Ehd E Mohabbat by Neha Malik

حمزہ نے اس لڑکے کا هاتهہ بری طرح موڑ دیا جس نے مومنہ کا هاتهہ پکڑنے کی غلطی کی تهی.
وہ لڑکا درد سے بلبلا کر پیچهے هٹا.
دوسرے لڑکے نے جیب سے چاقو نکالا اور حمزہ کی طرف حملہ کرنے کے لیئے بڑها.
حمزہ نے ایک مکہ اسکے پیٹ میں مارا اس لڑکے نے چاقو حمزہ کے بازو میں گهونپ دیا.
یہ دیکهہ کر مومنہ کے منہ سے چیخ نکلی.
وہ ڈر کر تهوڑا دور کهڑی یہ سارا منظر دیکهہ رهی تهی.
خون بهت تیزی سے حمزہ کے بازو سے بہ رها تها لیکن وہ اس کی پرواہ کیئے بغیر اس لڑکے کو مار رها تها.
جب وہ لڑکے دڑ کر بهاگ گئے تو حمزہ مومنہ کی طرف آیا جو بهت خوفزدہ لگ رهی تهی.
تم ٹهیک تو هو.
حمزہ نے فکر مندی سے پوچها.
آپ کے بازو سے خون نکل رها هے.
مومنہ نے اس کی بات کا جواب دیئے بغیر کہا.
مومنہ کی بات سن کر مسکان نے حمزہ کے لبوں کو چهوا.
اس کو اچها لگا تها مومنہ کی فکر کرنا.
تم کها جا رهی تهی اس وقت.
حمزہ کے چہرے پر سنجیدگی تهی.
وہ میں کالج جا رهی تهی.
مومنہ نے جواب دیا.
چلو میں تمهیں کالج چهوڑ دو.
حمزہ نے بائیک پر بیٹهتے هوئے کہا.
میں کیو جائوں گی آپ کے ساتهہ کالج.بهت شکریہ آپ کا مجهے ان لوگوں سے بچانے کے لیئے اب ذیاده فری هونے کی ضرورت نہیں هے.
حمزہ کی بات سن کر مومنہ نے غصے سے کہا.
حمزہ کو مومنہ کے اس انداز پر هنسی آ گئ جسے وہ بر وقت چهپا گیا.
چلو ٹهیک هے تم اکیلے چلی جائو لیکن دیهان سے جانا آخر تم میری امنت هو.
حمزہ کی بات پر مومنہ نے اسے ایسے دیکها جیسے اسے اسکی زهنی حالت پر شبہ هو.
حمزہ مومنہ کی نظروں کا مفہوم سمجه گیا تها.
تمهاری امی نے یقینن تمهیں میرے بارے میں بتا دیا هو گا. میں وهی هو جس سے ایک سال بعد تمهاری شادی هے.
یہ سن کر مومنہ کو حیرت کا شدید جهٹکا لگا.
مجهے پتا هے تمهیں بهت حیرت هو رهی هو گی لیکن میرا یقین کرو میں تمهیں بهت خوش رکهوں گا.آج میں یهاں سے جا رها هو مومنہ وہ بهی صرف تمهارے لیئے تاکہ میں تمهیں عزت سے رخصت کرکے لے جا سکو. میرے آنے تک تم میرا انتظار کرو گی نا مومنہ.
مومنہ چپ رهی .اسے سمجهہ نهیں آرها تها کے وہ کیا کهے.
مجهے پتا هے کے تم میرا انتظار کرو گی ورنہ پهر یاد رکهنا جو میں کرو گا اسکی زمہدار تم خود هو گی. حمزہ کی آنکهوں میں تنبیہ تهی.
اپنا خیال رکهنا .میں واپس آئو گا صرف تمهارے لیئے.
حمزه بائیک پر بیٹھ کر وھاں چلا گیا .
مومنه سست قدوموں سے چلنے لگی.
پورے راستے وه حمزه کے بارے میں سوچ رھی تھی لیکن وه اس بات سے بے خبر ھر گز نھیں تھی کے کالج کے دروازے پر پھنچنے تک وه اس کے پیچھے ھی تھا.

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *