No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
” جی بھٹی صاحب آپ کل کی میٹنگ رکھ دیں. جی آپ فائلز ریڈی کردیجئے گا میں……”
یزدان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا. جبکہ دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگائے اپنے مینجر کو ہدایت دینے میں مصروف تھا. جب ایکدم اُس کی نظر مرر میں اُبھرتے عکس پر پڑی تھی. یزدان کے بالوں میں چلتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ اُس کے باقی کے الفاظ بھی منہ میں دب گئے تھے.
ییلو اور پرپل کنٹراسٹ کا بھاری کامدار لہنگا پہنے اپنے کھلے بالوں کو سیٹ کرنے میں ہلکان ہوتی یزدان کو وہ کوئی اپسرا ہی معلوم ہورہی تھی. کنگن اور گجروں سے سجی سفید کلائیوں پر کمر سے لاکر ایک سٹائل ڈالا بھاری دوپٹہ مہندی کے خوبصورت ڈیزائن سے مزین نازک ہاتھوں سے سیٹ کرتی وہ خود میں مگن یزدان رحمانی کو ایک بار پھر شدید محبت میں مبتلا کرگئی تھی.
فریش پھولوں کے زیور جس کا استعال حُرمت نے اپنے بالوں میں بھی کیا ہوا تھا. اُس کے حسن کو مزید دو آتشہ کررہے تھے. یزدان رحمانی کی یہ حالت ہونا معمولی بات تھی.
فون پر دوسری جانب بھٹی صاحب یزدان کو آوازیں دیتے واپس ہوش میں لائے تھے.
” سر پھر آپکو میرا آئیڈیا کیسا لگا.”
بھٹی صاحب کی بات پر یزدان نے بہت مشکل سے خود کو نارمل کرتے اپنے حواس جگہ پر لانے کی کوشش کی تھی.
یزدان کی خمار آلود نظریں ابھی بھی مرر سے نظر آتی اپنی چہیتی بیوی پر جمی ہوئی تھیں.
” بے حد حسین ……”
یزدان حُرمت کی جانب دیکھتے جو بولا تھا. اُس نے بھٹی صاحب کو فون کان سے ہٹا کر دیکھنے پر مجبور کردیا تھا. کہ کیا وہ واقعی یزدان رحمانی سے بات کررہا ہے.
” جی سر ………”
وہ بچارہ الگ پزل ہوتا کنفیوژن کا شکار تھا. یزدان رحمانی کے سامنے بات دوہرا کر بھی شامت اُسی کی آنی تھی. اِسی لیے وہ بس اتنا ہی کہہ پایا تھا.
جبکہ دوسری جانب جب یزدان کو احساس ہوا وہ کیا بول چکا ہے. تو وہ اپنا بے ساختہ اُمڈ آنے والا قہقہ نہیں روک پایا تھا.
” بھٹی صاحب میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں. “
یزدان کا قہقہ اور پھر مسکراتی آواز میں جواب دینا بھٹی صاحب کو اپنی جگہ ساکت کر گیا تھا. اُس نے چار سال یزدان کے ساتھ کام کیا تھا. مگر آج تک کبھی یزدان کے ایسی ہنسی سننا نصیب نہیں ہوا تھا اُسے.
یزدان بنا فون کان سے ہٹائے بال بنانے لگا تھا.جو ویسے ہی کب کے بن چکے تھے.
حُرمت نے یزدان کے قہقے پر چونک کر اُس کی جانب دیکھا تھا. حُرمت کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر اپنا دوپٹہ سیٹ کرنا تھا. وہ یزدان کے ہٹنے کا انتظار کررہی تھی. وہ جانتی تھی اِس حلیے میں اُس کے لیے اپنے اِس جلاد کے قریب جانا خطرے سے خالی نہیں تھا.
مگر اُسے کال پر کسی کے ساتھ ہنستا دیکھ حُرمت کے اندر بیویوں والے شک نے سر اُٹھایا تھا.
اُس نے مشکوک نظروں سے یزدان کو گھورا تھا. اُسے کہیں نہ کہیں لگ رہا تھا. کہ یزدان فاریہ سے بات کررہا ہے.
یزدان اپنے سیٹ بالوں کو جان بوجھ کر دوبارہ سیٹ کرنے کی کوشش کررہا تھا. مگر اُس کی مسکراتی نظریں شیشے میں سے نظر آتی حُرمت پر تھیں. یزدان حُرمت کے چہرے کے تاثرات سے اُس کی اندرونی حالت کا با آسانی سمجھ گیا تھا. اُسے حُرمت کا یہ غصے سے پھولا چہرا بہت پیارا لگتا تھا. اِس وقت بھی حُرمت کا چہرا اپنے اتنے اگنور کیے جانے پر غصے سے لال ہوچکا تھا.
” نہیں ییلو کلر پہنوں وہ تم پر زیادہ سوٹ کرتا ہے.”
یزدان حُرمت کو مزید چڑھانے کے لیے کب سے بند فون کو کان سے لگائے ہوئے تھا.
جبکہ امل اُسے فاریہ سے بات کرنے کا سمجھتی اپنی جگہ جل بُھن چکی تھی. وہ یہی سمجھ رہی تھی. کہ یزدان نے ابھی تک اُس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی.
” اب آپ ہٹ بھی جائیں مجھے بھی تیار ہونا ہے. آپ اپنی امپورٹنٹ کال مرر سے ہٹ کر بھی کرسکتے ہیں.”
جب حُرمت سے برداشت نہ ہوا تو وہ ضبط کھوتے بول پڑی تھی.
یزدان نے چہرا نیچے کرتے بہت مشکل سے ہونٹوں پر بے ساختہ اُمڈ آنے والی ہنسی روکی تھی.
اُسے اپنے لیے حُرمت کا اتنا پوزیسیو انداز بہت اچھا لگ رہا تھا.
” ابھی میری تیاری رہتی ہے. تمہیں اگر تیار ہونا ہے تو تم آگے آسکتی ہو.”
یزدان نے فون کان سے ہٹاتے حُرمت کو آفر کی تھی. جس پر کچھ دیر اُسے گھورنے کے بعد حُرمت دانت پیستی یزدان سے کچھ فاصلے پر مرر کے سامنے جاکھڑی ہوئی تھی.
اب اُن دونوں کو کا عکس ایک ساتھ مرر پر اُبھرتا ایک پل کے لیے حُرمت کے ہونٹوں پر بہت ہی دلکش مسکراہٹ بکھیر گیا تھا. یزدان بلیک کُرتا شلوار میں ملبوس اپنی چھا جانے والی پرسنیلٹی کے ساتھ اِس وقت حُرمت کے دل و دماغ پر بھی مکمل طور پر چھایا ہوا تھا.
” پرفیکٹ کپل….”
یزدان کی آنکھیں مسکرائی تھیں.
” یار تم ہو ہی اتنی خوبصورت جو بھی پہنو اچھا ہی لگے گا. بس اب جلدی سے یہاں پہنچ جاؤ. میں مِس کررہا ہوں تمہیں مجھ سے زیادہ ویٹ نہیں ……….”
یزدان کی ابھی بات مکمل بھی نہیں کوئی تھی. جب حُرمت نے اُس کے ہاتھ سے موبائل جھپٹ لیا تھا. جب سے اُسے عائشہ کے تھرو فاریہ کا سچ پتا چلا تھا. وہ اب یزدان پر صرف اپنا حق سمجھنے لگی تھی. یزدان کے معاملے میں وہ کتنی پوزیسیو تھی. یزدان سوچ بھی نہیں سکتا تھا.
حُرمت نے فون لے کر پھینکنے کے انداز میں ٹیبل پر رکھتے یزدان کی شرٹ گریبان کے پاس سے مُٹھی میں جکڑتے اُسے ہلکا سے اپنے قریب کیا تھا. یزدان حُرمت کا یہ عمل دلچسپی سے دیکھتے اُس کی جانب ہلکے سے جھک آیا تھا.
” یزدان رحمانی اگر وہ چڑیل دوبارہ آپ کے قریب آئی یا آپ نے اُس سے بات کی تو میں آپ دونوں کا قتل میرے ہاتھوں سو فیصد کنفرم ہے.”
حُرمت نے یزدان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وارن کرتے اُسے اچھے سے باور کروا دیا تھا. کہ وہ اُس کے معاملے میں کتنی پوزیسیو ہے. اور کتنی مشکل سے اُسے فاریہ کہ ساتھ برداشت کرتی تھی. یزدان کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک خوبصورت مسکراہٹ کھیل گئی تھی. یزدان رحمانی کی بیوی ہی اُسے دھمکی دینے کی جرأت کرسکتی تھی. حُرمت کی بات میں چھپی وارنگ اُسے اچھے سے سمجھا گئی تھی کہ فاریہ کا اُس کے قریب ہونا حُرمت کو کس قدر بُرا لگتا تھا.
یزدان نے حُرمت کے گرد اپنی بانہوں کا حصار قائم کرتے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
” ہم تو پہلے ہی آپ پر مرمٹیں اب اور کیا ماریں گی ہمیں.”
یزدان چہرا آگے کرکے حُرمت کے ناک سے اپنا ناک ٹچ کرتا اُسے سمٹنے پر مجبور کر گیا تھا.
” تو کیوں بات کررہے تھے اور اُس کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے. جب کہ میری طرف تو آپ نے ایک نظر دیکھا بھی نہیں.”
حُرمت ابھی بھی اُس کی شرٹ ویسے ہی تھامے کھڑی نروٹھے لہجے میں بولتی یزدان کو چاروں شانے چت کر گئی تھی. اُس کے دوسرے جملے پر یزدان کا قہقہ نکلا تھا.
” زیادہ غصہ کس بات پر آرہا ہے. فاریہ سے بات کرنے پر یا تمہیں ایک نظر بھی نہ دیکھنے پر.”
یزدان نے ہاتھ کی پشت سے حُرمت کا گال ٹچ کرتے پوچھا تھا.
” دونوں باتوں پر. “
حُرمت کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی. جسے دیکھ یزدان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب ہونے میں ایک سیکنڈ لگا تھا.
” حُرمت میری جان تم رو کیوں رہی ہو. میں اُس سے بات نہیں کررہا تھا. صرف تمہیں تنگ کرنے کے لیے اور تمہارے یہ پیارے ایکسپریشنز دیکھنے کے لیے یہ بکواس کی. اور تم اِس وقت کس قدر حسین لگ رہی ہو. مجھے تم پر کتنا پیار آرہا ہے. یہ بات تمہیں میرے دل کی دھڑکنیں بتائیں گی.”
یزدان حُرمت کے گالوں پر لڑھک آئے آنسو اپنی پوروں پر چنتا اُس کا ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھتے ہوئے بولا.
” آپ بہت بُرے ہیں. مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی.”
حُرمت اُس کے دل کے مقام پر زور سے پنچ کرتی اُس کی لوح دیتی نظروں سے گھبراتی اُسی کے سینے میں سر چھپا گئی تھی. یزدان نے بھی اُس کے گرد گھیرا تنگ کرتے قیمتی متاع کی طرح سمیٹ لیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
امل نے بہت مشکل سے اپنی دُکھتی آنکھیں کھولتے اردگرد دیکھنا چاہا تھا. اُس کو بہت ہیوی ڈوز دی گئی تھیں. جس سے اُس کا سر بھاری اور آنکھیں بار بار بند ہورہی تھیں.
اُس کو صرف اتنا یاد تھا کہ گیلانی ہاؤس سے نکل کر وہ پیدل ہی سنسان روڈ پر چل رہی تھی. کن لوگوں نے اُس کو بے ہوش کرکے گاڑی میں ڈالا تھا. امل اُن کے چہرے نہیں دیکھ پائی تھی.
امل نے اپنی جگہ سے اُٹھنا چاہا تھا. مگر وہ ہُل بھی نہیں پائی تھی. وہ پوری طرح سے رسیوں میں جکڑی کرسی سے باندھی گئی تھی.
اُسے جس کمرے میں رکھا گیا تھا. وہاں مکمل طور پر اندھیرا چھایا ہوا تھا. کہیں ایک دو کونوں سے نکلتی مدھم روشنی کی کرنوں نے اُس کو ماحول سے کچھ حد تک مانوس ہونے میں مدد دی تھی.
” کوئی ہے یہاں. کون لایا ہے مجھے یہاں. تم لوگ مجھے جانتے نہیں ہو. چھوڑوں گی نہیں میں تم میں سے کسی کو بھی.”
امل اپنی باڈی کی مدد سے کرسی کو تھوڑا سا اُٹھا کر پٹختے اُونچی اُونچی آواز میں چلاتی کڈنیپرز کو بلانے کی کوشش کررہی تھی. امل ایک بہت ہی زبردست فائٹر تھی. وہ ایک ٹائم میں پانچ چھے لوگوں سے لڑنے کا حوصلہ رکھتی تھی. مگر اندھیرا اُس کی سب سے بڑی کمزوری تھی. اندھیرے کمرے میں بند رہنا وہ بھی اکیلے امل کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا تھا.
اِس لیے وہ چلا چلا کر کسی کو بلانا چاہتی تھی. آگے جو ہوگا وہ دیکھ لےگی. امل کو چلاتے پانچ منٹ گزرے تھے. جب اُس ایک طرف سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی.
کوئی شخص دبے قدموں چلتا امل کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا. دروازہ کھلنے کی وجہ سے روم میں کچھ حد تک روشنی بڑھ چکی تھی. مگر پھر بھی امل اُس شخص کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی. کیونکہ اُس نے اپنے چہرے کو نقاب سے ڈھکا ہوا تھا.
” کون ہو تم. کیا چاہتے ہو مجھ سے. بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے ایس پی نورِ امل کو کڈنیپ کرکے.”
امل اُس شخص کو قہر برساتی نظروں سے دیکھتی وارن کرتے بولی. جس کے جواب پر مقابل نے قہقہ لگایا تھا.
” سب جانتا ہوں. نہ ہی ڈرتا ہوں تم سے اور نہ ہی تمہاری وردی سے. کیونکہ اِس سے کہیں زیادہ پاور رکھتا ہوں میں.”
امل کے غصے سے کہنے پر اُس شخص نے سرد لہجے میں کہتے امل کو اپنے رعب میں لانے کی کوشش کی تھی.
” کیا چاہتے ہو مجھ سے. مجھے یہاں لانے کی وجہ.”
امل نے بنا اُس شخص سے خوف کھائے پوچھا تھا. امل کا لہجہ سامنے والے کو باور کروا گیا تھا کہ اُسے کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں تھا.
” صدام جعفر اور اُس کی بربادی.”
اُس شخص کے نفرت میں ڈوبے الفاظ نے امل کو بہت بڑے شاک سے دوچار کیا تھا.
کون تھا یہ شخص اور کیا دشمنی تھی. اِس کی صدام سے.
” اچھا مذاق ہے. تمہیں لگتا ہے میں تمہارا کہا مان کر اپنے شوہر کو برباد کروں گی.”
امل نے طنزیا نظروں سے اندھیرے میں کھڑے اُس شخص کو گھورا تھا.
” میری خاطر نہیں اپنے بھائی کی زندگی کی خاطر تو کرو گی نا تم.”
اُس شخص نے امل کے سر پر بم پھوڑتے اُس کی ہستی ہلا کر رکھ دی تھی.
” کک کیا کیا مطلب ہے تمہارا.”
امل کی آنکھوں سے آنسو لڑھک آئے تھے.
” تمہارا بھائی ہمایوں اشفاق اُس دن بلاسٹ میں مرا نہیں تھا. بلکہ معجزانہ طور پر بچ گیا تھا. جو ڈیڈ باڈی آپ لوگوں کو دی گئی تھی. وہ کسی اور کی تھی.”
اُس شخص کے الفاظ ایک طرف جہاں امل کا دل خوشی سے پاگل کر گئی تھی. وہیں دوسری جانب اُس نے خود کو ندامت کی گہرائیوں میں گرتا محسوس کیا تھا. یہاں پر بھی صدام جعفر بے قصور ثابت ہوچکا تھا.
” میں کیسے یقین کر لوں تمہاری بات کا.”
امل نے بھیگے چہرے کے ساتھ اُس نقاب پوش کو دیکھا جو اب اندھیرے میں رکھی کرسی پر بیٹھ چکا تھا. اور امل صرف اُس کا ہلتا پیر ہی دیکھ سکتی تھی.
امل کی بات کا اُس شخص نے کوئی جواب نہیں دیا تھا.مگر اُسی وقت دیوار پر لگی ایل ای ڈی روشن ہوئی تھی. جس کے آن ہوتے ہی سکرین پر جو ویڈیو سامنے آئی تھی. اُس نے امل کے رونگھٹے کھڑے کر دیئے تھے.
سامنے رسیوں میں جکڑا تشدت سہتا اُس کا اکلوتا بھائی ہی تھا. امل اُس کو دیکھ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی. کتنا تڑپی تھی وہ اتنے سال اپنے بھائی کے لیے اور اب اتنے سولوں بعد جب اُسے دیکھا تھا تو کِس حال میں.
امل کو اِس طرح روتا دیکھ چہرے کو نقاب سے چھپائے اُس سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہمایوں کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھیں.
اتنے سال اپنوں سے دور رہنا اُس کے لیے بھی آسان نہیں تھا. مگر وہ جس دلدل میں پھنس چکا تھا. وہاں سے اب اُسے موت ہی نکال سکتی تھی.
” تم گھٹیا, ظالم درندوں کیوں مار رہے ہو میرے بھائی کو. اُس نے کیا بگاڑا ہے تم لوگوں کا. چھوڑ دو اُسے پلیز.”
امل کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے کیسے اپنے بھائی کو اِن ظالموں کے چنگل سے بچائے.
” تم ہی چھوڑوا سکتی ہو اُسے. صدام جعفر کو برباد کرنا ہوگا. اُسے ہمارے پاس لانا ہوگا. جیسے بھی لاؤ.”
امل نے اذیت اور بے پناہ تکلیف کے زیرِ اثر اُس شخص کی جانب دیکھا تھا. جو پے در پے اُس کے دل پر وار کررہا تھا. اگر یہی شرط اُس کے سامنے کچھ وقت پہلے رکھی جاتی تو وہ ایک سیکنڈ کی بھی دیر لگائے بغیر اِسے پورا کر گزرتی مگر اِس وقت صدام جعفر کی اہمیت کوئی اُس کے دل سے پوچھتا. جو اُس کی نس نس میں بس چکا تھا.
جس کو پہلے ہی امل اِس قدر اذیت سے دوچار کرچکی تھی. کہ اب اُس پر زرا سی بھی آنچ آتی برداشت نہیں کرسکتی تھی.
مگر دوسری طرف اُس کا پیارا بھائی تھا. جس کا صرف بدلہ لینے کے لیے اُس نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی. اور اب جب وہ زندہ سلامت اُس کے سامنے تھا تو وہ کیسے اُسے مرنے کے لیے یہاں چھوڑ دیتی.
” کیا ہوا اپنے بھائی کو چھڑوانا نہیں چاہتی کیا. لگتا ہے بھائی سے زیادہ اپنے کچھ دنوں کے شوہر سے محبت ہوگئی ہے تمہیں.”
نقاب پہن کر کھڑے ہمایوں کو اِس وقت اپنی بہن پر بے انتہا غصہ آرہا تھا. جو سوچنے میں اتنا ٹائم لے رہی تھی. وہ بھی صرف اُس صدام جعفر کی خاطر.
” میں تمہاری شرط ماننے کو تیار ہوں. مگر میرے بھائی کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے.”
امل نے دل پر پتھر رکھتے اپنی روح کو فنا کردینے والا فیصلہ لیا تھا.
مگر ہمایوں کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ بکھر گئی تھی. وہ یہ کیسے بھول سکتا تھا. امل اُس کی بہن تھی. غلط فیصلہ تو لے ہی نہیں سکتی تھی.
جب انسان کو بُرے کاموں اور ظلم ڈھانے کی عادت پڑ جائے تو اُس کا ضمیر اندر سے مر جاتا ہے. جس طرح اِس وقت ہمایوں کا ضمیر مر چکا تھا. امل اِس بات سے بے خبر تھی کہ اُس نے ہمایوں کی یہ شرط مان کر اپنی جان بچا لی تھی. کیونکہ ہمایوں اپنے انتقام اور نفرت میں اِس قدر اندھا ہوچکا تھا. کہ اُس نے پہلے سے ہی سوچ رکھا تھا. اگر امل نے اُس کی شرط ماننے سے انکار کردیا تو وہ اِسی وقت امل کو شوٹ کروا دے گا.
کیونکہ امل ایک پولیس آفیسر تھی اور ہمایوں کی اصلیت جاننے کے بعد ہمایوں کو اُس سے بہت خطرہ ہوسکتا تھا.
لیکن امل کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی. کہ اُس کا بھائی دولت اور طاقت کے نشے میں اِس قدر مست ہوچکا تھا. کہ اُس کے شرط پوری کرلینے کے بعد بھی اُس کے لیے کس قدر غلط سوچے بیٹھا تھا.
” اگر تم نے زرا سی بھی ہوشیاری کرتے اپنے محکمے کو اِس سب میں اِنوالو کرنے کی کوشش کی یا اُس صدام جعفر کو بچانے کی کوشش کی تو تمہارا بھائی ایک سیکنڈ بھی مزید سانس نہیں لے پائے گا. میرے آدمی تمہارے آس پاس موجود ہیں. تمہارے گھر کے ملازموں کی شکل میں بھی اور تمہارے تھانے کے سٹاف کے رُوپ میں بھی. مجھ سے زرا سی بھی ہوشیاری بہت مہنگی پڑے گی تم.”
ہمایوں نے امل کے دماغ میں پکتے کر پلان پر پانی پھیڑتے اُس کو اپنی سورسز سے آگاہ کیا تھا.
جس پر امل خاموشی سے سر ہلا گئی تھی. مگر وہ ہمت نہیں ہارنے والی تھی. اُسے کچھ تو ایسا کرنا تھا کہ جس سے اُس کا بھائی اور شوہر دونوں بچ جاتے. چاہے اُس کی جان چلی جاتی اُسے پرواہ نہیں تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے ۔۔۔۔
