسائی۔

وہ روز سونے کے بعد ہی خود کو اس کے حصار میں محسوس کرتی تھی۔

حاد۔۔۔

ہم۔۔۔۔

کیا آپ خوش نہیں ہیں کہ ہماری اولاد ۔۔

ایسی سوچیں لاتی کہاں سے ہو حیات۔۔۔میں صرف تمہارے لیے فکرمند ہوں۔۔۔تم صحیح سے اپنا خیال نہیں رکھ رہی ہو۔۔۔یہ جان لو کہ کہیں اونچ نیچ ہوئی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا وہ شدت سے اسے خود میں بھینچتا بولا۔

میں خیال رکھ تو رہی ہوں حاد ۔۔۔۔حوریہ ماما بابا سب ہی تو خیال رکھ رہے ہیں اور سب سے ضروری جو شخص مجھے نظر انداز کرنے کا دعویٰ کر رہا تھا اس ہی کی نظروں میں رہی ہوں میں۔۔۔وہ اسے بتا گئی تھی کہ وہ سب جانتی ہے اس کے بارے میں۔

حاد۔۔۔

بولو زندگی۔۔۔

مجھے عید کی شاپنگ بھی نہیں کروائی آپ نے۔۔۔دلاور بھائی نے حوریہ کو اتنے زیادہ کپڑے ۔۔۔۔۔۔

ششش۔۔۔۔

تم کسی سے انسکیور نہیں ہو گی حیات یہ آج میں آخری بار بول رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔کسی کی طرف نہیں دیکھو گی جو چاہیے ہے وہ مجھے بولو۔۔۔۔

تمہارے سارے کپڑے، جیولری، جوتے سب الماری میں رکھے ہیں دیکھ لو۔۔۔تمہیں کیوں لگا کہ میں اپنی بیوی کی اپنے ساتھ پہلی عید کو بھول جاؤں گا ۔۔۔

حاد نے کہا تو حیات جھٹکے سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھی تھی لیکن اپنی اس تیزی پر اس نے ہونٹ کاٹتے پیچھے حاد کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا۔

حیات نے مسکراتے کپڑے نکالے سب کے ساتھ کی میچنگ جیولری اور سینڈلز دیکھتے وہ خوش تھی بے حد۔۔۔

یہ سب میرے ہیں۔۔۔۔؟

جی سب آپ کا ہے حاد نے اس کے کندھے پر تھوڈی ٹکاتے اسے مسکراتے دیکھ خود میں سکوں اترتا محسوس کیا۔

میں بہت خوش ہوں حاد۔۔۔۔۔اس کی خوشی کا اندازہ اس کی آواز سے لگایا جا سکتا تھا۔۔۔

تمہیں مجھ سے نفرت ہے بھولنا مت حاد نے اسے سیدھا کرتے سنجیدگی سے کہا تو اس نے منہ بسوڑا۔

میں نے غصے میں کہہ دیا تھا اس نے حاد کے ماتھے سے بال پیچھے کرتے کہا۔

یہ سب میں دوبارہ غصے میں بھی نا سنوں۔۔۔اور تمیز سے اٹھنا بیٹھنا سیکھو حیات ۔۔۔۔میں بار بار ایک ہی بات نہیں سمجھاؤں گا ۔

سڑو۔۔۔۔حیات نے منہ بسوڑتے اس کی پشت کو گھورتے دھیمے سے کہا لیکن وہ سن چکا تھا۔