Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 13

جب بلال انعام نے ظہران ممدانی کی ٹھنڈی، کاٹتی ہوئی نگاہیں خود پر محسوس کیں تو اس نے فوراً وضاحت کی۔
“سر، وہ ایورلی کے ساتھ ہے۔”

مہرالہ کا اپنی بہترین دوست ایورلی کے ساتھ وقت گزارنا کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ ظہران نے پہلے ہی بلال کو ہدایت دے رکھی تھی کہ وہ ایورلی کو انسٹاگرام پر فالو رکھے تاکہ مہرالہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ بات کرتے ہوئے بلال نے فون آگے بڑھایا اور ایورلی کی انسٹاگرام پوسٹ دکھائی۔

ایک تصویر میں ایورلی اپنے شوخ گلابی بالوں کے ساتھ نمایاں تھی، مگر ظہران کی نظر فوراً مہرالہ پر جا ٹھہری۔ اس نے درمیانی مانگ کے ساتھ بالکل چھوٹے بال کٹوائے تھے۔ اس کا چھوٹا سا چہرہ، آکسفورڈ شرٹ، اور نیچے جھکی ہوئی نظریں… وہ پہلے کی شوخ مہرالہ کے برعکس کہیں زیادہ خاموش اور اداس لگ رہی تھی۔
اس کی ہڈیلی گردن اور نمایاں کالر بون تصویر میں صاف دکھائی دے رہی تھی، اس کی خوبصورتی کسی حد تک مقدس سی محسوس ہو رہی تھی۔

تصویر کے نیچے صرف ایک لفظ لکھا تھا:
“نئی زندگی”

ظہران کو خود احساس نہ ہوا کہ اس کی انگلیاں ہلکے سے کانپنے لگیں۔ ایک سال تک اس کی توجہ اور ضد برداشت کرنے کے بعد اسے سکون محسوس ہونا چاہیے تھا کہ وہ اب پیچھے ہٹ رہی ہے، مگر اس کے سینے میں عجیب سا بوجھ کیوں اتر آیا تھا؟

اس نے خود کو یاد دلایا کہ اس کی بہن مر چکی ہے۔ مہرالہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ “نئی زندگی” کی بات کرے۔ اس نے خود کو یقین دلایا کہ وہ مہرالہ کے لیے نرم نہیں پڑ رہا، وہ صرف بدلہ چاہتا ہے۔

وہ ابھی اسے اذیت دینا ختم نہیں کر سکا تھا۔ وہ اسے یوں آزاد نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

اسی سوچ میں گم تھا کہ بلال نے دوبارہ کہا،
“سر، مس ہلٹن اسے ڈارک ہارس کلب ہاؤس لے گئی ہیں۔”

بلال نے ایک اور تصویر کھولی۔ اس میں مہرالہ مدھم روشنی والے کمرے میں ایک نرم صوفے پر نیم دراز تھی، اور سفید لباس میں ایک خوبصورت نوجوان ایک گھٹنے پر بیٹھا اسے انگور کھلا رہا تھا۔
ظہران نے غصے میں تقریباً فون توڑ ہی دیا۔
“کلب ہاؤس چلو۔”

گاڑی کا ماحول یکدم سرد پڑ گیا۔ ظہران کے ذہن سے سفید لباس میں وہ نوجوان نکل ہی نہیں رہا تھا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ مہرالہ کو سفید شرٹ کتنی پسند تھی۔ وہ اکثر اس کی جوانی کے دنوں کی تصویریں بناتی تھی، جب وہ سفید شرٹ پہنے ہوتا تھا۔

اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ وہ طلاق نہیں چاہتا تھا۔ صرف یہی نہیں، وہ مہرالہ کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اسے روز اذیت دینا چاہتا تھا تاکہ کائف مہرباش کے گناہ کا کفارہ وصول کر سکے۔

بلال خاموشی سے سانس روکے بیٹھا تھا۔ وہ خود بھی الجھن میں تھا۔ پچھلے دو برسوں میں ظہران نے توران کاسی کی ہر خواہش پوری کی، مگر اس کے لیے اس کے دل میں کوئی خاص لگاؤ نظر نہیں آتا تھا۔
دوسری طرف، وہ مہرالہ سے سرد مہری برتتا تھا، مگر بلال جانتا تھا کہ اصل محبت وہی تھی۔ افسوس، نفرت نے ظہران کو اندھا کر رکھا تھا۔

جب وہ ڈارک ہارس کلب ہاؤس پہنچے تو وہاں دونوں عورتیں موجود نہ تھیں۔ پتا چلا کہ ایورلی زیادہ نشے میں ہنگامہ کر رہی تھی، اس لیے مہرالہ اسے گھر لے گئی۔

ظہران نے اپنے آدمیوں کو ہر طرف بھیجا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بلال نے شہر کے ہوٹلوں میں بھی فون کیے، مگر نتیجہ صفر تھا۔

“سر، لگتا ہے وہ پہلے ہی رہنے کی کوئی جگہ طے کر چکی ہے۔ بغیر ایجنٹ کے کرائے پر گھر ڈھونڈنا وقت لیتا ہے۔”

ظہران کی آنکھوں میں سیاہی گہری ہو گئی۔ اسے اب سمجھ آیا کہ معاوضہ ملتے ہی وہ واقعی ہمیشہ کے لیے چلی جانا چاہتی تھی۔
“ڈھونڈو اسے۔ کسی بھی قیمت پر!”

یہ جان کر قدرے سکون ہوا کہ مہرالہ کسی مرد کے ساتھ نہیں گئی تھی، مگر کلب کے وہ دونوں میزبان باندھ کر اس کے سامنے لائے گئے۔ ظہران سگار جلا کر دھوئیں کے مرغولوں کے پیچھے سے انہیں گھورتا رہا۔
“سر اٹھاؤ۔”
لرزتے ہوئے وہ بولے،
“س… سر…”
“کہاں چھوا اسے؟”

“ن… نہیں، ہم نے نہیں چھوا۔ خاتون کو جسمانی قربت پسند نہیں تھی۔ وہ بس چند ڈرنکس کے بعد اپنی دوست کے ساتھ چلی گئی۔”

ظہران نے طنزیہ ہنسی ہنس کر ایک میزبان کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی۔ سستا پرفیوم اور موٹا میک اپ…
“وہ تم جیسے سستے آدمی کے ہاتھ سے انگور کیوں کھائے گی؟”

“اس کی انگلیاں کاٹ دو۔”
“سر! رحم کریں!”

اسی وقت بلال نے فوراً سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی۔
“سر، اس نے واقعی کسی سے جسمانی رابطہ نہیں کیا۔”
ظہران بغیر کچھ کہے گاڑی میں واپس آ گیا اور شہر کی سڑکوں پر یونہی گھومتا رہا۔ مہرالہ کہاں جا سکتی تھی؟
ویلا پہنچ کر اس نے وہ خالی گھر دیکھا۔ نہ پھول، نہ برش، نہ اس کی خوشبو۔ نرسری کا خالی کمرہ دیکھ کر اس کا خون جم گیا۔

وہ واقعی سب کچھ ختم کر چکی تھی۔

اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ اس نے کائف مہرباش کو کیوں زندہ رکھا ہوا تھا۔ شاید لاشعوری طور پر وہ جانتا تھا کہ وہ مہرالہ کی کمزوری ہے۔
“اسے ڈھونڈو… اور میرے پاس لے آؤ۔”
وہ بستر پر لیٹ گیا۔ اس رات، اسے پہلی بار واقعی تنہائی محسوس ہوئی۔