Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelR50477 Del-I Ask Episode 202 Saved by a Stranger
No Download Link
Rate this Novel
Del-I Ask Episode 202 Saved by a Stranger
مہرالہ کو لگا تھا کہ شاید اب وہ بچ نہیں پائے گی۔
کیموتھراپی کے بعد وہ آہستہ آہستہ سنبھل رہی تھی، اگرچہ ابتدا میں اس کا جسم بہت کمزور ہو گیا تھا۔
شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جزیرے پر اس کا دل کچھ بہتر رہتا تھا۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے،
اور کافی عرصے سے اس نے خون کی قے نہیں کی تھی۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ جذباتی ہونے کی وجہ سے ہوا
یا کسی اور سبب سے،
مگر اس بار اس نے جتنا خون اُگلا،
اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
ہر طرف اسے صرف سرخی ہی نظر آ رہی تھی۔
ہوش میں رہنے کی بھرپور کوشش کے باوجود
وہ بےہوش ہو گئی۔
جب اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں
تو سب سے پہلے جراثیم کش دوا کی بو محسوس ہوئی۔
اس نے دیکھا کہ اس کے اردگرد دیواریں سفید تھیں۔
اس کا معدہ کچھ بہتر لگ رہا تھا،
اب وہ اتنا نہیں دکھ رہا تھا۔
“مہرالہ، تم ہوش میں آ گئیں!
کیا اب بہتر محسوس کر رہی ہو؟”
ایک مانوس مردانہ آواز اس کے پاس سے آئی۔
اس نے آواز کی سمت دیکھا۔
وہ کمالان مہرانوی تھا—
وہی شخص جس سے اس کی ملاقات کروز شپ پر ہوئی تھی۔
اس کی آنکھوں میں گہری تشویش جھلک رہی تھی۔
مہرالہ ابھی ابھی ہوش میں آئی تھی۔
کمزور آواز میں بولی،
“کیا… تم نے مجھے بچایا؟”
“ہاں،”
کمالان نے سر ہلایا۔
“میں جب باہر جا رہا تھا تو تمہیں سڑک کے کنارے دیکھا۔
تم خون میں لتھڑی ہوئی تھیں،
میں واقعی بہت ڈر گیا تھا۔”
اس نے جھینپتے ہوئے سر کھجایا۔
“مجھے افسوس ہے، مہرالہ۔
میں جہاز والے واقعے پر تم سے معذرت کرنا چاہتا تھا،
لیکن تمہارا فون بند جا رہا تھا۔”
“کوئی بات نہیں،”
مہرالہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“میں سمجھتی ہوں۔ وہ بس ایک حادثہ تھا۔”
اس کی نظر اپنے بازو میں لگی سوئی پر پڑی۔
ڈِرِپ کی بوتل میں آدھی دوا ابھی باقی تھی۔
“اچھا… کائف مہرباش کیسے ہیں؟
میں ابھی بیرونِ ملک سے واپس آیا ہوں۔
ملنے کا سوچا تھا،
لیکن مداخلت نہیں کرنا چاہتا تھا۔”
کائف کا نام سن کر مہرالہ کی آنکھیں مدھم ہو گئیں۔
“ان کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔
ابھی تک ہوش میں نہیں آئے۔
آپ کے جذبے کا شکریہ،
فی الحال ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔”
“میں سمجھتا ہوں،”
کمالان نے نرمی سے کہا۔
“آپ کو مضبوط رہنا ہوگا، مہرالہ۔
سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔”
پھر اس نے پوچھا،
“کیا تم بیمار ہو؟
میں نے تمہارے کپڑوں پر بہت سا خون دیکھا تھا،
مگر کوئی زخم نظر نہیں آیا۔”
مہرالہ نے کمزور سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“میں ٹھیک ہوں۔
بس پہلے ناک ٹکرا گئی تھی،
جس سے ناک سے خون بہنے لگا۔
کیا واقعی بہت خوفناک لگ رہا تھا؟”
کمالان نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا،
“خون واقعی ڈراؤنا تھا،
مگر یہ جان کر سکون ہوا کہ تم ٹھیک ہو۔”
“فکر نہ کرو، میں واقعی ٹھیک ہوں۔”
مہرالہ نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون اٹھایا۔
وہ بند ہو چکا تھا۔
اسے معلوم تھا کہ آج کاسی خاندان میں
اسے وہ باتیں نہیں کہنی چاہیے تھیں۔
وہ جانتی تھی کہ اس نے ظہران کی حد پار کی ہے۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسے اسے اشتعال نہیں دلانا چاہیے تھا،
کیونکہ اس طرح اس کے اپنے منصوبے خطرے میں پڑ سکتے تھے۔
مگر وہ خود کو روک نہ سکی۔
غصہ بہت زیادہ تھا۔
وہ جانتی تھی کہ اس بار
ظہران شاید اسے آسانی سے معاف نہیں کرے گا۔
کمالان نے اسے پاور بینک پکڑایا اور کہا،
“مہرالہ،
آج رات تمہیں نگرانی میں رہنا ہوگا۔
اتنی دیر سوئی رہی ہو، بھوک بھی لگی ہوگی۔
میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لے آتا ہوں۔”
مہرالہ نے سر ہلایا۔
“شکریہ۔”
“شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں۔”
وہ مسکراتے ہوئے تیز قدموں سے کمرے سے نکل گیا۔
اتنے میں ایک نرس اندر آئی
اور اس کے ہاتھ سے سوئی نکالتے ہوئے بولی،
“مس، آپ کا بوائے فرینڈ آپ کا بہت خیال رکھتا ہے۔
جب آپ بےہوش تھیں،
وہ پورا وقت آپ کے پاس ہی رہا۔
میں نے اتنا خیال رکھنے والا آدمی کم ہی دیکھا ہے۔”
مہرالہ چونک گئی۔
اس نے مسکرا کر وضاحت کی،
“وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں ہے،
وہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔”
“اوہ! معاف کیجیے گا،
مجھے غلط فہمی ہو گئی،”
نرس نے شرمندگی سے زبان باہر نکالی
اور نرمی سے سوئی نکال دی۔
“مس،
آپ کے بھائی نے آپ کے لیے چند طبی ٹیسٹ بھی بُک کروائے ہیں۔
کافی رات ہو چکی ہے۔
یہ ٹیسٹ کل ہوں گے۔
آج آرام کریں،
اور رات دس بجے کے بعد کچھ نہ کھائیں، نہ پئیں۔”
“اس کی ضرورت نہیں،”
مہرالہ نے کہا۔
“میں پہلے ہی مکمل ٹیسٹ کروا چکی ہوں۔
آج بس ناک سے خون بہا تھا۔
میں صرف کمزوری کی وجہ سے بےہوش ہو گئی تھی۔”
“ٹھیک ہے،
لیکن پھر بھی میں مشورہ دوں گی
کہ آپ کچھ تفصیلی ٹیسٹ کروا لیں۔
ناک سے خون بہنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں،
اور پچھلی رپورٹس
موجودہ حالت کی درست عکاسی نہیں کرتیں۔
کچھ بیماریاں بہت تیزی سے بگڑ جاتی ہیں۔”
“شکریہ، میں سوچوں گی۔”
مہرالہ بستر سے اٹھی
اور خود کو تھوڑا فریش کیا۔
اس نے دیکھا کہ کمالان ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔
وہ کوریڈور میں نکلی
تاکہ اپنے ہسپتال کے بل ادا کر سکے۔
کمرے سے باہر قدم رکھتے ہی
اس کا سامنا ماہ لقا سدیدی سے ہو گیا۔
وہ بھی مریضوں والا لباس پہنے ہوئی تھیں۔
