Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode08

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode08

چھوڑو میرا ھاتھ.تمھیں خدا کا واسطه میرے ابو کی حالت ٹھیک نھیں ھے.
مومنه مسلسل اپنا ھاتھ چھڑوا رھی تھی.
حمزه مومنه کو زبردستی گاڑی تک لایا اور پھر پچھلا دراوزه کھول کر اندر کی طرف دھکا دیا پھر خود درائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی.
مومنه مسلسل گاڑی کا دروازه کھولنے کی کوشش کر رھی تھی.
رو رو کر وه اب نڈھال سی ھو گئ تھی.پھر آھسته آھسته اسکی آنکھیں بند ھو گئ.
******************************
مشکل سے اسنے اپنی آنکھیں کھولیں.
اسے سمجھ نھیں آرھا تھا کے وه کھاں ھے .بھاری ھوتے سر کر ساتھ بامشکل وه اٹھی .وه اب پوری آنکھیں کھولے اردگرد کا جائزه لے رھی تھی جب اسکی نظر سامنے گئ.
وه ھاتھ میں سگریٹ دباۓ بڑی فرصت سے اسے دیکھ رھا تھا.
ایک لمحه لگا لگا تھا مومنه کو سب یاد آنے میں.
ابو……
ھلکی سی آواز میں اسکے منه سے سب سے پهلے یهی الفاظ نکلے.
حمزه کو سامنے دیکھ وه خوف سے کانپنے لگ گئ تھی.
اگلے ھی لمحے وه دروازے کی جانب بڑھی اور دروازه کھولنے کی کوشش کرنے لگ گئ.
جب مسلسل کوشش کرنے سے وه تھک گئ تو وھی دروازے کے ساتھ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
حمزه سے اسکا رونا نھیں دیکھا گیا تو اٹھ کر اسکے پاس آ بیٹھ گیا.
شش چپ ھو جاؤ.
حمزه نے نرمی سے کھا.
پلیز مجھے جانے دو.میں نے تمھارا کیا بگاڑا ھے.
مومنه نے روتے ھوۓ کھا.
میرا دل چرانے کے بعد بولتی ھو کے تم نے میرا بگاڑا ھے.
اچھا چلو شاباش اپنا حلیه درست کرو مولوی صاحب آنے ھی والے ھونگے ھمارا نکاح پڑھانے.
حمزه نے شرارت سے کھا لیکن آخری بات بھت سنجیدگی سے کھی.
حمزه کی بات سن کر مومنه نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسکی زھنی حالت پر شبه ھو.
تمھارا دماغ تو خراب نھیں ھو گیا.میں اور تم سے نکاح…..ھر گز نھیں.
مومنه نے غصے سے کھا.
دیکھو مومنه میں تم سے بھت پیار سے بات کر رھا ھوں مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو.
حمزه نے سرد لھجے میں کھا.
اس سے پهلے مومنه کچھ کھتی دروازه بجنے کی آواز پر حمزه باھر کی جانب بڑھ گیا.
****************************
دیکھیں انھیں ھارٹ اٹیک ھوا ھے.
انکی حالت بھت سیریس ھے……آپ لوگ دعا کریں.
ڈاکٹر کی بات سن کر آرزو بیگم گرنے سے انداز میں سیٹ پر بیٹھ گئ.
زویا اور میرب کے رونے میں اور شدت آ گئ.
ایک طرف بیٹی اور دوسری طرف شوھر.
انھیں لگ رھا تھا کے ساری مصیبتیں ایک ساتھ ھی آگئ ھیں.
***********************
حمزه جب کمرے میں پھنچا تو مومنه گٹھنوں میں سر رکھے بیٹھی تھی.
مومنه تم ابھی تک ایسے ھی بیٹھی ھو چلو شاباش باھر چلو دیکھو نکاح خواه بھی آ گیا ھے.
حمزه نے محبت سے کھا.
نھیں کروں گی میں نکاح….اگر تم نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں خود کو مار دوں گی.
مومنه نے چھری حمزه کے سامنے کرتے ھوۓ کھا جو اسنے نے ناجانے کھاں سے لے لی تھی.
اچھا …..چلو ٹھیک ھے مارو گی خود کو تو مار لو ….میں بھی زرا دیکھوں کے کیسے مارتی ھو.
حمزه نے سامنے صوفے پر بیٹھتے ھوۓ آرام سے کھا
مومنه نے ایک نظر اپنے ھاتھ میں پکڑی چھری پر ڈالی اور دوسری حمزه پر اس سے پهلے مومنه چھری سے اپنا ھاتھ کاٹتی حمزه نے چھری اسکے ھاتھ سے لے کر دور پھینک دی.
بس بھت ھو گیا….اگر اب شرافت سے میرے ساتھ نھیں چلی تو پهر دیکھنا کیا حال کرتا ھو تمھارا.
حمزه نے پسٹل مومنه کے سر پر رکھ کر غصے سے کھا.
گن پوائنٹ پر حمزه نے مومنه سے نکاح کرلیا .
مومنه اس وقت اپنے آپ کو بھت بے بس محسوس کر رھی تھی.
***********************
ایسے کیسے کوئ آکر مومنه کو لے جا سکتا ھے.
ارمان کا غصه کم ھونے کا نام نھیں لے رھا تھا.
میں پولیس اسٹیشن جا رھا ھو .
ارمان کھ کر گھر سے نکل گیا.
***********************
تمھیں پتا ھے میں آج اتنا خوش ھو کے بتا نھیں سکتا.
حمزه نے مومنه کو دیکھتے ھوۓ کھا جو گم صم سی کونے میں بیٹھی ھوئ تھی.
اب تو مجھے میرے گھر پر چھوڑ آئیں.
مومنه نے التجا کی.
تمھیں پتا ھے میں پورا سال صرف تمھیں ھی سوچتا رھا .تمھیں پتا ھے میں کتنا وقت سڑکوں پر سویا ھوں…..صرف ایک وقت کھانا کھاتا تھا پتا ھے کیوں کیونکه مجھے پیسے جمع کرنے تھے صرف تمھارے لیۓ.
حمزه نے مومنه کی بات کو نظر انداز کرتے ھوۓ کھا .
نھیں سننا میں نے کچھ….میں نے کھا ھے کے مجھے میرے گھر جانا ھے.
مومنه نے چیختے ھوۓ کھا.
ٹھیک ھے میں تمھیں لے جاؤ گا لیکن میری ایک شرط ھے.
حمزه نےکھا.
ک..ککیسی شرط.
تم میرے ساتھ جاؤ گی اور چپ چاپ بغیر کچھ کھے میرے ساتھواپس آ جاؤ گی ورنه….
حمزه نے اپنی بات ادھوری چهوڑ دی.
ج جی ٹھیک ھے.
مومنه نے اپنے آنسوں صاف کرتے ھوۓ کھا.
********************­***************
حمزہ نے گاڑی ہسپتال کے سامنے روکی.
اسنے اپنے ایک بندے سے معلوم کروالیا تها کے حماد صاحب اس وقت ہسپتال میں داخل ہیں.
گاڑی کے رکنے پر مومنہ نے سامنے دیکها تو ہسپتال کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نمی آگئ.
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ گاڑی سے اتری.
جب وہ لوگ ہسپتال میں داخل ہونے لگے تو حمزہ نے مومنہ کا ہاتھ پکڑ کر روکا.
مومنہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا.
دیکھو مومنہ میں تمهیں یہاں لے آیا ہوں صرف اس شرط پر کہ تم چپ چاپ واپس میرے ساتھ چلو گی.
اگر تم نے زرا سی بهی ہوشیاری دکهائ تو یاد رکهنا کے میں جب حماد صاحب کو ہسپتال پہنچایا سکتا ہوں تو مجھے ان کو اوپر پہنچانے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی.
حمزہ نے کہتے ہوئے اپنی جیب میں رکھی ہوئی گن کی طرف اشارہ کیا.
حمزہ کی بات سن کر مومنہ کانپ اٹھی.
اور بہت مشکل سے ہاں میں سر ہلایا.
گڈ گرل….
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسے لے کر اندر کی جانب بڑھ گیا.
********************­***************
مومنہ نے جب سامنے آرزو بیگم کو دیکھا تو بھاگ کر انکے گلے لگ گئی.
مومنہ کو دیکهہ کر آرزو بیگم کے آنسوؤں میں روانی آ گئی.
امی….ابو کیسے ہیں.
مومنہ نے روتے هوئے پوچھا.
وہ ٹهیک نهیں هیں میری جان…..تم انکے لیئے دعا کرنا.
انشاءاللہ امی…. ابو بالکل ٹهیک ہوجائے گے.
مومنہ نے آرزو بیگم کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا.
تم ٹهیک تو ہونا مومنہ….
مومنہ کو دیکهہ کر میرب اور زویا بهی وہاں آگئ تهی.
جی آپی میں ٹهیک ہوں.
مومنہ نے زویا کو جواب دیا.
اب هم آپ کو کهیں نہیں جانے دینگے.
میرب نے مومنہ کے گلے لگتے ہوئے کہا.
میرب کی بات سن کر ایک تلخ مسکراہٹ نےمومنہ کے لبوں کو چهوا.
امی میں ابو سے مل لوں.
مومنہ نے پوچها.
آرزو بیگم نے ہاں میں سر ہلایا تو مومنہ اندر کی جانب بڑھ گئی.
********************­***************
ابو…..
حماد صاحب کو اس حالت میں دیکھکر مومنہ کو اپنا آپ قصوروار لگا.
پلیز مجهے معاف کر دیں ابو.میری وجہ سے آپکی یہ حالت ہوئی ہے.
بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائے. کیوں مجھے اتنا تنگ کر رہے ہیں.
مومنہ ابهی حماد صاحب سے باتیں کر رہی تھی کہ حماد صاحب نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی.
مومنہ نے فورا ڈاکٹر کو بلایا.
ڈاکٹر نے مومنہ کو باہر بھیجا اور خود حماد صاحب کو چیک کرنے لگ گئے.
***********************
سب پریشان کھڑے حماد صاحب کی صحت کے لیے دعا گو تھے.
مبارک ہو اب آپ کے پیشنٹ خطرے سے باہر ہیں.
ڈاکٹر نے آ کر کہا.
ڈاکٹر کی بات سن کر سب نے اللہ کا شکر ادا کیا.
چلو مومنہ کافی دیر ہو گئی ہے.
حمزہ نے کہا.
تمهارا دماغ خراب ہو گیا ہے ….اب میری بیٹی تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی….اگر تم نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں پولیس کو فون کر دوں گی.
حمزہ کی بات سن کر آرزو بیگم نے غصے سے کہا.
اچههاا….آپ پولیس کو فون کریں گی اور کیا کہے گی انهیں کہ شوہر اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہے.
حمزہ نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا.
کیا بکواس کر رہے ہو تم.
آرزو بیگم نے دہرکتے دل کے ساتھ پوچھا.
یہ بکواس نهیں حقیقت ہے کہ آپکی بیٹی اب میری بیوی ہے.
آرزو بیگم نے مومنہ کی طرف دیکھا جیسے حمزہ کی بات کی تصدیق چاہی هو.
مومنہ نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا.
اب تو یقین ہوگیا نا ساس صاحبہ….اب چلو مومنہ.
حمزہ آرزو بیگم کو بولتے ہوئے آخر میں مومنہ سے مخاطب ہوا.
حمزہ کی بات سن کر بهی جب مومنہ اپنی جگہ سے ہلی نهیں تو حمزہ کا ہاتهہ اپنی جیب میں رکهی هن کی طرف گیا.
حمزہ کا اشارہ سمجھ کر مومنہ بجهے دل کے ساتھ چلنے لگ گئ.
آرزو بیگم.زویا اور میرب نے نم آنکهوں سے مومنہ کو جاتے ہوئے دیکھا.
***********************
گهر کے سامنے حمزہ نے گاڑی روکی.
مومنہ کو لے کر وہ گهر میں داخل هوا.
بوا…..
حمزہ نے(ملازمہ )کو آواز لگائ.
جی صاحب….
بوا آپ کهانا همارے روم میں لے آئیں.
حمزہ نے کہا اور مومنہ کا ہاتهہ
پکڑ کر روم کی جان بڑهہ گیا.
***********************
مومنہ گم صم بیڈ پر بیٹهی هوئ تهی.
حمزہ فریش ہوکر واشروم سے نکلا ….مومنہ کو اسی طرح بیٹھے ہوئے دیکھ کر اسکی جانب بڑها.
اس سے پہلے حمزہ کچهہ بولتا دروازہ بجنے کی آواز پر اسکی طرف بڑھ گیا.
مومنہ کهانا کها لو….
ملازمہ کے کهانا رکهہ کے جانے کے بعد حمزہ مومنہ سے مخاطب هوا.
نهیں کهانا مجهے.
مومنہ نے اپنا چہرہ پھیر لیا.
مومنہ آکر کهانا کها لو.
حمزہ نے اب بهی نرمی سے کہا.
بولا نا نہیں کهانا مجهے.
مومنہ نے پہلے سے بهی زور سے کہا.
کیوں مجھے سختی کرنے پر مجبور کر رہی ہو.
حمزہ نے مومنہ کا بازو دبوچتے ہوئے کہا.
حمزہ کی سخت گرفت پر مومنہ کی آنکهیں نم هوگئ.
پھر میری ایک دفعہ کی بات کیوں نہیں سنتی ہوں.
مومنہ کی نم آنکھیں دیکھ کر حمزہ نرم پڑ گیا.
چلو شاباش تهوڑا سا کها لو.
حمزہ نے مومنہ کو صوفے پر بیٹھاتے ہوئے کہا.
حمزہ کے ڈر سے مومنہ نے دو نوالے ذہر مار کیئے.
***********************
جاری ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *