Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dillon Ke Bandhan (Episode 06,07)

Dillon Ke Bandhan Umme Maryam

عروش کیبن میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھی ،تبھی اس کے موبائل پر میسج ریسیو ہوا ۔اس نے مصروف سے انداز میں ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا اور ٹیکسٹ میسج پر نظر پڑتے ہی بھیجنے والے کے نام پر اس کے ہونٹوں کو نرم سی مسکراہٹ نے چھوا ۔

عروش !آف کے بعد میں پارکنگ میں آپ کا ویٹ کروں گا ۔ اگر آپ

مائنڈ نا کریں تو ہم کچھ وقت ساتھ گزار سکتے ہیں ۔۔۔؟اس کے ٹیکسٹ

پر عروش سوچ میں پڑ گئی ۔ کیونکہ وہ جانتی تھی ، آفس ٹائمنگ کے بعد زرا سی بھی لیٹ ہونے پر امی کس قدر پریشان ہوجاتی تھیں ۔بحرحال

میر سبطین نے پہلی بار اسے آؤٹنگ پر لے جانے کے لئے کہا تھا ۔

اسے نظر انداز کرنا عروش کو مناسب نہیں لگا ۔اوکے ۔۔۔کا مسیج

سینٹ کرنے کے بعد وہ کہنی ٹیبل پر جمائے ایک ہاتھ گال پر رکھے

امی کی متوقع پریشانی اور اس کے حل کے بارے میں سوچنے لگی ۔

آفس کا کام ختم کر کے وہ پارکنگ میں پہنچی ، میر سبطین گاڑی سے

ٹیک لگائے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔اسے دیکھتے ہی فرنٹ ڈور کھول

دیا ۔پھر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔

اس نے برابر میں بیٹھی عروش پر ایک نظر ڈالی ۔وہ بے حد خوش

اور فریش لگ رہی تھی۔عروش نے بھی میر سبطین کی نظروں کی

حدت محسوس کی اور رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔ دونوں کے

ہی چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔ وہ دونوں ایک دوسرے

کے ساتھ پر بہت خوش اور پر سکون تھے ۔

عروش !میری فیملی سے مل کر آپ کو کیسا لگا ؟میر سبطین نےاس

سے استفسار کیا ۔

بہت اچھا لگا ۔اسپیشلی رانیہ بہت لوونگ اور کیوٹ ہے ۔ڈیڈی

کو تو میں پہلے سے ہی جانتی ہوں ،وہ بہت نائس ہیں ۔اس نے

کھلے دل سے سب کی تعریف کی ۔

رانیہ کے بارے میں عروش کی رائےاس کے لئے سب سے اہم تھی میر سبطین کو سب سے ذیادہ اس بات نے متاثر کیا۔وہ رانیہ کو لے کر

بہت حساس تھا،اسے اپنی اکلوتی بہن جان سے بھی ذیادہ پیاری تھی۔

اس کی یہی خواہش تھی کہ جو بھی لڑکی اس کی بیوی بن کر اس کی

ذندگی میں آئے ،اسے رانیہ سے خصوصی لگاؤ ہو ۔ عموماً اس رشتے میں

تناؤ اور کنجائش بہت کم ہوتی ہے ۔ اسی بات کو سوچ کر وہ ہمیشہ

پریشان ہوجاتا تھا ۔ مگر اب عروش کے خیالات نے اسے مطمئین کر

دیا تھا۔اس کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔

میر سبطین عروش کو ساحلِ سمندر پر لے آیا تھا ۔ہاتھ میں ہاتھ ڈالے

وہ دونوں گیلی نرم ریت پر قدم سے قدم ملائے چل رہے تھے ۔

عروش کے سلکی خوبصورت بال ساحل کی ہوا سے لہرا رہے تھے ،

چند لٹوں نے اڑ کر میر سبطین کے چہرے کو چھؤا تو اس نے مسحور

ہو کر ایک لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹ لیا ۔عروش جھینپ کر ادھرادھر

دیکھنے لگی ۔

عروش ! ہمیشہ سے مجھے سمندر کی خوبصورتی نے اٹریکٹ کیا ہے ۔میں جب بھی بہت اداس یا بہت خوش ہوتا ہوں ،یہاں ضرور آتا ہوں ۔

گیلی ریت پر چل کر مجھے بہت سکون ملتا ہے اور میں خود کو بہت فرئش محسوس کرنے لگتا ہوں ۔

آج تم سے پہلی ملاقات کے لئے میں نے اس جگہ کو اس لئے چوز کیا ہے تاکہ شادی کے بعد ہم جب بھی یہاں آئیں ، مجھے ہماری یہ پہلی ملاقات ضرور یاد آئے کیونکہ یہ جگہ اور یہ وقت میرے حافظے میں

ہمیشہ محفوظ رہے گا ۔میرسبطین کے لہجے میں بھی محبت کا ایک سمندر

موجزاں تھا ۔عروش کے چہرے پر شرمگیں سائے لہرائے ۔

تھینکس سر ! اپنے احساسات میں مجھے شامل کر نے کے لئے،یہ لمحات

اور ملاقات میرے لئے بھی بہت قیمتی اور انمول ہیں مگر آپ نے

جس طرح اس جگہ سے اپنی وابستگی باہر ہے ، میرے لئے بھی اس

جگہ کو اتنا ہی اہم بنا دیا ہے جتنی آپ کے لئے ہے ۔اب یہ میرے

حافظے میں بھی ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئی ہے ۔عروش نے اسی کے

انداز میں کہا اور کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔اس کا ڈمپل بہت گہرا ہوگیا۔

میر سبطین نے اس کے اس طرح کہنے پر فلک شفاف لگایا ۔

پلیز !اب یہ سر کہنا بند کرو ،شادی کے بعد بیڈروم میں بھی اسی طرح سر کہوگی تو مجھے آفس اور

گھر کا فرق کیسے پتا چلے گا ۔سبطین نے لطیف سے انداز میں اس کی

سرزنش کی ۔

تو پھر کیا کہہ کر آپ کو پکاروں ۔۔۔؟عروش نے آنکھیں پٹپٹائیں۔

جان بولوگی تو مجھے بہت اچھا لگے گا ۔۔۔سبطین نے جان بوجھ کر

اسے چھیڑا ۔عروش یکدم اچھل پڑی اور نفی میں سر ہلانے لگی ۔

میر سبطین بے اختیار ہنس پڑا ۔

سبطین ۔۔۔۔صرف سبطین ۔۔۔میر سبطین نے اسے مشکل سے

نکالا ۔

اوکے !کوشش کرونگی ۔اب چلیں مجھے دیر ہورہی ہے ،امی پریشان

ہو رہی ہونگی۔سر۔۔۔۔عروش نے اسے تنگ کرنے کے لئے سر

کہہ کر پکارا ۔پھر اس کے خطرناک تیور دیکھ کر زبان دانتوں تلے

دبا کر ناک چڑھائی ۔

میر سبطین نے اسکی شرارت پر بڑھ کر اس کی نازک سی ناک کو انگلیوں سے دبا دیا۔

“”””””””””※””””””””””

میر سجاول نے گھر میں قدم رکھا تو وہاں ایک ہنگامہ برپا تھا ۔

ہال کے بیچوں بیچ ملازم رحیم بخش ہاتھ جوڑے پڑا تھا اور میر جعفر

اس کی درگت بنانے میں مصروف میں تھے ۔

بابا سائیں ! یہ سب کیا ہو رہا ہے ،کیوں مار رہے ہیں اسے ؟اس نے

کڑے تیوروں سے رحیم کو گھورتے ہوئے استفسار کیا ۔میر سجاول کی آواز رحیم بخش کے کانوں میں پڑی تو اس کی روح فنا ہوگئی ۔وہ جانتا

تھا اب اس کی جان کے لالے پڑ جائیں گے ۔

اسلام آباد جانے سے پہلے پچیس لاکھ کی رقم میں نے اس حرام خور کے ہاتھ سے ہی ڈریسنگ روم کے لاکر میں رکھوائی تھی۔اب میں نے

اس سے وہ رقم نکالنے کو کہا ، نمک حرام کہتا ہے رقم وہاں نہیں ہے۔غائب ہوگئی ہے ۔

اس نمک حرام کے سوا کسی اور ملازم کو میرے کمرے میں قدم نہیں

رکھنے کی اجازت نہیں،کسی ملازمہ کی اتنی جرأت نہیں کہ وہ حویلی میں ہاتھ صاف کرے یہ اس خبیث کی ہی کارستانی ہے۔

میر جعفر نے جوتا زمین پر پھینک کر پہنتے ہوئے قہر برساتی نگاہ رحیم پر ڈالتے ہوئے تفصیل بیان کی ۔

میر جعفر آج صبح ہی اسلاآباد سے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے

بعد گاؤں پہنچے تھے اور بد نصیب رحیم بخش کی شامت آگئی تھی ۔

چھوٹے میر سائیں ! اللہ سائیں کی قسم ،میں نے چوری نہیں کی ۔میری

پشتوں نے اس حویلی میں غلامی کی ہے ،اگر میں چوری کروں گا تو ان

سب کی روحیں تڑپیں گی ۔میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ رحیم بخش

نے میر سجاول کو ہاتھ میں چمڑے کا پٹہ لئے بڑھتا دیکھا جو اس کے اشارے پر ملازم دوڑ کر استبل سے لایا تھا ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر گھگیانے لگا ۔

میر سجاول کے کانوں میں رحیم بخش کی کوئی فریاد کوئی دہائی اثر نہیں

کر رہی تھی ۔ اس چمڑے کے پٹے سے رحیم بخش کی کھال ادھڑتی

جا رہی تھی ۔ تمام ملازم لائن سے کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔

فائزہ بیگم دور پڑے صوفے پر بیٹھیں یہ تماشہ سکون سے ملاحظہ کر رہی

تھیں ۔

سوہنا سائیں !بس کر دو ،کیوں اس حرام خور کے لئے خود کو ہلکان کر

رہے ہو ۔اس کو نورے کے حوالے کرو ،وہ خود ہی اس سے سچ اگلوا لیگا ۔جب میر سجاول کا جنون حد سے سوا ہونے لگا تو وہیں سے بیٹھی

بلند آواز میں بڑے لاڈ سے میر سجاول کو قابو کرنے کی کوشش کی ۔

رقم تو وہ پہلے ہی بڑی صفائی سے لاکر سے نکال کر اپنے بھائی کو روانہ

کر چکی تھیں ۔گاہے بگاہے موقع دیکھ کر وہ میر جعفر کی نظر بچا کر اس

کی مدد کرتی ہی رہتی تھیں ۔وہ بھی چند دنوں میں رقم اڑا کھا کر ، پھر سےبہن کے سامنے دستِ سوال ہوجاتا تھا اور فائزہ بیگم اپنے اوباش بھائی کی محبت میں میر جعفر کی دولت بے دریغ لٹا دیتیں مگر اس بار زرا جلد بازی میں رقم میر جعفر کی نظروں میں آگئی اور رحیم بخش پھنس گیا ۔کیونکہ میر جعفر کے تقریباً کاموں کی زمہ داری رحیم بخش پر ہی تھی ۔

نورے ! اس نمک حرام کو کواٹر میں لے جاؤ اور ایسی مرمت کرو کے

یہ خود اگل دے ۔اس سے رقم برآمد کرو اور پھر تھانے پہنچا دینا ۔

باقی کا کام تھانیدار خود سنبھال لے گا ۔میر سجاول نے حقارت سے

کہتے ہوئے رحیم کو ایک لات رسید کی ۔

رحیم بخش کی چیخ و پکار آہ و بقا کو خاطر میں نا لاتے ہوئے نورا اسے گھسیٹتا ہوا حویلی کے پچھلے حصے کی طرف لے جارہا تھا۔اسے ہڈیوں کا

سرمہ بنانے میں کمال حاصل تھا ۔

“””””””””””※”””””””””””

موسم بہت خوشگوار ہو رہا تھا ۔ دن بھر چلچلاتی دھوپ پڑنے کے بعد شا م میں اچانک ہی بادلوں نے آسمان کو ڈھک دیا تھا۔رانیہ لان میں بیٹھی نگین کا انتظار کر رہی تھی جو موسم کی رنگینیوں کو دیکھ کر پکوڑے

بنانے کے لئے کافی دیر سے کچن میں تھی۔

نگین ٹرالے ہاتھ میں لئے کچن سے نکل رہی تھی جب اچانک ہی حنین

نے پیچھے سے اس کی چٹیا کھینچی ۔اور نگین کے میں سے متوقع چیخ برآمد

ہوئی جس پر حنین دل کھول کر ہنسا۔

نگین کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی تھی لیکن وہ اس کی شرارت سمجھ کر فوراً ہی سنبھل گئی۔

او،ہو،موسم انجوائے کرنے کی بھرپور تیاری کی گئی ہے۔اکیلے اکیلے ہی مزے اڑائے جارہے ہیں ۔ظالموں ! ہمیں بھی انوائیٹ کرلیتے ۔وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولا۔

تمھیں انوائیٹ کر کے ہمیں اپنی درگت نہیں بنوانی تھی۔رانیہ چٹخ کر

بولی ،وہ نگین کی چیخ کی آواز سن چکی تھی ۔

ہا،ہاہا۔وہ تو میں ویسے بھی بناؤں گا ۔کیوں نگین ۔۔۔ وہ شرارت سے کہہ کر نگین کی طرف مڑا اور جھٹ سے ٹرے میں سے پکوڑا اٹھا کر منہ

میں رکھ لیا۔

نگین اور رانیہ مسکرا کر رہ گئیں۔

اچھا سنو ! مووی دیکھنے چلتے ہیں ،اب تو میں بور ہو گیا ہوں ۔لندن میں تو فرصت ہی نئیں ملتی تھی اور یہاں فارغ رہ رہ کر بور ہو گیا ہوں وہ

بیزار سا منہ بنا کر بولا۔

گڈ آئیڈیا۔۔۔۔۔کیوں نا ہم اس پروگرام میں عروش اور بھائی کو بھی شامل کر لیں ۔بہت مزہ آئیگا ،اس طرح بھائی اور عروش کو بھی کچھ ٹائم مل جائیگا ایک دوسرے کے لئے ۔رانیہ جھٹ سے بولی۔

میں شیور ہوں کے بھائی نے اب تک عروش کو ایک ڈنر بھی نہیں کروایا ہوگا ۔حنین نے رانیہ کو سراہتے ہوئے کہا۔

ہمم،تو پھر ٹھیک ہے میں بھائی کو کال کرکے راضی کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔وہ اتنے اچھے تو ہیں نہیں کے فوراً ہی مان جائیں۔ رانیہ

نے خدشہ ظاہر کیا۔

تم رکو ،میں خود کال کرتا ہوں ۔مجھے پتا ہے وہ میری بات نہیں ٹالیں

گے ۔حنین کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہو۔لیکن اسکی آنکھوں میں شرارت

ناچ رہی تھی ۔

پودوں کو پانی دیتے ہوئے مالی کے ہاتھ سے اس نے پائپ لیا اور اس

کا رخ ان دونوں کی جانب کر کے باقاعدہ ان پر چھڑکاؤ کرنے لگا ۔

خود کو پانی سے بچانے کی سعی میں وہ دونوں پورے لان میں دوڑیں

لگا رہی تھیں ۔

“”””””””””””※”””””””””””

زرتاج کی دوست کی شادی تھی ۔ میر سجاول جانتا تھا کہ زرتاج

اس شادی میں ضرور شرکت کرے گی اس لئے اس نے صبح زرتاج

کو راستے میں روک کر تاکید کی تھی کہ آج رات وہ میک اپ اتارے

بنا اسی لباس میں اس سے ملنے آئیگی جو اس نے شادی میں زیب تن

کیا ہوگا ۔

زرتاج اس کی انوکھی ،نرالی فرمائشوں پر بوکھلا کر رہ جاتی تھی مگر ناچاہتے ہوئے بھی اس کا دل میر سجاول کی حکم نما فرمائش کو پوراکرنے کے لئے مچل سا جاتا تھا ۔وہ دھیرے دھیرے اس کے خوف اور دہشت سے نکل کر اس کی محبت کے حصار میں جکڑی جا رہی تھی ۔

یہ سب کیوں اور کیسے ہوگیا تھا یہ تو وہ نہیں جانتی تھی مگر میر سجاول کی چاہت کا احساس تھا بہت دلفریب اورمسحور کن وہ اس کی طرف کھینچی چلی جارہی تھی ۔چاہے جانے کا احساس اسے سب میں منفرد اور معتبر بنا گیا تھا۔

اب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیسے اتنے لوگوں کی موجودگی میں

میر سے ملنے کے لئے نکلے ۔پھر وہ لچھ سوچتے ہوئے مطمئین سی ہو کر

بیٹھ گئی اور گھر واپس جانے کا انتظار کرنے لگی ۔لڑکیاں مہندی کے

گانے گا رہیں تھیں ڈھولک بج رہی تھی مگر وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوئی تھی ۔

مہندی کی تقریب ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے گھروں کے لئے روانہ

ہونے لگیں ،زرتاج بھی اپنی اماں کے ساتھ گھر کے لئے نکل پڑی

سب سے ذیادہ جلدی اسے ہی تھی گھر پہنچنے کی ۔

وہ دونوں گھر میں داخل ہوئیں تو اس کا بابا بے خبر سورہا تھا ،اس نے شدید نیند اور تھکن کا بہانہ بنا کر ،کپڑے تبدیل کئے بغیر ہی بستر سنبھال

لیا ۔ماں نے بھی اس خیال سے نہیں ٹوکا کہ وہ اسکول سے واپس آکر

بھی نہیں سوتی تھی اور اب بھی کچھ دیر بعد ہی اسے اسکول کے لئے

پھر سے جاگنا تھا ۔

تھوڑی دیر گزرنے پر زرتاج نے ماں کے گہری نیند سوجانے کی تسلی کی

اور اپنے پیروں سے وہی پازیب اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیں جو میر سجاول

اس رات اسے پہنا گیا تھا ۔دھیرے سے دروازہ کھول کر ، بڑی سی

چادر میں خود کو لپیٹے اس کے قدموں رخ نہر کی جانب تھا۔

ڈری سہمی سی مسلسل دائیں بائیں دیکھتی ہوئی وہ نہر کنارے پوہنچی تو

درخت سے ٹیک لگائے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے میر سجاول اس کے

انتظار میں کھڑا تھا ۔ اسے دیکھتے ہی میر سجاول کے چہرے پر بڑی دلکش اور حسین مسکراہٹ ابھری ۔اس نے سگریٹ نیچے پھینک کر

پاؤں سے مسل دی اور والہانہ اس کی طرف بڑھا ۔

زرتاج شاکنگ پنک کلر کے جھلملاتے ہوئے سوٹ میں مٹے مٹے سے میک اپ اور ہلکی سی جیولری میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔اسکا ہوش

ربا حسن چاند کی روشنی میں چاند کو بھی مات دے رہا تھا ۔

میرے سرکار !اتنی دیر لگادی ،قسم سے آنکھیں تھک گئیں راہ تکتے ۔

میر نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ ا اور گلے سے لگا کر خود میں سمو

لیا۔زرتاج اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں تھی ۔اسکی بانہوں میں

مچل کر رہ گئی ۔

میر سائیں ! آپ کو زرا سی بھی میری عزت اور اپنی جان کی پرواہ

نہیں ہے ۔اتنی ضد بھی اچھی نہیں ہوتی ۔آپ کو اندازہ نہیں آپ کی وجہ سے میں کتنی مشکل میں گھر جاتی ہوں ۔ اس نے دھیمے لہجے میں شکوہ کیا ۔انداز روٹھا روٹھا سا تھا۔میر سجاول فدا ہوگیا۔

اس کی جگہ اگر کوئی اور میر سجاول سے یہ بات کہتا تو وہ اس کی زبان کھینچ لیتا مگر سامنے اس کی محبوب ہستی کھڑی تھی ۔

میری جان ! تمھاری عزت کی مجھے بہت پرواہ ہے مگر میرا جو یہ دل ہے ناں۔۔۔ یہ مجبور کرتا ہے تمھارے دیدار کے لئے ،مجھے بھی اور تمھیں بھی اور میری جان !میری جان کی پرواہ مجھے نہیں ، ایسی سو جانیں تمھارے دیدار کے لئے وار دوں ۔وہ زرتاج کا ہاتھ اپنے سینے

پر دل کی جگہ رکھتے ہوئے بولا ۔اسکی آواز جذبات سے بوجھل ہورہئ

تھی ۔زرتاج نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔

میر سجاول کی جان لینے اور دینے کی باتوں سے اس کی جان نکل جاتی

تھی ۔میر سجاول نے بغور اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا دیکھا۔

پھر اس کو خود سے تھوڑا دور جا کر واپس آنے کے لئے کہا ۔

زرتاج ناسمجھی کے عالم میں چند قدم پیچھے چلی گئی ۔اس کے حکم سے

انحراف کرنا تو زرتاج کے لئے ممکن ہی نہیں تھا اور کیوں ،کیا جیسے

سوالات کرنے کی جرأت بھی نہیں تھی ۔وہ میر سجاول کے پل پل

بدلتے موڈ سے تو ویسے ہی خائف رہتی تھی ۔

میر نےپشت پر ہاتھ باندھے اسے سر سے پاؤں تک پر شوق نگاہوں سے دیکھا پھرسر کےاشارے سے واپس اپنے پاس بلایا۔وہ دھیرے دھیرے

قدم اٹھاتی واپس آگئی ۔

غلطی ہوگئی ،آج مولوی کو پکڑ کر ساتھ لانا چاہئے تھا ۔دوبول پڑھواتا

اور ساتھ لے جاتا ۔ میر سجاول سنجیدگی سے کہتے ہوئے تاسف سے

سر ہلانے لگا مگر اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں ۔ زرتاج بری طرح

جھینپ گئی ۔

بس یہ الیکشن ہوجائیں ،اس کے بعد رشتہ نہیں ،بارات لے کر آؤں گا۔

میر کی اس بات پر زرتاج کا دل پوری قوت سے دھڑکا ،چہرے پر گلال بکھر گیا ۔میر نے بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے پر ابھرنے والے

تاثرات کو اپنی نظروں میں قید کیا۔وہ نیچے زمین پر بیٹھ گیا اور زرتاج

کو بھی کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا ۔

سائیں ! اب میں جاؤں ۔۔۔؟ اماں بابا میں سے کوئی جاگ گیا تو مصیبت ہو جائے گی ۔ وہ میر کی بات نظر انداز کرنے کے لئے

پریشان سی ہوکر بولی ۔ میر سجاول نے اس کے دودھیا ہاتھ پکڑ کر

لبوں سے لگائے ۔

سوہنی پرنسز ! آنے سے پہلے ہی جانے کی رٹ لگا دیتی ہو ۔یار !

سارا موڈ خراب کردیتی ہو ۔میر بدمزہ ہوگیا ۔وہ زرتاج کی گود میں

سر رکھے آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا ،اسکی بات پر آنکھیں کھول کر زرتاج کو گھورا ۔زرتاج نے حیرانی سےاس کی طرف دیکھا ۔پھر

اس کی نظروں سے خوفزدہ ہو کر پلکیں جھکا لیں ۔

سائیں ! خدا کا خوف کریں اتنی دیر گزر گئی مجھے آئے ہوئے ۔اب

تو جانے دیں ۔کسی نے دیکھ لیا تو بہت برا ہوگا ۔مجھے خود سے بھی

ذیادہ آپ کی پرواہ ہے ۔وہ بے بسی سے اس کی منت کرنے لگی ۔

میر سجاول اس کی بے بسی پر جی بھر کر محفوظ ہوا ۔اس کی مخمور

ہوتی نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں ۔

میر سجاول کے عشق اور زرتاج کے حسن کا جادو اس وقت اس کے سر پر چڑھ کر بول رہا تھا ۔

اچھا رو مت ! چلی جانا ، پہلے ادھر آؤ ۔ میر نے ہاتھ اونچا کر کے

انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسائیں اور اس کے چہرے کو اپنے

چہرے پر جھکا لیا ۔

قسمت ان کے ملن پر دور کھڑی اداسی سے مسکرا رہی تھی۔

جاری ہے

Episode : 7

مووی کا کلائیمکس چل رہا تھا سب دلچسپی سے مووی دیکھنے میں مگن

تھے جب میر سبطین نے آہستگی سے عروش کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ

میں لیا۔

عروش کا ہاتھ میر سبطین کے ہاتھ میں کپکپا کر رہ گیا اس کے اندر مزاحمت کی بھی ہمت نہیں تھی ۔

میر سبطین نے بہت خوبصورت اور نفیس بریسلٹ کا لاک کھولا اور

اس کے ہاتھ میں پہنا دیا۔جو اس نے نجانے کب سے عروش کے

لئے خرید کر رکھا ہوا تھا لیکن وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا،

آج اسے یہ موقع مل گیا تھا۔

تھینکس ۔۔۔عروش نے اسکرین پر نظریں جمائے کہا ۔اس میں

میر سبطین کی آنکھوں میں دیکھنے کی سکت نہیں تھی جن میں بہت

خوبصورت رنگ جھلملا رہے تھے۔

اسکی نظریں خود پر جمی محسوس کر کے عروش نے اپنا سر جھکا دیا،اس

کی مسکراہٹ واضح تھی اور اس مسکراہٹ سے اس کے گال میں پڑنے والا ڈمپل بھی ۔

میر سبطین بڑی محویت سے اسے تک رہا تھا ۔

مووی دیکھنے کے بعد وہ لوگ پارکنگ ایریا میں کھڑے ڈنر کے لئے جگہ

ڈیسائیڈ کررہے تھے ، جب عروش بیچ میں بول پڑی ۔

پلیز ! مجھے گھر ڈراپ کردیں ڈنر میں بہت دیر ہو جائیگی ،امی پریشان ہو

رہی ہونگی۔وہ تفکر سے بولی ۔

فان کلر کے اسٹائیلش ڈریس میں وہ عام دنوں سے کئ بڑھ کر پر کشش لگ رہی تھی۔

اریبہ کو کال کر کے وہ ماں کے لئے یہ پیغام بھجوا چکی تھی کہ آج اسے آفس سے واپسی میں تھوڑی دیر ہو جائے گی۔لیکن اب وقت کچھ ذیادہ ہی ہوگیا تھا جو اسے فکر میں مبتلا کر گیا تھا ۔

عروش ! ابھی صرف آٹھ بجے ہیں ٹائم اوور نہیں ہوا ،ہم ایک گھنٹے

تک ڈنر سے فارغ ہو جائینگے پھر آپ کو گھر ڈاراپ کر دینگے ۔رانیہ نے

اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

آپ نے آنٹی کو تو انفارم کر دیا ہے پھر کیوں پریشان ہو رہیں ہیں ؟

حنین نے سوالیہ نظریں اس پر ٹکائیں اس کا بلکل موڈ نہیں تھا کہ وہ

لوگ اتنی جلدی واپس لوٹ جائیں۔

حنین !عروش ٹھیک کہہ رہی ہے ،اس طرح دیر رات تک گھر سے باہر رہنا ٹھیک نہیں جبکہ اس کی آفس ٹائمنگ بہت دیر پہلے ختم ہو چکی ہے۔

میرسبطین اس کی پریشانی سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔وہ عروش کے

چہرے پر نمایاں گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا اور وہ اسے اپنی وجہ سے

پریشانی میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا تھا۔

حنین ! تم رانیہ اور نگین کو ڈنر کے بعدگھر لے جانا ڈرائیور تمھارے ساتھ رہے گا۔مجھے عروش کو ڈراپ کر کےایک ضروری کام سے جانا ہے ۔

اوکے بھائی ! حنین نے اس کی بات سے بنا کوئی اختلاف کئے حامی

بھری۔

میر سبطین عروش کو گاڑی میں بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ

گیا ،اور گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی۔

عروش ! تم نے میرا بریسلٹ خود پہنا نا مائینڈ تو نہیں کیا۔۔۔؟میر سبطین نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

عروش نے دھیرے سے اپنا سر نفی میں ہلادیا۔

تھینکس ۔۔۔میر سبطین پرسکون ہوگیا پھر بولا۔میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان اتنی انڈراسٹینڈنگ ہو جائے کہ ہم دونوں کو ذندگی کی نئی شروعات کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔اس کے بعد ہی میں ڈیڈی کو آپ کی مدر سے ملواؤں گا۔

عروش تم اس فیصلے پر دل سے راضی ہو ناں۔۔۔؟یا محض میرے

رتبے کا لحاظ کر رہی ہو ۔میر سبطین آج اپنے تمام شکوک و شبہات

دور کرلینےکے موڈ میں تھا کیونکہ وہ بہت جلد عروش کو اپنی ذ ندگی میں شامل کر لینا چاہتا تھا ۔

عروش اس کی محبت کی سچائی اور پاکیزگی سے اچھی طرح واقف ہو چکی تھی لیکن اپنے جذ بات کو لفظو ں میں بیان کرنے سے جھجک رہی تھی۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کن الفاظ میں انکی ترجمانی کرے کچھ فطری شرم اور کچھ رتبے کا لحاظ آڑے آرہا تھا اس لئے فقط اتنا ہی

کہہ پائی۔

میں نہیں جانتی یہ سہی ہے یا غلط ،محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے جسے اللہ

پاک ہی ہمارے دلوں میں پیدا کرتے ہیں اور اگر اللہ نے مجھے آپ سے ملوایا ہے تو میرے لئے کچھ اچھا ہی سوچا ہوگا ۔ میں نے اپنے مستقبل کے ہر فیصلے کا اختیار اللہ کے بعد اپنی امی پر چھوڑا ہے ،وہی

واحد رشتہ ہیں میرا اس دنیا میں ،وہ جو بھی فیصلہ کریں گی مجھے منظور

ہوگا۔عروش نے نہایت سادگی سے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی اور

ساتھ ہی میر سبطین کو یہ بھی جتا دیا تھا کہ اسکا اپنی ماں سے کتنا

مظبوط رشتہ ہے اور وہ انکی اجازت کے بغیر اپنی محبت کو پراون ہر

گز نہیں چڑھائے گی۔

میر سبطین جو پورے انہماک سے اسکی طرف متوجہ تھا اسکی بات پر

مطمئین سا ہو کر مسکرادیا۔ اور عروش کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

عروش ! تمھیں کبھی مجھ سے مایوسی نہیں ہوگی ۔ میرے لئے تمھارا

ہر فیصلہ قابل احترام ہوگا ۔

میر سبطین بہت خوش تھا۔ اس کی سادگی پر بھی اور فخر محسوس کر رہا تھا اپنی پسند پر جسے اس نے ایک نظر میں اپنا جیون ساتھی چنا تھا۔

************※***********

میر سبطین نے گاڑی گلی سے زرا فاصلے پر روکی تھی ۔عروش اسے گڈ

نائٹ کہہ کر گاڑی سے اتر آئی سبطین بھی اسے سی آف کرنے کے لئے با ہر نکلے دروازہ تھامے کھڑا تھا ،جب دونوں کی نظر گلی سے نکلتی

بلیک لینڈ کروزر پر پڑی اوراس میں بیٹھے معظم علی شاہ شیرازی پر۔

اسی وقت شاہ نے بھی ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا تو اس پر حیرت

کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

شاہ کچھ دیر قبل ہی عروش کے گھر پہنچا تھا ۔ عروش کو غیر موجود پاکر اس نے انتہائی کھر درے لہجے میں ثمینہ سے اس کے بارے میں استفسار کیا تھا۔

جب ثمینہ نے نے اس کی جاب کے متعلق بتایا تو وہ تلملا کر رہ گیا تھا

اور اسے وقت اس نے عروش کے جاب چھوڑ دینے کا حکم جاری کیا

تھا۔ ثمینہ بے چاری خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئیں تھیں وہ اس کے حکم سے اختلاف کرنے قابل نہیں تھیں۔یوں چپ ہوکر رہ گئیں۔

شاہ گاڑی سے نیچے اتر ا اور زور دار آواز میں دروازہ بند کر کے ان دونوں کی طرف آیا۔

واٹ آ پلیزنٹ سرپرائیز ! تو عروش صاحبہ میر سبطین کے آفس میں جاب کر رہی ہیں،جاب کے ساتھ ساتھ رات گئے تک ان کے ساتھ سیر سپاٹے بھی کئے جا رہے ہیں ۔اس نے طنزیہ انداز میں دھیرے سے تالیاں بجائیں۔ جبکہ اس کے اندر غصے کا ایک جوار بھاٹا اٹھ رہا تھا۔

زبان سنبھال کر بات کرو ،معظم شاہ ! میں صرف مس عروش کو گھر

ڈراپ کرنے آیا تھا۔میری سوچ تم جیسی گھٹیا نہیں ہے ۔میر سبطین

کا لہجہ برہم مگر آواز دھیمی تھی ۔

میر سبطین کے یہ الفاظ سنتے ہی ، شاہ نے بڑھ کراس کا گریبان پکڑ لیا ۔شاہ کے چاروں گارڈز گاڑی سے کود کر باہر آئے تھے اور سبطین

پر گنز تان لیں ۔

تمھاری اتنی جرا ت کے تم میری سوچ کو گھٹیا کہو ، گھٹیا پن تمھارے خون میں شامل ہے ،میں چاہوں تو اسی وقت تمھیں اس دنیاسے فارغ کردوں لیکن میں تمھارے گھٹیا خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگ نا چاہتا۔جہاں تک بات عروش کی ہے تو وہ صرف میری ہے ،اور یہ بات میں بہت جلد اس سے شادی کر کے ثابت کردوں گا۔

عروش ان دونوں کے مشتعل انداز دیکھ کر لرز رہی تھی ،اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں اور ان

کے درمیان کیا تعلق ہے ۔شاہ کی بات پراس نے خوفزدہ ہو کر اس کی

طرف دیکھا۔

عروش اگر تمھاری کزن ہے تو وہ میری بھی کزن ہے ،بلکہ میرا اس کے ساتھ تم سے ذیادہ گہرا رشتہ ہے ۔

اس بات پر میں تم سے یوں سر راہ بحث نہیں کرنا چاہتا کیونکہ لوگوں

کی عزت اچھالنے تمھارا پرانا شیوہ ہے لیکن میں عروش کو تماشا بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔اس نے شاہ کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکتے

ہوئے کہا۔

عروش نے چونک کر میر سبطین کو دیکھا۔یہ وہ کیا کہہ رہاتھا وہ اس کا کزن کیسے ہوسکتا تھا۔

کس کا رشتہ کتنا گہرا ہے یہ بہت جلد تمھیں پتا چل جائے گا ۔لیکن تب

تک کے لئے میں تمھیں وارننگ دے رہا ہوں اگر تم نے دوبارہ عروش

سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو اس روئے زمین پر تمھیں مجھ سے

بچانے والا کوئی نہیں ہوگا ۔شاہ گھوم کر عروش کے پاس گیا اور اس

کی کلائی پکڑ کر انتہائی سفاکی سے بولا ۔

میر سبطین نے اپنے لب بھینچ لئے اور مزید اس سے الجھنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے لگا۔

شاہ نے ایک قہر برساتی نگاہ اس پر ڈالی اور تقریباً کھینچتے ہوئے عروش

کو لے کر گلی میں داخل ہوگیا ۔

*************※*************

دھاڑ سے دروازہ کھول کر معظم شاہ عروش کی کلائی تھامے گھر میں داخل ہوا۔ثمینہ جو پہلے ہی گم صم سی بیٹھی تھیں اس اچانک افتاد

پر اچھل پڑیں ۔

تو آپ عروش کو اس کے بچھڑے ہوئے خاندان والوں سے ملوانے چلیں تھیں ۔

یقیناً آپ نے ہی عروش کو پورا کراچی چھوڑ کر وہاں میر غضنفر انڈسٹریز میں نوکری کرنے کا مشورہ دیا ہوگا ۔اپنے سسرال والوں کی طرح آپ کے اندر بھی لوگوں سے مکرو فریب اور دھوکے سے کسی اور کا مال ہتھیانے کا فن آ ہی گیا ۔ٹھیک بات ہے ،خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ ہی لیتا ہے۔

اتنے سالوں کی رفاقت تھی آپ کی مسرور صاحب کے ساتھ کچھ تو اثر

لینا ہی تھا۔

وہ ثمینہ اور اپنے رشتے کا لحاظ کئے بنا طنزیہ مگر برہم لہجے بولا۔

کتنے پیسے چاہئیں آپ کو ،میں دس لاکھ مہانہ دوں گا مگر آج کے بعد عروش جاب نہیں کرے گی بلکہ اس گھر سے باہر قدم نہیں رکھے گی اور اگر جائے گی تو صرف میرے ساتھ ،آپ کان کھول کر میری بات سن لیں ۔

کچھ دن تک میں عروش سے نکاح کرونگا اور تب تک یہ میری امانت ہے آپ کے پاس ،اور میری امانت میں خیانت کرنے والے کو میں

کبھی معاف نہیں کرتا ۔وہ بے لچک لہجے میں کہہ رہا تھا ۔

بیٹا! تم غلط سمجھ رہے ہو ۔میں اس بارے میں کچھ بھی جانتی ہوں کہ

عروش کہاں جاب کر رہی ہے ،اس کے مالک کون ہیں ۔میں ان پڑھ گنوار عورت مجھے ان سب باتوں کا تو خیال بھی نہیں آیا ۔

شاہ کےاس انکشاف پر حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں کہ عروش انجانے میں ہی سہی میر غضنفر کے دفتر تک جا پہنچی ۔اور یہ فکر الگ ستانے لگی تھی کہ اب عروش ان سے ضرور اپنے اور میر غضنفر کے مابین تعلق کے بارے میں سوال کرے گی ،تب وہ اسے کیا

جواب دیں گی۔۔۔یا برسوں پرانی کہانی انہیں پھر دہرانی پڑیگی۔

بس ! بس ! بس کریں ۔وہ ہاتھ اٹھا کر درشتگی سے بولا۔

خالہ میں اتنا بے وقوف نہیں اور نہ ہی کو ئی نا سمجھ بچہ ہوں جو آپ کے ارادے نا بھانپ سکوں ۔یقیناً یہ آپ کی اور آپ کے مرحوم شوہر کی سازش ہے ۔آپ دونوں نے یہی سوچا ہوگا کہ کسی بہانے ہی سہی عروش کو ان لوگوں کو سونپ دیں ،لیکن جب تک میں ذندہ ہوں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔اس کے لہجے میں ارادوں کی پختگی تھی ۔

کل میں آؤنگا اور عروش کو شاپنگ کے لئے لے جاؤنگا ۔

عروش !شادی کی تیاری کے لئے جو بھی ضروری سامان تمھیں چاہئے

اس کی لسٹ بنا لینا ۔ اور یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو کہ تماری شادی صرف مجھ سے ہوگی ۔اس نے ماں کے پہلو میں کھڑی لب کاٹتی عروش سے براہ راست کہا ۔

عروش نے بے بسی سے چپ چاپ سر جھکا دیا ۔

معظم شاہ اپنا فیصلہ سنا کر جا چکا تھا اور اس کے جاتے ہی عروش

ماں سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔

امی ! میں معظم شاہ سے شادی نہیں کروں گی ۔میں اس جیسے سخت گیر انسان کے ساتھ ذ ندگی نہیں گزار سکتی ۔ثمینہ دلاسا دینے کے انداز

میں اسکی پیٹ تھپکنے لگیں۔

عروش ! تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم میر غضنفر کے آفس میں جاب کرتی ہو ۔ثمینہ نے کچھ دیر بعد آہستگی سے اسے مخاطب کیا۔

اماں آپ نے کبھی پوچھا نہیں اور میں نے بھی ضرورت محسوس نہیں کی لیکن اب آپ مجھے بتائیں ،میز غضنفر اور میر سبطین سے ہمارا کیا

رشتہ ہے ۔۔۔؟اس نے فوراً ہی ان سے الگ ہوکر سوال کیا تو ثمینہ

نے نظریں چرالیں ۔

تمھارا اس سب سے کوئی واسطہ نہیں ،جب سہی وقت آئے گا تو میں

تمھیں سب کچھ بتا دوں گی ۔وہ نبریں چراتے ہوئے بولیں ۔

امی ! آپ کو مجھے بتانا ہوگا آخر معظم شاہ یہ سب کیوں کہہ رہا تھا اور

کیوں وہ میر سبطین کو دیکھ کر آپے سے باہر ہونے لگا ؟کیوں میر سبطین

نے کہا کہ میں اس کی کزن ہوں۔۔۔۔؟

آپ نہیں جانتیں میں اس وقت کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوں۔

وہ بے حد الجھی ہوئی تھی ۔

ثمینہ نے نظر اٹھا کر اس کے ستے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا پھر

جیسے ہار مان کر صرف اتنا بولیں۔

میر غضنفر تمھارے ماموں ہیں ،کسی تناضے کی سبب ہم برسوں پہلے ان سب سے رشتہ ختم کر چکے ہیں ، اس سے ذیادہ تم مجھ سے کچھ

نہیں پوچھوگی نا میں تمھیں کچھ بتاؤنگی ۔ وہ دو ٹوک انداز میں بات ختم کرکے وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔

عروش کا وجود جیسے زلزلوں کی ضد میں آگیا تھا۔اتنے بڑے انکشاف

کے بارے میں تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔

*********※*********

معظم شاہ نے عروش کو اس کے گھر سے پک کیا اور لنچ کے لئے فائیو

اسٹار ہوٹل میں لے آیا ۔اسکا ارادہ لنچ کے بعد شاپنگ کا تھا ۔

عروش ٹیبل پر سر جھکائے بیٹھی گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پر نظر گاڑے بیٹھی تھی ۔

عروش ! آج میں لنچ تمھاری پسند سے کرنا چاہتا ہوں اس لئے ڈشز تم

سلیکٹ کروگی ۔اس نے مینیو کارڈ اس کی طرف بڑھا کر عروش کی توجہ

اپنی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی ۔

عروش نے بنا کسی پس و پیش کے بے دلی سے مینیو کارڈ پکڑا اور دو

تین ڈشز کے نام اسے بتا دیئے ۔

شاہ نے ویٹر کو آرڈر نوٹ کروایا اور خود چئیر پر مزید ایزی ہو کر بیٹھ گیا۔

اس کی نظریں مسلسل عروش کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔

عروش ! تم جانتی ہو ،جب میں نے تمھیں پہلی بار دیکھا تھا اسی دن

مجھے تم سے محبت کا ادراک ہوا تھا ۔اس سے پہلے میں نہیں جانتا

تھا محبت کس بلا کو کہتے ہیں ۔ لیکن تم سے مل کر میں نے جانا کہ

محبت بہت خوبصورت اور انمول احسات کا نام ہے اور اسی دن

میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ہر قیمت پر تمھیں اپنا بناؤں گا۔

یہ بھی ایک سچ تھا کہ پہلی نظر میں اس کے سازشی دماغ نے عروش

کو صرف میر نگر والوں سے بدلا لینے کے لئے مہرے کی طرح استعمال

کرنے کا پلان بنایا تھا لیکن پھر وہ خود ہی اپنے اس فیصلے پر قائم نہ رہ

سکا کیونکہ اسکا دل اس سے بغاوت کر گیا تھا ۔

عروش کے ملکوتی حسن اور سادگی نے اس کے دل کو اپنے سازشی

دماغ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ۔

اس کی ذندگی میں آنے والی ہرلڑکی یاتو بازاری تھی یاپھر ماڈرن سوسائیٹی کی پروردہ ، جو معظم شاہ جیسے امیرزادے کے ایک جنبش ابرو پر اپنی دوشیزگی سمیت سب کچھ نچھاور کر دیتی تھیں ۔

شاہ کو کبھی بھی ان میں سے کوئی بھی اٹریکٹ نہیں کر سکی تھی جو اٹریکشن اس نے عروش کے معصوم حسن میں محسوس کی تھی ۔

وہ پوری سچائی سے اپنی دلی کیفیت عروش پر عیاں کر رہا تھا مگر

عروش کسی اور ہی دنیا میں گم تھی ۔

شاہ نے اسکی بے توجہی محسوس کی جو وہ بڑی دیر سے نظر انداز کر رہا

تھا ،یکلخت غصے سے ٹیبل کی سطح پر ہاتھ مارا جس سے جوس سے بھرا گلاس بھی چھلک پڑا ۔ عروش بری طرح سراسیمگی سے اسکئ طرف

دیکھنے لگی تو وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا ۔

عروش ! تمھیں اگر مجھ سے محبت نہیں بھی ہے تو میں تمھیں خود سے

محبت کرنے پر مجبور کر دوں گا لیکن اگر تمھاری سوچ میں بھی میرے

سوا کسی اور کی پرچھائی مجھے نظر آئی تو میں وہ آگ لگاؤں گا جس میں

سب کچھ جل کر بھسم ہوجائے گا ۔ اس کا لہجہ دھیما مگر بے حد دہشت ناک تھا ۔

اس دن کا منظر وہ بھولا نہیں تھا ،عروش کا میر سبطین کی گاڑی سے

نکلنے کا منظر بار بار کسی فلم کی طرح اس کی نظروں کے سامنے چکراتا

رہتا ،بمشکل وہ خود پر کنٹرول کئے ہوئے تھا کیونکہ وہ عروش پر کسی بھی قسم کی سختی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

تو کیا شاہ نے میری سوچ پڑھ لی یا میرا چہرہ ۔۔۔۔کیا وہ چہرہ پڑھنے

کے فن سے واقف ہے ؟عروش ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ اس کے

دل میں جو پیار میر سبطین کے لئے ہے وہ کسی بھی صورت شاہ پر

آشکار ہو ۔اس لئے شاہ کی تنبیہہ پر وہ اندر تک لرز کر رہ گئی ۔

ویٹر لنچ سرو کرنے کے لئے آگیا تھا ، ان دونوں نے ہی اپنے چہرے

کے تاثرات کور کر لئے ۔

شاہ پوری توجہ سے لنچ کرنے میں مصروف ہوگیا ۔ اس نے دوبارہ عروش کو مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ، جبکہ عروش شاہ

کے خوف سے زہر مار کر رہی تھی اسے زرا بھی بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی ۔

لنچ سے فارغ ہو کر شاہ اسے شہر کے سب سے مہنگے شاپنگ مال میں

لے آیا تھا ۔تین سے چار گھنٹے ہوگئے تھے انہیں شاپنگ کرتے ہوئے

تقرئباً شاپنگ شاہ نے اپنی مرضی اور پسند سے کی تھی ۔عروش بس

بے دلی سے ادھر ادھر رہی تھی ۔ شاہ نے بھی اس کی جھجک کو

محسوس کرتے ہوئے ذیادہ زور نہیں دیا تھا۔

ڈھیر سارے شاپنگ بیگز وہ گارڈ کے ساتھ گاڑی میں رکھوا چکا تھا پھر

بھی کچھ شاپرز ہاتھ میں لئے ایک ہاتھ سے عروش کا ہاتھ تھامے ،باقی

کی شاپنگ کل تک کے لئے ملتوی کر کے وہ اسے لئے پارکنگ میں

چلا آیا ۔

وہ دونوں اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے جب میر سبطین کی نظر

ان پر پڑی ۔عروش کے چہرے سے ہوتی ہوئی شاہ کے ہاتھ میں دبے

اس کے ہاتھ پر جا کر ٹہر گئی ۔وہ دونوں بھی اسے دیکھ چکے تھے ۔

عروش نے شرمندگی سے سر جھکا لیا جبکہ شاہ کے ہونٹوں پر تفاخربھری مسکراہٹ کھیلنے لگی ۔

میر سبطین کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئیں وہ اپنی آنکھوں میں بے

پناہ جلن محسوس کر رہا تھا۔

شاہ کے جلتے سلگتے دل پر پھوار برسنے لگی ،بلکل ایسی ہی جلن اس نے

عروش کو میر سبطین کی گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھ کر محسوس کی تھی

میر سبطین انہیں نظر انداز کر کے فوراً ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔

شاہ کا موڈ یکدم ہی خوشگوار ہو گیا تھا۔اسٹئیرنگ سنبھالتے ہوئے اس نےاپنا بازو برابر میں بیٹھی عروش کے گرد پھیلا لیا ۔

************※***********

فیض علی ! کل ہونے والی صفدر شاہ کی الیکشن کیمپئین کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں ۔۔۔؟میر سجاول بڑی شان سے صوفے پر بیٹھا ایک ہاتھ صوفے کی پشت پرپھیلائے دوسرے ہاتھ میں موبائل تھامے نظریں اسکرین پر جمائے اپنے خاص ملازم سے مخاطب تھا ۔

سائیں ! زبردست چل رہی ہیں ،بڑا شاندار پنڈال سجایا ہے اس بار۔فیض علی معنی خیزی سے مسکرایا ۔میر سجاول نےایک ٹانگ سامنے پڑی ٹیبل پر رکھی ہوئی تھی جبکہ دوسری فرش پر جسے فیض علی دل جمعی

سے دبا رہا تھا ۔

ہوں ۔۔۔اس نے پر سوچ انداز میں ہنکارا بھرا اور موبائیل آف کر

کے سائیڈ پر رکھ دیا۔

کل کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے ،اپنے بندوں کو سمجھا دیا ہے نا؟

زرا سی بھی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہئے ،دھرنے والوں کو سمجھا دینا ذیادہ شور شرابا کرنے کی ضرورت نہیں ہے باقی کام میرے بندے سنبھال

لیں گے ۔

فیض علی !قیمت سب کو منہ مانگی دینا مگر زرا سی بھی کوتاہی ہوئی کام

میں یا صفدر شاہ کی کیمپئین کامیاب ہوگئی تو فیض علی میں تیری کھال کھنچوا لوں گا ۔اس نے جھک کر اپنی گن فیض علی کی کنپٹی پر رکھ دی۔

سائیں ! آپ نے جو بھی کام میرے زمہ لگایا ہے ،کبھی کوئی گڑ بڑ

نہیں ہوئی ہے تو اب بھی نہیں ہونے دونگا ۔آپ بے فکر ہوجائیں

کل سب کچھ آپ کی خواہش کے مطابق ہوگا ۔ فیض علی پہلے تو سانس کھینچ گیا پھر ہاتھ جوڑ کر گھگیانے لگا ۔

ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ۔ذیادہ ڈرامے نا کر ،جانتا ہوں تجھے ۔میر نے

اسے ہاتھ اٹھا کر چپ کروا دیا ۔فیض علی دوبارہ اسکی ٹانگ پہلے سے

بھی ذیادہ دل جمعی سے دبانے لگا ۔

یہ بتا ! زرتاج اسکول سے سیدھا گھر گئی تھی ۔۔؟گاؤں کا کوئی آوارہ

چھوکرا اسے تنگ تو نہیں کرتا ۔زرتاج کے بارے میں استفسار کرتے

ہوئے اس کی آواز یکدم ہی نرم پڑ گئی تھی ، داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے وجیہہ چہرے پر چاہت کے رنگ اترنے لگے ۔

سائیں ! بی بی جب اسکول یا گھر سے نکلتی ہیں ،نورا ارد گرد ہی رہتا

ہے ۔ اس لئے کسی کی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کے سامنے بدتمیزی کرنے کی کوشش کرے ۔فیض علی نے تفصیلاً جواب دیا ۔

ہوں ۔۔۔میر سجاول ہنکارہ بھر کر سگریٹ سلگانے لگا ۔ایک کش

لے کر وہ مزید ایزی ہو کر بیٹھ گیا ۔کل کا دن اس کے لئے بہت

اہم تھا مگر وہ اس وقت بھی فرصت سے زرتاج کے بارے میں

سوچنے پر مجبور تھا ۔ وہ اب تک کل رات ہونے والی ملاقات پر

مسحور تھا ۔اس کے خوبصورت کٹاؤ والے ہونٹوں پر بہت دلکش

مدھم مسکراہٹ تھی ۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *