Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

کچھ دیر شوگر اچھے سے مکس کرنے کے بعد حُرمت اپنی جگہ سے اُٹھ کر یزدان کی جانب بڑھ گئی تھی.
” آپ کی چائے.”
چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے حُرمت یزدان سے بہت ہی عزت سے مخاطب ہوئی تھی.
حُرمت کے انداز دیکھ یزدان سمجھ چکا تھا. چائے میں ضرور کوئی گڑبڑ کی گئی ہے. مگر چاہے اِس چائے میں زہر بھی ملا ہوتا تو اُس نے پی جانا تھا. کیونکہ یہ چائے حُرمت نے جو اپنے ہاتھوں سے اُس کے لیے بنائی تھی.
” بہت پیار محبت چل رہا ہے نا. تو اب اِس محبت کو مزید میٹھا کرنا تو فرض تھا نا میرا.”
حرمت دل میں خود سے مخاطب ہوتی اپنے اندر لگی جلن کو کم کرنے لگی تھی.
اُس کی نظریں بار بار یزدان کی جانب اُٹھ رہی تھیں. جو کافی ہاتھ میں ہی پکڑے ابھی بھی فاریہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا.
حُرمت دانت پیس کر رہ گئی تھی.
” حُرمت آپ نے تو چائے لی ہی نہیں. میں آپ کو بنا دیتی ہوں چائے.”
نائمہ بیگم حرمت کو ایسے ہی خالی ہاتھ بیٹھا دیکھتے ہوئے بولیں. مگر حُرمت کا دھیان تو اِس وقت کہیں اور ہی اٹکا ہوا تھا. وہ اُن کی بات سمجھے بنا صرف مسکرا دی تھی.
” حُرمت چینی کتنی چمچ ڈالنی ہے.”
نائمہ بیگم نے ایک بار پھر حُرمت کو مخاطب کیا تھا.
” آٹھ چمچ.”
حُرمت جس کی نظر یزدان کی کافی پر تھی. بے دھیانی میں اپنے دماغ میں چلتی بات بول گئی تھی.
” واٹ.”
جہاں نائمہ بیگم نے ہونقوں کی طرح حُرمت کی جانب دیکھا تھا. وہیں یزدان جو بظاہر خود کو لاپرواہ ظاہر کررہا تھا. مگر اُس کا سارا دھیان حُرمت کی حرکتوں پر تھا. حُرمت کی بات سنتے وہ اپنا زور دار قہقہ نہیں روک پایا تھا. بنا چائے پیئے ہی وہ سمجھ چکا تھا. کہ حُرمت نے اُسے کیا سزا دی ہے.
” آئم سوری بڑی ماما. میرا مطلب تھا ایک چمچ.”
حُرمت جو اُس کے کافی نہ پینے پر پہلے ہی اُسے غصے سے گھور رہی تھی. اُس کے خود پر ہنسنے پر وہ مزید تپ گئی تھی.
یزدان جو پہلے چائے نہ پی کر اُسے تنگ کررہا تھا. اُسے خفا ہوتا دیکھ ایک ہی سانس میں گرم اور اِس قدر میٹھی چائے پی گیا تھا.
حُرمت آنکھیں پھاڑے حیرت سے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی.
” یہ کیا یزدان کو پتا نہیں چلا کیا. وہ ایک ہی سانس میں اِس قدر میٹھی چائے کیسے پی سکتے ہیں.”
حُرمت حیرت بھری نظروں سے اُس خالی کپ کو گھور رہی تھی. جسے اب ملازمہ اُٹھا کر اندر لے جارہی تھی. حُرمت کو سکون نہیں مل رہا تھا. اِس لیے وہ کنفرم کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اُٹھتی ملازمہ کے پیچھے کچن کی جانب بڑھ گئی تھی.
” بیگم صاحبہ کچھ چاہیئے آپ کو.”
ملازمہ حُرمت کو کچن میں آتا دیکھ جلدی سے اُس کے قریب آئی تھی.
” نہیں کچھ نہیں چاہیئے. آپ جائیں یہاں سے.”
حُرمت اُسے وہاں سے باہر بھیج کر ملازمہ کے ابھی رکھ کے گئے یزدان کے کپ کو اُٹھایا تھا. جس میں ابھی بھی ایک گھونٹ باقی تھا.
حُرمت یقین دہانی کرنے کی خاطر کپ لبوں سے لگانے ہی والی تھی. جب اچانک یزدان کی آواز پر کپ اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا.
” اگر اتنی ہی بے اعتباری ہو رہی ہے. تو میں اپنے طریقے سے یقین دہانی کروا دوں.”
یزدان حُرمت کے قریب آتا ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ سجائے بولا.
جبکہ یزدان کے سامنے اپنا اِس طرح پول کُھل جانے پر حُرمت کا چہرا خفت کے مارے لال ہوا تھا. مگر وہ حُرمت ہی کیا جو مان جائے.
” کیا مطلب ہے آپ کی اِس بات کا.”
حُرمت اپنے تاثرات کنٹرول کرتے بولی.
” یہی کہ اتنے میٹھے ہاتھوں سے بنی چائے بھی بہت میٹھی تھی. مگر میری بیوی سے زیادہ نہیں.”
یزدان قدم قدم چلتا حُرمت کے قریب آتا بولا. جبکہ اُس کے اتنے کھلے لفظوں میں بولنے پر حُرمت کا دل چاہا تھا. اُس نے ایسی بکواس بات پوچھی ہی کیوں چپ کرکے نکل جاتی یہاں سے.
حُرمت نے جلدی سے نکلنا چاہا تھا. مگر یزدان اُس کے اردگرد شیلف پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکاتے اُسے اپنے حصار میں قید کرگیا تھا.
وہ حُرمت سے بے پناہ محبت کرتا تھا. اتنے پاس ہوکر اُس کا دور ہونا یزدان کے لیے بہت مشکل تھا. اور آج تو وہ بہت حسین لگنے کے ساتھ ساتھ چہرے کے جو ایکسپریشن دے رہی تھی. وہ یزدان کو اُس کا مزید دیوانہ بنا رہے تھے.
” مجھے جانے دیں.”
حُرمت یزدان کو پہلے خود ہی بُری طرح چھیڑ کر اب پچھتا رہی تھی. کیونکہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص اُس کا نہیں تھا. اور نہ ہی اُس سے محبت کرتا تھا. حُرمت کا دل بوجھل کر جاتے تھے.
وہ یزدان کے قریب نہیں ہونا چاہتی تھی. تاکہ بعد میں جب تین مہینے کا عرصہ ختم ہو تو اُس سے جدا ہونا حُرمت کے لیے تکلیف دہ نہ ہو. کہیں نہ کہیں وہ اپنے دل کی بدلتی حالت کے بارے میں آگاہ ہوچکی تھی. اور کافی پریشان بھی تھی.
” جس بارے میں انویسٹی گیشن کرنے آئی تھی. اُس کا ثبوت تو لے کر جاؤ.”
یزدان حُرمت کی شرارت پر اُسے اتنی جلدی بخشنے والا نہیں تھا. حُرمت کے لال ہوتے گال اُسے شرارت پر اُکسا رہے تھے.
” مجھے نہیں چاہیئے کوئی ثبوت. مجھے جانے دیں. “
حُرمت یزدان سے نظریں چُراتے بولی.
” مگر تمہاری آنکھیں تو کچھ اور کہہ رہی ہیں.”
یزدان کو حُرمت کے لال ہوتے گال شرارت پر اُکسا رہے تھے.
یزدان کی بات پر حُرمت نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
کھڑے مغرور نقوش, چوڑی پیشانی پر بکھرے بال ,چہرے موجود ہلکی ہلکی بیئرڈ اور ہر وقت دوسروں کے سامنے سنجیدہ اور غضبناک رہنے والی آنکھوں میں چمکتی شرارت. یہ شخص کسی کو بھی اپنا اسیر بنانے کا فن رکھتا تھا.
حُرمت نے گھبرا کر فوراً نظریں ہٹا لی تھیں. اُس کا دل عجیب لے پر دھڑکنے لگا تھا.
” یزدان رحمانی یہ آپکا بیڈ روم نہیں ہے. کچن ہے جہاں کوئی بھی کسی بھی وقت آسکتا ہے. اور اگر آپ کی بیوی آگئی تو آپ کی تو بالکل بھی خیر نہیں ہے.”
حُرمت اپنی تیز ہوتی سانسوں کو قابو کرنے کی کوشش کرتی یزدان کا خود سے دھیان ہٹاتے بولی. جس کی پرشوق نگاہیں حُرمت کے چہرے پر بکھرتے رنگوں کو دیکھ رہی تھیں.
” واقعی یہ سچ ہے. میری بیوی ہی وہ واحد انسان ہے میری زندگی میں جس سے میں بہت ڈرتا ہوں.”
یزدان جب بھی حُرمت کے سامنے بیوی کا ذکر کرتا تھا تو اُس کا مطلب حُرمت ہی ہوتی تھی. کیونکہ فاریہ جیسی لڑکی کو تو وہ سرے سے بیوی مانتا ہی نہیں تھا. جس نے اُس کے جان سے پیارے بھائی کو زہر دینے جیسا کبیرا گناہ کیا تھا. مگر حُرمت ہر بار فاریہ ہی سمجھ کر یزدان سے مزید بدگمان ہو جاتی تھی. جیسے اِس وقت ہوئی تھی.
یزدان کے سینے پر دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈالتے حُرمت نے اُسے خود سے دور کرنا چاہا تھا.
جس کے جواب میں یزدان نے اُس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر کے گرد لپیٹتے حُرمت کا چہرا اپنے قریب کیا تھا.
” میری بیوی کے حوالے سے جیلس مت ہوا کرو. وہ سچ میں بہت پیاری ہے. اور مجھے تو بہت ہی زیادہ پیاری لگتی ہے. کہتی ہو تو آج ثبوت دے ہی نہ دوں. اپنے پیار کا.”
یزدان کا چہرا قریب ہونے کی وجہ سے اُس کی گرم سانسیں حُرمت کے گال لال کرچکی تھیں. وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی. کہ یزدان اپنی کس بیوی کے بارے میں بات کررہا ہے. اُسے یزدان کے الفاظ اور انداز بالکل ایک دوسرے کے مترادف لگے تھے. یزدان کی معنی خیز نگاہوں کا فوکس اپنے ہونٹوں پر دیکھ حُرمت نے گھبرا کر اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اُسے گستاخی کرنے سے باز رکھا تھا.
حُرمت کی اپنے بچاؤ کے لیے کی گئی. یہ کوشش یزدان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی. وہ حُرمت کا خون چھلکاتا چہرا دیکھ اُسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے پیچھے ہٹنے والا تھا. جب عائشہ کی کچن کی جانب آتی آواز پر وہ تیر کی تیزی سے یزدان کی ڈھیلی پڑتی گرفت سے نکلی تھی.
” یزدان وہ تمہیں فاریہ…….”
عائشہ کے اندر آکر جیسے ہی نظر اُن دونوں پر پڑی اُس کے باقی کے الفاظ اُس کے منہ میں ہی رہ گئے تھے.
لال گلابی کچھ گھبرائی سی حُرمت اور اُس کی جانب شوخ نظروں سے دیکھتے یزدان کو دیکھ عائشہ نے بے اختیار دونوں کی نظر اُتاری تھی.
” لگتا ہے میں غلط ٹائم پر آگئی ہوں.”
عائشہ کو اپنی غلط وقت پر انٹری مارنے پر بہت افسوس ہوا تھا.
” جی بالکل. نیکسٹ ٹائم خیال کیجئے گا.”
عائشہ کی بات جہاں حُرمت کو مزید شرمندہ کر گئی تھی. وہیں یزدان بہت ہی ڈھیٹائی سے جواب دے کر اُس کی جانب مسکراہٹ اُچھالتا وہاں سے نکل گیا تھا.
” کیا ہورہا تھا. اور یہ کپ کیسے ٹوٹا. سب خیریت تھی نا.”
عائشہ جانتی تھی یزدان کو تو چھیڑنے کا فائدہ ہی نہیں تھا. مگر حُرمت کو چھیڑ کر اُسے بہت مزا آنے والا تھا. اِن دونوں کو اِس طرح دیکھ عائشہ کا دل خوشی سے ناچنے کو کررہا تھا.
” واٹ. آپی آپ بھی نا. ایسا کچھ نہیں ہوا.”
حُرمت عائشہ کی معنی خیزی سے پوچھنے پر مزید بلش ہوتی اُسے گھور کر رہ گئی تھی.
اُسے لگ رہا تھا. جیسے اِن دونوں بہن بھائی نے بے شرمی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو.
” مگر میں نے تو کچھ بولا ہی نہیں صرف کپ ٹوٹنے کا ریزن پوچھا.”
عائشہ ایک دم معصوم بنتی حُرمت کو مزید شرمندہ کرگئی تھی.
پہلے یزدان کا قریب آنا اُس کی حالت اتنی خراب نہیں کرتا تھا. جتنا بُرا حال آج اُسکا ہورہا تھا. نہ چہرے کا گلال ہٹنے کا نام لے رہا تھا. اور نہ ہی دھڑکنوں کا شور کم ہونے میں آرہا تھا. شاید یہ اِسی بات کا ثبوت تھا کہ یزدان اپنی شدت بھری محبت کا پھول حُرمت کے دل میں کھلانے میں پوری طرح کامیاب ہوچکا تھا.
حُرمت عائشہ کے چھیڑنے پر اُسے ایک گھوری سے نوازتی وہاں سے نکل گئی تھی.
حُرمت اب اِس حالت میں سب کے درمیان نہیں بیٹھنا چاہتی تھی. اِس لیے وہ جلدی سے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی.
جہاں اُس کا موبائل بج بج کر پاگل ہورہا تھا. ملازمہ کے ہاتھوں وہ اپنا سامان روم میں پہلے ہی بھجوا چکی تھی.
حُرمت کے پہنچنے تک کال تو بند ہوچکی تھی. مگر میسیجز پڑھ کر پہلے تو حُرمت حیران ہوئی تھی. مگر پھر آج یونی والا سارا واقع یاد کرکے اُس کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا.
” یہ ارسلان مجھے میسج کیوں کررہا ہے.”
حُرمت موبائل ہاتھ میں تھامے پرسوچ انداز میں بولی. جب موبائل فون دوبارہ رنگ کرتا اُسے اپنی جانب متوجہ کرگیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

صدام اپنے آفس میں بیٹھا آنکھیں موندے کرسی کی بیک سے ٹیک لگائے اضطراب کی کیفیت میں جھول رہا تھا.
اُس کا اِس وقت دل چاہ رہا تھا یا تو خود کو ختم کردے یا امل کو. جو اُس کے ساتھ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود اُس کے دل سے نکل نہیں پارہی تھی.
” کیوں نفرت نہیں کر پارہا میں اُس سے. کیوں اُسے خود سے جدا کرنے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں. جب وہ مجھ سے اتنی نفرت کرتی ہے تو جواب میں مجھے اُس سے اتنی محبت کیوں ہوگئی. کیوں میرا دل سکون میں نہیں آرہا کیا کروں میں.”
صدام نے اپنا سارا غصہ اور اشتعال ٹیبل پر رکھی ساری چیزوں پر نکالتے ایک ہی ہاتھ مارکر اُنہیں دور اُچھال دیا تھا.
اُس کا دل چاہ رہا تھا. ہر چیز کو آگ لگا دے.
وہ ابھی مزید بھی کوئی توڑ پھوڑ کرتا جب انٹر کام پر آتی کال نے اُس کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی.
” میں نے کہا تھا نا احمد صاحب مجھے کوئی ڈسٹرب مت کرے.”
صدام کے لہجے سے انگارے نکل رہے تھے.
” سر وہ آپ کو یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا. کہ ایس پی نورِ امل آپ پر کیے گئے کیس کے حوالے سے دوبارہ کانفرنس کررہی ہیں.”
احمد صاحب نے ڈرتے ڈرتے بتایا تھا. معبادا پھر ڈانٹ نہ پر جائے.
احمد کی بات پر صدام نے غصے سے ریسیور پٹختے سامنے موجود ایل ای ڈی آن کی تھی. جہاں امل فل یونیفارم میں سیاہ سکارف سے حجاب لیے صدام کی نظریں خود پر ہی فوکس کرگئی تھی. وہیں اُس کے الفاظ نے صدام کو شاک میں مبتلا کردیا تھا.
” میں صدام جعفر, اُن کی فیملی اور اُن تمام لوگوں سے معذرت کرنا چاہتی ہوں. جنہیں میرا جلد بازی میں اُٹھائے گئے قدم سے تکلیف پہنچی. صدام جعفر کا اُس ایکسیڈنٹ میں کسی قسم کا کوئی قصور نہیں تھا. وہ موٹر سائیکل خود غلط لائن سے اوور ٹیک کرکے گاڑی کے سامنے آیا. اور آپ سب کی تسلی کے لیے ایک بات بتانا چاہوں کہ وہ موٹر سائیکل سوار بالکل ٹھیک ہے.اُسے کچھ معمولی چوٹیں آئی ہیں.
جس کا علاج صدام جعفر نے فوری طور پر کروا دیا تھا. میں پرسنلی صدام جعفر سے معذرت کرنا……”
امل کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی صدام نے سوئچ آف کردیا تھا.
اب اُسے امل کا ہر عمل اُس کی کوئی سازش ہی لگ رہی تھی. وہ اب اِس لڑکی پر واپس اعتبار کرکے کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا. اُس کی محبت اور سچے جذبات کو یہ لڑکی پہلے ہی بہت بے مول کرچکی تھی.
صدام کے چہرے پر جس قدر سخت تاثرات تھے. مگر اُسے امل کا یوں سب کے سامنے سر جھکا کر معافی مانگتا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا. یہ چیز اُس کے اندر کے اضطراب اور امل پر غصے کو مزید بڑھا گئی تھی.
” احمد صاحب ابھی دس منٹ میں میٹنگ ہے سب کو انفارم کردیں.”
کافی دیر خود کو نارمل کرنے کے بعد صدام میٹنگ کے لیے اُٹھا تھا.
” سر وہ …..”
احمد صاحب اِن دنوں صدام کے غصے کا اِس قدر شکار ہوچکے تھے. کہ اُن کو اب کوئی بھی بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا تھا.
” کیا ہوا احمد صاحب. جو بھی پرابلم ہے جلدی بتائیں میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے.”
صدام نے اِس بار قدرے نرمی سے بات کی تھی.
” سر وہ ایس پی امل ملنے آئی ہیں آپ سے.”
احمد صاحب کی بات سنتے ہی صدام کے نقوش تن چکے تھے.
” اُس سے بولو میں نہیں ملنا چاہتا اُس سے. وہ واپس جاسکتی ہے.”
صدام کی گرفت ریسیور پر سخت ہوئی تھی.
” سر میں نے اُنہیں بہت بار کہا ہے کہ سر نہیں ملنا چاہتے ابھی کسی سے مگر وہ بات مان ہی نہیں. وہ آپ سے ملنے پر بضد ہیں.”
احمد صاحب نے اِن دونوں کے درمیان خود کو پستا محسوس کیا تھا.
” تو ٹھیک ہے بیٹھے رہنے دیں. اور آپ میٹنگ کی تیاری کریں.”
صدام اپنی کرسی سے اُٹھتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا.
جب کوریڈور سے گزرتے اُس کی نظر فُل یونیفارم میں ملبوس امل پر پڑی تھی. صدام کی آنکھوں غصے سے مزید لال ہوئی تھیں.
امل بھی اُسے دیکھ چکی تھی. اِس لیے تیزی سے اپنی جگہ سے اُٹھتی اُس کی جانب بڑھی تھی.
مگر صدام اُس کو قریب آتا دیکھ نخوت سے چہرا موڑتا میٹنگ روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
صدام کا یہ انداز دیکھ امل کی آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی.
اُس نے صدام پر جو الزام لگوایا تھا. اُس کے بعد صدام کے بزنس مخالفین نے مزید مرچ مسالہ لگا کر صدام کے خلاف جو غلط جملے بولے تھے. امل سے اُن کو سننا مشکل ہوگیا تھا. صدام نے ایسی گِری ہوئی باتیں اپنے خلاف کیسے سنی ہونگی. یہ سوچ کر امل کے دل کا درد بڑھ جاتا تھا.
وہ پہلے ہی اپنے کیے پر بہت نادم تھی. لیکن یہ سب اُس سے کسی صورت برداشت نہیں ہوا تھا. اِس لیے اُس نے بنا اپنی رپوٹیشن کی پرواہ کیے پریس کانفرنس میں صدام کا ہر الزام سے بری الذمہ کرتے سارا الزام اپنے سر لے لیا تھا.
وہ صدام سے ایک بار معافی مانگنا چاہتی تھی. اُسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ جتنی بھی بُری سہی مگر اُس نے صدام کو زہر نہیں دی. وہ اُسے مار کیسے سکتی تھی. اگر اُسے مروا دیتی تو خود کیسے جی پاتی. امل کو یہ بات اُس وقت سمجھ آئی تھی. جب سب کچھ اُس کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا.
صدام تین گھنٹے بعد میٹنگ کرکے باہر نکلا تھا. جب اُس کی نظر ہال میں صوفے پر بیٹھی امل پر پڑی تھی. صدام کے قدم ایک پل کے لیے ساکت ہوئے تھے.

جاری ہے…….