Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode07

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode07

ایک سال بعد…
وه اپنے ھاتھوں میں تصویر پکڑے سوچوں میں گم تھا.
جب اسکے سکیٹری نے آکر اسے مخاطب کیا.
Sir your meeting will be held after 30 minutes…..
رضوان (سکیٹری) کی آواز پر اس نے چونک کر اسے دیکھا.
اوکے….
رضوان کو مختصر جواب دے کر اسنے دوباره نظریں تصویر کی جانب کر لی تھیں.
مجھے اب صرف کل کا انتظار ھے.
یه کھ کر اسنے تصویر اپنے سینے سے لگا لی تھی.
******************************
اپنے آفس سے نکل کر وه میٹنگ روم کی طرف جا رھا تھا.
خوبصورت تو وه پھلے سے ھی تھا لیکن یهاں کی آب و ھوا نے اسے مذید سنوار دیا تھا.
برینڈڈ سوٹ ,مھنگی واچ,بالوں کو جیل سے سیٹ کیۓ وه کسی ریاست کا شھزاده ھی لگ رھا تھا.
جس جس کی نظریں اسکی جانب اٹھ رھی تھیں ان سب کی نظروں میں رشک تھا.
وه سحر انگیز کرنے والی پرسنیلیٹی رکھتا تھا.
میٹنگ روم کا دروازه کھول کر جب وه اندر آیا سب کھڑے ھو گۓ جب اسنے اشارے سے سب کو بیٹھنے کا کھا.
ھمیں بھت خوشی ھے اتنے بڑے بزنس ٹائیکون کے ساتھ ڈیل فائنل کرکے.
علی انڈسٹریز کے مالک نے مصافحه کے لیۓ ھاتھ بڑھاتے ھوۓ کھا.
مجھے بھی……
ایک دلکش مسکراھٹ نے حمزه کے ھونٹوں کو چھوا.
****************************
کیا ھوا.اتنی اداس کیوں بیٹھی ھو.
مومنه نے میرب کے پاس بیٹھتے ھوۓ.
ارے کیا ھوا…
میرب جب فورا مومنه کے گلے لگ گئ تو مومنه نے حیرانی سے کھا..
آپی زویا آپی کی شادی ھو گئ وه چلی گئ.کل آپکی مھندی ھے اب آپ بھی چلی جائیں گی. میں تو بالکل اکیلی ھو جاؤ گی.
میرب کی بات سن کر مومنه نے ھلکی سی چپت میرب کے سر پر ماری.
ھھم یه تو ھے.میں ابھی امی سے کھتی ھوں کے میرے ساتھ میرب کی بھی شادی کر دیں تاکے وه اکیلی نا ھو جاۓ.
مومنه نے سنجیدگی سے کھا جب کے اسکی آنکھوں میں شرارت واضح تھی.
آپییی……
میرب نے خفگی سے کھا.
اچھا بھئ میں مزاق کر رھی تھی اور تم اکیلی کیوں ھو گی میں اور زویا آپی ملنے آتے رھینگے.
ھممم.
اچھا آپی آپ کو وه یاد ھے.
میرب نے کچھ سوچتے ھوۓ کھا.
کون…
مومنه نے پوچھا.
ارے آپی وھی چور جو آپ سے شادی کرنا چاھتا تھا اور ایک سال بعد آنے کا کھا تھا اسنے.
میرب نے مومنه کو یاد دلاتے ھوۓ کھا.
میرب کی بات سن کر مومنه کے چھرے پر سایه لھرایا.
لیکن پهر سنبھل کر بولی.
نھیں.مجھے نھیں یاد.
حیرت ھے ویسے.
میرب نے کھا.
وه امی مجھے بلا رھی تھیں .
مومنه بھانا بنا کر وھاں سے چلی گئ.
***********************
سر آپنے بلایا.
ھاں.رضوان میری فلائٹ کی ٹکٹ بک کردی?
جی سر میں نے سارا انتظام کر دیا ھے.
ٹھیک ھے تم جاؤ.
کل تم میرے پاس ھو گی مومنه.
حمزه نے کھا.
***********************
ماشاءالله میری بچی کو کسی کی نظر نا لگے.
آرزو بیگم نے مومنه کو دیکھتے ھوۓ کھا جو مایوں کے جوڑے میں بھت حسین لگ رھی تھی.
چلو دونوں مومنه کو لے کر باھر آجاؤ .سب مھمان آگۓ ھیں.
آرزو بیگم نے میرب اور زویا کو مخاطب کرتے ھوۓ کھا.
جی امی .
دونوں مومنه کو لیۓ باھر کی جانب بڑھنے لگیں.
***********************
جلدی چلاؤ…
حمزه نے ڈرائیور سے کھا جو پهلے ھی تیز رفتار سے گاڑی چلا رھا تھا.
ج ججی سر…
ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار بڑھاتے ھوۓ کھا.
حمزه کا بس نھیں چل رھا تھا کے وه اڑھ کر مومنه کے پاس پهنچ جاۓ.
صرف پانچ منٹ بعد تم میرے روبرو ھو گی جان حمزه.
حمزه نے گھڑی میں وقت دیکھتے ھوۓ کھا.
***********************
سر ھم پھنچ گۓ ھیں.
ڈرائیور نے گاڑی مومنه کے گھر کے باھر روکتے ھوۓ کھا.
مومنه کو گھر کو روشنی میں نھایاں ھوا دیکھ کر پهلے تو حمزه چونکا لیکن اپنے خیالات کو جھٹک کر اندر کی جانب بڑھ گیا.
جس لڑکی کی نگاه اس کی جانب اٹھتی تو پلٹنے سے انکاری ھو جاتی.
لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکوں تک کی نظروں میں اس کے لیۓ ستائش تھی.
حمزه جب اندر پھنچا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا.
****************************
مومنه…..
اسکی گرج دار آواز پر سب اپنی جگه ساکت ھو گۓ تھے.
وه اپنی حد سے ذیاده سرخ آنکھیں سامنے موجود وجود پر گاڑیں کھڑا تھا جو اسے دیکھ کر منجمد ھو گیا تھا.
سب حیران و پرییشان کھڑے اسے دیکھ رھے تھے جو اپنے حواسوں میں نھیں لگ رھا تھا..
اسکا کا بس نھیں چل رھا تھا کے سب کچھ تھس نھس کردے.آخر کیسے وه لوگ اسے اتنا بڑا دھوکا دے سکتے تھے.
کیسے اسے کسی اور کے نام کر سکتے ھیں جو صرف اسکی تھی ….جسے اسنے رو رو کر اپنی دعاؤں میں مانگا تھا.
وه لمبے لمبے دگ بھرتا اس تک پھنچا اور ایک جھٹکے سے بازو سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا.
گرفت اتنی سخت تھی کے مومنه کو اپنا بازو ٹوٹتا ھوا محسوس ھوا.
کسی کو امید نھیں تھی کے وه واپس آۓ گا …..لیکن وه آگیا تھا اور یهی حقیقت تھی.
چھوڑو میری بیٹی کا ھاتھ ت……
آرزو بیگم کے باقی کے الفاظ حمزه کے غصے سے بھرے چھرے کو دیکھ کر منه میں ھی ره گۓ تھے.
کیا ھو رھا ھے یه سب…..
حماد صاحب آواز سن کر سب انکی طرف متوجه ھو گۓ تھے.
مومنه مسلسل اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کر رھی تھی جو ابھی بھی حمزه کی گرفت میں تھا.
کیسے ھیں سسر صاحب…
حمزه نے تنزیه مسکراھٹ سے کھا.
کیا بکواس کر رھے ھو لڑکے….حوش میں تو ھو تم.
حماد صاحب نے غصے سے کھا.
ارے سسر صاحب اس عمر میں اتنا غصه ٹھیک نھیں ھے.
ھارٹ اٹیک کا خطره ھوتا ھے.
دیکھو لڑکے آج میری بیٹی کی مایو ھے اور میں نھیں چاھتا کے یھاں کوئ بدمزگی ھو جاۓ اسی لیۓ چلے جاؤ یھاں سے.
حماد صاحب نے ضبط سے کھا.
سسر جی جانے کے لیۓ تھوڑی آیا ھو میں یھاں اور اپنی امانت لے کر ھی جاؤ گا میں.
حمزه نے اطمینان سے کھا.
کس امانت کی بات کر رھے ھو تم.
ساسو ماں آپنے سسر جی کو بتایا نھیں کے میں کس امانت کی بات کر رھا ھوں.
حمزه نے آرزو بیگم کی طرف متوجه ھو کر کھا.
سیدھی سیدھی بات کرو کس امانت کی بات کر رھے ھو تم.
حماد صاحب نے کھا.
آپکی بیٹی…..امانت رکھوا کر گیا تھا میں آپکی بیگم کے پاس لیکن افسوس انھوں نے امانت میں خیانت کردی.
حمزه نے نفی میں گردن ھلائ.
لیکن آج میں کسی پر اعتبار نھیں کرو گا …..اپنی امانت کو لے کر جاؤ گا.
حمزه یه کھ کر مومنه کی طرف بڑھا.
اسکی آنکھیں خوف سے لرز رھی تھیں.حمزه کو قریب آتا دیکھ وه پیچھے ھوئ لیکن اسکی کلائ اسکی گرفت میں آگئ تھی.
سب خاموش تماشائ کا کردار نبھا رھے تھے.آخر کون کسی کے مسئلے میں پڑتا ھے.
آرزو بیگم,حماد صاحب حمزه کی جانب بڑھے لیکن اسکے اگلے اقدام ان کے قدم وھی رک گۓ.
مومنه نے حیرت سے اپنی سر پر رکھی پسٹل کو دیکھا .
خوف کے مارے اسکا پورا وجود لرز رھا تھا.
تمھیں خدا کا واسطه چھوڑ دو میری بیٹی کو.
آرزو بیگم نے اپنے ھاتھ جوڑتے ھوۓ کھا.
حماد صاحب اپنے دل میں اٹھتے درد کو دباتے ھوۓ حمزه کی جانب بڑھے.
رک جاۓ سسر جی ورنه انجام کے ذمه دار آپ ھو گے.
حمزه نے مومنه کے سر پر پسٹل سے ذور دیتے ھوۓ کھا.
حمزه نے مومنه کو تقریبا گھسیٹتے ھوۓ آگے کی طرف قدم بڑھاۓ.
رک جاؤ لڑکے.
حماد صاحب حمزه کے سامنے کھڑے ھو گۓ.
سسر جی لگتا ھے کے آپ کو اپنی بیٹی کی جان پیاری نھیں ھے جبھی ایسا کھ رھے ھیں.
یه کھتے ھوۓ حمزه نے ایک فائر ھوا میں کیا.
سب لوگ ڈر کر پیچھے ھو گۓ.
بے بسی ھی بے بسی تھی.
حماد صاحب کو سمجھ نھیں آرھا تھا کےوه کریں ایک طرف جان سے پیاری بیٹی کی زندگی کا سوال تھا اور دوسری طرف عزت .
بیٹی کی زندگی کی خاطر وه سامنے سے ھٹ گۓ.
مسکراھٹ نے حمزه کے لبوں کو چھوا.
چھوڑو مجھے….
مومنه مسلسل اپنا آپ چھڑوا رھی تھی.
اور وه بے حس بنا اسے گھسیٹتے ھوۓ دروازے کی طرف بڑھ رھا تھا.
آرزو بیگم , زویا,میرب سب رو رھی تھیں لیکن مومنه کی زندگی کی خاطر خاموش کھڑی تھیں.
ایک آنسو حماد صاحب کی آنکھ سے نکلا اور اگلے ھی پل وه دل پر ھاتھ رکھ کر زمیں پر گر گۓ.
ابوووو…..
زویا اور میرب کی آواز پر مومنه نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور حماد صاحب کی حالے دیکھ کر اسے حمزه سے شدید نفرت محسوس ھوئ.
***********************
جاری ھے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *