Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode06

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode06

آپی مجھے تو لگتا ھے کہ سب سو رہے ھیں۔
میرب نے آس پاس دیکھتے ھوئے کہا۔
وہ لوگ ابھی زویا کا ناشتہ لےکر پہنچی تھیں لیکن گھر میں ھر طرف خاموشی کو دیکھ کر وہ لوگ سمجھ گئی تھیں کہ سب لوگ ابھی تک سو رہے ھیں۔
السلام و علیکم۔ ۔ ۔ ۔
دونوں نے سامنے دیکھا تو سکینہ(ملازمہ) کھڑی تھی۔
والیکم السلام ۔ ۔ ۔
سب لوگ کہاں ھیں۔
مومنہ نے پوچھا۔
بی بی جی سب لوگ تو ابھی سورھے ھیں۔وہ جی کل سب بھت تھک گئے تھے نااسی وجہ سے اگر آپ کھتی ھیں تو میں ابھی سب کواٹھا کر آجاتی ھوں ۔
سکینہ نے کھا۔
نھیں رھنے دو۔ھم یہی بیٹھ کر انتظار کر لیتے ھیں سب کے اٹھنے کا۔
مومنہ نے سب کے آرام کے خیال سے کھا۔
جی ٹھیک ھے آپ لوگ بیٹھیں جب تک میں آپ لوگوں کے لیئے کچھ لے کر آتی ھوں۔
سکینہ کھ کر کچن کی طرف چلی گئ۔
دیکھا آپی فضول میں آپ نے جلدی جلدی کاشور مچایا ھوا تھا یہاں توسب ابھی تک سورھے ھیں۔
میرب نے صوفے پر بیٹھ کر منہ بناتے ہوئے کھا ۔
کوئ بات نھیں اگر سے دیر سے آتے تو برالگتا۔
مومنہ نے اسے سمجھانا چاہا۔
میرب نے منہ بسور کر اپنا موبائل نکال لیا۔
مومنہ کو بوریت ھو رھی تھی۔
اچھا میرب تم بیٹھو میں تھوڑی دیر میں آتی ھوں۔
مومنہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کھا۔
جی مجھے پتا ھے آپ کہاں جا رھی ھیں۔
میرب نے موبائل دیکھتے ھوئے مصروف سے انداز میں کھا۔
میرب کی بات سن کر ایک خوبصورت سی مسکان نے مومنہ کے لبوں کو چھوا۔
کسی نے اس منظر کو بہت دلچپسی سے دیکھا۔
مومنہ جب بھی اپنی پھپو کے گھر آتی تھی تو لازمی گھر کے پیچھے بنے باغ میں جاتی۔اسکو یہ باغ بھت پسند تھا ابھی بھی اسکا رخ اسی طرف تھا۔
مومنہ ابھی وھاں جا ھی رھی تھی جب کسی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے دیوار سے لگا دیا۔
اسے پہلے مومنہ چیخ مارتی کسی کے بھاری ھاتھ نے اسکی چیخ کا گلا دبا دیا۔
ڈر کے مارے مومنہ نے اپنی آنکھیں بند کر دیں۔جب اسے اپنے چھرے پر ھاتھ کی گرفت ہلکی محسوس ہوئی تو آھستہ آھستہ اسنے اپنی آنکھیں کھولیں۔
اور اپنے سامنے کو کھڑے شخص کو دیکھ کر اسے پہلے تو حیرت ھوئ پھر اس حیرت کی جگہ غصے نے لے لی۔
مومنہ نے غصے میں ایک زور کا مکہ ارمان کے کندھے پر مارا۔
اف ظالم لڑکی۔۔ ۔ ۔
ارمان نے اپنا کندھا سھلاتے ھوئے کھا۔
ارمان بھائی یہ کوئ طریقہ ھے کسی کو ڈرانے کا۔
مومنہ کا غصہ کم نھیں ھوا تھا۔
یار میں نے تو صرف مذاق کیا تھا۔
ارمان نے معصومیت سے کھا۔
اور آپ کے اس مذاق کے چکر میں اگر میری جان نکل جاتی تو۔
مومنہ نے دونوں ھاتھ کمر پر رکھ کر لڑاکا عورتوں کی طرح کھا۔
خدا کا خوف کرو لڑکی کیوں فضول بول رھی ھو۔
اچھا ویسے اتنی صبح صبح کیوں ٹپک پڑی ھمارے گھر پر۔
ارمان نے مذاق میں پوچھا ۔
آپ کے علم میں اضافہ کروں تو ھم زویا آپی کا ناشتہ لے کر آئے تھے۔
مومنہ نے کھا۔
تو تمھیں کیا لگا تھا کے ھم بھابھی کوناشتہ نھیں دیں گے۔
ارمان نے حیرانی سے پوچھا۔
ارمان کی بات سن کر مومنہ کا دل کیا کے اسکا سر پھاڑ دے۔
یہ ایک رسم ھوتی ھے۔
مومنہ نے بھت تہمل سے کھا۔
وہ جی سب لوگ جاگ گئے ھیں آپ لوگ بھی آجائیں۔
اس سے پھلے ارمان کچھ کھتا سکینہ نے آکر انھیں اطلاع دی۔
وہ دونوں بھی اندر کی طرف چل پڑے۔
خوشگوار ماحول میں سب نے ناشتہ کیا۔
پھر وہ دونوں اجازت لے کر آ گئ۔
***********************
وقت کا کام ھے گزرنا اور وہ گزر ھی رھا تھا۔
حمزہ وہاں دن رات ایک کر کے محنت کر رھا تھا اور بے شک انسان کو اسکی محنت کا صلہ ملتا ھے۔
آج حمزہ نے اپنے بزنس کی بنیاد رکھی تھی۔
وہ صرف محنت سے ھی نھیں بلکہ اپنی دوعاؤں میں بھی اسنے اپنے رب سے مومنہ کو مانگا تھا۔
اور اسے یقین تھا کے اسکی دعا ضرور قبول ھو گی۔
***********************
اب تو کسی کو یاد بھی نھیں تھا کے کوئ حمزہ نام کا شخص بھی تھا۔
کیونکہ انسان کو وھی چیز یاد رہتی ھے جسے وہ یاد رکھنا چاہتا ھے۔
ارمان کے گھر والے ارمان کے کھنے پر مومنہ کا رشتہ لینے آئے تھے۔
مومنہ نے اپنے سارے فیصلے اپنے ماں باپ کے حوالے کر دیئے تھے لیکن ابھی وہ پڑھنا چاھتی تھی اسی لیئے ابھی صرف منگنی کرنے کا فیصلہ ھوا تھا باقی نکاح مومنہ کے پیپرز کے بعد طے ھوا تھا۔
اس مہینے کے آخر میں مومنہ کی منگنی منعقد ھوئ تھی۔
****************************
آج مومنہ کی منگنی تهی اور پورے گهر میں افراتفری مچی ہوئی تھی.
جلدی کرو لڑکیوں.
آرزو بیگم نے تینوں کو ڈانٹے هوئے کہا.
امی آپ اتنی پریشان کیوں هو رہی هیں.شام کا فنکشن ہے.ابهی تو کافی ٹائم ہے.
میرب نے مزے سے کہا.
ابهی جو تم اتنے مزے سے کهہ رهی ہو نا کے کافی ٹائم ہے بعد میں سب سے ذیادہ تم نے ہی شور ڈالنا ہے کہ میں ابھی تیار نھیں ھوئ ھوں
آرزو بیگم نے میرب سے کها.
اچها مومنہ تم نے ساری چیزیں رکهہ لی ہیں نہ پالر لے جانے کے لیئے.
زویا نے پوچها.
جی آپی.
پالر جانے کے لیئے تم لوگوں کے ابو ٹیکسی لینے کے لیئے گئے هیں .
آرزو بیگم کی بات سن کر تینوں جلدی سے سامان دیکھنا شروع هوگئ کے کهی کچهہ رہ تو نهیں گیا.
****************************
وه کلینڈر کے سامنے کھڑا آج کی تاریخ پر کراس کا نشان لگا رها تھا.
حمزه جب سے یھاں آیا تھا پھلے دن سے لے کر آج تک وه ھر دن گن کر گزار رھا تھا.
وه ابھی بھی مومنه کے خیالوں میں گم تھا جب طارق (حمزه کا دوست)نے پیچھے سے اسے پکاره.
کیا ھوا.
حمزه نے چونک کر پوچھا.
مجھے تو کچھ نھیں ھوا لیکن تمھیں یقینن کچھ ھوگیا ھے.جب سے کلینڈر کے آگے کھڑے کھاں گم ھو.
طارق نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا.
حمزه اسکے اس انداز پر مسکرا دیا.
اور چلتا ھوا اسکے سامنے آکر بیٹھ گیا.
اب جلدی سے بتاؤ کس کے خیالوں میں کھوۓ ھوۓ تھے.
طارق نے پوچھا.
ھے کوئ جو یھاں رھتی ھے.
حمزه نے اپنے دل پر ھاتھ رکھ کر کھا.
ذرا ھمیں بھی تو پتا چلے کے وه خوش نصیب کون ھے.
حمزه نے اسے ساری بات بتا دی جسے سن کر طارق کا منه کھل گیا.
منه تو ایسے کھولا ھے جیسے میں تجھے اپنی شادی کا لڈو کھلانے لگا ھوں.
حمزه نے اس کے کھلے منه پر چوٹ کی.
حمزه کی بات سن کر اس نے پهلی فرصت میں اپنا منه بند کیا.
ویسے مجھے یقین نھیں آرھا کے تم ایک لڑکی کے خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر یھاں آۓ ھو.
ویسے یار وه لڑکی سچ میں بھت خوشنصیب ھے جسے تم جیسا محبت کرنے والا ملا ھے.
طارق نے اسکی محبت پر داد دی.
مجھے لگتا ھے میں ذیاده خوشنصیب ھو جو مجھے وه مل گئ ھے.
حمزه نے مومنه کو سوچتے ھوۓ کھا.
هاۓ کاش میں اس لڑکی کی جگه ھوتا.مجھے بھی کوئ اتنی محبت کرتا.
طارق نے ٹھنڈی آه بھرتے ھوۓ کھا جب کے شرارت اسکی آنکھوں میں صاف موجود تھی.
استغفرالله…
حمزه نے اسے ڈاڑھی والے چھرے کو دیکھتے ھوۓ کھا.
پھر وه دونوں زور سے ھسنے لگے.
اگر حمزه کو اس بارے میں زرا سا بھی علم ھوتا کے اس کی زندگی وھاں کسی اور کے نام کی انگھوٹی پهننے جا رھی ھے تو یقینن وه ابھی ھنس نھی رھا ھوتا.
بھت مدت تک پکاره ھے تجھے
اپنے رب سے دعاؤ میں مانگا ھے تجھے….
***********************
مومنه نے جب حال میں قدم رکھا تو ارمان کی نظریں پلٹنے سے انکاری ھو گئ تھیں.
اسکن کلر کی میکسی جس پر مھرون کام تھا.پالر کے میک اپ نے اسکے حسن کو مذید نکھار دیا تھا.
وه آسمان سے اتیری کوئ حور لگ رھی تھی.
آھسته آھسته قدم اٹھاتی وه اسٹیج کی جانب بڑھ رھی تھی.
جب وه اسٹیج تک پهنچی تو ارمان نے اپنا ھاتھ آگے کیا جسے مومنه نے تھوڑا جھجکتے ھوۓ تھام لیا.
لوگوں کی تالیوں کی گونج میں دونوں نے ایک دوسرے کو انگھوٹی پھنائ.
***********************
مومنههه……
حمزه کی جب آنکھ کھلی تو اسکا پورا وجود پسینے میں تر تھا.
لگتا ھے کوئ برا خواب تھا .
حمزه نے چھرے سے پسینا صاف کرتے ھوۓ کھا.
مجھے ایسا کیو لگ رھا ھے جیسے کچھ برا ھو گیا ھے.
نھیں یه میرا صرف وھم ھوگا.
وه اپنی سوچوں میں گم تھا جب فجر کی آزان شروع ھو گئ.
اپنی سوچوں کو جھٹک کر وه نماز ادا کرنے کے لیۓ اٹھ گیا.
اسکی دعاؤ میں صرف اور صرف ایک ھی نام شامل تھا.
***********************
وه نیند میں تھی جب اسکا موبائل بجنے لگ گیا.
مندی مندی آنکھیں کھول کر اسنے موبائل دیکھا جھاں ارمان کا نام چمک رھا تھا.
میرب کے نیند کے خیال سے وه موبائل لے کے ٹیرس پر آگئ.
ھیلو.
.نیند میں ڈوبی آواز میں کھا.
واه بھئ یھاں ھماری نیندیں اڑی وی ھیں اور وھاں محترمه خواب خرگوش کے مزے لوٹ رھی ھیں.
ارمان نے شوخی سے کھا.
آپ کو کوئ کام تھا.
مومنه نے سنجیدگی سے پوچھا.
مومنه مجھے ایسا کیوں لگ رھا ھے کے تم اس شادی سے خوش نھیں ھو.
ارمان کی آواز میں بھی سنجیدگی تھی.
ایسی تو کوئ بات نھیں ھے .آپ کو کیوں ایسا لگا.
مومنه کو ارمان کے سوال سے حیرانی ھوئ.
نھیں وه بس ایسے ھی .ابھی بھی میں نے فون کیا تو تمھاری آواز میں مجھے کوئ خوشی محسوس نھیں ھوئ.مومنه کیا تم مجھ سے محبت نھیں کرتی ھو.
ارمان نے پوچھا.
ارمان میں محبت شادی کے بعد کرنے پر یقین رکھتی ھو.شادی سے پھلے کی محبت ,محبت نھیں بلکه بیوقوفی ھوتی ھے.ارمان آپ کے رشته کے لیۓ میرے والدین راضی تھے اسی لیۓ میں بھی راضی ھوں. کیوں کے میں نے اپنی زندگی کے سارے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ماں باپ کو دے دیا ھے.
اور جھاں تک بات ھے فون پر بات کی تو میں آپ کو بتانا چاھوں گی کے مجھے شادی سے پهلے فون پر بات کرنا بالکل پسند نھیں ھے .کیونکه آپ ابھی تک میرے لیۓ نا محرم ھیں. باتیں کرنے کے لیۓ تو ساری عمر پڑی ھے تو کیوں ھم شادی سے پھلے بات کرکے اپنے آپ کو گناه گار کریں.
سوری اگر آپ کو میری کوئ بات بری لگی تو.
لیکن یهی حقیقت ھے.
ھیلو..
مومنه کو جب ارمان کی جانب سے کوئ جواب نھیں ملا تو اسنے کھا.
تھوڑی دیر بعد مومنه کو ارمان کی آواز آئ.
تمھیں پتا ھے مومنه آج مجھے اپنی پسند پر فخر محسوس ھو رھا ھے.میں بھت خوشنصیب ھو جو مجھے تم جیسی ھم سفر ملنے جا رھی ھے.
اپنا خیال رکھنا.خدا حافظ.
ارمان کی آواز میں اطمینان تھا .
خدا حافظ .
ارمان کا جواب سن کر مومنه کو بھی اطمینان محسوس ھوا.
***********************
جاری ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *