Dillon Ke Bandhan Umme Maryam NovelR50596 Dillon Ke Bandhan (Episode 19,20)
No Download Link
Rate this Novel
Dillon Ke Bandhan (Episode 19,20)
Dillon Ke Bandhan Umme Maryam
میر سائیں ! بڑی اہم خبر لے کر آیا ہوں ،اگر اجازت دیں تو عرض کروں ۔ ۔۔؟ساجد نے پھولی سانسوں کے درمیان جملہ مکمل کیا ۔
میر سجاول بلیک سوٹ میں ملبوس نفاست سے بال بنائے ڈارک گلاسز کے ساتھ اس خوبصورت موسم کا ہی حصہ لگ رہا تھا۔اس نے کارل میں کھڑے اپنے عزیز از جان گھوڑے کی پشت پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بے ساختہ نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔اس وقت ساجد کی مداخلت اسے سخت ناگوار گزری تھی ۔پیشانی پر ڈھیروں بل پڑ گئے مگر “اہم خبر “ کے ذکر نے تھوڑا تجسس پیدا کیا تو ساجد کی خیر ہوگئی ۔
کہو ۔۔۔میر نے مختصراً کہا ۔
خبر ملی ہے معظم شاہ ایک ہفتے بعد بیرون ملک جارہا ہے ، اس کی فلائیٹ صبح چھ بجے کی ہے ۔جس کے لئے وہ رات بارہ بجے شہر کے
لئے روانہ ہوگا ۔ساجد نے کہتے ہوئے داد طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھا ،آخر وہ میر سجاول کے مطلب کی خبر لایا تھا ۔
میر سجاعل گھوڑے کی گردن اور سرسہلاتے ہوئے بظاہر بے نیاز سا بنا وہ بغور ساجدکوسن رہا تھا ۔یکدم چونک کر ساجد کی طرف دیکھا ۔
خبر پکی ہے ۔۔۔؟ اس نے استفسار کیا ۔
بلکل سائیں ! سو فیصد پکی ہے ،غلط نکلی تو جو چور کی سزا وہ میری ۔
ساجد نے پورے وثوق سے کہا ۔اس کے پر اعتماد انداز پر میر سجاول نے یقین کرتے ہو ئے ہنکارہ بھرا ۔
ہوں ۔۔۔ خبر تو واقعی اہم ہے ۔ میر کے چہرے پر دلکش مگر خطرناک سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔
ساجد !تم زبردست بندوبست کرنے کی تیاری کرو ۔ اس سے اچھا موقع مجھے پھر نہیں ملے گا کیونکہ معظم شاہ رات میں شہر تک کا سفر بہت کم کرتا ہے ۔
اس پر اٹیک کرنے کا یہی صحیح وقت رہے گا ۔۔۔۔اور ہاں ،جب وہ گاؤں کی حدود سے بلکل باہر نکل جائے ،حملہ اس پر اسی وقت کرنا ہے تاکہ اسے دور دور تک مدد نا مل سکے ۔وہ بلا تاخیر پلان ترتیب دےرہا تھا ۔
میں اب اسے تھوڑی سی بھی مہلت نہیں دینا چاہتا ۔اپنے بندوں کو یہ سب باتیں اچھی طرح سمجھا دینا ۔اگر تمھاری طرف سے اس کام میں زرا سی بھی لاپرواہی ہوئی اور وہ ذندہ بچ گیا تو تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔میر سجاول نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کی ۔
ساجد جو بغور اسے سن رہا تھا ،آخری بات پر ہڑبڑا کر میر کی طرف دیکھا
اور سر ہلانے لگا ۔
یہ موقع میرے ہاتھ سے جانا نہیں چاہئے ،اور دیکھو اس کام کے لئے گاؤں سے باہر کے بندوں کا انتظام کرو ،جو ماہر ایکسپرٹ ہوں ۔جن کا نشانہ کبھی نا چوکا ہو ،جنھیں اپنے کام میں مہارت حاصل ہو کسی بھی قسم کی سچوئیشن ہینڈل کرسکیں ۔معظم شاہ کے گارڈز کا بھرپور مقابلہ کریں۔
یہ بھی پتا لگانے کی کوشش کرو کہ وہ کس سلسلے میں جارہا ہے ،اکیلا ہے یا کوئی اور بھی اس کے ساتھ جائے گا ۔میر گمبھیرتا سے ہدایات دے رہا تھا جو ساجد پورے انہماک سے ذہن نشین کر رہا تھا۔
سائیں ! میں دیکھتا ہوں ،یہ تو آرام سے پتا چل جائےگا وہ کیوں جارہا ہے اور آپ بلکل بے فکر ہوجائیں ،ایسے ہی کچھ بندے ہیں میری نظر میں جو آپ کو ضرور خوش کریں گے ۔ میں کل ہی ان کو گاؤں بلوا کر آپ کی ملاقات کروا دیتا ہوں ۔
ساجد نے اسے مطمئین کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔میر سجاول نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کر وادیا ۔
صبح جو کام تمھیں دیا تھا ،اس کا کیا بنا ۔۔۔؟ میر سجاول اب اپنے گھوڑے کو رائڈنگ کے لئے کورل سے باہر نکال رہا تھا ۔
جی سائیں ! آپ کا پیغام بی بی تک پہنچا دیا تھا ۔ساجد کے منہ سے زرتاج کا نام نکلتے نکلتے رہ گیا تھا ،جس پر وہ دل ہی دل میں شکر منانے لگا ورنہ میر نے اس کی زبان کھینچ لینی تھی ۔ایک بار پہلے بھی وہ اسی غلطی پر میر کے ہاتھوں بری طرح پٹ چکا تھا ۔
ہوں ۔۔۔میر نے ہنکارہ بھرا پھرایک ہی جست میں گھوڑے پر سوار ہو گیا ۔ آنکھوں پر ڈارک گلاسسز چڑھائے ،گھنی مونچھوں اور قدرے بڑھی ہوئی شیو میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔
زرتاج سے ملنے کا وقت اس نے شام چار بجے طے کیا تھا اور ابھی دن کے بارہ بجے تھے ،باقی چار گھنٹے کا طویل انتظار اسے انتہائی صبر آزما لگ رہا تھا مگر آج کے سہانے موسم میں اس کے دل نے شام میں ہی ملاقات کی خواہش کی تھی ۔
اس لئے بڑی بے صبری سے وہ وقت گزارنے کی کوشش کر رہا تھا ورنہ وہ صبح سویرے ہی زرتاج کی دید سے سیراب ہوجاتا لیکن آج وہ زرتاج کے ساتھ بھرپور طریقے سے موسم انجوائے کرنا چاہتا تھا یوں مجبوراً خود پر جبر کئے ہوئے تھا ۔
—————————
معظم شاہ پچھلے پندرہ منٹ سے واش روم میں بند شاور لے رہا تھا ۔
عروش اس کے بیدار ہونے سے پہلے ہی فریش ہوکر بیٹھ گئی تھی ۔پوری رات اس کے لئے پریشان ہونے کے باوجود شاہ نے اٹھنے کے بعد اس سے معذرت کرنا تو دور ایک نگاہِ غلط بھی اس کے چہرے پر نہیں ڈالی تھی ۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے چہرے پر ابھر آنے والے زخموں پر انگلیاں پھیریں تو بے اختیار اسے رونا آگیا ۔آنسوؤں کا گولا اس کے حلق میں اٹکنے لگا ۔
اس چہرے کے ساتھ میں خالہ جان کا سامنہ کیسے کرونگی ،انہیں کتنا دکھ ہوگا مگر ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے چھپایا بھی تو نہیں جاسکتا ۔اس نے بے بسی سے سوچا ۔
یا اللہ ! آپ نے مجھے کس آزمائش میں ڈال دیا ہے۔۔۔؟ میں اس قابل نہیں ہوں کہ آزمائی جاؤں ۔مجھے ناکردہ گناہ کی سزا مل رہی ہے ۔پلیز ! شاہ کے دل میں میرے لئے رحم پیدا کردیں ۔اس نے روتے ہوئے دعا مانگی اور آنسو صاف کرتے ہوئےدروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل آئی ۔
شاہ کے لئے کپڑے وہ پہلے ہی نکال چکی تھی اور ناشتے کے متعلق شاہ نے کوئی فرمان جاری کیا نہیں تھا ، جس کا مطلب تھا کہ وہ ناشتہ سب کے ساتھ ڈائیننگ روم میں ہی کرے گا ۔
عروش سر پر دوپٹہ جمائے سست قدموں سے چلتے ہوئے ڈائینگ روم میں داخل ہوئی اور دھیمے سے لہجے میں سلام کر کے ایک چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئی ۔مکتوم شاہ زینب اور رخسانہ بیگم نے بیک وقت سلام کا جواب دیا جو پہلے سے وہاں موجود تھے ۔
رخسانہ بیگم نے والہانہ اس کی طرف دیکھا مگر اس کا ستا ہوا چہرہ اور گالوں پر تازہ ترین انگلیوں کے نشانات دیکھ کر حق دق رہ گئیں ۔
ان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا ، چند لمحے وہ حیرت اور صدمے سے کچھ بول ہی نہیں سکیں ۔مکتوم شاہ کی آنکھوں میں بھی تاسف کی لہریں ابھری تھیں ،اسے معظم شاہ پر سخت غصہ آرہا تھا ۔زینب عروش کے برابر والی چئیر پر بیٹھی تھیں ،نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں ۔
عروش ! یہ سب کیسے ہوا ، کیوں مارا ہے اس نے تمھیں ۔۔۔؟کس بات پرلڑائی ہوئی ہے تم دونوں کی ۔۔۔؟ رخسانہ بیگم کے لہجے میں غصہ نمایاں تھا مگر آواز نہایت کمزور تھی ۔
خالہ جان ! دراصل میں واش روم میں گر گئی تھی ،جس کی وجہ سے چوٹ لگ گئی ۔انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے ،ہماری کوئی لڑائی بھی نہیں ہوئی ۔عروش نے ٹہر ٹہر کر دانستہ جھوٹی بات بنائی کیونکہ اگر وہ سچ بولتی تو لڑائی کی وجہ بھی بتانی پڑتی ۔
عروش ! بیٹا مجھ سے جھوٹ مت بولو ،میں جانتی ہوں یہ سب کس نے کیا ہے ۔ میرے ہوتے ہوئے تمھیں اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔وہ اس طرح میری موجودگی میں تم پر ظلم نہیں کرسکتا ۔بتاؤ ، کیوں مارا ہے اس نے تمھیں ۔۔۔؟انہوں نے نرمی اور پیار سے اس کی ہمت باندھنی چاہی ۔
اماں ! آپ کو اس سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ، اب وہ آپ کی بھانجی نہیں ،میری بیوی ہے اور میں اپنی بیوی کے ساتھ جو مرضی کروں ، مجھے ٹوکنے کا حق کسی کو نہیں ہے ۔ عروش تذبذب کا شکار تھی جب معظم شاہ نے ڈائیننگ روم میں قدم رکھا اور گمبھیر لہجے
میں سنجیدگی سے کہتے ہوئے عروش کے عین سامنے والی چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔
پورا حق ہے میرا کہ میں عروش پر کی گئی تمھاری ذیادتیوں کا جواب طلب کروں ۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی اس پر ہاتھ اٹھانے کی ، ایسا کیا کر دیا تھا اس نے جو تم نے اسے وحشیوں کی طرح پیٹا ہے ۔۔۔؟ رخسانہ غضبناک لہجے میں پوچھ رہی تھیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ۔۔۔۔یہ میرا اور میری بیوی کا پرسنل میٹر ہے ،میں کسی کو بھی انٹر فئیرنس کی اجازت نہیں دوں گا ۔۔۔۔دوسری بات کچھ تو ایسا کیا ہوگا اس نے جو مجھے مشتعل کر گیا ۔اس نے آہستگی سے کہتے ہوئے نظریں عروش کے چہرے پر گاڑ دیں ۔ عروش نے سٹپٹا کر نظریں جھکا لیں ۔
دماغ خراب ہوگیا ہے تمھارا ۔۔۔شاہ !تم کیا سمجھتے ہو تم میری بچی پر یوں ظلم کروگے اور میں چپ رہوں گی ۔سڑک سے اٹھا کر نہیں لائے ہو تم اسے ،بھانجی ہے وہ میری ۔آئیندہ اگر تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ ایک منٹ عروش کو تمھارے ساتھ نہیں رہنے دونگی ۔سمجھے تم !
اس میں تمھارا بھی کوئی قصور نہیں ہے ، تمھارے باپ نے ذندگی بھر بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھا ہے ۔تم ان سے مختلف سوچ کیسے رکھ سکتے ہو ۔برہمی سے کہتے ہوئے انہوں نے منہ پھیر لیا ۔
یہ رخسانہ شاہ ہی تھیں جواس پر گرج برس رہی تھیں ورنہ وہ تو کسی کی اونچی آواز بھی برداشت نہیں کرتا تھا مگر اب لب بھینچے خاموشی سے سن رہا تھا ۔ماں بیٹے کی تکرار میں مکتوم شاہ اور زینب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔
اٹھو تم ۔۔۔۔کمرے میں جاؤ ۔ خبردار ! تم نے اگر میری اجازت کے بغیر کمرے سے قدم بھی باہر نکالا تو میں تمھیں شوٹ کردوں گا ۔
شاہ انگلی سے عروش کو اوپر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے دہاڑا۔رخسانہ بیگم سے ملنے والی ذلت کی بھڑاس اس نے عروش پر نکال دی۔عروش بدحواس ہوکر فوراً ہی اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑی ہوئی ،چئیر پیچھے دھکیل کرتقریباً بھاگتے ہوئے ڈائیننگ روم کا دروازہ عبور کر گئی ۔
شاہ ! یہ کیا حرکت ہے ، اس نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔رخسانہ بیگم نے افسوس سے اسے جاتے ہوئے دیکھا ۔
اماں ! ایک دن ناشتہ نہیں کرے گی تو مر نہیں جائیگی ۔وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ٹیبل پررکھ کر چئیر دھکیل کر کھڑا ہوگیا ۔
مکتوم شاہ نے ملامت بھری نظر معظم شاہ کے بے تاثر چہرے پر ڈالی۔ رخسانہ بیگم نے اپنا سر تھام لیا ۔
ڈائینگ روم سے نکل کر وہ مردانے کی طرف جا رہا تھا ،ملازمہ پر نظر پڑی تو اسے آواز دے کر روک لیا ۔
نسرین !
جی شاہ سائیں ! ملازمہ پلک جھپکتے میں اس تک پہنچی اور سر جھکا کر موؤدبانہ کھڑی ہوگئی ۔
ناشتے کی ٹرے تیار کرو اور اوپر میرے روم میں پہنچا دو ۔ہری اپ ۔ملازمہ کو حکم دے کر اس نے مردانے میں جانے کے بجائے لان کارخ کیا ۔ملازمہ سر ہلا کر کچن کی طرف چل پڑی ۔
———————-
موسم صبح سے ہی بے حد خوبصورت تھا ،پورا آسمان ابر آلود ہو رہا تھا ۔ ہلکی ہلکی پھوار برس رہی تھی جو وقفے سے دھواں دھار بارش میں بدل جاتی ۔اور بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ اتنے حسین موسم میں میر سجاول کو زرتاج کی یاد نا ستائے ، دل اس سے ملاقات کے لئے نا مچلے ۔
حسبِ توقع میر کا پیغام اسے اسکول میں ہی مل چکا تھا کہ شام چار بجے شہر جانی والی سڑک کنارے وہ اس کا انتظار کرے گا ۔ساتھ حکم بھی تھا اور دھمکی بھی کہ کسی بھی طرح زرتاج اس سے ملنے کے لئے پہنچے
ورنہ وہ خود آجائیگا ۔
اس کی یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی تھی اور اب زرتاج کافی دیر سے صحن میں بیٹھی بے چینی سے پہلو پر پہلو بدل رہی تھی اور ماں کو موسم کے پکوان بناتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
زرتاج ! آج آرام نہیں کرے گی ۔۔۔؟آج تو بارش کی وجہ سے بچے بھی پڑھنے نہیں آئیں گے ۔اس کی ماں نے اسے اس وقت بیٹھے دیکھا تو ٹوکنا ضروری سمجھا کیونکہ اسکول سے آنے کے بعد وہ پوری دوپہر سو کر گزارتی تھی ۔
پتا نہیں کیوں ۔۔۔آج مجھے نیند نہیں آرہی ،شاید آپ کے پکوڑوں کی خوشبو کی وجہ ہے ۔زرتاج نے کھنکتی ہوئی آواز میں ہنستے ہوئے ماں سے کہا ۔یکدم ہی اس کو میر سے ملنے جانے کا بہانہ مل گیا ۔
اماں ! میں یہ پکوڑے نازی کے گھر لے جاؤں ،اسے آپ کے ہاتھ کے پکوڑے بہت پسند ہیں ۔وہ اکثر مجھ سے کہتی رہتی ہے کہ اماں
جب پکوڑے بنائیں تو مجھے ضرور کھلانا ۔اس نے بات بنائی ۔
ہیں ۔۔۔اس نے کب کھائے ؟ اس کی ماں اچھنبے سے بولی ۔
اس نے ایک بار کھائے تھے ،برسات میں ۔آپ کو یاد نہیں ،بہت پرانی بات ہے ۔زرتاج جھٹ سے بولی ۔
اچھا ،ٹھیک ہے لے جا ۔میں پلاسٹک کی تھیلی میں باندھ دیتی ہوں تاکہ
بھیگ نا جائیں ۔وہ کہتے ہوئے شاپر ڈھونڈھنے لگی ۔زرتاج کمرے میں
بھاگ گئی ۔
جلدی سے آئینے میں دیکھ کر بال سنوارے ،آنکھوں میں کاجل ڈالنے سے ہی اس کا حسن دو آتشہ ہوجاتا تھا ،اسے خود کو نمایاں کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے میک اپ یا قیمتی کپڑوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔سادگی میں بھی جہاں جاتی چھا جاتی تھی ۔
وہ باہر نکلی تو ماں نے اسے شاپر تھمایا اور سنبھل کر جانے کی تاکید کر
کے اپنے کام میں مگن ہوگئی ۔
زرتاج سر ہلا کر ماں کو خدا حافظ کہتی ہوئی گھر سے باہر نکل آئی ،شاپر کو چادر کے پلو میں دبائے وہ گھر سے نکل کر چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔ بارش کی وجہ سے گلیاں قدرے
سنسان پڑی تھیں ۔
شہر کی طرف جانے والی سڑک کا راستہ اس کے گھر سے کافی دور تھا مگر اچھا خاصہ راستہ وہ تیز قدموں کے ساتھ طے کر چکی تھی ۔ سڑک بھی دور سے ہی دکھائی دینے لگی تھی جب سامنے سے آتی ہوئی معظم شاہ کی گاڑی پر اس کی نظر پڑی اور زرتاج کے بڑھتے قدم وہیں رک گئے ۔اس کا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔
جاری ہے
رانیہ کیفے ٹیریا کے باہر بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی جب اس کی نظر سامنے سے آتے ہوئے مکتوم شاہ پر پڑی ۔وہ دوپٹہ درست کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔
ہیلو ! آپ کو ذیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا ۔۔۔؟ مکتوم نے نذدیک پہنچنے پر سوال کیا ۔
نہی ، کیونکہ آپ وقت سے پہلے ہی پہنچ گئے ہیں ۔رانیہ دھیمے سے مسکرائی ۔
کیونکہ میں آپ کو انتظار نہیں کروانا چاہتا تھا پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے ۔مکتوم شاہ برجستہ بولا۔
رانیہ سر جھکا کر اپنے پیروں کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی ۔
رانیہ ! آپ نے مائینڈ تو نہیں کیا ، میں نے آپ سے ملنےکےلئے اسرار کیا ۔اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔
مائینڈ میں تب کرتی جب آپ باہر ملنے پر اسرار کرتے ۔آپ میرے لئے اجنبی نہیں ہیں مگر پھر بھی میں اپنے پیرنٹس کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی ۔آئی ہوپ ۔۔۔آپ نے بھی مائینڈ نہیں کیا ہوگا ۔رانیہ نے صاف گوئی سے کہا ۔
گڈ ۔۔۔یہ بہت اچھی بات ہے ،اسی لئے میں آپ سے ملنا چاہتا تھا۔مکتوم شاہ نے اسے سراہتے ہوئے تہمید باندھی ۔
رانیہ ! آپ کے لئے میری پسندیدگی اب چھپی ہوئی تو نہیں ہے ، مگر میں پھر بھی میر سبطین سے بات کرنے سے پہلے آپ کی رضامندی چاہتا ہوں اگر آپ کو اعتراض نا ہو تو میں اپنی فیملی کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں مگر آپ کی مکمل رضا مندی کے بعد ۔
مکتوم شاہ دھیمے لہجے میں اپنی بات مکمل کر گیا اور رانیہ بری طرح جھینپ گئی ۔اسے مکتوم شاہ سے اس قدر بے تکلفی کی امید نہیں تھی ۔مکتوم شاہ دلچسپی سے اس کے بدلتے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔
آپ کیا کہہ رہے ہیں ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔وہ کافی گھبرا گئی تھی قدرے توقف سےبمشکل بولی ۔مکتوم شاہ بے ساختہ ہنس پڑا ۔
رانیہ ! میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ بھی انٹریسٹڈ ہیں تو میں اپنا پرپوزل بھیجتا ہوں اگر آپ نہیں چاہیں گی تو میں آپ کو فورس نہیں کروں گا ۔مکتوم شاہ نے سادگی سے کہتے ہوئے فیصلے کا اختیار اس پر چھوڑ دیا ۔
آپ میری اور اپنی فیملی کے درمیان کشیدگی کو جانتے ہوئے بھی ایسا کیوں سوچ رہے ہیں ۔۔۔؟شایدآپ کو اندازہ نہیں یہ امپاسیبل ہے ۔ رانیہ نے اسے حقیقت سے آگاہ کیا ۔
نتھنگ از امپاسیبل ۔۔۔میں ہر پہلو پر سوچ چکا ہوں اور اگر آپ ساتھ دیں گی تو میں اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے بھی اسٹیپ لوں گا ۔اس کے بعد ہی میں اپنے پیرنٹس سے بات کروں گا ۔وہ پر امید تھا۔
اس معاملے میں میری رائے سراسر مختلف ہے،سجاول بھائی اور معظم شاہ اس کشیدگی کوکبھی ختم نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔وہ دونوں اس راستے سے نہیں گزرتے جس سے پہلا گزر جائے کجا وہ اس رشتے کے لئے راضی ہو جائیں اور دشمنی ختم کردیں ۔وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔
بڑوں سے ذیادہ تو ان دونوں نے دشمنی کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے ،جعفر انکل اور آپ کے بابا ان دونوں کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں ۔ ایسے حالات میں آپ تنہا ہی ایسی کوئی کوشش کریں گے بھی تو کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔رانیہ مایوسی سے کہہ رہی تھی اور جو وہ کہہ رہی تھی وہ کچھ غلط بھی نہیں تھا ۔
آئے تھنک ،ایک نیک کام کے لئے کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ان دونوں اجڈ انسانوں کی شہہ پر کم عمر لڑکے بھی خود کو بہت بڑا غنڈا سمجھتے ہیں ۔
گاؤں میں معمولی سے جھگڑے پر قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،چھو ٹی سی بات پر گھر کے گھر اجڑ جاتے ہیں ۔معصوم لڑکیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں جن کا اس لڑائی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے ۔
اس خونی کھیل کو روکنے کے لئے کسی کو تو کوشش کرنی ہوگی اگر یہ کارِ خیر میرے ہاتھوں ہو تو میں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھوں گا ۔۔۔۔رہی بات آپ سے شادی کی خواہش کی اگر وہ نصیب میں ہوئی تو اس دشمنی کے باوجود بھی ہو کر رہے گی مگر آپ کی رضامندی کے بعد ،میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں ۔آخر میں وہ مبہم سا مسکرایا ۔
آپ کے ارادے جتنے مضبوط ہیں ،اللہ نے چاہا تو آپ کو کامیابی ضرور ملے گی جس طرح آپ نے غریبوں کی مدد کے لئے سب کی مخالفت کے باوجود ہاسپٹل تیار کیا ہے ۔۔۔۔اب مجھے لگنے لگا ہے کہ آپ یہ محاظ بھی سر کر لیں گے ۔رانیہ نے ہار مانتے ہوئے ہتھیار ڈال دئیے۔
وہ خود بھی دل سے مکتوم شاہ جیسے سلجھے ہوئے سمجھدار انسان کے ساتھ کی متمنی تھی ۔
رانیہ نے اس کی قوتِ ارادی پر یقین کرتے ہوئے دوبارہ اس کے قدم کے ساتھ قدم ملادئیے ۔
*********※**********
شاہ کی آنکھ کھلی تو سیدھی نظر عروش کے سوئے ہوئے وجود پر پڑی، وہ کہنی کے بل اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔وہ چاہ کر بھی اپنی نظر عروش کے چہرے سے ہٹا نہیں پا رہا تھا ۔وہ پوری رات ڈیرے پر گزار کرصبح پانچ بجے روم میں آیا تھا ۔
عروش نے کسمسا کر انگڑائی لی ، اس کا ایک ہاتھ اٹھا اور معظم شاہ کے سینے پر لگا ۔شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور زور دار جھٹکے سے دور پٹخ دیا ۔عروش ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔
شاہ خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔عروش نے جلدی سے اپنا دوپٹا اٹھایا اور گلے میں اٹکالیا ۔
اس بے ڈھنگے پن سے سونا ہے تو اپنا ٹھکانا دوسرے روم میں کر لو ورنہ آئندہ اس حرکت پر تمھیں اٹھا کر کمرے سے باہر پھینک دوں گا ۔اس میں تمھاری ہی رسوائی ہوگی ۔گھر والوں کو جواب تمھیں دینا پڑیگا مجھے نہیں ۔وہ ماتھے پر ڈھیروں بل ڈالے کہہ رہا تھا ۔عروش کی آنکھیں
یکلخت آنسوؤں سے بھیگ گئیں ۔وہ بغیر کوئی جواب دئیے بیڈ سے نیچےاتر گئی ۔
وائیٹ سوٹ نکال کر ریڈی کرو ،میں شاور لے رہا ہوں ۔پندرہ منٹ بعد بریک فاسٹ کروں گا ،جو تم خود تیار کروگی۔اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر حکم صادر کیا ۔ اس کا رخ واش روم کی طرف تھا۔
عروش کے دل میں آیا کہہ دے ،میں آپ کی نوکر نہیں ہوں یہ سارے کام کرنے کے لئے آپ کے گھر میں ملازموں کی فوج موجود ہے ، ان سے کروالیں مگر اسے شاہ سے کوئی بعید نہیں تھی اتنی جرأت پر صبح ہی صبح ٹھکائی نا لگادے ۔ اس لئے چپ چاپ سلیپر میں پیر ڈال کر ڈریسنگ روم میں آگئی ۔ اس کے لئے ڈریس سلیکٹ کر کے وہ کچن میں چلی آئی ۔
ناشتہ ٹرالی میں سجائے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی تو شاہ مکمل تیاری کے ساتھ سلیو کے بٹن بند کرتا صوفے پر آبیٹھا ۔
عروش جھک کر اسے بریک فاسٹ سرو کر رہی تھی ۔یکدم شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔وہ اس کے بریسلیٹ کو بغور دیکھ رہا تھا۔شاہ نے دو انگلیاں بریسلٹ میں پھنسا کر کھینچا اور نازک سا بریسلٹ ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا ۔عروش کا بڑی زور سے دھڑکا ۔
تمھارے ہاتھ کو اب اس بریسلٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔اب اسےبھی تمھاری ذندگی سے نکل جانا چاہئے ۔طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے بریسلٹ اپنی سائیڈ پاکٹ میں ڈال لیا ۔
عروش کی پلکیں جھکی ہوئیں تھیں مگر شاہ اس کی آنکھوں میں دیکھے بنا بھی اس کی اندرونی حالت جانتا تھا ۔ عروش کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں فل اے سی روم میں بھی چمک رہی تھیں ۔ شاہ نے غیر محسوس انداز میں اسے جتا دیا تھا کہ وہ اس بریسلٹ کی حقیقت سے بے خبر نہیں ۔
عروش کی فیملی کے جو مالی حا لات تھے ان میں اس کے پاس اتنے قیمتی بریسلٹ کی موجودگی کو شاہ کے شارپ مائینڈ نے ایک پل میں جان لیا تھا کہ وہ کس کی عنایت ہے ۔ اس کے اندر غصے کی ایک تیز لہر اٹھی تھی جسے وہ بمشکل دبائے بریک فاسٹ میں مصروف ہو گیا تھا۔اس نے ایک بار بھی عروش کو اپنے ساتھ بریک فاسٹ میں شامل
ہونے کے لئے نہیں کہا تھا ۔اس دوران عروش سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی ۔
بریک فاسٹ سے فری ہو کر شاہ نے نیپکن سے منہ صاف کیا ۔
شاہ ! میں شہر جانا چاہتی ہوں ،امی کی بہت یاد آرہی ہے ۔اگر آپ شہر جارہے ہیں تو مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔عروش نے بڑی مشکل سے اس کو مخاطب کیا تھا ۔رات امی اور ایان کو اتنا یاد نا کیا ہوتا تو وہ ہرگز اس سے ہمکلام نا ہوتی ۔
لیکن میں نہیں چاہتا کہ تمھیں شہر جانا چاہئے ،تمھیں ان سے ملنا ہے تو انہیں یہاں بلوایا جاسکتا ہے ، کل سنڈے ہے ۔بلوا لونگا مگر اب شہر کا نام تمھاری زبان پر نہیں آنا چاہئے ۔
عروش ! میری برداشت کو مت آزماؤ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا مگر تم نے مجھے مجبور کیا تو میں یہ بھول جاؤں گا کہ میں نے کبھی تم سے محبت کی تھی ۔وہ برہمی سے کہتا ہوا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
عروش دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر روپڑی تھی ۔ میر سبطین کی جدائی سے ذیادہ اسے شاہ کی بے اعتباری اس کا سرد رویہ اس کی بے توجہی تکلیف دے رہی تھی ۔
***********※***********
اپنے روم سے نکل کر وہ کارچ پورچ میں آیا تھا ۔الرٹ کھڑے ڈرائیور اور گارڈز اسے دیکھتے ہی پھرتی میں آگئے ۔گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے ڈرائیور کو شہر لے جانے کا حکم دیا ۔
صبح بیڈ پر رونما ہونے والے قصے اور عروش کے ہاتھ میں میر سبطین کے بریسلٹ نے اس کا موڈ انتہائی خراب کر دیا تھا ۔ اب تین چار دن اس کا گاؤں میں رہنے اور عروش کا سامنا کرنے کا قطعی موڈ نہیں تھا ۔
اسی بگڑے ہوئے موڈ میں اس نے بادل ناخواستہ نگار کی کال اٹینڈ کی جس نے دو مہینے سے شاہ کو دن رات کالز کر کے پریشان کیا ہوا تھا۔
میں نے تمھیں سمجھایا تھا نا کہ میں ان دنوں بہت بزی ہوں مجھے ڈسٹرب مت کرنا پھر یہ بات تمھارے دماغ میں گھستی کیوں نہیں ہے ؟شاہ نے برہمی سے اسے بے نقط سنائیں ۔
میں گاؤں آیا ہوں اور بہت بزی ہوں ، ایک ہفتے تک میرا کراچی آنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔تم مجھے اب دوبارہ کال کر کے تنگ مت کرنا مجھے جب فرصت ملے گی میں خود تمھیں کال کرلوں گا ۔
شاہ !چھ مہینے ہو گئے نا آپ خود آئے ہیں نا آپ کا چیک آیا ہے ۔یہ تو میرے ساتھ ذیادتی ہے ۔نگار نے کھنکتی ہوئی آواز میں شکوہ کیا ۔ اس پر شاہ کی برہمی کا اثر تو ہوا مگر پھر بھی ڈھٹائی سے بولی ۔
ہوں۔۔۔ڈونٹ وری ! چیک تمھیں مل جائیگا لیکن کان کھول کر سن لو اب تم مجھے کال نہیں کروگی ۔ شاہ نے شانِ بے نیازی سےکہتے ہوئے تنبیہہ کی ۔
شاہ ! کہیں آپ نے شادی تو نہیں کرلی ۔اس نے خدشہ ظاہر کیا ۔
تم بس یہی سمجھ لو ۔معظم شاہ نے اسے کھل کر بتانے یا چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔عروش سے پہلی ملاقات کے بعد سے وہ اس قسم کے تعلقات اور ملاقاتوں کو خیر باد کر چکا تھا مگر یہ نگار کسی صورت اس کی جان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھی ۔
اس کا موبائل پھر سے وائبریٹ ہونے لگا ،اپنے خاص بندے کا نمبر دیکھ کر کال رسیو کر لی ورنہ اس وقت وہ کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔عروش کو ہرٹ کر کے وہ خود بھی بے حد مضطرب تھامگر اس کی انا اسے یہ سب کرنے پر مجبور کر رہی تھی ۔
یس ! اس نے موبائل کان سے لگا کر گمبھیر آواز میں کہا ۔
سائیں ! پولیس کو حماد کی لاش مل گئی ہے لیکن ساتھ ایک گڑ بڑ بھی ہو گئی ہے ۔اس کی آواز میں پریشانی کا عنصر نمایاں تھا ۔
کیسی گڑبڑ ۔۔؟ شاہ کی آواز بے تاثر تھی ۔
سائیں ! حماد کے گھروالے اس کی موت کے ساتھ بی بی اور ان کے خاندان کی اچانک گمشدگی کو جوڑ رہے ہیں ۔انہوں نے ایف۔آئی۔آر میں بھی نام لکھوایا ہے ۔
ٹھیک ہے ، میں دیکھ لوں گا ۔بس تم ان لوگوں پر نظر رکھو ۔مجھے ایک ایک پل کی رپورٹ چاہئے ۔
حاضر سائیں !
شاہ نے اسکی کال ڈسکنیکٹ کی پھر ایک نمبر ملایا ،اپنے رسوخات استعمال کرتے ہوئے ایف ۔آئی۔آر غائب کرنے اور کیس کو ختم کرنے کی ہدایت دیں ۔ کچھ دیر کال پر مصروف رہنے کے بعد اس نے فون بند کر دیا ۔ اس تمام دورانیے میں اس کی پیشانی پر گہری تفکر کی لکیروں کا جال پھیلا ہوا تھا ۔کال سے فارغ ہو کر اس نے ڈرائیور کو مخاطب کیا ۔
نواز !
جی سائیں !
یہ میری طرف سے اپنی بیوی کو دی دینا ۔ اس نے پاکٹ سے بریسلٹ نکال کر اس کی طرف اچھا لا ۔ڈرائیور نے چمکتی آنکھوں سے قیمتی بریسلٹ کو دیکھا اور پاکٹ میں ڈال لیا ۔
مہربانی سائیں !
ہوں ۔۔۔شاہ کو وہ بریسلٹ اپنے پہلو میں کسی زہریلے سانپ کی مانندلگ رہا تھا ۔ اسے نکالتے ہی جیسے سکون سا مل گیا تھا ۔ وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش لیتے ہوئے مسلسل عروش کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔گاڑی کی دبیز خاموشی میں اس کی دھیمی سی بڑبڑاہٹ گونجی ۔
ڈمپل گرل !
**********※**********
زرتاج لمحے کے ہزارویں حصے میں درخت کی اوٹ میں ہوگئی ،سر سے اوڑھی ہوئی چادر کو مزید نیچے کھینچ لیا مگر معظم شاہ کی نظر اس پر پڑی ہی نہیں تھی ،وہ زرتاج کے سامنے سے نکلتا چلا گیا ۔
افففف ۔۔۔۔زرتاج نے گہرا سانس خارج کیا اور وہیں کھڑی رہ کر سوچنے لگی کہ آگے جائے یا واپس گھر چلی جائے ۔وہ اندر تک اتنی خوفذدہ ہوگئی تھی کہ دل چاہ رہا تھا واپس گھر لوٹ جائے مگر دوسری طرف میر سجاول کے غصے سے بھی خائف تھی ۔ اگر وہ نہیں جاتی تو میر سجاول نے بنفسِ نفیس رات کو گھر پہنچ جانا تھا ۔اسی خیال کےتحت اس کے قدم خود بہ خود میر کی بتائی ہوئی جگہ کی سمت بڑھنے لگے جہاں وہ بے صبری سے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
میر سجاول کی نظر نے دور سے آتی زرتاج کو نقاب میں بھی پہچان لیا اور خوشی کے اظہار میں انڈیگیٹر (endigater)دینے لگا پھروہ یکدم باہر نکلا اور گھوم کر زرتاج کے لئے فرنٹ ڈور کھول کر کھڑا ہو گیا ۔
دلبر ! اگر تم آج نہیں آتی تو میں تمھارے گھر پہنچنے کے لئے رات کا بھی انتظار نہیں کرنے والا تھا ۔نذدیک پہنچنے پر اس نے بے اختیار زرتاج کو بازوؤں سے پکڑ کر گول چکر میں گھما ڈالا ۔
زرتاج کا دل تو پہلے ہی پتے کی طرح لرز رہا تھا ،میر سجاول کے اتنے والہانہ استقبال پر وہ بے ہوش ہونے کو تھی ۔میر نے زبردست قہقہہ لگا کر اسے گاڑی میں بٹھا دیا ۔
اس نےڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بھرپور نظر زرتاج کے بھیگے سراپے پر ڈالی ۔بارش کی تیز بوچھاڑ نے ان دونوں کو بھگو دیا تھا ۔
زری ! پریشان لگ رہی ہو ۔۔۔سب خیر تو ہے ناں ؟ زرتاج کی آنکھوں میں لہراتے خوف کے سائے میر سجاول کو بے چین کر گئے ۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر زرتاج کا نقاب ہٹا دیا ۔
میر سائیں ! مجھے بس جلدی جانا ہے ۔۔۔شام ہو رہی ہے بابا بھی گھر پر ہیں اگر ذیادہ دیر ہوگئی تو اماں انہیں مجھے بلوانے کے لئے بھیج دیں گی۔ وہ معظم شاہ کا ذکر یکسر چھپا گئی ورنہ میر سجاول نے فوراً بھڑک جانا تھا ۔
دیکھو دلبر ! میں ایک گھنٹے سے پہلے تمھیں ہر گز نہیں جانے دوں گا اگر ضد کی یا منہ بنایا تو تمھارا یہ موہنا سا منہ بھی توڑدوں گا اور ٹائم پیریڈ مزید ایک گھنٹہ بڑھا دوں گا ۔اس نےدو ٹوک لہجے میں تمام ترلحاظ مروت بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے ایک عدد دھمکی سے نوازا اور گاڑی اپنے ڈیرے کی طرف جانے والے راستے پر ڈال دی ۔زرتاج نے گہری سانس کھینچ کر اس کی طرف دیکھا مگر وہ ونڈ اسکرین پر نظریں جمائے ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔سامنے سے پڑنے والی تیز روشنی کی کرنیں اس کی ڈارک براؤن آنکھوں میں سنہرا پن پیدا کر کے انہیں مزید دلکش بنا رہی تھیں ۔زرتاج نے دوپل نگاہ بھر کے دیکھنے کے بعد نظرچرالی ۔
پہلے ہم ڈیرے پر پہنچ کر بارش میں بھیگیں گے پھر لنچ کریں گے ۔۔۔۔تمھارے ساتھ لنچ کرنے کی خاطر میں ابھی تک بھوکا ہوں ۔میر نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بے چارگی سے کہا ۔سخت پریشانی کے عالم میں بھی زرتاج کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
لیکن میں نے تو لنچ کر لیا ہے اور اب مجھے بھوک بھی نہیں ۔۔۔آپ نے میرا انتظار کیوں کیا ۔۔۔آپ کھانا تو ٹائم پر کھا لیتے ۔اگر میں نہیں آتی تو کیا آپ رات تک بھوکے رہتے ۔۔۔؟زرتاج نے معصومیت سے سوال کیا ۔
میرے دل نے مجھ سے کہا تھا کہ آج لنچ دلبر سائیں کے ساتھ ہی کرنا ہے تو بس کرنا ہے ورنہ کچھ نہیں کھانا ۔اس نے مخصوص ضدی لہجے میں کہتے ہوئے بیک سیٹ سے سرخ گلابوں کا بکے اٹھا کر زرتاج کی گود میں رکھ دیا ۔زرتاج نے بکے چہرے کے قریب کیا اور گہری سانس کے زریعےاس کی خوشبو اندر جذب کرنے لگی ۔میر جانتا تھا اسے فلاورز بہت پسند ہیں اس لئے ہمیشہ اس کی کوشش رہتی تھی کہ وہ بغیر فلاورز لئے اس کے پاس نا جائے ۔
میر سجاول نے مسکراتی آنکھوں سے اس کا فلاورز سے لگاؤ دیکھا تبھی اس کی نظر زرتاج کے ہاتھ میں دبے شاپر پر پڑی ۔
دلبر ! یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے ۔۔۔۔؟اس نے پوچھتے ہوئے خود ہی ہاتھ بڑھا کر شاپر کھولی تو پکوڑے دیکھتے ہی بولا۔
واؤ ۔۔۔ یہ میرے لئے لائی ہو ،یقیناً تم نے اپنے کومل ہاتھوں سے بنائے ہونگے ۔اس نے فوراً ایک پکوڑا منہ میں رکھ لیا اور دوسرے ہاتھ سے ہاتھ پکڑ کر چوم لیا۔زرتاج خاموش رہی ۔
ہممم۔۔۔دلبر سائیں ! آپ کے ہاتھ میں تو بہت ذائقہ ہے ،آپ تو پہلی فرصت میں حویلی کے تمام ککس کی چھٹی کروا دیں گی ۔اس نے زرتاج کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا ۔
یہ میں نے نہیں اماں نے بنائے ہیں اور یہ میں آپ کے لئے نہیں نازی کو کھلانے بہانے لے کر نکلی تھی ۔زرتاج نے پل بھر میں اس کی خوش فہمی دور کر دی ۔میر نے منہ بنایا تو زرتاج بے ساختہ ہنس پڑی۔
وہ لوگ ڈیرے پر پہنچ چکے تھے ، میر نے گاڑی ڈیرے کے پچھلے حصےمیں لے جا کر روک دی پھر خود باہر نکلا اور زرتاج کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا ۔
میر سائیں ! مجھے نہیں بھیگنا ۔۔۔کپڑے گیلے ہوجائیں گے تواماں بہت ڈانٹیں گی ۔زرتاج نے التجا کی مگر میر اسے تقریباً کھینچتا ہوا شیڈ سے باہرلے آیا ۔
یار بات سنو ! مجھے بارش بہت پسند ہے اور اب میرے ساتھ تمھیں بھی پسند کرنا پڑیگی ۔تم بار بار انکار کرکے موڈ خراب کر دو گی ۔پلیز !موسم کو انجوائے کرو میرے ساتھ ،تھوڑی دیر کے لئے اپنی فیملی کو میری فیملی کو ،گاؤں والوں کو ، اس پوری دنیا کو بھول جاؤ اور صرف مجھے یاد رکھو۔اس نے زرتاج کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروادیا ۔
میر اس کے شولڈر پر اپنا بازو پھیلائے دور تک پھیلے سبزے کی طرف بڑھ رہا تھا۔بارش کے پانی سے سارا نظارہ دھل کر شفاف ہوگیا تھا ۔
قدرت کے رنگ ہر سو بکھرے ہوئے تھے اور میر سجاول اپنے پسندیدہ موسم میں زرتاج کے ساتھ پر دیوانہ ہورہا تھا ۔
زری ! تم بوڑھی بھی ہو جاؤگی ،اسٹک کے سہارے چلو گی تب بھی ہم ہر برسات میں یہاں آکر اپنی اس ملاقات کی یادیں تازہ کریں گے ۔
زرتاج نے سر اٹھا کر اسے زرا سا گھورا جو مسکراہٹ دبائے مزے سے نظریں چراگیا تھا ۔
صرف میں بوڑھی ہو جاؤں گی ۔۔۔۔؟ زرتاج نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں کو کھینچا ۔
ظاہر سی بات ہے ، تم نے کبھی سنا نہیں مرد کبھی بوڑھے نہیں ہوتے ۔ میر سجاول نے بڑی شان سے کہا ۔
نہیں ، میں ایسی باتیں نہیں سنتی اور آپ مجھ سے پہلے بوڑھے ہو جائیں گے کیونکہ میں عمر میں آپ سے پورے سات سال چھوٹی ہوں ۔وہ منہ پھلائے بولی ۔میر سجاول کا خوبصورت ذندگی سے بھر پور قہقہہ فضا میں بکھرا ۔
ہاں ، پھر جب تم اتنی بوڑھی ہوجاؤگی کہ اسٹک کے سہارے چلنے لگو گی تب میں دوسری یا پھر تیسری شادی کر لوں گا ۔۔۔مگر میری محبت صرف اور صرف تمھارے لئے ہی ہوگی ۔ڈونٹ وری ! تم کبھی بھی جیلس مت ہونا ۔۔۔۔یہ مت سمجھنا کہ میر سجاول اب بدل گیا ہے۔ میرے پیار اور توجہ کا مرکز تم ہی رہوگی ۔
میر بارش کی بوندوں پر نظر جمائے زرتاج کے چہرے پر پھیلتے تحیرکو مکمل نظر انداز کئے بولے جارہا تھا ۔
زرتاج نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو اپنے شولڈر سے ہٹایا اور بغیر کوئی جواب دئیے خاموشی سے چند قدم آگے بڑھ گئی ۔میر نے جھپٹ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
سو سال کی بھی ہو جاؤگی تب بھی میں تمھیں یونہی چاہوں گا ،مرتے دم تک تمھارے لئے میری چاہت میں کمی نہیں آئیگی ۔
دلبر ساۂیں ! تم میری پہلی اور آخری محبت ہو اور ہمیشہ رہوگی ۔
اس نے یکدم ہی کہتے ہوئے زرتاج کو بازؤں میں اٹھا کر زوردار چکر دے ڈالا بارش کی بوندیں زرتاج کے چہرے پر گر رہی تھیں اس نے آنکھیں میچ لیں ۔میر نے پر شوق نظروں سے زرتاج کو دیکھا ۔سر سبز نظارے سے ذیادہ حسین رنگ میر کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے ۔
بارش کی بوندیں زرتاج کے گلابی چہرے پر شبنم کے قطروں کی مانند چمک رہی تھیں ۔میر سجاول مبہوت سا ہو کر اسے تکنے لگا۔
مگر وہاں کوئی اور بھی تھا جو کینہ طوز نظروں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا اور شایدان دونوں کی محبت کے چاند پر گرہن ثابت ہونے والا تھا ۔
