Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dillon Ke Bandhan (Episode 30,31)

Dillon Ke Bandhan Umme Maryam

میر سجاول بھنا تا ہوا ڈرائینگ روم سے نکلا تھا ۔

ساجد ! گاڑی نکالو ۔ اس نے دالان میں کھڑے ہوکر کرخت آواز میں حکم صادر کیا ۔

اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی فل اسپیڈ میں حویلی کا داخلی دروازہ پار کیا تھا ۔

وہ لمحے کی بھی تاخیر کئے بغیر دندناتا ہوا زرتاج کے گھر پہنچا تھا ۔اس نے بریک لگائے توٹائرز کے چرچرانے کی آواز دور دور تک سنائی دی ۔

میر سجاول نے ہاتھ بڑھا کر دروازے پر دستک دی تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔ نظروں کے عین سامنے زرتاج پلنگ پر سر جھکائے بیٹھی تھی جبکہ زرینہ کمرے کے دروازے میں ایستادہ تھی ۔

زرتاج پر پہلی نظر پڑتے ہی مشتعل جذبات پر اوس گرنے لگی ۔

دین محمد جو زرتاج کے پلنگ کے پاس ہی کھڑا تھا اور زرتاج کا برین واش کر رہا تھا ، کھٹکے کی آواز پر مڑ کر دیکھنے لگا ۔

میر سجاول پر نظر پڑی تو دوڑتا ہوا دروازے تک پہنچا ۔زرینہ بھی چند قدم آگے آگئی تھی ۔

کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟اس نے سلام کے بعد گمبھیر آواز میں اجازت طلب کی ۔

سائیں ! آپ کا اپنا گھر ہے ۔ اس نے خوشامدی انداز میں کہتے ہوئے راستہ چھوڑ دیا ۔میر سجاول بھاری قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا اور زرتاج کے پلنگ سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا ۔زرتاج اسے دیکھتے ہی خوفذدہ سی ماں کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی ۔

چاچا ! مجھے زرتاج سے اکیلے میں بات کرنی ہے ۔”اس بار میر نے اجازت طلب نہیں کی تھی ،دین محمد کو آگاہ کیا تھا اور زرتاج کی طرف قدم بڑھائے ۔

جی سائیں ! آپ ہی سمجھائیں ، ہماری تو کسی بات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہورہا ۔دین محمد نے آہستگی سے جواب دیا کہ اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا ۔

میر نے بڑھ کر زرتاج کا ہاتھ پکڑا ،وہ ماں کا پلو ہاتھ میں دبوچے کھڑی تھی۔میر نے اس سے پلو چھڑایا اور کمرے میں لے گیا ۔

زرتاج ٹرانس کی کیفیت میں اس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی ۔اس بے ایمان کو اتنے دنوں بعد روبرو دیکھنے پر سانسیں بھی راستہ بھٹکنے لگیں تھی ۔زخم پھر سے ٹیس دینے لگے تھے ۔میر سجاول کے کپڑوں سے اٹھتی مسحور کن خوشبو گئے دنوں کی یاد دلا گئی ۔آنکھیں یکبارگی آنسؤوں سے لبریز ہوگئیں ۔

دوہاتھ ماروں گا تو سیدھی ہوجاؤ گی اور دماغ بھی ٹھکانے پر آجائے گا جو ضرورت سے کچھ ذیادہ ہی چل رہا ہے ۔

چار دن مجھ سے دور کیا رہی ہو ، زبان کینچی کی طرح چلنے لگ گئی ؟اس زبان کو کھینچ لوں گا ،جس سے تم نے میرے باپ کے سامنےمجھ سے شادی سے انکار کیا ہے۔”میر سجاول نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا منہ دبوچ لیا ۔زرتاج نے اس سے نظریں نہیں ملائیں تھیں۔

سر جھکا کر آیا ہوں۔۔۔۔۔۔معافی مانگ رہا ہوں ۔۔۔۔۔اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے ۔۔۔۔۔اعتراف بھی کر رہا ہوں اور ازالہ بھی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔پوری دنیا کہ سامنے بے عزت کیا ہے تو سب کہ سامنے عزت سے اپنا بھی رہا ہوں ۔۔۔۔۔اس لئے رشتہ بھیجا ہے ۔۔۔۔۔ایسا عاشق کہیں ملے گا ؟میرے رشتے سے انکار کرنے کی تمھاری ہمت کیسے ہوئی۔میر کی انگلیاں زرتاج کے گالوں میں دھنسی جا رہی تھیں ۔

جانتی نہیں ہو کہ تم صرف میر سجاول کی ہو ۔۔۔۔۔اگر بھول گئی ہو تو یاد دلا دیتا ہوں ۔ میر دانت بھینچے غضبناکی سے گویا تھا ۔یکدم ہی اس کے چہرےپر جھک گیا ۔زرتاج پھڑپھڑانے لگی مگر میر نے پوری قوت سے اسے جکڑ لیا تھا ۔

اب شادی تک اپنا منہ بند رکھنا ورنہ شادی کہ بغیر ہی لے جاؤں گا اور ذندگی بھر ایسے ہی اپنے ساتھ رکھوں گا پھر کوئی شکوہ زبان پر لائی تو وہ حشر کروں گاذندگی بھر یاد رکھوگی ۔میر نے پیچھے ہٹتے ہوئے اسے دھمکایا۔

میں انکار کروں گی ۔۔۔۔۔ایک بار نہیں ہزار بار کروں گی ۔آپ کیا سمجھتے ہیں ،اس طرح ڈرا دھمکا کر مجھے راضی کر لیں گے ۔۔۔۔۔میں اب ہر گز بھی آپ کی نام نہاد محبت کے جھانسے میں نہیں آؤں گی ۔

زرتاج نے اس کے پیچھے ہٹتے ہی اپنی بے قابو ہوتی سانسوں کے درمیان نفرت سے کہا ۔

مجھے آپ سے شدید نفرت ہے ۔میرا تماشہ بنانے کے بعد آپ کو میری عزت کا خیال آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔جب میں آپ کی منتیں کرہی تھی تب یہ محبت کہاں سوئی ہوئی تھی جو اب یکدم جاگ اٹھی ہے ۔

آپ کو اس دن ایک بار بھی اس محبت کا خیال کیوں نہیں آیا تھا ،

میری ذات اتنی ارزاں تھی کہ آپ نے ایک پل میں روند ڈالی ۔

اس دن آپ نے میرے جسم کو ہی نہیں میری روح کو بھی زخمی کیا تھا ۔میرے مان کو ، میرے بھروسے کو توڑا تھا ۔۔۔۔۔۔میری آنکھوں سے خواب نوچ لئے تھے ۔

اس دن جس طرح آپ کا ضمیر مر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اسی طرح اب میرے احساسات بھی مردہ ہو چکے ہیں ۔

زرتاج نےسسکیوں کے درمیان اس کاگریبان پکڑکر پے در پے کئی تھپڑ جڑے پھر وہ رخ موڑ گئی تھی ۔میر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔

محبت ہی توکرتا ہوں تم سے اس لئے اتنی شرافت سے سر جھکا کر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ۔۔۔۔۔ورنہ میر سجاول اپنے باپ کے سامنے بھی نہیں جھکتا ۔تبھی تو اتنی اکڑ دکھا رہی ہو مگر مجھے اکڑ نکالنا بھی آتی ہے۔اس نے زرتاج کا بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑا اور اس کا گلا پکڑ لیا ۔میر نےسختی سے اس کی نازک گردن دبوچ لی ۔

زرتاج کی آنکھیں باہرکو ابلنے لگیں ۔آنسؤوں کی دھار آنکھوں کے کناروں سے بہہ رہی تھیں ۔وہ خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔

بولو ، کرنی ہے شادی ۔۔۔۔۔یا نہیں کرنی ؟اس نے جھٹکا دیتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا ۔

زرتاج نے شدید گھٹن کے باوجود بھی نفی میں آنکھوں سے اشارہ کیا۔

زری ! اب اگر انکار کیا تو سچ میں تمھیں مار ڈالوں گا ،اس سے ذیادہ برداشت نہیں ہے مجھ میں ۔۔۔۔۔۔۔میرے غصے کو ہوا مت دو ۔

بولو ، اب بھی نہیں ۔۔۔۔۔میر نے غراتے ہوئے ہاتھ کا دباؤ مزید بڑھایا ۔

زرتاج کو لگا اس کا دم نکلنے والا ہے یا پھر اس کا دماغ پھٹ جائے گا یا وہ اگلے پل تک ذندہ نہیں رہ پائے گی ۔اس نے بے بسی سے اثبات میں سر کو جنبش دی ۔میر نے فوراً اس کا گلا چھوڑ دیا ۔وہ قہر آلود نظروں سے زرتاج کو گھور رہا تھا ۔

زرتاج کھانستے ہوئے اوندھے منہ پلنگ پر گری اور گہرےگہرے سانس لینے لگی ،اس میں کھڑے رہنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا گلا سہلا رہی تھی ۔

دلبر سائیں ! اگر اجازت ہو تو اٹھائیس کی بجائے کل ہی بارات لے کر آجاؤں ؟ وہ زرتاج کے برابر میں بیٹھ گیا اور بھرپور نظروں سے دیکھتے ہوئےمعصومیت سے پوچھا ۔اس نے زرتاج کےہاتھ گلے سے ہٹائے اور خود نرمی سے سہلانے لگا ۔

اب میرے لئے مزید صبر کرنا نا ممکن ہو گیا ہے ۔وجہ سے تو اب تم انجان نہیں رہی ہو۔وہ مسکراہٹ دبائے ڈھٹائی سے گویا تھا پھر جھک کر اس کے گلے پر پڑنے والے اپنے ہاتھوں کے نشانات کا جائزہ لینے لگا ۔

زرتاج کی گلابی گردن پر اس کی انگلیوں کے نشانات ابھر آئے تھے ۔میر سجاول نے اس کی گردن میں سر گھسا کر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔

زرتاج نے بدک کر دونوں ہاتھ اس کے سینے پر جما کر دھکا دیا اور پلک جھپکتے میں دور جا کھڑی ہوئی۔میر کا بلند خوبصورت قہقہہ بے ساختہ تھا ۔

تمھاری ناراضگی اور نفرت بجا ہے ۔۔۔۔۔شادی کے بعد یہ بے رخی ۔۔۔۔قطعیت ،ناز نخرے سر آنکھوں پر اٹھاؤں گا۔میں تمھارا گناہ گار ہوں اور میرے نذدیک اس گناہ کا کفارہ ہماری شادی ہے ۔ وہ دھیمے قدموں سے زرتاج کے پاس آیا اور سنجیدگی سے کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام لیا ۔

زرتاج نے آہستگی سے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے ۔اس کی آنکھیں اب بھی جھلملا رہی تھیں ۔

دلبر سائیں ! میری جان ہو ناں ۔۔۔۔۔۔۔کیا تم ایک بار مجھے معاف نہیں کر سکتیں ؟ میں مرتے دم تک تمھارا غلام بن کررہوں گا ۔وہ ہاتھ جوڑے عاجزی سے مخاطب تھا ۔

میری طرف دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔یہ دیکھو ، ہاتھ جوڑ رہا ہوں ۔میر نے جڑے ہاتھوں کو ماتھے سے لگایا ۔

پلیز دلبر سائیں ! مان جاؤ ، اب غصہ تھوک دو ۔ذندگی بھر تمھارا ہر حکم مانوں گا ۔بس ایک بار معافی دے دو ۔وہ ہاتھ جوڑے بولے جا رہا تھا ۔

زرتاج نے بھی اس کی ہر معافی کے جواب میں فقط خاموشی کو اس کی سزا مقرر کر دیا تھا ۔ دل میں اٹھنے والے درد کو دبائے اس نے میر سجاول کے جڑے ہاتھوں پر مکمل بے نیازی ظاہر کی ۔

میر چند لمحے آس بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر خاموشی سے اپنے سلکی گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا پلٹ گیا ۔

“”””””””””””””””””

عروش سوپ کا پیالہ ایک ہاتھ میں تھامے دوسرے ہاتھ سے شاہ کو سوپ پلا رہی تھی ۔

عروش!یہ سوپ تم خود بنا کرلائی ہو ؟ شاہ نے زرا مختلف ذائقہ محسوس کیا تو اس کا ہاتھ روک کر استفسار کیا ۔

جی ۔۔۔۔۔

یار ! گھر میں اتنے نوکر ہیں ۔۔۔۔تم کیوں خود کو اتنا تھکاتی ہو ۔دن رات میری خدمتوں میں لگی رہتی ہو اور جب تھوڑی سی دیر کے لئے گھر جاتی ہو تب بھی آرام نہیں کرتی ۔ شاہ قدرے غصے سے بولا ۔

اف ۔۔۔۔سوپ بنانے میں کیسی تھکن ، جھٹ پٹ بن جاتا ہے ۔اس نے چٹکی بجا کر شاہ کو مطمئین کرنا چاہا ۔

مگر مجھے تمھارا یہ سب کام کرنا پسند نہیں ۔پلیز ! کچھ تو میرے دل کا خیال کرو ۔ شاہ کا انداز التجائیہ تھا ۔

اچھا ناں ! اب نہیں کروں گی مگر اب یہ تو ختم کریں۔اس نےپیالے کی طرف اشارہ کرکے شاہ کو ٹالنے کی کوشش کی ۔

گھریلو کام کاج سے تمھارے مخملی ہاتھوں پر زرا سی بھی خراش آئی تو مجھ سے برداشت نہیں ہوگا ۔وہ پیالے کو پرے کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا ۔ شاہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی ۔

اچھا بابا ! اب نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔یہ تو ختم کریں ،پھر گھر جا کر پیکنگ بھی کرنی ہے ۔ہوسکتا ہے تھوڑی شاپنگ بھی کرنی پڑ جائے۔

آپ کی یو ۔کے کی فلائیٹ میں چند دن تو رہ گئے ہیں ،آپ کو یاد نہیں؟

عروش نے اسپون اس کے منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔

مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔شاہ نے نروٹھے پن سے جواب دیا ۔

کیوں نہیں جانا ؟

کیوں کہ مجھے معلوم ہے ، میرا علاج کہیں نہیں ہے ۔۔۔۔۔مجھے ساری ذندگی اسی معذوری کے ساتھ گزارنی ہے ۔اس نے مایوسی سے کہتے ہوئے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔

شاہ ! پلیز ! میری طرف دیکھیں ۔۔۔۔۔آپ پر اس قدر مایوسی سوٹ نہیں کررہی ۔۔۔۔۔یہ وہ معظم شاہ تو نہیں جس نے چند گھنٹوں میں مجھے ڈھونڈ لیا تھا اور بے خوف و خطر ایک درندے کے چنگل سے آزاد کروانے پہنچ گیا تھا ۔اس نے دونوں ہاتھوں میں شاہ کا چہرہ تھام کر اس کا رخ اپنی جانب کیا ۔

مکتوم بھائی نے تمام تر تسلی کر لینے کے بعد ہی ڈاکٹرز سے اپائینمنٹ لی ہے ۔ آپ کی رپورٹس میں نیگیٹوٹی کے چانسز مائینر ہیں ۔مکتوم بھائی خود ڈاکٹر ہیں بغیر تسلی کئے وہ کوئی فیصلہ کبھی نہیں کرتے ۔

مجھے مکتوم بھائی پر پورا بھروسا ہے ۔

سب سے بڑھ کر مجھے اللہ پاک پر بھروسا ہے ۔مجھے پوری امید ہے آپ پھر سے پہلے کی طرح اپنے پیروں پر چلنے لگیں گے ۔وہ پر اعتماد لہجے میں بولی ۔

تم ساتھ چل نہیں سکتی ، میں وہاں تمھارے بغیر کیسے رہوں گا ۔مجھے تمھاری فکر رہے گی ۔۔۔۔۔۔تمھیں ایسی حالت میں چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں ۔وہ پریشانی سے پیشانی مسلنے لگا ۔

میں یہاں اکیلی تو نہیں ہوں ،سب موجود ہیں اور پھر بس کچھ عرصے کی تو بات ہے ۔عروش نے یوں ظاہر کیا جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں مگر درحقیقت ڈلیوری کے دوران شاہ کی غیر موجودگی کا احساس اسے چبھ رہا تھا ۔

شاہ نے اس کی آنکھوں میں سوچ کی چبھن محسوس کی تو اس کا سر اپنے کاندھے سے لگا لیا ۔

یہی وجہ ہے کہ میں ابھی نہیں جانا چاہتا ۔۔۔۔۔ میرا ٹریٹمنٹ اتنا ضروری نہیں جتنی تمھارے پاس میری موجودگی ضروری ہے ۔وہ عروش کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا ۔

لیکن میں جلد از جلد آپ کو چلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں اس کے لئے آپ کی کچھ دن کی جدائی مجھے منظور ہے اور اب آپ ضد نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔خوشی خوشی جائیں گے ۔پلیز ! میرے لئے ۔عروش نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بات مکمل کی ۔

شاید میں تمھیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاتا مگر تمھارا یہ انداز بہت خوبصورت ہے ۔شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھام کر انگلی کو لبوں سے لگا لیا ۔

“””””””””””””””””

میر سبطین نے شیرازی ولا کے سامنے گاڑی روکی تو گارڈ کو حیرت سے غش آنے لگا ۔

مکتوم شاہ گھر میں موجود ہیں ۔۔۔۔؟ میر سبطین نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا ۔ وہ گارڈ کی حیرت پر خاصا محفوظ ہوا تھا ۔

جی بلکل موجود ہیں ۔ گارڈ نے مؤودبانہ کہتے ہوئے دروازہ کھلوایا ۔

میر سبطین اندر گاڑی بڑھا لے گیا ۔

وہ گاڑی پارک کرنے کے بعد ملازم کی رہنمائی میں وسیع و عریض ڈرائینگ روم تک پہنچا تھا ۔

وہ صوفے پر ٹانگ پر چڑھائے بیٹھا ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا ،تبھی مکتوم شاہ نے ڈرائینگ روم میں قدم رکھا ۔اسے میر سبطین کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔

میر سبطین کی نظر اس پر پڑی تو اپنی جگہ سے اٹھ کر مکتوم شاہ سے بغل گیر ہوا ۔

مجھے یقین تھا ، تم مجھے انوائیٹ کرنے ضرور آؤگے مگر شیرازی ولا آؤگے اس بات کا اندازہ نہیں تھا ۔بحرحال تمھیں یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔مکتوم شاہ گرمجوشی سے ملتے ہوئے بولا ۔

تم صحیح کہہ رہے ہو ،اگر صرف تمھیں انوائیٹ کرنا ہوتا تو میں ہاسپٹل ہی جاتا مگر میں پورے شیرازی ولا کو انوائیٹ کرنا چاہتا تھا اس لئے یہاں آیا ہوں ۔ میر سبطین صوفے پر بیٹھتے ہوئے کارڈ بڑھایا ۔

دیٹس گڈ ۔۔۔مکتوم شاہ نے کارڈ پر سرسری نظر دوڑائی ۔

معظم شاہ کی اب کیسی حالت ہے ۔۔۔۔ اسے ہوش تو آگیا تھا ناں ؟

ہمم ۔۔۔۔ اب وہ بہتر ہیں ۔امپروومنٹ تو کوئی نہیں لیکن میں انہیں نارووڈ لندن کے ہاسپٹل میں ٹریٹمنٹ کے لئے لے جارہا ہوں ،انشاءاللہ وہاں ان کا علاج اچھے طریقے سے کیا جائیگا ۔وہاں کے اسپیشلسٹ سے میری بات ہو چکی ہے ۔مکتوم شاہ نے تفصیلاً جواب دیا ۔

اس کا مطلب ہے تم شادی بھی اٹینڈ نہیں کر سکوگے ، کیونکہ شادی کے فنکشنز دو دن بعد اسٹارٹ ہیں ۔

مہندی تو اٹینڈ ہوجائیگی ۔ فلائیٹ میں ابھی ٹائم ہے ۔ پوری شادی تو اٹینڈ نہیں کر سکوں گا ۔ جس کا مجھے بے حد افسوس رہے گا ۔ آخری جملہ اس نے دل میں کہا تھا ۔ وہ تصور کی آنکھ سے رانیہ کو سجا سنورا دیکھ رہا تھا ۔

میر سجاول نے بہت عقلمندانہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے فیصلے پر مجھے دل سے خوشی ہوئی ہے ۔اس فیصلے سے زرتاج کی کھوئی ہوئی معصومیت تو واپس نہیں لوٹے گی مگر معاشرے میں اسے عزت اور مقام ضرور مل جائیگا ۔میر سجاول کا نام اس کے نام سے جڑ جائیگا تو لوگوں کے منہ خود بخود بند ہو جائیں گے ۔مکتوم شاہ نے میر سجاول کے فیصلے کو دل سے سراہا ۔

میر سجاول کا فیصلہ حقیقتاً بہترین ہے ۔اس نے اعتراف کر کے ہم سب کو ہی حیران کر دیا ہے ۔

مجھے تو اس سے اتنی جذباتیت کی بھی امید نہیں تھی کہ وہ یہ سب کر گزرے گا کیونکہ وہ ہمیشہ سے کریکٹر وائز نیٹ اینڈ کلین ہی رہا ہے پھر نجانے کیوں اس پر یہ شیطانیت سوار ہوئی بحرحال وقت رہتے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا یہی بہت ہے ۔میر سبطین بھی اس کا ہم خیال تھا ۔

یار ! اب اجازت دو ۔۔۔۔بہت کام پڑے ہیں ۔شادی میر صاحب کے شایانِ شان ہونی ہے اور وقت ان کی خواہش کے مطابق بے حد کم ہے ۔ میر سبطین نے چائے ختم کی اور جانے کی اجازت لی ۔

اماں سے تمھیں ضرورملواتا وہ تم سے مل کر بہت خوش ہوتیں مگر انہیں حویلی کے اس حصے میں آنے کی پرمیشن نہیں ہے ۔

وہ اکثر پرانی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے تمھیں یاد کرتی ہیں ۔تم انہیں بہت اچھی طرح یاد ہو اور تمھاری شرارتیں بھی ۔مکتوم شاہ اس کے ساتھ ہی ڈرائینگ روم سے باہر نکل آیا ۔میر سبطین کھل کر مسکرایا ۔

اماں کو شادی میں ضرور لے کر آنا ۔ میں وہاں ان سے ملاقات کر لوں گا ۔مجھے بھی وہ یاد ہیں ۔

میر سبطین بولتے بولتے خاموش ہوگیا ۔ دونوں کی نظر ایک ساتھ صفدر شاہ پر پڑی تھی ۔

صفدر شاہ پشت پر ہاتھ باندھے انہیں ہی گھور رہے تھے ۔

جاری ہے

Episode 31

اسلام و علیکم ! میر سبطین نے صفدر شاہ کے نذدیک پہنچ کر بلا جھجک مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔

ہوں ۔۔۔۔ صفدر شاہ نے ہنکارے کی صورت سلام کا جواب دیا ۔

مکتوم شاہ ان کے سرد مہر انداز پر جزبز ہو گیا مگر میر سبطین کے اعتماد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔

کیا میں جان سکتا ہوں کس سلسلے میں آمد ہوئی ہے ۔۔۔۔۔؟ صفدر شاہ نے اسی سرد مہر انداز میں سوال کیا ۔

میں اپنے بھائی کی شادی کا انویٹیشن دینے کے لئے آیا ہوں ۔

میں چاہتا ہوں آپ لوگ اس شادی میں ضرور شرکت کریں اور اس نام نہاد دشمنی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس گاؤں کی آنے والی نئی نسلیں گاؤں کی آزاد فضا میں سانس لے سکیں نا کہ اس دشمنی کہ گھٹن ذدہ ماحول میں پروان چڑھیں ۔

نہ کسی معصوم زرتاج کی عزت داغ دار ہو اور نہ کسی رانیہ کوبے قصور ہوتے ہوئے بھی سزا ملے گی ۔میر سبطین اپنے ازلی پراعتماد لہجے میں صفدر شاہ کے دماغ میں لگی گرہیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔جبکہ مکتوم شاہ خاموشی سے صفدر شاہ کے چہرے پر اترتے چڑھتے تاثرات نوٹ کر رہا تھا ۔

تمھاری یہ بے سروپا باتیں میرے نذدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔دشمنیاں نبھانے میں بچوں کا کردار اہم ہوتا ہے مگر دشمنیاں ختم کرنے کے لئے بڑوں کو آگے بڑھنا ہوتا ہے ۔

اگر دشمنی ختم کرنے کا عزم لے کر آئے تھے تو تنہا ہی چلے آئے ؟جو

تقریر میرے سامنے کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔اس کا تھوڑا سا بھی حصہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی سنایا ہے یا صرف ہمیں ہی مرعوب کرنا چاہتے ہو ۔

اس کارِ خیر کی شروعات اپنے گھر سے شروع کروگے تو یہ ذیادہ بہتر رہے گا ۔

صفدر شاہ نے اس کی نیک نیتی کو چٹکیوں میں اڑا دیا اور تنہا چلے آنے پر زبردست چوٹ کی ۔

وہ ناگواری اسے مشوروں سے نواز کر وہاں رکے نہیں ، لمبے لمبے قدم اٹھاتے حویلی کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئے ۔

میر سبطین کے چہرے پر سایہ سا لہرایا مگر جلد ہی اس نے اپنے چہرے پر پراعتماد مسکراہٹ سجالی ۔

ڈونٹ وری یار ! میں انہیں منا لوں گا اور وہ ضرور اس خوشی موقع پر ہمارے ساتھ شامل ہونگے ۔مکتوم شاہ نے اس کے کاندھے کو تھپکا ۔

میر سبطین کے چہرے پر سایہ سا لہرایا مگر جلد ہی اس نے اپنے چہرے پر پراعتماد مسکراہٹ سجالی ۔

اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر مکتوم شاہ کے ہونٹوں پر بھی آسودہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا ۔

””””””””※””””””””

بڑی حویلی کے درو دیوار ، سبزہ زاروں کا ایک ایک درخت پیڑ پودہ بھی فینسی لائیٹس سے جگمگا رہا تھا ۔

مہندی کے مشترکہ فنکشن کے لئے حویلی کے پچھلے حصے کو بڑی نفاست اور شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا ۔لیڈیز اور جینٹس کے درمیان پارٹیشن تھا ۔ زرتاج کو اسی مختص کئے گئے حصے میں مہندی کی رسم کے لئے لایا گیا تھا ۔

میرسجاول نے شہر کےنمبر ون ایونٹ پلینرکو ڈیکوریٹنگ کا زمہ سونپا تھا۔

ہر چیز سے میر سجاول کی زرتاج کے لئے والہانہ محبت اور دیوانگی چھلک رہی تھی ۔

حویلی والے تو حیران تھے ہی ، گاؤں والے بھی زرتاج کی قسمت پر رشک کر رہے تھے کہ میر سجاول کے صبیح چہرے پر رکساں بے پایاں خوشی اورشادی کی تقریبات کو اتنے منفرد انداز سے منعقدکرنے پر سب کو حیرت میں مبتلا ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔

جنہوں نے زرتاج کے ساتھ ہونے والے سانحے پر اس کے گھرانے سے منہ موڑ لیا تھا ۔ فائزہ بیگم کی زہر افشانی حویلی کے خاص ملازموں کی زبانی گاؤں کے ہر فرد کے کانوں تک پہنچ چکی تھی ۔

اکثریت نے فائزہ کے جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں کو سچ مان کر زرتاج کو ہی قصور وار ٹہرایا تھا مگر اب شادی پر خرچ ہونے والی بے دریغ دولت اور دھوم دھام دیکھ کر سبھی کو زرتاج کے گھرانے سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔

پاس پڑوس والوں نے ان کے گھر کی چوکھٹ ہی پکڑ لی تھی ۔زرتاج کا رشتہ بڑی حویلی سے جڑنے پر سارے گاؤں نے ہی ان لوگوں کو سر پر بٹھا لیا تھا ۔

پڑوس کی عورتیں صبح کو جو ان کے گھر میں ڈیرہ ڈالتیں تو رات ہوجاتی،

وہ زرینہ اور زرتاج کو گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھیں ۔

زرینہ منع کرتی رہ جاتی مگر کوئی اس کی ایک بھی نہیں سنتی ۔

زرتاج لوگوں کے پل پل بدلتے رویوں کو دیکھ کر پہروں سوچتی رہتی ۔

اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس دنیا میں صرف پیسے اور رتبے کا ہی بول بالا ہے ۔

جس کی سنہری چمک دمک کے سامنے دنیا والے اچھوت کو بھی معتبر بنا دیتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کے پاس نا ہوں تو دنیا حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے ۔

لڑکیاں جب اسے میر سجاول کے نام پر چھیڑ رہی تھیں تو اس کے دل سے ہوک اٹھ رہی تھی ۔

وہ دکھ سے سوچ رہی تھی کہ یہی سب کچھ اگر اس کی پامالی سے پہلے طے پاتا تو یقیناً یہ اس کی ذندگی کے حسین ترین لمحات ہوتے مگر اب یہی سب کچھ اسے تکلیف دے رہا تھا ۔

میر سجاول کا نام اس کے من میں گلاب کھلانے کی بجائے تہمت لگ رہا تھا ۔

اس کے دل نے ان خوبصورت دنوں کی خواہش تو بڑی شدت سے کی تھی مگر جس طرح یہ خواہش پوری ہونے جارہی تھی ، یہ وقت اور لمحات،روشنیاں ، گہماگہمی اس کے لئے جان لیواثابت ہورہی تھی ۔

حاضرین کی خود پر اٹھنے والی ستائشی نظریں بھی اسے تمسخراڑاتی لگ رہی تھیں ۔اس پر فائزہ بیگم کی نظروں سے چھلکتی نفرت اور بیزاری

نے اسے خوف میں مبتلا کیا ہوا تھا ۔

اس کے چہرےپر اترتی اداسی کو رانیہ نے دور سے محسوس کیا وہ تیز قدموں سےاسٹیج تک پہنچی اور زرتاج کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کی پیشانی پر جھولتی بندیا کو درست کیا ۔

زری بھابھی ! اتنی اداس کیوں ہیں ، اس وقت آپ کے چہرے پر یہ اداسی بلکل نہیں جچ رہی ۔

آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ سجاول بھائی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ اس تقریب کے ارینجمنٹ سے لے کر آپ کے بیڈروم کی سجاوٹ تک ہر چیز ان کی دلی خوشی اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

آپ پریشان مت ہوں ، اب آپ کی ذندگی میں سب کچھ اچھا ہونے والا ہے ۔ سجاول بھائی آپ کو بہت خوش رکھیں گے ۔رانیہ نے محبت سے کہتے ہوئے دھیرے سے اس کا ہاتھ دبایا ۔

اب وہ رانیہ کو کیا بتاتی کہ میر سجاول ہی تو اس کی ادسی کا سبب تھا،اس کے نام کے ساتھ اپنے نام کاجڑنا اس کے لئے باعث مسرت نہیں بلکہ احساسِ ذلت میں مبتلا کر رہا تھا ۔وہ بس دھیمے سے مسکرا کر رہ گئی ۔

زرد جوڑے میں زرتاج کا دلکش سراپا جگمگا رہا تھا ۔بیوٹیشن کی مہارت نے اس کے حسن میں چار چاند لگا دئیے تھے ۔

میر سجاول نے شام میں ہی رانیہ کو بھیج کر زرتاج اور زرینہ کو حویلی بلوالیا تھا ۔حویلی میں ہی اس کو تیار کروایا گیا تھا ۔

میر سجاول نے دل کے بارہا شور مچانے پر بھی اسکا سامنا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

وہ بمشکل ہی سہی خود کو سنبھالے ہوئے تھا مگر جب زرتاج تیار ہونے کے بعد رانیہ اور دیگر خواتین کی مدعیت میں اسٹیج تک لائی گئی تو حویلی کے دالان سے گزرتے ہوئے میر سجاول کی نظر اس پر پڑی تھی اور پھر پلٹنا بھول گئی ۔

زرتاج کا روپ اپسراؤں کو بھی مات دے رہا تھا ۔ میر سجاول کا دل اس کو ایک پل قریب سے دیکھنے کے لئے بے قابو ہو گیا تھا مگر خواتین میں اس کی انٹری کا کوئی سین نہیں تھا ،وہ دل مسوس کر رہ گیا ۔

*************※*************

جینٹس سائیڈ پر مہندی کی رسم زور و شور سے جاری تھی ۔ میر سجاول کے تقریباً سبھی دوستوں نے بھر پور طریقے سے شرکت کی تھی اور ہلا گلا کرنے میں مصروف تھے ۔ جو کسی کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے وہ بھی شورٹ نوٹس پر شادی اٹینڈ کے لئے پہنچ چکے تھے ۔

میر سبطین بھی سگے بھائیوں سے بڑھ کر فرائض انجام دے رہا تھا۔اس نے ہر کام اپنی نگرانی میں کروایا تھا ۔اس کی وجہ سے میر سجاول بھی خود کو ریلیکس محسوس کر رہا تھا ۔

میر سجاول نے اپنے کسی دوست کی بات پر قہقہہ لگایا تبھی اس کی نظر صفدر شاہ اوراس کے ساتھ اندر داخل ہوتے ہوئے مکتوم شاہ پر پڑی۔

اس نے پاس کھڑے سبطین کو زبردست گھوری لگائی مگر میر سبطین نے اسے نظروں ہی نظروں میں خاموش رہنے کی التجا کی اور جلدی سے اسٹیج سے اتر گیا ۔

آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔آپ نے یہاں پہنچ کر میرا مان رکھ لیا ۔میر سبطین بے تکلفی سے صفدر شاہ کے گلے ملتے ہوئے بولا ۔

تم کیا سمجھتے ہو ۔۔۔۔۔فاصلے مٹانے کا سارا کریڈٹ تم اکیلے لے جاؤگے ۔۔۔۔۔۔یار ! تھوڑا حق تو ہمارا بھی بنتا ہے ۔ صفدر شاہ مصنوعی خفگی سے بولے ۔ میر سبطین کا قہقہہ برجستہ تھا ۔

اس نے کھلتی مسکراہٹ کے ساتھ مکتوم شاہ کو ویلکم کیا ۔ میر غضنفر بھی ان تک پہنچ چکے تھے اور ان کے پیچھے میر جعفر بھی سست قدموں سے آکھڑے ہوئے ۔

تم کچھ بھی کہہ لو صفدر ! پورا کریڈٹ میرے بیٹے کو ہی جاتا ہے ،اس نے ہی انا کو پس پشت ڈال کر فاصلے سمیٹے ہیں ورنہ یہ گرد اتنی جلدی مٹنے والی نہیں تھی ۔

میر غضنفر بھی صاف گوئی سے کہتے ہوئے صفدر شاہ سے بغل گیر ہوگئے آخر کو وہ سب بچپن کے دوست تھے اور دلوں کے رشتے خون کے رشتوں جتنے ہی مضبوط ہوتے ہیں ۔ وقتی طور پر گرد چھا بھی جائے تو وہ زرا سی پیش قدمی سے صاف بھی ہوجاتی ہے ۔

بیس سال کا طویل عرصے گزر جانے کے بعد ہی سہی وہ سب دلوں کے بندھن میں ایک بار پھر بندھنے جارہے تھے ۔

میر جعفر نے بھی بنا کسی پس و پیش کے خوش دلی سے انہیں ویلکم کیا ۔

میر سجاول کے دوستوں نے باقاعدہ ڈانس اسٹارٹ کر دیا تھا ۔ میر سبطین بھی اپنے ڈیسینٹ اسٹائل سے نکل کر دل کھول کر انجوائے کر تھا اور مکتوم شاہ ، میر حنین نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا تھا ۔

بس ایک میر سجاول ہی تھا جو سب کے بھرپور اسرار اور بے انتہا خوشی کے باوجوددبھی خود کو ڈانس کے لئے آمادہ نہیں کر سکا تھا ۔

وہ صوفے پر بیٹھا ہوا یہ سب بہت بھر پور طریقے سے انجوائے کر رہا تھا ۔

وائیٹ شلوار سوٹ پر ویسٹ کوٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ سے بڑھ کر چارمنگ لگ رہا تھا ۔چہرے پر بکھری دلی خوشی سے بھر پورمسکراہٹ نے اسے مزید دلکش بنا دیا تھا ۔

“””””””””””※”””””””””””

رانیہ ! جلدی سے پول سائیڈ پر پہنچو ،مجھ تم سے کچھ ضروری کام ہے ۔

میر سجاول نے عجلت میں کہہ کر کال کاٹ دی اور وہیں ٹہلتے ہوئے سگریٹ سلگا کر رانیہ کا انتظار کرنے لگا ۔

کچھ دیر بعد رانیہ اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی گھبرائی ہوئی سی دور سے آتی ہوئی نظر آئی ۔

جی سجاول بھائی ! اتنی ایمرجنسی کیوں بلایا ۔۔۔۔۔۔۔آپ کو ایسی کیا ضروری بات کرنی تھی ؟

بہت ہی ضروری کام تھا ،جو صرف تم کر سکتی ہو اور کوئی بھی نہیں ۔

میر سجاول بے تابی سے گویا ہوا ۔

جی بولیں ۔۔۔۔ رانیہ کو تجسس ہوا ۔

رانیہ تم کسی بھی طرح بس تھوڑی سی دیر کے لئے زرتاج کو اندر والے روم میں لے آؤ ۔۔۔۔۔ مجھے بس دو منٹ اس سے بات کرنی ہے ۔میر سجاول نے منت کی ۔رانیہ پہلے تو اس کے منت بھرے انداز پر مسکرائی جو اس نے پہلی بار دیکھا تھا پھر قدرے پریشانی سے بولی ۔

مگر میں انہیں سب کے درمیان سے کیسے لےکر آ سکتی ہوں ؟آپ جانتے بھی ہیں وہاں کتنا رش لگا ہوا ہے ۔سب پوچھیں گے نا کہ میں دلہن کو کہاں لے جارہی ہوں ۔رانیہ نے الجھتے ہوئے کہا ۔

تم کوئی بھی بہانہ کر دینا ۔بلکہ میں تمھیں بتاتا ہوں کیا کہنا ہے ۔وہ رانیہ کے شولڈر پر ہاتھ رکھے ٹہلتے ہوئے اسے ترکیب سمجھانے لگا ۔

پلیز ! اب جلدی سے جاؤ اور اسے لے کر آؤ ۔ میری پیاری سی بہن ہو ناں ۔۔۔۔۔میں تمھیں ڈھیر ساری چاکلیٹس لا کر دوں گا ۔وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے شرارت سے بولا ۔

اف ۔۔۔۔۔سجاول بھائی آپ بھی ناں ۔۔۔۔۔۔ میں کوئی چھوٹی سی بچی ہوں جو آپ مجھے چاکلیٹس کا لالچ دے رہے ہیں ۔ اس نے منہ پھلایا ۔

اچھا تم جو بولو گی وہ لا دوں گا ۔۔۔۔۔۔ابھی میرا کام کر دو، ذندگی بھر تمھاری فرمائیشیں پوری کروں گا ۔میر نے با لوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔

ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ اپنا وعدہ یاد رکھئے گا ۔ وہ پلٹتے ہوئے انگلی اٹھا کر بولی ۔

میں وعدہ کر کے بھولنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔اب جلدی جاؤ اور اسے ساتھ لے کر ہی آنا ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بولا ۔

رانیہ مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلاتی ہوئی چلی گئی ۔

میر سجاول سگریٹ کے کش بھرتے ہوئے بے صبری سےرانیہ کےواپس لوٹنے کا انتظار کر رہا تھا ۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *