Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dillon Ke Bandhan Umme Maryam

صفدرعلی شاہ شیرازی اس وقت غصے سے تلملا رہے تھے ۔شام کے پانچ بج رہے تھے اور اب تک اس کا کہیں پتا نہیں تھا ۔
معظم شاہ کسی بھی وقت انکو عین موقع پر دغا دے جاتا تھا اور باوجود شدید غصے کے وہ اس کا کچھ بھی نہیں کر پاتے تھے کیونکہ انکی سب سے لاڈلی اولاد ہونے کے ساتھ وہ انکی پوری جاگیر میں برابر کا وارث تھا ۔
اس کے اٹھارہ سال کا ہوتے ہی خود انہوں نے قانونی کاروائی کر کے اسے اپنی پوری جائیداد میں برابر کا حصے دار بنا دیا تھا۔
حالانکہ اس کے علاوہ انکا ایک بیٹا اور بھی تھا مکتوم علی شاہ شیرازی لیکن معظم شاہ ہمیشہ سے انکے دل کے قریب تھا شاید اسکی ایک وجہ
یہ بھی تھی کہ وہ اپنی عا دات و اطوار ،ضدی فطرت اور حاکمانہ طبیعت میں ان ہی کی پر چھائی تھا۔
انتہائی سخت اور ایک روایتی جاگیردار جو چھوٹی سے چھوٹی خطا پر بھی بڑی سے بڑی اور سخت سزا دینے کا عادی تھا۔
اس کے با نسبت مکتوم شاہ اپنی ماں کی طرح حلیم الطبع اوررحم دل شخصیت کا مالک تھا یہی وجہ تھی کے وہ بچپن ہی سے باپ کے دل کے قریب نہ ہو سکا ۔اور پھر جب میڈیکل کی پڑھائی کمپلیٹ کرنے کے بعد اس نے گاؤں میں ہی خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ ہاسپٹل بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس بات پر صفدر علی شاہ شیرازی کی انا کو وہ ٹھیس پہنچی کے وہ تڑپ اٹھے۔وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کے اتنی طویل و عریض زمینداری اور کئی شہروں پر پھیلے ہوئے بزنس کے مالک کا بیٹا یہ معمولی پیشہ اپنائے۔لیکن وہ بھی انکا ہی خون تھااپنی من مانی کرتے ہوئے اس نے ہسپتال کی بنیاد رکھ دی تھی اور اسی دن سے ان کے رشتے میں دراڑ سی پڑ گئی تھی ۔
آج اتنا اہم دن تھا مخالف پارٹی کے سابق ایم۔پی ۔اے کو وہ اپنی پارٹی میں شامل ہو نے کے لئے تیار کر چکے تھے اور آج کی الیکشن کیمپئین میں اس بات کا اعلان کرنے والے تھے لیکن معظم شاہ کا نمبر بھی آف تھا ۔
انہوں نے جھنجلا کر اس کے خاص محافط کو کال ملائی ۔
ہیلو ،خدا بخش ! معظم شاہ اس وقت کہاں ہیں ؟انہوں نے چھوٹتے کے ساتھ ہی اس کے بارے میں استفسار کیا۔
سرکار ! چھوٹے شاہ صاحب تو ہمیں شاہ ہاؤس پر چھوڑ کر اکیلے ہی ڈرائیو کر کے گئے ہیں۔
خدا بخش نے مکمل لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے رٹی رٹائی بات دہرائی ۔معظم علی شاہ کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔
صفدر شاہ نے دانت پیستے ہوئے کال ڈسکنکٹ کردی۔
شاہ نے مسکراتے ہوئے اسٹئیرنگ پر رکھے اپنے خوبصورت ہاتھ پر سجی قیمتی گھڑی کی طرف دیکھا جو پانچ بجا رہی تھی۔ وہ ابھی ابھی اپنا ضروری کام نمٹا کر پی سی سے باہر نکلا تھا اور گاڑی مین روڈ پر ڈال دی تھی اب اسکا رخ اپنی “دلپسند “ہستی کے گھر کی طرف تھا جو پہلی ہی نظر میں اس جیسے بگڑے نواب کا دل چرا لے گئی تھی۔ایسا نہیں تھا کے اسکی ذندگی میں لڑکیوں کی کوئی کمی تھی وہ توان لوگوں میں سے تھا جو لباس کی طرح لڑکیاں بدلتے ہیں ۔
شہر میں بھی کافی لڑکیوں سے اس کی دوستی تھی لیکن یہ دوستی وہ صرف غرض کی حد تک ہی نبھانے کا قائل تھا جس دن اس کا دل بھر جاتا وہ پلٹ کر بھی نا دیکھتا یہ الگ بات تھی کے وہ اس دوستی کا حق معاوضے کی صورت میں اس طرح ادا کرتا تھا کہ وہ سب لڑکیاں کچھ دن اس کے عشق میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے کے بعد خود ہی اسکی دی ہوئی عنایتوں پر اکتفا کر لیتی تھیں ۔
عروش سے ہونے والی ملاقات کے بعد وہ خود اس بات پر حیران تھا کہ اس جیسی نازک اندام کم گو اور سادہ طبیعت کی لڑکی کیسے پہلی ہی ملاقات میں اس کے دل میں اتر گئی کہ اب اس کے بنا جینے کا تصور بھی محال تھا ۔وہ آٹھوں پہر اس کے حواسوں پر چھائی ہوئی تھی ۔انتہائی مصروفیت کے باوجود بھی وہ ایک پل بھی اسکی یاد ،اس کے خیال سے غافل نہیں تھا۔
یہ بھی سچ تھا کہ پہلے پہل اس کے بارے میں جاننے کے بعد اس کے ذہن میں پہلا خیال میروں سے بدلا چکانے کا ہی آیا تھا لیکن جس طرح کی فیلنگز آجکل وہ عروش کے لئے فیل کر رہا تھا ۔عروش کا خیال آتے ہی جس طرح کے جذبات اس کے اندر مچلے تھےاس سے یہی لگتا تھا کہ وہ پوری سچائی سے اسے اپنی ذندگی کا ساتھ بنانا چاہتا تھا۔
جو بھی تھا لیکن اب وہ عروش سے شادی کا فیصلہ کر چکا تھا اور بہت جلد یہ بات بابا سائیں تک پہنچانا چاہتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *