Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

حُرمت کو دھویں کی وجہ سے ابھی بھی بہت کھانسی آرہی تھی. ایک طرف کھانسی سے بے حال ہوتی دوسری جانب خود کو اِس نقاب پوش سے چھوڑوانے کی کوشش کررہی تھی. جو پہلے یونی اور اب اُس کے گھر تک پہنچ چکا تھا.
اندھیرے کی وجہ سے حُرمت اُس کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی.
حُرمت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے. جس پر شاید مقابل اُس پر ترس کھاتا اُسے اُسی طرح اپنے بازو کے گھیرے میں لیے کھڑکی کی جانب بڑھا تھا. کھڑکی کا پٹ وا کرتے تازہ ہوا کا جھانکا حُرمت کی نتھنوں سے ٹکراتا اُس کو کسی حد تک نارمل کرگیا تھا.
” چھوڑو مجھے تم ہو کون. اور کیا کررہے ہو یہاں. “
حُرمت اپنے گرد حصار قائم کیے اُس کے بازوؤں کو ہٹاتے طیش بھرے لہجے میں بولی.
وہ تو یہاں اپنے شوہر کی تلاش میں نکلی تھی. مگر یہاں یہ نقاب پوش اُسے دوبارہ مل گیا تھا.
” کہیں یہ کوئی دہشت گرد تو نہیں…ایک منٹ یہ….”
حُرمت جو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی. اچانک اُس کے زہن میں جھماکہ ہوا تھا. کوئی اور شخص بھلا اتنی ٹائٹ سیکیورٹی کی وجہ سے رحمانی ہاؤس میں آہی نہیں سکتا تھا. تو پھر کہیں یہ نقاب پوش یزدان تو نہیں…..
حُرمت کے تجسس اور بے چینی میں اضافہ ہورہا تھا.
اُس نے کسی شک کے تحت نظریں اُٹھا کر غور سے مقابل کی جانب دیکھا تھا. جو پہلے ہی انتہائی فُرصت سے حُرمت کے نقوش کا جائزہ لے رہا تھا. جیسے حُرمت کے دل و دماغ میں چلتی ہر اُلجھن کا پتا اُس کے چہرے سے چلا لینا چاہتا ہو.
حُرمت اُس کے کچھ نہ بولنے پر مزید شک میں مبتلا ہوتی. خود میں ہمت پیدا کرتے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اُس کا نقاب پکڑ کر کھینچنا چاہا تھا.
مگر مقابل بھی اُس سے اتنا بے خبر نہیں تھا. فوراً سے پہلے اُس نے حُرمت کے دونوں ہاتھ تھام کر واپس اُسی کی کمر پر موڑ دیئے تھے.
” تم ہر بار ایسی حرکت کیوں کرتی ہو کہ مجھے تمہیں اُس کا پے بیک کرنا پڑتا ہے.”
نقاب پوش کی گھمبیر بھاری آواز حُرمت کو یزدان کی آواز جیسی بالکل بھی نہیں لگی تھی. بے شک آواز کا گھمبیر پن ملتا جلتا تھا مگر اُن کے ایکسنٹ میں زمین آسمان کا فرق تھا.
حُرمت کو اُس کی بات پر خوف سا محسوس ہوا تھا. لاسٹ ٹائم بھی اُسے یاد تھا کیسے اِس شخص نے اُسے اتنا ٹائم آفس میں اپنے ساتھ بند رکھا تھا. اور آخر میں زبردستی بینڈیج بھی کروائی تھی.
” تم یزدان رحمانی ہو نا. بہت ناٹک کر لیا تم نے پاگل ہونے کا اب اور نہیں. میں سب جان چکی ہوں اب تمہارے بارے میں. اور کل ہی سب گھر والوں کو تمہاری اصلیت بتا دوں گی.”
حُرمت نے چاند کی مدھم روشنی میں اُس نقاب پوش کی آنکھوں میں جھانکتے اُس کا ری ایکشن جاننے کے لیے اپنی جانب سے ایک تکا مارا تھا.
جبکہ مقابل کی آنکھوں سے حُرمت تو کوئی اندازہ نہیں لگا پائی تھی. مگر مقابل اِس دھان پان سی لڑکی کی حرکتوں پر اپنا بے ساختہ اُمڈ آنے والا قہقہ نہیں روک پایا تھا.
حُرمت نے انتہائی غصے سے اُسکی جانب دیکھتے خود کو آزاد کروانا چاہا تھا. اُس کے ہاتھ ابھی تک اِس نقاب پوش نے اپنے ہاتھ میں قید کرکے حُرمت کج کمر سے ٹکا رکھے تھے.
اُس کی یہ حرکت مقابل کی گرفت کم کرنے کے بجائے مزید سخت کروا گئی تھی. اُس نے حُرمت کو ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنے مزید قریب کیا تھا. حُرمت کا چہرا اب نقاب پوش کے چہرے کے بہت قریب تھا.
” چھوڑو مجھے.…یہ کیا بے ہودگی ہے..”
اُس کی لال آنکھیں اپنے اتنے قریب دیکھ حُرمت کی دھڑکنوں کا شور بڑھ چکا تھا.
مدھم روشنی میں حُرمت کا چاندنی میں نہایا حسین سراپا مقابل کے دل پر بجلیاں گر رہا تھا. کب سے خود پر قابو پاتا آخر میں جیسے اِس لڑکی کے آگے بے بس ہوا تھا.
اُس نے حُرمت کا رُخ اپنی جانب سے پھیرتے دوسری جانب موڑا تھا. وہ حُرمت کو اپنی مرضی سے ایسے اِدھراُدھر گھما رہا تھا جیسے وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو.
حُرمت اُس کی آہنی گرفت میں صرف بن پانی کی مچھلی کی طرح پھڑ پھڑا رہی تھی. اُسے معلوم ہورہا تھا. اِس گرفت سے اتنی آسانی سے رہائی ملنا ناممکن تھا.
حُرمت کا رُخ دوسری جانب موڑتے اُس کے ہاتھوں کو قید کرتے اُس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا تھا. اور بہت ہی نرمی اور محبت سے حُرمت کی کان کی لوح کو چوم لیا تھا. حُرمت کو لگا تھا جیسے اُسے کسی انگارے نے چھو لیا ہو.
حُرمت ہر چیز سے دھوکہ کھا سکتی تھی. مگر یہ لمس وہ اِس لمس میں چھپی دیوانگی اچھے سے محسوس کرسکتی تھی.
حُرمت اُس سے خود کو چھڑانے کی پوری کوشش کررہی تھی. مگر وہ اپنے ہاتھ تک ہلا نہیں پارہی تھی.
مقابل کی گرم سانسیں اب اُسے اپنی گردن پر محسوس ہورہی تھیں.
” پلیز چھوڑو مجھے. تم غلط کررہے ہو. تم جو کوئی بھی ہو میں تمہیں نہیں جانتی. اور نہ ہی ہمارے درمیان کوئی ایسا رشتہ ہے جو تم اِس طرح میرے قریب آؤ. غلط ہے یہ چھوڑ دو مجھے.”
وہ شخص دل کے ہاتھوں مجبور اپنی بے قرار روح کو سکون پہنچانے حُرمت کی گردن پر جھکنے ہی والا تھا. جب حرمت کے نم لہجے میں کی گئی بات اُس کا موڈ غارت کر گئی تھی.
اُس نے فوراً حُرمت کو خود سے دور کیا تھا. اُس کو واپس جانے کے لیے پلٹتا دیکھ حُرمت نے اُس کی شرٹ کا گریبان دبوچتے وہی روکا تھا. مقابل شاید حُرمت سے اِس حرکت کی توقع نہیں کررہا تھا اِس لیے حیرت بھری سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” میں تمہارا چہرا دیکھے بغیر تمہیں نہیں جانے دوں گی. کون ہو تم.”
حُرمت میں اچانک ہمت ناجانے کہاں سے آئی تھی کہ اُس نے آنکھوں میں غصہ لیے اُس نقاب پوش کو دیکھا تھا. جس نے بلیک سکارف سے اپنا چہرا اِس طرح ڈھکا ہوا تھا کہ اُس کی آنکھیں بھی ٹھیک سے نہیں دیکھ رہی تھیں.
مگر حُرمت آج یہ ڈرامہ ختم کرنا چاہتی تھی. اُس کو ففٹی پرسنٹ چانسز لگ رہے تھے کہ یہ یزدان رحمانی ہی ہے. جو اُس سمیت اپنے پورے خاندان کو بے وقوف بنانے کے ساتھ ساتھ دھوکہ بھی دے رہا تھا.
مقابل کی آنکھیں حُرمت کے نڈر انداز پر جیسے مزید خمار آلود ہوئی تھیں. حُرمت کو نجانے کیوں اب اِس شخص سے ڈر نہیں لگتا تھا. اُسے جیسے پتا تھا کہ یہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا. کس قدر مشکل سے اُس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے خود کو کوئی گستاخی کرنے سے روکا تھا. مگر حُرمت کی یہ حرکت اُس کے جذبات کو مزید ہوا دے گئی تھی.
” اگر میری شکل دیکھ لی تو اُس کا بہت بڑا معاوضہ دینا پڑے گا. جو شاید تمہادی نازک جان پر بہت بھاری ثابت ہوسکتا ہے.”
حُرمت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے ٹچ کرتے وہ اپنی حرکت کے ساتھ ساتھ الفاظ سے بھی حُرمت کو لال ٹماٹر کر گیا تھا.
وہ فوراً اُس کا گریبان چھوڑتی پیچھے ہٹی. حُرمت کی بے ساختہ حرکت مقابل کے چہرے پر ایک جاندار سی مسکراہٹ چھوڑ گیا تھا. اگر وہ مزید یہاں کھڑا رہتا تو ضرور کوئی نہ کوئی گستاخی سرزد ہوسکتی تھی. اِس لیے اُس نے ایک مسکراتی نظر اپنے سامنے شیرنی بنی کھڑی حُرمت پر ڈالی جو آج اُس کا چہرا دیکھنے پر بضد تھی اور ہلکے سے اُس کے کان کے قریب جھکا تھا.
” تمہیں اگر میں اتنا ہی اچھا لگ رہا ہوں تو کیوں نہ پہلے تمہارے شوہر کو ہی راستے سے ہٹا دیا جائے. میرے آدمی اُس کے کمرے میں جا چکے ہیں. اگر تم کہوں تو کام تمام کردو اُس کا.”
اُس کا لہجہ اِس قدر سرد اور سپاٹ تھا کہ حُرمت نے خوفزدہ ہوکر اُس کی جانب دیکھا تھا. اور اگلے ہی لمحے وہ نیچے کی جانب بھاگی تھی. اگر یہ شخص واقعی یزدان نہیں تھا. تو پھر یزدان کہاں تھا.
حُرمت کا دماغ بالکل گھوم چکا تھا.
وہ تیز قدموں سے واپس کمرے میں آئی تھی. جہاں کی لائٹ ابھی تک ویسے ہی آف تھی. اور بیڈ خالی پر اُسی طرح تکیوں کا ڈھیر موجود تھا. حُرمت کو وہاں اُس نقاب پوش کے آدمی تو کیا یزدان بھی کہیں نظر نہیں آیا تھا.
اُس نے لائٹ آن کرتے پورے کمرے پر ایک نظر دوڑائی تھی. مگر وہاں کوئی ہوتا تو نظر آتا.
حُرمت جلدی سے بیڈ کی دوسری سائیڈ پر رکھے لینڈ لائن کی جانب بڑھی تھی. تاکہ نیچے سے گارڈ کو کال کرکے اُس نقاب پوش کے بارے میں بتا سکے.
وہ اپنے دھیان میں آگے بڑھتی بیڈ کی دوسری جانب نیچے کارپٹ پر سوئے وجود کو نہیں دیکھ پائی تھی. اور اُس کے وجود سے پیر بُری طرح اُلجھنیں کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھ پاتے اگلے ہی لمحے وہ اُس کے اُوپر جاگری تھی.
حُرمت کی چیخ اور اُس کے اپنے اُوپر گرنے کی وجہ سے وہاں کارپٹ پر سویا یزدان ہڑبڑا کر اُٹھا تھا.
یزدان کو وہاں سویا دیکھ حُرمت کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا. اگر یزدان یہاں تھا تو اِس کا مطلب وہ نقاب پوش شخص کوئی اور تھا.
کچھ دیر پہلے کسی اجنبی کا اپنے اتنے قریب ہونا حُرمت کا چہرا بالکل سفید کرگیا تھا. اُس نے دل ہی دل میں اُس نقاب پوش کو ہزاروں گالیوں سے نواز دیا تھا.
حُرمت اپنی ہی سوچوں میں اِس بُری طرح اُلجھی ہوئی تھی کہ وہ یہ فراموش کر گئی تھی کہ وہ اپنے بستر پر نہیں بلکہ یزدان رحمانی کے اُوپر لیٹی ہوئی ہے. جو بہت ہی غور سے اُس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ ملاحظہ فرما رہا تھا.
” تم یہاں پر کیا کررہے ہو.”
حُرمت اچانک ہوش میں آتی اُس کے اُوپر سے اُٹھنے کی کوشش کرتے بولی. جو بازو اُس کے گرد پھیلائے اُس کی کوشش ناکام بنا چکا تھا.
” کرکٹ کھیل رہا تھا.”
یزدان نے چہرے پر اپنی مخصوص مسکراہٹ سجائے بہت ہی سکون سے جواب دیا تھا. جس پر حرمت کا دل چاہا تھا اِس ڈرامے باز شخص کا منہ توڑ دے.
” تم نے بیڈ پر وہ تکیے کیوں جوڑے. چھوڑو مجھے.”
حُرمت مسلسل اُس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی ساتھ ساتھ تھانے دارنی بنی سوال جواب بھی کررہی تھی.
” تم جو دو دن سے رات کو بار بار اُٹھ کر مجھے دیکھتی ہو کہ میں سورہا ہوں یا نہیں. تو سوچا کیوں نہ تمہاری خواہش پوری کر دوں.”
یزدان جس انداز میں اُسے جواب دے رہا تھا وہ حُرمت کو ایک بار پھر شک میں مبتلا کر گیا تھا.
” اُوپر روم میں وہ نقاب پوش تم ہی تھے نا. تم پاگل نہیں ہونا. جان بوجھ کر کررہے ہونا یہ سب.”
حُرمت کی بات پر اُس کی گرفت ڈھیلی ہوئی تھی. جس پر حرمت فوراً اُس کے حصار سے باہر نکلی تھی.
” میں سب کو کب سے یقین دلا رہا ہوں میں پاگل نہیں ہوں. شکر ہے کسی کو تو یقین آیا میں پاگل نہیں ہوں. تم پلیز بتاؤ نا سب کو یہ بات.”
اُس نے ایک جاندار قہقہ لگاتے حُرمت کی جانب دیکھا تھا. جو اب پھر اُس کے پاگلوں والے انداز پر ہونق بنی اُسے دیکھ رہی تھی.
” تم نہیں میں پاگل ہوں. صرف پاگل نہیں بلکہ بہت بڑی سٹوپڈ ہوں. “
حُرمت کا دماغ اِس وقت سخت خراب ہوچکا تھا. وہ ایک جھٹکے سے یزدان کے قریب سے اُٹھتی واپس صوفے کی جانب بڑھ گئی تھی.
اپنی پوری رات اِس شخص کی جاسوسی میں برباد کرنے کے بعد اُسے ملا کیا تھا. صرف ٹھینگہ. مگر وہ دل میں یہ تو ڈیسائیڈ کرچکی تھی کہ اگر یہ شخص پاگل نہ ہوا اور واقعی یہ سب اُس کا کوئی ڈرامہ ہوا تو وہ اِسے بالکل بھی نہیں چھوڑے گی.
حُرمت خود سے ہی اُلجھتی بار بار صوفے پر اِدھر سے اُدھر کروٹ بدلتی یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ وہ اِس وقت کسی کی دو مسکراتی جذبے لُٹاتی محبت بھری نظروں کے حصار میں ہے.
” میری خونخوار جنگلی بلی.”
وہیں کارپٹ پر لیٹے دونوں بازو کو تکیے کی طرح سر کے نیچے رکھے یزدان رحمانی کا دل چاہا تھا. اِس لڑکی کو اُٹھا کر اپنے سینے میں چھپا لے. جو اُس کی سانسوں میں بستی تھی. مگر اِس وقت وہ شاید زندگی میں پہلی بار اتنا بے بس ہوا تھا. وہ چاہ کر بھی اِس لڑکی کے سامنے اپنی سچائی ظاہر نہیں کرسکتا تھا.
اُسے ابھی اپنوں کے خون کا بدلہ لینا تھا. جنہیں بہت ہی بے دردی سے اُس سے چھین لیا گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

صدام کا یہ ایونٹ بہت اچھا گزرا تھا. وہ بہت خوش تھا. کیونکہ اُس کا پروجیکٹ سکیکٹ کرلیا گیا تھا. اُسے اُس کی محنت کا پھل مل گیا تھا. مگر ایک چیز جو اُسے اُلجھا رہی تھی وہ تھا ایونٹ سے کچھ دیر پہلے اپنے پراجیکٹ کا سارا ڈیٹا اور امپورٹنٹ فائلز اُس شخص سے ملنا جو اُس کی سب سے بڑی مخالف کمپنی کا مینیجر تھا.
صدام ایونٹ کے لیے تیار ہورہا تھا. جب اُس مینیجر نے وہ سارا ڈیٹا صدام کے حوالے کیا تھا. جو صدام نے یہاں آنے سے پہلے عمار کو دیئے تھے. صدام کو سمجھ نہیں آیا تھا. اُس شخص کا کیسے شکریہ ادا کرے. جس نے مخالفین کا ساتھی ہوتے ہوئے بھی اُس کا ساتھ دیا تھا.
یہ الگ بات تھی کہ صدام یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ شخص اُس کا مخالف نہیں. بلکہ دشمنوں کے بھیس میں اُس کے اپنے دوست کا خاص آدمی تھا. جو مخالفین میں شامل بھی تھا تو صرف یزدان رحمانی کے کہنے پر.
اُس شخص کے الفاظ ابھی بھی صدام کے کانوں میں گونج رہی تھی.
” سر جیسے میں آپ کا دشمن نہیں ہوں. ویسے ہی آپ کے ساتھ موجود لوگ آپ کے خیر خواہ نہیں ہیں. سو پلیز بی کیئر فُل.”
صدام اتنا تو جانتا تھا کہ عمار اُس کے ساتھ غداری نہیں کرسکتا. وہ بہت عرصے سے اُس کے ساتھ کام کرتا اُس کے وفاداروں میں سے ایک تھا.
” تو پھر کیا امل …….امل نے کیا یہ اب.”
صدام کے دماغ نے اِس جانب سوچنا چاہا تھا. مگر اُس کا دل صاف انکاری تھا.
” نہیں امل ایسا کیسے کر سکتی ہے بھلا. نہیں وہ غلط نہیں ہوسکتی.”
صدام نے سختی سے اِس خیال کو رد کیا تھا.
” تو کیا پھر یہ فاریہ کی کوئی چال تھی. مگر یہ جو کوئی بھی تھا. اب مجھ سے بچ نہیں پائے گا. بہت ہوگیا یہ چھپن چھپائی کا کھیل. اب میرے دشمن کو میرے سامنے آنا ہی ہوگا.”
صدام ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کف لنکس بند کرتا اپنی ہی سوچوں میں بڑی طرح اُلجھا ہوا تھا. وہ لوگ آج صبح ہی کراچی سے واپس آئے تھے. صدام نے عمار اور امل کے سامنے کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا تھا.
” بھائی جلدی سے نیچے آجائیں ماما بلا رہی ہیں آپ کو فنکشن شروع ہونے ہی والا ہے.”
نبیہا ناک کرکے دروازے کے باہر سے ہی اُسے آواز لگاتی واپس پلٹ گئی تھی. آج حمنہ کی انگیجمنٹ کا فنکشن تھا. جو بہت ہی بڑے پیمانے پر ارینج کیا گیا تھا.
نبیہا کی آواز پر صدام ہوش کی دنیا میں لوٹتا اپنے بال سیٹ کرتا باہر نکل گیا تھا.
بڑے سے لان میں بہت ہی زبردست ارینجمنٹ کی گئی تھی. فنکشن میں رشتہ داروں اور فیملی فرینڈز کے ساتھ ساتھ اُن کے آفس کے سٹاف کو بھی مدعو کیا گیا تھا.
ُلان میں قدم رکھتے ہی صدام کی نظر آفس کی فی میلز سٹاف کے ساتھ کھڑی امل پر پڑی تھی. جو آج بھی اپنے روٹین کے گیٹ اپ میں موجود تھی. عام سے حلیے میں ہونے کے باوجود وہ سب سے منفرد اور دلکش لگ رہی تھی.
صدام آس پاس کا خیال کیے بغیر یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا.
” کافی خوبصورت معلوم ہوتی ہے. آنکھیں بھی بہت دلکش ہیں.”
نائمہ بیگم صدام کے پاس آکر کھڑی ہوتیں بہت ہی دوستانہ مگر شوخی بھرے لہجے میں اُس سے مخاطب ہوئی تھیں.
جب کے اُن کی آواز پر صدام جزبز ہوتا خفیف سا ہوکر چہرا جھکا گیا تھا.
” کس کی بات کررہی ہیں آپ.”
صدام نے ناسمجھی سے نائمہ بیگم کی جانب دیکھا تھا.
” وہی جس نے اتنے دنوں سے میرے بیٹے کو ڈسٹرب کیا ہوا ہے. اپنے خلاف بہت بڑے بڑے سکینڈل چھپنے پر بھی پرسکون رہنے والا جس لڑکی کے ساتھ اپنی ایک غلط انداز میں تصویر دیکھ غصے سے پاگل ہو اُٹھا تھا.
اور جس کو وہ اپنے آفس میں بیٹھ کر کام کرنے کے بجائے چھپ چھپ کر دیکھتا ہے. اُس لڑکی کی بات کررہی ہوں میں.”
نائمہ بیگم ایک ہی سانس میں بولتی صدام کے سامنے مکمل طور پر واضح کرگئی تھیں کہ وہ اُس کے معاملات سے پوری طرح باخبر ہیں.
” ایسا کچھ نہیں ہے. آپ کو جس نے بھی بتایا ہے. غلط بتایا ہے.”
صدام کو اِس طرح اپنا بے نقاب ہونا بالکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا.
” تو مطلب تم اِس لڑکی میں بالکل بھی انٹرسٹڈ نہیں ہو. اور ایک مہینہ پہلے جو تم نے اپنی شادی کا فیصلہ میری مرضی پر چھوڑا تھا. اُس پر عمل کرتے میں اپنی پسند کی لڑکی سے تمہارا رشتہ طے کردوں.”
نائمہ بیگم آنکھوں میں شرارت بھرے اپنے خوبرو بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے بولیں. وہ جانتی تھیں اِس سے اقرار کروانا اتنا آسان کام نہیں تھا.
” اب میں نے ایسا بھی تھوڑی نا کہا ہے. اب اگر آپ سب کچھ جان ہی گئی ہیں تو ہاں ہار مانتا ہوں میں آپ کے آگے.بہت اچھی لگتی ہے وہ مجھے. “
صدام نائمہ بیگم کے آگے ہار مانتا آخر کار گھٹنے ٹیک گیا تھا.
نائمہ بہت کچھ پتا لگوا تو چکی ہی تھیں. مگر اب صدام کا اقرار اُنہیں بے پناہ خوشی سے دوچار کر گیا تھا.
وہ صدام کی شادی کرنا چاہتی تھیں. اُن سے اُس کی یہ روبوٹ جیسی زندگی نہیں دیکھی جاتی تھی. پچھلے ایک سال سے وہ اُسے نجانے کتنی لڑکیوں کی تصویریں دیکھا چکی تھیں. اور نجانے کتنیوں سے ملوا بھی چکی تھیں. مگر صدام کا ایک ہی جواب تھا. مجھے شادی نہیں کرنی.
لیکن اب کچھ دن پہلے اُن کے کانوں میں صدام اور اُس کی سیکرٹری کے بارے میں جو افواہیں پڑی تھیں. اُن پر پہلے تو وہ بہت پریشان ہوئی تھیں.وہ نہیں چاہتی تھیں اّن کا بیٹا کسی ایسی ویسی لڑکی کے چکر میں پڑے.
مگر امل کے بارے میں سٹاف کے کچھ لوگوں سے بہت اچھا سننے اور آفس جاکر اُسے دیکھنے کے بعد نائمہ بیگم بہت خوش ہوئی تھیں. اگر واقعی یہ لڑکی اُن کے بیٹے کو پسند تھی. تو اُنہیں بھی وہ سر آنکھوں پر منظور تھی.
” تو پھر رشتہ لے کر جاؤں اُس کے گھر.”
نائمہ بیگم تو جیسے ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتی تھیں.
” نہیں پلیز ابھی آپ کچھ نہیں کریں گی جب تک میں آپ کو نہ کہوں.”
صدام نے مسکراتے اُنہیں اِس قدر جلدبازی سے روکا تھا. وہ پہلے خود امل سے بات کرنا چاہتا تھا. وہ امل کے رویے سے اتنا تو اندازہ لگا چکا تھا کہ امل بھی اُسے پسند کرنے لگی ہے. یہی بات اُس کے لیے کافی اطمینان کا باعث تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” مجھے کس نے بلایا. یہاں تو کوئی ہے ہی نہیں.”
امل خالی کمرے پر ایک نظر دوڑاتے واپس پلٹی تھی. جب دروازے سے اندر داخل ہوتے صدام کو دیکھ اُسے کے قدم تھمے تھے.
وہ فنکشن میں اپنی کولیگز کے ساتھ کھڑی تھی. جب ملازمہ کے پیغام پر وہ یہاں آئی تھی. لیکن شاید وہ یہاں آکر غلطی کر چکی تھی.
صدام کو دروازہ لاک کرتا دیکھ امل کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھیں.
” سر آپ نے مجھے کیوں بلایا یہاں.”
صدام کو گہری بولتی نگاہیں خود پر گاڑھ کر آگے بڑھتا دیکھ امل اپنی شال کے اندر اپنی ہتھیلیاں مسلتی کمزور سی آواز میں بولی.
صدام کے سامنے آنے سے اُس کے دل کی حالت جو بدل جاتی تھی. وہ امل کے لیے کافی پریشان کن تھی.
” مجھے کچھ پوچھنا اور بتانا بھی ہے آپ کو.”
صدام کو امل کا نروس ہونا مزا دے رہا تھا.
” جج جی پوچھیں. “
امل نے اب کی بار اُس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا تھا. اُسے اپنی کنڈیشن پر خود پر ہی بے پناہ غصہ آرہا تھا.
وہ دل ہی دل میں خود کو بار بار یاد دلا رہی تھی کہ یہ شخص اُس کے خاندان کی بربادی کا ذمہ دار ہے. قاتل ہے اُس کے اپنوں کا. تو پھر وہ اُس کے سامنے کمزور کیوں پڑ رہی تھی.
” آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں. آئی تھنک آئی لو یو. وِل یو میری می.”
صدام بغیر کوئی تمہید باندھے ایک ہی سانس میں امل پر بم پھوڑ گیا تھا.
امل صدام کے قریب آنے پر دو قدم پیچھے ہٹی تھی. مگر بے دھیانی میں پیچھے رکھے ڈیکوریشن پیس سے ٹکرائی تھی. جو اُسی لمحے زمین بوس ہوتا خاموش ماحول میں ایک ارتعاش پیدا کرگئی تھی.
امل جس قدر بھی خود کو مضبوط ظاہر کرتی. مگر کسی مرد سے ایسے الفاظ سننا اُس کے چودہ طبق روشن کر گیا تھا. مرد بھی وہ جو آج کل ہر وقت اُس کی سوچوں پر سوار اُسے پاگل کیے ہوئے تھا.
صدام بڑے ہی مطمئن انداز میں امل کی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ سے لُطف اندوز ہورہا تھا.
” میں اِس شخص کی اتنی بڑی بات کے جواب میں خاموش کیوں ہوں. میں کیوں بھول رہی ہوں. یہ شخص وہ نہیں ہے جو یہ نظر آتا ہے. یہ میری خوشیوں کا قاتل ہے. تو میں کیسے اِسے خوش رہنے دوں.”
امل کا دماغ اُس کے دل سے کچھ دیر پہلے کے سارے خوبصورت احساسات بالکل مٹا گیا تھا.
اپنے بھائی کی جھلسی ہوئی لاش اور بہن کا تڑپتا وجود نظروں کے سامنے لاتی وہ پہلے دن والی امل بن چکی تھی.
امل نے آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے کھڑے صدام کی جانب دیکھا تھا. اُس کا بنایا گیا پلان کامیاب ہوچکا تھا. وہ صدام جعفر کے دل پر وار کرکے اُسے اپنا شکار بنا چکی تھی.
” کیا ہوا مس امل آپ خاموش کیوں ہیں. آپ کو میری بات بُری لگی کیا.”
صدام کو امل کے انداز سے کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا.
” نو سر. مجھے آپ کی بات کا بُرا بالکل نہیں لگا. آپ کو اپنی بات کہنے کا حق ہے. میں آپ کی فیلنگ کی قدر کرتی ہوں. مگر آئم سوری. میں کسی اور سے بے پناہ محبت کرتی ہوں. اور بہت جلد اُس سے شادی کرنے والی ہوں. “
امل بہت ہی سکون سے صدام کا چین لوٹتی اُس کی اُڑی رنگت دیکھ دل ہی دل میں ہنس دی تھی. یہی تو وہ چاہتی تھی اِس شخص کو ہر طرح سے برباد ہی تو کرنا چاہتی تھی.
مگر اُس کے دل کا ایک کونا بے چین کیوں تھا. حُرمت یہ سمجھنے سے قاصر تھی.
امل صدام کا سفید پڑتا چہرا دیکھ اُس کے پاس سے گزرتی باہر کی جانب بڑھی تھی.
جب اُس کی کلائی صدام کی سخت گرفت میں قید ہوئی تھی. صدام نے اُسے ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کیا تھا.
امل کو صدام سے اِس حرکت کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی.
” جھوٹ بول رہی ہو تم. میں نے خود تمہاری آنکھوں میں چاہت کے رنگ دیکھے ہیں. وہ میری نظر کا دھوکہ بالکل نہیں ہوسکتے.”
صدام نے بہت مشکل سے خود پر ضبط کرتے امل سے سوال کیا تھا.
امل کو صدام کی گرفت میں اپنی کلائی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھی. اگر وہ چاہتی تو ایک ہی سیکنڈ میں اپنی کلائی آزاد کروا سکتی تھی. مگر وہ ایسا کچھ کرکے صدام کی نظروں میں مشکوک نہیں ہونا چاہتی تھی.
اِس لیے وہ ہلکی سی مزاحمت کرتی اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی تھی.
” سر پلیز یہ کیا کررہے ہیں آپ. چھوڑیں میرا بازو. آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. میں شروع دن سے کسی اور کو پسند کرتی ہوں.
پلیز جانے دیں مجھے یہاں سے. اگر کسی نے مجھے یوں آپ کے ساتھ بند کمرے میں دیکھ لیا تو میں مزید بدنام ہوجاؤں گی.”
امل آنکھوں میں آنسو لیے منت بھرے لہجے میں صدام سے مخاطب ہوئی تھی.
صدام امل کی بات پر ایک سرد نگاہ اُس پر ڈالتا اُس کی کلائی آزاد کر گیا تھا.
آزادی ملتے ہی عمل فوراً روم سے نکل گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤

یزدان باسط کے ساتھ لان میں داخل ہوا تھا. وہ جانتا تھا وہ اِس وقت بہت ساری نگاہوں کا مرکز ہے. اِسی لیے وہ اپنی اداکاری جاری رکھتے ایک کونے کے ٹیبل پر جا بیٹھا تھا.
اُس کی متلاشی نگاہیں حُرمت کو ڈھونڈ رہی تھیں. جو رات والے واقع کی وجہ سے اِس قدر چڑی ہوئی تھی کہ ایک بار بھی یزدان کے سامنے نہیں آئی تھی.
اب تو یزدان کا بھی ضبط جواب دے چکا تھا. وہ دل میں حُرمت کو اِس گستاخی کی اچھی سی سزا دینے کا سوچتا اردگرد نگاہیں روڑانیں لگا تھا.
سٹیج پر رسم شروع ہوچکی تھی. یزدان کی نظر سٹیج سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑے صدام پر پڑی تھی. جس کی لال آنکھیں یزدان کا پریشان کر گئی تھیں. ویٹر کے ہاتھ سے جوس کا گلاس تھامتا صدام اُسے بہت ہی ٹوٹا بکھرا سا لگا تھا.
جب اچانک اُسے کان میں لگائے اپنے ایئر پیس سے آتی آواز نے متوجہ کیا تھا.
” سر صدام جعفر کے ہاتھ میں جو جوس ہے. وہ کوئی عام جوس نہیں ہے.بلکہ اُس میں وافر مقدار میں انتہائی خطرناک ڈرگ شامل کی گئی ہے. جو اُنہیں شدید نقصان پہنچا سکتی ہے. اُنہیں کسی بھی طرح روکنا ہوگا.”
اپنے آدمی کی بات سنتے ہی یزدان جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا. صدام گلاس ہونٹوں سے لگانے والا تھا. یزدان کے پاس سوچنے سمجھنے کا زیادہ ٹائم نہیں تھا. اُس کے بھائی کی زندگی اُس کے راز سے بڑھ کر تھی.
یزدان یہی بات سوچتا بنا اردگرد لوگوں کا خیال کیے. صدام کی جانب بھاگا تھا اور اُس کے گھونٹ بھرنے سے پہلے ہی یزدان نے اُس کے ہاتھ سے گلاس چھین لیا تھا.
صدام ہکا بکا سا یزدان کی یہ حرکت دیکھ رہا تھا.
جب یزدان وہ گلاس ٹیبل پر رکھتا اُس ویٹر کو فرار ہوتا دیکھ اُس کے گریبان سے پکڑ کر دبوچ چکا تھا.
” بولو کس کے کہنے پر اِس گلاس میں زہر مکس کیا تم نے. ورنہ مار مار کر ہڈیاں توڑ دوں گا میں تمہاری.”
یزدان ویٹر کو بُری طرح پیٹتے پوچھ رہا تھا.
جبکہ وہاں موجود تمام افراد بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے یزدان کا یہ نارمل انداز دیکھ رہے تھے.

جاری ہے………..

طبیعت بہت سخت خراب ہے. بہت مشکل سے یہ لانگ ایپی لکھ پائی ہوں….