Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 15

مہرالہ مہرباش نے ریدان سُہرابدی کی طرف شکر گزار نگاہ سے دیکھا۔ اس نے ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا اور پھر داخلے کے کاغذات مکمل کرنے کے لیے پلٹ گیا۔

نرس نے بڑے تحمل سے اسے پورا عمل سمجھایا۔
“مس مہرباش، آپ کو طویل عرصے تک علاج کروانا ہوگا۔ ہر بار کیموتھراپی کی ادویات آپ کی رگوں میں دی جائیں گی، مگر بار بار کے انجیکشن اور یہ دوائیں رگوں کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں۔ بعض سنگین صورتوں میں دوا رگ سے باہر بھی رس سکتی ہے۔ یہ دوائیں تیز اثر رکھتی ہیں، اس لیے ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ بازو میں ایک میڈیکل پورٹ لگوا لیا جائے تاکہ دوا محفوظ طریقے سے جسم میں جا سکے۔”

وہ بولتی رہی، “اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آئندہ نرسوں کو رگ تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہوگی اور یہ زیادہ محفوظ طریقہ ہے، مگر اس بازو سے آئندہ بھاری وزن نہیں اٹھایا جا سکے گا۔”

مہرالہ نے خاموشی سے رضامندی ظاہر کی اور ایک معمولی سرجری کے لیے تیار ہو گئی۔ چونکہ اسے بے ہوشی کی دوا سے الرجی تھی، اس نے اینستھیزیا لینے سے انکار کر دیا۔ جب بلیڈ نے اس کی نازک جلد کو چھیرا تو اس نے صرف بھنویں سکیڑیں، آواز تک نہ نکالی۔

ڈاکٹر بے اختیار بول اٹھا، “ایسا برداشت کرنے والے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔”
مہرالہ نے ہلکی سانس لے کر کہا، “ویسے بھی… میرے درد کی پرواہ کرنے والا اب کوئی نہیں رہا۔”

یہ جملہ اسے ایک سال پیچھے لے گیا، جب پانی میں گرنے کے بعد اسے ہنگامی سرجری سے گزرنا پڑا تھا اور قبل از وقت ولادت ہو گئی تھی۔ بے ہوشی کی دوا کے باوجود وہ واضح طور پر وہ اذیت محسوس کر رہی تھی جب اس کے پیٹ پر چیرا لگایا گیا تھا۔ شدید درد سے وہ بیہوش ہو گئی، مگر ہوش آنے پر بھی اذیت کم نہ ہوئی۔ اس دوران ظہران ممدانی توران کاسی کے ڈیلیوری روم کے باہر کھڑا رہا۔ اس کی چیخیں کسی نے نہ سنیں۔

اسی دن اس نے سیکھ لیا تھا کہ درد میں بھی آواز نہیں نکالنی۔

کیموتھراپی کے دوسرے دن اس پر ضمنی اثرات ٹوٹ پڑے۔ ڈسچارج کے وقت ریدان سُہرابدی نے خود اس کی مدد کی۔
وارڈ سے نیچے پارکنگ تک کا مختصر سا فاصلہ بھی اسے کئی بار رکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ذرا سی حرکت پر سر گھومنے لگتا، متلی محسوس ہوتی اور جیسے جسم سے ساری طاقت نچڑ گئی ہو۔

ریدان نے آہ بھری اور گھٹنوں کے بل جھک کر اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔ مہرالہ گھبرا گئی۔
“ریدان، مت—”

اس بار وہ سخت لہجے میں بولا، “آپ کی حالت کمزور ہے۔ اگر آپ نے مدد سے انکار کیا تو مجھے آپ کے گھر والوں کو بلانا پڑے گا۔ اور اس وقت قانونی طور پر آپ کا واحد خاندان ظہران ممدانی ہی ہے، ہے نا؟”

یہ حقیقت کتنی تلخ تھی۔ طلاق کے کاغذات پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے وہ اب بھی اس کا شوہر تھا۔

“براہِ کرم… اسے میری حالت کے بارے میں مت بتانا۔”

وہ پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی۔ ظہران کو پتا چلتا تو شاید وہ مذاق ہی اڑاتا۔

ریدان اسے احتیاط سے اس کے فلیٹ تک لے آیا اور بولا، “مہرالہ، آپ کو کسی کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ آپ اب خود اپنا خیال نہیں رکھ سکتیں۔”

اس نے سر ہلایا۔ “میں جانتی ہوں۔ میری دوست بیرونِ ملک سے واپس آ رہی ہے۔ وہ میرا خیال رکھ لے گی۔ آپ کو بھی اپنی ڈیوٹی کرنی ہے، میں آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی۔”

ریدان نے گھڑی دیکھی، اسے واقعی اسپتال واپس جانا تھا۔ چند ہدایات دے کر وہ چلا گیا۔

اکیلی بستر پر لیٹی مہرالہ ناقابلِ بیان درد سے لڑتی رہی۔ پورا جسم دکھ رہا تھا، سر چکرارہا تھا، معدہ متلا رہا تھا اور بازو میں لگا زخم بھی دھڑک رہا تھا۔ یہ سب کسی جہنم سے کم نہ تھا۔ اور حیرت کی بات یہ تھی کہ ان لمحوں میں بھی اسے ظہران کی یاد آ رہی تھی۔

جب کبھی اسے اپینڈکس کا شدید درد ہوا تھا تو ظہران برفباری میں اسے اسپتال لے آیا تھا۔ آپریشن تھیٹر جاتے وقت وہ رو رہی تھی، مگر اس نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تھا، “فکر مت کرو، میں یہیں ہوں۔”

مہینوں وہ اس کے ساتھ رہا، ہر ضرورت پوری کی۔

اور آج… وہ کسی اور عورت اور اس کے بچوں کے ساتھ تھا۔

مہرالہ نے خود کو بار بار اس کی بے وفائی یاد دلائی تاکہ وہ ماضی کی خوشگوار یادوں کو بھلا سکے۔ درد کے عالم میں اس نے بستر سے اتر کر خود کو سنبھالا۔
وہ مر نہیں سکتی تھی۔ سچ جاننے سے پہلے نہیں۔

چولہے پر رکھی پاستا میں اس کے آنسو گر رہے تھے۔ اصل درد جسمانی نہیں تھا، اصل درد وہ تھا جو ظہران نے اسے دیا تھا۔

تین دن تک وہ اسی اذیت میں رہی۔ چوتھے دن آنکھ کھلی تو درد کچھ کم تھا اور متلی بھی ذرا سنبھل گئی تھی۔

اچانک پردوں کی سرسراہٹ سنائی دی۔ ریدان سُہرابدی کمرے میں تھا۔ وہ تازہ سبزیاں اور اس کے پسندیدہ چپس لے آیا تھا۔ اس کا کوٹ گیلا تھا اور پلکوں پر برف کے ذرات جمے ہوئے تھے۔

“برف پڑ رہی ہے؟” مہرالہ نے کمزور آواز میں پوچھا۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ “کل پوری رات برفباری ہوئی۔ چند دن بعد جب طبیعت بہتر ہو گی تو ہم باہر دیکھنے چلیں گے۔”

“آج درد کم ہے۔” مہرالہ نے بیٹھنے کی کوشش کی، مگر تکیے پر بالوں کا گچھا دیکھ کر دل بیٹھ سا گیا۔ اس نے فوراً کمبل کھینچ لیا۔
“میں… ذرا منہ ہاتھ دھو لوں۔”

باتھ روم میں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے بالوں کو چھوا۔ ایک لٹ آسانی سے ہاتھ میں آ گئی۔ اسی لمحے اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب طلاق میں مزید تاخیر نہیں ہو سکتی۔ گنجے سر کے ساتھ ظہران کے سامنے جانا اس کے لیے ناممکن تھا۔

اس نے فون آن کیا اور پیغامات نظر انداز کر کے ظہران ممدانی کو کال ملائی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ پچھلے کئی دنوں سے اسے ڈھونڈ رہا تھا۔ تین سیکنڈ سے پہلے ہی کال اٹھ گئی۔

“مہرالہ مہرباش، کہاں تھیں تم؟”

اس نے کوئی وضاحت نہ دی۔ بس جلدی سے کہا، “ظہران، ایک گھنٹے بعد سٹی ہال میں ملنا ہے۔ میں یہ معاملہ مزید نہیں گھسیٹنا چاہتی۔ مجھے طلاق چاہیے۔”