Ehd E Mohabbat by Neha Malik NovelR50735 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode01
Rate this Novel
Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode01 (Watching)Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode02 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode03 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode04 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode05 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode06 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode07 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode08 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode09 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode10 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode11 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode12 Ehd E Mohabbat by Neha Malik Last Episode
Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode01
Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode01
ھر طرف خاموشی کا راج تھا.چار سو اندھیرا پھیلا ھوا تھا.چاند کی روشنی میں منظر تھوڑا بھت نظر آرھا تھا.
جھاں آدھے سے ذیاده شھر سو رھا تھا وھیں وه تینوں نفوس اپنے شکار کے آنے کا انتظار کر رھے تھے.
دن ان کے لیۓ رات کے برابر اور رات ان کے لیۓ دن کے برابر تھی.کیوں کے ان کا اصل کام ھی رات کو شروع ھوتا تھا.
وه تینوں نفوس جھاڑیوں کی آڑ میں چھپے اپنے شکار کے منتظر تھے.
اپنے شکار کو قریب آتا دیکھ ان تینوں کے وجود میں حرکت ھوئ.
******************************
میرب یار ایک گلاس پانی ھی پلادو.
وه ابھی ابھی کالج سے گھر آئ تھی.گرمی اور تھکن سے اسکی بری حالت تھی.
یه لیں آپی پانی کے بجاۓ جوس پیۓ اور مجھے دعائیں دیں.
میرب نے شرارت سے کھا.
میرب کی بات سن کر ایک نرم سی مسکراھٹ مومنه کے حسین سے چھرے پر بکھر گئ.
بلاشبه وه بھت حسین تھی لیکن سب سے ذیاده خوبصوت اسکی آنکھیں تھیں.بڑی بڑی کالی سیاه گھری آنکھیں.جن کو دیکھ کر مقابل کو اپنا آپ ڈوبتا ھوا محسوس ھوتا تھا.
سب لوگ کھاں ھیں.
مومنه نے آس پاس دیکھتے ھوۓ میرب سے پوچھا جو اب اپنا اسکول کا کام کرنے لگی تھی.
چلیں میں آپ کو بتاتی ھوں کے سب لوگ کھاں ھیں.ابو آفس گۓ ھوۓ ھیں یه بات آپ کو یقینن معلوم ھو گی کیونکه وه صبح آپ کے سامنے ھی گۓ تھے.اور جیسا کے آپ کو یه بھی معلوم ھے کے ھماری ایک عدد بڑی بھن بھی ھے جن کا نام زویا ھے اور ان کی شادی ھونے والی ھے تو وه اور امی درزی کے پاس کپڑے دینے کے لیۓ گئ ھوئ ھیں.
میرب نے اپنی فطرت کے ھاتھوں مجبور ھو کر الٹا ھی جواب دیا.
سدھر جاؤ لڑکی.
میرب کی اتنی لمبی تقریر سن کر مومنه نے اس کے سر پر ھلکی سی چپٹ لگا کر کھا.
****************************
حماد صاحب اور آرزو بیگم کی تین اولادیں تھیں.
سب سے بڑی بیٹی زویا جس کی شادی اپنے چچا ذاد عارف سے ھونے والی تھی.
اس سے چھوٹی مومنه جو ابھی سیکنڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ تھی.
اور پهر سب سے چھوٹی میرب جو ابھی میٹرک کلاس میں پڑھتی تھی.
حماد کی یه چھوٹی سی فیملی ھی انکی جنت تھی.
****************************
وه تینوں بھت چوکنه تھے.
جیسے ھی گاڑی ان تینوں کے قریب آئ وه گاڑی کے آگے کھڑے ھو گۓ اور اپنی اپنی پسٹل کا رخ بھی گاڑی کی طرف کردیا.
گاڑی میں موجود لڑکے نے فورا گاڑی کو بریک لگائ.
چل باھر نکل.
ایک نقاب پوش نے لڑکے سے کھا.
چل موبائل, والٹ اور گاڑی کی چابی دے.
جیسے ھی وه لڑکا باھر نکلا دوسرے نقاب پوش نے گن دکھا کر کھا.
زندگی سے بڑھ کر تو کوئ چیز نھی ھوتی نا .یھی سوچ کر اس لڑکے نے ساری چیزیں ان تینوں کے حوالے کردیں.
اب اس کا کیا کرنا ھے.
پھلے والے نقاب پوش نے لڑکے کی طرف اشاره کرتے ھوۓ کھا.
میں تو کھتا ھو اسے یھی مار دیتے ھیں ورنه پولیس والوں کو سب بتا دے گا یه.
دوسرے والے نقاب پوش نے مشوره دیا.
بکواس بند کرو تم دونوں.چور تو بن چکے ھیں اب کیا قاتل بھی بنا ھے تم لوگوں نے.ھم اس کو جانیں دیں گے .ناجانے گھر میں اسکی ماں بھن اور کون کون اسکا منتظر ھوگا.اور ھم ھوتے کون ھیں کسی سے اسکا جینے کا حق چھیننے والے.
وه جو کب سے خاموش کھڑا تھا اسنے ان دونوں کو غصے سے کھا.
پهر اس نے آگے بڑھ کر اس لڑکے کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور پهر وه تینوں وھاں سے گاڑی بھگا لے گۓ.
***********************
جاری ھے.
