Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dillon Ke Bandhan (Episode 05)

Dillon Ke Bandhan Umme Maryam

رات نے گہری سیاہی کی چادر اوڑھی ہوئی تھی چاروں سو سناٹے کا راج تھا۔گاؤں کے آوارہ کتے بھی اب شاید تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے ۔

زرتاج بڑی سی کالی چادر میں خود کو چھپائے ، ڈری سہمی سی چھپتی چھپاتی نہر کنارے پہنچی تھی ۔

یہ نہر شاہ پور ،اور میر نگر کی سرحد بندی کے سنگم پر تھی ۔

نہر کے پاس کھڑے درخت سے ٹیک لگا کر اس نے گہرے گہرے سانس لئے تب ھی دور سے آتی گاڑی کی ہیڈ لائیٹس سے اس کے

چہرے پر روشنی پڑی ۔اس نے کہنی سے چہرے کو چھپا لیا ۔

گاڑی اس سے زرا فاصلے پر آکر رک گئی ۔میر سجاول نے اسے سر کے

اشارے سے نزدیک آنے کو کہا اور فرنٹ ڈور کھول دیا ۔

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گاڑی تک پہنچی ۔

سرکار !آج تو اپنے تابعداری کے سارے ریکارڈ توڑ کر دل خوش کر دیا۔

اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مستقبل میں آپ ایک فرمانبردار بیوی ثابت

ہونگی ۔میر سجاول نے دل پر ہاتھ رکھ کر شوخی سے کہا ۔

سائیں ! جلدی بتائیں ،کیا بات کرنا تھی ۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔

اتنی بھی کیا جلدی ہے ،پہلے بیٹھو پھر بتا تا ہوں۔

نا ں سائیں ! آپ نے کہا تھا نہر کنارے ملوں تو میں آگئی لیکن پلیز !

اب مہربانی کریں مجھے جانے دیں ۔

ایسے کیسے جانے دوں ،ابھی تو جی بھر کے دیدار بھی نہیں کیا ۔پہلے

آنکھوں کو کچھ سیراب تو کرنے دو۔میر سجاول نے اس کا ہاتھ پکڑ کر

اسے اندر کھینچ لیا ۔

نازک اندام سی زرتاج ایک جھٹکے میں کھینچی چلی گئی ۔میر سجاول کی اس حرکت سے وہ بری طرح خوف زدہ ہوگئی تھی ۔

سائیں ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگی

پلیز ! مجھے میرے گھر جانے دیں ۔وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی

آنسو لڑھک کر گالوں پر بہنے لگے ۔

اتنا کیوں ڈرتی ہو مجھ سے ،اغوا کر کے نہیں لے جارہا تمھیں ، پوری شان سے بیاہ کر لے جاؤں گا ۔۔۔۔بے فکر رہو۔میر سجاول کے لہجے میں اپنی امارات کا زعم تھا۔اس نے زرتاج کے آنسوں اپنی انگلیوں کے پوروں میں سمیٹ لئے۔

کچھ ہی دیر میں گاڑی پکی سڑک پر دوڑنے لگی ۔پھر تھوڑی دور لے جاکر اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر روک دی اور انجن بند کر کے اطمینان سے اسکی طرف رخ کر کے بیٹھ گیا۔زرتاج کا نرم ملائم ہاتھ میر سجاول کے ہاتھ میں دبا ہوا تھا جسے وہ دھیرے دھیرے دبا رہا تھا۔

یوں روز روز چھپ چھپ کر ملنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے لیکن اس کیفیت سے لطف وہی لے سکتے ہیں جو محبت کی تڑپ کو جانتے ہوں

تم جس دن مجھ سے محبت کرنے لگو گی تو خود اس تڑپ کو سمجھ جاؤ گی

کیسے ملن کی آس ، محبوب کے دیدار کی طلب دل سے ہر خوف کو مٹا دیتی ہے ،حتی کے موت کے خوف کو بھی ۔

یہ محبت ہی جو آدھی رات کو میرسجاول ،تنِ تنہا دشمنوں کے علاقے

میں دشمنوں کے گاؤں کی لڑکی کے دیدار کے لئے بے خوفِ خطر چلا آتا ہے۔وہ ایک جذب کے عالم میں کہہ رہا تھا ۔

زرتاج سانس روکے اسے سن رہی تھی ۔ پھر وہ اپنی ہی بات پر زوردار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔ اسکی روشن روشن ڈارک براؤن آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں ۔

سائیں! محبت اور دوستی اپنے برابر والوں کے ساتھ ہی سجتی ہے ۔

دنیا اسے بڑی ہی طنزیہ اور تمسخر بھری نظروں سے دیکھتی ہے اور

اسی لئے یہ ذیادہ دن قائم بھی نہیں رہ پاتی ۔

سنو ! ایک بار میری بن جاؤ میرا وعدہ ہے تم سے عمر بھر یوں ہی چاہوں گا تمھیں ۔ میر نے اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا ۔

دنیا والوں کی باتوں اور نظروں کی پرواہ میر سجاول کبھی نہیں کرتا نہ

کسی میں اتنی جرأ ت ہے کہ کوئی میرے سامنے میری خلاف کوئی بات

کر سکے ۔اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے نخوت سے کہا ۔

تمھیں مجھ سے محبت نا سہی ،مجھے تو تم سے عشق ہے ،اور چاہنے والوں کی قدر کرنی چاہئے ۔تم تو بہت ناشکری ہو۔اس نے زرتاج

کی خوبصورت ستواں ناک کو دو انگلیوں سے کھینچا ۔اور پھر کھینچ کر

اسے گلے سے لگا لیا ۔زرتاج پر اسکی محبت پھوار بن کر برس رہی

تھی اور وہ پور پور اس میں بھیگی جارہی تھی۔

میر سائیں ! ناشکری کہیں یا بے قدر کہہ لیں لیکن جو میں دیکھ رہی ہوں وہ آپ دیکھنا نہیں چاہتے ۔بڑی حویلی والے مجھے کبھی قبول نہیں کریں گے ۔خاص طور پر بڑی بیگم صاحبہ (میر سجاول کی ماں )۔

میں بس اپنے ماں باپ کو بے عزت ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔میں نہیں

چاہتی میری وجہ سے ان کی رسوائی ہو۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ بمشکل میر سجاول کوخود سے الگ کرتے ہوئے بولی ۔

زرتاج بڑی بیگم کے مزاج سے بخوبی واقف تھی ۔وہ ان کے گاؤں کی نہیں تھی نہ ہی کبھی بڑی حویلی گئی تھی لیکن گاؤں کے کمیوں کےساتھ ان کا تحقیر آمیز رویہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔وہ بے ساختہ

ہنس پڑا ۔

اچھا تو تم اماں سے خوفزدہ ہو ۔۔۔ان کی فکر تم مت کرو ، ان میں حویلی والیوں کا رعب و دبدبہ ضرور ہے مگر وہ دل کی بری نہیں ہیں میر سجاول انکا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کی من چاہی دلہن کو وہ سر آنکھوں پر بٹھائیں گی اور باقی سب سنبھالنا میرا کام ہے ۔پھروہ یکدم بولا۔

زری !تم میرا انتظار تو کروگی ناں ۔۔۔؟کسی اور کی تو نہیں ہوجاؤگی ؟

میر نے اپنی ہلکی سی سرخی سے سجی ڈارک براؤن مخمور آنکھیں اس

پر مرکوز کیں ۔جذبوں کی شدت سے اس کی آواز بوجھل ہورہی تھی۔

زرتاج نے کچھ دیر سوچا ،پھر بولی۔ہو بھی سکتی ہوں ۔اسکی آنکھوں

میں شرارت تھی ۔مگر میر سجاول خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگیا۔

اگر تم نے کسی اور کے بارے میں سوچا بھی تو گلا دبا کر مار دوں گا۔

اس نے بڑی بے رحمی سے زرتاج کی کلائی پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اس کا گلا دبوچ لیا۔

کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر زرتاج کی کلائی اور میر سجاول کی انگلیوں میں

چبھ گئیں ۔

زرتاج کی آنکھیں ابلنے لگیں اور منہ سے گھٹی گھٹی سسکی برآمد ہوئی مگر میر سجاول کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑی ۔البتہ گلے پر دباؤ کم کردیا تھا۔

میں مذاق کر رہی تھی ۔کیا میں چھوٹا سا مذاق بھی نہیں کر سکتی ۔

زرتاج کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں ۔

میر سجاول پر متلق بھی اثر نہیں ہوا ۔

آئندہ ایسا کچھ مذاق میں بھی مت بولنا ورنہ انجام بہت برا ہوگا ۔

میر سجاول کا لہجہ درشت اور خطرناک ہوگیا تھا ۔اس نے زرتاج کی طرف دیکھے بغیر ونڈ اسکرین پر نظر جمائے تنبیہہ کی۔یہ بھی اس کی سخت

ناراضگی کے اظہار کا ایک انداز تھا۔

زرتاج کو اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتے غصے اور صبیح ماتھے پر

پڑے بے شمار بلوں سے اس کے غضبناک موڈ کا احساس ہو گیا تھا۔وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوگئی مگر کچھ بھی کہنے کی جرأت نہیں کی اور خاموشی سے سر جھکا گئی ۔

میر سجاول نے فوراً ہی گاڑی اسٹارٹ کر کے واپسی کے راستے پر ڈال

دی تھی ۔

*************※*************

واپسی کے سفر میں میر سبطین کا موڈ بے حد خوشگوار تھا ۔اس نے موبائیل سے ایک نمبر ملایا۔

ہیلو !ڈاکٹر مکتوم شاہ اسپیکنگ۔دوسری طرف کال اٹینڈ کر لی گئی تھی۔

میرسبطین بات کر رہا ہوں۔اس نے تعا رف کروایا۔

میرسبطین صاحب !کہیں کیسے یاد کیا ؟مکتوم شاہ کی آواز میں خوشی اور

حیرانی کا ملا جلا تاثر تھا۔

اس دن آپ نے میری سسٹر کی ہیلپ کر کے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔میں نے سوچا کیوں نا آپ کاشکریہ ادا کیا جائے اس سنڈے میں نے ایک پارٹی رکھی ہے،میں چاہتا ہوں آپ ضرور شرکت کریں ۔

یہ اس احسان کا بدلہ تو نہیں لیکن میری طرف سے دوستی کی ایک پیشکش ہے۔

مکتوم شاہ اس کی بات اور انداز پر کھل کر مسکرایا۔

کیوں نہیں،مجھے آپکی پیشکش بہت پسند آئی ،چلیں کوئی تو ہے جودشمنی کی اس جنگ میں دوستی کی پہل کرنا چاہتا ہے۔مکتوم شاہ نے خوشدلی سےکہا۔

آپ کے بارے میں میری رائے غلط نہیں تھی بلا شبہ آپ معظم شاہ کے مقابلے میں سمجھدار انسان ہیں ۔ہو سکتا ہے ہماری یہ دوستی اس دشمنی کی آگ کو بجھانے کے لئے مددگار ثابت ہوگی۔

ٹھیک ہے !سنڈے کو ملاقات ہوگی ،آپ کی آمد کا انتظار رہے گا۔میر سبطین نے اپنے دل کی بات کرتے ہوئے بات سمیٹی۔

اوکے ،اللہ حافظ ۔مکتوم شاہ نے کال ڈسکنیکٹ کردی۔

************※***********

معظم علی شاہ شہر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا جب رخسانہ بیگم اس کے کمرے میں چلی آئیں ۔

شاہ ! تم شہر جارہے ہو تو مجھے بھی ساتھ لے چلو ۔ ثمینہ ایک بار جومل

کر گئی ہے دوبارہ نہیں آئی ۔ شاید جھجک رہی ہو ،کیونکہ اس کے اتنے

اصرار پر بھی میں اب تک اس کے گھر نہیں جا سکی۔رخسانہ نے اپنی

بات مکمل کر کے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے وہ ابھی کہہ دیگا کہ میں

نہیں لے جاسکتا ،آپ بلال شاہ کے ساتھ چلی جائیں۔ وہ ہمیشہ اسکی

باپ جیسی اکھڑ مزاجی سے خائف رہتی تھیں۔

انکی بات پر اسکی آنکھوں میں عروش کا عکس جھلملایا۔کافی دن ہو گئے

تھے معظم شاہ نے اس کی طرف چکر نہیں لگایا تھا۔

آپ تیار ہو جائیں میں بس تھوڑی دیر میں نکلنے لگا ہوں۔خلافِ توقع وہ

فوراً ہی مان گیا تو رخسانہ نے بڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور

بولیں۔۔۔

مجھے کیا تیار ہونا ہے ۔۔۔تم اپنی تیاری مکمل کرلو ،بس مجھے راستے سے

عروش اور ایان کے لئے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔

ٹھیک ہے ! آپ چلیں میں کچھ دیر میں آتا ہوں ۔وہ بنا کسی تردد کے بولا ۔رخسانہ حیران سی کمرے سے باہر نکل آئیں۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں شہر کے لئے روانہ ہو چکے تھے ۔عروش کے لئے

شاپنگ کے نام پر معظم شاہ نے تقریباً پورا شاپنگ مال خریدنے کی

ٹھان لی تھی۔ وہ ایک کے بعد ایک ڈریس خریدتا گیا ۔ پہلے پہل تو

رخسا نہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا لیکن جب میچنگ جیولری ، سینڈل

اور دیگر چیزیں خریدنے میں اس کی دلچسپی دیکھی تو سوچ میں پڑ گئیں

اس نے تو کبھی اپنی ماں ، بھائی یہاں تک کے جان چھڑکنے والے

باپ کے پرسنل معاملات میں بھی دلچسپی نہیں لی تھی وہ آج کیسے

بنا کسی پس و پیش کے پوری اپنائیت کے ساتھ شاپنگ کرنے میں

ان کی مدد کر رہا تھا۔۔۔مگر انہوں نے اسے ٹوکا نہیں مبادا اسکا موڈ بگڑ

جائے اس لئے خاموش ہی رہیں۔

شاپنگ سے فارغ ہو کر جب وہ لوگ عروش کے گھر پہنچے تو سات بج

چکے تھے۔

آپا ! مجھے تو لگا تھا آپ مجھ غریب کے گھر کبھی نہیں آئیں گی ۔ثمینہ نے بہن کو دیکھا تو خوشی سے کھل اٹھیں اور گلے لگ کر شکوہ کیا۔

اس بات پر معظم شاہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگا ،اور یوں ظاہر کیا جیسے اس نے یہ بات سنی ہی نا ہو۔

امیری غریبی کھوئے ہوئے رشتوں سے بڑھ کر نہیں ہوتی۔اتنے عرصے

تک تم نے خود کو مجھ سے دور رکھا ورنہ میں یہ فاصلہ بھی درمیان میں

کبھی نہیں آنے دیتی ۔رخسانہ محبت بھرے لہجے میں بولیں۔

تبھی انکی آوازیں سن کر عروش کمرے سے نکلی اور خالہ کو سلام کر کے ان سے گلی ملی۔معظم شاہ کو اس نے نظروں سے سلام کیا تھا

جس کا جواب اس نے سر کے اشارے سے دیا۔

آپا ! یہ سب کیا ہے ،اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔آپ کسی

غیر کے گھر تو نہیں آرہی تھیں ۔ ثمینہ ان کے لائے ڈھیر سارے تحائف دیکھ کر جز بز ہو گئیں ۔

یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میری عروش کے سامنے ،میرا بس چلے تو میں

دنیا کی ہر خوشی اس کے لئے چرا لاؤں ۔ رخسانہ نے عروش کا چہرہ

دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

تمھاری اولاد کی کتنی آرزو تھی مجھے مگر تم نے مجھے اس خوشی سے برسوں محروم رکھا۔رخسانہ

نہایت جزباتی ہوکر بولیں تو ثمینہ انکی بات پر کھل کر مسکرا دیں۔

عروش ، ثمینہ اور رخسانہ کمرے بیٹھی باتوں میں مشغول تھیں جب اسے مہمانوں کی خاطر تواضع کا خیال آیا وہ غیر محسوس طریقے سے

کمرے سے نکل آئی۔

سامنے چئیر پر معظم شاہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ انگلیوں میں دبائے

جیسے اسکی آمد کا منتظر تھا۔اسے دیکھتے ہی سگریٹ نیچے پھینک کر پاؤں

سے مسل دی۔

عروش نظریں جھکائے کچن میں چلی گئی۔ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے

جب وہ کچن کے دروازے کے باہر دونوں ہاتھ دیوار پر دائیں بائیں جمائے ایستادہ تھا۔

عروش ! لگتا ہے تم ہماری پہلی ملاقات کو لے کر اب تک خفا ہو۔۔۔؟ معظم شاہ نے اپنی گمبھیر آواز میں اس سے استفسار کیا۔

ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔مجھے تو یاد بھی نہیں۔عروش نے مختصر

جواب دیا۔

بائی گاڈ !اس دن کے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں ۔میں واقعی

نہیں جانتا تھا تم کون ہو ۔۔۔۔اور میرے گھر میں کسی انجان لڑکی

کی موجودگی مجھے حیران کر گئی تھی ۔

مانا کہ میں اجنبی تھی اور اچانک آپ مجھے دیکھ کر حیران ہو گئے لیکن

کسی بھی لڑکی سے بات کرنے کا وہ انداز مہذبانہ تو نہیں تھا۔عروش

دوبدو بولی ۔

معظم شاہ نے اس کی بات پر ایک زبردست قہقہہ لگایا ۔اس کی ہنسی

بھی اس کی طرح بہت خوبصورت تھی ۔عروش بھی نظر بھر کر دیکھنے

پر مجبور ہوگئی ۔

معظم کو اپنی دلکشی کا بخوبی اندازہ تھا تبھی تفاخر سے مسکرایا۔

عروش مڑ کر چائے کا پانی رکھنے کے لئے چولہا جلانے لگی ۔

ہمارا تو یہی انداز ہے اب دیکھنا ہے سامنے والے میں کتنا دم ہے۔

لیکن مجھے امید ہے تم میرا انداز سہہ جاؤگی ۔معظم نے معنی خیزی سے

کہا۔پھر بولا ۔۔۔یہ تو ایک مذاق تھا ،اب کچھ کام کی بات ہو جائے

میں چاہتا ہوں تم لوگ جلد سے جلد حویلی یا پھر شہر میں موجود میرے بنگلے میں شفٹ ہو جاؤ۔۔۔میں تمھیں یہاں اس محلے میں اور یہ سب فضول کام کرتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتا ۔ وہ چولہے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

عروش نے کوئی جواب دئیے بغیر حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔

تم خالہ کو سمجھاؤ اور تیاری کر لو ،میں کچھ دن تک تم لوگوں کو لینے

آؤنگا۔ معظم شاہ کی نظر میں ان لوگوں کی مرضی کی کوئی اہمیت ہی

نہیں تھی وہ تو بس اپنی کہنے کا عادی تھا۔

ہم اس طرح اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جا سکتے ،اور ہمیں یہاں کوئی پریشانی

نہیں ہے پھر ایان کے اسکول کا بھی مسئلہ ہے۔عروش نے رسان

سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

یہ سب باتیں میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں ،ایان کے اسکول کا کوئی مسئلہ نہیں ۔میں جہاں چاہوں گا اسکا ایڈمیشن ہوجائیگا۔اس نے بے نیازی سے کہا۔

*************※************

عروش اٹھ جاؤ بیٹا چھ بج رہے ہیں ۔عصر کی اذان ہوگئی ہے نماز قضا

نہ ہوجائے۔ثمینہ نے کمرے میں داخل ہوکر لائٹ آن کردی۔

وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔نماز اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ

پور ی دوپہر سئی رہی تھی ۔ہفتے میں سنڈے کے دن ہی اسے آرام کے لئےملتا تھا ۔ ثمینہ کی آواز پر وہ فوراً بال سمیٹتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔

بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناتے ہوئے وہ تذبذب کا شکار تھی کی کس طرح

ماں سے شام ہونے والی پارٹی میں جانے کی اجازت لے۔

ثمینہ بیگم کو پلٹتا دیکھ کر اس نے جلدی سے انہیں مخاطب کیا۔

امی !ایک منٹ زرا رکیں ،مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ثمینہ

اس کے نذدیک آگئیں اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔

امی ! آج میرے باس کے گھر پارٹی ہے ۔ ان کے بھائی انگلینڈ

سے تعلیم مکمل کر کے واپس آئے ہیں ۔اس خوشی میں انہوں نے پارٹی رکھی ہے۔انہوں نے مجھے بھی انوائیٹ کیا ہے۔

اس نے جھجکتے ہوئے ماں کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

کیا تمھارا اس پارٹی میں جانا ضروری ہے ؟ثمینہ نے سنجیدگی سےاستفسار کیا۔

جانا ضروری تو نہیں لیکن ناجانے سے میری جاب پر کوئی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔عروش نے قصداً جھوٹ بولا۔

کب جانا ہے ،اور کیسے جاؤگی ؟ثمینہ نے سوال جواب کا ارادہ ترک کرتے ہوئے پوچھا کیونکہ اس کی جاب ہی ان کے لئے گھر کا نظام چلانے کا واحد زریعہ تھی۔

سات بجے ،ڈرائیور آئے گا مجھے پک کرنے۔اس نے مختصراً کہا۔

ٹھیک ہے تم تیار ہوجاؤ۔رات کے کھانے پر صرف میں اور ایان ہی ہونگے میں کچھ ہلکا پھلکا بنا لیتی ہوں ۔ثمینہ اٹھتے ہوئے بولیں ۔

عروش اپنے لئے کوئی مناسب لباس تلاش کرنے لگی۔

سات بجے ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ وہ تیار کھڑی تھی ۔اس نے بلیک کلر کا لباس زیب تن کیا تھا جس پر وائٹ ریشم اور موتیوں سے نازک سا کام ہوا تھا۔ کھلے بالوں میں وہ ایک خوبصورت تصویر لگ رہی تھی۔

ڈرائیور کی کال پر وہ ماں کو خدا حافظ کہتی گھر سے باہر نکل آئی ۔

سبطین نے ڈرائیور کو گاڑی گلی سے باہر کھڑی کرنے کی ہدایت دی تھی۔

عروش چلتے ہوئے گاڑی میں آکر بیٹھ گئی تو ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھادی ۔

جس وقت عروش “میر ہاؤس “پہنچی ،کافی مہمان جمع ہوچکے تھے۔

پارٹی بہت بڑے پیمانے پر نہیں تھی لیکن ارینجمنٹ بہت خوبصورت

انداز میں کیا گیا تھا ۔

میر سبطین انٹرینس پر ہی نظریں جمائے اس کا منتظر تھا۔اس پارٹی کا

اصل مقصد حنین کی واپسی تو تھی ہی لیکن وجہ خاص عروش بھی تھی۔

میر سبطین اس موقع پر اسے سب سے ملواکر اور اس کے بارے میں

سب کی رائے جاننا چاہتا تھا۔اسے دیکھتے ہی آگے بڑھا۔

ہیلو عروش ! مجھے یقین تھا آپ ضرور آئیں گی۔سبطین نے اس کے دلکش سراپے کو نظروں ہی نظروں میں سراہا۔وہ خود بھی اس وقت

بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس اسمارٹ اور ہینڈسم لگ رہا تھا۔یہ ایک خوبصورت اتفاق ہی تھا کہ وہ دونوں ہم رنگ کپڑوں میں ملبوس تھے۔

عروش جواب میں صرف مسکرا کر رہ گئی۔

وہ اسے لے کر رانیہ کی طرف چلا آیا جو حنین سے کسی بات پر الجھ رہی تھی۔

بھائی ! دیکھیں نا حنین کہتا ہے یہ کلر مجھ پر بلکل بھی سوٹ نہیں کر رہا۔رانیہ اسے دیکھتے ہی چلائی لیکن اس کے ساتھ عروش کو دیکھ کر یکدم جھینپ گئی۔

رانیہ ! یہ عروش ہیں ،میرے آفس میں کام کرتی ہیں اور عروش !یہ رانیہ ہیں مائی لٹل سسٹر۔۔۔یہ حنین ہے جو حال ہی میں اسٹڈیز کمپلیٹ کر کے انگلینڈ سے لوٹا ہے۔

سبطین نے سب سے اس کا تعارف کروایا۔

ہیلو عروش !رانیہ نے بڑھ کر اس سے ہاتھ ملایا اور پھر بے اختیار بولی۔

بھائی !یہ تو بہت پیاری ہیں جتنی آپ نے تعریف کی تھی اس سے بھی ذیادہ اورپھر کھل کھلا کر ہنس پڑی۔

سبطین اس غیر متوقع جملے پر گڑبڑا گیا پھر گھور کر رانیہ کو دیکھا تو وہ اپنی زبان دانتوں تلے دبا گئی۔اس منظر کو دور کھڑے مکتوم شاہ نے دلچسپی سے ملاحظہ کیا۔عروش بلش کرنے لگی ۔

حنین نے بھی پسندیدگی کی نگاہ سے عروش کو دیکھا پھر سبطین کے کان میں سرگوشی کی ۔

پرفیکٹ کپل۔۔۔

سبطین ہولے سے ہنس دیا۔

رانیہ عروش کا ہاتھ پکڑ کر ایک کونے میں چلی آئی جہاں نگین سکڑ سمٹی صوفے پر بیٹھی تھی۔وہ عجیب سے احساسِ کمتری میں مبتلا تھی۔آج سے پہلے اس قسم کی پارٹی میں شرکت کے بارے میں اس نےکبھی خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔

رانیہ گاؤں سے واپسی پر اس اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی اور وہ بہت

خوشی خوشی یہاں رہ رہی تھی۔سب کا رویہ اس کے ساتھ بے حد

مخلصانہ تھا اور سب نے ہی اسے گھر کے فرد کی سی حیثیت دی تھی۔

حنین کی چھیڑ سے چھاڑ سے شروع میں تو وہ بہت نروس ہوئی تھی لیکن

پھر اس کی عادت سمجھ کر محفوظ ہونے لگی ۔کیونکہ اپنی بہن کے ساتھ

بھی اسکا رویہ مختلف نا تھا۔

نگین !ان سے ملو یہ عروش ہیں ،بھائی کے ساتھ آفس میں ہوتی ہیں۔

رانیہ کہتے ہوئے عروش کو ساتھ لئے صوفے پر براجمان ہوگئی۔نگین نے مسکرا کر تھوڑا جھجکتے ہوئے عروش سے ہاتھ ملایا۔

عروش یہ نگین ہیں ،میری بہت پیاری بہن اور ساتھ ہی دوست بھی۔

رانیہ نے بولتے ہی اس کے گلے میں ہاتھ ڈال دیا۔

رانیہ کے اتنے پیارے انداز میں اسکا تعارف کروانے پر نگین نےمحبت سے رانیہ کو دیکھا اور اسکا ہاتھ تھام لیا۔

میر سبطین ،مکتوم شاہ کے ساتھ محو گفتگو تھا جب میر سجاول محفل میں داخل ہوا اور ایک طائرانہ نظرپورے ماحول پر ڈالی ،تبھی اس کی نظرمیر سبطین پر سے ہوتی ہوئی ،مکتوم شاہ شیرازی پر ٹہر سی گئی ۔ اس کی وہاں موجودگی میر سجاول کو اپنی بصارت کا دھوکہ لگا ۔ لیکن مکتوم شاہ کی وہاں موجودگی حقیقت تھی۔

اس کے اندر شدید غصے کی ایک لہر اٹھی ،اس غصے کے لاوے کے پھٹنے سے پہلے ہی وہ جن قدموں پر آیا تھا انہی پر ہی واپس لوٹ گیا۔

میر غضنفر کی نظر اس پر پڑ چکی تھی ۔وہ میر سجاول کے واپس پلٹ

جانے کی وجہ سے بخوبی واقف تھے ،اس لئے تیز تیز قدم بڑھاتےہوئے لان کے پچھلے حصے سے مین گیٹ کی طرف بڑھے۔

میر سجاول کھولتا ہوا آندھی طوفان کی طرح اپنی لینڈ کروزر تک پہنچا تھا۔

ڈرائیور اور گارڈ جو بڑے آرام دہ انداز میں گاڑی میں بیٹھے خوش گپیوں

میں مصروف تھے ،اسے سامنے سے آتا دیکھ کر ایک جھٹکے سے باہر

نکلے اور مؤدب انداز میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے ۔

اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ میر غضنفر نے اس کے نذدیک پہنچ کر کاندھے پر ہاتھ رکھا۔

میر سجاول !اس طرح کیوں جارہے ہو ؟کم از کم ہماری بات تو سن

لو۔

میر سجاول نے بنا پلٹے انکا ہاتھ اپنے کاندھے سے جھٹک دیا۔مجھے کچھ سننے کی ضروت نہیں ،میں خود سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں ۔ہمارے دشمنوں سے ہمارے ہی خا ندان والے راہ وراسم بڑھا رہے ہیں تو ایسے نام نہاد رشتے داروں کی محفل میں ہمارا کیا کام۔

میر سجاول نے ان کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا اس وقت اس کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی۔

دیکھو ! اس دشمنی سے ہمیں آج تک کچھ حاصل نہیں ہواہے سوائے

نقصان کے اگر اس کو ختم کرنے کی کوئی راہ نکلتی ہے تو یہ ہمارے

اور ہماری آنے والی نسل کے لئے ایک فائدہ مند ہوگی ۔

مکتوم شاہ بھی اسی خاندان کا حصہ ہے ،وہ چاہتا تو میرا علاج کرنے

سے صاف انکار دیتا لیکن اس نے ہر رنجش کو بالائے طاق رکھتےہوئے ہماری مدد کی۔تم بھی اس بات کو سمجھو اس مارا ماری میں کچھ نہیں رکھا،تم ان کے دو بندے مارتے ہو ۔۔۔وہ تمھارے چارمارتے ہیں ۔

اس سب سے سوائے قیمتی جانوں کے ضیاع کےکچھ حاصل نہیں۔

جانے والے واپس نہیں آتے ،لیکن جو ہمارے ساتھ موجود ہیں ہمیں ان کی ذندگی کی حفاظت کرنی چاہئے۔ذندگیاں اتنی بے مول نہیں کے انہیں آپسی دشمنی نبھانے میں ضائع کر دیا جائے۔

میر غضنفر نے تفصیلاً اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ تو یہ سب سن کر اور بھڑک گیا۔

چاچا سائیں !آپ یہ چاہتے ہیں ہم ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں ،جنہوں نے آپ کے بھائی کو قتل کر دیا ،آپ کی بہن کا گھر برباد کر کے اس سے ذندگی ہی چھین لی۔ہم سب سے ہماری خوشیاں چھین لیں۔یہ سب کچھ آپ بھول سکتے ہیں میں نہیں۔

اس نے آپ کی جان بچائی ،اپنی موت کے خوف نے آپ کو کمزور کردیاہوگا لیکن میں کمزور اور بزدل نہیں اور مجھ میں اتنا دم ہے کہ میں

تنہا ہی اس دشمنی کو نبھا سکتا ہوں۔مجھے آپ جیسے بزدل سہاروں کی ضرورت نہیں۔وہ نفرت اور غصے میں سارے لحاظ بھلا بیٹھاتھا۔دروازہ کھول کر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ اس نے بیٹھتے ہی ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ ۔ڈرائیور نے گاڑیوں کی لمبی قطار میں سے بڑی مہارت سے گاڑی نکالی ۔

میر غضنفر نے اسے دوبارہ مخاطب نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے اس

کے غصے اور اس دشمنی کو ہوا دینے والے خود ان کے ہی بھائی

میر جعفر تھے۔جو خود نہیں چاہتے تھے کہ کبھی یہ دشمنی ختم ہو۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *