Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelR50477 Del-I Ask Episode 192
No Download Link
Rate this Novel
Del-I Ask Episode 192
مہرالہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوچھا،
“کیا آپ آج رات واپس نہیں آئیں گے؟”
ظہران نے اس کے سنجیدہ چہرے پر ایک ہلکی سی خوشی کی جھلک محسوس کی۔
وہ چونک گیا۔
کیا وہ واقعی اس بات پر خوش تھی کہ اس نے کہا تھا کہ وہ آج گھر نہیں آئے گا؟
حقیقت یہ تھی کہ مہرالہ واقعی قدرے مطمئن تھی۔
ان چند راتوں میں جو اس نے ظہران کے ساتھ گزاری تھیں، کئی بار وہ اپنا ضبط تقریباً کھو بیٹھا تھا۔
وہ اس کے جذبات کچھ بھی ہوں، مہرالہ بس یہی چاہتی تھی کہ وہ اس سے جتنا دور رہ سکتی ہے، رہے۔
ظہران نے اس کی ٹھوڑی پکڑی اور اپنے انگوٹھے سے اس کے ہونٹوں کو ہلکا سا رگڑا۔
“تم نہیں چاہتیں کہ میں گھر آؤں؟”
مہرالہ کو یاد آیا کہ وہ پہلے کتنی پریشان کن ہوا کرتی تھی۔
اس نے سنجیدگی سے کہا،
“اب آپ توران کاسی کے منگیتر ہیں، اور آپ کی منگنی کی تقریب قریب ہے۔
صرف میری وجہ سے آپ کو اس سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔
اور اگر ہمارے بارے میں کوئی افواہ پھیل گئی تو اس کا اثر ممدانی گروپ کے شیئرز پر بھی پڑے گا۔”
اس نے اس کا ہاتھ ہٹا کر یقین دلایا،
“فکر نہ کریں۔ میں اب پہلے کی طرح آپ کو تنگ نہیں کروں گی۔
میں وعدہ کرتی ہوں کہ آج آپ کو ایک پُرسکون رات ملے گی۔”
مہرالہ کو لگا کہ اتنی مخلص باتوں کے بعد ظہران کو اب اسے مزید نہیں چھیڑنا چاہیے۔
شاید اسے یہ بھی لگے کہ وہ اب کافی سمجھدار ہو گئی ہے۔
لیکن اس کے برعکس، ظہران کے چہرے پر غصہ بڑھ گیا۔
اس کی انگلیاں اس کی ٹھوڑی پر اور سخت ہو گئیں۔
کیا وہ کافی مخلص نہیں تھی؟
مہرالہ نے الجھن میں ابرو سکیڑے۔
ظہران کو اس کی آنکھوں میں ذرا بھی ہچکچاہٹ یا اداسی نظر نہیں آئی۔
اس نے ہاتھ ہٹایا اور سرد لہجے میں کہا،
“جیسا تم چاہو! میں آج رات کاسی خاندان کے ہاں ہی رہوں گا۔”
“ٹھیک ہے۔ میں بھی اندر جا کر کھانا کھا لوں گی۔”
جیسے ہی اس نے گرفت ڈھیلی کی، مہرالہ فوراً گاڑی سے اتر گئی۔
اس کے جانے سے پہلے ظہران اس کے چہرے پر اداسی کا کوئی نشان تلاش نہ کر سکا۔
وہ اسے جاتا دیکھتا رہا۔
اس کے دل میں یہ خیال گونج رہا تھا کہ وہ واقعی ذرا بھی دکھی نہیں لگ رہی تھی۔
کیا وہ واقعی اسے مکمل طور پر بھلا چکی تھی؟
ان کی طلاق کو ابھی تین ماہ بھی پورے نہیں ہوئے تھے۔
ریئر ویو مرر سے ظہران کا سرد چہرہ دیکھ کر سہیل نعمانی نے احتیاط سے پوچھا،
“سر، کیا ہم روانہ ہو جائیں؟”
ظہران نے گہری سانس لی اور پوچھا،
“آج اس نے کیا کیا؟ کس سے ملی؟”
“کچھ خاص نہیں۔ وہ کچھ دیر آرٹ ایگزیبیشن گئی، پھر شاپنگ کی۔
دوپہر بھر وہ نوجوانوں کے تفریحی مقامات پر رہی۔
اس نے کسی سے ملاقات نہیں کی۔”
ظہران نے پیشانی پر بل ڈال کر کہا،
“اس پر نظر رکھو۔”
اگر اسے لگتا کہ وہ کسی اور کے ساتھ ملوث ہو گئی ہے تو شاید وہ اسے قبول کر لیتا۔
لیکن وہ تصدیق کر چکا تھا کہ جزیرے والے شخص کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
اس کی نفرت آہستہ آہستہ اس کے جذبات پر غالب آ رہی تھی۔
وقت کے ساتھ اسے لگنے لگا کہ مہرالہ سے دور ہونا اس کے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
جبکہ مہرالہ بالکل الٹ تھی۔
اب اس کے دل میں اس کے لیے کوئی وابستگی باقی نہیں رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں اب وہ چمک نہیں تھی جو کبھی ظہران کو دیکھ کر آیا کرتی تھی۔
ظہران نے سر جھکا کر اپنا فون دیکھا۔
جب وہ قریب تھے، مہرالہ کبھی فون کرنا یا پیغام بھیجنا نہیں چھوڑتی تھی۔
اس وقت، چاہے وہ کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، وہ کچھ دیر بعد جواب ضرور دیتا تھا۔
حتیٰ کہ جب ان کا رشتہ خراب ہو گیا اور وہ جان بوجھ کر اس سے سرد مہری برتنے لگا، تب بھی وہ روز درجنوں پیغامات بھیجا کرتی تھی۔
لیکن اب…
پورا دن گزر گیا، نہ کوئی کال، نہ کوئی پیغام۔
تب ظہران کو احساس ہوا کہ اب وہ اس کی زندگی کا سب سے اہم شخص نہیں رہا۔
اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کا دل مضبوطی سے جکڑ لیا ہو۔
کاش اسے معلوم ہوتا کہ مہرالہ اب اس کے ساتھ کس قدر محتاط ہو چکی تھی۔
وہ ڈرتی تھی کہ اس کا کوئی بھی عمل اسے ناراض نہ کر دے۔
وہ بس اس سے جتنا ممکن ہو دور رہنا چاہتی تھی تاکہ اس کے غصے سے بچ سکے۔
اب وہ اپنی حد جان چکی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ اب اسے یہ حق حاصل نہیں رہا کہ وہ اس پر حکم چلائے۔
دو برسوں میں ظہران اور توران نے اس کے دل کو اس حد تک تھکا دیا تھا کہ اب اس کے اندر کچھ باقی نہیں بچا تھا۔
مہرالہ سیدھا اپنے کمرے میں گئی۔
اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔
آنکھ بند کرتے ہی اسے بیل (Belle) کی لاش یاد آتی رہی۔
وہ بس یہی دعا کر رہی تھی کہ سہام قَسوار جلد از جلد سچائی تک پہنچ جائے۔
نہا کر وہ سو گئی،
اور اسے خبر نہ تھی کہ ظہران بار بار اپنا فون چیک کر رہا تھا۔
وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ آج رات کاسی خاندان میں رکنے کے اعلان پر مہرالہ نے ذرا بھی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
