Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 226

توران کاسی کو محسوس ہو رہا تھا کہ سب کی نظریں اسی پر جمی ہوئی ہیں، حالانکہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتی تھی۔
وہ چیخ چیخ کر مدد مانگنے لگی،
“ظہران! ابو! مجھے بچا لو! آپ لوگوں کو مجھے بچانا ہوگا، میں مرنا نہیں چاہتی!”
مہرالہ مہرباش کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اس نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا اور کافی دیر سے اس کے معدے میں شدید درد ہو رہا تھا۔ اس کی پیشانی پسینے سے تر تھی، جس کی وجہ سے سمندر کی ٹھنڈی ہوا اور زیادہ سرد محسوس ہو رہی تھی۔
اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ توران کی طرح مدد کے لیے چیخ سکے۔ اس کی کمر کے گرد بندھی رسی اس کے لیے سانس لینا بھی مشکل بنا رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ انجام دونوں صورتوں میں ایک ہی ہوگا۔
ایک سال پہلے بھی ظہران نے توران کا انتخاب کیا تھا، اور وہ جانتی تھی کہ اس کا فیصلہ اب بھی نہیں بدلے گا۔ اسے مایوسی نہیں ہوئی، کیونکہ اس نے کبھی کوئی امید باندھی ہی نہیں تھی۔
اسی نااُمیدی اور فرار کے امکانات سوچتے ہوئے، اس نے کچھ شور سنا۔ اچانک، حاضرین کی جانب سے آنے والی آوازیں ان تک پہنچنے لگیں۔
ماہ لقا سدیدی کی رونے کی آواز خاص طور پر نمایاں تھی،
“توران، مہرالہ، کیا تم دونوں ٹھیک ہو؟”
مہرالہ نے آہستہ آہستہ اپنی بے جان سی آنکھیں کھولیں۔ آنکھوں پر پٹی ہونے کے باوجود، اس نے ماہ لقا کی آواز کی سمت دیکھنے کی کوشش کی۔
ماہ لقا کی آواز نے توران کے جذبات اور بھڑکا دیے۔ وہ روتے ہوئے بولی،
“امی، پلیز مجھے بچا لو!”
“فکر مت کرو، توران۔ تمہارے ابو تمہیں یہاں سے نکال لیں گے۔”
مہرالہ کے معدے میں شدید درد تھا۔ اس کے ہونٹ خشک ہو چکے تھے۔ اس نے انہیں تر کرنے کے لیے زبان پھیری، مگر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
اس لمحے اسے احساس ہوا کہ وہ ظہران کے انتخاب سے زیادہ اپنی ماں کے فیصلے کی فکر کر رہی ہے۔ آخر ماہ لقا اس کی ماں تھی۔ مہرالہ نے بےچینی سے اپنی فون واچ کو چھوا۔
وہ بالکل اس طالبہ کی طرح تھی جو رزلٹ کے انتظار میں ہو—دل گھبرایا ہوا، سانسیں اکھڑی ہوئی۔
اس کے ذہن میں تھا کہ چاہے ماہ لقا نے اسے برسوں پہلے چھوڑ دیا ہو، مگر وہ اب بھی توران کی سوتیلی ماں ہی تھی۔ ظاہر ہے، وہ اپنی حقیقی بیٹی کو ہی چنے گی، ہے نا؟
جواب تو صاف ہونا چاہیے تھا، مگر مہرالہ اس قدر گھبرا گئی تھی کہ اسے سانس لینا بھی دشوار لگ رہا تھا۔
ماہ لقا لرزتی ہوئی آواز میں گڑگڑائی،
“میں تم سے منت کرتی ہوں، پلیز میری بیٹیوں کو چھوڑ دو۔ انہوں نے تمہارا کوئی نقصان نہیں کیا۔ اگر تمہیں پیسے چاہییں تو جو رقم چاہو بتاؤ، ہم دے دیں گے۔ بس انہیں نقصان نہ پہنچانا۔ جو بھی چاہو، ہم دے سکتے ہیں…”
ماہ لقا کی درد بھری آواز نے مہرالہ کو اندر تک ہلا دیا۔ مہرالہ جانتی تھی کہ ماہ لقا نے زندگی میں کبھی زیادہ مشکلات نہیں دیکھی تھیں۔ وہ اس وقت یقیناً شدید خوف میں ہوگی۔ اوپر سے اس کا دل بھی کمزور تھا۔ مہرالہ کو ڈر تھا کہ کہیں وہ بیہوش نہ ہو جائے۔
یہاں تک کہ اسے خود بھی احساس نہیں ہوا کہ اس لمحے وہ صرف ماہ لقا کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔
آخرکار، ظہران ممدانی بول اٹھا،
“تم کیا چاہتے ہو؟”
اس کے دل میں شدید بےچینی تھی۔ وہ دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ مہرالہ اور توران کو اغوا کرنے والے وہ لوگ نہ ہوں جو اصل میں اس کے پیچھے تھے۔
اگر ایسا تھا تو، مہرالہ اور توران کا بچنا ناممکن تھا۔ وہ نہایت دردناک موت مر سکتی تھیں۔
یہ واقعہ انٹرنیٹ پر براہِ راست نشر ہو رہا تھا۔ یہ بالکل انہی لوگوں کے طریقۂ واردات جیسا تھا۔ وہ ہنگامے کھڑے کرنے میں ماہر تھے۔ عوامی سطح پر ذلیل کرنا، تشدد کرنا، بلکہ لاشوں کے ٹکڑے کرنا—یہ سب ان کے لیے معمول کی بات تھی۔
ظہران نے زندگی میں بےشمار آزمائشیں دیکھی تھیں۔ برسوں میں اس نے ایک فولادی ارادہ پیدا کیا تھا، مگر اس وقت اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کی انگلیوں کا ایک ایک جوڑ بےقابو لرز رہا تھا۔
اس نے بےشمار لاشیں دیکھی تھیں، اور وہ خود کسی بھی وقت مرنے کے لیے تیار تھا۔ مگر وہ اپنے قریبی لوگوں کو اس طرح کی اذیت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا تھا۔
اس نے برسوں لگائے تھے اپنے سیاہ ماضی سے نکلنے میں۔ بڑی مشکل سے وہ اس مقام تک پہنچا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے بےنقاب ہو گیا۔
اسے خیال آیا کہ شاید جب وہ مہرالہ اور کنان ممدانی کو بچانے کے لیے جزیرے گیا تھا، تب اس نے ان لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہو۔
مگر وہ جانتا تھا کہ اب اس پر غور کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے چہرے سے خوف اور پریشانی کے تمام آثار چھپا لیے۔ مہمان بدحواس تھے، مگر وہ دیکھ رہے تھے کہ ظہران سکون سے ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا ہے۔
ظہران نے پُرسکون مگر مضبوط لہجے میں کہا،
“انہیں چھوڑ دو۔ تمہاری ہر شرط پوری کی جائے گی۔”
اگر اغواکار صرف پیسے کے پیچھے ہوتے تو کاسی خاندان اور ممدانی خاندان باآسانی ان کی ہر شرط پوری کر سکتے تھے۔
ظہران ممدانی کو ڈر تھا کہ کہیں وہ پیسے سے کہیں زیادہ قیمتی چیز کا مطالبہ نہ کر بیٹھیں۔
فریدار کاسی وہیل چیئر پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ بازوؤں کے ہینڈلز کو اس زور سے پکڑے ہوئے تھے کہ رگیں اُبھر آئی تھیں۔
فریدون کاسی کا چہرہ بھی سخت تناؤ میں تھا۔
تماشائی شاید نہ سمجھ پاتے، مگر وہ دونوں جانتے تھے۔
مسئلہ پیسے کا نہیں تھا، اصل خطرہ ظہران کی حقیقی شناخت کے بےنقاب ہونے کا تھا۔
چاہے انہیں توران کاسی کو قربان ہی کیوں نہ کرنا پڑے، وہ کسی صورت ظہران کا راز فاش ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔
فریدار اور فریدون نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور خاموشی سے ایک ہی فیصلہ کر لیا۔
اگرچہ ان کے خاندان کی جان خطرے میں تھی، مگر ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
یہ راز ہر حال میں محفوظ رہنا تھا۔
ماہ لقا سدیدی کو ان باتوں کا کچھ اندازہ نہیں تھا۔ وہ مسلسل رو رہی تھی۔
“براہِ کرم ہمیں بتاؤ! ہمیں بتاؤ تم کیا چاہتے ہو۔ جتنے پیسے چاہو، ہم دے دیں گے!”
اسکرین سے ایک سرد آواز آئی،
“مسز کاسی، آپ کے آنسو واقعی دل کو چھو لینے والے ہیں۔ ایک اجنبی ہوتے ہوئے بھی میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔”
اگرچہ لہجے میں افسوس کا تاثر تھا، مگر سننے والوں کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔
وہ آواز دوبارہ بولی،
“بس یہ سوچ رہا ہوں… یہ آنسو کس کے لیے ہیں؟
اپنی حقیقی بیٹی کے لیے؟
یا اس بیٹی کے لیے جسے آپ نے پالا، مگر جو آپ کی کوکھ سے پیدا نہیں ہوئی؟”
ماہ لقا نے سسکی لیتے ہوئے کہا،
“وہ دونوں میری بیٹیاں ہیں۔ اس میں فرق ہی کیا ہے؟”
وہ شخص ہنسا۔
“فرق تو ہوتا ہے۔
چاہے آپ خود کو قائل کر لیں کہ آپ دونوں سے برابر محبت کرتی ہیں، مگر حقیقت میں فرق ضرور ہوتا ہے۔
مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے۔ میں بس ایک کھیل کھیلنا چاہتا ہوں۔
“آپ سب نے ٹی وی ڈراموں میں بم ناکارہ بنانے والے مناظر دیکھے ہوں گے، ہے نا؟
ہمیشہ دو تار ہوتے ہیں۔
صحیح تار کاٹو تو بم ناکارہ…
اور غلط تار…
دھماکہ!”
اس نے دھماکے کی آواز نکالی، جس سے پورا مجمع چونک اٹھا۔
“اب غور سے سنو۔
ان دونوں کو الگ الگ رسیوں سے باندھا گیا ہے—
ایک سرخ رسی، ایک نیلی رسی۔
“تمہارے پاس صرف ایک منٹ ہے۔
مجھے بتاؤ…
میں کس رسی کو کاٹوں؟”
یہ الفاظ سنتے ہی مجمع میں ہلچل مچ گئی۔
“یہ کیا مطلب ہوا؟ ایک کو آزاد کرو اور دوسرے کو مرنے دو؟”
“یہ تو کسی کو اپنے ہی خاندان کے فرد کو مارنے کا انتخاب کرنے پر مجبور کر رہا ہے!”
“تم کون ہوتے ہو کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے؟”
ظہران اور کاسی خاندان بھی ششدر رہ گئے۔
انہیں اس قدر سفاک مطالبے کی توقع نہیں تھی۔
اگرچہ ظہران کا راز محفوظ رہتا، مگر یہ انجام اس سے بہتر نہیں تھا۔
توران چیخ اٹھی،
“ظہران! میں تمہاری منگیتر ہوں، کنان کی ماں ہوں! مجھے بچاؤ! تمہیں مجھے بچانا ہوگا!”
فریدون خاموش ہو گیا۔
توران اس کی بیٹی تھی، فطری طور پر وہ چاہتا تھا کہ ظہران اسی کو بچائے، مگر وہ یہ بات زبان پر نہ لا سکا۔
فریدار کاسی نے ذرا بھی ہچکچاہٹ نہ دکھائی۔
“توران کو بچاؤ۔ یہی واحد درست فیصلہ ہے۔”
فریدار کے نزدیک یہ انتخاب بالکل آسان تھا۔
مہرالہ مہرباش وہ عورت تھی جسے ظہران پہلے ہی چھوڑ چکا تھا،
جبکہ توران وہ منگیتر تھی جو اسے طاقت، حیثیت اور دولت دے سکتی تھی۔
وہ سرد آواز دوبارہ گونجی،
“مسز کاسی…
اور آپ؟
آپ کس کو چنیں گی؟”
“میں…؟”
ماہ لقا کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔
“جی ہاں۔
ایک وہ بیٹی جسے آپ نے پالا،
اور دوسری وہ جسے آپ نے خود جنم دیا، مگر چھوڑ دیا۔
میں واقعی جاننا چاہتا ہوں…
آپ کس کا انتخاب کریں گی؟”
ہجوم میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔
“یہ تو صاف ظاہر ہے، وہ اپنی حقیقی بیٹی کو ہی چنے گی۔”
“سوتیلی بیٹی کا مقابلہ اُس بچے سے کیسے ہو سکتا ہے جسے اس نے نو ماہ کوکھ میں رکھا؟”
“مگر… وہ ہچکچا کیوں رہی ہے؟”
کیمرہ اس طرح سیٹ کیا گیا تھا کہ سامنے توران کاسی تھی، جیسے اغواکار دانستہ طور پر مہربانی دکھا رہا ہو۔
اس نے کیمرہ ایڈجسٹ کیا تاکہ ناظرین کو توران کاسی اور مہرالہ مہرباش دونوں کا قریب سے منظر صاف دکھائی دے۔
اب ہر کوئی واضح طور پر دیکھ سکتا تھا کہ دونوں کس حالت میں تھیں۔
توران کے قیمتی لباس پر جڑے ہیروں سے سورج کی روشنی ٹکرا کر آنکھیں چندھیا دینے والی چمک پیدا کر رہی تھی۔
اس کے چہرے پر بندھی کالی پٹی اس کے آنسوؤں سے بھیگ چکی تھی۔ جس میک اپ پر اس نے گھنٹوں محنت کی تھی، وہ سب آنسوؤں میں بہہ چکا تھا۔
اب توران کو اپنی شکل و صورت کی کوئی پروا نہیں تھی۔
وہ بس زندہ رہنا چاہتی تھی۔
اس کے برعکس، مہرالہ بالکل مختلف نظر آ رہی تھی۔
اس کے چہرے کا زیادہ حصہ ڈھکا ہوا تھا، اس لیے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے۔ اس کے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے۔
شروع سے اس نے مدد کے لیے آواز نہیں دی تھی۔ اس کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلا۔
کچھ لوگوں کو لگا وہ شاید بےہوش ہو چکی ہے۔
کچھ نے اس کی پیشانی پر پسینہ دیکھا اور حیران ہوئے کہ وہ رو نہیں رہی، مگر پسینے میں شرابور ہے۔
مہرالہ نے کوئی میک اپ نہیں کیا تھا، مگر اس کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ حتیٰ کہ اس کے ہونٹ بھی غیرطبعی طور پر بےرنگ تھے۔
“کیا یہ سابقہ بیوی کچھ زیادہ ہی پُرسکون نہیں؟ یہ تو زندگی اور موت کا معاملہ ہے، پھر بھی گھبرا کیوں نہیں رہی؟”
“کیا اسے موت کا خوف ہی نہیں؟”
“توران اس لیے چیخ رہی ہے کیونکہ اسے لگتا ہے اس کے بچنے کا امکان ہے۔”
“اور مہرالہ شاید اس لیے خاموش ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ قربانی اسی کو بنایا جائے گا۔ جب انجام ایک ہی ہو تو پکارنے کا کیا فائدہ؟”
تماشائی مختلف قیاس آرائیاں کرنے لگے۔
کچھ کو اس سابقہ بیوی پر ترس آ رہا تھا جو کبھی عوام کے سامنے نہیں آئی تھی۔
اسی لمحے، جب لوگ اب بھی اندازے لگا رہے تھے، مہرالہ نے خاموشی توڑی۔
“امّی… میں بھی جاننا چاہتی ہوں کہ آپ ہم دونوں میں سے کس کو چنیں گی۔”
اس بار اس نے ماہ لقا سدیدی کو “مسز کاسی” نہیں کہا۔
اس نے اسے “امّی” کہا۔
مہرالہ نے پُرسکون لہجے میں کہا،
“میں آپ کو الزام نہیں دیتی کہ آپ نے بچپن سے مجھے نظرانداز کیا۔
میں آپ کو اس بات پر بھی قصوروار نہیں ٹھہراتی کہ آپ اچانک ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں۔
“کیونکہ ابو کہا کرتے تھے کہ آپ ان کے ساتھ خوش نہیں تھیں۔
آپ نے ہمیں نہیں چھوڑا تھا، آپ اپنی خوشی کی تلاش میں نکلی تھیں۔
“آپ نے ابو سے ناطہ توڑ لیا، اور برسوں غائب رہیں۔
میں زمین پر گرا دی گئی، لوگ مجھے ماں کے بغیر بچی کہتے رہے۔
“مگر ان سب باتوں سے مجھے کوئی شکایت نہیں۔
مجھے بس ایک بات جاننی ہے…
کیا آپ نے ہمارے رشتے کو بھی ترک کر دیا تھا؟”
مہرالہ کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
“مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔
میں بس یہ جاننا چاہتی ہوں کہ جس ماں کا میں نے دس سال سے زیادہ انتظار کیا،
کیا اس نے کبھی میری پروا کی؟
“بس ایک بار… صرف ایک بار۔”
سب کی نظریں ماہ لقا سدیدی پر جم گئیں۔
ادھر توران اب بھی چیخ رہی تھی،
“امّی! آپ نے کہا تھا آپ مجھے بچائیں گی!
آپ نے کہا تھا کہ چاہے ہمارا خون ایک نہ ہو، پھر بھی آپ مجھے اپنی بیٹی کی طرح رکھیں گی!”
مہرالہ کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
اس کا کینسر بڑھتا جا رہا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا اس کے پاس کتنا وقت باقی ہے۔
وہ بس مرنے سے پہلے ایک بار اپنی ماں کو دیکھنا چاہتی تھی—
وہ ماں جو اس سے محبت کرتی ہو۔
مہرالہ اس بچے کی مانند تھی جو برف میں چھوڑ دیا گیا ہو۔
آندھی اور برف نے اسے توڑ ڈالا تھا۔
وہ آخری سانسوں پر تھی۔
وہ صرف اس امید پر زندہ رہی کہ اس کی ماں آئے گی اور اسے اٹھا لے گی۔
وہ اُن سب کو غلط ثابت کرنا چاہتی تھی جنہوں نے اسے “ماں کے بغیر بچی” کہا تھا۔
وہ دنیا کو دکھانا چاہتی تھی کہ اس کی بھی ایک ماں ہے—
اور وہ ماں سب سے نرم دل ہے، جو اس سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
“امّی… آپ مجھے ہی چنیں گی نا؟”
یہ کہتے ہوئے مہرالہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *