No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
صدام پچھلے دو دن سے امل کو کال ملا ملا کر تھک چکا تھا. نہ اُس کے گھر اور آفس میں ملاقات ہو پارہی تھی. اور نہ ہی وہ کال پک کررہی تھی. صدام جانتا تھا. غلط فہمی کا شکار ہوکر وہ اُس سے بہت سخت ناراض ہوگئی ہے. صدام کو اُسے اپنے کمرے سے نکالنے والی بات پر بھی افسوس ہورہا تھا. اور لاسٹ ٹائم جس طرح وہ رو کر گھر سے نکلی تھی اِس بات نے صدام کو مزید بے چین کیے ہوئے تھا.
صدام کے مطابق وہ امل کو اُس کے کیے کی سزا کسی حد تک دے چکا تھا. اور امل کو بھی اُس کی غلطیوں کا احساس تھا. یہی صدام کے لیے بہت بڑی بات تھی. اُس کی محبت اِس قدر سچی تو تھی ہی کہ وہ اپنے محبوب کی کوتاہیاں معاف کرسکے.
اُس دن صدام کو کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ امل کا جو ری ایکشن سامنے آیا تھا. وہ دیکھ صدام کو اِس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ امل اُس سے بے پناہ محبت کرنے لگی ہے. جیسی وہ اُس سے چاہتا تھا. اب صدام اُس سے مل کر سب کچھ کلیئر کرنا چاہتا تھا. اور پوری عزت اور محبت سے اُسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا.
مگر امل تھی کہ اُس کے سامنے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی.
” ہمم لگتا ہے ہماری مسز کی ناراضگی بہت سخت قسم کی ہوتی ہے.”
صدام امل کے غصے سے جانے اور اِس شدید ناراضگی پر مسُکرا دیا تھا.
ڈرائیونگ کرتے اپنی سوچوں میں گم وہ امل کے گھر پہنچ چکا تھا. جہاں ملازمہ سے پوچھنے پر پھر وہی جواب تھا کہ امل گھر پر نہیں ہے. اشفاق صاحب صنوبر بیگم کی طرف گئے ہوئے تھے. اِس لیے صدام کو ہر بار گھر پر ملازم ہی ملتے تھے.
” اوکے تو میں ویٹ کر لیتا ہوں. آج تو آپ کی ایس پی صاحبہ سے مل کر ہی جاؤں گا میں.”
صدام مسلسل ایک ہی بات سن سن کر زچ ہوچکا تھا. اُس نے ڈیسائیڈ کر لیا تھا. آج تو وہ ہر حال میں امل سے مل کر رہے گا.
ڈرائنگ روم میں بیٹھے صدام کو پندرہ منٹ گزر چکے تھے. جب اُسے ایک ملازمہ ہاتھ میں ٹرے لے کر سیڑھیاں چڑھتی دیکھائی دی تھی.
” جب گھر پر کوئی ہے نہیں تو یہ جوس کس کے لیے جارہا ہے. کہیں مجھ سے جھوٹ تو نہیں بولا جارہا.”
صدام کے دماغ نے تیزی سے کام کیا تھا. اور اگلے ہی لمحے وہ ملازمہ جس راستے گئی تھی اُسی طرف بڑھ گیا تھا.
” وہاں روم میں کون ہے. یہ جوس کس کے لیے اُوپر لائی ہو تم.”
صدام کو وہ ملازمہ ہاتھ میں ویسے ہی جوس پکڑے واپس آتی دیکھائی دی تھی. جب وہ اُس کے سامنے آتا کڑے تیوروں سے گھورتے بولا.
صدام کے انداز پر ملازمہ ایک دم گھبرا گئی تھی. ایک نظر اردگرد کا جائزہ لے کر وہاں کسی کے نہ ہونے کا اطمینان کرتے وہ صدام کی جانب اُمید بھری نظروں سے دیکھنے لگی تھی.
” صاحب جی بیگم صاحبہ کو پتا نہیں کیا ہوا ہے. وہ پہلے بھی گھر لیٹ آتی رہی تھیں. مگر اُس دن آپ کے گھر شادی کے فنکشن سے وہ صبح تین بجے لوٹیں تھیں. اُن کی حالت بہت خراب تھی.
دو دن سے اُنہوں نے خود کو کمرے میں لاک کرکے رکھا ہوا ہے. نہ کچھ کھا رہی ہیں نہ پی رہی ہیں. اور سختی سے منع کر رکھا ہے کہ کسی کو بھی مجھ سے نہیں ملوانا. خاص طور پر آپ سے. اُنہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ آئیں تو یہی کہا جائے وہ گھر پر نہیں ہیں. صاحب جی میں بہت سالوں سے اِس گھر میں کام کررہی ہوں. امل بی بی جی نے میرے ہر اچھے بُرے وقت میں میرا ساتھ دیا ہے.
میں بھی اِس مشکل وقت میں اُن کو ایسے نہیں چھوڑ سکتی. اِس لیے اُن کے کہے کے خلاف جاتے آپ کو اب بتا دیا ہے. آپ پلیز اُن کی پریشانی دور کرنے میں مدد کریں.”
اُس ملازمہ کے ایک ایک لفظ سے امل کے لیے محبت اور عقیدت چھلک رہی تھی. صدام فکرمندی اور پریشانی کے عالم میں ملازمہ کے اِس انکشاف پر ساکت سا کھڑا رہ گیا تھا. اُس کے گھر سے تو امل دس بجے تک نکل چکی تھی. تو پھر تین بجے تک وہ کہاں تھی.
صدام کا دماغ بالکل اُلجھ چکا تھا.
” صاحب جی ایک بات اور آپ سے کرنی تھی. اِس گھر میں میں اور میرا شوہر ہی کام کررہے اتنے سالوں سے. دو ہی لوگ ہیں گھر کے زیادہ ملازمین کی ضرورت ہی نہیں پڑی. مگر صاحب جی جس دن بی بی جی گھر دیر سے لوٹی تھیں. اُسی دن صبح یہاں ایک میاں بیوی نوکری کی غرض سے آئے ہیں. اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں امل بی بی جی نے رکھا ہے. جبکہ امل بی بی جی نے پہلے تو انکار کردیا مگر اچانک چونک کر کہا کہ ہاں میں نے ہی بلایا ہے. پر صاحب جی اُن لوگوں کی حرکتیں مجھے ٹھیک نہیں لگ رہیں. ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہیں. ہم دونوں میاں بیوی کے کاموں پر بھی اور بی بی جی پر بھی. “
اُس ملازمہ کے اگلے انکشاف نے صدام کے دماغ میں چلتی کچھ سوالوں کا جواب دے دیا تھا.
” وہ دونوں کہاں ہیں اِس وقت.”
صدام نے کچھ سوچتے پوچھا.
” صاحب جی وہ ہر روز اِس وقت آدھے گھنٹے کے لیے کہیں نکل جاتے ہیں. اور پوچھنے پر ہمیشہ ٹال دیتے ہیں.”
ملازمہ نے اپنی ایک اور اُلجھن بتائی تھی.
” ویری گڈ. یہ میری گاڑی کی کیز ہیں. اپنے شوہر کو بولو. اِسے پارکنگ سے ہٹا دے. اور اگر وہ لوگ واپس آئیں تو اُن کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دینا کہ میں گھر میں موجود ہوں.”
صدام اُسے گاڑی کی کیز دیتا اُس سے جوس کا گلاس پکڑتا جلدی سے امل کے روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
” صفیہ تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی. میں نے تمہیں کتنی بار بولا ہے نہیں کھانا پینا مجھے کچھ بھی. نکل جاؤ میرے روم سے ورنہ یہی گلاس تمہارے اُوپر اُلٹ دوں گی.”
امل کی بھیگی مترنم آواز صدام کی سماعتوں سے ٹکراتی اُسے بے چین کرگئی تھیں.
” تو اُلٹ دو. جو مرضی کرنا ہے کرلو. کیونکہ آج تمہیں کھانا بھی ہوگا اور پینا بھی. میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں سنتی تم میرے بات.”
صدام روم لاک کرتا امل کی جانب پیشِ قدمی کرتے بولا. جبکہ صدام کی آواز پر ایک کونے میں زمین پر سکڑی سمٹی گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی امل نے کرنٹ کھا کر اُوپر دیکھا تھا. صدام کو اپنے روم میں اپنے سامنے کھڑا دیکھ امل کی آنکھوں میں خوف اُبھرا تھا.
زیرو پاور کی روشنی کی وجہ سے روم میں ملگجا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا. جسے صدام نے لائٹ آن کرتے ختم کردیا تھا.
اچانک روشنی آنکھوں پر پڑنے کی وجہ سے امل نے آنکھیں سختی سے میچ لی تھیں. دو دن سے یہی اندھیرا اُس کا ساتھی بنا ہوا تھا. اتنی جلدی روشنی سے مانوس ہونا اُس کے لیے مشکل تھا.
جبکہ امل کی حالت دیکھ صدام کے دل کو کسی نے مٹھی میں جکڑ کر مسل دیا تھا.
بلیک قمیض شلوار میں بالوں کی چٹیا کیے جس میں سے آدھے سے زیادہ بال نکل چکے تھے. زرد چہرے اور سوجی آنکھوں کے ساتھ بیٹھی وہ لڑتی جھگڑتی کبھی نفرت اور کبھی محبت کا اظہار کرتی وہ اُس کی امل بالکل بھی نہیں تھی. بلکہ یہ تو کوئی بہت ہی لاچار اور کمزور لڑکی تھی.
” صدام جعفر چلیں جائیں یہاں سے. مجھے نہ ہی آپ سے کوئی بات کرنی ہے نہ ہہ آپ کی شکل دیکھنی ہے. “
امل کا دل چاہا تھا. سامنے کھڑے اِس شخص کے چوڑے سینے میں چھپ کر اپنا غم کہہ دے. مگر وہ ایسا کرکے صدام جعفر کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی. جس کے دشمن اِسی گھر میں موجود تھے.
صدام جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھتے جارحانہ تیور لیے امل کی جانب بڑھا تھا. اُسے دونوں بازوؤں سے تھام کر صدام نے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا. امل اِس حملے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی. بہت مشکل سے اُس نے اپنی چیخ روکتے صدام کا بازو جکڑتے خود کو گرنے سے بچایا تھا. اِس بات پر غور کیے بنا کہ وہ اِس وقت صدام جعفر کی گرفت میں ہے. جو اُسے کبھی گرنے نہیں دے گا.
” ایس پی امل میں پہلے ہی اتنے دنوں کے تمہارے اِس ڈرامے کی وجہ سے بہت غصے میں ہوں. مجھے مزید غصہ دلا کر اپنے لیے مشکل پیدا مت کرو. پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس یہ جوس کا گلاس ختم کرو. ورنہ مجھے اپنے طریقے سے یہ کام سرانجام دینے میں زیادہ ٹائم نہیں لگے گا.”
صدام جوس امل کی جانب بڑھاتے بے لچک انداز میں بولا تھا.
جس پر امل نے بے بسی سے اُسے گھورا تھا.
” فکر مت کرو. میری یہاں موجودگی کے بارے میں کسی کو علم نہیں ہے.”
صدام نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے یقین دلایا تھا. جس پر اگلے ہی لمحے اُس نے امل کی آنکھوں کا ڈر اور خوف کم ہوتے دیکھا تھا.
امل نے بالکل کسی سعادت مند بچے کی طرح جوس تھام کر پینا شروع کردیا تھا.
” صدام پلیز اب آپ جائیں یہاں سے.”
امل نہیں چاہتی تھی کہ اُس کڈنیپر کو صدام کے یہاں آنے کا علم ہو اور وہ اُس کے بھائی کو نقصان پہنچائے اِس لیے وہ جلد از جلد صدام کو یہاں سے بھیجنا چاہتی تھی.
” امل ریلیکس میں نے کہا نا تمہیں. کسی کو میرے یہاں ہونے کے بارے میں نہیں پتا.”
صدام نے امل کے دونوں کندھوں پر دباؤ ڈالتے اُس کے اندر کا خوف کم کرنا چاہا تھا.
جس پر امل ایک پل کے لیے چونک گئی تھی. صدام کو یہ بات کیسے پتا تھی کہ وہ اُسے کسی کے خوف کی وجہ سے یہاں سے بھیجنا چاہتی ہے.
” مگر آپ کو کیسے.”
امل نے سوالیہ نظروں سے صدام کی جانب دیکھتے پوچھنا چاہا تھا.
” جاؤ فوراً فریش ہوکر آؤ.”
صدام اُس کی بات وہیں ٹوک کر اُس کے سوال کو نظر انداز کر گیا تھا. اور امل کا بھیگا چہرا صاف کرتے اُس کے چہرے کے گرد بکھرے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے نرمی سے کہا تھا.
امل صدام کے ضدی انداز پر اُسے خفگی بھری نظروں سے دیکھتے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
” بلیک کے علاوہ کوئی اور کلر پہن کر آؤ. چڑھ ہوچکی ہے مجھے اِس کلر سے اب.”
صدام اُسے الماری سے پھر بلیک کلر کا سوٹ نکالتا دیکھ سختی سے منع کرتے بولا.
دو دن سے بھوکا ہونے کی وجہ سے امل میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ صدام جعفر سے بحث کر سکے. اِس لیے بلیک کے بجائے سامنے ہی لٹکا مہرون ڈریس لیتی وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
صدام کو امل اِس طرح اُس کی ہر بات پر کسی روبوٹ کی طرح عمل کرتی بالکل بھی اچھی نہیں لگی تھی.
امل کا یہ کھویا کھویا کسی خوف کے زیرِ اثر انداز صدام کو کسی بڑے اندیشے میں ڈال چکا تھا.
کچھ ہی دیر میں امل اُسے شاور لے کر نکھری نکھری سی واش روم سے نکلتی نظر آئی تھی. صدام کی نگاہیں اُس کے اِس سادہ سے سوگوار حسن پر ٹھہر سی گئی تھیں.
مسلسل رونے کی وجہ سے چہرے کی سُرخی بھری ہوئی تھی. بڑی بڑی دل نشین آنکھوں کی سوجن صدام کے دل کو بے کل کیے دے رہی تھیں. صدام کو امل پہلے سے بھی زیادہ کمزور لگی تھی. گیلے بالوں کو ٹاول میں لپیٹے وہ صدام کے قریب آئی تھی.
” صدام آپ کیوں آئیں ہیں یہاں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی. پلیز چلے جائیں یہاں سے.”
امل کی ابھی بھی وہی رٹ تھی.
صدام نے بنا کچھ بولے امل کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنے قریب صوفے پر بیٹھا لیا تھا.
” تم مجھے بتانا پسند کرو گی. کہ ایسا کیا ہوا ہے. جس نے ایس پی امل کو کسی ڈرپوک اور کمزور لڑکی کی طرح چھپنے پر مجبور کردیا ہے.”
صدام کے گہرے طنز پر امل نے تڑپ کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
” میں چھپ کسی سے نہیں رہی. میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی. مجھے کسی سے نہیں ملنا تھا.”
امل ابھی بھی صدام کو کچھ بھی بتانے کے حق میں نہیں تھی. وہ اُسے کیا بتاتی کہ وہ اِس وقت ایک پولیس آفیسر نہیں ایک ایسی کمزور اور بے بس عورت تھی. جس کے بھائی اور شوہر دونوں کی زندگی خطرے میں تھی. اُسے اُن دونوں میں سے کسی ایک کو چننا تھا. اور کسی ایک کو قربان کرنا تھا.
” امل بس بہت ہوگیا. اگر اب تم نے مجھے سچ نہ بتایا تو جو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. یہ کیسی محبت ہے تمہاری. جس میں تمہیں مجھ پر اعتبار ہی نہیں ہے. اِس کا یہی مطلب ہوا نا. تمہیں مجھ سے محبت نہیں تھی. بلکہ وہ صرف مجھ سے بُرا کرنے کا ایک پچھتاوا تھا. جو کہ اب ختم ہوچکا ہے.”
صدام نے درشت لہجے میں کہتے امل کو کچھ بولنے پر اُکسایا تھا.
جبکہ اپنی محبت پر صدام کے اُنگلی اُٹھانے پر امل تڑپ اُٹھی تھی.
” نہیں صدام پلیز ایسا مت بولیں. میں نے بہت محبت کی ہے آپ سے. بہت چاہا ہے آپ کو. ہاں میں بہت کمزور ہوں کیونکہ مجھ میں اب مزید کسی کو کھونے کا حوصلہ نہیں ہے. میں بچپن سے تنہا رہ رہ کر اب تھک چکی ہوں.
میں نے آپ کے ساتھ بہت غلط کیا مگر میں اتنی ظالم نہیں ہوں. اُس سب کے پیچھے بہت بڑی وجہ تھی. میں نے کتنی بار سوچا. بھول جاؤں سب کچھ نکال دوں وہ بدلے کی آگ اپنے دل سے. مگر میری مری بہن کی درد اور اذیت سے بھرے آخری جملے مجھے بے چین کردیتے تھے. سکون سے نہیں رہنے دیتے تھے مجھے. میں کیا کرتی.”
امل اپنا چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپا کر بُری طرح روتے جیسے پھٹ پڑی تھی. اتنے سالوں سے اُس کے دل میں بھرا غبار اب اُس کے لیے جان کا عذاب بن چکا تھا. جسے ایک مہربان کندھا ملتے ہی امل نے نکالنا چاہا تھا.
امل کی یہ حالت صدام کا دل چیڑ گئی تھی. اتنے دن امل سے رواں رکھے گئے اپنے سلوک پر صدام کو خود پر جی بھر کر غصہ آیا تھا.
اُس نے بے اختیار آگے بڑھ کر امل کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا.
اُسے اِس لڑکی کی کمزوری نہیں طاقت بننا تھا.
امل بھی صدام کا سہارا ملتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
صدام نے اُسے چپ نہیں کروایا تھا. وہ چاہتا تھا وہ ایک بار ہی رو کر اپنا دل ہلکا کردے.
” صدام مجھے معاف کردیں. میں نے آپ کو اتنا غلط سمجھا. آپ ریزن جاننا چاہتے تھے نا. میں کس بات کا بدلہ لینا چاہتی تھی آپ سے.”
امل نے جب رو کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیا تو صدام کے سینے پر ہی سر رکھے اُس نے بھیگی آواز میں اُسے مخاطب کیا تھا.
صدام بولا کچھ نہیں تھا. بلکہ امل کا ماتھا چومتے اُسے ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے کا یقین دلایا تھا.
امل صدام کے سینے سے لگی اُس کی دھڑکنوں کو محسوس کرتے سکون سا اپنے تن بدن میں اُترتا محسوس کررہی تھی.
اُس کے دل نے بے اختیار ہمیشہ کے لیے اِسی پناہ گاہ میں رہنے کی دعا کی تھی. امل نے بنا کوئی بات چھپائے سویرا اور ہمایوں کے حادثے سے لے کر اب تک کی ساری حقیقت صدام کے سامنے کھول کر رکھ دی تھی.
جبکہ صدام شاک کی کیفیت میں آچکا تھا. امل اُس کے حوالے سے اتنی بڑی غلط فہمی کا شکار تھی. اور ہر بار امل کی انویسٹی گیشن پر اُسے صدام کے خلاف ہی ثبوت ملے تھے. اِس بات کے ساتھ ساتھ ایک اور بات جس نے صدام کو بہت بڑے شاک سے دوچار کیا تھا. وہ تھی ہمایوں کا زندہ ہونا.
ایسا کون سا دشمن تھا اُس کا جو اُسے برباد کرنا چاہتا تھا. اور جس کے قبضے ہمایوں تھا. اِن سب باتوں نے صدام کی سوچوں کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا.
مگر اِس وقت اُسے خود سے بھی زیادہ اپنی پاگل بیوی کو سنبھالنا تھا. جس نے دو دنوں میں ہی اپنی حالت بگاڑ کر رکھ دی تھی.
” آئم سوری صدام. میں جانتی ہوں میری اُن کی شرط ماننے والی بات پر آپ مزید ہرٹ ہوئے ہونگے. لیکن اگر میں وہاں سے بات نہ مانتی تو وہ لوگ میرے بھائی کو مار دیتے.”
امل نے سر اُٹھا کر صدام کی جانب دیکھا تھا. اُس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو جاری ہوچکے تھے.
” امل تم نے مجھے بہت ڈِس اپوئنٹ کیا ہے. مجھے تم سے اِس بات کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی.”
صدام امل کو خود سے دور کرتا صوفے سے اُٹھتا چہرا موڑ کر کھڑا ہوگیا تھا. وہ جانتا تھا اُس کی ہمدردی دیکھانا امل کو مزید کمزور کرسکتا تھا. اور ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا.
امل ایک مضبوط اور بہادر لڑکی تھی. جس نے اپنے مشکل ترین وقت میں نہ صرف اپنے بابا کو سنبھالا تھا. بلکہ خود بھی پولیس فورس جیسی ٹف فیلڈ میں آکر اپنا آپ منوایا تھا.
تو ایسی لڑکی کمزور کیسے ہوسکتی تھی.
اکثر مضبوط لوگوں کی زندگی میں بھی ایسا ٹائم آتا ہے. جب وہ خود کو دنیا کا کمزور ترین انسان تصور کرتے ہیں. اُس وقت اگر اُنہیں ہمددیوں اور دلاسوں پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنی اصل شخصیت کو کھو دیتے ہیں. اور صدام ایسا کبھی نہیں ہونے دینا چاہتا تھا.
اُس کی امل ہار نہیں سکتی تھی. نہ وہ امل کو اپنے سہارے پر چلانا چاہتا تھا. صدام کے مطابق عورت میں مرد سے زیادہ درد اور تکلیف برداشت کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے. اور دنیا میں کوئی عورت کمزور نہیں ہوتی. کہ وہ کسی کے سہارے کے بغیر آگے نہ بڑھ سکے. بس اُسے اپنے اندر کی طاقت کو پہنچاننا ہوتا ہے. اگر وہ خود کو پہچان لے تو دنیا کی کوئی طاقت اُسے ہرا نہیں سکتی.
صدام کو بھی امل کو اپنی اُسی طاقت اور خود اعتمادی کو جگانا تھا.
صدام کے الفاظ پر امل کی آنکھوں میں آنسو کی شدت میں اضافہ ہوا تھا. اُسے اِسی بات کا ڈر تھا. کہ صدام اُس سے ناراض ہوجائے گا. اور وہی ہوا تھا.
” صدام میں جانتی ہوں. آپ کا نام لے کر میں نے غلط کیا ہے. مگر آپ مجھے اِس کی جو سزا بھی دینا چاہیں. مجھے منظور ہے. لیکن پلیز اب دوبارہ مجھ سے منہ مت موڑیے گا میں سہہ نہیں پاؤں گی.”
امل صدام کے سامنے آتی ملتجی لہجے میں بولی. جبکہ اُس کو اِس طرح روتا دیکھ صدام کے دل کو کچھ ہوا تھا.
” غلطی کی ہے تم نے بہت بڑی جو کہ میں تب ہی معاف کروں گا. جب تم اِس کا ازالہ نہیں کرلیتی. مگر اُس سے پہلے تمہیں اپنی غلطی سے اچھی طرح آگاہ ہونا زیادہ ضروری ہے.”
صدام امل کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا اُن میں جھانکتے ہوئے بولا.
جس پر امل نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” ایس پی امل صدام کمزور نہیں ہے. اُس کو کسی کی دھمکی سے ڈر کر منہ چھپا کر کمرے میں بند رہنا زیب نہیں دیتا. تم کون ہو ایک پولیس آفیسر. اِس کا مطلب سمجھتی ہو تم. اپنی ڈیوٹی جانتی ہو کیا ہے. جن لوگوں کو عوام کی پروٹیکشن کی زمہ داری سونپی جاتی ہے. ایسے لوگ جو دوسروں کی حفاظت اور اُن کو انصاف دلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں. تو کیا اُنہیں خود اپنی مشکل کے وقت پر ڈر کر ہار کر پیچھے ہٹ جانا زیب دیتا ہے. کیا یہی ہے ایس پی امل اتنی ڈرپوک, بے بس , لاچار.
کیا اِس طرح کرکے تم اپنی وردی , اپنی ڈیوٹی کا حق ادا کررہی ہو.”
صدام نے امل کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھڑتے اُسے حقیقت سے آگاہ کرتے ہمت دلائی تھی. لڑنے کا حوصلہ دیا تھا.
جاری ہے ۔۔۔۔
