No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
حُرمت پہلی ہی صبح ایسی کسی صورتِ حال کے لیے بالکل تیار نہیں تھی. چاہے سامنے بیٹھا شخص ذہنی معذور تھا مگر وہ تو بالکل ٹھیک تھی. اِس شخص کو تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا. مگر حُرمت کی جان نکلی جارہی تھی.
بہت ہمت جمع کرتے اُس نے اپنے سامنے بالکل شریف سعادت مند بچے کی طرح بیٹھے یزدان کا چہرا ہاتھ بڑھا کر پانی سے زرا سا گیلا کیا تھا. اُس کے چہرے کو ٹچ کرتے حُرمت کی دھڑکنیں بےقابو ہوئی تھی. اور رخسار بالکل ٹماٹر کی طرح لال ہوچکے تھے. فیس واش ہاتھ پر ڈالتے اُسے اپنے ہاتھ کپکپاتے محسوس ہوئے تھے.
جب فیس واش لگانے کے لیے اُس نے یزدان کی جانب دیکھا تو وہ چونکی تھی. اُسے یزدان کے چہرے پر ایک محظوظ کن مسکراہٹ کی جھلک دکھی تھی. جو اُس کے دیکھتے ہی معدوم ہوئی تھی. مگر اِس وقت وہ اِس کنڈیشن میں نہیں تھی. کہ ایسی کسی بات پر غور کر پاتی. دوسرا اُس کے مطابق یہ شخص پاگل تھا. جو کبھی بھی کہیں بھی ہنس بول اور چیخ چلا سکتا تھا.
حُرمت کے ہاتھ یزدان کے چہرے کے مغرور کھڑے نقوش سے ٹکراتے اُس کے دل میں عجیب سی پلچل پیدا کررہے تھے. جس سے گھبرا کر حُرمت جلدی سے پانی سے اُس کا چہرا واش کرواتے پلٹی تھی. لیکن وہ صرف دو قدم ہی چل پائی تھی. جب اُسے ایک کھینچاؤ سا محسوس ہوا تھا. وہ جیسے ہی پلٹی اُس نے اپنے دوپٹہ کا پلو یزدان کی گرفت میں پایا تھا.
” میرا فیس ڈرائے کون کرے گا.”
یزدان انتہا کی معصومیت چہرے پر سجائے حُرمت کی جانب دیکھ رہا تھا. اور پھر بنا اُسے کچھ سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُس نے حُرمت کا دوپٹہ مزید اپنی جانب کھینچتے اپنا چہرا صاف کیا تھا. کھینچاؤ کی وجہ سے حُرمت اُس کے مزید قریب آگئی تھی. اُس لگا تھا اِس شخص کے ساتھ پورا دن رہنا اُس کے لیے بہت مشکل ترین ہونے والا تھا.
اُس کا دوپٹہ چھوڑتے ہی حُرمت جلدی سے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
واپس آکر اُسے وہ پہلے سے ہی ناشتے کے ٹیبل کے قریب بیٹھا نظر آیا تھا. حُرمت بھی خاموشی سے جاکر اُس کے سامنے بیٹھ گئی تھی.
پلیٹ میں اپنا ناشتہ نکالنے لے بعد اُس نے ایسے ہی بیٹھے یزدان کی جانب دیکھا تھا.
” اب اِس کو کیا مسئلہ ہے ناشتہ کیوں نہیں کررہا.”
حُرمت کچھ ہی دیر میں اُس سے اچھی خاصی زچ ہوچکی تھی.
” کیا ہوا آپ ناشتہ کیوں نہیں کررہے.”
ناچاہتے ہوئے بھی دانت پیستے اُسے پوچھنا پڑا تھا.
” تم کرواؤ گی مجھے ناشتہ. میرے ہاتھ میں درد ہے میں خود نہیں کرسکتا. “
یزدان کسی ناراض اور پریشان بچے کی طرح بولتا حُرمت کا رہا سہا ضبط بھی ختم کرگیا تھا. حُرمت نے غور کیا تو واقعی اُس کے دائیں ہاتھ پر بینڈیج موجود تھی.
جس پر ناچاہتے ہوئے حُرمت کو اُس کی بات ماننی پڑی تھی. اگر یہ نارمل شخص ہوتا تو وہ اب تک اِس کی عقل اچھے سے ٹھکانے لگا چکی ہوتی. مگر اصل مسئلہ ہی یہی تھا. کہ وہ اِس شخص کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی. جسے خود بھی نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کررہا ہے.
حُرمت نے نجانے کتنی مشکلوں سے ضبط کرتے پراٹھے کا نوالہ بناتے یزدان کی جانب بڑھایا تھا. حُرمت ہاتھ پیچھے کرنے ہی لگی تھی. جب بےدھیانی میں اُس کا ہاتھ یزدان کے ہونٹوں سے ٹچ ہوتے اُس کی دھڑکنوں کا شور مزید بڑھا گیا تھا.
حُرمت کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے. اُس کے لیے یہ لمحے کسی قیامت سے کم نہیں تھے. جتنے ٹائم میں اُس نے یزدان کو ناشتہ کروایا تھا. یزدان کی نگاہیں مسلسل اُس پر جمی ہوئی تھیں. جو بات حُرمت کی کوفت اور گھبراہٹ میں اضافہ کرنے کو کافی تھی.
اُس نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا تھا. اُس کی ہمت اب جواب دے چکی تھی.
وہ جلدی سے وہاں سے اُٹھی تھی کہ کہیں اُس کے شوہر نامدار اپنی کوئی نئی خواہش نہ ظاہر کر دیں. مگر یزدان کی سائیڈ سے نکلنے سے پہلے ہی اُس کی کلائی یزدان کے ہاتھ میں قید ہوچکی تھی. حُرمت اِس کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی. وہ جھٹکے سے اُس کی جانب پلٹی تھی. مگر یزدان کے چہرے پر اُس کی حرکت کے برعکس بہت عام سا تاثر تھا. حُرمت جو چند سیکنڈ پہلے شک میں مبتلا ہوئی تھی. یزدان کے چہرے پر سجے معصومانہ تاثرات دیکھ کر وہ ختم ہوچکا تھا.
حُرمت نے اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا تھا. مگر اُس کی سخت گرفت حُرمت کو اچھا خاصہ حیران کر گئی تھی. لیکن اُس کے اگلے عمل نے حُرمت کو ہلنے کے بھی قابل نہیں چھوڑا تھا.
” تم بہت اچھی ہو. مجھے کھانا کھلانے کا انعام ہے یہ.”
یزدان چہرے پر بھولپن لیے نرم تاثرات سے حُرمت کو دیکھ کر اُس کی شفاف گلابی ہتھیلی پر اپنے لب رکھتا اُٹھا تھا. بیڈ سائیڈ پڑا اپنا ٹیڈی بیئر لیے وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گیا تھا.
جب کہ حُرمت کا چہرا یزدان کی اِس حرکت پر اِس قدر لال ہوچکا تھا جیسے ابھی اُس میں سے خون چھلک پڑے گا.
” اُف ﷲ جی. اگر یہ شخص پاگل ہوکر ایسا ہے. ٹھیک ہوکر تو پتا نہیں کیسا ہونا تھا اِس نے. ﷲ جی پلیز اِس پاگل کو جلد از جلد ٹھیک کردیں تاکہ میں یہاں سے جاسکوں. “
حُرمت دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو کنٹرول کرتی وہی صوفے پر ٹک گئی تھی.
اُسے بلال نے اپنی صدام سے ہوئی ہر بات بتا دی تھی. حُرمت نہیں جانتی تھی. یزدان کو اُس سے ایسی کیا اُنسیت تھی. جو اُسے دیکھ صدام کے مطابق وہ نارمل بی ہیو کرتا تھا. مگر جو بھی تھا. حُرمت نکاح کرتے وقت ہی اپنے دل میں یہ فیصلہ کر چکی تھی. کہ وہ بلال کے اُوپر سے یزدان کے احسانات ختم کرنے کے لیے اُس کے ٹھیک ہونے تک اِس رشتے کو نبھائے گی. مگر جیسے ہی وہ ٹھیک ہوجائے گا وہ اُسے اپنائے یا نہ اپنائے مگر حُرمت خود اُس سے یہ رشتہ ختم کردے گی.
اِس طرح صرف بلال کے اُوپر سے ہی یزدان کے احسانات نہیں اُتریں گے بلکہ وہ بھی اپنے بھائی کے بچپن سے لے کر اب تک کیے تمام احسانوں کا بدلہ چکا دے گی.
آخری بات ذہن میں آتے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے. وہ اُن سب کو بہت مِس کررہی تھی. مگر اُس کے بھائی نے اُس کی انا کو بہت بُری طرح ٹھیس پہنچائی تھی. جس کے بعد اب حُرمت کبھی بھی واپس اپنے بھائی کے پاس جانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی. وہ اپنے بل بوتے پر کچھ کرنا چاہتی تھی. اب وہ مر کر بھی مزید کسی کا احسان خود پر نہیں لینا چاہتی تھی.
ہر بار یہ بات سوچ کر وہ اپنی آنکھیں نم ہونے سے نہیں روک پاتی تھی. کہ اِس دنیا میں وہ کسی کے لیے بھی خاص نہیں تھی. کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں تھا. جو اُس کے ساتھ مخلص ہو بنا کسی مطلب کے اُس سے محبت کرتا ہو.
مگر شاید یہی اُس کی سب سے بڑی بھول تھی. اِس دنیا میں ایک ایسا شخص موجود تھا. جو شاید جی ہی صرف اُسی کے لیے رہا تھا. جس کے لیے حُرمت اُس کی آتی جاتی سانسوں کی ضمانت تھی. لیکن ابھی حُرمت خود ہی اپنے لیے اُس انسان کی دیوانگی سے ناواقف تھی. اگر جان لیتی تو اپنی قسمت پر ناز کرتی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صدام نے اپنے سورسز استعمال کرتے ایک دن کے اندر اندر وہ نیوز ہر طرف سے ہٹوا دی تھی. اور اُس کے سخت ایکشن اور جھوٹی خبر ہونے کی وجہ سے اِس بات کو زیادہ اُچھلا بھی نہیں گیا تھا.
صدام امل کو سیکرٹری ہونے کے باوجود خود سے دور دور ہی رکھتا تھا. جس کی وجہ اُس کی امل کے لیے بدلتی فیلنگز تھیں. اُس نے آج تک کبھی کسی لڑکی کے لیے ایسا فیل نہیں کیا تھا. جو پچھلے کچھ دنوں سے امل کو دیکھ اُس کے ساتھ ہورہا تھا. نہ اُس نے امل کا چہرا دیکھا تھا. نہ ہی وہ اُس کے بارے میں کچھ جانتا تھا. مگر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اِس لڑکی کی جانب متوجہ ہورہا تھا.
یہی بات صدام کو کوفت اور بے چینی میں مبتلا کررہی تھی. وہ امل کو خود سے دور رکھنا چاہتا تھا. مگر امل کی ڈیوٹی ہی ایسی تھی کہ دن میں دو تین بار تو اُن کا آمنا سامنا ہو ہی جاتا تھا.
کافی دیر سے امل کے بارے میں سوچتے صدام کو اِس بات کا خیال ہی نہیں رہا تھا. کہ جس لڑکی کو وہ اگنور کرنا چایتا ہے. پچھلی کتنی دیر سے وہ اُسی کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا. اور اُسی کیفیت میں اچانک دل میں پیدا ہوتی خواہش پر اُس نے بیل پر ہاتھ رکھتے پین کو اندر بلایا تھا. جو خاموشی سے اندر آکر اُس کے آرڈر کے مطابق دائیں جانب موجود گلاس وال کے کرٹنز ہٹا کر واپس پلٹ گیا تھا.
گلاس وال کے سامنے ہی امل کا کیبن تھا. جہاں سے صدام آرام سے اُسے کام کرتے دیکھ سکتا تھا. ہمیشہ کی طرح سر سے لے کر پیر تک خود کو سیاہ چادر میں لپیٹے وہ کمپیوٹر سکرین پر نظریں ٹکائے کام میں مصروف تھی.
صدام کی نظر کی بورڈ پر چلتے اُس کے ہاتھوں پر پڑی تھی. جو دودھ کی طرح سفید ہمیشہ کی طرح اِس وقت بھی سیاہ نیل پینٹ سے سجے ہوئے تھے. صدام نے نوٹ کیا تھا ہر وقت اُس کے دائیں ہاتھ کے انگھوٹھے میں ایک سیاہ کلر کی رنگ موجود رہتی تھی. جو اُس کے ہاتھ کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتی تھی.
امل جو اپنے کام میں مصروف تھی خود پر کسی کی گہری نظریں محسوس کرتے جیسے ہی چہرا گھمایا صدام کو اپنی جانب دیکھتا پاکر ایک لمحے کے لیے بوکھلا گئی تھی. جو اُس کے دیکھنے پر فوراً چہرا موڑ گیا تھا.
” اوہ تو لگتا ہے میرا وار نشانے پر لگا ہے. صدام جعفر دیکھنا اب میں کیسے تمہاری زندگی عذاب کرتی ہوں.”
امل واپس کمپیوٹر سکرین پر متوجہ ہوتی آنکھوں ہی آنکھوں میں ہنس دی تھی.
امل کچھ دنوں سے ہی صدام کی آنکھوں کا بدلتا رنگ اور اُس کا جان بوجھ کر اگنور کرنا نوٹ کرچکی تھی. وہ اُسے بہت کم اپنے آفس میں بلاتا تھا. امل اچھے سے یہ سب سمجھ رہی تھی. اِس لیے وہ جان بوجھ کر زرا زرا سا کام نکال کر صدام کے پاس پہنچ جاتی تھی. اِس وقت بھی اِسی ارادے سے وہ صدام کے آفس کی جانب بڑھ گئی تھی.
صدام امل کے اچانک دیکھنے پر ہوش میں آتے سیدھا ہوا تھا.
” استغفرﷲ یہ کیا ہوگیا ہے مجھے. میں کیسے اِس طرح کسی بھی غیر لڑکی کو گھور سکتا ہوں. صدام جعفر گیلانی اپنے دل و دماغ کو جگہ پر رکھو. وہ بچاری ایک شریف لڑکی مجبوری کے تحت یہاں جاب کرنے آئی ہے. بلاوجہ بدنام ہوجائے گی.”
صدام خود کو ہی بُری طرح سرزنش کرتا سامنے رکھی فائل کی جانب متوجہ ہوا.
جب امل ہلکا سا ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی.
” اُف میرے خدا یہ لڑکی ہے کیا چیز. کیسے اگنور کروں میں اِسے.”
ایک بار پھر امل کو اپنے سامنے دیکھ صدام پہلو بدل کر رہ گیا تھا.
” سر یہ کچھ فائلز پر آپ کے سائن چاہئے تھے.آپ پلیز ایک بار اِن کو دیکھ کر سائن کر دیں. ابھی ارجنٹ ضرورت ہے اِن کی. احمد سر کو کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ میں یہ ساتھ لے کر جانی ہیں.”
امل جانتی تھی وہ اُسے بعد میں سائن کرنے کا کہہ کر یہاں سے بھیج دے گا. اِس لیے وہ جلدی سے ساری تفصیل بتا گئی تھی. جس کی وجہ سے صدام کو اُس کے سامنے ابھی ہی فائلز پر سائن کرکے واپس دینا تھا.
” اوکے بیٹھیں آپ.”
صدام جو واقعی اُسے وہاں سے بھیجنے کا ارادہ رکھتا اُس سے فائل لے کر بیٹھنے کا اشارہ کرتے بولا.
صدام نے ایک بار بھی نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب نہیں دیکھا تھا.
” سر یہاں پر بھی سائن کرنے ہیں.”
اُسے ایک صفحہ پر بنا سائن کیے آگے کرتے دیکھ امل نے جلدی سے ہاتھ آگے کرتے اُس جگہ کی نشاندہی کی تھی.
جبکہ صدام اپنے ہاتھ کے بالکل قریب اُس کا ہاتھ دیکھ دل میں اچانک اُمڈ آنے والی خواہش پر ہونٹ بھینچ کررہ گیا تھا. اُسے خود پر اب شدید غصہ آنے لگا تھا. اُس نے جلدی سے ایک فائل پر سائن کرتے وہ امل کو تھاما دی تھی. اِس سے پہلے کہ وہ اُسے جانے کو بولتا فاریہ دروازہ دھماکے کی آواز سے کھولتی پیچھے آتے گارڈ کے روکنے کے باوجود اندر آچکی تھی.
” سوری سر ہم نے اِن کو بہت روکنے کی کوشش کی مگر یہ ہماری بات سن ہی نہیں رہی تھیں.”
گارڈ صدام کے گھورنے پر سر جھکا کر بولا.
” صدام جعفر تم میرے خلاف اتنی بڑی چال چلو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی. میرے ہی شوہر کی دوسری شادی کروا کر تم نے میرا اُس کے گھر میں داخلہ بھی روک دیا ہے.”
فاریہ بنا امل کا لحاظ کیے صدام کے قریب جاکر اُس پر چیختے ہوئے بولی.
امل اِس ہنگامے سے گھبرا کر اپنی سیٹ سے کھڑی ہوچکی تھی. جبکہ صدام ابھی بھی پرسکون انداز میں اپنی کرسی پر ایسے بیٹھا تھا جیسے فاریہ کی باتیں اُسے سنائی ہی نہ دے رہی ہوں.
” تم شرافت سے یہاں سے جانا پسند کرو گی یا میں تمہارا عورت ہونے کا لحاظ کیے بغیر گارڈ سے کہہ کر باہر پھینکوا دوں.”
صدام کا سرد لہجے میں دیا گیا جواب فاریہ کے ساتھ ساتھ امل کو بھی آگ لگا گیا تھا.
” گھٹیا شخص تمیز ہی نہیں ہے اِسے لڑکیوں سے بات کرنے کی.”
امل نفرت بھری نظروں سے صدام کو دیکھتی دانت پیس کر رہ گئی تھی.
” تم یہ ٹھیک نہیں کررہے صدام جعفر اِس کا انجام بہت بُرا ہوسکتا ہے. میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں.”
صدام کے دو ٹوک انداز پر اُس کی چیئر کے ساتھ کھڑی فاریہ ہلکا سا اُس کی جانب جھکتے لال آنکھیں اُس پر گاڑھتے ہوئے بولی.
امل نے ناپسندیدہ نظروں سے فاریہ کی یہ حرکت دیکھی تھی. ایک طرف وہ خود کو کسی اور کی بیوی کہہ رہی تھی. وہیں دوسری طرف وہ کسی اور مرد کے اتنے کلوز آرہی تھی.
اُسے فاریہ میں صرف ایک چیز پسند آئی تھی. جو تھی اُس کی صدام کے لیے بے پناہ نفرت.
اِس نفرت کو وہ اپنے کام کے لیے یوز کرسکتی تھی. مگر یہ لڑکی اُسے بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی.
” سٹے اوے یو ایڈیٹ گرل”
صدام نے خود پر جھکی فاریہ کا بازو پکڑ کر اُسے خود سے دور جھٹکا تھا. امل کو شاید آج پہلی بار صدام کا کوئی عمل اچھا لگا تھا.
” مس امل آپ….”
صدام کا دھیان اچانک امل کی جانب گیا تھا. وہ اُسے وہاں سے باہر بھیجنے ہی والا تھا. جب فاریہ بھی امل کو دیکھ صدام کی بات آدھے میں ہی کاٹ گئی تھی.
” اوہ تو یہ ہے وہ تمہاری سیکرٹری جس پر آج کل بہت مہربان ہوتے دیکھائی دے رہے ہو. “
فاریہ بڑی سی چادر سے نقاب لیے کھڑی لڑکی کو سر سے پیر تک گھورتے ہوئے بولی.
” فاریہ اِس سے آگے اگر زرا سی بھی بکواس کی تو تمہارا منہ توڑ دوں گا میں.”
صدام امل کے بارے میں فاریہ کی زرا سی بھی بات برداشت نہیں کرپایا تھا. وہ اپنی جگہ سے اُٹھتا اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ فاریہ کے ساتھ ساتھ امل بھی اپنی جگہ دہل گئی تھی.
” اتنا غصہ کیوں آرہا ہے تمہیں اِس لڑکی کے بارے میں زرا سا بھی غلط سن کر. کہیں میں نے سچ تو نہیں بول دیا. لڑکی لگ تو کافی حسین رہی ہے. صدام جعفر اپنی سیکرٹری پر کوئی مہربانیاں کر تو نہیں چکا.…”
فاریہ ابھی اور بھی بہت غلط بولنے والی تھی.
جب صدام اپنا ضبط کھوتے تیش کے عالم میں اُس کی جانب لپکا تھا.
” سر پلیز….”
اِس سے پہلے کے صدام کا ہاتھ فاریہ کی گال پر نشان چھوڑتا امل نے جلدی سے آگے آتے صدام کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اُسے روکا تھا.
جبکہ امل کے اچانک سامنے آجانے اور کندھے پر لمس محسوس کرتے صدام اپنی جگہ ساکت ہوا تھا. اگر وہ بروقت نہ رُکتا تو دونوں کا ٹکراؤ یقینی تھا. امل کا بازو صدام کے سینے سے جا ٹکرایا تھا.
فاریہ صدام کا غصہ دیکھ تن فن کرتی وہاں سے نکل گئی تھی.
امل سے یہ عمل اِس قدر بے اختیاری میں ہوا تھا. کہ وہ خود بھی کچھ پل کے لیے حیران رہ گئی تھی. بھلا اُسے کیا ضرورت تھی صدام کو روکنے کی. چاہے وہ کچھ بھی کرتا پھرتا.
امل نے جلدی سے اُس کے کندھے سے ہاتھ ہٹا کر پلٹنا چاہا تھا. مگر ہاتھ کھینچنے پر اُس نے دیکھا اُس کے ہاتھ میں موجود بریسلٹ کی چھوٹی چھوٹی ڈوریاں صدام کی شرٹ کے بٹنوں میں اُلجھ گئی تھی. اگر وہ زور سے کھینچتی تو یا تو اُس کا بریسلٹ ٹوٹ جاتا یا پھر صدام کی شرٹ کے بٹن. یہ بریسلٹ اُس کے پاس سویرا کا دیا آخری تحفہ تھا جسے وہ کسی صورت توڑنا نہیں چاپتی تھی.
امل کی کلائی اب صدام کے سینے سے ٹچ ہورہی تھی. امل اِس اچانک پیدا ہونے والی صورتِ حال پر خود کو دل ہی دل میں ڈھیروں گالیوں سے نواز دیا تھا. کہ آخر ضرورت ہی کیا تھی. اتنی ہمدردی دیکھانے کی. وہ بھی اُس شخص سے جس سے وہ انتہا درجے کی نفرت کرتی تھی.
امل صدام کے کافی نزدیک کھڑی تھی. جس کی وجہ سے اُس کا چہرا بالکل لال ہوچکا تھا. وہ جتنی بھی بہادر اور مضبوط سہی مگر اِس طرح کسی مرد کے قریب ہونا وہ بھی صدام جعفر جیسے مرد کے امل کو اچھی خاصی گھبراہٹ میں مبتلا کر گیا تھا.
وہ کپکپاتے ہاتھ سے بریسلٹ نکالنے کی کوشش کرتی مسلسل ناکام ہورہی تھی. صدام تھوڑی دیر پہلے کا غصہ بھلائے بڑے سکون سے کھڑا یہ حسین منظر دیکھ رہا تھا. صبح سے اِس لڑکی کے بارے میں سوچ سوچ کر وہ جس قدر کوفت کا شکار ہوا تھا. سامنے کا منظر وہ سب کچھ ختم کرتے اُس کے دل و دماغ پر بہت خوشگوار اثر چھوڑ گیا تھا.
” ویٹ آمنٹ.”
صدام کا اِس لمحے سے نکلنے کا دل بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا. مگر امل کی گھبراہٹ دیکھ وہ اُسے ہاتھ پیچھے کرنے کا کہتا اپنی شرٹ سے اُس کا بریسلٹ نکالنے لگا تھا. ایک دو بار اِس چکر میں صدام کا ہاتھ امل کے ہاتھ سے ٹکراتا اُس کے دل کے تار بُری طرح چھیڑ گیا تھا. تھوڑی دیر پہلے دل میں آئی خواہش یوں پوری ہوجائے گی صدام کو بالکل اندازہ نہیں تھا. اُس کا ہاتھ ٹچ ہونے پر امل کا دل کانپ کر رہ گیا تھا. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی. آخر اچانک اُسے ہوکیا گیا ہے.
صدام کے بریسلٹ آزاد کرتے ہی امل ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر تیز قدموں سے آفس سے نکل گئی تھی.
جبکہ صدام جس کا ہر بار فاریہ کے جانے کے بعد موڈ سخت آف ہوتا تھا. اِس بار فاریہ کی آمد اُسے ایک بہت خوبصورت احساس سے روشناس کروا گئی تھی.
“تو آج پھر فیصلہ ہوگیا. اِس لڑکی کو اتنی آسانی سے اگنور کرنا تمہارے بس کی بات اب بالکل نہیں رہی صدام جعفر. واقعی ساحرہ نکلی یہ لڑکی جس نے چند دنوں میں ہی مجھ جیسے شخص کو بے بس کرکے رکھ دیا ہے.”
صدام زیرِ لب بڑبڑاتا اپنی ہی بے بسی پر ہنس دیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” حُرمت بھابھی پلیز جلدی سے واپس آئیں. یزدان بھائی کو پتا نہیں کیا ہوا ہے. وہ پھر بہت زیادہ اگریسو ہورہے ہیں. اُنہوں نے روم کی حالت بھی ساری خراب کردی ہے. “
حُرمت جو عائشہ کے کہنے پر اُس کے ساتھ مارکیٹ گئی ہوئی تھی. حمنہ کی کال پر گھبرائی ہوئی آواز سن کر وہ دونوں فوراً مارکیٹ سے نکل آئی تھیں.
اُسے یزدان کے ساتھ رہتے ایک ہفتہ ہوچکا تھا. یزدان اُس سے پہلے دن کی طرح اب بھی اپنا ہر چھوٹے سے چھوٹا کام کرواتا تھا. حُرمت کو اُس کے قریب جانے سے گھبراہٹ بہت ہوتی تھی. مگر اب پہلے دن کی طرح اُسے بُرا نہیں لگتا تھا.
دوسرے دن بھی یزدان ناشتے کے بعد اُس کو روک کر اُس کی ہتھیلی چومنا نہیں بھولا تھا. مگر اُس کے بعد سے حُرمت نے اُسے ایسا کوئی موقع نہیں دیا تھا. وہ اُسے تینوں ٹائم کا کھانا اپنے ہاتھوں سے کرواتی تھی. مگر کھانا ختم ہونے کے اگلے سیکنڈ ہی وہ ایسے غائب ہوتی تھی. جیسے گدھے کے سر سے سینگ.
پچھلے ایک ہفتے سے یہ تیسری دفعہ یزدان کی طبیعت بگڑ رہی تھی. اور ہر بار ایسا تب ہی ہوتا تھا. جب حُرمت اُس سے دور ہوتی تھی.
جب بھی یزدان اِس طرح ایگریسیو ہوکر آپے سے باہر ہوتا تھا. صدام اور حُرمت کے علاوہ کوئی اُس کے قریب نہیں جاتا تھا. حُرمت کو گھر والوں کی زبانی ہی پتا چلا تھا کہ یزدان کا غصہ اُس کے نارمل ہوتے وقت بھی بہت سخت ہوتا تھا. تب بھی کوئی اُس کے قریب جانے یا اُسے آگے سے کوئی بھی جواب دینے کی جرأت نہیں کرتا تھا. اور اب تو بات ہی دوسری تھی. اب تو سب لوگوں کا خوف یزدان کے حوالے سے ویسے ہی بڑھ چکا تھا.
حُرمت جیسے ہی اپنے کمرے میں پہنچی آگے کا منظر دیکھ اُس کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے باہر نکل آئی تھیں. کوئی ایک شے بھی اپنی جگہ پر نہیں تھی. ہر چیز تہس نہس ہوچکی تھی. اور اِس ساری بگاڑ کے پیچھے جس کا ہاتھ تھا وہ اب صوفے پر آنکھیں موندے بیٹھا سامنے موجود ٹیبل پر ٹانگے رکھے ہوئے تھا. اُس کی آنکھیں بند تھیں اور دائیاں پیر اضطراب کی کیفیت میں وہ مسلسل ہلا رہا تھا. جیسے ابھی بھی بہت غصے میں ہو اور خود پر کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہو.
حُرمت کو اِس وقت وہ کہیں سے بھی ایک پاگل انسان نہیں لگا تھا. اچانک اُسے بھی یزدان سے خوف محسوس ہونے لگا تھا.
وہ یزدان کی جانب ہی دیکھتی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی آگے بڑھی تھی. بے دھیانی میں وہ فرش پر بکھرے ٹوٹے گلاس کے ٹکڑے نہیں دیکھ پائی تھی. جب آگے بڑھتے پاؤں اُن پر آنے کی وجہ سے ایک انتہائی نوکدار ٹکڑا کھسے میں مقید حُرمت کے پیر کی دائیں سائیڈ پر بہت بُری طرح چبھ گیا تھا.
حُرمت کے کراہنے کی آواز پر یزدان نے جھٹکے سے آنکھیں کھول کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
حُرمت نم آنکھوں کے ساتھ چہرے پر تکلیف کے آثار لیے اپنا پاؤں پکڑے زمین پر بیٹھ گئی تھی.
یزدان اُسے روتا دیکھ بھاگ کر اُس کے قریب آیا تھا.
” کیا ہوا…. اوہ تمہارا تو خون نکل رہا ہے.”
حُرمت کے پیر کو دیکھتے یزدان کا چہرا مزید سرد و سپاٹ ہوا تھا. اُس نے حُرمت کا پیر پکڑ کر کھسے سے آزاد کرنا چاہا تھا. جب حُرمت نے اُسے گھورتے اپنا پیر کھینچ لیا تھا. کیونکہ یہ چوٹ اُسے اِس شخص کے وحشیوں جیسے غصے کی وجہ سے لگی تھی.
یزدان کو حُرمت کی یہ حرکت بالکل پسند نہیں آئی تھی. اُس کی آنکھوں میں اُبھرتا غصہ حُرمت کو اُس لمحے خوفزدہ کرگیا تھا. حُرمت کو صدام کی بات بالکل ٹھیک لگی تھی. کہ یزدان کبھی کبھی ایسا بی ہیو کرتا ہے کہ دیکھنے والا مان ہی نہیں سکتا کہ یہ شخص پاگل ہے.
یزدان نے امل کی حرکت پر اُسے غصے سے گھورتے اگلے ہی لمحے اُس کو دونوں بانہوں میں بھرتے اُوپر اُٹھا لیا تھا. اُس کی آنکھوں کا تاثر حُرمت کو ایسا ہی لگا تھا جیسے کہہ رہا ہو. تم نے مجھ سے صرف پاؤں کھینچنے کی جرأت کی ہے. اب اپنے وجود کو مجھ سے آزاد کرکے دیکھاؤ.
حُرمت کو یزدان سے کم از کم اِس حرکت کی اُمید بالکل نہیں تھی. اُس نے نیچے گر جانے کے خوف سے یزدان کو اُس کے کندھے سے تھام لیا تھا. اُسے ڈر تھا کہ کہیں یہ پاگل شخص اُسے واپس کانچ سے بھرے فرش پر نہ پھینک دے.
حُرمت کو بیڈ پر بیٹھاتے یزدان نے اُس کے پیر سے کھسا نکالتے اُس کے نرم ملائم پیر کو اپنی گرفت میں لیا تھا.
حُرمت اُس کی گرفت سے اپنا پیر نکالنا چاہتی تھی. مگر یزدان کے سرد تاثرات اُس کا خون رگوں میں ہی منجمند کر گئے تھے.
جاری ہے………
