Ehd E Mohabbat by Neha Malik NovelR50735 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode04
Rate this Novel
Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode01 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode02 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode03 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode04 (Watching)Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode05 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode06 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode07 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode08 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode09 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode10 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode11 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode12 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Last Episode
Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode04
Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode04
دروازے پر ھونے والی دستک پر آرزو بیگم نے دروازه کھولا.
اپنے سامنے موجود دو خوبرو نوجوانوں کو دیکھ کر انھیں حیرت ھوئ کیونکه ان میں سے ایک تو وھی تھا جو پچھلے ایک ھفتے سے ان کے گھر کے باھر بیٹھا ھوا تھا.
جی آپ کون????.
آرزو بیگم نے استفار کیا.
ھمیں آپ سے بھت ضروری کام تھا .مھربانی فرما کر آپ ھماری بات سن لیں.
عادل نے نھایت ادب سے آرزو بیگم سے کھا.
کیا بات ھے.
آرزو بیگم نے پوچھا.
آنٹی ساری باتیں دروازے پر تو ھو نھیں سکتی.اگر آپ کو برا نھی لگے تو ھم اندر چل کر بات کریں.
عادل نے کھا.
اچھا آ جاؤ اندر.
آزرو بیگم نے تھوڑا جھجھگتے ھوۓ راسته دیا.
****************************
وه لوگ اس وقت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ھوۓ تھے.
حمزه آگے کا سوچ کر بھت پریشان تھا لیکن اپنے آپ کو نارمل ظاھر کر رھا تھا.
جی بولیں کیا کام تھا.
آرزو بیگم نے انکے سامنے بیٹھتے ھوۓ پوچھا.
آنٹی یه میرا دوست ھے حمزه.یه بھت اچھا لڑکا ھے.دراصل بات یه ھے کے اس کو آپکی بیٹی کیا نام ھے اسکا ھاں مومنه وه اسکو بھت پسند آگئ ھے اور یه اس سے شادی کرنا چاھتا ھے.
عادل نے جلدی جلدی بات ختم کی.
عادل کی بات سن کر آرزو بیگم کو اسکی زھنی حالت پر شبه ھوا.
بیٹا آپ کا دماغ تو ٹھیک ھے.ایسے کوئ کسی کا رشته لینے آتا ھے.نا ھم آپ لوگوں کو جانتے ھیں نا آپ کے والدین آۓ ھیں نا ھمیں یه پتا ھے کے یه کیا کرتا ھے اور ھم آپ کو اپنی بیٹی کا رشته دے دیں گے یه کیسے سوچ لیا آپ لوگوں نے.
آرزو بیگم نے غصے سے کھا.
آنٹی جب رشته جڑے گا تو آپ جان ھیں جائیں گی اور اگر ھمارے والدین حیات ھوتے تو وه یقینن یھاں موجود ھوتے اور جھاں تک اس کے کام کی بات ھے تو یه……
ھم چور ھیں.
عادل جو کام کے بارے میں جھوٹ بتانے لگا تھا حمزه نے اسکی بات بیچ میں ھی کاٹ کر سچ بتا دیا.
حمزه کی بات پر عادل کا دل کیا کے اپنا سر پیٹ لے.
آرزو بیگم جو غصے میں کچھ کھنے ھی لگی تھیں حمزه کی بات سن وه چپ ھو گئ.
ان کو اس بات کا اندازه تھا کے ایسے لوگ کتنے خطرناک ھوتے ھیں اور غصے میں انکی کھی گئ کوئ بھی بات انکو مشکل میں ڈال سکتی تھی.
دیکھو بیٹا تم خود سوچو میں کیسے اپنی بیٹی کی شادی ایک چور سے کر سکتی ھوں.
آرزو بیگم نے تحمل سے کھا.
آنٹی آپ جو کھیں گی میں وه کرو گا.پلیز یه میری آپ سے التجا ھے.
آرزو بیگم کی بات سن کر حمزه نے فورا کھا.
آرزو بیگم کو سمجھ نھیں آرھا تھا کے وه کیسے ان لوگوں کو منه کریں.انھیں یه ڈر لگ رھا تھا کے کھیں انکا انکار کرنا ان کے گھر کو مصیبت میں نا ڈال دے کیونکه انھیں ان لوگوں پر بالکل بھروسه نھی تھا.
پهر کیا سوچا آپ نے.
آرزو بیگم ابھی سوچ ھی رھی تھیں کے عادل نے انھیں مخاطب کیا.
حماد صاحب بھی گۓ ھوۓ تھے اور انھیں سمجھ نھیں آرھا تھا کے وه کیسے ان لوگوں سے جان چھڑوائیں.پھر کچھ سوچ کر انھوں نے کھا.
دیکھو بیٹا یه بات تو تم بھی مانتے ھو گے کے کوئ بھی والدین اپنی بیٹی کی شادی ایک چور سے نھیں کروائیں گے لیکن پهر بھی میں تمھیں ایک سال تک کا وقت دیتی ھوں.اس ایک سال میں تم کچھ بن کر دکھاؤ.حق حلال کی کمائ سے اتنا کچھ کر لو کے میری بیٹی کو عزت سے رخصت کروا کے لے جا سکو.
آرزو بیگم کو جان چھڑوانے کے لیۓ یھی بھانه سمجھ آیا.
جی ٹھیک ھے.مجھے آپکا فیصله منظور ھے اور میرا یقین کیجیۓ گا پورے ایک سال بعد آج کے ھی دن میں آپ کے گھر آکر عزت سے آپکی بیٹی کو رخصت کروا کر لے جاؤ گا.
حمزه نے پر امید لھجے میں کھا.
لیکن بیٹا تمھیں مجھ سے ایک وعده کرنا ھوگا.
آرزو بیگم نے کچھ سوچتے ھوۓ کھا.
جی بولیں…
تم ایک سال تک ھمارے گھر کے آگے سے بھی نھی گزرو گے.
ٹھیک ھے آنٹی میں آپکی بات مانتا ھوں لیکن آپ یه بھی یاد رکھیۓ گا کے میجھے وعده خلاف لوگ بالکل نھیں پسند ھیں.
حمزه کی آنکھوں میں وارنگ تھی.
آنٹی اب ھم چلتے ھیں اب پورے ایک سال بعد آج کے دن ھی میں واپس آؤ گا اور یاد رکھیۓ گا اب مومنه میری امانت ھے اور مجھے امانت میں خیانت بالکل نھی پسند.
حمزه نے جاتے ھوۓ کھا.
ان کے جاتے ھی آرزو بیگم سر تھام کر بیٹھ گئ
***********************
تمھارا دماغ تو ٹھیک ھے کیا ضرورت تھی انھیں یه بتانے کی کے ھم چوری کرتے ھیں.
فلیٹ میں آتے ھی عادل غصے سے بولا.
میں اس رشتے کی شروعات جھوٹ سے نھیں کرنا چاھتا تھا
حمزه نے کھا.
تمھیں پتا ھے میں آج بھت خوش ھوں تم اس کا اندازه نھی لگا سکتے ھو .اب تم دیکھنا میں اس ایک سال میں اتنی محنت کرو گاکے وه مومنه کا رشته خوشی خوشی مجھے دے دیں گے.
حمزه کی خوشی کا کوئ ٹھکانا نھی تھا.
عادل نے دل ھی دل میں اسکی خوشی ھمیشه قائم رھنے کی دعا کی.
——————–——————–—-
لیکن آرزو تم کچھ اور کھ دیتی.ایسا نا ھو کے تمھارے کھے گۓ الفاظ آگے جا کر ھمیں کسی
مصیبت میں ڈال دیں. حماد صاحب کو سمجھ نھیں آ رھا تھا کے وه اب کیا کریں.
سب لوگ اس وقت لاؤنچ میں موجود تھے.
آرزو بیگم نے آج ھوا سارا واقعه حرف با حرف ان سب کو بتا دیا تھا.جسے سن کر فکر سب کے
چھروں پر واضح تھی. مجھے سمجھ نھیں آرھا تھا کے میں کیا کرو.آپ کو پتا تو ایسے لوگ کتنے خطرناک ھوتے ھیں اگر میرے انکار کو وه لوگ انا کا مسله بنا کر میری بچیوں کو کوئ نقصان پهنچا دیتے تو میں جیتے جی ھی مر جاتی اسی لیۓ میں نے یھی بھانا بنایا اور آپ خود سوچیں ایک سال کا عرصه بھت لمبا ھوتا ھے وه کب تک اسکا انتظار کرے گا.یه سب صرف وقتی لگاؤ ھے کچھ ھی عرصے میں وه سب بھول بھی جاۓ گا.
آرزو بیگم نے آرام سے کھا. چلو جو ھونا تھا وه ھو گیا.اب سب اس بات کو بھول جاؤ .آرزو کی بات صحیح ھے ایک سال کا وقت کافی ھوتا ھے .مجھے یقین ھے کے وه اب کبھی نھیں آۓ گا. حماد صاحب کھ کر چلے گۓ. باقی سب کو بھی تھوڑا حوصله ھوا. ****************************
ویسے کتنی حیرت کی بات ھے نا کے کسی چور کو مومنه آپی سے محبت ھوگئ.آپی آپ کو کیا لگتا ھے وه ایک سال بعد واپس آۓ گا کیا.
میرب نے پوچھا.
خدا نا کرے کے وه واپس آۓ.اور میرب تم ھر وقت فضول مت بولا کرو . زویا نے میرب کو ڈانٹے ھوۓ کھا.
وه تینوں اس وقت کمرے میں بیٹھی ھوئ تھیں.
مومنه پریشان سی نظر آرھی تھی.
آپی اگر وه واپس آ گیا تو کیا ھوگا.
مومنه اپنے دل میں مچلتے ھوۓ سوال کو زبان پر لائ.
مومنه ایسا کچھ بھی نھیں ھوگا.تم خود سوچو کوئ کیوں کسی کے لیۓ اتنا کرے گا.یه صرف اسکا وقتی لگاؤ ھے تھوڑے ٹائم بعد وه سب بھول بھی جاۓ گا.
زویا نے سمجھایا.
زویا کی بات سن کر مومنه تھوڑی پر سکون ھوئ.
اچھا یه سب چھوڑیں تین دن بعد زویا آپی کی مھندی ھے میں تو اتنی ایکسائٹڈ ھوں کے بتا نھیں سکتی.
میرب نے ماحول میں چھائ افسردگی کو ختم کرنے کے لیۓ کھا.
مومنه بھی اپنے زھن میں آئ سوچوں کو جھٹک کر مھندی کی پلینگ کرنے لگ گئ. ****************************
ارے تم کھاں جا رھے ھو اور یه پیکنگ کس لیۓ کر رھے ھو.
عادل جب کمرے میں آیا تو حمزه سوٹ کیس میں
اپنا سامان رکھ رھا تھا. میں یھاں سے جا رھا ھوں تاکے کچھ بن کر واپس آ سکوں.
حمزه نے سنجیدگی سے جواب دیا.
لیکن حمزه تم یھاں ره کر بھی تو کچھ کر سکتے ھو.
عادل نے اسے سمجھانا چاھا.
عادل تمھیں یاد ھوگا کے آنٹی نے مجھ سے وعده لیا تھا کے میں اس ایک سال میں ان کے گھر کے سامنے سے بھی نھیں گزروں گا اور اگر میں یھاں رھا تو مجھے نھیں لگتا کے میں اپنے وعدے پر قائم ره پاؤ گا.اور میں اپنی زندگی کی شروعات نئ جگه سے کرنا چاھتا ھو اور تم دیکھنا اس ایک سال میں مومنه کے لیۓ اتنی محنت کرو گا اور اپنی حلال کی کمائ سے اس کے لیۓ بھت کچھ بناؤ گا کے اس کے گھر والے خوشی خوشی اسکا ھاتھ میرے ھاتھ میں دے دیں گے.
حمزه نے پر امید لھجے میں کھا.
ویسے مجھے مومنه کی قسمت پر رشک آتا ھے کے اسے اتنا چاھنے والا ملا ھے ورنه آج کے دور میں کون کسی کے لیۓ اتنا کرتا ھے. عادل نے سچے دل سے کھا.
ویسے حمزه تمھیں کیا لگتا ھے کے وه لوگ ایک سال تک اسے بٹھاۓ رکھیں گے.
جو سوال عادل کو کافی وقت سے تنگ کر رھا تھا آخر وه اسنے آج پوچھ ھی لیا.
عادل کی بات سن کر حمزه کی آنکھیں سرخ ھو گئ تھیں جسے عادل نے
باخوبی محسوس کیا. اگر انھوں نے مومنه کو مجھ سے جدا کرنے کی کوشش کی تو میں وه کرو گا جس کا انھوں نے تصور بھی نھیں کیا ھو گا.
حمزه نے تیش میں کھا. اب کی بار عادل خاموش ھی رھا *********************** اچھا امی میں جا رھی ھو اور جلدی آنے کی کوشش کرو گی.
مومنه نے چادر پهنتے ھوۓ کھا.
بیٹا ویسے کیا ضرورت ھے جانے کی بعد میں چلی جانا.
آرزو بیگم نے کھا .
امی آپ کو پتا ھے دو دن بعد زویا آپی کی مھندی ھے اور شادی وغیره کے چکرو میں کالج کھا جایا جاۓ گا اگر اسائمنٹ جمع کروانا ضروری نا ھوتا تو میں بالکل بھی نھیں جاتی.
مومنه نے بیگ پهنتے ھوۓ کھا.
اچھا چلو ٹھیک ھے دیھان سے جانا اور جلدی آنے کی کوشش کرنا.
آرزو بیگم نے پیار سے کھا. *********************** وه جلدی جلدی چل رھی تھی. اس وقت گلی بالکل سنسان پڑی تھی جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز آئ. مومنه کو کچھ عجیب سا محسوس ھوا اسی لیۓ اسنے اپنے قدموں کی رفتار بھی تیز کر دی اور اس کے پیچھے بھی قدموں کی رفتار تیز ھوگئ. اچانک اسکے سامنے دو لڑکے آ کر رکے وه لوگ دکھنے میں ھی بدمعاش لگ رھے تھے . مومنه نے ڈر کر دو قدم پیچھے کی جانب بڑھاۓ. ارے ڈر کیو رھی ھو جانم هم تمھیں کچھ بھی نھیں کھیں گے. ان میں سے ایک نے لوفرانه انداز میں کھا. مومنه فورا پیچھے کی طرف مڑی جب ان میں سے ایک نے ھاتھ بڑھا کر اسے روکنا چاھا. اس سے پھلے کے وه مومنه کا ھاتھ پکڑتا کسے نے اس لڑکے کا ھاتھ پکڑ کر بری طرح
موڑ دیا.
ایک درد ناک چیخ اسکے حلق سے نکلی.
*********************** جاری ھے
