Dillon Ke Bandhan Umme Maryam NovelR50596 Dillon Ke Bandhan (Episode 37,38)
No Download Link
Rate this Novel
Dillon Ke Bandhan (Episode 37,38)
Dillon Ke Bandhan Umme Maryam
میر سبطین ! ان کا ڈر سہی ہے ۔ یہ ان لوگوں کی کوئی چال ہے ۔ معظم شاہ کتنا ٹیڑھا انسان ہے ، میں اس کی نس نس سے واقف ہوں ۔سب جانتا ہوں ۔وہ اتنی جلدی سدھرنے والا نہیں ۔ اپنی شکست کا بدلا وہ ضرور لے گا ۔
اس بار اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے وہ یہ پینترا کھیل رہا ہے ۔ہماری کمزوری ہاتھ کرنا چاہتا ہے مگر میں اسے اس کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا ۔میر سجاول مشتعل ہو کر بلند آواز میں بولا ۔
وہ بھی ناشتے کے لئے زرتاج کا ہاتھ تھامے ڈائیننگ روم میں پہنچا تھا ۔اس نے دروازے پر رک کر ان کی باتیں سن لیں تھیں ۔
میر غضنفر ، میر جعفر اور میر سبطین تینوں ایک ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، یہ محض تمھارا وہم ہے ورنہ ہمیں صفدر شاہ کے خلوص میں زرا سے بھی کھوٹ کا شائبہ محسوس ہوتا تو میں خود اس رشتےکو کوئی اہمیت نہیں دیتامگر وہ اب وہی بیس سال پرانے مخلص اور کھرے صفدر شاہ ہیں ۔میر غضنفر نے تحمل سے جواب دیا ۔
دشمن کوئی بھی روپ دھار لے ، وہ دشمن ہی رہتا ہے ۔اسے پہچاننے والی نظر کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ لوگوں کی آنکھوں پر دوستانے کی پٹی بندھ گئی ہے ۔ میر سجاول ترکی بہ ترکی بولا ۔
اس نے چئیر گھسیٹ کر زرتاج کو بٹھایا اور خود اس کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا ۔
میر سجاول ! تم بس اپنا ہی دماغ نا چلایا کرو کبھی دوسروں کی بات بھی سننے سمجھنے کی کوشش کیا کرو ۔ ابھی ہمارے بڑے موجود ہیں اورانہوں نے ہم سے ذیادہ دنیا دیکھی ہے ۔ لوگوں کے رویے اور ان کو پرکھنے کی سمجھ بوجھ ان میں ہم سے ذیادہ ہے ۔ بالآخر میر سبطین بول پڑا۔
پلیز ! تم تو بات ہی مت کرو ، ان لوگوں کو گھر تک لانے والے تم ہی ہو ورنہ یہ قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکا تھا ۔تم نے ان سے راہِ وراسم بڑھائے تو آج ان کی اتنی جرأت ہوگئی کہ وہ منہ اٹھاکر ہمارے گھر رشتہ مانگنے چلے آئے ۔میر سجاول بل کھارہا تھا ۔
کیا آپ لوگ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ صفدر شاہ نے سندس پھپھو کی دوسری بیٹی کو اغوا کر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ کیا کیا ،کیا نہیں کیا ، آج وہ کہاں ہے کس حال میں ہے کوئی نہیں جانتا ۔ بس آپ لوگوں کو دوستیاں نبھانے کی پڑی ہے ۔میر سجاول نے یہ ذکر نکال کر سب کہ منہ بند کردئیے ۔
کس کے رشتے کی بات چل رہی ہے ،ہمیں بھی تو پتا چلے ۔ فائزہ بیگم بھی وہاں پہنچ چکی تھیں ، اس ذکر پر ان کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ بحث کا کچھ حصہ تو ان کے کان پڑ چکا تھا مگر سندس کی بیٹی کہ ذکر پر فوراً سے پیشتر اندر آگئیں ۔ وہ قصداً انجان بنی پوچھ رہی تھیں ۔
صفدر شاہ صاحب رانیہ کے لئے اپنے صاحب زادے کا رشتہ لے کر آئے تھے ۔ وہ زہرخند لہجے میں بولا ۔
اوہو،،،،تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ۔ فائزہ بیگم بے خیالی میں کہہ گئیں ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔تمھاری اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ میر غضنفر نے بھنویں چڑھائیں ۔
کچھ نہیں ، میں نے تو بس ایک بات کہی تھی ۔ فائزہ بیگم گڑبڑا کر بولیں ۔
میر سجاول تمھاری بات بھی درست ہے اور میں اس متعلق ضرور صفدر شاہ سے ضرور بات کروں گا مگرصفدر شاہ کی نیت میں زرا سا بھی کھوٹ ہوتا تو وہ ہر گز بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کرتے ،شادی میں شرکت کرنے کے بہانے ہی سہی انہوں نے پہل کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے مکتوم شاہ کے رشتے پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں کوئی برائی نہیں ۔میر جعفر مدبرانہ بولے ۔
پہل انہوں نے نہیں ، پہل ہمارے صلح جو بھائی نے کی ہے ۔پہل اس طرف سے ہوئی ہے ، انویٹیشن کے بہانے ۔وہ بھڑک اٹھا ۔
جس نے بھی کی ہو ، کم از کم کچھ اچھا کرنے کی کوشش کی ہے ، اس سے پورے گاؤں کا فائدہ ہی ہوگا ۔ دشمنی سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہورہا تھا ۔ خواہ وہ ہمارا نقصان ہو یا ان کا ،گاؤں والے ہی سب سے ذیادہ پس رہے تھے ۔میر سبطین چڑ کر بولا ۔
جو کچھ بھی ہو جائے ۔۔۔۔۔ میں رانیہ کی شادی اس خاندان میں ہر گز نہیں ہونے دوں گا اوراگر آپ لوگوں نے یہ کوشش کی اور ان سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کے بارے میں سوچا تو میرا رشتہ آپ سب سے ٹوٹ جائے گا ۔وہ حتمی انداز میں بولا ۔
نہیں ، نہیں ۔میر سائیں ، ایسی باتیں منہ سے مت نکالو۔
ارے میں کہتی ہوں لعنت بھیجیں آپ لوگ اس رشتے پر ، بھلا ہماری رانیہ کے لئے رشتوں کی کوئی کمی ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ مل جائے گا بلکہ وہ جو ایم ۔ پی ۔ اے قاسم کی بیگم ہیں ، انہوں نے کل رات خود ڈھکے چھپے لفظوں میں مجھ سے رانیہ کے لئے بات کی ہے ۔فائزہ بیگم میر سجاول سے خائف ہوگئیں تھیں ۔
میر سجاول کے حتمی انداز پر تقریباً سبھی نے چپ سادھ لی تھی ۔ سب ہی گھروالے اس کی فیصلہ کن طبیعت سے واقف تھے ۔ وہ جو بات ایک بار منہ سے نکال دیتا پھر ایک انچ بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا ۔ یہ عادت اس کی بچپن سے رہی تھی اور یہی بات میر سبطین کو پریشانی میں مبتلا کر رہی تھی ۔
اسے میر سجاول کو اس رشتے کے لئے راضی کرنا ناممکن لگ رہا تھا ۔
اور رانیہ کے لئے مکتوم شاہ سے بہتر کوئی رشتہ اس کی نظر میں نہیں تھا،وہ ان دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کے لئے پسندیدگی بھی دیکھ چکا تھا ۔
کچن میں کھڑی رانیہ بوجھل قدموں سے کچن سے نکل گئی ، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بے حد جلن تھی ۔
وہ امڈتے آنسؤوں کو پلکیں جھپک جھپک کر اندر اتارنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
“””””””””””””※””””””””””””
ناشتے کے بعد زرتاج کراچی جانے کے لئے پیکنگ کر رہی تھی ۔وہ وارڈروب کھولے کھڑی تھی ، تب میر سجاول نے چپکے سے آکر بیک سے اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کئے ۔ زرتاج اچھل پڑی ۔
دلبر سائیں ! پیکنگ ہوگئی یا میں آپ کی مدد کروں ۔ میر نے اس کے شولڈر پر ٹھوڑی ٹکا کر سرگوشی کی ۔
میں کر لونگی ، پلیز ! آپ مجھے چھوڑیں ۔زرتاج نے اس کے حصار کو توڑنے کی کوشش کی ۔
کیوں چھوڑ دوں ؟ تمھیں حکمرانی سونپی ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم میرے پرسنل معاملات میں بھی اپنا حکم چلاؤگی۔یہاں صرف میری مرضی چلے گی۔ وہ اسے اپنے حصار میں لئے بیڈ تک لے آیا ۔
رانیہ بی بی نے کہا ہے ، دو گھنٹے میں ہمیں کراچی کے لئے نکلنا ہے ۔
پلیز ! مجھے پیکنگ کر نے دیں ۔ وہ میر سجاول کی بڑھتی ہوئی جسارتوں پر گھبرا کر بولی ۔
کیا کہا تم نے ؟ رانیہ بی بی ۔ تم اس کے باپ کی نوکر ہو جو اسے بی بی کہہ رہی ہو ۔ زری ! تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ “بی بی “ کہنے پر میر سجاول کا دماغ گھوم گیا ۔اس نے ایک جھٹکے سے زرتاج کو الگ کیا۔
تم بیوی ہو میری ، میں تمھیں رانی بنا کر لایا ہوں اور تم ہو کہ نوکرانی بننے پر تلی ہوئی ہو ۔ خبردار جو اب تم نے کسی کو بھی بی بی کہہ کر پکارہ ۔ ٹانگیں توڑ دوں گا ۔ وہ ڈپٹ کر بولا ۔
دلبرسائیں!اگرتمھیں ہی اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں ہوگا توکوئی اورکیونکر تمھارے وجود کی اہمیت کو تسلیم کرے گا ۔میں ہر وقت تمھارے ساتھ گھر میں نہیں رہوں گا ، میرے پیچھے کوئی تمھیں ڈس ریسپیکٹ کرے گا تو مجھے کیسے پتا چلے گا ۔
اس کے لئے تمھیں خود کو اسٹرانگ کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی تمھیں کم تر سمجھ کر تمھاری توہین نا کرے ۔ وہ کوئی ملازمہ ہو یا پھر میری ماں ہی کیوں نا ہو ۔ تمھیں سب کو اپنی پوزیشن کا احساس خود دلانا ہوگا ۔جو اب اس حویلی کے باقی افراد سے کم نہیں بلکہ ان کے بلکل برابر ہے۔
میر سجاول نے دھیمے لہجے میں سمجھاتے ہوئے اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کر دیا ۔
زرتاج کی ریشمی دراز زلفیں کھل کر اس کی پوری کمر پر بکھر گئیں ۔میر سجاول مسحور ہوگیا ۔
وہ مجھے آپ کے کپڑوں کی سمجھ نہیں آرہی،آپ دیکھ لیں کیا رکھنا ہے۔
زرتاج اپنا آنچل سنبھالتی بیڈ سے اٹھ گئی ۔
وہ بھی دیکھ لوں گا ، پہلے تمھیں تو دیکھ لوں ۔ ادھر آؤ، قریب سے دیکھوں ۔ تمھیں بتایا تھا ناں میری دور کی نظر کمزور ہے ۔ وہ دوبارہ زرتاج کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود پر گراتا ہوا گنبھیر آواز میں بولا ۔
““”””””””””※”””””””””””
ہیلو، اماں ۔کیسی ہیں ۔۔۔۔؟ ائیر پیس میں مکتوم شاہ کی آواز گونجی ۔
میں ٹھیک ہوں ۔ تم کیسے ہو ، شاہ کیسا ہے ۔۔۔۔؟رخسانہ بیگم بے تابی سے بولیں ۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ معظم شاہ بھی ٹھیک ہے ۔ یہیں میرے پاس ہے ۔ چیک اپ کروالئے ہیں ۔ ڈاکٹرز نے رپورٹس کروائی ہیں ، وہ آجائیں اس کے بعد ہی سرجری کی ڈیٹ ملے گی ۔ مکتوم شاہ نے تفصیلی جواب دیا ۔
گھبرانے والی تو کوئی بات نہیں ہے ناں ۔۔۔۔؟ رخسانہ بیگم نے فکرمندی سے پوچھا ۔
بلکل بھی نہیں ۔ آپ تسلی رکھیں ۔ یہاں کے ڈاکٹرز شیور ہیں کہ سرجری کامیاب ہوگی ۔ وہ پراعتماد تھا ۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ رخسانہ قدرے مطمئین ہوگئیں ۔
آپ سنائیں گھر میں سب خیریت ہے ۔۔۔۔۔۔ بھابھی کیسی ہیں ؟
اس کی طبیعت زرا اوپر نیچے رہتی ہے ، ویسے ٹھیک ہے ۔ ہم سب اس کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔
آپ میر سجاول کی شادی میں گئی تھیں ؟ مکتوم شاہ نے استفسار کیا۔
میں ، تمھارے بابا اور ثمینہ گئے تھے ۔ زینب اور عروش گھر پر ہی تھیں ۔
اچھا ، کیسی رہی شادی ؟ مکتوم شاہ بولا ۔
سب کچھ خیریت سے ہوگیااور میرے پاس تمھارے لئے ایک خوشخبری بھی ہے ۔ رخسانہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں ۔
رئیلی ! کیا خوشخبری ہے ۔ ۔۔۔؟ مکتوم شاہ کوتجسس ہوا ۔
تمھارے بابا بڑی حویلی تمھارا رشتہ لے کر گئے تھے ۔ رخسانہ بیگم نے خوشی سے بتایا ۔
اچھا پھراس طرف سے کیا جواب ملا ؟ مکتوم شاہ نے ٹہرے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔
ابھی انہوں نے جواب تو کوئی نہیں دیا ، سوچنے کے لئے وقت مانگا ہے مگر مجھے یقین ہے ، جواب ہاں میں ہی ہوگا ۔ وہ مضبوط لہجے میں بولیں ۔
کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ میر سجاول کے تیور ابھی بھی وہی ہیں ۔ مکتوم شاہ مایوسی سے بولا ۔
نیت اچھی ہو تو ٹیڑھے کام بھی سیدھے ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے تسلی دی ۔
تم ابھی اس بات کا ذکر شاہ سے مت کرنا ، ہوسکتا ہے اسے برا لگے۔
انہوں نے تاکید کی ۔
اسے برا نہیں لگے گا ۔مکتوم شاہ دھیرے سے بولا ۔
وہ کیوں ۔۔۔؟ رخسانہ بیگم کے لہجے میں حیرت تھی ۔
کل اس نے خود مجھ سے اس ٹاپک پر بات کی تھی ۔ اسے میری رانیہ سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔مکتوم شاہ نے ان کی حیرانگی دور کی۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے ورنہ مجھے تو دھڑکا لگا ہوا تھا کہ شاہ ضرور ہنگامہ کرے گا ۔ وہ یکدم پرسکون ہوگئیں ۔
ہممم ۔ اماں ! کل کال کروں گا ۔ میں زرا ڈنر کا انتظام کر لوں ۔
ٹھیک ہے ، تم دونوں اپنا خیال رکھنا ۔ اللہ حافظ ۔ رخسانہ بیگم نے ریسیور کریڈل پر ڈال دیا ۔
“””””””””””※””””””””””
ہیلو ! وائبریشن پر میر سجاول نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا ۔
یار ! باقی کا رومینس ہنی مون کے لئے چھوڑ دو ۔ بارہ بج چکے ہیں ،ہم سب ریڈی ہوکر بیٹھے ہیں ۔ صرف آپ لوگوں کا انتظار ہورہا ہے ۔ میر سبطین سائیڈ پر جاکر آہستگی سے بولا ۔
واٹ ! بارہ بج گئے ۔ ہم بس آدھے گھنٹے میں نیچے آرہے ہیں ۔ زرتاج پیکنگ کر رہی تھی اس لئے ٹائم کا پتہ نہیں چلا ۔ میر سجاول خجل ہوکر بولا ۔
پیکنگ ہوگئی ہے پھر بھی آدھا گھنٹہ لگے گا ، خدا کا خوف کرو ۔تمھاری فلائیٹ تو رات کی ہے مگر شام کو میری امپارٹنٹ میٹنگ ہے ۔
پلیز ! جلدی پہنچو ۔ میر سبطین نے جھنجھلا کر کہا ۔
اوکے ، جسٹ کمنگ ۔میر سجاول نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کردی ۔
دلبر سائیں ! کیا چیز ہو ، دنیا بھلا دیتی ہو ۔ اب جلدی کرو ، نیچے سب ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ وہ کمفرٹر ہٹاتا عجلت میں کہہ کر بیڈ سے اٹھ گیا ۔
زرتاج نے خود کو موردِ الزام ٹہرانے پر اسےکھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔
اچھا سوری ! کان پکڑ کر ۔ میر نے شرارت سے کہہ کرباقاعدہ اس کے کان پکڑے ۔
مگر اب تیار ہونے میں تو ٹائم لگے گا اورابھی تو پیکنگ بھی نہیں ہوئی۔زرتاج نے رونی شکل بنائی ۔
ڈونٹ وری !تم آرام سے تیار ہوجاؤ ، پیکنگ کے لئے میں کسی کو بلواتا ہوں ۔ میر سجاول نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر تسلی دی ۔
وہ دونوں ٹھیک آدھے گھنٹےبعدمکمل تیاری کے ساتھ لاؤنج میں پہنچے تھے۔
انہیں دیکھ کر سب ہی افراد اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے ۔
میر سائیں ! سفر میں اپنا خیال رکھنا اور فون کرتے رہنا ، یہ نا ہو کہ نئی نویلی دلہن کی سنگت میں ماں کو بلکل ہی فراموش کردو ۔ فائزہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
اماں ! آپ اس سے خوف ذدہ مت ہوں ، یہ دنیا کی باقی لڑکیوں سے مختلف ہے ۔ یہ کبھی میرے پیاروں کو مجھ سے جدا کرنے کی کوشش نہیں کرے گی ۔ میر سجاول بولا ۔
زرتاج نے نظر اٹھاکراونچے پورے میر سجاول کو دیکھا جو ہر قدم پر اس کے لئے ڈھال بن کر اپنی والہانہ محبت کا ثبوت دے رہا تھا۔
بے شک وہ میر کو غصےاور ملال کی کیفیت میں اذیت دے رہی تھی مگر چاہ کر بھی اس کے جذبوں کی سچائی سے نظر نہیں چرا سکتی تھی ۔
اس کا جادو تمھارے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے مگر میں تمھاری ماں ہوں ،جو تمھیں نظر نہیں آرہا وہ میں بخوبی دیکھ رہی ہوں ۔فائزہ بیگم دوبدو بولیں۔
بچے سفر کے لئے روانہ ہورہے ہیں اور تم فضول کی بحث لے کر بیٹھ گئی ہو ۔ انہیں دعائیں دے کر رخصت کرو ۔ میر جعفر نے انہیں ٹوکا۔
آپ کا بیچ میں بولنا ضروری ہوتا ہے ۔فائزہ بیگم ناگواری سے بولیں۔
میر سائیں ! خیریت سے پہنچ کر کال ضرور کردینا ، زرتاج کا اور اپنا بہت خیال رکھنا ۔ میر جعفر نے فائزہ کو نظر انداز کرتے ہوئے تاکید کی ۔
جی بابا سائیں ۔ وہ ان سے گلے مل کر زرتاج کا ہاتھ تھامے باہر نکل
گیا ۔ باقی سب گاڑیوں میں سوار ہو چکے تھے ۔
“”””””””””””※”””””””””””
زرتاج کراچی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی رونقیں دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔
وہ پہلی بار ہوائی جہاز سے سفر کرنے جارہی تھی ، یہی سوچ اسے پورے راستے بے چین کرتی رہی تھی ۔ ائیر پورٹ کی چکا چوند نے تو اسے مزید حواس باختہ کردیا تھا ۔
وہ بچوں کی طرح سے ڈری سہمی میر سجاول کا ہاتھ دونوں ہاتھوں سے پکڑی ہوئی تھی۔
میر اس کی گھبراہٹ پر دھیرے سے مسکرا یااور زرتاج کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔ آس پاس کھڑے لوگوں نے دلچسپی سے پرفیکٹ نیولی میرڈ کپل کو دیکھا ۔
میر سجاول جہاز میں بیٹھ کر مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ سیٹ پر سر رکھے ادھر ادھر نظر گھما رہا تھا۔اسےجہاز کے ٹیک آف پر زرتاج کے متوقع خوف کا بے صبری سے انتظار تھا ۔
اناؤنسمنٹ پر میر سجاول نے زرتاج کے گرد بیلٹ باندھا جو بلکل سن ہوچکی تھی ۔ اس نے فوراً ہی میر کا بازو مضبوطی سے دبوچ لیا ۔وہ مسلسل قرآنی آیات کا ورد کرہی تھی ۔
میر بیلٹ باندھ کر اپنی شیو پر ہاتھ پھیر نے لگا ۔
جہاز رن وے پر چلناشروع ہوا تومیرسجاول کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
اس کی روشن آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں ۔
جیسے ہی جہاز نے ٹیک آف کیا ، زرتاج اس سے لپٹ گئی ۔ میر بے ساختہ ہنس پڑا ۔
دلبر سائیں ! تھوڑا سا ادھر دیکھو ۔ میر نے اس کا سر ونڈو کی جانب گھمایا ۔
نہیں ، پلیز ! میر سائیں ، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ زرتاج نے آنکھیں میچ لیں ۔میر کھل کر مسکرایا ۔
دیکھو تو سہی ، کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہم کتنا اونچائی پر آچکے ہیں ۔ دیکھوگی تو ڈر نکل جائے گا ۔
زرتاج نے زرا سی آنکھیں کھولیں ۔ کراچی شہر کی بے ترتیب روشنیاں لمحہ بہ لمحہ دور ہورہیں تھیں ۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کرکے چہرہ میر سجاول کے سینے میں چھپالیا ۔میر نے اسے اپنے مضبوط حصار میں لے لیا تھا ۔
میری جان ! ہیپی ہنی مون ۔ میر نے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔
جاری ہے
Episode 38
رانیہ کے آنسؤوں کو کراچی پہنچتے ہی بہہ نکلنے کا راستہ مل گیا ۔وہ گھر پہنچتے ہی روم میں بند ہوگئی تھی اور اب شام سے رات ہونے کو آئی تھی مگر اس نے خود کو اندھیروں میں گم کرلیا تھا ۔
کسی نے بھی یہ سوچ کر اسے ڈسٹرب کرنے کی کوشش نہیں کی کہ شادی کی تھکان ہے جسے وہ ایک ساتھ ہی اتارنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے میر سجاول نے بھی اسے ائیر پورٹ چلنے کے لئے فورس نہیں کیا ۔
میر سجاول کےشدید ردعمل نے اس کےمن میں کھلتے محبت کے پھول کو وقت سے پہلے ہی مرجھادیا تھا ۔مکتوم شاہ کو بھلانے پر اس کا دل سو سو تاویلیں پیش کر رہا تھا مگر اسے بھولنے کے لئے ہرگز راضی نہیں تھا ۔
دونوں خاندانوں کی دشمنی اچانک دوستی میں تبدیل ہوئی تو اسے لگا کہ اس کی مکتوم شاہ کے حق میں کی گئی دعاؤں کوشرفِ قبولیت حاصل ہوگیا ہے مگر آج یہ گمان کھوکھلا ثابت ہورہا تھا ۔
وہ تکیے میں منہ چھپائے پہروں روتی رہی ، دل سنبھلنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ مکتوم شاہ سے اس کی طویل ملاقاتیں یا باتیں نہیں ہوئی تھیں مگر چند رسمی ملاقاتوں میں ہی وہ اپنے مہذب شائستہ روئیے اور مثبت سوچ کی وجہ سے رانیہ کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا ۔
وہ اس کا ہم مزاج ہی نہیں ، اس کی پہلی پسند بھی تھا ۔ اس کو بھلا کر جینا اتنا آسان بھی نہیں ۔اس نے دکھ سے سوچا ۔وہ بے حد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی تھی جب فون کی بیل پر اس نے تکیہ سر سے ہٹا کر فون کی طرف دیکھا۔اس نے مکتوم شاہ کا نمبر دیکھ کر آنسو صاف کرتے ہوئے کال اٹینڈ کی۔
اسلام وعلیکم ! اس نے اپنی آواز کو حتی الامکان نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دھیرے سے سلام کیا ۔
وعلیکم اسلام ! کیسی ہو ؟ شادی اٹینڈ کرلی ، مجھے مس بھی کیا یا نہیں ؟
وہ خوشگوار موڈ میں تھا ۔
ٹھیک ہوں ، آپ کیسے ہیں ۔۔۔؟
ٹھیک ہوں ۔ کیا بات ہے موڈ آف ہے یا تھکی ہوئی ہو ۔
ایسی تو کوئی بات نہیں ، بس سو رہی تھی ۔
اوہ ، پھر تو میں نے تمھیں ڈسٹرب کردیا ۔ وہ جزبز ہوگیا ۔
ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ، میں آپ کی کال سےقبل ہی جاگ گئی تھی۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں ۔ اینی ویز ، میں نے کہا تھا ناں میں سب کچھ سورٹ آؤٹ کرکے رہوں گا ۔ میرے ارادوں کو اللہ سائیں نے کامیابی سے ہمکنار کروا ہی دیا ۔۔۔۔
میری لگن سچی تھی،اس لئے ہمارے رشتے کے اسباب بھی بن گئے۔
اگر ہم سچے دل سے کوئی نیک کام کرنا چاہیں تو شروعات میں کتنی ہی مشکلات پیش کیوں نا آئیں ، اختمام ہمیشہ خوش کن ہوتا ہے ۔مکتوم شاہ بہت خوش لگ رہا تھا ۔
آپ کامیاب ہوگئے ، دشمنی بھی ختم ہوگئی ۔ پرانی دوستی کا سلسلہ بھی دوبارہ جڑ گیا مگر ہم جہاں کھڑے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔
ہمارے حالات آج بھی وہی ہیں ۔ وہ نہیں بدلے اور نا بدلیں گے ۔
رانیہ اداسی سے مسکرائی ۔
کیا مطلب ؟ مکتوم شاہ نے برجستہ کہا ۔
مطلب کہ سجاول بھائی نے اس رشتے کے لئے صاف انکار کر دیا ہے حتی کہ یہ بھی کہا ہے ، اگر ہمارا رشتہ جوڑا گیا تو وہ ہم سے اپنا رشتہ ختم کرلیں گے ۔ رانیہ نے تفصیل سے آگاہ کیا ۔
مگر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے میری فیملی کی طرف سے شادی کی شرکت پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ اس نے ڈنر بھی ہمارے ساتھ کیا تھا ۔ مکتوم شاہ حیرت ذدہ تھا ۔
انہیں لگتا ہے کہ یہ آپ لوگوں کی کوئی چال ہے ، ہم سے رشتہ جوڑ کر معظم شاہ ہم سے اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔ رانیہ نے مزید تفصیل بتائی ۔
واٹ ربش ! اس انسان کا دماغ خراب ہے ، اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو بدلہ لینے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ۔ بابا سائیں خود چل کر حویلی نہیں جاتے ۔ مکتوم شاہ تپ کر بولا ۔
ویل ! تم ریلیکس ہوجاؤ ، میں پاکستان پہنچ کر خود میر سجاول سے بات کروں گا ۔ اسے سمجھاؤں گا ، مجھے یقین ہے وہ سمجھ جائے گا ۔
پلیز ! خدا کے لئے ، آپ ان سے بات نہیں کریں گے ۔ وہ سر پھرے خطرناک انسان ہیں ۔ گولی ، بندوق کے بنا تو بات ہی نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔آپ ان سے بات کریں گے تو وہ ناجانے کیا حشر کریں گے ۔ خدا نخواستہ آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔ آپ ایسی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔ اس نے منت کی ۔
وہ جذباتی انسان ہے ، دماغ کی بجائے دل سے کام لیتا ہے ۔ اسے سمجھانا میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ میں اسے اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا تو وہ سمجھ جائے گا ۔
جب میں نے یہاں تک کوشش کی ہے تو آگے بھی مجھے ہی ہمت کرنی ہوگی ۔ اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں ۔ ذندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس نے رانیہ کو تسلی دی ۔
“”””””””””””※”””””””””””
دلبر سائیں ! تیار ہوجائیں ، آج ڈنر باہرکریں گے۔میر سجاول نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں ۔
کیوں ؟ جب ہم دو دن سے روم میں ہی ہیں ،کہیں نہیں گئے تو آج بھی باہر جا کر کیا کریں گے ۔ آپ روزانہ کی طرح کھانا یہیں منگوا لیں ۔ وہ تپ کر بولی اور میر کی طرف سے مکمل پشت کر گئی ۔ میر نے فلک شگاف قہقہہ لگایا ۔
کہتی تو صحیح ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوئیٹ کا ویو لاجواب ہے ، یہاں ڈنر کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔۔۔۔ویسے بھی ہنی مون کمرے میں ہی سیلیبریٹ کرنا چاہئے باہر گھومنے پھرنے کو تو عمر پڑی ہے ۔ تمھیں دوبارہ لے آؤں گا پھر جتنا دل کرے گھوم لینا ۔وہ زرتاج کی خفگی سے محفوظ ہو رہا تھا ۔
زرتاج کی خاموشی اس کے شدید غصے کو ظاہر کر رہی تھی ۔ میر بے ساختہ ہنسا ۔
یار ! غصہ کیوں کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔مذاق کر رہا ہوں۔۔۔۔۔شادی کی تھکن بھی تو اتارنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔تھکن اتر گئی ہے ۔ اب آپ کو گھمائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاپنگ بھی کروائیں گے۔شاباش اٹھو ، جلدی سے ریڈی ہوجاؤ۔اس نے زرتاج کے بال مٹھی میں بھر کر کھینچے ۔
دیکھو! اتنے شاندار بیچ ریزورٹ میں بکنگ کروانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ دلبر سائیں سوئٹ میں رہتے ہوئے بھی بور نا ہوجائیں ۔ اب نخرے مت کرو ، اٹھ جاؤ ۔ آج یہاں ہماری لاسٹ نائیٹ ہے کل ملائیشیا کے لئے فلائیٹ ہے ۔ وہاں ہنی مون پلس میٹنگز بھی ہیں پھر بزی ہوجاؤں گا تو اور غصہ کروگی۔میر نے اس کا بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب کیا۔
زرتاج نے خفگی کا بھرپور تاثر دیتے ہوئے اس سےنظریں نہیں ملائیں ۔
بس بہت ہوگیا ناں یار ! اب جلدی سے ریڈی ہوجاؤ ۔ باہر بھی ٹائم لگے گا ۔ اس نے زرتاج کو اٹھا کر بٹھا دیا ۔
زرتاج بیڈ سے اتر کر ڈھیلے ڈھالے انداز میں واش روم کی طرف چل پڑی ۔
وہ شاور لینے کے بعد وائیٹ شیفون کے نفیس سوٹ میں ملبوس کسی بھی قسم کے میک سے پاک چہرہ لئے باہر نکلی ۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے دراز بالوں کو سلجھا رہی تھی ۔ میر سجاول بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اسموکنگ کر رہا تھا ۔بے خودی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا یہاں تک کے سگریٹ اس کی انگلیوں تک جاپہنچا ۔ اس نے چونک کر سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا پھر چل کر آیا اور اس کے گرد اپنے بالوں سے بھرپور بازو حمائل کر لئے ۔ آئینے میں دونوں کا عکس ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔
دلبر سائیں ! آپ کو نہیں لگتا کہ ہم دونوں صرف ایک دوسرے کے لئے ہی بنے تھے ۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے گلدان میں سے فلاور نکالا اور پھر فلاور سے زرتاج کے رخسار پر لکیر کھینچ کر اس کی بھیگی زلفوں میں اٹکا دیا ۔
زرتاج نے پلکیں اٹھا کر مسکراتی نظروں سے اس کے دمکتے چہرے کو دیکھا ۔
آئے لو یو ۔وہ بہکنے لگا تھا۔زرتاج کے گلابی چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
آئے لو یو ٹو ۔۔۔۔ مور دین یو ۔ اب آپ لیٹ مت کریں ۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے ۔ وہ میر کو دھکیلتے ہوئے بولی ۔
یار ! دلبر ! پلیز ! میری محبوبہ ہی رہو ۔ خوفناک بیوی مت بنو ۔
تم تو باقاعدہ مجھے پیٹنے لگی ہو اور میں مظلوم سا شوہر تمھارا ہر ظلم سہنے کا عادی ہوتا جارہا ہوں ۔
ایسے دھکا دے رہی ہو جیسے ہماری شادی کو پندرہ بیس سال ہوگئے ہیں ۔
آپ کو وقت بے وقت یہ دورے پڑیں گے تو میں یہی کروں گی ۔ زرتاج نے اس کے بازو پر چٹکی بھری ۔
دلبر سائیں ! اٹس آر ہنی مون ٹرپ ۔ یہ دھکے مکے آپ کو زیب نہیں دیتے ۔ وہ بازو سہلاتا ہوا بے انتہا چہک رہا تھا ۔
زرتاج اس کے شیریں لہجے پر کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
“”””””””””””※””””””””””””
میر سائیں ! آپ نے ساری ڈشز چائینیز ہی منگوائی ہیں ۔ پہلے تو آپ کو چائینیز بلکل پسند نہیں تھا ۔ زرتاج فلائینگ ساسر میں فولک پھنسا کر بولی۔
پہلے واقعی اچھا نہیں لگتا تھامگر اب شوق سے کھانے لگا ہوں،جومیرے دلبر سائیں کی پسند وہ میری پسند ۔ میر نے کندھے اچکائے ۔
زرتاج مسکرا کر پلیٹ پر جھک گئی ۔
میر نے فرائیڈ رائس کا پہلا اسپون اس کی طرف بڑھایا ۔
کیا کر رہے ہیں ، سب لوگ دیکھیں گے ۔ زرتاج جھجکتے ہوئے بولی ۔
سو واٹ ! دیکھنے دو ۔ میرسجاول نے لاپرواہی سے کہا اور اسے اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا ۔وہ جب سے ہنی مون پر آئے تھے میر اسے اپنے ہاتھوں سے ہی کھلاتا تھا ۔
یہ پاکستان نہیں ہے اگر پاکستان بھی ہوتا میں تب بھی اسی طرح تمھیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ۔ گھر میں تو مجبوری ہے ، سب کی موجودگی کا لحاظ کرنا ہوتا ہے مگر باہر اپنی بیوی کو کھانا کھلانے میں مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہوسکتی ۔ وہ سنجیدگی سے بولا ۔
زرتاج نثار ہوتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ ان دو دنوں میں وہ میر کی ذیادتیاں تقریباً بھول چکی تھی ۔ میر سجاول نے اسے اپنی دیوانگی کے سامنے کچھ بھی یاد رکھنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا ۔
ڈنر سے فری ہونے کے بعد میر نے ڈرائیور کو مال لے جانے کے لئے کہا تھا ۔
میں اتنے سارے شوز ، سینڈل اور پرسز کا کیا کروں گی ۔ ابھی تو شادی کا بھی سارا سامان پیکڈ پڑا ہے ۔ زرتاج تھک کر بولی ۔
دلبر ! یہاں کے پرسز اور فٹ وئیر ہی کمال ہوتے ہیں باقی انڈین ڈریسز کے علاوہ کپڑوں کی ورائیٹی ایسی نہیں ہوتی کہ جو تم یوز کر سکو نا میں تمھیں ایسی ڈریسنگ کرنے دوں گا تو پھر کچھ تو لینا ہے نا۔ میر نے یہاں وہاں نظریں دوڑائیں ۔
بس پھر اتنا کچھ تو لیا ہے ناں ، اب واپس چلتے ہیں ۔وہ بیزاری سے بولی ۔
رو کیوں رہی ہو ۔ابھی چلتے ہیں ۔اس نے زرتاج کو بچوں کی طرح پچکارہ ۔
وہ دیکھ رہی ہو۔ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے ۔ تم پر بہت جچے گا ۔ میر نے ایک ڈریس کی طرف اشارہ کیا ۔
یہ میں نہیں پہنونگی ۔ زرتاج نے کانوں کو ہاتھ لگائے ۔
میرے لئے ضرور پہنوگی ۔ وہ بلیک اور گولڈن کنٹراسٹ کا ویسٹرن ٹاپ تھا جس کے ساتھ تنگ جینز تھی ۔ میر نے پے منٹ کی اور زرتاج کا ہاتھ تھامے شاپ سے نکل آیا ۔
میر سائیں ! میں نہیں پہنونگی ۔ میں یہ کیسے پہن سکتی ہوں ۔ میں نے ذندگی میں کبھی جینز نہیں پہنی ہے ۔ زرتاج پورے راستے نہیں نہیں کی رٹ لگاتی رہی مگر روم میں پہنچتے ہی میر سجاول نے بیگ اس کے ہاتھ میں تھما کر زبردستی واش روم میں دھکیلا ۔
زرتاج نے جھجکتے ہوئے بیگ سے ڈریس نکال کر گہری سانس کھینچی ۔
دلبر سائیں ۔۔۔۔۔اب باہر بھی نکلو ، مجھے دکھاؤگی بھی سہی یا میں ایسے ہی سوجاؤں ۔ میر نے بلند آواز میں کہا ۔
چند لمحوں بعد زرتاج گھبرائی ہوئی سی واش روم سے نکلی ۔ میر صوفے پر براجمان اپنے پسندیدہ مشروب سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔
واؤ ، لکنگ سو پریٹی ۔ ادھر آؤ ۔ میر نے سر کے اشارے سے اسے پاس بلایا ۔
نہیں ۔ بس آپ نے دیکھ لیا ناں ، اب میں چینج کررہی ہوں ۔ وہ دوبارہ واش روم کی طرف مڑی۔
ہر گز نہیں ، میری اجازت کے بغیر تم کیسے چینج کر سکتی ہو ، ابھی تو میں نے تمھیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ہے ۔
خبردار ، جو تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا ۔ میر اسے وارننگ دیتا ہوا مضبوط قدم اٹھاتا اس تک پہنچا ۔
میر سائیں ! مجھے جینز میں الجھن ہورہی ہے ۔اس نے منہ بسورا ۔
پوری ذندگی پہننے کے لئے نہیں بولا ہے ۔ کچھ دیر میرا دل بہلانے کے لئے برداشت نہیں کر سکتیں ۔ میر نے پرشوق نگاہوں سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا ۔
ویسٹرن ڈریس میں زرتاج کی فگر قیامت ڈھا رہی تھی ۔ میر سجاول والہانہ اس کی طرف بڑھا ۔ اس نے زرتاج کو شانوں سے تھام کر خود میں سمو لیا ۔
میر سجاول دیوانہ وار اپنی چاہتیں اس پر نچھاور کر رہا تھا ۔زرتاج کے تمام گلے شکوے اپنےمحبوب شوہر کی وارفتگی پر موم بن کر پگھلنے لگے ۔
چاہے جانے کا احساس ہر منفی سوچ پر حاوی ہوگیا تھا ۔ وہ سب کچھ فراموش کئے ان پر کیف لمحات کو یادوں کے سیپ میں قید کر رہی تھی ۔
“”””””””””””””※””””””””””””
میر سائیں ! گساتاخی معاف مگر آپ سے بہت ضروری کام تھا ، اس لئے فون کیا ہے ۔ کریم جھجکتے ہوئے بولا ۔
خیریت ، ایسا کیا کام پڑگیا ۔۔۔۔۔۔گاؤں میں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوگئی؟
میر سبطین یکدم پریشان ہوگیا ۔وہ پچھلے دس بارہ دن سے شہر میں ہی تھا۔
نہیں سرکار ۔ وہ بات دراصل یہ ہے کہ میری اماں کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے ۔ وہ ہاسپٹل میں ہیں ۔
کریم نے تہمید باندھی ۔
اچھا تو پیسوں کی ضرورت ہے ، تم فکر مت کرو ۔ میں چاچا سائیں کو کہہ دیتا ہوں ۔ تم ان سے جا کر ملو بلکہ تمھیں مجھے کال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ چاچا سائیں کسی کی بھی مدد کرنے سے ہاتھ نہیں روکتے ۔ اس بات کا علم تو تمھیں بھی ہوگا ۔میر سبطین ایزی چئیر پر جھولتے ہوئے بولا ۔
سرکار ! بات یہ نہیں ہے ۔ کل سے اب تک سارا خرچہ میر سائیں نے ہی اٹھایا ہے ۔
پھر کیا بات ہے ؟ میر سبطین نے سنجیدگی سے کہا۔
اماں بڑے میر سائیں یاآپ سے فی الفور ملنا چاہتی ہیں،کہتی ہیں انہیں آپ سے کوئی ضروری بات کرنی ہے جو وہ صرف آپ کو یا بڑے میر سائیں کو ہی بتائیں گی ۔
سائیں ! مہربانی کریں ۔ جلدی یہاں پہنچ جائیں ۔ ڈاکٹر نے کہا ہے وقت بہت کم ہے اور اماں آپ سے ملنے پر بضد ہیں ۔ وہ کہتی ہیں آپ سے ملے بغیر دنیا سے چلی گئیں تو رب کو کیا منہ دکھائیں گی ۔
اوکے ۔ رات بہت ہوگئی ہے ۔ میں صبح ہوتے ہی گاؤں کے لئے نکلتا ہوں ۔ تم پریشان مت ہو ، میں پہنچ جاؤں گا ۔میر سبطین نے اسے تسلی دی۔
میر سائیں ! ایک عرض اور ہے ۔ وہ گھگیایا۔
ہاں کہو ،۔۔۔۔۔
اماں نے کہا ہے آپ کے ہاسپٹل ملنے آنے کی خبر حویلی میں کسی اور کو نا لگے ۔ اس بات کا خاص خیال رکھئیے گا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔ میر نے ہنکارہ بھر کے کال کاٹ دی ۔
وہ حیرت ذدہ تھا کہ ایسی کیا بات ہے جو جہاں آرا مرتے وقت صرف ان کو بتانا چاہتی ہے اور اتنی رازداری برت رہی ہے ۔سوچ کو کوئی سرا ہی نہیں مل رہا تھا ۔
اس نے سر جھٹک کر کل ہونے والی میٹنگز کو کینسل کرنے کے لئے اپنے پی۔ اے کو کال ملائی ۔
جاری ہے
