Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode03

Ehd E Mohabbat by Neha Malik Episode03

مومنه کمرے میں بیٹھی میرب کا انتظار کر رھی تھی جب اسے باھر سے میرب کی دبی دبی چیخ سنائ دی.
مومنه فورا باھر کی جانب بھاگی لیکن سامنے موجود منظر اسکے حوش اڑانے کے لیۓ کافی تھا.
ایک نقاب پوش نے میرب کے منه پر ھاتھ رکھا ھوا ھے اور ایک اس کے سر پر گن تانے کھڑا ھے اور ایک اور نقاب پوش گھر کی تلاشی لے رھا ھے.
اے لڑکی خبردار جو ھلنے کی کوشش کی.ورنه گولی مار دو گا.
مومنه ابھی حیرت سے یه منظر دیکھ رھی تھی جب ایک نقاب نے گن اسکی طرف کرتے ھوۓ کھا.
سلمان کی آواز پر حمزه پیچھے کی جانب پلٹا کے کون کھڑا ھوا ھے لیکن نظر ھٹانا بھول گیا.
لمبے سلکی بال کھلے ھوۓ تھے.چمکتا ھوا گورا رنگ.خوف کے مارے کپکپاتے ھونٹ اور آنکھیں.کیا نھیں تھا اسکی کالی گھری آنکھوں میں خوف, ڈر ,گھبراھٹ.
حمزه کو اپنا آپ اسکی آنکھوں میں ڈوبتا ھوا محسوس ھوا.
ایسا نھی تھا کے وه کوئ دل پھینک قسم کا لڑکا تھا یا اسنے کبھی خوبصورتی نھی دیکھی تھی لیکن پتا نھی مقابل میں ایسی کیا طاقت تھی جو وه اس پر سے نظر ھٹانے سے انکاری تھا.
اے لڑکی جلدی بتا زیور اور پیسے کها پر ھیں.
عادل کی آواز پر حمزه ھوش کی دنیا میں آیا اور دیکھا عادل مومنه کے سر پر پسٹل رکھے کھڑا ھے .
ھمارے پاس کچھ نھی ھے.
مومنه نے روتے ھوۓ کھا.
بکواس کرتی ھے.شادی والا گھر ھے اور کھتی ھے کچھ بھی نھی ھے.جلدی سے بتا دے ورنه یه ساری کی ساری گولیاں تیرے اندر ٹھوک دوں گا.
عادل نے غصے سے کھا.
دیکھیں میری بھن کی شادی ھے.ھم نے بھت مشکل سے یه سب جوڑ جوڑ کر جمع کیا ھے.پلیز رحم کریں ھم پر.
مومنه نے ھاتھ جوڑتے ھوۓ کھا.
مومنه کو اس طرح روتے ھوۓ دیکھ حمزه کو تکلیف ھو رھی تھی اور وه خود اس بات سے انجان تھا کے ایسا کیو ھو رھا ھے.آج سے پهلے کبھی اس کے ساتھ ایسا کچھ نھی ھوا تھا.
یه ایسے نھی مانے گی .ابھی میں اسکو ٹھیک کرتا ھوں.
سلمان غصے سے کھتا مومنه کے قریب آیا .
اس سے پهلے سلمان کا اٹھا ھاتھ مومنه کے منه پر نشان چھوڑتا حمزه نے وه ھاتھ ھوا میں ھی روک دیا.
سلمان نے بے یقینی سے حمزه کو دیکھا کیوں کے اس نے آج سے پھلے اس طرح نھیں کیا تھا.
حمزه کو بھی اپنے اوپر حیرت ھو رھی تھی کے اسنے ایسا کیو کیا.
چلو یهاں سے .
حمزه نے نظریں چراتے ھوۓ کھا.
ھم یھاں چوری کرنے آئیں ھیں.بغیر چوری کیۓ ھی چلیں جائیں.
سلمان نے دبے دبے غصے میں کھا.
میں نے کھا ھے چلو یھاں سے.میں تم لوگوں کا باس ھوں اسی لیۓ تم لوگوں کو میرا حکم ماننا ھوگا.
حمزه نے بھی اسی کے انداز میں کھا.
سلمان نے ایک قھر برساتی نظروں سے اسے دیکھا اور مومنه کو دھکا دیتا باھر نکل گیا.
عادل نے نفی میں گردن ھلائ اور وه بھی باھر نکل گیا.
حمزه نے جاتے وقت مڑ کے اس کو دیکھا جو ڈر کے مارے دیوار سے لگی ھوئ تھی.
ان لوگوں کے جاتے ھی میرب بھاگتی ھوئ آ کے مومنه کے گلے لگ کر رونے لگ گئ.
کچھ نھی ھوا میرب.الله نے ھمیں بچا لیا ھے.شکر کرو اسکا جس نے ھمیں بڑے نقصان سے بچا لیا.
مومنه نے اسے چپ کراتے ھوۓ کھا.
اسکو خود بھی بھت حیرت ھو رھی تھی کے وه لوگ بنا کچھ چوری کیۓ ایسے ھی نکل گۓ.اسکو وه نقاب پوش یاد آیا جو بھت عجیب سے انداز میں اسے دیکھ رھا تھا لیکن پهر اسنے اپنی سوچ کو جھٹک دیا اور شکرانے کے نفل پڑھنے کے لیۓ چلی گئ.
***********************
دماغ خراب ھو گیا ھے اسکا.پتا نھی کیا سمجھتا ھے خود کو.اچھا خاصا پلین خراب کر دیا.
سلمان نے دیوار پر غصے سے مکا مارتے ھوۓ کھا.اسکا غصه کسی صورت کم نھی ھو رھا تھا.
چھوڑ یار دفع کر.اگلی دفع اس سے بڑی جگه پر ڈاکا ماریں گے.
عادل نے آرام سے کھا.
اتنا غصه کس چیز کا آرھا ھے.
اس سے پهلے سلمان کچھ بولتا حمزه نے آکر کھا
سب کچھ کرنے کے بعد تم ابھی بھی یه پوچھ رھے ھو کے میں غصه کیوں ھو.
سلمان نے حمزه سے کھا
ویسے جب تم نے وھاں پر چوری کرنی ھی نھی تھی تو گۓ کیو تھے.
عادل نے حصه لیا
میں تم لوگوں کو جواب ده نھی ھوں.
وه بے رخائ سے بولا.
کیوں نھی ھو تم ھم لوگوں کو جواب ده.ساری محنت پر اتنے مزے سے پانی پهیر دیا تم نے اور کھتے ھو جواب ده نھی ھو.
سلمان غصے سے اسکی جانب بڑھا.
بس جو ھونا تھا وه ھو گیا.اب اس معاملے کو ختم کرو لیکن آج کے بعد سب کچھ فائنل کر کے ھیں کریں گے تاکے کچھ مسلا نا ھو.
عادل نے تحمل سے کھا.
حمزه نے ایک نظر دونوں کو دیکھا اور خاموشی سے وھاں سے نکل گیا
***********************
کیا ھوا ھے تم دونوں ایسے کیوں بیٹھی ھو.
آرزو بیگم نے گھر میں آکر سامنے بیٹھیں .میرب اور مومنه سے پوچھا جو بالکل گم سم بیٹھی ھوئیں تھیں.
پھر مومنه نے ساری بات آرزو بیگم کو بتا دی جسے سن کر وه سر تھام کر بیٹھ گئ.
یا الله تیرا شکر ھے میرے مالک .آپ نے بڑے نقصان سے پچا لیا ھمیں .
آرزو بیگم نے شکر ادا کیا .
امی اسی لیۓ میں آپ کو کھ رھی تھی کے زیور رکھوا دو .
مومنه نے کھا.
ھاں کل ھی جا کر یه کام کرتی ھو.
آرزو بیگم نے کھا.
***********************
یه کیا ھو رھا ھے مجھے.
وه سونے کے لیۓ لیٹا ھوا تھا لیکن نیند اسکی آنکھوں سے کوسو دور تھی.
کیوں اسکا چھره میری آنکھوں کے سامنے سے نھی ھٹ رھا .کیوں میں اتنا بے چین ھو رھا ھوں.
حمزه نے جھنجھلا کر سوچا.
میں کیو سوچ رھا ھوں اسکے بارے میں .میرا اور اور اسکا کوئ جوڑ نھی ھے.
ھم آگ اور پانی کی طرح ھیں .جیسے وه دونوں کبھی نھی مل سکتے اسی طرح ھم بھی کبھی ایک نھی ھوسکتے.
اسکو نکال دو اپنے دماغ سے .یه سب صرف وقتی ھے.تمھیں کبھی کسی سے محبت نھی ھو سکتی.
سوچتے سوچتے آخر کار نیند اس پر مھربان ھو ھی گئ.
****************************
اٹھ گۓ شھزادے.
حمزه کو سامنے سے آتا دیکھ عادل نے کھا.
اسکی سرخ آنکھیں رات دیر تک جاگنے کی چغلی کھا رھی تھیں.
عادل کو رات سے وه تھوڑا بدله بدله سا لگ رھا تھا مگر وه چپ ھی رھا.
حمزه ایک بات پوچھو .
عادل نے کچھ سوچتے ھوۓ کھا.
ھاں بولو کیا بات ھے.
یار هم نے آج تک بھت چوریاں کی ھیں بھت سے لوگوں کو لوٹا ھے لیکن آج تک تم نے ایسا کچھ نھی کیا جیسے کل کیا تھا.
آخر عادل نے اپنے دل میں آئ بات کھ ھی ڈالی.
میں تمھیں جواب دینے کا پابند نھی ھوں.
حمزه نے خفگی سے کھا.
حمزه کی بات سن کر عادل چپ ھو گیا.
آج بھی چوری کرنے کا پلین ھے یا نھی اور اگر کل جیسا کچھ کرنے کا اراده ھے تو وه بھی بتا دو.
سلمان نے اندر آکر سنجیدگی سے کھا.
آج چوری کرنے کا کوئ پلین نھی ھے سن لو دونوں.
حمزه نے سپاٹ لھجے میں کھا اور فلیٹ سے باھر چلا گیا.
سمجھتا کیا ھے یه خود کو آخر.بڑا آیا.ھم تو اسکے حکم کے غلام ھیں.جب اسکا حکم ملا تو چوری کریں گے ورنه بھوکے پیٹ مرے گیں.
حمزه کے باھر جاتے ھی سلمان غصے میں بولنے لگ گیا.
****************”*******
یار آپی وه بنده صبح سے باھر بیٹھا ھوا ھے اور اب تو شام ھونے والی ھے.
میرب نے آکر مومنه کو بتایا جو کسی کتاب کو پڑهنے میں مصروف تھی.
کون???
مومنه نے چونک کر پوچھا.
پتا نھی کون ھے.صبح جب میں اسکول سے آ رھی تھی تو میں نے اسے ھمارے گھر کے آگے بیٹھا ھوا دیکھا تھا لیکن اب تو شام ھو گئ ھے .وه ویسے ھی بیٹھا ھوا ھے.
میرب نے مزید بتایا.
چھوڑو ھمیں کیا .ھوگا کوئ نشئ.نشا وغیره کر کے بیٹھ گیا ھوگا سامنے.جب نشا اترے گا تو چلا جاۓ گا.
مومنه نے لاپرواھی سے کھا.
خدا کا خوف کریں آپی اتنا ھینڈسم بنده نشئ کیسے ھو سکتا ھے.
میرب نے شرارت سے کھا.
خدا کا خوف کرو لڑکی.جو منه میں اول فول آرھا ھے بولے جا رھی ھو.
مومنه نے ھاتھ میں پکڑی کتاب میرب کے سر پر مارتے ھوۓ کھا.
چلو دیکھتے ھیں کون اتنا فارغ ھے جو صبح سے ابھی تک بیٹھا ھوا ھے.
مومنه نے اپنے کمرے کی کھڑکی کھولتے ھوۓ کھا.
****************************
دیدار یار کے لیۓ تڑپ رھی ھے آنکھیں
یه عشق بھی کتنا ظالم ھوتا ھے خدایا……..
وه صبح سے اس کے گھر کے باھر بھوکا پیاسا بیٹھا ھوا تھا.اس کو صرف انتظار تھا تو اس دشمن جاں کی ایک جھلک دیکھنے کا تھا.
وه کب سے دل ھی دل میں دعا کر رھا تھا ایک بار بھلے صرف ایک بار وه اس کو دیکھ لے لیکن اب اسے مایوسی ھونے لگی تھی.لیکن وه نا امید نھی تھا.
****************************
مومنه نے جیسے ھی کھڑکی کھولی اسے گھر کے بالکل سامنے بیٹھا وه شخص نظر آیا جو تھوڑا مایوس مایوس سا نظر آرھا تھا.دکھنے میں وه بلا شبه ایک وجیه مرد تھا.مومنه ابھی اسے دیکھ ھی رھی تھی جب اچانک اس شخص نے سر اٹھا کر اوپر کھڑی کی طرف دیکھا او حمزه کو لگا کے اسکی دعا قبول ھو گئ ھے.
حمزه ایک جھٹکے سے کھڑا ھو کر آنکھوں میں چمک لیۓ اسے دیکھنے لگا.
مومنه کو اس کے دیکھنے کا انداز بھت عجیب لگا.
ٹھرکی ….
زیر لب بول کر اسنے فورا کھڑکی بند کر دی.
****************************
حمزه کی خوشی کا کوئ پیمانه نا تھا.
جس کے دیدار کے لیۓ اسکی آنکھیں ترس رھیں تھیں اب ایسا لگ رھا تھا کے آنکھوں کو ٹھنڈک مل گئ ھے.
اسے لگ رھا تھا جیسے درد کا مرھم مل گیا ھو.پیاسے کو کنوا مل گیا ھو.
اپنے رب کا شکر ادا کرتا وه واپسی کے لیۓ چل پڑا.
***********************
کیوں آخر کیوں مجھے اتنی بے چینی ھو رھی ھے آخر کیوں مجھے محبت ھوئ کیوں.
حمزه نے اپنا سر ھاتھوں میں گراتے ھوۓ کھا.
اسے دور کھی سے فجر کی آزانوں کی آوازیں آرھیں تھیں.
اس نے کھیں پڑھا تھاکے نماز میں سکون ھوتا ھے لیکن اسکے باوجود کبھی اسنے نماز نھی پڑھی تھی.اسکا ماننا تھا کے اسکی زندگی بھت پر سکون ھے اسی لیۓ اسے ضروت نھی لیکن اب اسے اس بے سکونی میں خدا یاد آ گیا تھا.
انسان بھی کتنا خود غرض خدا کو یاد کرتا ھے بھی تو اپنے غرض کی خاطر.
حمزه نے قریبی مسجد میں جا کر نماز ادا کی اور اپنے رب سے اپنی محبت مانگنے لگ گیا.
گرتے ھیں سجدوں میں اپنی حسرتوں کی خاطر
…اقبال….
اگر گرتے صرف عشق خدا میں تو کوئ حسرت ادھوری نا رھتی…..
***********************
پورا ھفته ایسے ھی گزر گیا تھا.
حمزه روز مومنه کے گهر جاتا اور اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لیۓ گھنٹوں بیٹھا رھتا .
جس دن اسے اسکا دیدار نصیب ھو جاتا تو اسکی خوشی کا کوئ ٹھکانا نا رھتا اور جس دن نا نصیب ھوتا تو وه بس صبر کر کے ره جاتا اسکے علاوه وه اور کچھ کر بھی کیا سکتا تھا.
مومنه کے امی ابو کو بھی وه تھوڑا مشکوک سا لگتا لیکن وه انھیں کچھ کھ تو نھی رھا تھا نا تو اسی لیۓ وه چپ تھے.
***********************
حمزه ایسا کب تک چلے گا.
آج تنگ آکر عادل نے پوچھا ھی لیا.
کیا ھوا ھے.
حمزه نے حیرانی سے پوچھا .
اب ذیاده معصوم بنے کی ضرورت نھی ھے.تمھیں سب معلوم ھے کے میں کس بارے میں بات کر رھا ھوں.پورا پورا دن تم گھر سے غائب رھتے ھو .اتنے ٹائم سے ھم نے کوئ چوری نھی کی.کب تک ایسا چلے گا.تمھاری انھی حرکتوں کی وجه سلمان بھی ھمیں چھوڑ کر دوسرے گینگ میں چلا گیا ھے.
عادل نے تاسف سے کھا.
تو تم بھی چلے جاؤ.
میرا وه مطلب نھی تھا.
عادل نے سر جھٹکتے ھوۓ کھا.
حمزه آج بتا ھی دو کیا بات ھے کس وجه سے تم اتنا بدل گۓ ھو.
عادل نے تنگ آکر پوچھا.
عشق ھو گیا ھے تیرے بھائ کو.اور وه بھی ایسا اب جھاں سے پلٹنا ممکن نھی.
حمزه نے کھا.
حمزه کی بات سن کر عادل منه کھولے اسے دیکھنے لگ گیا.
منه بند کرلو مکھی گھس جاۓ گی.
حمزه کی بات سن کر عادل نے فورا اپنا کھلا ھوا منه بند کیا اور پهر سنبھل کر بولا
کیا ھو گیا ھے میرے بھائ ھوش میں تو ھو تم کیا کھ رھے ھو.
میں بالکل ھوش میں ھوں اور مجھے پتا ھے میں کیا کھ رھا ھو.
حمزه نے سنجیدگی سے کھا.
لو اب تو تم گۓ کام سے.
تمھیں یاد ھے حمزه ایک دفع تم نے کھا تھا کے تمھیں کبھی عشق ھوگا تو تم یا تو سنور جاؤ گے یا برباد ھو جاؤ گے.اور میرے خیال سے تم برباد ھو گۓ ھو.
عادل نے افسوس سے کھا.
حمزه چپ ھی رھا.
اب آگے کیا سوچا ھے پھر.
کیا کرنا ھے .میرے خیال سے کوئ بھی ماں باپ ایک چور کو تو اپنی اولاد ھر گز نھی دیں گے.
میں بھی ھر دفع یھی سوچتا ھوں
حمزه نے اداسی سے کھا.
اچھا ذیاده اداس ھونے کی ضرورت نھی ھے کل چل کر اس کے گھر والوں سے بات کرتے ھیں پهر جو ھوگا دیکھا جاۓ گا.
عادل نے کھا.
عادل کی بات سن کر حمزه نے حیرت سے اسے دیکھا اور پهر ٹھنڈی سانس فضا میں خارج کی.
پریشان نا ھو سب ٹھیک ھو گا .
عادل کو اپنے الفاظ بھت کھوکلے لگے.کیونکه اسے پتا تھا کے کل کیا ھونے والا ھے.
***********************
جاری ھے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *