Dillon Ke Bandhan Umme Maryam NovelR50596 Dillon Ke Bandhan (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Dillon Ke Bandhan (Episode 03)
Dillon Ke Bandhan Umme Maryam
مس عروش ! آپکو زرا سا بھی احساس ہے آپ سے کتنی بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔آپ کی وجہ سے میری کمپنی کو کتنا بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔میرسبطین نہیایت غصے میں اس سے مخاطب تھا لیکن پھر بھی اسکی آواز دھیمی اور انڈر کنٹرول تھی۔
سر ایکسٹریملی سوری !آپ کے سائین لینے کے بعد میں نےوہ فائل اپنی ٹیبل پر ہی رکھ دی تھی ، پھر پتا نہیں کیسےمیں وہ فائل بینک بھجوانا گئی۔عروش نے شرمندگی سےانگلیاں مروڑتے ہوئے اپنا سر جھکا لیا۔
اسکی آنکھوں میں تیترتی نمی نمایاں تھی۔
سبطین نے لب بھینچ کر اسے دیکھا ۔اور بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔
اوکے ۔۔۔آپ جاسکتی ہیں۔اور آئندہ خیال رہے اس قسم کی غلطی نہ ہو۔اس نے مزید سرزنش کرنے کا ارادہ ترک کردیا پھر بھی دھیمے لہجے میں عروش کو تنبیہہ کی۔
اوکے سر ۔آئندہ ایسی غلطی نا ہو میری پوری کوشش ہوگی ۔وہ بمشکل صرف اتنا ہی کہہ سکی اور کمرےسے نکل گئی۔
سبطین نے اپنے رویے پر تاسف سے سر جھٹکا۔اور موبائل پر کال ملانے لگا۔
عروش اپنے کیبن میں آئی ،چئیر پر بیٹھتے ہوئے اس نے آنکھوں کی نمی کو جلدی سے حلق میں اتار لیا۔
ٹھیک ہے، غلطی میری ہی تھی ۔مجھے اتنا لا پرواہی نہیں کرنی چاہئے تھی۔اس نے خود کو سمجھایا۔اس انسلٹ پر وہ روہانسی ہوگئی تھی۔
وہ بھی کیا کرتی جس دن سے معظم شاہ اچانک ان کے گھر آیا تھا اس دن سے وہ کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کر پا رہی تھی۔
شاہ کی آنکھوں میں لو دیتی جذبوں کی آنچ سے ،اس کے من میں خوف نے ڈیرے ڈال کئے تھے۔
جب سے وہ حویلی ہو کر آئی تھی وہاں کی شان و شوکت اور امارات کے آگے اسے اپنا آپ بہت کم تر لگ رہا تھا۔
اس پر خالو جان کا سرد مہر رویہ اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبورکر رہا تھا۔وہ ان کے حویلی میں قیام پر خوش نہیں تھے ۔وہ کوئی خوابوں میں رہنے والی لڑکی نہیں تھی۔
حقیقت سے نظریں چرانا اس کی سرشت میں نہیں تھا ، والدین نے اسکی تربیت بھی اسی انداز میں کی تھی کہ وہ بیس سال کی عمر میں اپنی عمر سے ذیادہ بردبار اور حقیقت پسند ہوگئی تھی۔
شاہ کی آمد کا مقصد وہ اچھی طرح جانتی تھی۔ حویلی میں اتنے دن گزارنے کے بعد وہ اتنا تو سمجھ ہی گئی تھی کہ وہ بے مطلب کسی کو اہمیت دینے والوں میں سے نہیں۔لیکن عروش کا دل اسے اجازت نہیں دے رہا تھا کہ وہ شاہ کی پیش قدمی کو خیر مقدم کرے۔
ک
یہی سوچ اسے اتنا الجھا گئی تھی کہ وہ گھر تو کیا آفس میں بھی غائب دماغی سے کام لے رہی تھی جس کی وجہ سے آج اسےاچھی خاصی جھاڑ پڑی تھی۔
وہ دوبارہ ایسی کسی کوتاہی کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی ،اس لئے ہر سوچ کو اپنے ذہن سےجھٹک کر سامنے پڑی فائل پر جھک گئی۔
•••••••••••••※•••••••••••••
میر جعفرصبح کا اخبار پڑھ رہے تھے ۔جب انکی نظر کل یونیورسٹی میں ہونے والے الیکشن میں دو گروہ کے تصادم اور اس میں ہونے والی
فائرنگ کےذکر پر پڑی تو وہ دندناتے ہوئے بیٹے کے کمرے کی جانب بڑھے۔
میر سجاول نک سک سے تیار ہوکر آئینے میں اپنا جائزہ لیتے ہوئے دوسرے ہاتھ سی موبائل کان سے لگائے محو گفتگو تھا۔جب وہ بنا دستک دئیے اندر داخل ہوئے ۔
اس نے آئینے میں باپ کو چہرے پر سخت تاثرات لئے دیکھا۔
میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔اس نے فوراً فون بندکردیا۔
میں نے تمھیں سمجھایا تھا کہ یو ں سرِ راہ الجھنا چھوڑ دو ورنہ اس بار
اگر تم پھنسے تو میں بھی تمھیں نہیں بچا سکوں گا ۔لیکن تم کچھ سمجھنے کی کوشش کرو تب نا۔وہ خاصےجھنجلا ئے ہوئے تھے۔
بابا ! میں سب سمجھتا ہوں اور اپنے دشمنوں سے نمٹنابھی مجھے اچھی طرح آتا ہے اور آپ بے فکر رہیں میں نہیں پھنسوں گا ۔پھنسے گا تو
وہ اور دنیا دیکھی گی کہ میں معظم علی شاہ شیرازی کو کیسا مزہ چکھاتا ہوں۔
آنکھوں میں نفرت لئے اس نے انتہائ سرد لہجے میں کہا۔
کہیں ایسا نا ہو اسے مزہ چکھانے کے چکر میں تم خود معظم شاہ کا نوالہ بن جاؤ۔تمھیں اسکی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔اس باربھی صفدر کے ایم۔این۔ اے بنے کے فل چانسز نظر آرہے ہیں ۔وہ فکر مندی سے بولے۔
وہ کامیاب کئیمپن کر سکیں گے تو جیتیں گے نا ۔آپ دیکھئے گا میں کس طرح قدم قدم پر انہیں دھول چٹاتا ہوں ،کیمپئین میں ہی اس طرح کا اسکینڈل بنواؤنگا کے ان کا ووٹ بینک ہی نہیں رہے گا۔
میر سجال اپنے بنائے گئے منصوبے پر فاتحانہ انداز سے مسکرایا۔
اسکی بات سن کر جعفر صاحب کے دل کو کچھ سکون ملا۔
اور اگر وہ طاقت ور ہیں تو ہم بھی ان سے کم تر نہیں ، جو آپ مجھے
بذ دلی کا سبق دے رہے ہیں۔دولت ،اسٹیٹس اور رتبے میں ہم انکی برابری کا درجہ رکھتے ہیں اس نے کافی ناراضگی سے کہا۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا بس مجھے تمھاری فکر ہے ۔میں کسی بھی صورت تمھیں کھونا نہیں چاہتا۔میر پرویز کے بچھڑنے کے بعد اب مجھ میں تمھاری جدائی سہنے کا حوسلہ نہیں ہے۔
بیٹےکی ناراضگی کا خیال ہی انہیں بے چین کر گیا ۔
•••••••••••••※•••••••••••••
میرغضنفراور رانیہ جب میر حویلی پہنچے تو میرجعفر نے بڑی گرمجوشی سے انکا استقبال کیا۔ان کے بہ نسبت فائزہ بیگم کا انداز ہمیشہ کی طرح سرد مہری لئے ہوئے تھا ۔
اس عمر میں بھی انکے مزاج میں کسی قسم کی نرمی یا لچک نہیں آئی تھی۔وہ آج بھی اتنی ہی مغرور اور انا پرست تھیں۔
سائیں ! بڑے دنوں بعد چکر لگایا آپ نے ۔اتنےعرصے تک آپ لندن میں رہے اور اب بھی آپ نے گاؤں کی بجائے شہر کو ترجیح دی یہ سراسر نا انصافی ہے۔انہوں نے بڑی محبت سے بھائی سے شکوہ کیا تو
فائزہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
بس اس ماحول میں مجھے گھٹن محسوس سی ہوتی ہے۔جب تک یہاں رہتا ہوں بے چین ہی رہتا ہوں ۔اگرمہربانوکی ذندگی نے وفا کی ہوتی تو میں اب بھی واپس نا آتالیکن ان کے انتقال نے مجھے توڑ دیا اور میں یہاں آنےپر مجبور ہوگیا۔غضنفر صاحب بیوی کا ذکر کرتے ہوئے
افسردہ ہوگئے۔
ہر کام میں اللہ سائیں کی مصلحت ہوتی ہے ۔جس کی جتنی ذندگی ہے وہ اتنی ہی جئے گا۔جعفر صاحب نےبھائی کا ہاتھ تھام کر کہا۔
اب آپ کچھ دن یہیں ہمارے ساتھ رہیں گے۔آپ کاساتھ مجھے بابا سائیں کی شفقت کی یاد دلا تا ہے ۔ویسے بھی ان تین سالوں میں دو بار ہی آپ گاؤں آئے ہیں۔
سائیں !میں کھانے کا انتظام کرتی ہوں ۔فائزہ بیگم نے مداخلت کی
اور وہاں سے واک آؤٹ کر گئیں ۔دونوں بھائیوں کی محبت ان سے حضم نہیں ہو رہی تھی۔اتنا عرصہ اس خاندان میں گزارنے کے باوجود بھی ان کے دل میں کسی کے لئے بھی گنجائش نہیں تھی۔
رانیہ وہاں سے اٹھ کر گھر کے اندرونی حصے کی طرف آگئی ۔اسکی نظریں یہاں وہاں نگین کو تلاش کر رہی تھیں ۔جب وہ اسے نظر نہیں آئی تو وہ اپنے کمرے میں آگئی ۔
بیڈ پر بیٹھ کر وہ شوز اتار رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس”کم ان۔نگین دروازہ کھول کر اندر آگئی۔
ارے نگین !میں ابھی تمھیں ہی ڈھونڈ رہی تھی ۔رانیہ اسےدیکھ کر کھڑی ہوگئی۔
مجھے ابھی خبر ملی کے شہر سے رانیہ بی بی اور بڑے صاحب آئے ہیں تو سب کام چھوڑ کر آپ سے ملنے چلی آئی۔نگین نے خوش ہوتے ہوئے بتایا اور آ کر اس سے لپٹ گئی۔
اونچی پونی والی نازک سی گڑیا جیسی یہ مالکن اسے بہت پسند تھی۔اس بے تکلفی میں پورا ہاتھ رانیہ کا تھا جو حویلی کی مالکوں میں سے اور لندن میں پرورش پانےکے باوجود بھی کسی بھی قسم کے احساس برتری سے پاک تھی۔وہ اپنے خاندان کی اکلوتی بیٹی تھی ۔
لندن میں ماں کے گزرنے کے بعدایک بہن کی کمی کا احساس شدت اختیار کر گیا تھا۔
نگین اسے پہلے ہی ملاقات میں بہت اپنی اپنی لگی تھی۔وہ حویلی کی ملازمہ تھی لیکن اپنے رکھ رکھاؤ اور ظاہری حلیےسے وہ کہیں سے بھی ملازمہ نہیں لگتی تھی۔اور پھر اسکی پیاری باتوں نے رانیہ کو اس سے اور بھی قریب کر دیا تھا۔
یہ دیکھو میں تمھارے لئے کیا لے کر آئی ہوں۔
رانیہ نے شال اور سوٹ کے شاپرز اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
نہیں بی بی ! یہ میں کیسے لے سکتی ہوں ۔اگر بڑی بی بی کو پتا چل گیا تو وہ بہت غصہ کریں گی۔نگین سچ مچ گھبرا گئی۔
کسی کو کچھ بھی پتا نہیں چلے گا ۔تم فوراً یہ سب اپنے کواٹر میں لے جاؤ۔رکھ لو پلیز!میں بہت دل سے تمھار ے لئیے لے کر آئی ہوں۔
شکریہ ۔۔۔نگین نے رانیہ کی اپنے لئے محبت دیکھی تو مسکراتے ہوئے
شاپرز تھام لئے ۔
سنو !اگر میں تمھیں اپنے ساتھ شہر لے جاؤں تو تم چلوگی؟وہ جانے کے لئے مڑی تو رانیہ نے اس سے سوال کیا۔
بڑی بی بی اجازت دیں گی تو کیوں نہیں جاؤنگی۔نگین نےمعصومیت سے کہا۔
ٹھیک ہے ،تم جاؤ،میں بابا سے بات کر لونگی۔رانیہ نےکچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔
نگین کے لئے یہ خبر بڑی پر مسرت تھی۔وہ بچپن سےہی شہر میں رہی تھی لیکن کچھ عرصہ پہلے شہر میں ہونےوالی بارش سے اس کے گھر کی چھت گرِ گئی جس میں اس کے والدین ہلاک ہوگئے ۔وہ دادی کے پاس گاؤں آئی ہوئی تھی اس لئے بچ گئی اور پھر وہ دادی کے پاس گاؤں میں ہی رہنے لگی ۔
یہاں مالکوں کی غلامی پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ اس کے آباؤاجداد پیڑھیوں سے اس خاندان کےیہاں چاکری کر رہے تھے اور وہ خود بھی بڑی محنتی لڑکی تھی مگر فائزہ کا ہتک آمیز رویہ اس کے لئے نیا اور ناقابلِ برداشت تھا۔اس اچانک رہائی کی خبر پر وہ اندر تک سرشار ہوگئی تھی۔
************※************
عروش گھر میں داخل ہوئی تو سامنے ایان کی ٹیوشن ٹیچر ،انکی والدہ اور ان کے ساتھ ایک اجنبی خاتون (جو ایان کی ٹیچر کی ممانی تھیں) کو بیٹھا دیکھا توکچھ حیران ہو کر ماں کی طرف دیکھتے ہوئے ان سب کو سلام کیا۔
یہ میری بیٹی ہے عروش انہوں نے سامنے بیٹھی خاتون کو بتا یا تو انہوں نے کھڑے ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کے ساتھ اسے لپٹا لیا۔
ماشااللہ بہت پیاری ہے ،جتنی تعریف سنی تھی اس سے بڑھ کر ہی پایا ہے۔ریحانہ بیگم نے معنی خیزی سے کہا تو عروش نے سوالیا نظروں سے ماں کو دیکھا۔
تم فریش ہو جاؤ عروش ،تھک گئی ہونگی۔جاؤ منہ ہاتھ دھو لو۔ثمینہ نے اسکی نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا تو عروش فوراً ہی معذرت کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد ثمینہ ان لوگوں کو رخصت کر کے اس کے پاس آئیں تو اس نے فوراً دریافت کیا ۔
امی ! یہ لوگ ہمارے گھر کیوں آئیں تھیں اور ان کے ساتھ وہ آنٹی کون تھیں؟
بیٹا!یہ اریبہ کی ممانی تھیں۔اس دن جب تم ان کے گھر گئیں تو ان کے بیٹے نے تمھیں پسند کر لیا اور لاہور سے اپنی ماں کو بلا بھیجا۔وہ اسی سلسلے میں آئیں تھیں۔کہہ رہی تھیں ان کا بیٹا یہاں جاب کرتا ہے اور مستقبل میں یہیں اپنا گھر بسانے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس لئے ہم اس بارے میں سنجیدگی سے سوچ کر جواب دیں،شاید تم نے اس لڑکے کو دیکھا بھی ہے ان کے گھر۔۔۔۔اریبہ بتا رہی تھی جس دن تم ان کے گھر گئی تھیں وہاں وہ بھی موجود تھا۔
اریبہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
اگر فیملی اچھی ہے ،اور میں باسط صاحب سے کہہ کر تھوڑی چھان
بین بھی کر والوں گی تو اس رشتے میں کوئی قباحت نہیں ویسے بھی
وہ لوگ بڑی چاہ سے مانگ رہے ہیں تمھیں ۔ثمینہ نے اپنے پڑوسی
باسط صاحب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جن کی فیملی سے ان کے گھر
جیسے ہی تعلقات تھے۔
امی ! ہم اتنی جلدی کیسے انجان لوگوں پر بھروسا کر سکتے ہیں
مجھے کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا۔ویسے بھی میں اتنی جلدی آپ کو
تنہا چھوڑ کر نہیں جا سکتی کم از کم ایان کے میٹرک کرنے تک تو
بلکل نہیں۔عروش نے صاف جواب دیا۔اسے حماد کا لوفرانہ رویہ
بھی یاد آگیا تھا ۔
اس دن اریبہ کے گھر ہونے والی اس ملاقات میں اسے حماد کی
آنکھوں میں اپنے لئے ہوس کابخوبی اندازہ ہوگیا تھااور خود پر چبھتی
ہوئی نظروں نے اسے اچھا خاصا بے چین کردیا تھا۔وہاں دو گھڑی
بیٹھنا اس کے لئے دوبھر ہوگیا تھا کجا کے اس کے رشتے کو امی
اتناسیریس لے رہی تھیں اس بات پر وہ جھنجلا کر رہ گئی تھی۔
ثمینہ اس کے دو ٹوک جواب پر خاموش ہوکر رہ گئیں ۔حماد کی
اچھی جاب کا سن کر وہ اس رشتے کے لئے سنجیدہ ضرور ہوگئ
تھیں ، وہ عروش کی شادی جلد سے جلد کرنے کی خواہش مند بھی
تھیں ۔ چاہتی تھیں کے انکی ذ ندگی میں ہی عروش اپنے گھر کی
ہوجائے بحرحال اس معاملے میں وہ جلد بازی یا اپنی مرضی مسلط
نہیں کر نا چاہتی تھیں ۔
***********※***********
پوری حوالی سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی۔جعفر صاحب اور فائزہ بیگم کسی ڈنر میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے۔اور اب تک واپس نہیں لوٹے تھے۔
رانیہ نے بیزاری سے ٹی ی آف کیا اور اٹھ کر میرغضنفر کےکمرے میں آگئی ۔اس نے سوچا کہ کیوں نا کچھ دیر ڈیڈی کے ساتھ گپ شپ لگائے۔
دروازے پر دستک دیتے ہوئے وہ اندر آئی تو دیکھا کے غضنفرصاحب سینے پر ہاتھ رکھےکراہ رہے تھے۔وہ جلدی سے بھاگ کر ان تک پہنچی
ڈیڈی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔وہ ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر سہلاتے ہوئے بولی چلیں ہمیں فوراً ہاسپٹل چلنا چاہئے۔
نہیں بیٹا!میں ٹھیک ہوں۔انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
مجھے آپ بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہے ۔پلیز ! ضد مت کریں اس نے پریشانی سے کہا اور انہیں سہارا دیتے ہوئے اٹھانے لگی۔وہ انہیں لے کر باہر نکل آئی۔
نگین !نگین!ڈرائیور سے کہو جلدی سے گاڑی نکالے۔
نگین اس کے پکارنے پر لاؤنج میں آئی پھر اٹے قدموں بھاگتے ہوئے کار پورچ کی طرف چلی گئی۔
رانیہ بمشکل میر غضنفر کو لے کر گاڑی تک پہنچی اور پھر ڈرائیورکی مدد سے انہیں گاڑی میں بٹھایا ، خود بھی ان کے برابربیٹھتے ہو ئے ڈرائیور سے بولی۔جلدی سے ہاسپٹل لے چلو۔
لیکن بی بی ہاسپٹل پہنچنے میں تو بہت دیر لگ جائیگی۔ڈرائیور نے
آگاہ کیا۔
کیوں،کیا یہاں قریب میں کوئی بھی ہاسپٹل نہیں ہے ؟اس نے پریشانی سے استفسار کیا۔
بی بی !ہاسپٹل تو ہے مگر اس علاقے میں میروں کا جانا ممنوع ہے۔
مجھے کچھ نہیں پتا تم بس فوراً وہاں لے چلو ۔باقی باتیں بعد میں دیکھ
لیں گے ۔اس نے انتہائی پریشانی کے عالم میں باپ کو دیکھتے ہوئے
کہا۔
مگر بی بی!وہاں جاناخطرے سے خالی نہیں۔آپ نہیں جانتی معظم شاہ
شاہ کتنا سفاک انسان ہے غلطی سے بھی کوئی اس طرف چلا جائے تو اسے معاف نہیں کرتا اور میر نگر کے لوگوں کو تو وہ انسان ہی نہیں سمجھتا۔
ڈرائیور نے بے بسی سے کہا۔سچ تو یہ تھا کہ وہ خود بھی وہاں جاتے
ہوئے گھبرا رہا تھا۔عام حالات میں تو وہ شاہ پور جانے والے راستے
سے گزرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ آج تک میر نگر سے
اگر کوئی بھٹک کر بھی اس طرف گیا تھا تو ذندہ واپس نہیں آیا تھا۔
اور یہی بات اسے ہولائے دے رہی تھی۔
اس وقت میرے لئے ڈیڈی کی ذندگی سے ذیادہ کچھ نہیں اگر تمھیں اتنا
ہی ڈر ہے تو تم نیچے اتر جاؤ میں خود ہی ڈرائیو کرلونگی۔رانیہ تنگ آکر بولی۔
ٹھیک ہے بی بی !میں لئے چلتا ہوں۔ڈرائیور کو چار و ناچار ماننا ہی
پڑا نا ماننے کی صورت میں بھی اسی کا نقصان تھا کیونکہ پھر میر جعفر
علی کے غضب سے اسے کون بچاتا۔
دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ لوگ مکتوم شاہ شیرازی کے ہاسپٹل
میں موجود تھے۔
رات کے بارہ بج رہے تھے۔مکتوم شاہ اب گھر کے لئے نکلنے ہی والا
تھا کیونکہ اس وقت مریضوں کی آمد و رفت نا ہونے کے برابر ہی ہوتی تھی اور اس نے اسٹاف کو یہ ہدایت دی ہوئی تھی کے ایمر جنسی کی صورت میں بلا جھجک رات کے کسی بھی پہر اسے کال کر کے بلا لیا جائے۔
کیا ہوا ہے انہیں ؟ڈالٹر مکتوم شاہ نے فوراً انہیں اٹینڈ کیا۔یہ میرے ڈیڈی ہیں میر غضنفر علی ، ہارٹ پیشنٹ ہیں۔رانیہ نے روہانسی ہوکر مطلع کیا۔
ڈاکٹر مکتوم شاہ نے اس کے تعارف پر چونک کر اس کی طرف دیکھا
پھر اپنے تاثرات چھپاتے ہو ئے کہا ۔آپ ٹینس نا ہوں میں ابھی چیک کر لیتا ہوں ۔تب تک آپ باہر بیٹھ کر انتظار کریں ۔مکتوم شاہ اسے باہر بھیج کر ابتدائی طبعی امداد دینے میں مصروف ہوگیا۔
کچھ دیر بعد فارغ ہو کر باہر نکلا تو وہ بے چینی سے کاریڈور میں ٹھل
رہی تھی ۔اسے دیکھ کر جلدی سے اس کے پاس آئی۔
ڈیڈی کی طبیعت کیسی ہے اب ؟اس نے بے تابی سے سوال کیا۔
سیریس ہونے والی بات نہیں دھڑکن تیز ہوگئی تھی بی پی ہائی کی وجہ
سے ۔میں نے ڈوز دے دیا ہے کچھ دیر میں آپ انہیں گھر لے جا
سکتی ہیں۔
اسکا جواب سن کر رانیہ نے اطمینان بھری سانس لی۔
ویسے پوچھ سکتا ہوں یہاں آنے کا مشورہ آپ کو کس نے دیا؟
مکتوم شاہ نے مسکراہٹ دبا کر سوال کیا۔
جی ؟اس نےہونقوں کی طرح اسکی طرف دیکھاپھر خیال آنے پر
خود ہی وضاحت دینے لگی۔
ڈرائیور نے تو منع کیا تھا مگر ڈیڈی کی حالت دیکھ کر میں بہت
گھبرا گئی تھی اس لئے جو مجھے سہی لگا میں نے وہ ہی کیا۔
کیا آپ بھی خاندانی دشمنیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کرتے
ہیں؟اس نے الٹا اس پر ہی سوال داغ دیا۔
نہیں ،میں انسانیت کو مد نظر رکھتا ہوں اور مجھے میرا پیشہ یہ اجازت
نہیں دیتا کہ میں علاج کرتے ہوئے دوست یا دشمن کے فرق کو
سامنے رکھوں ۔میرے لئے سب انسان برابر ہیں اور ویسے بھی
میں اس دشمنی کو بے معنی سمجھتا ہوں۔
اس کے جواب پر رانیہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نے
چھب دکھائی۔جسے مکتوم شاہ نے بڑی دلچسپی سے دیکھا۔
************※***********
آج پھر وہ اس کا راستہ روکے کھڑا تھا اور زرتاج ڈری سہمی سی اس کی نظروں کے حصار میں تھی۔
آج رات تم مجھ سے ملنے آؤگی نہر کے پیچھےوالے کھیتوں میں ۔آج دل کر رہا ہے فرصت سے سامنے بٹھا کر تمھارادیدار کروں ،یہ پل دو پل کی ملاقات تو کمبخت نہ دل کو سیراب کرتی ہے نہ آنکھوں کو ۔میر سجاول اس کے نازک نقوش سے سجے چہرے کو نظروں میں سموئے
کذب کے عالم میں بولا۔
اس کی فرمائش پر زرتاج کی ٹانگیں کانپنے گئیں اور میر کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا۔اس نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا ۔
میر پوری توجہ سے زرتاج کیطرف ہی دیکھ رہا تھا۔اسکی سوچ پڑھ کر اس نے ایک زبردست قہقہہ لگایا ۔
زرتاج تم جو بھی سمجھو مگر آج میں تمھیں بخشنے والا نہیں ،تم نے میری
نیند سکون سب کچھ برباد کیا ہوا ہے ۔ آج رات کی ملاقات ہماری محبت کی داستان کی کتاب میں سنہری حروف سے لکھی جائیگی ۔
بولو جانم !پوری کروگی نا میری خواہش ؟اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی رہی تھی۔
اس وقت وہ بلیک کلر کے شلوار سوٹ پر گلے میں اجرک لٹکائے ہوئےتھا ۔گرمی کی حدت سے اسکی گلابی مائل سفید دمگتی رنگت سرخ پڑ رہی تھی ۔زرتاج نے اسے نظر بھر کر دیکھا۔
اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔؟کیا بہت اچھا لگ رہا ہوں ؟ڈونٹ
ور ی تمھارا ہی ہوں ،ذندگی بھر دیکھتی رہنا ۔
اس کے اس طرح توجہ سے دیکھنے کو میر سجاول کی تیز نظروں نے
فوراً نوٹ کیا۔وہ مسکراہٹ دبا کر بولا ۔
میر سائیں !مجھے معاف کردیں، میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی ۔مجھےاتنی بڑی آزمائش میں مت ڈالیں۔ آپ کے گھرمیں بھی ماں بہن ہیں ،عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے ۔میرے ماں باپ کے پاس عزت کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
پلیز !ہم پر رحم کریں ۔ بے بسی سے کہتے ہوئے زرتاج کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
عزت ہی تو بنانا چاہتا ہوں تمھیں اگر صرف دل لگی کی ہوتی تو
کب کا اٹھا کر لے جاتا ۔میر نے برہمی سے کہا شدتِ جذبات
سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔زرتاج کے آنسو اس سے برداشت
نہیں ہورہے تھے ۔
زرتاج نے لرز کر اسے دیکھا ۔آپ محلوں میں بسنے والےاور میں
آپ کے قدموں کی خاک برابر بھی نہیں ،آپ کا اور میرا کوئی جوڑ
نہیں ہے۔آخر آپ سمجھتے کیوں نہیں؟زرتاج نے بہت سنبھل کر
باپنی بات پوری کی،مشکل تو یہ تھی کے وہ برہم بھی نہیں ہوسکتی
تھی۔
دیکھو زری ! میں سمجھنے سمجھانے کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں ۔
تمھیں کہہ دیا رات کو آنا ہے تو آنا ہے ۔اینی ہاؤ۔۔۔ اگر تم نہیں آئیں تو یاد رکھنا جومیرے دل میں آئے گا میں وہی کرونگا ۔اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا یہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔ اس کا اشارہ
معظم شاہ شیرازی کی طرف تھا۔وہ دو ٹوک لہجے میں بولا ۔اسکا موڈ یکدم ہی بدل چکا تھا۔
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں فوراً ہی گاڑی بڑھا لے گیا۔
زرتاج کی سوچ اس بات سے آگے ہی نہیں جارہی تھی کہ میر سجاول اور اس کے خاندان میں زمین آسمان کا فرق ہی کیوں ناہو مگر یہ فرق کوئی معنی نہیں رکھتا اس حقیقت کے سامنے کے کہ وہ شاہ پور کی
باسی تھی اور معظم شاہ ،”میروں “کے لئے موت کی علامت تھا۔
**************※*************
کمرے میں مکمل اندھیرا چھایا ہوا تھا۔معظم شاہ بے سدھ سو رہا تھا،جب موبائل کی رنگ مسلسل بجنے سے اسکی نیند میں خلل پیدا ہوا اوراس نے بیزاری سے کروٹ بدل کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھا
تھا۔ اسکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھ کر اسے مجبوراً کال اٹینڈ کرنا پڑی۔
“ہیلو” انتہائی بگڑے ہوئے تیوروں کے ساتھ کہتے ہوئے معظم شاہ نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔دوسری طرف کال پر جو کوئی بھی تھا،اس
کی بات سن کر اسکے ماتھے پر لا تعداد شکنیں پڑ گئیں۔رات کی ڈرنک
سے اس کا سر بھاری ہورہا تھا ،اس خبر نے تو اس کا دماغ ہی گھما
دیا۔
یہ خبر اسکی سماعتوں پر بجلی بن کر گری تھی کہ مکتوم شاہ نے میر
حویلی میں بسنے والوں کا علاج کیا تھا جن کا وجود بھی وہ بڑی مشکل
سے اس زمین پر برداشت کر رہا تھا۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے ہی بھائی کی بوٹی بوٹی کردے
وہ تو گاؤں میں اس کے ہاسپٹل کھولنے کے ہی خلاف تھا اس پر
اس خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔اس نے فون بند کر کے
ٹائم دیکھا تو صبح کے چھ بجے تھے۔شاہ نے اسی وقت گاؤں روانہ
ہونے کا فیصلہ کیا اور کمفرٹر ہٹا کر بیڈ سے اتر آیا۔
وہ شاور لے کر باتھ روم سے نکلا تو بیزاری سے بیڈ پر سوئے
ہوئے وجود پر نظر ڈالی اور شیشے میں بال بنا کر پلٹا ۔
اٹھو !شاہ کے کندھا ہلانے پر اس وجود نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں
مجھے گاؤں کے لئے نکلنا ہے اسی وقت،تم جلدی اٹھ کر تیار ہوجاؤ
اور جہاں جانا چاہتی ہو ڈرائیور تمھیں وہاں ڈراپ کردیگا۔
اس نے سائیڈ ٹیبل سے چیک بک اور پین نکالا اور وہیں کھڑے
کھڑے چیک سائین کر کے اس کی طرف بڑھایا ۔
شاہ !یہ کیا۔۔۔ آپ نے تو وعدہ کیا تھا آج ہم لنچ بھی ساتھ
کرینگے لیکن آپ نے تو ہمیشہ کی طرح صبح ہوتے ہی آنکھیں بدل
لیں ،وہ چیک ہاتھ میں پکڑ کر بڑی ادا سے شاہ کے گلے میں
بانہیں ڈال کر آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی ۔شاہ نے بڑی بے دردی
سے اسے خود سے دور جھٹک دیا ۔شاہ کا رات والا خمار اب اتر چکا
تھا۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو ،ہری اپ ۔۔۔ رہی بات لنچ کی وہ پھر کسی
اور دن پر رکھ لینگے۔شاہ نے نہایت سرد مہری سے کہا اور فوراً ہی دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
جاری ہے
