Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelR50477 Del-I Ask Episode 224
No Download Link
Rate this Novel
Del-I Ask Episode 224
مہرالہ مہرباش کے الفاظ نے ڈاکٹر گیلووے کو جیسے بھڑکا دیا تھا۔
اس کے جذبات یکدم بدل گئے۔
“مجھے راتوں کو نیند کیوں نہ آئے؟ مجھے کسی چیز سے کوئی خوف نہیں! وہ خود ایک پاگل عورت تھی۔ اگر میری دیکھ بھال نہ ہوتی تو وہ برسوں پہلے مر چکی ہوتی۔ میں نے بس اسے اس اذیت سے نجات دی۔ وہاں اس کی زندگی جہنم بنی ہوئی تھی۔”
“تو پھر آپ ہی نے اسے عمارت سے نیچے دھکا دیا تھا؟” مہرالہ نے پرسکون مگر تیز لہجے میں پوچھا۔
“تو کیا ہوا اگر میں نے کیا؟ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا! اگر تم ذہنی اسپتال نہ گئی ہوتیں تو وہ زندہ رہ سکتی تھی۔ تم نے ہمارے معاملے میں مداخلت کی، یہ سب تمہاری غلطی ہے!”
اس لمحے مہرالہ کے دل میں آیا کہ اصل میں ڈاکٹر گیلووے کو ہی ذہنی اسپتال میں ہونا چاہیے تھا۔
اس کی ذہنی حالت صاف طور پر بگڑی ہوئی لگ رہی تھی۔
مہرالہ حیران تھی کہ بیلے کا ذکر آتے ہی اس کا ردِعمل اتنا شدید کیوں ہو جاتا ہے۔
آخر ان دونوں کے درمیان ایسا کیا تھا؟
“بیلے کے بچے کا کیا؟” مہرالہ نے سوال کیا۔
“کیا آپ جانتی ہیں کہ وہ بچہ اب کہاں ہے؟”
“کون سا بچہ؟ مجھے کسی بچے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم!”
“میں نے کسی سے اس کی لاش کا معائنہ کروایا تھا،” مہرالہ نے آہستگی سے کہا۔
“اس کے جسم پر اسٹریچ مارکس تھے، اور رحم میں زچگی کے آثار بھی موجود تھے۔”
ڈاکٹر گیلووے چیخ اٹھی،
“اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کا بچہ تھا یا نہیں؟ بیلے—”
وہ ابھی جملہ مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ ریان اندر آیا اور اس نے ڈاکٹر گیلووے کو تھام لیا۔
“پرسکون ہو جاؤ، جینیفر۔ یہ سب ماضی کی باتیں ہیں۔ اس سے ان موضوعات پر بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
مہرالہ کو یہ بات عجیب لگی۔
ریان کو ایسا کیوں کہنا پڑا؟
کیا بیلے کی موت نے واقعی ڈاکٹر گیلووے کو اس حد تک متاثر کیا تھا؟
وہی عورت جو بیلے کو مارنا چاہتی تھی،
اسی کی موت کا ذکر سن کر اس قدر بے قابو کیوں ہو رہی تھی؟
ریان اسے اپنے ساتھ لے گیا، اور کمرہ ایک بار پھر خاموشی میں ڈوب گیا۔
ہال اتنا سنسان تھا کہ مہرالہ کو اپنے دل کی دھڑکن تک سنائی دے رہی تھی۔
وہ چوہوں کی سرسراہٹ بھی محسوس کر سکتی تھی۔
وہ کبھی چوہوں سے بہت ڈرتی تھی،
مگر اب جب اس کی اپنی موت قریب تھی، تو ان کی پروا کرنے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی۔
چوہے جیسے جان گئے ہوں کہ وہ ابھی زندہ ہے۔
وہ اس کے قریب آ کر سونگھتے، مگر بہت پاس آنے کی جرأت نہ کرتے۔
مہرالہ کا چہرہ ناہموار فرش سے لگا ہوا تھا۔
یہ نہ لکڑی کا تھا نہ ٹائل کا،
بلکہ کسی ادھوری عمارت کا فرش لگتا تھا۔
ہوا میں کیمیکل جیسی بو بھی موجود تھی۔
مہرالہ نے ساری معلومات جوڑیں۔
یہ کوئی ویران فیکٹری تھی، اور وہ سمندر کے قریب تھی۔
اس نے اندازہ لگایا کہ وہ شاید ایسٹ سائیڈ ہاربر کے علاقے میں ہے۔
یہ علاقہ کبھی بہت آباد تھا۔
بندرگاہ کی وجہ سے کارگو ٹرانسپورٹ یہاں عروج پر تھی،
اور کئی بڑی کیمیکل فیکٹریاں بھی یہیں قائم تھیں۔
مگر حکومتی منصوبہ بندی، معاشی مرکز کے جنوب کی طرف منتقل ہونے،
اور کیمیکل فیکٹریوں کی آلودگی کے باعث،
اکثر کمپنیاں یہاں سے چلی گئیں۔
یوں یہ علاقہ آہستہ آہستہ ویران ہوتا گیا۔
یہاں اگر کوئی مر بھی جاتا تو کسی کو خبر نہ ہوتی۔
لاش سڑتی رہتی، مگر کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا۔
مہرالہ نے آہستگی سے اپنی آستین کھینچی،
تاکہ وہ ٹیڈی فون واچ چھپ جائے جو ماہ لقا سدیدی نے اسے دی تھی۔
یہی اس کی مدد مانگنے کا واحد ذریعہ تھا۔
اسے یہ موقع ضائع نہیں کرنا تھا۔
ادھر، ظہران ممدانی ایک ہیلی کاپٹر میں شہر سے دور جا رہا تھا۔
اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے سینے پر کوئی بوجھ رکھ دیا گیا ہو،
اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وہ بوجھ اور بھاری ہوتا جا رہا تھا۔
وہ بےچین اور گم سا تھا۔
جیسے اس کے دل میں کوئی آواز چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو کہ واپس جاؤ۔
اس نے فون نکالا اور واٹس ایپ پر مہرالہ کی تصویر پر ٹیپ کیا۔
وہ اسے بہت پہلے بلاک کر چکی تھی۔
ان کی چیٹ چھ ماہ پہلے کی مسڈ ویڈیو کالز پر ختم ہو جاتی تھی۔
وہ اوپر اسکرول کر کے پیغامات دیکھنے لگا۔
زیادہ تر پیغامات مہرالہ کے تھے۔
وہ درجنوں میسجز کے بعد کبھی کبھار ہی جواب دیتا تھا۔
اسے فون کی اسکرین سے ہی اپنی بےرخی صاف محسوس ہو رہی تھی۔
اسے نہیں معلوم کیوں،
مگر اس نے ماضی میں سب کچھ معمولی سمجھ لیا تھا۔
اور اب اس کے دل میں صرف ندامت باقی تھی۔
مہرالہ کبھی اس کی زندگی کی محبت تھی۔
اس نے اس سے ہمیشہ محبت کا وعدہ کیا تھا۔
آخرکار، اسے سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی نے دی۔
ہیلی کاپٹر ایک جزیرے کے قریب پہنچ رہا تھا۔
پورا جزیرہ چیری بلاسم کے درختوں سے بھرا ہوا تھا،
ایک دل موہ لینے والا منظر۔
یہ چیری بلاسم کا موسم تھا،
ہر پھول پوری آب و تاب سے کھلا ہوا تھا۔
اتنی خوبصورتی کے باوجود،
ظہران کے لبوں سے صرف ایک آہ نکل سکی۔
یہ چیری بلاسم مہرالہ کے لیے تحفہ تھے،
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ہیلی کاپٹر آہستہ آہستہ نیچے اترا۔
جزیرے پر پہلے ہی مہمانوں اور میڈیا کی بڑی تعداد موجود تھی۔
توران کاسی اپنی فتح دنیا کے سامنے ظاہر کرنا چاہتی تھی،
اسی لیے اس نے بے شمار رپورٹرز اور انفلوئنسرز کو مدعو کیا تھا
تاکہ اس کی زندگی کے “سب سے خوشگوار لمحے” کے گواہ بن سکیں۔
ہر طرف انفلوئنسرز پھیلے ہوئے تھے۔
سب لائیو اسٹریم کر رہے تھے،
اور اپنے ناظرین سے بات چیت میں مصروف تھے۔
ہر اسٹریم پر خوب ٹریفک تھا۔
ظہران نے چاروں طرف نظر دوڑائی،
مگر توران کاسی کہیں نظر نہ آئی۔
وہ جھنجھلا کر بولا،
“توران کہاں ہے؟”
کاردار خاندان کے افراد پہلے ہی تقریب میں موجود تھے۔
ان سب میں ماہ لقا سدیدی سب سے نمایاں نظر آ رہی تھیں۔
انہوں نے ایک نفیس کاک ٹیل ڈریس پہنا ہوا تھا، اوپر سے شال اوڑھی ہوئی تھی، انداز باوقار اور شخصیت پُرکشش لگ رہی تھی۔
وہ فریدون کاسی کے بازو میں بازو ڈالے کھڑی تھیں اور چہرے پر روشن مسکراہٹ تھی،
یوں لگ رہا تھا جیسے منگنی ان کی اپنی بیٹی کی ہو۔
یہ منظر دیکھ کر ظہران ممدانی کے دل میں عجیب سی بےچینی پیدا ہو گئی۔
ظہران کے سوال پر بلال انعام نے فوراً جواب دیا،
“مسٹر ممدانی، مسٹر اور مسز کاسی پہلے ہی آ گئے تھے۔ وہ مہمانوں سے مل جل رہے ہیں۔
مس کاسی کے لباس میں کچھ مسئلہ آ گیا تھا، اس لیے کل رات کاریگروں نے اوور ٹائم لگا کر اسے درست کیا۔
آج صبح سویرے وہ میک اَپ کے لیے گئیں اور ڈریس ٹرائی کیا۔ وہ بس آنے ہی والی ہوں گی۔”
ظہران توران کاسی کو اچھی طرح جانتا تھا۔
یہ منگنی وہی تقریب تھی جس کی وہ شدت سے خواہش رکھتی تھی۔
اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی دیر نہ کرتی۔
وہ سب سے پہلے آ کر سب کو دکھانا چاہتی کہ آج اس کی فتح کا دن ہے۔
مگر اب خاصی دیر ہو چکی تھی اور وہ اب تک نہیں پہنچی تھی۔
یہ بات ظہران کو عجیب لگنے لگی۔
تقریب کی تمام تیاریوں کو کئی بار چیک کیا جا چکا تھا۔
ہر چیز مکمل تھی۔
سب لوگ صرف توران کاسی کے آنے کے منتظر تھے تاکہ منگنی کی رسم شروع ہو سکے۔
فضا میں تازہ پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
مہمان نفیس لباسوں میں ملبوس ہر طرف موجود تھے۔
کچھ آپس میں باتیں کر رہے تھے، کچھ تصاویر بنوا رہے تھے۔
چیری بلاسم کے درختوں کے نیچے بچے خوشی خوشی دوڑ رہے تھے۔
مجموعی طور پر منظر بہت ہم آہنگ اور دلکش تھا۔
کنان ممدانی کو نینی نے گود میں اٹھا رکھا تھا۔
وہ تجسس سے اوپر جھڑتے ہوئے چیری بلاسم کے پھول دیکھ رہا تھا۔
بغیر ہوا کے بھی پنکھڑیاں آہستہ آہستہ نیچے گر رہی تھیں۔
کنان نے جیسے ہی پنکھڑی پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا،
ایک پنکھڑی سیدھی اس کی ناک پر آ گری۔
وہ فوراً ساکت ہو گیا،
جیسے چاہتا ہو کہ پنکھڑی گر نہ جائے۔
یہ منظر بےحد معصوم اور دلکش تھا۔
ماہ لقا سدیدی نے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر توران کاسی کہیں دکھائی نہ دیں۔
وہ فکرمندی سے فریدون کاسی کا بازو کھینچ کر بولیں،
“توران ابھی تک کیوں نہیں آئی؟ کہیں اس کے ساتھ کچھ ہو تو نہیں گیا؟”
فریدون نے قدرے جھینپتے ہوئے کہا،
“وہ بناؤ سنگھار کی بہت شوقین ہے۔
اس نے لباس میں معمولی نقص پر دوبارہ واپس بھیج دیا تھا۔
شاید ابھی تک اسی بات پر ناراض ہو رہی ہو۔”
“یہ ٹھیک نہیں ہے،” ماہ لقا نے کہا۔
“تقریب شروع ہونے والی ہے۔ اب وہ کوئی غلطی برداشت نہیں کر سکتی۔
میں اسے خود فون کر کے کہتی ہوں کہ جلدی کرے۔”
وہ آگے بڑھنے لگیں تو فریدون نے ان کا ہاتھ تھام لیا،
“خود کو زیادہ مت تھکاؤ۔
چند دن پہلے ہی تم ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی ہو۔
اور اس تقریب کے لیے تم نے بہت زیادہ محنت بھی کی ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ توران تم سے دل میں رنجش رکھتی ہے۔”
ماہ لقا نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“اس کی ماں بچپن میں ہی گزر گئی تھی۔
تم نے بھی اس کی بچپن میں زیادہ پرورش نہیں کی۔
قدرتی بات ہے کہ دل میں کچھ شکوے ہوں گے۔
میں پوری کوشش کروں گی کہ اس کمی کو پورا کر سکوں۔”
“ماہ لقا، میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے تم جیسی عورت ملی،”
فریدون نے کہا۔
“مہرالہ آج یہاں نہیں آئی۔
کیا وہ اب بھی ہم سے ناراض ہے؟
کائف مہرباش ابھی تک ہسپتال میں بےہوش ہیں۔
مہرالہ تمہاری اکلوتی اولاد ہے۔
میں دل سے چاہتا ہوں کہ اس کا خیال رکھوں۔”
ماہ لقا نے آہستگی سے کہا،
“تم بہت اچھے انسان ہو۔
وہ بس بچپن میں اپنے باپ کی لاڈلی رہی ہے۔
اور اپنی ناکام شادی کا دکھ بھی دل میں رکھتی ہے۔
تم اسے دل پر نہ لو۔
وقت کے ساتھ وہ خود سمجھ جائے گی۔”
رات کے واقعے کو یاد کر کے ماہ لقا کے دل میں ہلکی سی تلخی ابھری۔
ملک واپسی کے بعد مہرالہ سے ان کی زیادہ تر ملاقاتیں جھگڑوں پر ہی ختم ہوئیں۔
ان کے نزدیک، مہرالہ بہت سنگ دل ہو چکی تھی،
جبکہ وہ دل سے اس کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ماہ لقا کے لیے مہرالہ ایک ضدی بچے کی طرح تھی۔
انہوں نے سوچ لیا کہ جب یہ “ضدی دور” گزر جائے گا
تو وہ مہرالہ سے دل کھول کر بات کریں گی۔
“میں توران سے رابطہ کرتی ہوں،” ماہ لقا نے کہا۔
“تم یہاں کا خیال رکھو۔”
“ٹھیک ہے، مگر خود کو زیادہ مت تھکانا،” فریدون نے جواب دیا۔
ماہ لقا چیری بلاسم کے درخت کے سائے میں گئیں اور توران کاسی کا نمبر ملایا،
مگر فون نہیں ملا۔
انہوں نے سوچا شاید وہ پہلے ہی ہیلی کاپٹر میں سوار ہو چکی ہو۔
پھر انہوں نے توران کے اسٹاف سے رابطہ کیا۔
جواب غیر متوقع تھا۔
ایک اسٹاف ممبر نے بتایا،
“مس کاسی دو گھنٹے پہلے ہی ہیلی کاپٹر میں سوار ہو چکی تھیں۔”
ماہ لقا کے دل میں کھلبلی مچ گئی۔
الڈن وائن سے جزیرے تک کا سفر صرف تیس منٹ کا تھا۔
اگر توران دو گھنٹے پہلے روانہ ہو چکی تھی…
تو اب وہ کہاں تھی؟
ہیلی کاپٹر میں سوار ہوتے ہی توران کاسی اب بھی جھنجھلا رہی تھی۔
“کتنا گھٹیا ڈیزائنر ہے! اتنے پیسے خرچ کیے اور بدلے میں ناقص لباس ملا۔ اسی کی وجہ سے آج جیسے اہم دن پر میرا اتنا وقت ضائع ہوا!”
لباس کی وجہ سے وہ کل سے ہی چڑچڑی تھی۔ پوری رات ایک پل کو آنکھ نہ لگی۔ جیسے ہی ہیلی کاپٹر میں بیٹھی، نیند کے جھونکے آنے لگے۔
مگر اسے ذرا بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ زمین کے جہنم کی طرف جا رہی ہے۔
توران کی آنکھ اس وقت کھلی جب ہر طرف مکمل اندھیرا تھا۔ اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور ہاتھ پاؤں مضبوطی سے بندھے تھے۔
جزیرہ کہاں تھا؟
ظہران ممدانی کہاں تھا؟
منگنی کی تقریب کہاں گئی؟
وہ گھبرا گئی۔
“یہ کہاں ہے؟ تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں مسز ممدانی ہوں! مجھے اغوا کرنے کی تمہاری جرات کیسے ہوئی؟ میرا شوہر تم سب کے سروں کے بدلے لے گا!”
بولتے ہی اسے احساس ہوا کہ اس کی آواز کمرے میں گونج رہی ہے، اور ساتھ ہی ایک ناگوار سی بو بھی محسوس ہوئی۔
“کوئی ہے! بچاؤ!”
“سانس ضائع مت کرو۔ اگر چیخنے سے بچاؤ ہو جاتا تو اغوا کاروں کا وجود ہی ختم ہو چکا ہوتا۔”
آواز سنتے ہی توران غصے سے چلّائی،
“مہرالہ مہرباش، کمبخت عورت! مجھے پہلے ہی معلوم تھا یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم حسد میں پاگل ہو گئی ہو کیونکہ میں ظہران سے منگنی کر رہی ہوں، اس لیے تم نے یہ گھٹیا چال چلی!”
توران کی بدحواسی پر مہرالہ مہرباش نے ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ دی۔
“تم وہم میں ہو یا واقعی تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟ اتنی زبردست کہانی گھڑنے کی صلاحیت ہے، ناول نگار بن جاؤ۔
ابھی تک سمجھ نہیں آیا تمہارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ سچ کہوں تو مجھے واقعی تجسس ہے… ظہران کو تم میں آخر پسند کیا ہے؟”
توران مزید گھبرا کر چیخنے لگی۔
مگر مہرالہ کے ذہن میں الجھن بڑھتی جا رہی تھی۔
وہ برسوں ظہران کے ساتھ رہی تھی، اس کی فطرت خوب جانتی تھی۔
نہ صورت میں، نہ مزاج میں—توران کبھی بھی اس کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھی۔
اگر ظہران کسی کو جلانے کے لیے چاہتا بھی، تو اس سے کہیں بہتر انتخاب کر سکتا تھا۔
اسی لمحے تالیاں بجنے کی آواز آئی، جس نے توران کو ہوش میں لا کھڑا کیا۔
“میرے لیے اتنا اچھا تماشا کرنے کا شکریہ،”
ایک بگڑی ہوئی، اجنبی آواز گونجی۔
توران ساکت رہ گئی۔
وہ فوراً پہچان گئی—یہی وہ پراسرار شخص تھا جس سے وہ پہلے بھی بات کر چکی تھی۔
یہ سوچ کر کہ وہ شخص اس کے ساتھ ہے، توران کو کچھ اطمینان ہوا۔
“یہ… تم ہو؟”
اس نے ناراضی سے کہا،
“کیا تم پاگل ہو؟ یہ بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا جس میں تم نے کہا تھا کہ تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی پڑے گی؟ آج میری منگنی ہے!”
مہرالہ کا اغوا ہونا توران کے لیے خوشی کا باعث نہیں تھا۔
وہ مہرالہ کو کبھی بھی ذلیل کر سکتی تھی،
مگر اگر آج کی تقریب چھوٹ گئی تو اس کا سب کچھ برباد ہو جاتا۔
اس نے اس منگنی کے لیے کتنی محنت کی تھی۔
کتنی بار یہ تقریب ٹلی تھی۔
اس کے دل میں ایک برا سا خدشہ سر اٹھانے لگا۔
“مجھے ابھی چھوڑ دو۔ تم اس عورت کے ساتھ جو چاہو کرو، مجھے پروا نہیں۔
مگر ظہران میرا انتظار کر رہا ہے۔ مجھے ابھی جانا ہے!”
“جانا؟”
وہ شخص ہنسا۔
چونکہ توران کچھ دیکھ نہیں سکتی تھی، اس شیطانی ہنسی نے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دی۔
آواز دوبارہ ابھری،
“تم دونوں میں سے صرف ایک ہی یہاں سے زندہ نکلے گی۔”
توران نے زندگی میں بہت سازشیں کی تھیں،
مگر ایسی صورتحال کا اس نے کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔
وہ لرزتی آواز میں بولی،
“ت… تو دوسری کے ساتھ کیا ہوگا؟!”
یہ سن کر مہرالہ دنگ رہ گئی۔
اسے لگا شاید توران واقعی ہوش کھو بیٹھی ہے۔
دوسری کا انجام تو بالکل واضح تھا۔
یہی شخص بیل کو قتل کر چکا تھا—
تو توران کو مارنے میں اسے کیا ہچکچاہٹ ہوتی؟
“کون جانتا ہے؟”
وہ آواز نہایت نرمی سے سرگوشی بنی،
“شاید مچھلیاں اسے نوچ ڈالیں… یا پھر وہ مسخ شدہ لاش بن کر ملے۔”
یہ الفاظ ایسے تھے
جیسے شیطان خود کان میں سرگوشی کر رہا ہو۔
