Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

ڈاکٹر کے الفاظ اور گھر والوں کی باتیں سن کر حُرمت کو لگا تھا. کسی نے اُس کے سینے سے دل نوچ کر دور پھینک دیا ہو.
یزدان کے سر پر آنے والی چوٹ سے وہ دوبارہ اپنی ذہنی صلاحیت کھو چکا تھا. اور اب اُس کے کبھی بھی ٹھیک ہونے کے کوئی چانسز نہیں تھے.
حُرمت جائے نماز پر واپس گرتی زارو قطار رو دی تھی.

یزدان کی اذیت کا سوچ اُس کا دل پھٹا جارہا تھا. اُس شخص نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا. اور اب جب اُس کی زندگی میں خوشیاں آنے لگی تھیں. تو پھر یہ سب ہوگیا تھا.

سب گھروالے باری باری جاکر یزدان سے مل آئے تھے. مگر حُرمت میں ہمت نہیں تھی. یزدان کا سامنا کرنے کی. وہ یزدان اور اُس کی فیملی سے بہت شرمندہ تھی. کیونکہ یزدان کی اِس حالت کی زمہ دار وہی تھی.

لیکن اُس کا دل یزدان کے پاس جانے اُسے دیکھنے کے لیے بے حال ہورہا تھا. حُرمت نے بہت مشکل سے خود کو سنبھالتے یزدان کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تھا.

خون آلود ہوجانے کی وجہ سے حُرمت کے کپڑوں کی حالت بہت خراب تھی. اقصٰی نے کچھ دیر پہلے ہی بہت مشکل سے اُس کے کپڑے چینج کروائے تھے. اِس وقت وہ گرے کلر کے سادہ سے شیفون کی قمیض شلوار میں دوپٹہ نماز کے سٹائل میں اوڑھے سوگوار سا حُسن لیے گلابی بھیگے چہرے اور نم آلود خمدار پلکوں کو بار بار جھپکتی کسی کا بھی ایمان متزلزل کرنے کا حوصلہ رکھتی تھی.

مگر اِس وقت وہ خود سے پرواہ بیڈ پر چت لیٹے یزدان رحمانی کی جانب متوجہ تھی. جسے اِس طرح بیڈ پر دیکھنا اُس کے لیے ہر چیز سے اذیت ناک تھا.

حُرمت چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی یزدان کے قریب آئی تھی. جب یزدان نے نظریں اُٹھا کر اجنبیت سے اُس کی جانب دیکھا تھا. جس شخص کی نظروں میں ہمیشہ اُس نے اپنے لیے دیوانگی اور بے پناہ چاہت دیکھی تھی. آج اُسی کا یہ انداذ برداشت کرنا حُرمت کو خون کے آنسو رُلا گیا تھا.

” یزدان پلیز ٹھیک ہوجائیں نا میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتی بہت مشکل ہے یہ میرے لیے.”

بہت کوشش کے باوجود حُرمت اپنے آنسو کنٹرول نہیں کر پائی تھی.

” تو اِس میں رونے والی کیا بات ہے. چھوڑ کے چلی جاؤ مجھے. “

یزدان بنا اُس کی جانب دیکھے چھت کو گھورتا عجیب سے لہجے میں بولا.

جو شخص اُسے ایک پل کے لیے بھی خود سے جدا نہیں کرتا تھا. اِس وقت کتنے آرام سے اُسے خود سے دور جانے کو بول رہا تھا.

حُرمت کے آنسو لڑیوں کی طرح اُس کی گال پر پھسل رہے تھے. اُس نے بیڈ پر رکھا یزدان کا ہاتھ اپنے نرم ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہونٹوں سے لگایا تھا.

” کیوں جاؤ میں. آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں. جب دل کیا اپنے ساتھ باندھ لیا. جب دل کیا جانے کو کہہ دیا. ڈاکٹرز کا کہنا ہے آپ کبھی ٹھیک نہیں ہوپائیں گے اب. لیکن مجھے کسی کی باتوں کی پرواہ ہے ہی نہیں. میرے لیے یہی کافی ہے. کہ آپ ہیں میرے ساتھ.

آپ کے ہر رُوپ سے پیار کیا ہے میں نے. آپ کو یہی لگتا ہوگا نا. کہ میں نے آپ کے ٹھیک ہونے کے بعد آپ کو چاہا ہے. لیکن ایسا نہیں میری دل میں تو آپ کی محبت کی کونپلیں تو بہت جنم لے چکی تھیں. آپ کا وہ پاگل پن ہی مجھے اپنا اسیر کر گیا تھا. جس طرح آپ خود سے بڑھ کر میرا خیال رکھتے تھے. میری زرا سی چوٹ پر تڑپ آپ جاتے تھے.

آپ کا وہ نقاب پوش بن کر میرے قریب آنا مجھے اپنے ہونے کا اپنی محبت کا احساس دلانا میں نے آپ کے اُس ہر انداز سے محبت کی ہے.

میرے لیے آپ پہلے جس قدر ضروری تھے. اب اُس سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں. میں یہ ہاتھ اب کبھی نہیں چھوڑوں گی کبھی نہیں.”

حُرمت یزدان کے ہاتھ پر ہونٹ ٹکائے اپنے دل کی ہر بات کہتی چلی گئی تھی. جو شاید وہ عام حالات میں یزدان رحمانی کے سامنے کبھی نہ کہہ پاتی. مگر اِس وقت اُس کا دل اِس قدر ٹوٹ بکھر چکا تھا. کہ وہ اپنے دل کا حال اپنے دل کے مکین کے آگے بیان کر گئی تھی.

اچانک جب حُرمت کے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہوا تھا تو وہ یزدان کا ہاتھ چھوڑتی بنا ایک بار بھی پیچھے مُڑ کر دیکھے روم سے نکل گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں. کہ میں ایسا کچھ کروں گی.”

حُرمت کو بلال کی بات سن کر دھکا سا لگا تھا. وہ اُسے یزدان سے طلاق لینے کا کہہ رہے تھے.

” حُرمت میں جانتا ہوں. اِس وقت تم بہت ایموشنل ہورہی ہو. ایک بار گھر جا کر ٹھنڈے دماغ سے سوچو تمہیں میری بات بالکل ٹھیک لگے گی.”

بلال نے حُرمت کے پاس آتے نرمی سے کہا تھا.

وہ لوگ اِس وقت ہاسپٹل کے ہی ایک پرائیویٹ روم میں کھڑے تھے. جب بلال اور اقصٰی نے حُرمت کے سامنے یہ بات رکھی تھی.

“جب میں ایسا کچھ کرنا چاہتی ہی نہیں ہوں تو سوچنا کیسا. آپ ابھی پوچھیں یا سال بعد میرا جواب ہمیشہ یہی رہے گا. بہت محبت کرتی ہوں میں اپنے شوہر سے. اُس سے جدا ہونے کے بارے میں سوچنا بھی میرے لیے گناہ ہے. مر جاؤ گی میں یزدان رحمانی کہ بغیر.”

حُرمت اپنے آنسو صاف کرتی مضبوط لہجے میں بولی.

” حُرمت دیکھو میں صرف تمہارا ہی بھلا چاہتا ہوں. ڈاکٹرز نے صاف صاف کہہ دیا ہے. یزدان سر اب کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتے. تم یہ پہاڑ جیسی زندگی کیسے کاٹو گی ایک پاگل شخص کے ساتھ. جس نے تمہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا ہے.”

بلال نے ایک بار پھر حُرمت کو اپنی بات سمجھانی چاہی تھی.

” کوئی بات نہیں. اگر وہ اپنے پاگل پن میں مجھے دھکے مار کر اپنے گھر سے باہر بھی نکال دیں گے نا. میں تب بھی اُن سے جدا ہونے کا نہیں سوچوں گی. کیونکہ میں نے اُس شخص سے سچی محبت کی ہے. نہیں رہ سکتی میں اُس کے بغیر. آپ ویسے تو میری ہر خوشی بنا کہے ہی جان جاتے تھے. اب کیوں نہیں سمجھ پارہے. کہ یزدان رحمانی آپ کی بہن کا صرف شوہر کی نہیں اُس کی زندگی ہے. اور آپ اپنی بہن سے اُس کی زندگی ہی چھین رہے ہیں. بھائی میں بہت محبت کرتی ہوں. یزدان سے ایک پل بھی دور نہیں رہ سکتی اُن سے.”

حُرمت جو ساری باتیں مر کر بھی یزدان کے سامنے نہ کہتی وہ اِس وقت نجانے کتنی بار بول چکی تھی. اِس بات سے انجان کے کوئی دروازے کے وسعت میں کھڑا مبہوت سا اپنی دیوانی کی اپنے لیے یہ بے پناہ محبت اور دیوانگی پر خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کررہا تھا.

” لو یو ٹو میری جان. میں بھی نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر.”

حُرمت جو بھیگی آنکھوں سے بلال کی جانب دیکھتی بول رہی تھی. یزدان کی آواز پر وہ کچھ دیر کے لیے ہل بھی نہیں پائی تھی. اُسے سمجھ نہیں آیا تھا.کہ کیا یہ واقعی یزدان نے بولا ہے یا اُس کا وہم ہے کوئی.

مگر بلال کو دروازے کی جانب دیکھتا پاکر حُرمت جھٹکے سے پلٹی تھی. دروازے میں ہی مسکراتے کھڑے یزدان کو دیکھ اُس کی نظروں میں سب کچھ گھوم چکا تھا.

یزدان اِس وقت ہاسپٹل کے ہی لباس میں سر پر پٹی باندھے دروازے میں کھڑا مسکراتا محبت پاش نظروں سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا.

بلال اور اقصٰی کے چہروں پر آتی مسکراہٹ دیکھ کر صاف اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ اِس بات سے واقف ہیں. اور اُن کے لیے یزدان کا یہاں کھڑا ہونا حیرانی والی بات بالکل بھی نہیں ہے.

وہ دونوں یزدان کی جانب مسکراہٹ اُچھالتے وہاں سے نکل گئے تھے. جبکہ حُرمت جیسے ایک ہی سیکنڈ میں یزدان رحمانی کا سارا کھیل سمجھ چکی تھی. وہ ایک بار پھر اِس شخص کے ہاتھوں بُری طرح بے وقوف بن چکی تھی.

” مجھے سچ میں اندازہ نہیں تھا. کہ میری بیوی میری اتنی دیوانی ہے. کاش کہ یہ چوٹ مجھے پہلے لگ جاتی تو تمہاری محبت کی شدت کا اندازہ بہت پہلے ہوجاتا. میں جو نجانے کیا کیا سوچ کر پریشان ہوتا رہا کہ تمہیں میں نے زبردستی اپنے ساتھ باندھ کر رکھا ہوا ہے. وہ نہ ہوتا. “

یزدان قدم قدم چلتا حُرمت کے قریب آن کھڑا ہوا تھا. جہاں ایک طرف یزدان کو بالکل ٹھیک دیکھ حُرمت کا دل خوشی کے مارے جھوم اُٹھا تھا. وہیں ساری بات سمجھ آتے یزدان پر اُس کو بے پناہ غصہ آرہا تھا.

” تو آپ سب نے مجھ سے جھوٹ بولا. مجھے بے وقوف بنایا. آپ…….آپ کو زرا شرم نہیں آئی یہ کرتے ہوئے. میرے جذبات کا مذاق بنایا آپ نے. آپ بہت بُرے ہیں مجھے شکل بھی نہیں دیکھنی آپ کی اب.”

حُرمت یزدان کو دیکھتی نم لہجے میں بولتی سخت خفا ہوئی تھی. حُرمت یزدان کے پاس سے ہٹتی باہر کی جانب بڑھی تھی.

جب یزدان نے اُس کی کلائی پکڑتے نرمی سے اپنے قریب کھینچا تھا.

” یزدان چھوڑیں میرا ہاتھ مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. “

حُرمت روتے ہوئے اپنا بازو چُھڑواتے بولی. مگر یزدان نے اُس کی کوشش ناکام بناتے اُسے اپنے بازوؤں کے حصار میں قید کرلیا تھا.

حُرمت کے آنسوؤں کو یزدان نے جھک کر اپنے ہونٹوں سے چن لیے تھے. جن کی کب سے وہ وجہ بنا ہوا تھا.

یزدان کے اِس شدت بھرے عمل پر حُرمت اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی. خود کو یزدان رحمانی کی بانہوں میں اور اُس کا لمس محسوس کرتے حُرمت کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی تھیں.

مگر اِس گزرا وقت میں یزدان کی کنڈیشن کے بارے میں جان کر وہ جس اذیت سے وہ گزری تھی. اُس کے لیے اتنی جلدی وہ یزدان کو معاف کرنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں رکھتی تھی.

حُرمت نے یزدان کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے اُسے خود سے دور دھکیلنا چاہا تھا.

” میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا ہے. مگر ایک بار میری بات سن لو پھر جو مرضی سزا دینا مجھے قبول ہے.”

یزدان جانتا تھا حُرمت کا ری ایکشن کیسا ہوگا. جس کے لیے وہ پہلے سے ہی خود کو تیار کرچکا تھا. وہ اُس کا چہرا تھام کر بہت نرمی سے بولا تھا.

” مگر مجھے نہ ہی آپ کی بات سننی ہے اور نہ کوئی سزا دینی ہے. مجھے ابھی اور اِسی وقت جانا ہے یہاں سے.”

حُرمت کا صدمہ ابھی کم نہیں ہورہا تھا. یزدان کے حوالے سے جو بُری خبر اُسے بتائی گئی تھی. اُس کے بعد سے ابھی تک اُس کا دل جگہ پر نہیں آسکا تھا. وہ اِس وقت یزدان اور باقی سب پر شدید ترین غصے کا شکار تھی.

” میں ابھی بھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوا ہوں. ایسے ہی چھوڑ کر چلی جاؤ گی مجھے.”

یزدان کی بات پر حُرمت نے اپنی مزاحمت روکتے خونخوار نظروں سے اُسے گھورا تھا.

” آپ نے یہ ناٹک اِسی لیے کیا نا. کہ میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاؤں. اب آپ کو ضرورت نہیں ہے نا میری. تو اِسی لیے جارہی ہوں میں اب. کیوں روک رہے ہیں مجھے. “

حُرمت یزدان سے بہت سخت بدگمان ہوچکی تھی. حُرمت کو ابھی بھی اُسی طرح روتا دیکھ یزدان نے اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا.

” میرے لیے تمہاری خوشی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے. تمہاری خوشی کے آگے میری یا میری کسی خواہش کی کوئی اہمیت نہیں ہے میری جان. تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی میں کس قدر چاہتا ہوں تمہیں. کیا ہو تم میرے لیے.

میں نے یہ ناٹک بھی صرف تمہارے لیے کیا. تمہاری خوشی جاننے کے لیے.”

یزدان نے اُس کے قریب جھک کر سرگوشیانہ لہجے میں کہتے اُسے نارمل کرنا چاہا تھا.

یزدان کے یہ چند الفاظ حُرمت کی بدگمانی تو ختم کر گئے تھے. مگر اُس کا غصہ ابھی بھی برقرار تھا.

اِس شخص نے ہمیشہ اُس کو گھمایا تھا. اب وہ اِس سے سارے بدلے لینا چاہتی تھی.

” اوکے آپ میری خوشی چاہتے ہیں نا. تو ابھی میری بات مانیں اور مجھے جانے دیں. “

حُرمت بھی اپنے نام کی ایک تھی. اُس نے بھی سوچ لیا تھا. جیسے اِس سنگدل نے اُسے تڑپایا تھا. وہ بھی اب اِسے تڑپا کررہے گی.

صدام ایسے ہی اُسے نہیں چھیڑتا تھا. یزدان رحمانی کو بیوی اُس کی ٹکر کی ملی تھی. جس نے واقعی اُس مغرور شخص کی ساری اکڑ نکال کر رکھ دی تھی.

” ٹھیک ہے جاؤ. “

یزدان آخر کار اُس کی ضد کے آگے ہار مان ہی گیا تھا. پیچھے ہٹتے اُس نے حُرمت کو جانے کے لیے بول دیا تھا.

حُرمت پہلے تو حیران رہ گئی تھی. اُسے بالکل بھی اُمید نہیں تھی. کہ یزدان اتنی آسانی سے مان جائے گا. ایک مشکوک نظر یزدان کی مسکراہٹ پر ڈالتے وہ وہاں سے نکل گئی تھی.

جبکہ یزدان کُھل کر مسکرا دیا تھا. وہ آج بہت زیادہ خوش تھا. اُس نے نہ صرف ہمایوں کا خاتمہ کردیا تھا. بلکہ اپنی اُس بات کا بھی جواب پالیا تھا. جس نے اتنے ٹائم سے اُسے بے چین کیے رکھا تھا.

یزدان رحمانی جو ہمیشہ سب کو اپنے اشاروں پر چلانے کا عادی تھا. جس ہر کام اپنے طریقے سے چاہیئے ہوتا تھا. جسے ایک بار جو چیز پسند آجاتی تھی. اُسے اُس نے حاصل ضرور کیا تھا. چاہے اُس میں اُس کا نفع یا نقصان ہوتا ہو. یا چاہے کسی دوسرے کا. اُسے کبھی اِس بات کی پرواہ نہیں رہی تھی.

مگر یہاں مسئلہ کسی چیز کا نہیں تھا. بلکہ جیتی جاگتی انسان کا تھا. اُس کی جان سے عزیز ہستی حُرمت کا تھا. جس کی خوشی اور مرضی اُس کے لیے ہر چیز سے بڑھ کر تھی.

حُرمت کو جن حالات میں اور جس طرح بنا اُس کی مرضی کہ یزدان کی زندگی میں شامل کیا گیا تھا. یزدان اُس سب سے واقف تھا. بے شک بعد میں حُرمت نے اُسے اپنا لیا تھا. مگر یزدان کے اندر دل کا ایک کونا جیسے پوری طرح سے خوش نہیں ہوپارہا تھا. اُسے لگ رہا تھا. کہ کہیں حُرمت نے اُس کی شدت پسندی پر بے بس ہوتے ایک سمجھوتے کے تحت اُس کو نہ اپنایا ہو. اور اندر سے حُرمت اُس سے خوش نہ ہو.

یہی بات اُسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی.

یزدان نے حُرمت سے بے لوث محبت کی تھی. وہ محبت کے اُس مقام پر پہنچ چکا تھا. کہ جہاں وہ حُرمت کو صرف اور صرف اُس کی خوشی کی خاطر چھوڑنے کو بھی تیار تھا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ حُرمت کے بغیر اُس نے خود ختم ہوجانا تھا.

یزدان نے سب کو اپنے ساتھ ملا کر صرف یہی جاننے کے لیے یہ سب کیا تھا. کہ حُرمت اُس سے محبت کرتی ہے یا یہ صرف ایک سمجھوتا اور کافی وقت ساتھ رہنے کی وجہ سے صرف ایک اُنسیت سی ہے. لیکن حُرمت کی اپنے لیے اِس قدر شدید محبت اور دیوانگی دیکھ یزدان جیسے دوبارہ جی اُٹھا تھا. اُسے لگا تھا حُرمت کا کیا گیا اظہار اُس کی زندگی کے تمام غم دور کر گیا ہو.

اِس سارے چکر میں ایک بات جو اُسے بہت مہنگی پڑی تھی. وہ تھی حُرمت کی ناراضگی. مگر اُسے خود پر پورا یقین تھا. وہ زیادہ دیر حُرمت کو ناراض نہیں رہنے دے گا.

یزدان آسودگی بھری سانس ہوا میں خارج کرتا باہر نکل گیا تھا. ہمایوں ختم ہوتے ہوتے بھی اُس کا بھلا کر گیا تھا.

یزدان کی اِس بار کی سرجری پچھلی بار سے زیادہ کامیاب رہی تھی. جس کی وجہ سے اُس کا ایگریشن کا پرابلم بھی ایک طرح سے ٹھیک ہوچکا تھا. وہ اب بالکل نارمل تھا. ڈاکٹرز کے مطابق اُس کے سر کے اِس زخم نے بھی جلد ریکور ہوجانا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اتنے دن گزر چکے تھے. مگر صدام کی نہ ہی امل سے کوئی بات ہوئی تھی. اور نہ ہی امل نے اُسے منانے کی زرا سی بھی کوشش کی تھی.

صدام روٹین کے مطابق پہلے ہاسپٹل جاتا رہا تھا. اور پھر امل کے گیلانی ہاؤس شفٹ ہونے کے بعد سے وہ دن کا آدھے سے بھی زیادہ وقت امل کے پاس گزارتا تھا.

نائمہ بیگم نے امل کو اُس کے گھر بھیجنے کے بجائے اپنے پاس ہی لے آئی تھیں. کیونکہ اشفاق صاحب ابھی واپس نہیں لوٹے تھے.

بہت ٹائم ساتھ رہنے کے باوجود اُن دونوں کی بول چال بالکل بند تھی. امل کی خاموشی نےصدام کا غصہ مزید بڑھا دیا تھا. وہ جلد ہی امل کے صحت یاب ہونے پر اُس سے سارے حساب بے باک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا.

اِس وقت بھی وہ بہت خراب موڈ کے ساتھ اپنے آفس میں انٹر ہوا تھا. جب پہلی سیڑھی پر ہی دونوں جانب موجود گارڈز نے اُس کی جانب سُرخ گلاب کی آدھ کھلی کلی بڑھائی تھی. دونوں کے چہروں پر صدام کا ڈر موجود تھا. مگر جیسے اِس سے بھی زیادہ ڈر اُنہیں کسی اور کا تھا. جس کی مجبوری میں وہ یہ کررہے تھے.

” کیا ہے یہ.”

صدام کی گھوری پر وہ دونوں پھول نیچے کرتے فوراً چہرا جھکا گئے تھے. اُنہیں اپنی نوکری زیادہ عزیز تھی.

صدام مزید غصے میں آتا آگے بڑھا تھا. مگر سامنے ہی سب کیبنز کے درمیان بنے راستے میں اُس کے سٹاف کا ہر بندہ ہاتھ میں سرخ گلاب اُٹھائے اُس کے استقبال میں کھڑا تھا.

صدام ایک پل کے لیے تو سوچ میں پڑ چکا تھا کہ کیا وہ اپنے آفس میں ہی آیا ہے یا کسی غلط جگہ پر آپہنچا ہے.

” احمد صاحب ……”

صدام کی دھاڑ پر جہاں باقی سب چہرے پر آنے والی دبی دبی مسکراہٹ چھپانے کے لیے سرجھکا گئے تھے. وہیں احمد صاحب اپنی شامت آتی دیکھ جلدی سے صدام کے قریب آیا تھا.

” احمد صاحب یہ آفس میں کیا چل رہا ہے.”

صدام چہرے پر برہمی کے تاثرات سجائے سب کو گھورتے ہوئے بولا.

” سر وہ ……سر آپ…..”

احمد صاحب کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا. کیا بولیں. اُنہیں اُوپر سے کچھ بھی بتانے کا آرڈر نہیں تھا.

” دومنٹ کے اندر اندر ہٹ جانا چاہیئے یہ سب. اُس کے بعد زرا آپ آکر ملیں مجھ سے.”

صدام اپنے آفس کے دروازے کے باہر رکھی پھولوں کی پتیاں کو دیکھتے مزید غصے میں آیا تھا.

لیکن احمد صاحب کو اِس بات کا پورا یقین تھا کہ اندر جاکر وہ اُسے بلانے والا بالکل بھی نہیں تھا.

صدام نے غصے سے دروازہ کھولتے اندر قدم رکھا تھا. مگر اپنے آفس کا منظر دیکھ وہ سکتے میں آچکا تھا. لائٹس آف تھیں. مگر پورے کمرے میں بڑی تعدار میں رکھے گئے سنہری رنگ کے دیوں کی مدھم روشنی بہت ہی دلفریب منظر پیش کررہے تھے. ہر طرف ریڈ گلاب بکھرے پڑے تھے. پھولوں کی مسحور کن خوشبو اُس کی سانسوں کو معطر کرگئی تھی. اتنا خوبصورت نظارہ صدام کا موڈ کافی حد تک بحال کر گیا تھا.

اب تو صدام کو تشویش ہوئی تھی کہ آخر ایسی جرأت کر کون سکتا تھا. وہ واپس پلٹنے ہی لگا تھا جب اُس کی صوفے کی جانب اُٹھتی نظر واپس پلٹنا ہی بھول گئی تھی.

امل پیروں تک آتا ریڈ فراک زیب تن کیے بیٹھی صحیح معنوں میں صدام کا ہوش اُڑا گئی تھی. اُس کے سیاہ لمبے بال اُس کے نازک وجود کے گرد گھیرا بنائے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھے.

امل صدام کے ہوش اُڑتے دیکھ دلکشی سے مسکراتی اُس کی جانب بڑھی تھی.

” مسٹر صدام جعفر اتنا غصہ میرا دیا ہوا ایک گلاب بھی قبول کرنے سے انکار کردیا.”

امل صدام سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوتی اُس کے دل کی دنیا میں طوفان برپا کر گئی تھی.

” تمہیں پرواہ ہے میرے غصے کی. تمہیں تو ہمیشہ وہی کام کرنے کا شوق ہے نا. جس سے مجھے تکلیف پہنچے.”

صدام اپنے حواسوں پر قابو پاتا اِس حسین مورتی کے سحر سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا تھا.

امل نے صدام کی بات پر اُس کی جانب دیکھا تھا. اور بنا ایک پل کی بھی دیر کیے آگے بڑھتی صدام کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ گئی تھی.

” صدام مجھے معاف کریں. میں نے بہت غلطیاں اور نادانیاں کی ہیں. آپ کو بہت ہرٹ کیا ہے. مگر یہ بھی سچ ہے کہ میں آپ کے بغیر اب نہیں رہ سکتی. بہت محبت کرنے لگی ہوں.”

امل کو ہاتھ جوڑتا دیکھ صدام تڑپ کر آگے بڑھا تھا. اِس لڑکی نے اپنی حرکتوں سے سیدھا اُس کے دل پر وار کرنے کی قسم کھا رکھی تھی.

” پاگل ہوگئی ہو. ناراض تھا تم سے. مگر اُس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم میرے آگے جھک جاؤ. میں تمہیں ہمیشہ اپنے سے آگے دیکھنا چاہتا ہوں. ابھی تک تم میری زندگی میں اپنے مقام کا اندازہ نہیں لگا پائی.”

امل کے دونوں ہاتھ تھام کر اُن پر ہونٹ رکھتے صدام سچے دل سے بولتا امل کی نظر میں اپنا آپ مزید اُونچا کر گیا تھا.

” تو مطلب آپ مان گئے.”

صدام کے اتنی جلدی مان جانے پر امل کا چہرا خوشی سے جگمگایا تھا. اُس کی اتنی خوشی دیکھ صدام سر اثبات میں ہلاتا مسکرا دیا تھا.

” اوکے تو پھر میں جارہی ہوں.”

امل آنکھوں میں شوخی بھرے صدام سے بولتی وہاں سے کھسکنے لگی تھی. مگر اُس سے بھی پہلے صدام اُس کا دوپٹہ اپنی گرفت میں لے چکا تھا.

اُسے کے زخم کا دھیان کرتے صدام نے بہت نرمی سے اُسے اپنے قریب کیا تھا.

” اتنی جلدی بھی کیا ہے میری جان. اپنی اِس محنت کا خراج تو وصول کرتی جاؤ.”

صدام نے امل کا چہرا اپنے قریب کرتے اُس کی ٹھوڑی پر لب رکھ دیئے تھے. امل صدام کے کوٹ کو گرفت میں لیتی لال ہوئی تھی.

” یہ سب ہے کیا ویسے.”

صدام کو یہ سب اچھا تو بہت لگا تھا. مگر خاص آفس میں یہ اہتمام کرنا اُسے سمجھ نہیں آیا تھا.

” میں نے کہا نفرت کی شروعات یہاں سے ہوئی تھی. تو کیوں نہ محبت کی بھی یہیں سے کر لی جائے.”

امل صدام کی ٹائی ٹھیک کرتے شرمگی مسکان سے بولتی اُسے مزید اپنا دیوانہ بنا گئی تھی. صدام نے آگے کو جھکتے امل کی گال پر موجود اُس حسین ترین تِل کو چھوا تھا جو ہر بار کی طرح اِس وقت بھی اُسے بہکنے پر مجبور کررہا تھا.

” تو پھر اجازت ہے پیار کی شروعات کرنے کی.”

صدام کی نگاہوں کا فوکس امل کے لال لپسٹک سے سجے ہونٹ تھے جنہوں نے اُسے کب سے پاگل کیا ہوا تھا.

“صدام اُس دن آپ کے ساتھ وہ لڑکی کون تھی.”

صدام جو امل کے ہونٹوں پر جھک چکا تھا. امل کی بات پر اُس نے جھٹکے سے سراُٹھا کر اُسے دیکھا تھا. اتنی پرانی بات یہ لڑکی ابھی تک دل میں لیے بیٹھی ہوئی تھی. صدام نا چاہتے ہوئے بھی امل کے مشکوک انداز پر ایک قہقہ لگا گیا تھا.

جس پر امل نے ناراضگی سے اُسے گھورا تھا.

” اُس دن ایسا کچھ نہیں تھا. جیسا تم سمجھی تھی. وہ فضہ تھی میری خالہ کی بیٹی. اگر ایک منٹ رُک کر اور قریب آکر تم دیکھ لیتی کہ وہ کوئی میری گرل فرینڈ نہیں بلکہ پندرہ سال کی بچی تھی. تو تم اتنا سخت ری ایکشن نہ دیتی. اور نہ ہی خود کو ہلکان کرتی.”

صدام کی بات پر امل نے شرمندگی سے چہرا جھکا لیا تھا. اُس کا یہ جذباتی پن اُسے صدام کے سامنے اور نجانے کہاں کہاں ذلیل کروانے والا تھا.

” تمہاری بہت ساری نادانیوں میں ایک اور ایڈیشن ہوچکا ہے.اور اب اُن سب کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوجاؤ. بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے. اب اپنی ایک ایک تڑپ کا بدلہ وصول کروں گا میں.”

صدام امل کے چہرے کو چھوتا اپنی بے تابیوں کا اظہار کرتا جذبات سے لبریز گھمبیر لہجے میں بولا تھا. جبکہ اُس کی شدتیں برداشت نہ کر پاتے امل اُس کے سینے میں چہرا چھپا گئی تھی. اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا. نہ کبھی ایسی کوئی خواہش کی تھی. کہ اُس کی زندگی میں اتنا خوبصورت ہمسفر داخل ہوگا. جو اُس کی زندگی کے تمام غم اور محرومیاں ختم کرکے اُس کا ہاتھ تھامے اپنی خوشیوں اور سکون بھری دنیا میں لے جائے گا. امل دل سے اپنے رب کا شکر بجا لاتی صدام کی پیار بھری سرگوشیوں پر کھل کر مسکرا دی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” ایک تو خود اتنا فضول ڈرامہ کیا اُوپر سے نخرے بھی خود دیکھا رہیں ہیں. جلاد , وحشی انسان. اب تو مجھے بالکل بات کرنی ہی نہیں ہے.”

حُرمت کا آج لاسٹ پیپر تھا. کافی دن گزر چکے تھے اُس واقع کو. اُسے لگا تھا یزدان اُسے منانے آئے گا. اپنی غلطی پر شرمندہ ہوگا. مگر یزدان رحمانی کو تو پرواہ ہی نہیں تھی. جو بات حُرمت کو مزید غصے , کوفت اور بے چینی کا شکار کرگئی تھی.

بلال سے باتوں باتوں میں اُسے یہ بھی پتا چل چکا تھا کہ یزدان بالکل صحت یاب ہوچکا ہے. اور اب آفس بھی آنے لگا ہے. مگر وہ اُسے منانے کیوں نہیں آرہا تھا. یہ سوچ سوچ کر ہی حُرمت کا دل نجانے کتنے وسوسوں سے بھر جاتا تھا.

ابھی بھی یونی سے واپس آکر اپنے روم میں داخل ہوتے وہ خفگی سے خود سے ہی بڑبڑائی جارہی تھی.

” مل گئی ہوگی نا کوئی نئی بیوی. ویسے بھی کس بات کی کمی ہے یزدان رحمانی میں. مجھے کیا ہے میری طرف سے بیس شادیاں کریں. لیکن ﷲ کرے ساری بیویاں فاریہ جیسی نکلیں تو عقل ٹھکانے آجائے گی.”

حُرمت بنا اردگرد دیکھے ٹیبل پر بکس پٹختی صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی تھی. براؤن شیفون کے ڈریس میں جس کی شرٹ اور دوپٹے کے کناروں پر گولڈن کڑہائی کا کام کیا گیا تھا میں حُرمت کی گلابی رنگت غصے کی وجہ سے سرخی مائل ہوچکی تھی.

” یہ بھی کوئی طریقہ ہوا اگر میں نے غصے میں کہہ دیا مجھے جانا ہے. تو جیسے پہلے ڈانٹ کر اپنی بات منواتے ہیں. اِس بار بھی منوا نہیں سکتے تھے. ایک تو اتنی آسانی سے آنے دیا اُوپر سے واپس پلٹ کر پوچھا بھی نہیں.”

حُرمت کی بڑبڑاہٹیں ابھی تک جاری تھیں. جب اُس کی نظر بیڈ پر لیٹے کمبل میں لپٹے وجود پر پڑی تھیں.

” اُف یہ پری اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے گی.”

حُرمت پہلے تو حیران ہوئی تھی. مگر پھر اپنے شرارتی بھتیجی کا خیال آتے ہی وہ سمجھ گئی تھی. کہ ہمیشہ کی طرح اُسے ڈرانے اور تنگ کرنے کے لیے اُنہوں نے ہی تکیے جوڑ کر یہ حرکت کی ہے. ورنہ دن دہاڑے سب کے گھر ہوتے ہوئے ایسے بھلا کون آسکتا ہے اُس کے روم میں.

حُرمت اپنی جگہ سے اُٹھتی بیڈ کی جانب بڑھی تھی. جیسے ہی اُس نے کمبل ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا. اپنی کلائی کسی آہنی گرفت میں جکڑتا محسوس کرتے حُرمت کی چیخ نکل گئی تھی.

لیکن اگلا حملہ اِس سے بھی زیادہ جان نکال دینے والا تھا. مقابل نے اُس کی کلائی کو جھٹکا دیتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا. حُرمت اگلے ہی لمحے سیدھی اُس پر جاگری تھی.

” یزدان …..آپ….”

حُرمت جو ابھی اپنی چیخوں کا سلسلہ برقرار رکھنے ہی والی تھی. جب یزدان نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اُسے خاموش کروا دیا تھا. یزدان کو اِس طرح یہاں دیکھ اور جو جو ابھی وہ بول چکی تھی اُس سب کا خیال آتے حُرمت کا چہرا تپ اُٹھا تھا.

وہ اپنے پورے وزن سمیت یزدان کے اُوپر تھی. یزدان کا ایک بازو حُرمت کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا. جبکہ دوسرا اب اُس کے ہونٹوان سے ہٹاتے حرمت کے چہرے پر بکھر جانے والی بالوں کی لٹیں سمیٹ کر کان کے پیچھے اڑسنے لگا تھا.

یزدان کی شوخ مسکراتی نظریں حُرمت کو بُری طرح پزل کر گئی تھیں.

” چھوڑیں مجھے. مجھے آپ سے بات نہیں کرنی.”

حُرمت نے کے اُوپر سے اُٹھنا چاہا تھا. جب یزدان نے کروٹ بدلتے حُرمت کو بیڈ سے لگاتے اُس کے اُوپر مکمل طور پر جھکتے اپنی قید میں لیا تھا.

” یزدان یہ آپ……”

حُرمت نے کچھ بولنا چاہا تھا. جب یزدان نے اُس کے ہونٹوں پر اُنگلی رکھتے اُسے دوبارہ خاموش کروا دیا تھا.

” پورے بیس دن دور رہا ہوں تم سے. مجھے کچھ دیر خود کو محسوس کرلینے دو.”

یزدان نے خمار آلود لہجے میں کہتے باری باری حُرمت کے دونوں گالوں کو چھوا تھا. پھر ایک ایک کرکے اُس کی پیشانی, ناک, آنکھوں اور ٹھوڑی کو محبت سے چھوتے یزدان جیسے ہی ہونٹوں پر جھکنے لگا حُرمت فوراً اُس کے منہ پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھتی اُسے روک گئی تھی.

” میں سخت ناراض ہوں آپ سے.”

حُرمت نے اُسے یادہانی کرواتے خود کو اُس کے جان لیوا وار سے محفوظ رکھا تھا.

” تو منا ہی تو رہا تھا میں تمہیں.”

یزدان ابھی بھی سنجیدہ نہیں تھا.

” ویسے مجھے سچ میں نہیں پتا تھا. میری بیوی کو میرا ڈانٹ کر کام کروانا اتنا اچھا لگتا ہے. اور وہ کیا دعا دے رہی تھی مجھے. بیس شادیاں اور ساری بیویاں فاریہ جیسی ہوں. میری جان تم واقعی بہت کیوٹ ہو.”

یزدان نے حُرمت کی باتیں دوہراتے جاندار قہقہ لگایا تھا. جبکہ اُس کے مذاق اُڑانے پر حُرمت مزید خفا ہوئی تھی.

” یزدان آپ کو زرا سا بھی احساس ہے آپ نے مجھے کتنا رُلایا ہے.”

حُرمت نروٹھے لہجے میں کہتی یزدان کو اب کی بار سنجیدہ ہونے پر مجبور کردی تھی.

” میں جانتا ہوں مگر وعدہ کرتا ہوں آگے کی زندگی میں تمہارے ایک ایک آنسو کا ازالہ کردوں گا. میں نے جو کیا وہ ٹھیک نہیں تھامگر ہمارے آگے کی خوشحال زندگی کے لیے بہت ضروری تھا.”

یزدان حرمت کی آنکھوں میں جھانکتا اُسے اُس سب کی ساری حقیقت بتا گیا تھا.

جسے سن کر حُرمت یزدان کی اِس قدر بے لوث محبت پر کتنی ہی دیر کچھ بول نہیں پائی تھی. جس نے ہر بار اپنے آپ سے پہلے اُسے رکھا تھا. شاید اتنا ظرف کسی میں نہیں ہوسکتا تھا کہ صرف اپنی محبوب کی خوشی پر اپنا سب کچھ قربان کردے.

” آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے یہ سب. اور اتنے دنوں سے منانے کیوں نہیں آئے مجھے.”

حُرمت نے شکوے بھری نظروں سے یزدان کی جانب دیکھا تھا.

” کیونکہ اگر میں پہلے منانے کے لیے آجاتا تو تم اتنے سکون سے اپنے پیپرز نہیں دے پاتی. تم سوچ بھی نہیں سکتی. اتنے دن تم سے دور رہنا کس قدر مشکل تھا میرے لیے.

صرف تمہاری پڑھائی کی خاطر دور رہا ہوں تم سے. اب اِن بیس دنوں کے ایک ایک لمحے کا حساب سود سمیت وصول کروں گا تم سے. اپنے جلاد اور وحشی کو جھیلنے کے لیے تیار ہو جاؤ میری زندگی.”

حُرمت جو بہت دھیان سے یزدان کی بات سن رہی تھی. اُس کے آخر میں کہے شوخی بھرے جملوں نے حُرمت کو خود میں سمٹنے پر مجبور کر دیا تھا.

یزدان حُرمت کی آنکھوں پر لب رکھتے اُس کے اُوپر سے ہٹتا بیڈ سے نیچے اُترا تھا. اور حُرمت کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُسے بانہوں میں اُٹھا چکا تھا.

” یزدان یہ کیا کررہے ہیں آپ. نیچے بھابھی بھائی سب موجود ہیں. میں خود چل سکتی ہوں اُتاریں مجھے.”

حُرمت پچھلی بار کی طرح اِس وقت بھی اُسے باز رکھنے کی کوشش کررہی تھی. مگر وہ یزدان رحمانی ہی کیا جو اتنی آسانی سے مان جائے.

” ڈونٹ وری میری جان. نیچے کوئی موجود نہیں ہے. سب ہمارے ولیمے کی تیاری کے لیے رحمانی ہاؤس میں موجود ہیں. “

یزدان کی بات پر حُرمت نے حیرت سے اُس کی جانب دیکھا تھا.

” جب ہماری شادی ہوئی تھی. تب تو میں پاگل تھا. زرا سا بھی انجوائے نہیں کرپایا. اِس لیے اب دوبارہ سے اُن لمحوں کو جینا چاہتا ہوں.”

یزدان نے آنکھ دبا کر کہتے حُرمت کی جانب دیکھا تھا. جو اُس کی شوخیوں کی وجہ سے اُسے ٹھیک سے گھور بھی نہیں پائی تھی.

یزدان حُرمت کو گاڑی میں بیٹھاتا وہاں سے نکل گیا تھا.

اُن دونوں نے ہی اپنی بے لوث محبت کو ثابت کرتے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہاتھ تھامے اپنی زندگی سے غموں اور پریشانیوں کو نکال کر ہمیشہ کے لیے خود سے دور پھینک دیا تھا.

اب وہ دونوں اپنی آگے کی زندگی میں خوش تھے. جہاں نہ ہمایوں کا بُرا سایہ تھا اُن پر. نہ دھوکہ,نہ بدلہ. وہ بہت مطمئن اور خوش تھے.

ختم شد