Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dillon Ke Bandhan (Episode 11,12)

Dillon Ke Bandhan Umme Maryam

ثمینہ بیگم جائے نماز پر بیٹھیں مسلسل رو رہی تھیں اور دعا مانگ رہی

تھیں ۔ایان انکی گود میں سر رکھ کر سوچکا تھا ۔معظم شاہ کو نکلے ہوئے بھی دو سے تین گھنٹے گزر چکے تھے ۔مگر اب تک نہ عروش آئی تھی نہ اسکی کوئی خیر خبر ملی تھی۔ان کا دل اندیشوں سے بیٹھے جارہا تھا جب دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔

وہ گرتی پڑتیں دروازے تک پہنچی تھیں ۔اور بے تابی سے دروازہ کھولا

تو سامنے عروش کو معظم شاہ کے ساتھ کھڑا پایا ۔عروش لپک کر ماں

سے لپٹ گئی ۔

عروش کے چہرے پر نشانات دیکھ کر ثمینہ بیگم کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔اس کی حالت ابتر ہورہی تھی ،وہ ہچکیوں سے رونے لگی ۔ثمینہ نے اسے خود سے لپٹالیا وہ خود بھی رو رہی تھیں ۔ آج کا دن انہوں نے کس اذیت میں گزارا تھا یہ وہی جانتی تھیں ۔

معظم شاہ بھی اندر چلا آیا ،اس نے پلٹ کر دروازہ بند کردیا ۔وہ پشت

پر ہاتھ باندھ کر بے تاثر چہرے کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اس نے بیٹھنے کی

بھی زحمت نہیں کی تھی ۔اس کے چہرے سے یہ اندازہ لگانا ناممکن

تھا کہ اس وقت وہ کس موڈ میں ہے ۔

دونوں ماں بیٹی مجرموں کی طرح سر جھکائے خاموش کھڑی تھیں ۔پھر

شاہ نے خود ہی یہ خاموشی توڑی اور براہ راست عروش کو مخاطب کر

کے پوچھا ۔

حماد کون ہے اور وہ تمھیں کیسے جانتا ہے ۔۔۔؟ یہاں تک نوبت کیسے

پہنچی کہ وہ تمھیں اٹھا کر لے گیا ۔اس کا لہجہ دھیما مگر اس میں چٹانوں

سی سختی تھی ۔

ثمینہ کو اسکی بات پر کرنٹ لگا تھا ۔انہوں نے پہلے شاہ کو اور پھر

عروش کو بے یقینی سے دیکھا مگر عروش کی حالت شاہ کی کہی بات

کو سچ ثابت کر رہی تھی ۔

عروش نے جھجکتے ہوئے ،اریبہ کے گھر حماد سے ہونے والی پہلی

ملاقات سے لے کر رشتہ بھیجنے سے انکار تک کی پوری کہانی دھیمی آواز میں اس کے گوش گزار دی ۔ثمینہ نے اپنا سر تھام لیا ۔

ہوں۔۔۔شاہ نے ہنکارا بھرا۔

خالہ جان ! میں نے کہا تھا ناں آپ سے ،اب عروش گھر سے

باہر قدم نہیں نکالے گی پھر کس کی اجازت سے یہ گھر سے نکلی تھی۔

کیا سوچ کر آپ دونوں نے اپنی من مانی کی تھی۔وہ بپھر رہا تھا۔

ثمینہ بیگم کے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا وہ نادم سی

نظریں جھکا گئیں ۔

آپ لوگوں پر میری بات کا اثر نہیں ہوا ۔میری عزت کا جنازہ نکال دیا آپ کی اس بیٹی نے ،میری عزت دو کوڑی کی کردی ہے۔ میرے ملازموں کے سامنے ۔

معظم شاہ شیرازی کی ہونے والی بیوی کو کسی نے اغوا کیا ،پورا دن وہ اس کی قید میں گزار کر آئی ہے ۔۔۔میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے اس نے دل کرتا ہے گولی مار دوں آپ کی لاڈلی کو ۔۔۔یا اس کی ٹانگیں توڑ کر ہمیشہ کے لئے گھر بٹھا دوں ۔کرب اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں گھرا بری طرح تلملا رہا تھا ۔

ثمینہ بیگم نے دہل کر اس کی طرف دیکھا ۔

اب مجھے آپ پر بلکل بھروسہ نہیں ،مزید ایک منٹ بھی اب مہلت

نہیں دونگا ۔ اسی وقت آپ لوگ میرے ساتھ چلیں گے ۔میری

دی ہوئی ڈھیل کا بہت ناجائز فائدہ اٹھا لیا آپ دونوں نے ، آج

ہی میرا اورعروش کا نکاح ہو گا ۔شاہ نے پشت پر ہاتھ باندھےنفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک لمحے میں اپنا فیصلہ سنادیا ۔

عروش کے سینے سے ایک ہوک سی اٹھی تھی۔اس کے دل کی سرزمین پر پہلا قدم رکھنے والا میر سبطین تھا ۔

عروش نے اسکی ہمراہی کے خواب بھی سجالئے تھے مگر اس کے

خواب اتنی جلدی چکنا چور ہو جائینگے ،وہ یہ نہیں جانتی تھی ۔

ثمینہ بیگم شاہ کے منہ سے نکلے الفاظوں پر ایک لمحے کے لئے ٹھٹکیں ضرور مگر انہیں شاہ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔عروش کے

ساتھ آج جو کچھ بھی ہوا ،وہ سننے کے بعد تو بلکل بھی نہیں ۔

اس طرح عروش اور ایان کا مستقبل بھی محفوظ ہوجاتا ویسے بھی ان

میں شاہ کے فیصلے سے اختلاف کی جرأت بھی نہیں تھیں ۔

وہ ہر گز نہیں چاہتی تھیں برسوں پہلے گزری کہانی پھر دہرائی جائے۔

ایک بار پھر ان سب پر کوئی قیامت ٹوٹ پڑے جس سے تین خاندان تنکوں کی طرح بکھر گئے تھے ، جن کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔

اگلے ایک گھنٹے میں وہ تینوں اپنے ضروری سامان کے ساتھ معظم

شاہ کی گاڑی میں سوار اس کے نئے بنگلے میں شفٹ ہونے جارہے

تھے جو شاہ نے عروش کے لئے خریدا تھا۔

ثمینہ بیگم ،عروش اور ایان تینوں بیک سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔شاہ

نے بیک ویو مرر سےایک خفگی بھری نظر عروش پر ڈالی ،اس کے چہرے پر زخموں کے نشانات دیکھ کر شاہ کو نئے سرے سے غصہ چڑھنے لگا ۔

اب حماد کا وہ کیا حشر کرنے والا تھا یہ تو وہی جانتا تھا ۔

***********※***********

آفس کی ٹائمنگ ختم ہوئے گھنٹوں گزر چکے تھے ،پورا اسٹاف جا چکا تھا مگر وہ اب تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا نا جانے کس ادھیڑ بن میں مصروف تھا ۔تبھی اس کا موبائل بج اٹھا،اس نے ٹیبل پر پڑے موبائل پر نظر ڈالی اور رانیہ کا نمبر دیکھ کر کال اٹینڈ کی ۔

ہیلو ! بھائی آپ اب تک گھر کیوں نہیں پہنچے ! ہم سب ڈنر پر آپ کا ویٹ کر رہے ہیں ۔

رانیہ بیٹا ! آپ لوگ ڈنر کریں مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہو جائیگی ۔اس نے

آہستگی سے جواب دیا۔

بھائی ! اینی پرابلم ۔اس کی آواز کا بوجھل پن محسوس کر کے رانیہ نے

استفسار کیا ۔

ایوری تھنگ از آل رائٹ ،میں تھوڑا بزی ہوں کچھ دیر تک فری ہوکر گھر پہنچتا ہوں ۔اس نے رانیہ کو ٹال دیا۔

لیکن ڈیڈی کتنی بار آپ کا پوچھ چکے ہیں ۔۔۔رانیہ نے پریشانی سے کہا۔

تم انہیں کھانا کھلا کر میڈیسن دو ،میں گھر پہنچ کر ان سے مل لونگا۔میر

سبطین نے کہتے کے ساتھ ہی کال ڈسکنیکٹ کردی۔

مجھے عروش کے ساتھ مس بی ہیو نہیں کرنا چاہئے تھا ،وہ جو کچھ بھی بول رہی تھی یقیناً جھوٹ نہیں بول رہی ہوگی ۔۔۔مجھے اس کی بات کو

سمجھنا چاہئے تھا۔

معظم شاہ جیسا انسان جو ہر کسی پر اپنی دھونس جماناجانتا ہو ،ہر بات میں اپنی مرضی کرنے کا عادی ہو ۔۔۔اس کے لئے عروش جیسی دبو لڑکی کو اپنے اشاروں پر چلانا کونسا مشکل کام ہے ۔اس نے عروش کو بھی مجبور کیا ہوگا ۔

میں کیوں اس سے بدگمان ہوگیا۔۔ ۔ناجانے وہ میرے بارے میں کیا

سوچ رہی ہوگی کہ میری سوچ اتنی سطحی ہے ۔نہیں ،مجھے اس سے فوراً کانٹیکٹ کرنا چاہئے۔میر سبطین دونوں

ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسائے سوچ رہا تھا ،موبائل اٹھا کر اس

نے عروش کو کال ملائی ۔دو تین بار ٹرائے کرنے پر بھی عروش کا نمبر آف جارہا تھا۔

اس کا نمبر کیوں آف ہے ۔۔۔سوئی تو نہیں ہوگی ۔کچھ سوچ کر وہ اپنی جیکٹ ،موبائل اور کیز اٹھائے آفس سے باہر نکل آیا ۔

وہ بے مقصد سڑکیں ناپتا رہا پھر پر کچھ دیر ونڈ اسکرین پر نظر جمائے سوچنے کے بعد اس کی گاڑی کا رخ عروش کے گھر کے جانب تھا ۔

تقریباً بیس منٹ بعد ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ عروش کی گلی میں

پہنچ چکا تھا۔

گاڑی سے اتر کر وہ عروش کے گھر کی طرف بڑھا مگر وہاں بڑا سا تالاپڑا

ہوا اسے منہ چڑا رہا تھا۔میر سبطین نے تالا ہاتھ میں پکڑے ادھر ادھر

نظر دوڑائی تو کچھ فاصلے پر ایک خاتون کو گیٹ سے جھانکتا دیکھ کر ان کی

طرف چلا آیا جو اس کی گاڑی کی آواز سن کر ہی دروازے تک آئی تھیں ۔

آنٹی ! کیا آپ کو معلوم ہے یہ لوگ کہاں گئے ہوئے ہیں اور کب تک واپس آجائیں گے ۔

بیٹا ! ان کے گھر پر تو دو تین دن سے تالا لگا ہوا ہے ۔ویسے تو یہ لوگ کبھی کہیں نہیں گئے ایسا پہلی بار ہوا ہے ۔خاتون نے تفصیلی جواب دیا۔

میر سبطین سر ہلا کر پلٹ گیا ۔اس وقت وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا ۔اسی بے بسی میں خود کو کوس رہا تھا کہ اسے اتنی جلد بازی نہیں کرنی چاہئے تھی ۔

عروش تم کہاں چلی گئیں یار ! اب میں تمھیں کہاں ڈھونڈو ۔وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔اس نے غصے سے اسٹئیرنگ پر ہاتھ مارا ۔وہ پھر سے عروش کا نمبر ٹرائے کر رہا تھا جو مسلسل آف جا رہا تھا ۔

***********※***********

ان لوگوں کو معظم شاہ کے گھر میں ایک دن اور ایک رات گزر چکی تھی ۔گھر کیا تھا جیسے محل تھا ۔اس کی شان و شوکت حویلی سے کچھ کم نہیں تھی ۔جدید اور قیمتی فرنیچر سے آراستہ ،بہترین انٹئیریر ڈیکوریٹنگ کا شاہکار۔

وہ تینوں تو حق دق رہ گئے تھے ۔شاہ نے ان لوگوں کو ملازمہ کے ساتھ سیدھا بیڈروم میں پہنچا دیا تھا اور خود باہر سے ہی جو گیا تھا تو اب تک واپس نہیں آیا تھا۔پوری رات عروش کی آنکھوں سے نیند دور رہی تھی۔وہ جو بے حال ہو کر دوپہر کو سوئی اب اٹھی تھی ۔اپنے سامنے لگی شاہ کی تصویر کو گھورتے ہوئے اس کے ذہن میں کل گزرنے والا

واقعہ پوری جذائیت سے تازہ ہو گیا تھا ، وہ جھرجھر ی لے کر اٹھ بیٹھی۔

کمرہ بے حد کشادہ اور فل فرنیشڈ تھا ۔ ایک دیوار پر شاہ کی بڑی سی

تصویر لگی ہوئی تھی ۔چھوٹا سا روم فریج بھی موجود تھا ۔

ثمینہ بیگم صوفے پر اجنبی سے انداز میں بیٹھی کسی سوچ میں گم تھیں تبھی عروش نے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا ۔

امی ! مجھے معظم شاہ سے شادی نہیں کرنی ،آپ کسی بھی طرح انہیں

روک لیں ۔میں اس نکاح کے لئے بلکل بھی تیار نہیں ۔وہ عاجزی

سے بولی ۔

عروش ! کیا چاہتی ہو تم بولو ، معظم سے نکاح نہیں کرنا تو کس سے کرنا ہے ۔۔؟ ثمینہ ترکی بہ ترکی بولیں ۔

عروش کی نظروں میں اس ستمگر کا چہرہ گھوم گیا جس نے ایک پل بھی

نہیں لگایا تھا بد گمان ہونے میں ،وہ چاہ کر بھی اب میر سبطین کا نام

نہیں لے سکتی تھی ۔اس لئے خاموش نظروں سے ماں کو تکتی رہی۔

اتنی رسوائی ہوچکی ہے کافی ہے ،اس سے ذیادہ کی متحمل میں نہیں ہوسکتی ۔معظم جو کچھ بھی کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے ۔

کل جو کچھ بھی ہوا ہے اس نے مجھے سر سے پاؤں تک ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اگر معظم وقت پر نہ پہنچتا تو قیامت ٹوٹ پڑنی تھی ۔ شکر کرو ! جو اس نے تمھیں بچا لیا اور اس سب کے باوجود بھی تمھیں اپنا نے کے لئے تیار ہے ۔ثمینہ بیگم نے اسے اچھی طرح لتاڑا ۔عروش لاجواب سی ہوکر رہ گئی ۔اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی ۔

یس ! دونوں نے بے اختیار دروازے کی جانب دیکھا جبکہ جواب عروش نے دیا تھا ۔

سر کا حکم ہے آپ لوگ ڈائیننگ روم میں جا کر کھانا کھالیں ،وہ کسی

ضروری کام سے گئے ہوئے ہیں باہر ہی لنچ کر لیں گے ۔ملازمہ نے مؤودبانہ شاہ کا پیغام ان تک پہنچایا ۔

ٹھیک ہے ! تم جاؤ ،ہم کچھ دیر تک آتے ہیں ۔ثمینہ نے جواب دیا ۔

ملازمہ سر جھکائے واپس پلٹ گئی ۔

عروش ! تم فریش ہوجاؤ اور نیچے جاکر ایان کے ساتھ ڈنر کر لومجھے بھوک نہیں ہے ۔وہ تھکے تھکے انداز میں بولیں۔

عروش خاموشی سے اٹھ کر واش روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ۔

ثمینہ بیگم نے صوفے کی پشت پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔ان کے ذہن میں ماضی کے دریچوں کے در وا ہونے لگے ۔

••••••••••※••••••••••

(ماضی)

بیس برس پہلے شیرازی ، میر اور غزینی یہ تینوں خاندان ایک ہی گاؤں سن پورہ میں ایک ساتھ رہتے تھے ۔تینوں خاندانوں میں مثالی دوستی تھی ۔خواتین بھی ایک دوسرے کے گھر بلا جھجک جایا کرتی تھیں ۔

غزینی خاندان میں بس دو بھائی تھے بڑے بھائی مسرور غزینی اور ان

کی بیوی ثمینہ بیگم ، وہ دونوں شادی کے اتنے برس بیت جانے کے

بعد بھی اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔چھوٹا بھائی تیمور علی غزینی جو

کہ لندن میں میر پرویز کا ہی ہم جماعت تھا۔مسرور غزینی اور ثمینہ کے

لئے وہی ان کی کل کائنات تھا ۔

اسد شاہ شیرازی بھی اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا مگر ان دونوں

سے دو سال سینئیر ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل کر کے پاکستان

واپس لوٹ چکا تھا اور اب زمینداری اور بزنس دونوں سنبھال رہا

تھا۔حیدر علی شاہ اور صفدر علی شاہ دونوں ہی اس کی قابلیت اور

ذہانت پر مکمل اعتماد کرتے تھے ۔

تینوں خاندان دولت و حشمت میں ایک دوسرے سے کم نہیں تھے تقریباًسبھی ایک سے بڑھ کر ایک تھے ۔ لیکن میر ظفر علی چونکہ گاؤں

میں سب سے ذیادہ بزرگ اور معتبر تھے ، اس لئے ان کا رتبہ بڑا مانا

جاتا تھا ۔

پوراگاؤں اور باقی دونوں خاندان بھی ان کی رائے اور فیصلے کا احترام

کرتے تھے ۔گاؤں اور خاندان کے کسی بھی چھوٹے بڑے مسئلے میں

ان کا ہی فیصلہ حتمی مانا جاتا تھا ۔

میر ظفر علی کے تین بیٹے میر غضنفر ،میر جعفر اور میر پرویز تھے۔دونوں

بڑے بیٹے شادی شدہ تھے۔میر غضنفر او مہر بانو کی تین اولادیں تھیں ،

میر سبطین علی، میر حنین علی اور رانیہ ۔

میر جعفر اور فائزہ کو اللہ نے بڑی منت مرادوں کے بعد اولاد کی نعمت سے نوازہ تھا۔میر سجاول ان کا اکلوتا بیٹا تھا ، جبکہ گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا میر پرویز تھاجس کو انہوں نے ہائر اسٹیڈیز کے لئے لندن بھجوایا تھا ۔سندس ان کی اکلوتی بیٹی تھی جو کہ گھر بھر کی لاڈلی تھی ۔

سندس تھی ہی اتنی پیاری ،سیدھی سادھی اور معصوم کے ہرایک کی زبان پر اسکا ہی نام رہتا تھا سوا فائزہ بیگم کے میر جعفر کی بیوی جو کہ سندس کی چھوٹی بھابی تھیں ۔

بظاہر تو فائزہ بیگم کا رویہ بھی اس کے ساتھ باقی سب لوگوں کی طرح شفقت اور محبت لئے ہوئے تھا۔ مگر اندرونی طور پر وہ اس سے بے حد حسد اور جلن رکھے ہوئےتھیں ۔فائزہ بیگم اپنے سامنے کسی اور کی اہمیت یا برتری برداشت کر ہی نہیں سکتی تھیں ۔ اور یہاں میر حویلی والوں نے سندس کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا تھا ۔ یہ بات ان کے لئے ناقابل برداشت تھی ۔

سندس سے جان چھڑانے کے لئے انہوں نے میر جعفر سے اپنے اوباش عیاش بھائی کے رشتے کی بات چلائی تو میر جعفر سمیت پورا گھر ہی ان پر سخت خفا ہوا ۔ میر جعفر نے تو بند کمرے میں ان کی اچھی خاصی کلاس لی تھی ۔

فائزہ ! تمھارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے ،کیا سوچ کر تم نے میری ہیرے

جیسی بہن کے لئے اپنے آوارہ بھائی کے رشتے کی بات کی تھی۔وہ بھی

براہ راست بابا سائیں سے ۔۔۔؟ میر جعفر نہایت غصے میں ادھر سے

ادھر ٹہل رہے تھے ،جیسے ہی فائزہ نے کمرے میں قدم رکھا میر جعفر

نے اسے آڑے ہاتھوں لیا ۔

میر سائیں ! آپ کو مجھے جو کہنا ہے کہہ لیں مگر میرے بھائی کے خلاف

میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرونگی ۔ اپنے لاڈلے بھائی کے لئے آوارہ کا لقب سن کر وہ بھڑک گئی تھی ۔

ہنہہ۔۔۔آوارہ نا کہوں تو اور کیا کہوں ،آج تک اس سے کونسا عیب چھوٹا ہے ۔میر جعفر نے نخوت سے سر جھٹکا۔

ایسا کونسا گناہ کر دیا میں نے ،اس گھر میں تو کسی سے بھلائی کرنا بھی

گناہ ہے۔ایک تو میں آپ کی بہن کے لئے اچھا سوچ رہی ہوں ،راج

کرے گی وہ میرے بھائی کے ساتھ ۔بن ماں کی بچی ہے ،اپنوں میں

ہی جائیگی تو آپ لوگوں کو بھی سکون رہے گا ۔ فائزہ نے انہیں جذباتی

کرنے کی کوشش کی ۔

سندس بن ماں کی ہے مگر اس کے باپ اور بھائی ابھی ذندہ ہیں ،اس کی فکرہم سب کو تم سے ذیادہ ہے ۔تم اپنی ہمدردیاں اپنے پاس رکھو

اور آئندہ اس قسم کی فضول بات اپنے منہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔میر جعفر نے اسے بری طرح جھڑک دیا ۔

اپنے شوہر کی بہن کے لئے اس قدر حمایت نے فائزہ کو مزید سیخ پا کر دیا ۔اس دن کے بعد سے تو سندس ہر پل ان کی نظروں میں کھٹکنے لگی ۔

*************※************

حیدر شاہ شیرازی کے دو بیٹے تھے ۔سب سے بڑے صفدر شاہ جو شادی شدہ اور دو بیٹوں معظم شاہ اور مکتوم شاہ کے باپ تھے ۔ان کے بعد اسد شاہ شیرازی اورسب سے چھوٹی زینب تھی ۔

اسد شاہ میں حیدر شاہ شیرازی اور صفدر شاہ کی جان تھی ۔وہ دونوں

اس کی ہر جائز ناجائز بات پر حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ اسد شاہ حد سے ذیادہ خود سر اور ضدی تھا۔

اپنے مزاج کے خلاف ایک بات بھی سننا پسند نہیں کرتا تھا ۔حویلی

کے مکینوں سے لے کر پورے سن پورہ کی عوام پر اس کی حکمرانی تھی۔

بی بی جان ! جلدی کریں ناں پلیز! دیکھیں شام ہونے لگی ہے،ہم اتنی

دیر سے جائینگے تو مزہ بھی نہیں آئیگا سندس سے ملاقات کا ،کتنے دن ہوگئےاس سے ملے ہوئے۔مجھے اس سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں ۔زینب پوری سج دھج سے تیار ہو کر بی بی جان کے سر پر کھڑی مسلسل بول رہی تھی ۔

زینب ! بہت بولتی ہوتم ،میں نے کہا ہے ناں ،اسد شاہ آجائے ہم

اس کے ساتھ جائیں گے ۔ اسے بلکل نہیں پسند گھر کی عورتوں کا

ملازموں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا ۔بھائی کا بھی احساس نہیں تمھیں۔

بی بی جان نے اسے جھڑکا تو وہ منہ بسور کر رہ گئی ۔

میر ظفر کی طبیعت پچھلے دنوں زرا سی کیا بگڑی ، انہوں نے گھبرا کر

میر پرویز کو لندن سے بلوا لیا ۔ کل رات کی فلائیٹ سے وہ ایمرجنسی

میں آیا تھا ۔ وہ لوگ اس سے ملنے ہی جارہی تھیں ۔ زینب یہ بھی جانتی تھی کہ گھر میں اس کے اور میر پرویز کے رشتے کی بات چل رہی ہے

میر پرویز لندن جانے سے پہلے ہی اپنے اور اس کے دل کو محبت کے

بندھن میں باندھ گیا تھا ۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں پنپنے والی محبت اب

مضبوط رشتے میں بندھنے جارہی تھی ۔

میر پرویزکے خاموش مگر واضح پیغام کو زینب نے پورے دل سے قبول

کیا تھا اور بڑی بے صبری سے اس کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ۔مگر آج اس کی اچانک واپسی نے اس کے دل میں ہلچل مچادی تھی ۔وہ جو سال بھر سے خود کو سنبھالے دل پر پہرے لگائے بیٹھی تھی،آج وہ بے قابو ہوا جارہا تھا۔

سال بھر جس بے تابی سے اس نے میر پرویز کی واپسی کا انتظار کیا تھا، کل رات اس کی اچانک واپسی کی اطلاع نے اس بے تابی کو

سوا کردیا تھا ۔

سندس نے اسے رات ہی میر پرویز کی آمد کی خبر سنادی تھی،اور وہ

جب سے بڑی حویلی پہنچنے کے لئے بے قرار تھی۔

بی بی جان ! اگر ادا کی واپسی رات تک ممکن نا ہوئی تو کیا ہم آج

وہاں نہیں جائیں گے ؟ زینب کے دل میں اس اندیشے نے سر اٹھایا

تو اس نے جھٹ ماں سے سوال کیا ۔

زینب ! آج جانا اتنا ضروری بھی نہیں ،اسد شاہ بھی زمینوں سے تھکا

ہوا آئے گا پھر تمھیں لے کر جائے گا تو میر پرویز کے خاطر اسے رات

کے کھانے تک وہیں ٹہرنا ہوگا ۔ایک کام کریں آپ لوگ کل صبح آرام

سے چلی جائیے گا ۔ رخسانہ نے مسکراتی آنکھوں سے زینب کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا ۔وہ اس کی دلی کیفیات سے واقف تھیں ،اس لئے اسے

چھیڑ رہی تھی ۔

بھابھی !اگر ہم کل جائیں گے تو بڑی حویلی والوں کو برا لگے گا ناں۔

زینب نے رخسانہ کو آنکھیں دکھائیں ۔اس کا اشاہ میر پرویز کی ناراضگی

کی طرف تھا ۔ رخسانہ نے سمجھ کر بے ساختہ امڈ آنے والی ہنسی کو

بی بی جان کی موجودگی کے خیال سے ہونٹوں میں ہی دبا لیا ۔

خیر !جانا تو آج ہی ہے ۔بی بی جان نے معظم شاہ کو رخسانہ کی گود سے

اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا۔پھر کچھ سوچ کر بولیں۔

زینب !تم مردان خانے میں کسی کو بھیجوا کر پتا کرو،اگر صفدر شاہ موجود ہے تو ہم اس کے ساتھ چلے جائیں گے ۔انہوں نے زینب کو مشورہ دیا تو وہ فوراً سے پیشتر بھاگی چلی گئی ۔ بی بی جان اور رخسانہ اس کی جلد بازی پر مسکرا کر رہ گئیں ۔

جاری ہے

Episode 12

(ماضی)

صفدر شاہ نے گاڑی زنان خانے کے بلکل پاس لے جا کر روکی تھی۔

بی بی جان اور زینب اتر کر اندر چلی گئیں جبکہ صفدر شاہ کو میر پرویز

مردانے کے باہر ہی کھڑا نظر آگیا تھا ۔ اس نے صفدر شاہ کے نزدیک

پہنچ کر سلام کیا ،دونوں بغل گیر ہوئے اور مردانے کی طرف بڑھ گئے۔

زینب ! کتنے دنوں بعد آئی ہوتم ،بڑی بے وفا ہو۔اتنے دنوں سے تمھیں

میری یاد نہیں آئی ۔اب بھائی آئے ہیں تو کیسے دوڑی چلی آئیں ۔سندس اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی آئی اور خوب لتاڑا ۔ زینب اس کی بات پر کھلکھلا کر ہنسی ۔

تمھارے اندر وہ بات نہیں ہے نا جو تمھارے بھائی میں ہے ۔دیکھو!

کیسے دوڑی چلی آئی ۔زینب نے شوخی سے کہا تو سندس پہلے حیران

ہوئی پھر شرارت سے بولی ۔

ابھی تو بھائی سے تمھاری ملاقات بھی نہیں ہوئی پھر بھی اتنی بے باک

ہورہی ہو ملوگی تو ناجانے کیا کروگی ۔زینب یکدم جھینپ گئی ،میر پرویز

سے روبرو بات کرنے کے خیال سے ہی اس کے من میں گدگی ہو رہی

تھی ۔

سندس! ایک بات پوچھوں ،سچ سچ جواب دوگی ۔تمھارے بھائی لندن میں کسی گوری میم کو تو اپنا دل نہیں دے آئے۔۔ ۔۔؟وہ سندس کو

چھیڑ رہی تھی ورنہ اسے میر پرویز کے وعدے اور اس کی ذات پر پورا بھروسہ تھا۔

میرے بھائی ایسے ویسےنہیں ہیں بلکہ فرنگی لڑکیوں سے تو وہ دور بھاگتے ہیں ۔سندس نے حسب توقع برا مان کر اس کا ہاتھ جھٹکا اور خفگی سے رخ موڑ گئی۔پھر یکدم بولی۔ویسے مجھے کیا پتہ ،تم خود ہی پوچھ لو۔اس کی نظر اچانک میر پرویز پر پڑی تو شرارت سے کہا۔

زینب نے نظر گھمائی تو میر پرویز دروازے میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔اونچا

پورا ،صحتمند وہ پہلے سے بھی ذیادہ خوبصورت ہو گیا تھا۔لندن کی آب و

ہوا اسے خوب راس آئی تھی ۔زینب نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری ۔پھر اس کی والہانہ نظریں خود پر جمی دیکھ کر سندس کے پیچھے اوٹ میں ہوگئی ۔

زینب ! میں بی بی جان کے پاس جارہی ہوں تم بھی وہیں آجانا ۔وہ

ان دونوں کو پرائیوسی دینے کے خیال سے فوراً ہی کمرے سے نکل گئی۔ زینب نے بھی اس کے کمرے سے نکلتے ہی پیچھے جانا چاہا مگر

دروازے میں کھڑے میر پرویز نے پاس گزرتے ہو ئےاس کی کلائی تھام لی ۔

ہاں ،اب پوچھو کیا پوچھنا چاہ رہی تھیں تم ۔۔۔؟میر پرویز اس کے

چہرے پر اترے دھنک رنگ پرشوق انداز میں دیکھ رہا تھا۔

یہی کہ لندن میں کسی میم سے دل تو نہیں لگا لیا ۔زینب نے بڑی

ادا سے منہ بنا کر اپنی بات دہرائی اور اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی

چھڑانے لگی ۔میر پرویز نے اس کی اس ادا کو بڑی دلچسپی اور قدرے

حیرانی سے ملاحظہ کیا کیونکہ لندن جانے سے پہلے وہ اس سے بہت

لیا دیا سا انداز اپنائے رکھتی تھی بلکہ چھپتی پھرتی تھی ۔

جناب ! یہ ہاتھ میں نے چھوڑنے کے لئے نہیں تھاما ۔ اس لئے

کوشش بیکار ہے ،میر پرویز نے اپنی گرفت اور مضبوط کی ، اور رہی بات گوری میم کی تو اگر تمھاری یاد کےسحر سے نکلتا تو کسی گوری میم سے دل لگاتا ناں ۔تم نے تو ہمیں کسی قابل ہی نہیں چھوڑا ۔وہ مذاق ہی مذاق میں اپنے دل کے حال سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔زینب نے نظراٹھا کر اسے دیکھا۔

زینب !تمھاری بات قابلِ غور ہے ،میں سوچ رہا ہوں اس بار جاؤں

گا تو واپسی پر ایک میم لے ہی آؤنگا ۔وہ شرارت سے اس کی آنکھوں

میں جھانکتے ہوئے بولا۔زینب نے اسے گھور کر دیکھا ۔

لے آئیے گا ! کس نے روکا ہے بلکہ ابھی بھی خالی ہاتھ کیوں آئے

ہیں، اس بار ہی ساتھ لے کر آنا چاہئے تھا ۔زینب نے اس کا ہاتھ

جھڑک دیا اور آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کے لئے رخ موڑ گئی۔

یار ! ایک تو خود ہی مذاق کرتی ہو پھر خود ہی برا مان گئیں ۔اتنے دنوں

بعد مل رہی ہو ،اب اس طرح کروگی ۔میر پرویز نے اسے کندھوں

سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔وہ پلٹتے ہی کمرے سے نکل گئی۔

یار سنو تو سہی ! تمھاری خدمت کرے گی ،تم غلط کیوں سمجھ رہی ہو۔

میر پرویز نے اونچی آواز میں کہا اور پھر ایک جاندار قہقہہ لگایا ۔زینب

سنی ان سنی کر تی ہوئی سیڑھیاں پھلانگ گئی ۔

*************※***********

وہ لوگ ڈنر سے فارغ ہوئیں تبھی مردان خانے سے بھی بلاوا آگیا۔

زینب بی بی ! چھوٹے شاہ سائیں کا حکم ہی آپ لوگ جلدی آجائیں وہ گاڑی میں بیٹھے آپ کا انتظار کررہے ہیں ۔ملازمہ نے پیغام ان تک پہنچایا۔

بی بی جان فوراً ہی اٹھ کھڑی ہوئیں ۔

سندس !اب تم حویلی چکر لگانا ،بس میں ہی ہمیشہ آتی ہوں ۔تمھیں تو کبھی زحمت نہیں ہوتی ۔زینب نے سندس کو گلے لگا کر پیار بھرا شکوہ

کیا ۔

اس لئے تو ہم سب سوچ رہے ہیں ،تمھیں ہمیشہ کے لئے اس گھر میں

لے آئیں تاکہ روز روز کے ان چکروں سےتمھاری جان چھوٹ جائے۔

سندس شرارت سے گویا ہوئی ۔

بلکل پاگل ہو تم ! زینب شرم سے سرخ پڑ گئی ۔کچھ تو خیال کیا کرو اگر بی بی جان یا مہربانو بھابھی سن لیتیں تو ۔ بی بی جان اور مہر بانو کی موجودگی کے احساس سے گھبرا اس نے سندس کی کمر پر دھپ لگائی ۔

سندس شرارت سے ہنس دی ۔

پھر ان کے ساتھ زنان خانے کے باہر تک انہیں الوداع کرنے چلی آئی ۔

صفدر شاہ انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے اور اب اسد شاہ خود انہیں لینے آیا تھا ۔

اس نے کبھی بھی میر حویلی کے زنان خانے میں قدم نہیں رکھا تھا۔

وہاں جانے پر اس کے لئے کوئی پابندی نہیں تھی لیکن وہ حویلی کے اصولوں کی پاسداری کرنے والوں میں سے تھا ۔ میر پرویز سے بھی وہ مردانے میں ہی ملا تھا اور ڈنر بھی اس نے میر پرویز کے ساتھ وہیں کیا تھا۔

سندس زینب کے ساتھ چلتی ہوئی زرا آگے بڑھ آئی تبھی اسد شاہ کی نظراس پر پڑی ،جوان ہونے کے بعد اس نے کبھی سندس کو نہیں دیکھا تھا ۔وہ حویلی بھی آتی تھی تو چادر سے نقاب کیا ہوتا ۔

اس نے بی بی جان کو کہتے سنا تھا کہ سندس جیسا حسن آس پاس کے دس گاؤں میں بھی کسی کا نہیں ہو گا مگر وہ اس درجہ حسین ہوگی یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

اسد شاہ کی نظریں اس پر پڑیں تو پلٹنا بھول گئیں ۔گہرے نیلے رنگ کے کڑھائی والے سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔

بی بی جان کا اس کے بارے میں تجزیہ اسد شاہ کو سو فیصد درست

لگا ۔

بی بی جان اور زینب گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھی گئیں مگر

اس کی محویت نہیں ٹوٹی ،دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ چونکا ۔

اسد شاہ کے پہلی بار اس طرح دیکھنے کو سندس نے بھی حیرانی سے دیکھا کیونکہ آج سے پہلے تو اسد شاہ نے کبھی اس پر ایک نگاہِ غلط بھی نہیں ڈالی تھی یا شاید اس کی عادت ہی نہیں تھی مگر یہ آج اس طرح کیوں دیکھ رہا ہے وہ سوچتے ہوئے واپس اندر جانے کے لئے مڑ گئی۔

بی بی جان اور زینب کو گھر ڈراپ کر کے وہ ڈیرے پر آگیا تھا۔

اپنی گن ہاتھ میں پکڑے وہ اس پر انگلیاں پھیر تے ہوئے مسلسل

سندس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔رات کے تین بج رہے تھے پورا

گاؤں اپنی آدھی سے ذیادہ نیند پوری کر چکا تھا مگر اس کی آنکھوں سے

نیند کوسوں دور تھی ۔

ذندگی میں پہلی بار وہ کسی لڑکی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا تھا۔اس سے پہلے بھی اس کی ذندگی میں بہت سی لڑکیاں آئیں تھیں

لندن میں بھی اس کی گرل فرینڈز کی فہرست طویل تھی مگر سندس اسےایک نظر میں ہی ان سب سے مختلف لگی ۔وہ اسد شاہ کے دل کو چھو گئی تھی ۔

وہ سب بیوی بنائے جانے کے قابل نہیں تھیں اور سندس کو ایک

نظر دیکھتے ہی وہ اسے اپنا ہمسفر بنانے کا خواہش مند ہو گیا تھا ۔

سندس سے شادی کوئی ناممکن بات تو نہیں ، جب زینب کا رشتہ میر

پرویز کو دیا جا سکتا ہے پھر ان لوگوں کو سندس کا رشتہ مجھے دینے پر بھلا کیا اعتراض ہوگا۔ ویسے بھی جو اسد شاہ کی بیوی بنے گی دنیا اس پر رشک کرے گی ۔وہ اپنی سوچ پر مطمئین سا ہوکر تفاخر سےمسکرایا،پھر کھڑا ہوا اور گن آسمان کی طرف تان کر کسی غیر مرئی نقطے پر نشانہ باندھا اور فائر کردیا ۔رات کے سناٹے میں دور تک فائر کی آواز گونجی تھی ۔

**********※*********

میر ظفر شاہ نے اپنی معمولی سی بیماری کو کچھ ذیادہ ہی سیریس لے لیا

تھا۔اسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ میر پرویز اور زینب کا نکاح

کر دیا جائے ،رخصتی اور ولیمہ میر پرویز کی تعلیم مکمل ہونے پر کردی جائے گی ۔

حیدر شاہ شیرازی کو ان کا پیغام ملا تو انہوں نے بنا کسی پس و پیش

کے حامی بھر لی ۔

یوں آناً فاناً دونوں گھرانوں میں نکاح کی تیاریاں ہونے لگی ۔میر پرویز

نے تیمور علی غزینی کو کال کر کے معاملے سے آگاہ کیا ۔وہ بھی اس

فیصلے پر بہت خوش ہوا ۔

تیمور ! صرف خوش ہونے سے کام نہیں چلے گا ۔تمھیں نکاح میں شرکت کے لئے پاکستان آنا ہوگا ۔میر پرویز نے اصرار کیا۔

یار ! تم جانتے ہو سمسٹر سر پر ہیں ،ایک تو تم نے وہاں نکاح کا پروگرام

بنا لیا اور اب مجھے بھی بلا رہے ہو ۔تیمور نے میر پرویز کو چھیڑا ۔میر

پرویز بے ساختہ ہنس دیا ۔

بس یار ! بابا سائیں کو دعائیں دے رہا ہوں ،تم تو میری حالت

سے باخبر ہو ۔میر پرویز مزے سے بولا۔

ہاں ،ہاں !مجھے پتا ہے تم نے ہی کوئی چکر چلایا ہوگا ۔وہاں جاکر جو

بیٹھ گئے ہو زینب کو دیکھ کر تمھاری واپس آنے کی نیت ہی نہیں ہو

رہی ہوگی ۔تیمور غزینی دوبدو بول اٹھا ۔

سچا پیار کرنے والوں کے راستے خود بخود آسان ہوجاتے ہیں ،میں

تو کہتا ہوں تم بھی آزما کر دیکھ لو ۔بڑا سرور ہے اس میں ۔میر پرویز

نے لگے ہاتھوں اسے بھی اکسا یا ۔تیمور کی آنکھوں میں سندس کا چہرہ

ابھر آیا ۔

جب آزماؤں گا ،سب سے پہلے تمھیں ہی بتاؤں گا فی الحال میں یونیورسٹی کے لئے لیٹ ہو رہا ہوں ۔

اچھا ٹھیک ہے !میں تمھارا انتظار کروں گا ، جب تک تم نہیں پہنچوگے

میں نکاح کے پیپرز سائین نہیں کروں گا۔ٹیک کئیر ۔اللہ حافظ ۔میر پرویز کی آواز میں شوخی کا تاثر نمایاں تھا ۔تیمور کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

اللہ حافظ ۔اس نے فون بند کر دیا ۔ریسیور رکھ کر وہ سوچ رہا تھا کہ

اب تو جانا ہی پڑیگا ۔

***********※**********

یار تیمور ! ایک کال ہی کر دیتے ہم تمھیں لینے ائیر پورٹ آجاتے ۔اسد شاہ نے اس سے گرمجوشی سے ملتے ہوئے کہا۔

پرویز کو سرپرائز دینے کا ارادہ تھا ورنہ جب کال پر میں نے اسے بتایا کہ میں نہیں پہنچ سکوں گا تو اس کا منہ لٹک گیا تھا۔اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میں نہیں پہنچوں گا تو یہ نکاح کے پیپرز سائین نہیں کرے گا ۔میں نے سوچا کیوں نا کنوارے کی خواہش پوری کردی جائے اور وہ بھی سرپرائز کے ساتھ اگر انفارم کردیتا تو اس کے چہرے پر یہ خوشی کیسے دیکھ پاتا ۔ تیمور نے شائستہ لہجے میں محبت سے تفصیلی جواب دیا۔میر پرویز نے اسکی محبت پر مشکور ہو کر سر کو زرا سا خم

دیا اور سلیوٹ کے انداز میں ہاتھ ماتھے تک لے گیا ۔

مجھے کچھ ضروری شاپنگ کرنی ہے ،سوچ رہا ہوں شہر کا ایک چکر لگا

لیا جائے ۔کیا خیال ہے۔۔۔تم دونوں ساتھ چلو گے ۔میر پرویز نے

ایک ساتھ ان دونوں کو مخاطب کیا ۔وہ تینوں تیمور غزینی کے ڈرائنگ

روم بیٹھے ہوئے تھے ۔

جیسی تمھاری مرضی ،میں تو بلکل فری ہوں ۔تیمور بے کندھے اچکائے۔

یار ! میں نہیں جا سکتا ،میرے کچھ دوست آئے ہوئے ہیں ۔مجھے ان

کے ساتھ شکار پر جانا ہے بلوچستان کی سائیڈ ۔صبح روانگی ہے ۔اسد

شاہ شیرازی نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے معذرت کر لی ۔

وہ دونوں باتوں میں لگ گئے اور اسد شاہ سگریٹ سلگائے اپنی ہی

سوچوں میں گم ہو گیا ۔

وہ سوچ رہا تھا کہ زینب کے نکاح کے ساتھ ہی اپنے اور سندس کے

نکاح کے لئے بابا سائیں کو راضی کرے مگر وقت بہت کم رہ گیا تھا۔

میر ظفر شاید اتنی جلدی راضی نا ہوتے اور اگر ان لوگوں نے انکار کر دیا یا اس معاملے کو بعد کے لئے ٹال دیا تو یہ سبکی بھی اس کی انا کو گوارا نہیں تھی ۔وہ شدید کشمکش میں مبتلا تھا ۔

وہ جلد سے جلد سندس کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑنا چاہتا تھا۔سندس کو دیکھنے کے بعد سے وہ اتنا بے قرار ہوگیا تھا کہ کسی کام میں بھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا ۔ شکار تو صرف بہانہ تھا وہ تو راہِ فرار

ڈھونڈ رہا تھا۔

ادھر تیمور غزینی یہ سوچے بیٹھا تھا کہ چپکے سے ثمینہ بھابھی کو اپنے دل

کی بات بتادے گا وہ خود ہی ادا سائیں کو بتا دیں گی اور وہ دونوں میر

ظفر سے اس کے اور سندس کے رشتے کی بات کر لیں گے۔

اس بار وہ اس معاملے کی طرف سے مطمئین ہو کر لندن جانا چاہتا تھا کیونکہ بھابھی کو اعتماد میں لئے بغیر جانا رسکی تھا ۔میر پرویز باتوں باتوں

میں اشاراتاً ذکر کر چکا تھا کہ اس کے بابا سائیں اس کی شادی کے بعد

جلد از جلد سندس کے فرض سے بھی سبکدوش ہونا چاہتے ہیں ۔یہ

فریضہ وہ اس کے ولیمے کی تقریب میں ہی انجام دیں گے ۔

میر پرویز اور اس کی فیملی کی بھی دلی خواہش یہی تھی کہ تیمور غزینی

ہی ان کا داماد بنے ۔ اسدشاہ کی غصیلی فطرت اور سخت گیری سے

سبھی واقف ۔اسکی تمام تر وجاہتوں اور شاندار پرسنیلٹی کے باوجود

بھی وہ لوگ نازک اور کومل سی سندس کے لئے اسے مناسب نہیں

سمجھتے تھے ۔

اس کے با نسبت تیمور غزینی نہایت سلجھا ہوا ،سمجھدار اور نرم خو

نوجوان تھا ۔اس لئے پوری فیملی کا جھکاؤ اسی کی جانب تھا۔

**********※*********

پوری حویلی برقی قمقموں سے سجی دلہن بنی ہوئی تھی ۔آج میر پرویز کی

مہندی تھی ۔میر ظفر مہندی اور نکاح پر ہی سارے ارمان نکال لینا

چاہتے تھے ۔اس لئے حویلی کو بھی خوب سجوایا تھا ۔

ہر طرف رنگ و نور کا سیلاب امڈا ہوا تھا ۔سب لوگ مہندی لے کر

“شیرازی ولا “ جانے کے لئے تیار تھے ۔مسرور غزینی اور تیمور غزینی

لڑکے والوں کی طرف سے شامل تھے جبکہ ثمینہ بہن کی نند کی مہندی

میں شیرازیوں کی طرف سے شرکت کرنے کے لیے صبح سے ہی شیرازی ولا چلی گئیں تھیں ۔

تیمور غزینی کا گزر زنان خانے کی طرف سے ہوا تو اس کی نظر سجی سنوری سندس پر پڑی جو مکمل تیاری کے ساتھ بے حد حسین لگ رہی تھی۔وہ مبہوت رہ گیا ۔پورے ایک سال بعد اسے اسے دیکھ رہا تھا،

اور اس ایک سال میں اس نے سندس کو بہت مس کیا تھا مگر کبھی

بھی اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا حالانکہ اکثر وہ میر ظفرعلی کی خیریت

جاننے کے لئے حویلی فون کرتا رہتا تھا اور کئی بار یہ اتفاق بھی ہو کے

سندس نے خود کال اٹینڈ کی مگر اس نے کبھی بھی سندس پر اپنے جذبات عیاں نہیں ہونے دئیے تھے ۔

مگر آج وہ چند قدم کا فاصلہ طے کر کے سندس تک پہنچ گیا تھا۔

سندس ! کیسی ہیں آپ ۔۔؟تیمور نے سلام کے بعد اسے مخاطب کیا۔

سندس جو کسی کام سے وہاں کھڑی تھی اس کی آواز پر یکدم چونک گئی پھر سنبھل کر اس کے سلام کا جواب دیا ۔

ادا تیمور ! آپ کب پاکستان پہنچے ،ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا آپ بھی شادی میں شرکت کرنے والے ہیں ۔۔۔؟اس نے خوشی اور قدرے

حیرانی سے استفسار کیا ۔

جی ! چند روز پہلے ہی آیا ہوں ۔۔۔میر پرویز نے بہت اسرار کیا تھا

اس لئے آنا ہی پڑا مگر اب سوچ رہا ہوں یہاں آنے کا فیصلہ بلکل

درست تھا ۔تیمور نے اس کے سراپے پر بھرپور نظر ڈالتے ہوئے

معنی خیزی سے کہا ۔اس کی بات کا مفہوم سندس کے سر سے گزر گیا

تھا ۔

بہت اچھا کیا آپ نے ،ثمینہ بھابی بھی آپ کو بہت یاد کر رہی تھیں

وہ اکثر ہی آپ کا ذکر کرتی رہتی ہیں ،ادا پرویز بھی آپ کو بہت مس کرتے اور انجوائے بھی نہیں کر پاتے ۔وہ سادگی سے بولی۔

تیمور غزینی اس کی سادہ لوحی پر مسکرا کر رہ گیا ۔

میر پرویز کو چھوڑ کر تقریباً پورا خاندان ہی شیرازی ولا جانے کے لئے

گاڑیوں میں سوار ہو رہا تھا ۔چند لمحوں بعد وہ لوگ روانہ ہوچکے تھے۔

“شیرازی “ولا پہنچنے پر ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ڈھیروں ڈھیر پھولوں لی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں ۔مگر اسد شاہ کو جس کا انتظار

تھا وہ اب تک نظر نہیں آئی تھی ۔اتنے دنوں سے بڑی بے صبری سے

اس نے آج کے دن کا انتظار کیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ سندس کے

دیدار کی اور کوئی تدبیر بھی اس کے پاس نہیں تھی ۔

حیدر علی شاہ نے میر ظفر کو گلے لگایا پھر ان کے گلے میں شال پہنائی اسد شاہ نے بھی اسی طرح میر جعفر اور میر غضنفر کا استقبال کیا ۔

تبھی عورتوں کے جھرمٹ میں اسے سندس کی جھلک نظر آئی اور وقت جیسےتھم گیا ۔ سندس باٹل گرین کلر کی فراک اور تنگ پائجامے میں ملبوس بنا نقاب کے ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگائے قیامت ڈھا رہی تھی ۔

اسد شاہ بنا پلکیں چھپکائے اسے بے خودی کے عالم میں دیکھتارہ گیا۔

اسد شاہ ! یونہی کھڑے رہوگے یا اندر بھی چلوگے ۔ صفدر شاہ کے ٹوکنے پر وہ گڑبڑا گیا ۔سندس باقی سب کے ساتھ حویلی کے اندر جا چکی تھی۔

زرد جوڑے میں ملبوس ہاتھوں میں گجرے ، کانوں ،گلے اورما تھے پر پھولوں کے زیور پہنے زینب نظر لگنے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔ مہر بانو بھابھی نے فوراً اس کی بلائیں لیں پھر اس کے ماتھے پر پیار کیا ۔جبکہ فائزہ نظرانداز کر کے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔وہ بھلا اپنی سوا کسی کی تعریف کیسے برداشت کر سکتی تھیں۔

زینب ! آج اگر بھائی تمھیں دیکھ لیں تو کل ہی رخصتی کروا کر دم لیں

گے ۔سندس جو اس کے پہلو سے چپکی بیٹھی تھی ،زینب کے کان میں

سرگوشی کی ۔زینب کے چہرے پر گلال بکھر گیا۔اس نے سندس کو کہنی سے ٹہوکا دیا۔سندس کھلاکھلا کر ہنس پڑی ۔

مہندی کی رسم اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لڑکیاں ڈھولکی لئے

لہک لہک کر گانے گارہی تھیں ۔تبھی کچھ لڑکیاں کھڑی ہوکر ڈانس بھی

کرنے لگیں ۔ایک لڑکی نے ہاتھ پکڑ کر سندس کو بھی اٹھا لیا ۔ سندس پہلے تو زرا سا جھجکی پھر ان سب کے ساتھ شامل ہوگئی ۔اس کا نرم

گداز جسم ڈھولک کی تھاپ پر لچک رہا تھا۔تیمور کی نظریں بار بار بھٹک

کر سندس پر ہی جا رہی تھیں ۔

اوپر سے لان کا منظر بلکل صاف نظر آرہا تھا اور اسد شاہ اپنے کمرے میں کھڑا ،دونوں ہاتھ کھڑکی پر جمائے بڑی دلچسپی سے یہ سہانہ منظر دیکھ رہا تھا۔اسے پورے لان میں سندس کے سوا اور کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔

اس نے انگلیوں میں دبے سگریٹ کو لبوں میں دبایا اور ایک گہرا کش

لیا ۔

بی بی جان اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں اور سندس پر نوٹ واری لگیں۔

سندس نے یکدم جھینپ کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا ۔اسد شاہ اس کی

اس معصوم سے انداز پر جی جان سے فدا ہو گیا ۔

سندس کو واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ حویلی کے

اندرونی حصے کی طرف چلی آئی ۔وہ حویلی آتی رہتی تھی اس لئے اسے

واش روم کی سمت کا پتا تھا۔کچھ دیر بعد وہ واش روم سے نکلی اور

لان میں جانے والی راہداری کا رخ کیا تبھی کسی نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کر راہداری کے ساتھ بنے کمرے میں کھینچ لیا ۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *